Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پاک ایران وزرائے خارجہ کا دو طرفہ تعلقات میں مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار

    پاک ایران وزرائے خارجہ کا دو طرفہ تعلقات میں مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار

    اسلام آباد: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے قاہرہ میں ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ملاقات کی-

    باغی ٹی وی : نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات ڈی ایٹ سمٹ کی سائیڈ لائنز پر ہوئی ،پاک ایران وزرائے خارجہ نے دو طرفہ تعلقات میں مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا-

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاک ایران وزرائے خارجہ کا اعلی سطح کے تبادلوں میں اضافے پر بھی طمینان کا اظہار کیا جبکہ پاک ایران وزرائے خارجہ نے تجارت، اقتصادی تعاون اور عوامی رابطوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا-

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ نے مشرق وسطی کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلسطین کے مسئلے پر پاکستان کے اصولی موقف کا ارادہ کرتے ہوئے فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کیا-

  • پاکستانی وزرا کی تنخواہوں میں بے پناہ اضافہ،امریکا کا ردعمل

    پاکستانی وزرا کی تنخواہوں میں بے پناہ اضافہ،امریکا کا ردعمل

    واشنگٹن: پاکستان میں صوبائی وزرا اور مشیروں کی تنخواہوں میں 900 فیصد اضافے پر امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان کا ردعمل سامنے آگیا۔

    باغی ٹی وی : امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان کی معمول کی پریس بریفنگ میں ایک صحافی نے پوچھا کہ پاکستان میں وزرا کی تنخواہوں میں 900 فیصد تک اضافہ ہوا ہےابھی ایک ماہ قبل ہی میں نے واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی وزیر خزانہ سے پوچھا تھا کہ ایک ایسے ملک میں یہ اضافہ بالکل ناقابل قبول ہے جہاں اتنی غربت ہو اور پھر آپ یہاں فنڈز یا قرضے مانگنے آتے ہیں۔

    جس پر امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے مبہم انداز میں کہا کہ مجھے پتا ہے کہ یہ سوال کہیں نہ کہیں ہے مجھے امید ہے کہ ہم جلدی اس تک پہنچیں گے،صحافی نے کہا کہ مجھے بھی امید ہے لیکن اس بارے میں آپ کا کیا تبصرہ ہے۔

    امریکی ترجمان میتھیو ملر نے سوال کیا کہ کس پر؟ تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر؟صحافی نے اپنے سوال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے اس مشکل وقت پاکستان کی مدد کی لیکن وہاں کے حکمرانوں نے اپنی تنخواہوں میں 900 فیصد اضافہ کرلیا۔

    امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیوملر نے جواب دیا کہ میرے خیال میں تنخواہوں میں اضافے کا سوال پاکستان کے عوام اور وہاں حکومت کا اپنا معاملہ ہے نہ کہ امریکا کا مسئلہ ہے، اس لیے سوال بھی پاکستانی حکومت سے ہونا چاہیے، امریکا سے نہیں، ہم دنیا بھر میں کسی بھی ملک کے حکومتی ملازمین کی تنخواہوں پر اپنی رائے نہیں دیتے اور ہماری یہ پالیسی پاکستان کے لیے بھی ہوگی۔

    واضح رہے کہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی اسمبلی نے ایک بل منظور کیا ہے جس کے بعد صوبے کے اراکین اسمبلی، وزرا اور اسمبلی عہدیداران کی تنخواہوں میں 5 سے 10 گنا اضافہ کر دیا گیا ہےپنجاب اسمبلی سے پیر کے روز عوامی نمائندگان کی تنخواہوں پر نظر ثانی کے بل کی منظوری کے بعد رکن اسمبلی کی تنخواہ 76 ہزار روپے سے بڑھ کر چار لاکھ روپے ہو گئی ہے۔

    سب سے زیادہ اضافہ وزرا اور دیگر عہدیداران کی تنخواہوں میں کیا گیا ہے اس سے قبل پنجاب کے صوبائی وزیر کی ماہانہ تنخواہ ایک لاکھ روپے تھی جو بل کی منظوری کے بعد نو لاکھ 60 ہزار روپے ماہانہ کر دی گئی ہے وزرا کی تنخواہ میں لگ بھگ 10 گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    اسی طرح پنجاب اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی تنخواہوں میں بھی لگ بھگ8سے10 گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے سپیکر کی تنخواہ ایک لاکھ 25 ہزار سے بڑھا کر نو لاکھ 50 پچاس ہزار روپے کر دی گئی ہے اور ڈپٹی سپیکر کی تنخواہ کو ایک لاکھ بیس ہزار روپے سے بڑھا کر سات لاکھ 75 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔

    پارلیمانی سیکرٹری کی تنخواہ جو پہلے 83 ہزار روپے ماہانہ تھی اب چار لاکھ 51 ہزار روپے ہو گئی ہے۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ کے مشیروں کی تنخواہ بھی ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر چھ لاکھ 65 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔

    نظر ثانی بل کی منظوری کے بعد وزیر اعلیٰ کے سپشل اسسٹنٹ کی تنخواہ بھی ایک لاکھ روپے ماہانہ سے بڑھا کر چھ لاکھ 65 ہزار روپے کر دی گئی ہے، اراکین اسمبلی اور وزرا کی تنخواہوں میں یہ اضافہ ان کی بنیادی ماہانہ تنخواہ پر کیا گیا ہے ان کو ملنے والا ٹی اے ڈی اے، فری میڈیکل، رہائش اور دیگر مراعات اس کے علاوہ ہیں۔

    تنخواہوں پر نظر ثانی کے اس بل کی منظوری پر پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ کی اکثریتی حکومت کو حزبِ اختلاف کی جماعتوں اور سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے تنقید کا سامنا ہے۔

  • محسن نقوی کی سعودی کرکٹ فیڈریشن کے چیئرمین کو  دورہ پاکستان کی دعوت

    محسن نقوی کی سعودی کرکٹ فیڈریشن کے چیئرمین کو دورہ پاکستان کی دعوت

    ریاض: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے سعودی عربیہ کرکٹ فیڈریشن کے چیئرمین شہزادہ سعود بن مشعل السعود سے ریاض میں اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں فریقوں نے کرکٹ کے فروغ اور اسٹیڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے قریبی تعاون کی ضرورت پر بات چیت کی۔

    ملاقات میں محسن نقوی نے سعودی عرب میں کرکٹ کی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی اور خاص طور پر کھلاڑیوں کی ترقی پر زور دیا۔ انہوں نے سعودی عرب میں کرکٹ کے فروغ کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ کی دنیا میں سعودی عرب ایک ابھرتا ہوا نام بن رہا ہے، اور پی سی بی اس عمل میں مکمل تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔محسن نقوی نے سعودی کرکٹ فیڈریشن کے چیئرمین کو پاکستان آنے کی دعوت دی تاکہ وہ چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ کے میچز کا مشاہدہ کر سکیں اور دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ کے فروغ کے لیے مزید مواقع تلاش کیے جا سکیں۔ اس موقع پر انہوں نے ایک پلیئرز ایکسچینج پروگرام شروع کرنے کی تجویز بھی دی، جس کے تحت سعودی عرب اپنے ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو پاکستان بھیج سکتا ہے تاکہ وہ پاکستان کے کرکٹ ماحول میں تربیت حاصل کر سکیں۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ سعودی عرب کے ساتھ کرکٹ کی ترقی کے لیے اپنے تمام وسائل فراہم کرے گا، چاہے وہ کھلاڑیوں کی تربیت ہو، اسٹیڈیمز کی تعمیر ہو یا کرکٹ کے فروغ کے دیگر پہلو۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ سعودی عرب کے کرکٹ اسٹرکچر میں مضبوطی لانے کے لیے پاکستان کی مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔

    دوسری طرف، سعودی کرکٹ فیڈریشن کے چیئرمین شہزادہ سعود بن مشعل السعود نے کہا کہ سعودی عرب کرکٹ کے فروغ کے لیے پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان کرکٹ کی عالمی سطح پر ایک مضبوط شناخت رکھتا ہے اور سعودی عرب اس کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر اپنے کھلاڑیوں کی ترقی کے لیے کام کر رہا ہے۔ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے کرکٹ کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ، سعودی عرب میں کرکٹ کے فروغ کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    وویمنز کرکٹ پر سعودیہ کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہیں۔محسن نقوی
    علاوہ ازیں چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کی سعودی عرب کے نائب وزیر کھیل بدر بن عبدالرحمن ال قادی سے ملاقات ہوئی ہے ملاقات میں کرکٹ کے فروغ۔ پلیئرز ڈویلپمنٹ اور سٹیڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا،چئیرمین پی سی بی محسن نقوی کی سعودیہ کے نائب وزیر کھیل کو چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ کے میچز دیکھنے کے لیے پاکستان کے دورے کی دعوت دی،چئیرمین پی سی بی نے پلیئرز ڈویلپمنٹ اور سٹیڈیمز کی تعمیر کے لیے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی،پاکستان اور سعودیہ کا ایمپائرز،کوچز اور کھلاڑیوں کے ایکسچینج پروگرام متعارف کرانے پر اتفاق کیا گیا،چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے وویمنز کرکٹ کے فروغ کیلئے مکمل سپورٹ کرنے کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ سعودی عرب میں کرکٹ کے کھیل کے فروغ کے لئے ہر سطح پر معاونت فراہم کریں گے۔وویمنز کرکٹ پر سعودیہ کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہیں۔پاکستان میں کرکٹ کا بے پناہ ٹیلنٹ ہے۔ پی ایس ایل سے کھلاڑیوں کے پول میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے نائب وزیر کھیل کو پی ایس ایل دیکھنے کے لیے پاکستان آنے کی دعوت دی،سعودیہ کے نائب وزیر کھیل نے چیمپئنز ٹرافی اور پی ایس ایل کے پاکستان دورے کی دعوت پر محسن نقوی کا شکریہ ادا کیا

  • جاپان صحت، سیلاب متاثرہ علاقوں کیلئے 2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر  دے گا

    جاپان صحت، سیلاب متاثرہ علاقوں کیلئے 2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر دے گا

    جاپان نے خیبرپختونخوا میں زچہ بچہ کی صحت اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی سے متعلق ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی ایک علیحدہ گرانٹ دینے کا وعدہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق معاہدے پر جاپان کے قائم مقام سفارت کار تاکانو شوئچی اور وزارت اقتصادی امور کے سیکریٹری ڈاکٹر کاظم نیاز نے اسلام آباد میں منعقدہ تقریب کے دوران معاہدے پر دستخط کیے، اس موقع پر جائیکا پاکستان کے چیف نمائندے ناؤاکی میاتا اور جوائنٹ سیکرٹری محمد یحییٰ اخونزادہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔یو این ایف پی اے کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر 50 منٹ میں ایک عورت حمل سے متعلق پیچیدگیوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلی جاتی ہے، دیہاتی خواتین کو صحت کی دیکھ بھال تک محدود رسائی کا سامنا ہے اور بچوں کی پیدائش کے حوالے طبی سہولیات بہت اور اس سمت میں پیش رفت بہت سست ہے، موجودہ رفتار سے پاکستان کو پیدائش کے دوران ہونے والیاموات کے خاتمے میں 122 سال لگیں گے اور اور خاندانی منصوبہ بندی کی ضروریات کو پورا کرنے میں 93 سال لگ سکتے ہیں۔
    واضح رہے کہ 2022 میں پاکستان میں اس کی تاریخ کا بدترین سیلاب آیا جس میں ایک ہزار 700 افراد جاں بحق ہوئے، 33 کروڑ افراد متاثر ہوئے، مویشی ہلاک، زرعی زمین زیر آب آگئی اور سرکاری تخمینوں کے مطابق 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔اس تمام صورتحال میں جاپان خیبرپختونخوا میں سیلاب زدہ علاقوں اور ہزارہ ڈویژن میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے پاکستان کومجموعی طور پر 2 کروڑ 85 لاکھ 80 ہزار امریکی ڈالر کی امداد فراہم کرے گیا، یہ امداد ان دو منصوبوں کے لیے فراہم کی جائے گی اور اس سلسلے میں پاکستان اور جاپان کے درمیان معاہدے طے پاگئے۔اس امداد میں زچہ و بچہ کی صحت کے لیے 99 لاکھ 10 ہزار ڈالر اور دریائے سندھ میں سیلاب مینجمنٹ کو بہتر بنانے کے لیے ایک کروڑ 86 لاکھ 70 ہزار ڈالر شامل ہیں۔زچہ و بچہ صحت کے منصوبے کے تحت ہزارہ ڈویژن کے 21 مراکز صحت میں جدید طبی آلات نصب کیے جائیں گے تاکہ زچگی اور بچوں کی صحت کو بہتر بنایا جا سکے۔اس منصوبے کا مقصد 2029 تک ادارہ جاتی ڈلیوریز، سی سیکشنز اور الٹراساؤنڈ معائنے کی تعداد میں اضافہ کرکے زچہ و بچہ کی شرح اموات میں کمی لانا ہے، یہ اقدام معیاری طبی خدمات کی فراہمی اور عوام کا اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔اس کے تحت سیلاب مینجمنٹ منصوبے کے تحت خیبرپختونخوا اور پنجاب میں 45 ہائیڈرولوجیکل اور ہائیڈرولک نیٹ ورک نصب کیے جائیں گے اور خیبرپختونخوا میں دریا کے حفاظتی ڈھانچوں کی بحالی کی جائے گی۔اس منصوبے کا مقصد سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنا اور بنیادی ڈیٹا کی دستیابی کو بہتر بنانا ہے تاکہ مستقبل میں دریا مینجمنٹ کو مؤثر بنایا جا سکے، اس منصوبے میں ’بیلڈ بیک بیٹر‘ کا تصور اپنایا گیا ہے تاکہ سیلابی خطرات سے بچاؤ کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔

    وزارت قانون کا ضابطہ فوجداری 1898 میں اصلاحات کرنے کا اعلان

    سندھ کے اکنامک زونز چینی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گئے

    یونان کشتی حادثہ، نوجوانوں نے ایجنٹ کو 24 لاکھ فی کس دیے

    اوگر کی منظوری، گیس کی قیمتوں میں 25.78 فیصد تک اضافہ

  • پاکستان قازقستان سےایک سال میں اپنی برآمدات میں 20 فیصد اضافے کا خواہاں

    پاکستان قازقستان سےایک سال میں اپنی برآمدات میں 20 فیصد اضافے کا خواہاں

    اسلام آباد: قازقستان کے سفیر یرزہان کستافن نے پاکستان میں ڈسپلے سینٹرز کے قیام میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی-

    باغی ٹی وی: اسلام آباد میں وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ، مواصلات اور نجکاری عبدالعلیم خان کی زیر صدارت پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارت کے فروغ کے لیے اہم اجلاس ہوا،اجلاس میں قازقستان میں تعینات پاکستانی سفیر یرزہان کستافن نے خصوصی شرکت کی، اس کے علاوہ وفاقی سیکریٹریز اور سینئر افسران نے بھی شرکت کی ہوئے۔

    وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے اجلاس کے دوران کہا کہ پاکستان اور قازقستان آئندہ تین برسوں میں دو طرفہ تجارت کے حجم میں 100 فیصد اضافہ کریں گےانہوں نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی ضروریات کو ایک ہی مرکز میں پورا کیا جائے گا تاکہ سہولت فراہم کی جا سکے۔

    قازقستان کے سفیر یرزہان کستافن نے پاکستان میں ڈسپلے سینٹرز کے قیام میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی، پاکستان اور قازقستان کےاجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ٹیکسٹائل، سرجیکل آلات، کھیلوں کےسامان، ہینڈی کرافٹس، چمڑے کی مصنوعات اور زرعی آلات کو ان ڈسپلے سینٹرز میں نمائش کے لیے رکھا جائے گا۔

    وفاقی وزیر نےکہا کہ پاکستان قازقستان سےایک سال میں اپنی برآمدات میں 20 فیصد اضافہ کرنےکا خواہاں ہے اور وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ بھی مشترکہ کاروباری حکمت عملی اپنائی جائے گی، الماتے باکو اور دیگر بڑے شہروں میں پاکستان اپنی مصنوعات کی نمائش کے مراکز قائم کرے گا، ہر ملک کی طلب کے مطابق ڈسپلے سینٹرز کے لیے پالیسی تشکیل دی جائے گی تاکہ بزنس کمیونٹی کو سہولت دی جا سکے۔

  • منشیات کی لعنت سے کوئی ملک تنہا نہیں نمٹ سکتا،  محسن نقوی

    منشیات کی لعنت سے کوئی ملک تنہا نہیں نمٹ سکتا، محسن نقوی

    ریاض: دورہ سعودی عرب کے دوران وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ڈائریکٹر جنرل اینٹی نارکوٹکس میجر جنرل محمد ال قرنی سے ملاقات کی،جس میں انسداد منشیات کے حوالے سے باہمی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : دورہ سعودی عرب کے دوران وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے سعودی عرب کے اینٹی نارکوٹکس ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں پر ڈائریکٹر جنرل اینٹی نارکوٹکس میجر جنرل محمد ال قرنی نے وزیرداخلہ و انسداد منشیات محسن نقوی کا استقبال کیا۔

    وفاقی وزیر محسن نقوی نے اینٹی نارکوٹکس ہیڈکوارٹر کے کنٹرول روم کا مشاہدہ کیا، محسن نقوی نے ہیڈ کوارٹر کے مختلف شعبے دیکھے اور سعودی حکام نے انسداد منشیات کے سلسلے میں بریفنگ دی،بریفنگ میں بتایا گیا کہ سعودی اینٹی نارکوٹکس پاکستان کے ادارے اے این ایف کے ساتھ رابطے میں ہےاے این ایف کے ساتھ مستقل بنیادوں پر معلومات کا تبادلہ ہوتا ہے سعودی عرب کی انفارمیشن پر حال ہی میں پاکستان سے منشیات کے 2 ملزم پکڑے گئے ۔

    ملاقات میں انسداد منشیات کے لیے دوطرفہ معاونت کے تحت مزید موثر اقدامات پر اتفاق کیا اور سعودی عرب نے پاکستان کو منشیات کا سراغ لگانے کے لیے جدید ترین آلات کے حوالے سے تعاون کی پیشکش بھی کی ،محسن نقوی نے کہا کہ منشیات کی لعنت سے کوئی ملک تنہا نہیں نمٹ سکتا، یہ اقوام عالم کا مشترکہ چیلنج بن چکا ہے پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اینٹی نارکوٹکس کے حوالے سے تعاون جاری رکھے گانئی نسل کو نشے سے محفوظ ماحول دینے کیلئے بین الاقوامی سطح پر جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔

    جبکہ وزیرداخلہ و انسداد منشیات محسن نقوی نے ڈائریکٹر جنرل سعودی اینٹی نارکوٹکس کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔

  • سیکیورٹی حادثات سے سی پیک کے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں،چینی ڈپٹی مشن

    سیکیورٹی حادثات سے سی پیک کے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں،چینی ڈپٹی مشن

    اسلام آباد: چینی سفارتخانے کے ڈپٹی مشن شی یوآن چھنگ نے کہا ہے کہ سی پیک متوازن ترقی میں لانگ ٹرم منصوبہ ہے۔

    باغی ٹی وی : چینی سفارتخانے کے ڈپٹی مشن چھنگ نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے 10 سال مکمل ہونے کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ اس وقت بہتر انداز سے آگے بڑھ رہا ہے، چینی صدر شی جن پنگ اور پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے اس منصوبے پر دستخط کیے۔

    انہوں نے کہا کہ توانائی سمیت دیگر شعبوں میں دونوں ممالک نے اپنا تعاون بڑھایا اور اورنج لائن منصوبہ سی پیک کا اہم منصوبہ ہے خنجراب پاس کو تمام موسموں کےلیے قابل استعمال بنایا گیا ہے گوادر ائیرپورٹ سمیت گوادر پورٹ کا منصوبہ سی پیک کا حصہ ہے اور صنعتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے اقتصادی زونز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

    چینی سفارتخانے کے ڈپٹی مشن نے کہا کہ رشکئی اقتصادی زون صنعتی تعاون کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا اور سی پیک متوازن ترقی میں لانگ ٹرم منصوبہ ہے ترقی کے لیے تحفظ ضروری ہے اور بغیر تحفظ کے سی پیک منصوبہ مکمل نہیں ہوسکتا سیکیورٹی حادثات سے سی پیک کے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں چینی صدر نے بتایا کہ پاکستان کے ساتھ پانچ ایز فریم ورک پر کام کریں گے اور چینی صدر نے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہر شعبے میں تعاون کا یقین دلایا۔

    شی یوآن نے کہا کہ قراقرم ہائی وے کی اپ گریڈیشن سمیت ایم ون کی ری الائمنٹ کی جائے گی، وزیر اعلیٰ پنجاب نے چین کا دورہ کیا اور تفصیلی ملاقاتیں کیں جبکہ مریم نواز نے چینی اعلی حکام سمیت کاروباری افراد سے بھی ملاقاتیں کیں پنجاب کی ترقی کے حوالے سے مختلف منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    جبکہ چیئرمین ایریڈ زاہد لطیف خان نے کہا کہ سی پیک پاکستان اور اس خطے کے لیے اہم منصوبہ ہے اور یہ منصوبہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا اہم حصہ ہے کیپیٹل مارکیٹ کی ترقی کے لیے پاکستان سے وفود چین گئے ہیں جبکہ چینی کیپیٹل مارکیٹ دنیا کی دوسری بہترین اسٹاک مارکیٹ ہے دونوں ممالک کی کرنسی میں کام کرنے کی ضرورت ہے اور اس سے امریکی ڈالر پر دونوں ممالک کا انحصار کم ہو گا کئی چینی کمپنیاں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ ہیں اور چینی کمپنیوں کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں،سی پیک منصوبہ دونوں ممالک کے اتحاد کا مظہر ہے۔

    علاوہ ازیں سیکرٹری خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل جمیل قریشی نے کہا کہ سی پیک منصوبہ پاکستان کے مستقبل کا ویژن ہے اور ہمارے اقتصادی تعلقات ایک نئے انداز سے آگے بڑھ رہے ہیں سی پیک کے تحت منصوبوں سے ہماری اگلی نسل کو فوائد پہنچیں گے خصوصی اقتصادی زونز میں چینی صنعتوں کو لانے کے لیے کام کرنا ہو گا اور پاکستان میں خصوصی اقتصادی زونز پر کام ابتدائی مراحل میں ہے اس میں صنعت، بزنس اور نجی شعبے کا کردار بڑا اہم ہے حکومت کا کام تعاون و تحفظ، کاروباری ماحول فراہم کرنا ہے۔

  • پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کیلئے کام کررہے ہیں،عطاتارڑ

    پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کیلئے کام کررہے ہیں،عطاتارڑ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان سیاحت کیلئے محفوظ ملک ہے اور یہاں کے لوگ امن پسند ہیں۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی ثقافت اور ورثے کی تاریخ صدیوں پرانی ہے، پاکستان کی ثقافت اورتہذیب ہماری پہچان ہے، بین المذاہب ہم آہنگی سے بہترین معاشرہ تشکیل پاتا ہے، پاکستان کے لوگ پرامن اور مہمان نواز ہیں۔

    عطاتار ڑ نے کہا کہ پاکستان سیاحت کے حوالے سے محفوظ ملک ہے، مختلف ممالک کے وفود کا پاکستان کا دورہ کرنا خوش آئند ہے، پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کیلئے کام کررہے ہیں، ڈائیلاگ ہر مسئلے کا حل ہے، ہمیں مثبت سوچ کی بہت ضرورت ہے، ہم ملکی ترقی کیلئے پرعزم ہیں، پاکستان ایک خوبصورت اور پرامن ملک ہے۔

    دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ پنجاب کو دنیا بھر کے لیے تجارت اور سرمایہ کاری کا مرکز بنائیں گے مریم نواز نے چین میں پنجاب بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دورہ چین کے دوران چینی حکام نے بہترین میزبانی کی۔ اور چین کی ترقی ہماری لیے قابل تقلید ہے،موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے چین کی پالیسیاں اہم ہیں۔ اور چینی تاجروں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کے لیے سہولیات فراہم کریں گے۔

  • سانحات سے سبق لیتے ہوئے اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا۔خالد مسعود سندھو

    سانحات سے سبق لیتے ہوئے اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا۔خالد مسعود سندھو

    صدر پاکستان مرکزی مسلم لیگ خالد مسعود سندھو نے 16 دسمبر کے المناک دن کی مناسبت سے کہا ہے دشمن نے ہمارے درمیان تقسیم کے ذریعے کامیابی حاصل کی اور ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کیا، جس کے نتیجے میں ہمیں اپنا بازو کھونا پڑا۔ اسی طرح 16 دسمبر 2014 کو دشمن نے آرمی پبلک سکول پر حملہ کرکے ہمیں مزید دکھ پہنچایا اور ہمارے معصوم بچوں کو شہید کیا۔ ان واقعات سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہمیں اتحاد، انصاف اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہوگا تاکہ دوبارہ ایسی تاریخ نہ دہرائی جا سکے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد کے آئی-8 مرکز میں ایک اہم اجلاس کے دوران کیا۔ اجلاس میں پارٹی کے نومنتخب عہدیداران کو نوٹیفکیشن سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔ یہ اجلاس پارٹی کے اہداف کو واضح کرنے اور موجودہ سیاسی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کے لیے بلایا گیا۔ اجلاس میں ضلعی باڈی، این اے 46، 47، 48 کے تیراہ زونل باڈیز کے ممبران نے شرکت کی۔خالد مسعود سندھو نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ ایک مستحکم اور جامع پالیسی کے تحت قومی مسائل کے حل کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ماضی کے سانحات، جیسے سقوطِ ڈھاکہ اور سانحہ اے پی ایس، سے سبق لیتے ہوئے ملک میں اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا۔ پارٹی قومی اتحاد، سماجی خدمت اور انصاف پر مبنی سیاست کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کے ہر کارکن کو اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھانا ہوگی تاکہ عوام کا اعتماد جیتا جا سکے۔

    اس موقع پر اسلام آباد کے صدر انعام الرحمن کمبوہ نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ پارٹی اسلام آباد میں اپنی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔ اجلاس کے اختتام پر نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد دی گئی اور انہیں ان کی ذمہ داریوں کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی گئی۔

    جمعیت کے وفد کی مرکزی مسلم لیگ کے دفتر آمد، فیصل ندیم سے ملاقات

    مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے پریس کلب پریحییٰ السنوار کی غائبانہ نمازجنازہ ادا

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ شاہکوٹ کی یکجہتی فلسطین کانفرنس

    مرکزی مسلم لیگ کا ارشدندیم ، والدین کیلئے عمرے ،گاؤں میں آئی ٹی انسٹیٹیوٹ بنانے کا اعلان

  • مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو 53 برس مکمل

    مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو 53 برس مکمل

    آج، 16 دسمبر 2024ء کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو 53 برس بیت گئے ہیں۔ یہ وہ دن تھا جب 1971ء میں مشرقی پاکستان ،بنگلہ دیش الگ ہو گیا تھا۔ اس سانحے کو تاریخ میں "سقوط ڈھاکا” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ قیام پاکستان کے 24 سال بعد، پاکستان کے مشرقی بازو کا علیحدہ ہونا ایک دردناک اور اہم واقعہ تھا جس نے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے برصغیر کی سیاسی تاریخ کو بدل دیا۔

    سقوط ڈھاکا ایک سنگین سانحہ تھا جس میں لاکھوں افراد کی جانیں گئیں، لاکھوں خاندان برباد ہوئے اور پاکستان کا جغرافیائی وجود متاثر ہوا۔ اس دن کا دلی غم آج بھی پاکستانی قوم کے دلوں میں تازہ ہے، اور یہ دن ہمیں اپنے ماضی کے جمہوری، سیاسی اور سماجی تنازعات سے سبق سکھاتا ہے۔سقوط ڈھاکا کے موقع پر بھارتی فوج نے بنگلہ دیش کی آزادی کی حمایت میں بھرپور مداخلت کی تھی۔ بھارتی فوج نے اس دوران نہ صرف بنگلادیش کی آزادی کے لیے لڑائی کی بلکہ ڈھاکا ٹیلی ویژن کی عمارت سے جدید مشینری بھی چرا کر اپنے ساتھ لے گئی تھی،

    اگرچہ بنگلہ دیش آج ایک آزاد ملک کے طور پر موجود ہے، لیکن 1971ء کی جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دشمنی اور تقسیم کی جو دیوار کھڑی کی گئی تھی، وہ وقت کے ساتھ بتدریج کم ہو رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے، تاہم سقوط ڈھاکا کی تلخ یادیں اور وہ دور کی سیاسی حقیقتیں دونوں قوموں کی تاریخ کا ایک اہم حصہ بن چکی ہیں۔

    آج جب ہم 1971ء کی اس قومی سانحے کو یاد کرتے ہیں تو یہ وقت ہمیں اس بات کا بھی موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنے ماضی کی غلطیوں سے سیکھیں اور ایسی خامیوں کو دور کریں جو ملک کی یکجہتی اور استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ سقوط ڈھاکا ہمیں ایک قوم کے طور پر اپنی تقدیر کے فیصلے میں ذمہ داری اور ہوشیاری کا سبق دیتا ہے۔سقوط ڈھاکا ایک ایسا دردناک واقعہ تھا جس نے پاکستانی قوم کو گہرے سیاسی اور سماجی زخم دیے، مگر اس دن کی یادیں ہمیں ایک مضبوط اور یکجا پاکستان کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔