Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • منی لانڈرنگ اسکینڈل کی تحقیقات میں 2 افراد گرفتار

    منی لانڈرنگ اسکینڈل کی تحقیقات میں 2 افراد گرفتار

    کراچی میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے ) نے کارروائی کرتے ہوئے لگژری اپارٹمنٹ اور منی لانڈرنگ اسکینڈل میں متعلقہ منصوبے کے سی ایف او سمیت دو افراد کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ ایف آئی اے میں لگژری اپارٹمنٹ، منی لانڈرنگ اسکینڈل کی تحقیقات جاری ہیں۔

    ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان میں ندرت مندخان اور سلمان خان شامل ہیں تاہم اس حوالے سے ترجمان نے مزید بتایا کہ منصوبے کے مالک ڈاکٹر نسیم شہزاد اور بیٹا عمر شہزاد مفرور ہیں اور ترجمان کا کہنا ہے کہ منصوبہ ڈی ایچ اے فیز 8 میں 20 سال سے زیر تعمیر ہے، لوگوں نے اربوں روپے جمع کرائے لیکن منصوبہ مکمل نہ ہوسکا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ٹک ٹاک پر بچوں کے ڈیٹا کی خلاف ورزی پر 345 ملین یورو کا جرمانہ عائد
    ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ جاری
    جمہوریت کا مطلب صرف انتخابات نہیں بلکہ شمولیت ہے. چیئرمین سینیٹ
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا

    خیال رہے کہ اس سے قبل بھی کئی کارویاں ہوچکی ہیں جس میں مختلف لوگوں کو پکڑا گیا ہے اور اب ان سے تفتیش جاری ہے

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا، جبکہ حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 26 روپے 2 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 17 روپے 34 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا ہے، اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 38 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 329 روپے 18 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔
    https://x.com/MalikRamzanIsra/status/1702763877824602200
    جبکہ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگیا ہے جبکہ خیال رہے کہ اس سے قبل آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)نے آئندہ پندرہ روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری تیار کرلی تھی، جبکہ اوگرا نے سمری میں 15 ستمبر سے 30 ستمبر کیلئے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 17 روپے تک اضافے کرنے کی تجویز دی ہے۔اسی طرح اوگرا کی جانب سے ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 24 روپے اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔

    جبکہ ذرائع نے بتایا تھا کہ پیٹرول، ڈیزل میں لیوی پر اضافہ ہوسکتا ہے اوگرا کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری وزارت خزانہ کو بھیجی جائے گی، جس پر وزیراعظم سے مشاورت کے بعد (آج) جمعہ کی رات کو نئی قیمتوں کا اعلان کیا جائے گا۔ رواں ماہ کے ابتدائی 10 روز میں روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں 4 روپے 50 پیسے تک کمی ہوئی لیکن اس دوران ستمبر کے پہلے ہفتے میں عالمی سطح پر برینٹ کی قیمتیں 88 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 92 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں۔اس کے علاوہ حکومت پیٹرولیم ڈیلرز اور مارکیٹنگ کمپنیوں کے سیل مارجن میں اضافے کے تقریبا 88 پیسے فی لیٹر کے بوجھ کو بھی عوام پر منتقل کرے گی جب کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)نے گزشتہ ہفتے اس کی منظوری دے دی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ جاری
    جمہوریت کا مطلب صرف انتخابات نہیں بلکہ شمولیت ہے. چیئرمین سینیٹ
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا
    جبکہ واضح رہے کہ 31 اگست کو نگران حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا اعلان کردیا تھا جس کے بعد ملکی تاریخ میں پہلی بار پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت 300 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی تھی۔31 اگست کو نگران حکومت کو آئے ابھی ایک ماہ کا بھی عرصہ نہیں ہوا تھا لیکن اس کے باوجود لگاتار دوسری مرتبہ قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا اور اس عرصے میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 35 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہو چکا تھا۔اس سے قبل 16 اگست کو بھی نگران حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بالترتیب 17 روپے 50 پیسے اور 20 روپے کا اضافہ کردیا تھا۔پیٹرولیم مصنوعات میں پے درپے اضافے سے ہوشربا مہنگائی میں مزید اضافے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے جہاں روپے کی قدر میں مسلسل کمی کی وجہ سے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

  • لاڈلے کیلئے 90 دن ریمانڈ والی شق کو کیوں نہیں چھیڑا گیا. عطاء تارڑ

    مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ لاڈلے کیلئے 90 دن ریمانڈ والی شق کو نہیں چھیڑا گیا، 16 ستمبر کو یوم نجات منانا چاہیے کیونکہ پاکستان کے مسائل کا حل عدل و انصاف میں مخفی ہے جبکہ لندن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ نیب ترمیمی بل کے خلاف درخواست پر سپریم کورٹ کے فیصلے میں 90 دن کی ریمانڈ والی شق کو نہیں چھیڑا گیا، کیونکہ پتہ تھا کہ لاڈلے کے کیسز زیر التوا ہیں۔

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ اگر چاہتے تو ایک قدم آگے چلے جاتے، پچھلی ترامیم میں گرفتاری کے بعد ریمانڈ کا دورانیہ 14 سے 30 دن کیا گیا تھا۔ جو اصل قانون کے مطابق گرفتاری کے بعد 90 دن ہے۔ ہماری پارٹی کے لوگوں جو کیسز بھگتے ہیں، وہ 88 دن بھی جسمانی ریمانڈ کیلئے نیب کی تحویل میں رہے، لیگی رہنما نے مزید کہا کہ رول آف لاء کی بجائے مدد ان لاء کے رول کو ترجیح دی گئی، جس طرح 6 ستمبر کو یوم دفاع منایا جاتا ہے، اسی طرح 16 ستمبر کو یوم نجات منانا چاہیے، کیونکہ پاکستان کے مسائل کےحل عدل وانصاف میں مخفی ہے۔

    جبکہ واضح رہے کہ آج 16 ستمبر کو چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے نیب ترمیمی بل کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر آخری سماعت کی اور مدت پوری ہونے کے بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہوگئے ہیں، نیب ترمیمی بل کے خلاف درخواست پر 58 صفحات پر مشتمل فیصلہ بھی جاری کردیا گیاہ ے، جس میں اکثریتی فیصلہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا، جب کہ جسٹس منصور علی شاہ نے 2 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ لکھا جو تحریری فیصلے میں شامل ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛

    ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ جاری
    جمہوریت کا مطلب صرف انتخابات نہیں بلکہ شمولیت ہے. چیئرمین سینیٹ
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا
    تحریری فیصلے میں نیب سیکشن 3 اور سیکشن 4 سے متعلق ترامیم کو کالعدم قرار دیا گیا ہے، فیصلے میں کرپشن اور بے ایمانی کی تعریف کے حوالے سے کی گئی ترمیم بھی کالعدم قرار دے دی گئی، جب کہ سروس آف پاکستان کے خلاف دائر ریفرنسز کیلئے سیکشن 9 اے فائیو میں کی گئی ترمیم برقرار رہے گی۔

  • 98 فیصد پاکستانی ملکی حالات سے ناخوش. سروے

    98 فیصد پاکستانی ملکی حالات سے ناخوش. سروے

    98 فیصد پاکستانی ملکی حالات سے ناخوش. سروے میں انکشاف

    ملکی معیشت کے ساتھ پاکستانی صارفین کا گرتا ہوا اعتماد بھی بحال کرنا نگران حکومت کیلئے بڑا چیلنج ہے جبکہ اپسوس پاکستان نے کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس کی تیسری سہ ماہی کی سروے رپورٹ جاری کردی اور اپسوس پاکستان کی جانب سے جاری سروے رپورٹ کے مطابق 98فیصد پاکستانی ملکی سمت سے خوش نہیں،سمت کو درست سمجھنے والے پاکستانیوں کی شرح 2 فیصد پر آگئی۔

    رپورٹ کے مطابق ملکی معیشت اور اپنی مالی صورتحال سے پاکستانی مایوس ہیں، 76 فیصد پاکستانی ملکی معیشت کو کمزور اور 68 فیصد اپنی مالی صورتحال کو خراب کہہ رہے ہیں اور سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ 66 فیصد پاکستانی ملکی معاشی حالات میں اگلے 6 ماہ میں بھی بہتری کے لیے پُر امید نہیں ہیں جبکہ 60 فیصد مستقبل میں اپنے مالی حالات مزید کمزور دیکھ رہے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ جاری
    جمہوریت کا مطلب صرف انتخابات نہیں بلکہ شمولیت ہے. چیئرمین سینیٹ
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا
    خیال رہے کہ گزشتہ سال اپسوس پاکستان نے عوام کی آراء پر مبنی سروے کیا تھا جس کے مطابق بے روزگاری اور غربت کو ملک کے اہم مسائل قرار دینے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گیا ہے جبکہ اس سے قبل گزشتہ 2021 لے سروے میں 40 فیصد لوگ مہنگائی کو اہم مسئلہ کہتے تھے لیکن اب یہ تعداد 49 فیصد تک جاپہنچی ہے۔

  • پنجاب؛ کمشنرز سے میونسپل کارپوریشن کے اختیارات واپس لینے کا فیصلہ

    پنجاب؛ کمشنرز سے میونسپل کارپوریشن کے اختیارات واپس لینے کا فیصلہ

    نگراں پنجاب حکومت نے صوبے کے 8 ڈویژنز کے کمشنرز سے میونسپل کارپوریشن کے اختیارات واپس لینے کا فیصلہ کرلیا گیا، پنجاب حکومت نے صوبے کے 8 ڈویژنز کے کمشنرز سے میونسپل کارپوریشن کے اختیارات واپس لینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ گوجرانوالا، گجرات، روالپنڈی، سرگودھا، فیصل آباد، ملتان ڈویژن، ساہیوال، بہاولپور، ڈی جی خان، سیالکوٹ، مری اور لاہورڈویژن شامل ہیں۔ میونسپل کارپوریشن کے سربراہ اب ڈپٹی کمشنر ہوں گے۔

    واضح رہے کہ 2022 میں اختیارات کمشنر کو دیئے گئے تھے، اور یہ تبادلے معمول کا حصہ ہیں اور اکثر اوقات انہیں ایک وقت کے بعد تبدیل کیا جاتا ہے اور مختلف علاقوں کی ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا مثبت دن رہا
    ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ جاری
    جمہوریت کا مطلب صرف انتخابات نہیں بلکہ شمولیت ہے. چیئرمین سینیٹ
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا

    اس سے قبل سندھ میں بھی تبادلے کیئے گئے تھے جنہیں نگران حکومت نے تبادلوں کے احکامات روکے تھے.

  • نگران وزیراعظم کیخلاف تحقیقات میرٹ پر ختم کی گئیں. نیب کا موقف

    نگران وزیراعظم کیخلاف تحقیقات میرٹ پر ختم کی گئیں. نیب کا موقف

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے کہا ہے کہ نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کےخلاف تحقیقات میرٹ پرختم کی گئیں اور نیب حکام کے مطابق نگران وزیراعظم کے خلاف شکایت کا نیب ترامیم سے کوئی تعلق نہیں تھا اور ان کے خلاف تحقیقات میرٹ پرختم کی گئیں، نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ انوار الحق کاکڑ کے خلاف کوئٹہ میں اثاثہ جات کا کیس کھولا گیا تھا لیکن تحقیقات میں ان کے اثاثہ جات نہیں ملے۔

    نیب ذرائع نے بتایاکہ نگران وزیراعظم کا معاملہ ان کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی کلیئر ہوگیا تھا، خیال رہے کہ اس سے قبل نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ نیب ترامیم پر وزارت قانون اپنا موقف بیان کرے گی، انتخابات کا تعین ہمارا کام نہیں، اگر میں تاریخ دوں گا تو غیر قانونی ہو گا۔ ملک میں بجلی چوروں، ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ کے خلاف بھرپور مہم جاری رہے گی۔

    اسلام آباد میں بجلی چوری، ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ کی روک تھام سے متعلق اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ 10 روز کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر، ایکسچینج ریٹ اور مہنگائی جیسے مسائل سمیت بجلی کی چوری پر کافی حد تک قابو پانے کی کوشش کی گئی ہے، ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ کے خلاف بھرپور مہم جاری رہے گی۔

    انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ آج کا اجلاس ایک سنگ میل ہے، میں سمجھتا ہوں کہ طرز حکمرانی کے حوالے سے رویہ درست کرنے کی ضرورت ہے، گزشتہ 9، 10 روز کے دوران مجھے چاروں صوبوں سے اچھی خبریں سننے کو ملی ہیں، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ذخیرہ اندوزوں اور سمگلنگ کے خلاف مؤثر کارروائی ہوتی نظر آرہی ہے۔

    نگران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری توجہ گورننس کے معاملات کی درستگی کے حوالے سے ہے، ہمارے حکومتی اقدامات میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔ بہت ساری چیزیں عالمی مارکیٹ میں قیمتوں سے جڑی ہیں، میرا خیال ہے کہ عوام یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں ہماری بدنیتی، کوتاہی یا غفلت شامل نہیں ہے، ہماری کوشش ہے کہ کم از کم گورننس کے رویے تبدیل کر کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جاسکے۔

    انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ افغان پناہ گزینوں کی جانب سے سمگلنگ پر قابو پانے کیلئے ہم نے پالیسی بنالی ہے جس کے اثرات جلد نظر آئیں گے، غیرقانونی طور پر یہاں موجود غیر رجسٹرڈ لوگوں کو جلد واپس بھیجا جائے گا کیونکہ ان کو ہماری سرزمین پر رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

    نگران وزیراعظم نے کہا کہ افغان بارڈر پر تجارت بحال ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ڈالر سمگلنگ دوبارہ شروع ہوجائے گی، سمگلنگ کے حوالے سے ’زیرو ٹالرنس پالیسی‘ اپنائی جا چکی ہے، اس حوالے سے ہمارا کریک ڈاؤن مسلسل جاری رہے گا، کرنسی کی سمگلنگ پر بڑا سخت کریک ڈاؤن ہوگا، جن لوگوں نے اس غیرقانونی کام میں سرمایہ کاری کی ہے انہیں بہت جلد نقصان اٹھانا پڑے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ جاری
    جمہوریت کا مطلب صرف انتخابات نہیں بلکہ شمولیت ہے. چیئرمین سینیٹ
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا
    الیکشن کی تاریخ کے اعلان سے متعلق سوال کے جواب میں انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ اگر میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان کروں گا تو غیرقانونی کام کروں گا، آپ ہمیں غیرقانونی کام کی جانب راغب کریں گے تو میں کیا جواب دوں گا۔ مسلم لیگ (ن) کے قریب سمجھے جانے والے افراد کی نگران کابینہ میں شمولیت سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فواد حسن فواد اور احد چیمہ انتہائی قابل افراد ہیں اور ان کی بنیادی شناخت بطور سول سرونٹ کی جاتی ہے، مجھے نہیں یاد پڑتا کہ وہ دونوں کبھی کسی سیاسی جماعت کے کارکن یا عہدیدار رہے ہوں۔

    بجلی کے بلوں میں ریلیف کے حوالے سے آئی ایم ایف سے مشاورت سے متعلق سوال کے جواب میں نگران وزیراعظم نے کہا کہ 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی قسطوں کا فیصلہ جلد ہوگا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی مارکیٹ سے جڑی ہیں۔ نیب ترامیم کالعدم قرار دیئے جانے کے حوالے سے سوال کے جواب میں انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ ابھی فیصلہ آیا ہے، اگر وزارت قانون سے ہمیں کوئی رائے ملے گی تو اس کے مطابق ہم فیصلہ کریں گے اور جو بھی فیصلہ ہوگا آپ کو بتائیں گے۔

  • افریقی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے سیزن ٹو کے آکشن میں 5 پاکستانی پلیئرز شامل

    افریقی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے سیزن ٹو کے آکشن میں 5 پاکستانی پلیئرز شامل

    جنوبی افریقا کے فرنچائرز ٹورنامنٹ ساؤتھ افریقا ٹی ٹوئنٹی کے سیزن ٹو کے آکشن میں 5 پاکستانی پلیئرز کو شامل کرلیا گیا ہے اور جنوبی افریقا کے ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے لیے 14 ملکوں کے 122 کھلاڑی 27 ستمبر کو ہونے والے آکشن کیلئے رجسٹرڈ کیے گئے ہیں جس میں پاکستان کے نسیم شاہ، محمد نواز، شان مسعود ، اسامہ میر اور عثمان قادر شامل ہیں۔

    نسیم شاہ، محمد نواز اور شان مسعود کی ریزروڈ پرائز 8 لاکھ 50 ہزار ساؤتھ افریقی رینڈ(جنوبی افریقی کرنسی) ہے جبکہ پاکستانی کرنسی میں یہ رقم ایک کروڑ 32 لاکھ روپے بنتی ہے، اس کے علاوہ اسامہ میر اور عثمان قادر سوا4 لاکھ رینڈ کی بیس پرائز کے ساتھ رجسٹرڈ ہوئے ہیں، پاکستانی کرنسی میں کم از کم قیمت 66 لاکھ ہوگی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ایشیا کپ؛ بنگلہ دیش کا بھارت کو جیت کیلئے 266 رنز کا ہدف
    ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ جاری
    جمہوریت کا مطلب صرف انتخابات نہیں بلکہ شمولیت ہے. چیئرمین سینیٹ
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا
    تاہم دوسری جانب پاکستان کے سابق انٹرنیشنل کر کٹر حماد اعظم بطور امریکی پلیئر رجسٹرڈ ہوئے ہیں جبکہ واضح رہے کہ گزشتہ سال پاکستانی کھلاڑیوں کو پی سی بی نے آکشن میں شامل ہونے کا این او سی نہیں دیا تھا۔ساؤتھ افریقا ٹی ٹوئنٹی میں ٹیموں کی بھارتی اونر شپ کی وجہ سے پاکستانی پلیئرز کے معاہدے ہونا غیر یقینی ہیں۔

  • پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہے. جسٹس منصور علی شاہ کا اختلافی نوٹ

    پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہے. جسٹس منصور علی شاہ کا اختلافی نوٹ

    پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہے پارلیمنٹ ہی قانون کو کالعدم کرسکتی کیس میں سوال غیر قانونی ترامیم کا نہیں بلکہ پارلیمنٹ کی بالادستی کا تھا نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست مسترد کرتا ہوں جسٹس منصور علی شاہ نے اختلافی نوٹ میں مزید کہا کہ پارلیمنٹ چاہئے تو خود اس قانون کو تبدیل کرسکتی ہے.
    https://x.com/_SulimanShah_/status/1702686400682840215
    سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے نیب ترامیم کو کالعدم قرار دے دیا ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے نوٹ تحریر کیا ہے جبکہ نیب ترامیم کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا ہے، تحریری فیصلہ 58صحفات پر مشتمل ہے اور اکثریتی فیصلہ چیف جسٹس عمر عطابندیال نے تحریر کیا ہے، جب کہ فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ کا دو صفحات کا اختلافی نوٹ بھی شامل ہے۔

    جسٹس منصورعلی شاہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ میں نے گزشتہ رات اکثریتی فیصلہ پڑھا، میں اکثریتی فیصلے سے اتفاق نہیں کرتا، اور نیب ترامیم کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کرتا ہوں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے نوٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ کیس میں بنیادی سوال نیب ترامیم کا نہیں بلکہ 24 کروڑ عوام کی منتخب پارلیمنٹ کی بالا دستی کا تھا، لیکن میری رائے میں اکثریتی فیصلہ یہ سمجھنے میں ناکام رہا کہ ریاست کے اختیارات عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کیے جائیں گے۔

    اختلافی نوٹ میں تحریر ہے کہ بنیادی سوال پارلیمانی جمہوریت میں آئین کی اہمیت اور ریاست کے اختیارات کی تقسیم کا ہے، اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے بغیر غیر منتخب ججز کا پارلیمنٹ کے پاس کردہ قانون پر فیصلہ سازی کی حدود سے متعلق ہے، جسٹس منصور نے لکھا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہے، پارلیمنٹ ہی اپنے بنائے ہوئے قوانین میں ترمیم یا تبدیلی کرسکتی ہے، اگر پارلیمنٹ نیب قانون بنا سکتی ہے تو اس کو واپس بھی لے سکتی ہے اور ترمیم بھی کر سکتی ہے، فیصلے میں اس بات کو نہیں پرکھا گیا کہ پارلیمنٹ نے کونسا کام غلط کیا ہے،ارکان اسمبلی کے احتساب کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا کہ پارلیمنٹ کا قانون سازی کا اختیار کبھی ختم نہیں ہوتا، اکثریتی فیصلہ پارلیمنٹ کے اختیارات کو سمجھنے میں ناکام رہا، اکثریتی فیصلہ آئین میں دی گئی اختیارات کی تقسیم کی مماثلث کو سمجھنے میں بھی ناکام رہا جو جمہوری نظام کی بنیاد ہے، سپریم کورٹ کے غیر منتخب ججز منتخب ارکان اسمبلی کی پالیسی کا کیسے جائزہ لے سکتے ہیں، بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی کے بغیر عدالت قانون سازی کا جائزہ نہیں لے سکتی۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے مزید تحریر کیا کہ میری عاجزانہ رائے آئینی سکیم کیخلاف ہے، آئین کے مطابق ریاست اپنی طاقت اور اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے نوٹ میں مزید کہنا تھا کہ وقت کی کمی کے باعث فی الحال تفصیلی وجوہات بیان نہیں کر رہا، اختلافی نوٹ کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کروں گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ جاری
    جمہوریت کا مطلب صرف انتخابات نہیں بلکہ شمولیت ہے. چیئرمین سینیٹ
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا

  • سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 11,000 سے تجاوز کرگئی

    سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 11,000 سے تجاوز کرگئی

    لیبیا کی ہلال احمر نے سیلاب متاثرین کی ایک خوفناک تعداد کے بارے میں بتایا ہے۔ ہلال احمر کے مطابق سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 11,000 سے تجاوز کرگئی ہے جب کہ لاپتہ افراد کی تعداد تقریباً 20,000 تک پہنچ گئی ہے، لیبیا کی ہلال احمر کا کہنا ہے کہ سیلاب سے تقریباً 2000 لاشیں سمندر میں بہہ گئیں۔

    جبکہ دریں اثنا لیبیا میں ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے جمعرات کے روز شہریوں اور امدادی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ مشرقی لیبیا کے شہر درنہ میں آنے والے سیلاب کے بعد جنگ کی دھماکا خیز باقیات کو پانی سے بھرے علاقوں میں نئے مقامات پر منتقل کرنے کے بعد محتاط رہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ جاری
    جمہوریت کا مطلب صرف انتخابات نہیں بلکہ شمولیت ہے. چیئرمین سینیٹ
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا
    عالمی ادارے کے مطابق کمیٹی نے اپنے فیس بک پیج پر کہا کہ یہ معلوم ہے کہ درنہ جنگ کی دھماکا خیز باقیات سے آلودہ شہر ہے اور سیلاب کی وجہ سے باقیات کو ان کے سابقہ مقامات سے شہر بھر کے علاقوں میں منتقل کیا گیا، انہوں نے مزید کہا کہ دھماکہ خیز مواد اب بھی خطرناک ہے اور شہریوں اور امدادی کارکنوں سے کہا کہ وہ محتاط رہیں اور مشکوک جگہوں پر نشانیاں لگائیں تاکہ دوسروں کو خبردار کیا جا سکے اور حکام کو مطلع کیا جا سکے۔

  • ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ جاری

    ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ جاری

    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور انٹربینک میں آج ڈالر ایک روپے 11 پیسے سستا ہو کر 296.85 روپے ہے۔ انٹربینک میں گزشتہ روز ڈالر 297.96 روپے پر بند ہوا تھا جبکہ انٹربینک میں رواں ہفتے ڈالر 6 روپے ایک پیسہ سستا ہوا ہے، دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کا بھاؤ 298 روپے برقرار ہے۔

    دوسری اسٹیٹ بینک نے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کی شرح منافع میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ تین ماہ کے ڈالر بلز کا منافع 125 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 8.25 فیصد کردیا گیا ہے اور تین ماہ کے برطانوی پاؤنڈ بلز کا منافع 175 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 7.25 فیصد جب کہ تین ماہ کے یورو این پی سیز کا منافع 225 پوائنٹس بڑھا کر 6.25 فیصد کردیا گیا ہے۔

    مرکزی بینک کے مطابق 6 ماہ کے ڈالر این پی سیز کا منافع 130 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 8.5 فیصد، 12 ماہ کے این پی سیز کا منافع 150 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 9 فیصد، 6 ماہ کے پاؤنڈ اسٹرلنگ این پی سیز کا منافع 150 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 7.50 فیصد جب کہ 12 ماہ کے پاؤنڈ اسٹرلنگ این پی سیز کا منافع 100 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 8 فیصد کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق6 ماہ کے یورو این پی سیز کا منافع 200 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 6.5 فیصد، 12 ماہ کے یورو این پی سیز کا منافع 200 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 7 فیصد، 3 اور 5 سال کے اسٹرلنگ اور یورو این پی سیز کا منافع 7.5 اور 6.5 فیصد برقرار ہے۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستانی روپے کے 3 ماہ کے این پی سیز کا منافع 6 فیصد بڑھا کر 21 فیصد، 6 ماہ کے روپے این پی سیز کا منافع 600 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 21.25 فیصد اور 12 ماہ کے روپے این پی سیز کا منافع 600 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 21.50 فیصد کیا گیا ہے علاوہ ازیں اس کے علاوہ 3 سالہ روپے این پی سیز کا منافع 350 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 17.5 فیصد اور 5 سالہ روپے این پی سیز کا منافع 150 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 15 فیصد کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق اوورسیز پاکستانی ڈالر این پی سیز میں کم از کم ایک ہزار ڈالر کی سرمایہ کرسکتے ہیں جب کہ 3 اور 5 سال کے این پی سیز کا منافع 8،8 فیصد برقرار ہے۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا مثبت دن رہا، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری دن میں 100 انڈیکس 392 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا تاہم کاروبار کے اختتام پر ہنڈریڈ انڈیکس 103 پوائنٹس اضافے سے 45753 پر بند ہوا، 100 انڈیکس کی آج بلند ترین سطح 46093 رہی، حصص بازار میں سوا 22 کروڑ شیئرز کا کاروبار 11 ارب روپے میں ہوا جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 11 ارب روپے بڑھ کر 6772 ارب روپے ہے۔