Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش،4 خارجی ہلاک،ایک جوان شہید

    پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش،4 خارجی ہلاک،ایک جوان شہید

    19 اور 20 دسمبر کی درمیانی شب، پاک افغان سرحد کے قریب خیبر ڈسٹرکٹ کے علاقے راجگال میں ایک غیر ملکی دہشت گرد گروہ نے پاکستان میں دراندازی کی کوشش کی۔

    سیکیورٹی فورسز کے دستوں نے فوری طور پر کارروائی کی اور دراندازی کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر آپریشن کیا۔ اس دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ڈی جی آئی ایس پی آر مطابق، اس آپریشن کے دوران پاک فوج کے بہادر سپاہی، 22 سالہ عامر سہیل آفریدی نے شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کا مقابلہ کیا، مگر وہ بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ سپاہی عامر سہیل آفریدی ضلع خیبر کے علاقے راجگال کے رہائشی تھے اور ان کی شہادت نے قوم کو بے حد غمگین کیا ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور دہشت گردی کی لعنت کا قلع قمع کرنے کے لیے بھرپور عزم کے ساتھ سرگرم ہیں اور ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مستحکم کرتی ہیں۔پاکستان کی حکومت نے مسلسل طور پر عبوری افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحد کے اطراف میں مؤثر بارڈر مینجمنٹ کو یقینی بنائے تاکہ دہشت گرد گروہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال نہ کرسکیں۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان کو امید ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے گی اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

    یہ واقعہ اس بات کا غماز ہے کہ پاک فوج نہ صرف اپنے سرحدی علاقوں کی حفاظت کے لیے کوشاں ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی اپنی قربانیاں دے رہی ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ایسے آپریشنز سے دہشت گرد گروہوں کو سخت پیغام مل رہا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے اور ان کے دہشت گردانہ منصوبوں کو ناکام بنائے گا۔

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

    سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

    انسانیت کے دشمنوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملاتے رہیں گے، وزیراعظم
    وزیراعظم شہباز شریف نے ضلع خیبر کے علاقے راجگال میں سیکیورٹی آپریشن میں فتنہ الخوارج کے 4 کارندوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے،وزیراعظم نےفائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے سپاہی عامر سہیل آفریدی کی شہادت پر اظہار افسوس کیا ہے،وزیراعظم نے شہید کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی اور کہا کہ قوم کے بیٹوں کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیں گے، انسانیت کے دشمنوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملاتے رہیں گے، حکومت اور سیکیورٹی فورسز ملک سے فتنہ الخوارج کے مکمل سد باب کے لیے سرگرم عمل ہیں،

  • چیمپئنز ٹرافی 2025: ہائبرڈ ماڈل کے اضافی اخراجات پی سی بی نے مانگ لئے

    چیمپئنز ٹرافی 2025: ہائبرڈ ماڈل کے اضافی اخراجات پی سی بی نے مانگ لئے

    چیمپیئنز ٹرافی 2025ء میں بھارت کے میچز ہائبرڈ ماڈل کے تحت نیوٹرل مقام پر منعقد کرانے کے اضافی اخراجات درکار ہوں گے۔

    آئی سی سی کی جانب سے مشروط معاہدے پر پاکستان اور بھارت کے کرکٹ بورڈز کی رضامندی کے بعد پاکستان سے باہر کھیلے جانے والے میچز میں اضافی رقم خرچ ہوگی۔ رواں سال جولائی میں کولمبو، سری لنکامیں آئی سی سی کے اجلاس نے چیمپینز ٹرافی کی میزبانی کے لیے پاکستان کو سات کروڑ ڈالرز دینے کی منظوری دی تھی جبکہ اضافی اخراجات کے لیے 45 لاکھ ڈالرز مختص کیے گئے جس کا مقصد بھارتی کرکٹ ٹیم کے پاکستان نہ آکر کھیلنے کی صورت میں میچز کی کسی دوسرے مرکز پرممکنہ منتقلی تھی۔اب ہائبرڈ ماڈل کے تحت میچز ہونے پر اضافی رقم کی ضرورت ہوگی، یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے مذکورہ اجلاس میں چیمپینز ٹرافی کا شیڈول اور فارمیٹ جمع کرایا تھا، تاہم ہنوز اس حوالے سے کوئی فیصلہ سامنے نہیں آسکا۔چیمپئنز ٹرافی کے مجوزہ شیڈول میں گروپ اے پاکستان، بھارت، نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش جبکہ گروپ بی آسٹریلیا، انگلینڈ، جنوبی افریقہ اور افغانستان پر مشتمل ہے۔ایونٹ میں بھارت کا پہلا میچ 20 فروری کو بنگلا دیش، دوسرا میچ 23 فروری کو نیوزی لینڈ، تیسرا میچ یکم مارچ کو میزبان پاکستان سے رکھا گیا ہے، بھارت کی سیمی فائنل میں رسائی کی صورت میں ایک سیمی فائنل اور فائنل بھی بیرون ملک منعقد کرانے پر اضافی اخراجات ہوں گے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی کے سبب بھارت نے 2008 سے پاکستان کا سفر نہیں کیا جبکہ پاکستان نے گزشتہ 16 سالوں میں چار مرتبہ بھارت کا سفر کیا۔

    دھی رانی پروگرام جلد شروع ہو جائیگا،عظمٰی بخاری

    بینکوں کو 11 ہزار 179 ارب روپے مارکیٹ آپریشن میں جاری

    اسلام آباد،بلوچستان کے اسکول اور کالجز میں تعطیلات کا اعلان

  • پاکستان کا عالمی سطح پر مثبت کردار، عالمی میڈیا معترف

    پاکستان کا عالمی سطح پر مثبت کردار، عالمی میڈیا معترف

    امریکی اخبار شکاگو ٹریبیون میں معروف امریکی ملٹری ایڈوائزر جان روزن برگ نے اپنے آرٹیکل میں پاکستان کے عالمی سطح پر مثبت کردار کو سراہا ہے،

    شکاگو ٹریبیون میں کہا گیا ہے کہ خطے میں تنازعات کے حل اور تعمیر و ترقی کے عالمی معاہدوں میں پاکستان کا ہمیشہ اہم و مثبت کردار رہا ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں – محفوظ عالمی بحری تجارت میں بھی پاکستان کا اہم کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا – عالمی و خطے کے امن کے لیے پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں کسی سے بھی بڑھ کر قربانیاں دی ہیں۔عالمی امن کی خاطر پاکستان اب تک 153 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کر چکا ہے، دہشت گردی کی عالمی جنگ میں پاکستان کا کردار دنیا کی نظروں سے اوجھل نہیں ہونا چاہیے۔پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تین لاکھ سے زائد فوج تعیینات کرنے والا پہلا ملک ہے۔ پاکستان انتہائی مشکل معاشی حالات کے باوجود سالانہ دو ارب ڈالر انسداد دہشت گردی آپریشنز پر خرچ کر رہا ہے۔یہ انسداد دہشت گردی آپریشن نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے انتہائی اہم ہیں -پاکستان کے بہادر سپاہیوں نے 541 دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔ حالیہ آپریشنز میں پاکستان کی بہادر افواج نے 153 فوجی جوانوں اور افسروں کی قربانیاں دی ہیں،افغان نیشنل آرمی کے سابق ملٹری ایڈوائزر نے آرٹیکل میں پاکستان کے سیاسی حالات کا بھی احاطہ کیا،

    شکاگو ٹریبیون میں مزید کہا گیا کہ پاکستان ایک پھلتی پھولتی جمہوریت ہے۔ پاکستان میں باقاعدگی سے انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے۔اقوام متحدہ کے امن مشن میں بھی پاکستان کا کردار دیگر ممالک سے کہیں بڑھ کر ہے۔پاکستانی قوم کو ہمیشہ غلط سمجھا گیا، جو حقیقت میں استقامت اور جمہوری ترقی کی عکاس ہے،پاکستان کو منفی نظر سے دیکھنا اس کی عالمی امن کے لیے خدمات کو فراموش کرنے کے مترادف ہےوقت آ گیا ہے عالمی برادری پاکستان کو متوازن نظر سے دیکھے۔

    کراچی میں گیس کی لوڈشیڈنگ،شرجیل میمن کا اظہار تشویش

    میزائل پروگرام،پابندیاں،امریکہ پاکستانی خود مختاری کا پاس رکھے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جنگل میں کھڑی کار سے 52 کلو سونا،15 کروڑ نقدی برآمد

  • پاکستان پرامن ریاست،لیکن بیرونی جارحیت سے دفاع کا حق ہے،خواجہ سعد رفیق

    پاکستان پرامن ریاست،لیکن بیرونی جارحیت سے دفاع کا حق ہے،خواجہ سعد رفیق

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، تاہم اسے کسی بھی بیرونی جارحیت سے اپنے دفاع کا بنیادی حق حاصل ہے۔

    ایکس پر ایک پوسٹ میں خواجہ سعد رفیق نے امریکی حکام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بھارت کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو نظرانداز کرتا ہے اور اس کی دوہری پالیسی کو سامنے لایا۔ "پاکستان کبھی بھی دنیا کے کسی بھی ملک کے لیے کوئی خطرہ نہیں رہا، لیکن امریکہ کیوں پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے خوفزدہ ہے؟” انہوں نے سوال اٹھایا کہ امریکہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت سزائیں کیوں عائد کرتا ہے جبکہ کوئی بھی ملک پاکستان سے کبھی کسی خطرے کا شکار نہیں ہوا۔سعد رفیق نے کہا کہ "پاکستان کا جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام صرف اپنے دفاع کے لیے ہے، اور یہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں بلکہ اپنے دفاعی توازن کو قائم رکھنے کے لیے ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "امریکی حکام کو خطے میں طاقت کے توازن اور اسٹریٹجک استحکام کو خراب کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔”

    خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کی کوشش کی ہے اور وہ اپنے دفاعی وسائل کو بڑھانے کا حق رکھتا ہے تاکہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اپنی دوہری پالیسیوں سے باہر نکل کر حقیقت کا سامنا کرنا چاہیے اور خطے کے استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانی چاہیے۔خواجہ سعد رفیق نے امریکی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کے دفاعی پروگرام پر ناپسندیدہ دباؤ ڈالنے کی بجائے خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔

    پاکستانی میزائل پروگرام سے امریکہ بھی محفوظ نہیں، نائب مشیر قومی سلامتی امریکہ

    بیلسٹک میزائل پروگرام کی حمایت سے انکار دیرینہ پالیسی ہے،امریکی محکمہ خارجہ

    میزائل پروگرام،امریکی پابندیاں پاکستانی خود مختاری پر حملہ

  • پاکستانی میزائل پروگرام سے امریکہ بھی محفوظ نہیں، نائب مشیر قومی سلامتی امریکہ

    پاکستانی میزائل پروگرام سے امریکہ بھی محفوظ نہیں، نائب مشیر قومی سلامتی امریکہ

    پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے امریکی تشویش بڑھتی ہی جا رہی ہے اور پہلی مرتبہ امریکی انتظامیہ کے ایک سینئیر حکومتی اہلکار نے باضابطہ طور پر دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے ایک ایسی ’کارآمد میزائل ٹیکنالوجی‘ تیار کر لی ہے جو اسے امریکہ کو بھی نشانہ بنانے کے قابل بنائے گی

    امریکہ کے نائب قومی سلامتی مشیر جان فائنر نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام میں نمایاں پیشرفت کر رہا ہے اور اس کی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان ایسے میزائل بنا رہا ہے جو جنوبی ایشیا سے باہر کے اہداف بشمول امریکا کو بھی نشانہ بناسکتے ہیں۔ جان فائنر نے ایک تقریب کے دوران خطاب میں کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی میزائل صلاحیت عالمی سلامتی کے لیے ایک سنگین چیلنج بن سکتی ہے۔ یہ ترقی صرف پاکستان کے دفاعی شعبے تک محدود نہیں ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر امریکہ کے ساتھ پاکستان کے روابط اور خطے کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے۔ پاکستان کی طرف سے بیلسٹک میزائل کی تیاری میں تیز رفتار پیشرفت عالمی طاقتوں کے لیے خطرات بڑھا رہی ہے، کیونکہ ان میزائلوں کی رینج اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ نہ صرف خطے میں بلکہ امریکی سرزمین تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔جان فائنر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی بیلسٹک میزائل کی صلاحیتوں میں اس اضافے سے علاقائی طاقتوں کی سلامتی پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔عالمی برادری کو اس نئی حقیقت کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹھوس اور مؤثر حکمت عملی وضع کرنی ہوگی۔

    امریکی نائب مشیر برائے قومی سلامتی کا کہنا تھا کہ اگر کھل کر بات کی جائے تو پاکستان کے اقدامات کو امریکا کے لیے ایک ابھرتے ہوئے خطرے کے سوا کچھ اور سمجھنا مشکل ہے،ہ پاکستان نے بیلسٹک میزائل سسٹمز سے لے کر ایسی میزائل ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو اسے بڑے راکٹ موٹرز کے تجربات کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ اگر یہ جاری رہا تو پاکستان کے پاس جنوبی ایشیا سے بہت آگے امریکا تک اہداف کو نشانہ بنانےکی صلاحیت ہوگی۔

    پاکستان کے میزائل پروگرام کے بارے میں امریکی تشویش کوئی نئی بات نہیں ہے۔ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں اس نوعیت کے مسائل ہمیشہ حساس رہے ہیں، خاص طور پر جب بات جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل کی ٹیکنالوجی کی ہوتی ہے۔ پاکستان کی بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کا ارتقاء اس کی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد بھارت کے جوہری ہتھیاروں کے اثرات کا مقابلہ کرنا اور خطے میں اپنے دفاعی اثرات کو مستحکم کرنا ہے۔

    بیلسٹک میزائل پروگرام کی حمایت سے انکار دیرینہ پالیسی ہے،امریکی محکمہ خارجہ

    میزائل پروگرام،امریکی پابندیاں پاکستانی خود مختاری پر حملہ

    میزائل پروگرام میں مدد،4 پاکستانی اداروں پر امریکی پابندی،پاکستان کا ردعمل

    پی ٹی آئی پر پابندی ،قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

  • گوادر تا نئے ایئرپورٹ تک ایکسپریس وے کی تعمیر کا فیصلہ

    گوادر تا نئے ایئرپورٹ تک ایکسپریس وے کی تعمیر کا فیصلہ

    پاکستان اور چین کے درمیان گوادر سے نئے ایئرپورٹ تک ایکسپریس وے کی تعمیر پر اتفاق ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس منصوبے کے حوالے سے وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال کی چین کے نائب وزیر ٹرانسپورٹ سے ملاقات ہوئی۔احسن اقبال نےمواصلات کےشعبےمیں چین کےتعاون کوسراہا، ملاقات میں گوادر بندرگاہ اور نئے ائرپورٹ کے مابین ایکسپریس وے کی تعمیر پر بھی اتفاق کیا گیا۔وفاقی وزیر کی چین کے ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی صدر سے بھی ملاقات ہوئی، ملاقات میں احسن اقبال نے کہا کہ روڈ انفرا اسٹرکچر سے ترقی کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔حکومت توانائی، ٹیکس کے شعبوں میں اصلاحات کے ایجنڈے پر گامزن ہے، احسن اقبال نے خلائی سیٹلائٹ منصوبے کی فنانسنگ پر چینی تعاون کا شکریہ ادا کیا۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ترقی کیلئے خلائی ٹیکنالوجی کا حصول ناگزیر ہے۔اس موقع پر چین کے ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی صدر مس ونگ شوننگ نے پاکستان میں معاشی بحالی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک مضبوط رشتے میں بندھے ہیں اور پاکستان کی ترقی کے لیے چین ہمیشہ تعاون کرتا رہے گا۔

    بلاول بھٹو سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات

    صدر مملکت سے سعودی شوریٰ کونسل کے چیئرمین اور وفد کی ملاقات

    محسن نقوی کی حافظ نعیم الرحمن سے منصورہ میں ملاقات

  • صدر مملکت سے سعودی شوریٰ کونسل کے چیئرمین اور وفد کی ملاقات

    صدر مملکت سے سعودی شوریٰ کونسل کے چیئرمین اور وفد کی ملاقات

    صدر مملکت آصف علی زرداری سے سعودی عرب کے شوریٰ کونسل کے چیئرمین نے ملاقات کی جس میں پارلیمانی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق صدر مملکت نے سعودی عرب کے شوریٰ کونسل کے چیئرمین اور ان کے وفد سے ملاقات کے دوران پاک سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔صدر مملکت نے کہا کہ پارلیمانی تعاون دونوں ممالک کے تعلقات کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان گہرے روابط استوار ہوں گے۔صدر مملکت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تاریخی اور برادرانہ تعلقات ہیں جو مشترکہ عقیدے اور ثقافت پر استوار ہیں۔ سرمایہ کاری اور تعاون بڑھانے کے لیے مزید گنجائش موجود ہے اور اس میں کئی نئے امکانات تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ملاقات کے دوران، صدر مملکت نے مشرق وسطیٰ کی سنگین صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطین، لبنان اور شام کے ساتھ تعلقات میں ہم آہنگ ہے اور ان کے ساتھ کھڑا ہے۔انہوں نے سعودی قیادت کے ساتھ مل کر اسٹریٹجک شراکت داری میں مزید پیشرفت کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔صدر مملکت نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے نیک خواہشات کا پیغام بھی بھیجا اور شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صحت، تندرستی اور درازی عمر کے لیے دعا کی۔چیئرمین شوریٰ کونسل نے صدر مملکت کی صحت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور اس بات کی توقع ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

    محسن نقوی کی حافظ نعیم الرحمن سے منصورہ میں ملاقات

    دینی مدارس بل، وزیراعظم نے مولانا کو بلا لیا

    گورنرسندھ کا مہاجر کلچر ڈے منانے کا اعلان

  • پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے،  عارف علوی

    پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے، عارف علوی

    تحریک انصاف کے رہنما سابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے جو اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن اور طاقت کے تناسب کو برقرار رکھنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ ہم اپنے جارح پڑوسی کے ساتھ سیکیورٹی کی غیر متوازن صورتحال سے بچنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔ ہمارے میزائل ٹیکنالوجی بھی مقامی سطح پر تیار کی گئی ہے اور اس کا مقصد صرف امن قائم رکھنا ہے، لیکن اس وقت ہمیں بھارت کی طرف سے ہائپرسونک میزائلوں کی تیز تر ترقی کی وجہ سے یہ توازن خطرے میں نظر آ رہا ہے۔

    عارف علوی نے اپنے بیان میں بھارت کی ترقی پذیر میزائل ٹیکنالوجی، خاص طور پر براه موس 1 اور براه موس 2 کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے مارچ 2022 میں ایک براه موس 1 میزائل کا تجربہ کیا تھا، جو ہریانہ سے پاکستان کی سرحد پر گرا۔ یہ میزائل 3،700 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پاکستان کی سرحد تک پہنچا اور اس کا پرواز کا وقت محض سات منٹ تھا۔ بھارت نے اس واقعے کو ایک حادثہ قرار دیا، لیکن اس سے پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔ بھارت نے حال ہی میں براه موس 2 کا تجربہ کیا ہے جس کی رفتار 9،800 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے، اور اس کی پرواز کا وقت پہلے سے بھی کم، یعنی محض 2 منٹ رہ گیا ہے، جس سے پاکستان کے پاس جوہری ردعمل کے لیے کوئی وقت نہیں بچتا۔ انہوں نے کہا کہ براه موس میزائل جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور اس طرح کی ترقی پاکستان کے لیے ایک سنگین سیکیورٹی چیلنج بن سکتی ہے۔عارف علوی نے بھارت کی جوہری پروگرام کے حوالے سے اس کے غیر ذمہ دارانہ رویے کو بھی بے نقاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں جوہری مواد کی سمگلنگ اور اس کی بلیک مارکیٹنگ کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں، جس میں 1992 سے لے کر 2024 تک متعدد واقعات شامل ہیں۔ ان میں سے چند سنگین واقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت میں متعدد مرتبہ یورینیم کی سمگلنگ کی کوششیں کی گئی ہیں، جو جوہری مواد کے غیر قانونی استعمال کی واضح مثالیں ہیں۔ ان واقعات میں 1992 میں 2 کلو یورینیم کی سمگلنگ، 2008 میں نیپال جانے والے یورینیم کی سمگلنگ، اور 2024 میں کیلیفورنیئم کی سمگلنگ جیسے سنگین معاملات شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کے برعکس، پاکستان میں ایسی کوئی سنگین وارداتیں رپورٹ نہیں ہوئیں، اور اس سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کی جوہری پالیسی اور اس کے رویے کے حوالے سے عالمی برادری کا موقف انتہائی جانبدار ہے۔عارف علوی نے اپنے بیان میں امریکہ کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے حالیہ پابندیوں کی مذمت کی، جو ان کے مطابق، بھارت کے غیر ذمہ دارانہ رویے کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کو غیر منصفانہ طور پر ہدف بنا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پابندیاں پاکستان کے لیے ایک موجودہ خطرہ بن سکتی ہیں اور اس سے خطے میں ایک نیا تناؤ پیدا ہو گا، جو ایک ممکنہ دھماکے کے خطرے کو بڑھا دے گا۔پاکستان تحریک انصاف نے بھی ان پابندیوں کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ ان پابندیوں کا مقصد پاکستان کی سیکیورٹی کو مزید کمزور کرنا ہے۔ پارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ان پابندیوں کے نتائج پاکستان کی بقاء کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔

    گورنرسندھ کا مہاجر کلچر ڈے منانے کا اعلان

    190 ملین پاؤنڈ کتنی بڑی کرپشن کا کیس , عمران خان قومی مجرم

    طالبان کے حمایتی عمران خان کے ساتھ امریکی ہمدردیاں کیوں؟

    سلمان احمد کو بشری پر تنقید مہنگی پڑ گئی، پارٹی میں رہنے کیلیے بشری کی وفاداری ضروری

  • پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تاریخی اور برادرانہ تعلقات ہیں،صدر پاکستان

    پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تاریخی اور برادرانہ تعلقات ہیں،صدر پاکستان

    اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری سے سعودی عرب کی شوریٰ کونسل کے چیئرمین اور ارکان کے وفد نے ملاقات کی-

    باغی ٹی وی: دوارن ملاقات صدر مملکت نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ پارلیمانی تعاون ، اعلیٰ سطحی تبادلےبڑھانے کی ضرورت ہے ، پارلیمانی تعاون سے پاک-سعودی عرب برادرانہ تعلقات مزید گہرے ہوں گے، صدر مملکت نےسعودی عرب کے ساتھ اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا-

    صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تاریخی اور برادرانہ تعلقات ہیں ،پاک-سعودی عرب تعلقات مشترکہ عقیدے، تاریخ اور ثقافت پر استوار ہیں،دونوں ممالک کے مابین اقتصادی ، سرمایہ کاری تعاون بڑھانے کی مزید گنجائش موجود ہے-

    صدر مملکت نے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے ، اسرائیلی جارحیت سے پیدا ہونے والی مشرق وسطیٰ کی سنگین صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا کہا کہ پاکستان فلسطین، لبنان اور شام سے تعلق رکھنے والے اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا ہے-

    صدر مملکت نے خادمین حرمین شریفین اور شہزادہ محمد بن سلمان کیلئے نیک خواہشات کا پیغام دیا کہا کہ پاکستانی عوام شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صحت، تندرستی اور درازی عمر کے لیے دعاگو ہیں-

    فریقین نے دیرینہ دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ، اسٹریٹجک شراکت داری میں بدلنے کی ضرورت پر زور دیا،چیئرمین شوریٰ کونسل نے کہا کہ پاکستان کی قیادت اور ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ نتیجہ خیز بات چیت ہوئی، چیئرمین شوریٰ کونسل نے شاہ سلمان اور شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے صدر کی صحت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا-

  • قطر کے قومی دن کی تقریبات، کراچی فوارہ چوک پر جشن

    قطر کے قومی دن کی تقریبات، کراچی فوارہ چوک پر جشن

    قطر کے قومی دن کے موقع پر گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کی ہدایت پر فوارہ چوک پر پاک قطر پرچم لہرا دیے گئے۔ اس موقع پر قطر کے قونصل جنرل اور دیگر سفارتی عملہ بھی موجود تھے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے قطر کے عوام کو قومی دن کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور قطر کے دو طرفہ تعلقات نئی جہت میں داخل ہوچکے ہیں۔انہوں نے قطر کے سرمایہ کاروں کو سندھ کے پرکشش ماحول اور منافع بخش شعبوں سے استفادہ کرنے کی دعوت دی۔گورنر سندھ نے مزید کہا کہ قطر کی سرمایہ کاری سے خطے میں غربت اور مہنگائی کے خاتمے میں مدد مل رہی ہے، اور یہ تعلقات دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہے ہیں۔تقریب میں فائر ورک کا شاندار مظاہرہ بھی کیا گیا جس نے شرکاء کو محظوظ کیا۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے پاک قطر دوستی زندہ باد کے نعرے لگائے، اور اس موقع پر قومی یکجہتی کا جوش و جذبہ دیکھا گیا۔قطر کے قونصل جنرل نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قطر کی پاکستان سے دوستی ہمیشہ مستحکم رہی ہے اور وہ خطے میں پاکستان کو مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں۔گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کے ہمراہ ڈاکٹر فاروق ستار اور انیس قائم خانی بھی موجود تھے۔ گورنر سندھ نے قطر کے قونصل جنرل کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ قطر پاکستان کے دوست ممالک میں اہمیت رکھتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ روایتی طور پر فوارہ چوک پر ہونے والی تقریبات میں ہمیشہ وی وی آئی پیز کی موجودگی کے باعث ٹریفک رک جاتا تھا، لیکن آج وی وی آئی پیز کی موجودگی کے باوجود ٹریفک بلا تعطل جاری رہا، جس کا مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا تھا۔

    شاہین آفریدی بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں دستیاب ہوںگے

    خیبر پختونخوا، مختلف کاروائیوں کے دوران 11 خوارج ہلاک

    اسرائیل کا المواصی کیمپ پر حملہ، 50 فلسطینی شہید

    نان فائلرز پرحکومت کی جانب پابندیوں کا امکان