Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • موسمیاتی تبدیلی حالیہ دور کے اہم ترین مسائل میں سے ایک ہے،وزیر اعظم شہباز شریف

    موسمیاتی تبدیلی حالیہ دور کے اہم ترین مسائل میں سے ایک ہے،وزیر اعظم شہباز شریف

    باکو: وزیراعظم شہباز شریف کی جمہوریہ چیک کے وزیر اعظم سے ملاقات ہوئی-

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں کلائیمٹ ایکشن سربراہی اجلاس کے موقع پر جمہوریہ چیک کے وزیر اعظم پیٹر فیالا سے ملاقات ہوئی اور وزیر اعظم نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کا ذکر کیا جو دوطرفہ اور کثیرالجہتی شعبوں پر محیط ہیں، دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون بڑھانے کے مواقع بالخصوص اقتصادی ترقی اور مشترکہ علاقائی اور عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تعاون پر گفتگو کی۔

    اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور جمہوریہ چیک کی اقتصادی ترقی اور خوش حالی کے لیے تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو وسعت دینے کی اہمیت پر زور دیا، وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کے اسٹریٹجک محل وقوع اور وسطی ایشیا کے گیٹ وے کے طور پر استعداد پر بھی روشنی ڈالی اور چیک جمہوریہ کی کمپنیوں کو پاکستان میں توانائی، ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے مستفید ہونے کی دعوت دی۔

    پیٹر فیالا اور شہباز شریف نے ملاقات میں باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں رہنماؤں نے علاقائی سلامتی اور پائیدار ترقی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مستقل کوششوں کی ضرورت پر اتفاق کیاوزیر اعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی حالیہ دور کے اہم ترین مسائل میں سے ایک ہے، جس کے لیے اجتماعی عالمی اقدامات کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہونے کے باوجود ماحولیاتی استحکام اور موسمیاتی اثرات سے بچاؤ کے اقدامات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔

    شہباز شریف نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مؤثر طریقے سے نمٹنے، گرین انرجی کو فروغ دینے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے جمہوریہ چیک سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔

  • سموگ فصل جلنے سے نہیں، اصل حکمرانوں نے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے، خواجہ آصف

    سموگ فصل جلنے سے نہیں، اصل حکمرانوں نے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے، خواجہ آصف

    اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اصل حکمرانوں نے اس معاملے پر ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ پر خواجہ آصف نے سموگ سے متعلق ایک چارٹ شیئر کیا جس میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ فضائی آلودگی کی وجہ ٹرانسپورٹ ہے، اس کے بعد فصلوں کا جلانا، پھر کچرے کو نذر آتش کرنا دوسری اور تیسری بڑی وجوہات ہیں۔

    اس چارٹ کو شیئر کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ صرف شور ہے کہ سموگ چاول کی فصل کی باقیات جلانے سے ہوتی ہے، اس چارٹ کو دیکھیں تو آپ کو اصلی ملزم نظر آئیں گے جن کا اس معاملے میں نام ہی نہیں آتا،فصلوں کی باقیات تو موہنجوداڑو کے وقت سے ہر سال جلائی جارہی ہیں تاہم ہمارے اصل حکمران یعنی انتظامیہ/ نوکر شاہی executive نے ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے کہ سموگ یا فضائی آلودگی کی بڑی وجہ فصلیں جلانا ہے۔

    انہوں نے لکھا کہ سموگ بھارت سے امپورٹ ہو رہی ہے کیونکہ ہوا مشرق سے مغرب کی طرف چل رہی ہے، جب مغرب سے مشرق کی طرف چلے گی تو پھر کیا ہوگا ‏چند روز پہلے لاہور کے جج شاہد کریم صاحب نے مارکیٹیں 8 بجے شام بند کرنے کا فیصلہ سنایا جس پر عمل درآمد باقی ہے، پاکستان اور خصوصاً پنجاب کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ یہاں مارکیٹیں دوپہر کے بعد یعنی 2 بجے کے قریب کھلتی ہیں اور آدھی رات کے بعد یعنی 2 بجے کے بعد تک کھلی رہتی ہیں-

    انہوں ںے لکھا کہ محترم تاجر حضرات رات دیر سے گھر آتے ہیں تو بچے سوئے ملتے ہیں صبح بچے اسکول جاتے ہیں تو ابا حضور سورہے ہوتے ہیں، مارکیٹوں کے اوقات کا یہ منفرد اعزاز دنیا میں صرف وطن عزیز کو حاصل ہے،‏ تاجر تنظیمیں ایک بڑی قوت ہیں اور وہ ان منفرد اوقات کو تبدیل کرنے کی حامی نہیں، ہم سیاست دانوں کی بھی سیاسی دکان داری ہے کہ ہم مصلحتوں کا شکار ہیں کہ ہمارے کاروبار سیاست کو کوئی زک نہ پہنچے۔

  • چین کا ایک بار پھر پاکستان میں اپنی فورس تعینات کرنے پر زور

    چین کا ایک بار پھر پاکستان میں اپنی فورس تعینات کرنے پر زور

    چین کی جانب سے گزشتہ ماہ کراچی میں چینی انجینیئرز پر ہونے والے حملےکے بعد چین نے ایک بار پھر پاکستان میں مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے چینی باشندوں کی سکیورٹی کیلئےاپنی فورس تعینات کرنے پر زور دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ”روئٹرز“ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین نے گزشتہ ماہ کراچی میں حملے کے بعد پاکستان میں اپنے باشندوں پر حملے روکنے میں ناکامی پر ناراضی کا اظہار کیا اور پاکستان کو مشترکہ سیکیورٹی مینجمنٹ سسٹم کے لیے مجبور کیا تھا، پاکستان کے پانچ سکیورٹی اور حکومتی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس حوالے سے تفصیلات فراہم کی ہیں۔

    چینی باشندوں پر حملے کے بعد پاکستان اور چین کے درمیان مذاکرات میں شریک ایک سرکاری اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ چین کی جانب سے ایک بار پھر پاکستان میں اپنی فورس تعینات کرنے پر زور دیا گیا ہے، لیکن پاکستان کی جانب سے ابھی تک اس سے اتفاق نہیں کیا گیایہ بات واضح نہیں ہوسکی کہ چین اپنے باشندوں کی سکیورٹی کیلئے اپنی فورسز پاکستان میں تعینات کرنا چاہتا ہے یا وہ اس کیلئے نجی سکیورٹی کانٹریکٹرز کی خدمات حاصل کرے گا۔

    دوسری جانب ابھی تک پاکستان یا چین کی جانب سے بھی دوطرفہ مذاکرات کے حوالے سے کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔

    اسلامی تاریخ کی اہم ترین جنگ قادسیہ کا درست مقام تلاش

    روئٹز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان اور چین کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ دونوں ممالک مشترکہ سکیورٹی مینجمنٹ سسٹم قائم کریں گے، لیکن اس بات پر اتفاق نہیں ہوسکا کہ چین کی سکیورٹی فورسز پاکستان میں تعینات ہوں، میٹنگ میں شریک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ پاکستان نے چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں اپنے سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کے بجائے پاکستان کو انٹیلیجینس اور سرویلنس کا نظام بہتر بنانے میں مدد فراہم کرے۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے روئٹرز کو بتایا کہ وہ ان مذاکرات کے حوالے سے کوئی علم نہیں رکھتے، تاہم چین پاکستان میں موجود اپنے باشندوں کی سکیورٹی کیلئے پاکستان کے ساتھ اپنا سکیورٹی تعاون جاری رکھے گا۔

    روئٹرز کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر اور وزارت داخلہ نے رابطہ کرنے پر ردعمل دینے سے گریز کیا۔

    جنوبی کوریا کے معروف اداکار نے خود کشی کر لی

    روئٹرز کے مطابق ایک سرکاری اہلکار نے چینی انجینیئرز پر حملے کو سکیورٹی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حملہ آور کو اندر سے مدد حاصل تھی سہولت کار کو یہ معلوم تھا کہ چینی انجینیئرز نے کب پہنچنا ہے اور کس روٹ کے ذریعے ایئرپورٹ سے باہر نکلیں گے چینی حکام نے حالیہ میٹنگ میں سکیورٹی معاملات پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے سکیورٹی پروٹوکولز کو نظرانداز کرنے کا شکوہ کیا، ’ان پروٹوکولز میں چینی باشندوں کی نقل و حرکت کے دوران بھاری سکیورٹی کی تعیناتی سمیت دیگر ایس او پیز شامل ہیں‘۔

    واضح رہے کہ چینی باشندوں کی سکیورٹی کیلئے پاکستان میں اسپیشل پروٹیکشن یونٹ بھی فعال ہے، جس میں پولیس، فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل ہیں، پاکستان میں چین کے اپنے اہلکار چینی سفارتخانے اور قونصل خانوں کی اندرونی سکیورٹی پر تعینات ہیں، تاہم مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے باشندوں کی سکیورٹی کی ذمہ داری پاکستان پر ہے۔

    چینی شہریوں پر خود کش حملہ آور کے بارے میں نئے انکشافات

    خیال رہے کہ گزشتہ ماہ 6 اکتوبر کو کراچی ایئرپورٹ کے قریب خودکش دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں 2 چینی انجینیئرز سمیت 3 افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوگئے تھےخود کش حملہ آور نے 100 کلوگرام بارود سے بھرا ٹرک چینی انجینیئرز کی گاڑی سے ٹکرایا تھا، پاکستان میں پاور پلا نٹ پر کام کرنے والے یہ چینی انجینیئرز تھائی لینڈ میں چھٹیاں گزارنے کے بعد واپس پہنچے تھے۔

  • چیمپئنز ٹرافی،پی سی بی نے آئی سی سی کو خط لکھ دیا

    چیمپئنز ٹرافی،پی سی بی نے آئی سی سی کو خط لکھ دیا

    چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کے حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو خط لکھ دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پی سی بی نے آئی سی سی سے یہ وضاحت طلب کی ہے کہ بھارت نے پاکستان آنے سے انکار کرنے کی کیا وجوہات پیش کیں، اس سے قبل بھارتی کرکٹ بورڈ نے زبانی طور پر آئی سی سی کو آگاہ کیا تھا کہ وہ پاکستان نہیں آئیں گے، جس کے بعد چند روز قبل آئی سی سی نے پی سی بی کو بھارت کے پاکستان نہ آنے کی اطلاع دی تھی۔

    پاکستانی حکومت نے آئی سی سی کو آگاہ کیا تھا کہ اگر بھارت 2025ء میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی کے دوران پاکستان نہ آیا تو پاکستان میچز کا بائیکاٹ کرے گا،اگر چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان اس تنازعے کا حل نہ نکالا گیا تو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو مالی نقصان کا سامنا بھی ہو سکتا ہے،بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے رویے کے نتیجے میں پاکستان کی پالیسی موجودہ سائیکل میں آئی سی سی کی آمدنی پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔

    دوسری جانب آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے حوالے سے بھارتی میڈیا نے نیا دعویٰ کیا ہے،بھارتی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق، ہائبرڈ ماڈل سے انکار کے بعد آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جنوبی افریقہ منتقل کرنے کا امکان ہے۔ اگر تنازعہ پیدا ہوتا ہے تو چیمپئنز ٹرافی کے معاملے کا فیصلہ آئی سی سی کی بورڈ میٹنگ میں کیا جائے گا، اور پاکستان سے چیمپئنز ٹرافی کی منتقلی کے لیے بورڈ میٹنگ میں رائے شماری ضروری ہوگی۔

    چیمپئنر ٹرافی،پاکستان کا مائنس انڈیا فارمولے پر غور

    چیمپئنز ٹرافی،بھارت کا انکار،پاکستان کیا کرے گا؟

    چیمپئینز ٹرافی:ایونٹ کی منسوخی کی اطلاعات پر پی سی بی کا موقف سامنے آ گیا

    چیمپئنزٹرافی: بھارتی ٹیم کے کپتان روہت شرما کا بیان سامنے آگیا

    چیمپئنز ٹرافی،بھارت کا پاکستان آنے سے انکار،محسن نقوی کا ردعمل

    پاکستان نے کئی سالوں بعد اپنے میدانوں میں عالمی کرکٹ کو واپس لانے کی کوشش کی ہے اور اس طرح کے فیصلے پاکستان کے لیے ایک چیلنج بن سکتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے یہ وقت بہت اہم ہے کیونکہ ان کے لیے اپنی ساکھ کو دوبارہ قائم کرنا اور عالمی کرکٹ کی دنیا میں پاکستان کو ایک محفوظ مقام فراہم کرنا ضروری ہے۔

    چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ سے قبل قذافی سٹیڈیم کی تکمیل کا چیلنج پورا کرنا ہے،محسن نقوی

    آئی سی سی اجلاس: چیمپئنز ٹرافی 2025 کی تیاریوں پر اطمینان، پاکستان دورے کی دعوت

    چیمپئنز ٹرافی:بھارتی ٹیم میچ کھیلنے کے بعد پاکستان میں رات نہیں گزارے گی

    چیمپئنز ٹرافی 2025ء : قذافی سٹیڈیم کی گنجائش میں 160 فیصد اضافہ

    چیمپئنز ٹرافی پاکستان میں ہی ہو گی،محسن نقوی

    پاکستان نے چیمپئنز ٹرافی کی تیاریاں شروع کر رکھی ہیں،پاکستان نے کروڑوں روپے خرچ کر کے گراؤنڈ کی مرمت کا منصوبہ بنایا تھا،پی سی بی نے بھی اس کے لیے کام شروع کر دیا ہے

    چیمپئنز ٹرافی میں ٹیم انڈیا اور پاکستان گروپ اے میں ہیں۔ اس کے ساتھ نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش بھی اس گروپ میں شامل ہیں۔ گروپ بی میں انگلینڈ، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور افغانستان کو رکھا گیا ہے

    آخری مرتبہ چیمپئنز ٹرافی 2017 میں کھیلی گئی تھی جو پاکستان نے بھارت کو شکست دیکر جیتی تھی،بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ بھارتی ٹیم پاکستان نہیں جائے گی تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ بھارتی حکومت کرے گی، چیمپئنز ٹرافی کے لیے ہائبرڈ ماڈل پر کام ہو رہا ہے اور ہو سکتا ہے کہ ایشیا کپ کی طرح بھارت اپنے میچز دبئی یا پھر متحدہ عرب امارات میں کھیلے۔

    دوسری جانب چیئرمین پی سی بی محسن نقوی واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی پاکستان کو ملی ہے اور پورا ٹورنامنٹ پاکستان میں ہی کھیلا جائے گا، 

    محسن نقوی سے سابق کرکٹر کی ملاقات، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں مایوس کن کارکردگی پر گفتگو

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

  • بھارتی ہٹ دھرمی، پاکستانی اسکریبل پلیئرز کوبھی ویزے دینے سے انکار

    بھارتی ہٹ دھرمی، پاکستانی اسکریبل پلیئرز کوبھی ویزے دینے سے انکار

    بھارتی ہائی کمیشن نے زیادہ تر پاکستانی اسکریبل کھلاڑیوں کو ویزے جاری کرنے سے انکار کر دیا۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابقپاکستان اسکریبل ایسوسی ایشن نے بھارت کی جانب سے کھیلوں کی اسپرٹ برقرار رکھنے میں ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے مایوسی کا اظہار کیا۔ ویزے نہ ملنے کے سبب ایشیا یوتھ اسکریبل چیمپئن شپ کے لیے پاکستان ٹیم ٹائٹل کے دفاع سے محروم ہوگئی ہے۔پاکستان اسکریبل ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر طارق پیریز نے بتایا کہ 2 ماہ قبل درخواستیں جمع کروانے کے باوجود بھارتی ہائی کمیشن نے تاخیر سے پروسیس کیا، جبکہ کچھ پلیئرز کو آخری لمحات میں ویزے دیے گئے. نصف ٹیم کو بغیر وضاحت کے ویزے دینے سے انکار کیا گیا، اس میں وہ کھلاڑی بھی شامل ہیں، جنہوں نے 2022 میں بھارت میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی تھی۔طارق پیریز کا کہنا تھا کہ موجودہ ورلڈ یوتھ چیمپئنز اور دفاعی ایشین یوتھ ٹائٹل ہولڈرز کی حیثیت سے پاکستان کی غیر موجودگی ایک اہم دھچکا ہے۔ ٹیم ویزے ملنے کی امید کے ساتھ لاہور آئی لیکن اب مایوس ہو کر واپس کراچی لوٹ جائیں گے۔پاکستانی ٹیم اب مزید سازگار نتائج کی امید کے ساتھ آنے والے بین الاقوامی مقابلوں پر توجہ مرکوز کرے گی۔واضح رہے کہ پاکستان کے 16 سالہ عفان سلمان ستمبر میں سری لنکا میں ہونے والی 19ویں ورلڈ یوتھ اسکریبل چیمپئن شپ 2024 جیت چکے ہیں، پاکستانی ٹیم نے ٹرافی بھی جیتی اور نمبر ون رینکنگ ٹیم ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا جبکہ 4 کھلاڑیوں میں ٹاپ 10 میں جگہ بنائی۔

    اسرائیل غزہ پر جارحیت کی ہر حد پار کرچکا ہے، وزیر اعظم

    پی ٹی آئی کی سندھ پولیس کیخلاف توہین عدالت کی درخواستیں

    روس پاکستان سے بہترین تعلقات چاہتا ہے ،گورنرسندھ

    واٹس ایپ:تصویر فیکٹ چیک فیچر آزمائشی طور پر شروع

  • اسرائیل غزہ پر جارحیت کی ہر حد پار کرچکا ہے، وزیر اعظم

    اسرائیل غزہ پر جارحیت کی ہر حد پار کرچکا ہے، وزیر اعظم

    وزیر اعظم شہباز شریف نے غزہ میں فوری اور غیرمشروط جنگ بندی، اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی فوری روکنے اور غزہ کی ناکہ بندی ختم کرکے وہاں خوراک، پانی، بجلی اور طبی امداد کی فوری فراہمی کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی شہر ریاض میں منعقدہ غیرمعمولی عرب اسلامی سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہ اسرائیل غزہ پر جارحیت کی ہر حد پار کرچکا، غزہ میں انسانی بحران تصور سے باہر ہے، زندگیاں ختم ہورہی ہیں، گھر تباہ ہورہے ہیں اور خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، انہوں نے سوال کیا کہ کب تک ہسپتالوں کو بچوں کی لاشیں اٹھائے خواتین سمیت دھماکوں سے اڑایا جاتا رہے گا اور انسانیت اپنی آنکھیں بند کیے رکھے گی؟وزیر اعظم نے کہاکہ فلسطینیوں کے خلاف جاری جنگی جرائم کو عالمی عدالت انصاف اور میڈیا نسل کشی قرار دے چکا ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ اسرائیل ہراخلاقی ضابطے کو پامال کررہا ہے، قتل و غارت اور تباہی تاحال جاری ہے اور اس کے خاتمے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی، انہوں نے کہاکہ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس جارحیت کو کب تک نظر انداز کیا جائے گا۔وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہاکہ دنیا کی خاموشی اسرائیل کے لیے حوصلہ افزائی کا کام کررہی ہے، انسانیت کی فوری جنگ بندی اور بلا تعطل امداد کی فراہمی اور شہریوں کے تحفظ کی درخواستوں کو مسلسل پامال کیا جارہا ہے۔ایک طرف گھروں کو مکینوں سمیت بموں سے اڑیا جارہا ہے اور دوسری طرف اسرائیل کو جدید ترین ہتھیاروں کی فراہمی جاری ہے اور ساتھ ہی اسے غیر مشروط تعاون اور حفاظت کی یقین دہانی بھی کروائی جارہی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ عالمی انسانی قوانین کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں، غزہ میں انسانیت آزمائش میں بار بار ناکام ہورہی ہے اور دنیا بہری بن کر خاموشی سے تماشہ دیکھ رہی ہے۔شہباز شریف نے فلسطینی عوام کی ثابت قدمی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ یہ عجوبہ نہیں ہے تو اور کیا ہے کہ دہائیوں سے جاری مظالم اور جارحیت کے باوجود فلسطینی عوام کے مزاحمت کے جذبے میں کوئی کمی نہیں آئی ، بے رحم محاصرے کے باوجود آزادی کے شعلے پوری آب و تاب کے ساتھ بھڑک رہے ہیں۔ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑا ہے اور 1967 سے قبل کی سرحدات پر مشتمل ایک ایسی آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے غیر متزلزل حمایت کااعادہ کرتا ہے، جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو، انہوں نے کہا کہ مقدس سرزمین پر انصاف اور دیرپا امن کے قیام یہی ایک واحد حل ہے۔

    پی ٹی آئی کی سندھ پولیس کیخلاف توہین عدالت کی درخواستیں

    روس پاکستان سے بہترین تعلقات چاہتا ہے ،گورنرسندھ

    پاکستان کسٹمز میں گریڈ 10سے 18تک کی 69آسامیاں مستقل ختم

  • روس پاکستان سے بہترین تعلقات چاہتا ہے ،گورنرسندھ

    روس پاکستان سے بہترین تعلقات چاہتا ہے ،گورنرسندھ

    گورنرسندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ روس پاکستان کے ساتھ بہترین تعلق چاہتا ہے اس ضمن میں موجودہ معاشی صورتحال میں روس پاکستان کے ساتھ دوستی کا ثبوت بھی دینا چاہتا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ا ن خیالات کا اظہار انہوں نے گورنرہائوس میں روس کے سفیر Albert Khorev سے ملاقات کے دوران کیا ۔اس سے قبل جب روس کے سفیر Khorev Albert گورنر ہاؤس پہنچے تو انہیں گارڈ آف آنر پیش کیاگیا۔گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور روس کے سفیر نے پرچم کشائی کی۔اس موقع پر روسی قونصلیٹ کے نمائندگان بھی موجود تھے۔روس کے سفیر نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات تحریر بھی کئے ۔گورنرسندھ کے ہمراہ روس کے سفیر نے قائد اعظم گیلری کا دورہ کیا۔ روس کے سفیر کی کراچی کے مشہور برگر اور مٹکہ چائے سے تواضع بھی کی گئی ۔گورنرسندھ نے مزید کہا کہ آج روس کے سفیر سے میری تفصیلی بات ہوئی ہے،انشاللہ پاک روس دوستی تجارت کے تبادلہ میں تبدیل ہوگی۔انہوں نے کہا کہ روس اور پاکستان کی بہت اچھے تعلقات ہیں۔کچھ عرصہ قبل روس کے ڈپٹی وزیر اعظم بھی پاکستان آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ روس کے سفیر کو صوبہ میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔ بعد ازاں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے روسی سفیر اور قونصل جنرل کو عزازی ٹوپی اور شال دی۔رو س کے سفیر نے شجر کاری مہم کے تحت گورنرہائو س میں پودا بھی لگایا ۔

    واٹس ایپ:تصویر فیکٹ چیک فیچر آزمائشی طور پر شروع

    پاکستان کسٹمز میں گریڈ 10سے 18تک کی 69آسامیاں مستقل ختم

    کراچی : پولیس افسر کے ساتھ ویڈیو بنوانے والی ٹک ٹاکر کیخلاف مقدمہ درج

    ٹرمپ کی کامیابی کا پاکستان سے کوئی لینا دینا نہیں‘ آغا سراج

  • آصف زرداری کا چینی صدر کو شکریہ، مناسب تاریخ پر دورے کا وعدہ

    آصف زرداری کا چینی صدر کو شکریہ، مناسب تاریخ پر دورے کا وعدہ

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے چینی ہم منصب شی جن پنگ کی جانب سے خیرسگالی پیغام پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل قریب میں مناسب تاریخ پر چین کا دورہ کروں گا۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق صدر مملکت کا کہنا تھا کہ چین کی قیادت اور عوام کی جانب سے صحتیابی کے پیغامات سے متاثر ہوا، مستقبل قریب میں مناسب تاریخ پر چین کا دورہ کروں گا۔ دورے سے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ، آہنی بندھن کو مزید تقویت ملے گی۔واضح رہے کہ چینی صدر نے 3 نومبر کو خط کے زریعے صدر زرداری کے زخمی ہونے پر اظہار تشویش کیا تھا اور آصف علی زرداری کی جلد صحتیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔شی جن پنگ نے خط میں صدر زرداری کو دورہ چین کی گرمجوشی سےدعوت دی تھی۔واضح رہے کہ 30 اکتوبر کو صدر پاکستان آصف علی زرداری دبئی ایئرپورٹ پر جہاز سے اترتے ہوئے حادثے کا شکار ہوگئے تھےاور جہاز سے اترتے ہوئے ان کے پاؤں میں فریکچر ہوگیا تھا۔آصف علی زرداری کو فوری طور پرابتدائی طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں ڈاکٹرز نے معائنے کے بعد ان کے پاؤں پر پلاسٹر کردیا تھا۔صدر مملکت آصف زرداری کا 4 سے 7 نومبر تک چین کا دورہ طے تھا، دورے کے دوران انہیں چینی صدر شی جن پنگ سے بھی ملاقات کرنی تھی، صدر زرداری کو 5 نومبر کو شنگھائی عالمی نمائش میں بھی شرکت ہونا تھا، تاہم وہ چین کے دورے پر نہیں جاسکے تھے۔دبئی میں مقیم صدر آصف زرداری کی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری کے ہاں گزشتہ ہفتے تیسرے بیٹے کی ولادت ہوئی تھی۔20 اکتوبر کو پیدائش کے بعد بختاور بھٹو زرداری اور محمود چوہدری نے اپنی مشترکہ انسٹاگرام پوسٹ میں اپنے والدین بننے کی تصدیق کی تھی۔

    موبائل شاپ دکاندار کی لڑکی سے مبینہ زیادتی ، بلیک میل بھی کیا

    میہڑ:ڈکیتی پر مزاحمت،فائرنگ سے ایک شخص زخمی

    سربراہ آئینی بینچ جسٹس امین الدین کی زیر صدارت اجلاس،اعلامیہ جاری

  • وفاقی وزیر مذہبی امور نےحج پالیسی 2025 کا اعلان کردیا

    وفاقی وزیر مذہبی امور نےحج پالیسی 2025 کا اعلان کردیا

    وفاقی وزیر مذہبی امور چوہدری سالک حسین نے حج پالیسی 2025کا باضابطہ اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیر مذہبی امور نے کہا کہ سرکاری اور نجی اسکیم کےتحت حج کوٹہ 50،50 فیصد ہے، 12 سال سےکم عمر بچوں کو حج کی اجازت نہیں دی جارہی۔گزشتہ سال حج انتظامات بہت بہترین تھے، حج اتنظامات کے سلسلے میں تیاریاں پوری کررہےہیں،وفات کی صورت میں حاجی کے لواحقین کو 20لاکھ روپے امداد اور زخمی ہونیوالے حجاج کو بھی معاوضہ ادا کیا جائے گا۔عازمین حج کیلئے حج رقم کی قسطوں کا نظام متعارف کرارہے ہیں، پہلی بار حج پر جانے والوں کو ترجیح دی جارہی ہے تاہم بیماراورمتعدی امراض میں مبتلاافراد رواں سال حج پر نہیں جاسکیں گے۔چوہدری سالک کا کہنا تھا کہ ہماری بھرپور کوشش ہوگی کہ کوٹہ واپس نہ کیاجائے ، اسپانسرڈاسکیم کا رہ جانیوالا کوٹہ عام عازمین کو منتقل کیاجائےگا اور اوورسیز پاکستانیوں کیلئے حج کوٹہ 5ہزار مقرر کیاجارہاہے۔ حج پیکج 10 لاکھ 75 ہزار روپےسے 11لاکھ 75ہزار روپےتک ہوگا ، حجاج کرام کو ایک لاکھ واپس کرنا تھے وہ بھی جلد واپس کردیں گے۔حج کی رقم 3 اقساط میں جمع ہوسکے گی ، درخواست کیساتھ 2 لاکھ ،نام نکلنے پر 4لاکھ اور بقیہ حج پرجانے سے پہلے جمع کرانا ہوں گے۔،وفاقی وزیرمذہبی امور نے کہا کہ 10فروری کےبعدنہ جانےکی صورت میں بقیہ رقم واپس نہیں ہوگی تاہم درخواست گزار کا انتقال ہوگیا تو مذکورہ بالاکٹوتی نہیں کی جائےگی،درخواستوں کی وصولی کی آخری تاریخ سے قبل پیسے واپس لینے پر کٹوتی نہیں ہوگی، قرعہ اندازی کے بعد پہلی قسط واپس لینے پر 50 ہزار روپے کٹوتی ہوگی، تیسری قسط جمع نہ کرانےکی صورت میں 2 لاکھ روپے کٹوتی ہوگی۔

    سندھ حکومت نے اسٹیل مل بحال کیلئے روس سے رابطہ کر لیا

    کراچی ایئرپورٹ سگنل پر خود کش حملے کا ماسٹر مائنڈ بلوچستان سے گرفتار

  • آئی ایم ایف وفد پاکستان پہنچ گیا

    آئی ایم ایف وفد پاکستان پہنچ گیا

    آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ چکا ہے اور اس کے ساتھ پاکستانی حکومت کی جانب سےمذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے، جس میں معاشی صورتحال پر تعارفی سیشن میں بریفنگ دی گئی۔

    آئی ایم ایف وفد کے پاکستان پہنچنے کے بعد وزارت خزانہ کی جانب سے تعارفی سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان کی معاشی ٹیم نے آئی ایم ایف مشن کو موجودہ معاشی صورتحال سے آگاہ کیا۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق، اس سیشن میں ملک کے معاشی اہداف پر رپورٹ بھی پیش کی گئی۔آئی ایم ایف کے وفد کے ساتھ یہ ابتدائی ملاقات ملک کی معاشی ٹیم کے درمیان ہوئی، جس میں وزیر مملکت برائے خزانہ نے وفد کو پاکستان کی موجودہ اقتصادی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی۔ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں وزارت خزانہ، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کے حکام بھی شریک ہوئے، اور انہوں نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران حاصل کردہ معاشی اہداف اور ایف بی آر کی جولائی سے ستمبر تک کی محصولات کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔آئی ایم ایف وفد اس رپورٹ کا جائزہ لے گا اور پھر متعلقہ وزارتوں کے ساتھ مذاکرات کرے گا۔ اطلاعات ہیں کہ آئی ایم ایف مشن کی وزیر خزانہ محترمہ محمد اورنگزیب سے کل ملاقات متوقع ہے۔

    ایف بی آر کے چیئرمین کی قیادت میں ٹیم نے آئی ایم ایف کو بریفنگ دی، جس میں وزیر مملکت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے حکام بھی شریک تھے۔ ایف بی آر حکام کے مطابق، جولائی تا ستمبر کے دوران 2,652 ارب روپے ٹیکس جمع کیے گئے اور 96.6 فیصد ٹیکس ہدف حاصل کیا گیا۔ ستمبر میں 1,098 ارب روپے کے ٹیکس ہدف کے مقابلے میں 8 ارب اضافی ٹیکس جمع کیا گیا۔ایف بی آر کا کہنا ہے کہ جولائی تا اکتوبر کے دوران 190 ارب روپے کا شارٹ فال رہا، لیکن اس کے باوجود انکم ٹیکس گوشواروں میں اس سال 76 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا۔

    پاکستان کے لیے آئی ایم ایف سے جاری مذاکرات کا ایک نیا باب شروع ہو چکا ہے، اور یہ اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ ان مذاکرات میں جہاں ایک طرف معاشی اہداف کی تکمیل پر گفتگو ہو رہی ہے، وہیں ایف بی آر کی کارکردگی اور محصولات کے ہدف میں حاصل ہونے والی کامیابیاں بھی حوصلہ افزا ہیں۔آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کا مقصد پاکستان کی معیشت کو مستحکم بنانا اور عالمی مالیاتی ادارے کی مدد سے بحرانوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ تاہم، مذاکرات کے دوران اس بات کا خاص خیال رکھنا ہوگا کہ عوامی فلاح کے منصوبوں کو نقصان نہ پہنچے اور معیشت میں پائیدار ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

    (آئی ایم ایف) سے 7 ارب ڈالرز کے بیل آؤٹ پیکیج کی پہلی قسط وصول

    سینیٹ کمیٹی نے ملک بھر میں بجلی کی چوری کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی

    بجلی کا بل بنا موت کا پیغام،10ہزارکے بل نے قیمتی جان لے لی

    1لاکھ90ہزار سرکاری ملازمین کو 15ارب روپے کی سالانہ بجلی مفت ملتی ہے

    لاہور دا پاوا، اختر لاوا طویل لوڈ شیڈنگ اور مہنگے بجلی بلوں پر پھٹ پڑا

    آئی ایم ایف وفد کی جانب سے پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ ملکی اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہوگا، جو معیشت کی مضبوطی اور استحکام کی طرف حکومتی اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔توقع کی جا رہی ہے کہ آئی ایم ایف وفد کے اس دورے سے پاکستان اور عالمی برادری کو پاکستان کی معیشت کی صورتحال اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے بہتر آگاہی حاصل ہوگی۔