مردان: ایس پی سیکیورٹی محمد فیاض کا باچا خان میڈیکل کالج کا دورہ کیا جس میں انہوں نے سیکیورٹی و انتظامی اُمور کا جائزہ لیا
ایس پی سیکیورٹی مردان نے دورے کے موقع پر انتظامیہ سمیت سیکیورٹی کی فرائض سرانجام دینے والے پولیس افسران و جوانوں سے بھی ملاقات کی
انتظامیہ کیساتھ مختلف اُمور پر تبادلہ خیال کیا گیا، سیکیورٹی و انتظامی اُمور کا تفصیلی معائنہ کرتے ہوئے زمہ داری کےساتھ ڈیوٹی اور حفاظتی تدابیر پر عمل پیرا رہنے کی تلقین کی، عوام الناس کسی بھی مشکوک اور غیرقانونی سرگرمیوں کے بارے میں مقامی پولیس کو بروقت اطلاع دینے اور امن عامہ کیلئے شہری پولیس اور سیکیورٹی فورسز کیساتھ تعاون کرنے کی بھی تلقین کی گئی،
Tag: پاکستان
-

ایس پی سیکیورٹی مردان کا باچا خان میڈیکل کالج کا دورہ
-

تھائی لینڈ میں ہونیوالی ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں شرکت کیلئے اوپن ٹرائلز کے انعقاد کا فیصلہ
ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ 12 سے 16 جولائی تک منعقد ہوگی جس میں پاکستان سے پانچ ایتھلیٹس حصہ لیں گے
ایتھلیٹکس فیڈریشن آف پاکستان نے ایتھلیٹس کی حال ہی میں نیشنل گیمز میں ہونیوالی پرفارمنس پر انحصار کرنے کے بجائے اوپن ٹرائلز کرانے کا فیصلہ کیا ہے ، اے ایف پی کے جاری کردہ سرکلر کے مطابق ٹرائلز پنجاب سٹیڈیم لاہور میں 11 جون کو ہوں گے .
ان ٹرائلز میں مردوں کے 4 ایونٹس اور خواتین کا ایک ایونٹ رکھا گیا ہے ، خواتین کیلئے صرف چار سو میٹرز کی دوڑ میں ٹرائلز ہوں گے جبکہ مردوں کیلئے سو میٹر، دو سو میٹر، جویلین تھرو اور لانگ جمپ کے ایونٹس کے ٹرائلز ہوں گے
ٹرائلز میں شرکت کیلئے عمر کی حد یا کسی کوالیفائنگ ٹائم کی قید نہیں رکھی گئی ہے یاد رہے کہ تمام ایتھلیٹس مئی کے آخری ہفتے میں کوئٹہ میں نیشنل گیمز کے دوران بھی مصروف عمل تھے، -

بابر اور رضوان کا ہارورڈ یونیو رسٹی میں تین روزہ کورس مکمل
قومی کپتان بابر اعظم اور وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کا ہاورڈ یونیورسٹی میں کورس مکمل ہو گیا لیکن یادیں باقی رہ گئی دونوں سپر اسٹارز نیویارک ٹائمز اسکوائر پر بھی مرکز نگاہ بنے رہے قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم نے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کے ہمراہ امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی بزنس اسکول سے بزنس آف انٹرٹینمنٹ، میڈیا اینڈ اسپورٹس (بی ای ایم ایس) کورس مکمل کرلیا تین روزہ کورس مکمل ہونے کے بعد بابر اعظم اور محمد رضوان نیویارک ٹائمز اسکوائر سمیت مختلف مقامات پر گئے ہر جگہ مرکز نگاہ بنے رہے جن کی تصاویر ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں جہاں دونوں کرکٹ اسٹارز کے ساتھ مختلف ایتھلیٹ کلاس فیلوز بھی موجود ہیں بابر اعظم اور محمد رضوان پہلے دو کرکٹرز ہیں جنہوں نے اس پروگرام میں شرکت کی ہے۔
-

شاہد آفریدی کی بھارتی، بنگلہ دیشی اور سری لنکن بورڈز پر شدید تنقید
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور چیف سلیکٹر شاہد آفریدی نے بھارتی، بنگلہ دیشی اور سری لنکن بورڈز کو شدید تنقید کا نشانہ بنا یا ہے-
باغی ٹی وی : نجی ٹیو ی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا کہ ہم جس زمانے لنکن ٹیم کے پاس کھیلنے گئے تھے اس وقت وہاں کے حالات بہت زیادہ خراب تھے، اسی طرح بنگلہ دیش آج ٹیسٹ کرکٹ کھیلتا ہے تو اس میں پاکستان کا کردار ہے مودی حکومت سے قبل جب پاکستان دورہ بھارت کیلئے جاتا تھا تو بال ٹھاکرے کی جانب سے دھمکیاں دی جاتی تھیں لیکن ہماری گورنمنٹ نے یہی کہا کہ حکومت کی طرف سے ’’گرین سگنل‘‘ ہے۔
شاہد آفریدی نے اس بات پر زور دیا کہ پیشہ ور کرکٹرز موسم کے حالات دیکھ کر نہیں کھیلتے، یہ چیزیں ہوتی ہیں لیکن یہ آپ کی فٹنس لیول کو بھی جانچتی ہے اگر آپ کوئی بہانہ بنانا چاہتے ہیں تو آپ کسی بھی چیز کے ساتھ آسکتے ہیں جیسے متحدہ عرب امارات میں بہت گرمی ہے، مجھے لگتا ہے کہ یہ بہانے ہیں-
واضح رہے کہبورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) نے 2023 ایشیاکپ کے لیے اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے سے انکار کردیا، جس کے جواب میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ٹورنامنٹ کے لیے ایک ہائبرڈ ماڈل تجویز کیا، جسے یہ کہہ کر ماننے سے انکار کردیا گیا کہ دیگر بورڈز یو اے ای میں شدید گرمی کی وجہ سے کھیلنے کو تیار نہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق بی سی سی آئی کے سیکرٹری اور اے سی سی کے چیئرمین جے شاہ نے دوسرے ممالک پر واضح کر دیا ہےکہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے تجویز کردہ “ہائبرڈ ماڈل” کو قبول نہیں کریں گےٹورنامنٹ ایک ہی مقام خاص طور پر سری لنکا میں ہونا چاہیے-
نامزد میزبان کے طور پر پی سی بی کو سری لنکا میں کھیلنا ہوگا یا دستبردار ہونا پڑے گا۔ اس صورت میں، بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش اور افغانستان وہ چار ٹیمیں ہوں گی جن میں پانچویں ٹیم کی شمولیت کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔
-

پاکستان آئی ایم ایف کے شکنجے میں کیوں ۔۔۔؟
پاکستان آئی ایم ایف کے شکنجے میں کیوں ۔۔۔؟
ڈاکٹر سبیل اکرام
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے شکنجے میں بری طرح پھنس اور دھنس چکا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عالمی مالیاتی ادارہ اپنی تمام تر جائزو ناجائز شرائط منوانے کے باوجود اس معاہدے پر دستخط نہیں کر رہا جس کے مدد سے ہمارے حکمران اپنی عوام کو مسلسل باور کروارہے ہیں کہ اس کے بعد پاکستان کی معیشت جو کہ مسلسل بستر مرگ پر پڑی کراہ رہی ہے سنبھل جائے گی اور پاکستان معاشی اعتبار سے خود کفیل ہوسکے گا ۔ آئی ایم ایف کے اس جبر اور پاکستان کے عوام کے صبر پر جس بھی زاویہ نگاہ سے اظہار خیال کیا جائے یہ بات طے ہے کہ یہ ایک ایسا عالمی ایجنڈا ہے جس کا واحد مقصدپاکستان کی معیشت اور معاشرت کو اس حد تک تباہ کرنا ہے کہ ہمارا ملک عالمی ساہوکاروں کے سامنے گھٹنے ٹیک کر ہر وہ بات تسلیم کرلے جو وہ چاہتے ہیں ، اس جبر اور دباﺅ کا سب سے بڑا مقصدیہ ہے کہ ہمیں ایٹمی اثاثوں سے محروم کیا جائے اور بھارت سے ان شرائط پر صلح کروائی جائے جو وہ چاہتا ہے تاکہ مسئلہ کشمیر جو کہ پاکستان کےلئے زندگی اور موت کی حیثیت رکھتا ہے اسے بھارت کی خواہشات کے مطابق حل کیا جاسکے۔
یہ وہ حقائق ہیں جو زباں زدعام ہیں مگر ہمارے ارباب رفتہ اقتدار واختیار ان مسلمہ حقائق کا علم ہونے کے باوجود ایسے اقدامات سے نہ جانے کیوں گریزاں ہیں ، جو اس عالمی ایجنڈے سے نجات دلا کر ہمیں ایک آزاد اور خود مختار قوم بننے کا درس دے سکتے ہیں ۔ یہ محض خلوص نیت سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ایک طرف عالمی ایجنڈا ہے اور دوسری طرف پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع ہے ۔۔۔۔۔ قدرت نے ہمیں زبردست جغرافیائی محل ووقوع دیا ہے کہ کوئی سا بھی طاقت ور ملک پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ہے تاہم بات صرف قومی غیرت وحمیت کو جگانے، باہمی اتحاد واتفاق اور عوام کی رہنمائی کی ہے ۔ مگر جب رہنماہی خواب غفلت میں ڈوب کر اپنے ذاتی اغراض ومفادت کے اسیر ہو چکے ہوں تو پھر لازمی نتیجہ یہی نکلتا ہے جو اس وقت ہمارے سامنے ہے ۔
دنیا بخوبی جانتی ہے کہ آج اگر پاکستان کا بچہ بچہ اندرونی اور بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے تو اس میں عوام کا کوئی قصور نہیں یہ گزشتہ حکمرانوں کی بنائی گئی ناقص معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہم عالمی سطح پر ایسے گدا گر بن چکے ہیں جو پوری دنیا میں بھیک مانگتے ہیں ۔۔۔۔ستم بالائے ستم یہ کہ جب کوئی ملک ہماری جھولی میں بھیک ڈالتا ہے تو ہم شرمندہ ہونے کی بجائے بھنگڑے ڈالتے اور خوشی کے شادیانے بجاتے ہیں ۔ ہم ایسے گدا گربن چکے ہیں جو سودی قرضے ملنے پر بھی جشن مناتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ بحیثیت قوم ہماری عزت داﺅ پر لگ رہی اور ہماری ساکھ۔۔۔۔ راکھ بن کر ہمارے ہی سروں پر پڑ رہی ہے ۔سوال یہ ہے کہ جب کفایت شعاری کی پالیسی اپنا کر آئی ایم ایف کے ظلم و جبر اور استحصال کا راستہ روکا جاسکتا ہے تو یہ پالیسی خلوص نیت سے کیوں نہیں اپنائی جاتی ۔ ہمارے حکمرانوں کا قرض کی ۔۔۔۔مئے پینے ۔۔۔۔ اور سینہ چوڑا کرکے غیر ملکی دورے کرنے کا نشہ آخر کب۔۔۔ اترے گا ۔۔۔؟ یہ دیکھتے ہوئے بھی کہ عالم اسلام کے قلعہ پاکستان کی نظریاتی سرحدیں بد ترین خطرے میں ڈالی جارہی ہیں، اس کی معاشی بنیادوں میں ڈائنامیٹ بھرا جارہا ہے تاکہ سیکولرازم کی راہ ہموار ہوسکے اور کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا یہ ملک لادینی ریاست بن جائے ۔ ان تمام حالات کو دیکھتے اور سمجھتے ہوئے بھی نہ صرف ہمارے حکمران چپ سادھے بیٹھے ہیں بلکہ وطن عزیز کی بربادی کا تماشہ دیکھ رہے ہیں ۔ پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں جن پر پاکستان کو بچانے اور عوام میں اتحاد واتفاق کی فضا پیدا کرنے کی سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔۔۔۔یہ محض اقتدار کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ ان کی اولین ترجیح ریاست نہیں اقتدار ہے ، یہ جماعتیں اقتدار چاہتی ہیں چاہے کسی بھی قیمت پر ملے جبکہ پاکستان کی سا لمیت اور تیئس کروڑ عوام کو در پیش مسائل کی کسی کو فکر نہیں ۔ نان ایشوز کو ایشوز بنا کر عوام کو بہکایا اور دھوکے میں رکھا جارہا ہے ۔ نان ایشوز کے ذریعے عوام کے حقیقی مسائل ، غربت، بے روزگاری اور امن و امان کی بگڑتی صورت حال سے توجہ ہٹائی جارہی ہے۔ حکمرانوں نے عوام کو اس حد تک مایوس کردیا ہے کہ اب عوام میں اعتماد کا فقدان بڑھتا رہا ہے۔ یہ جانتے بوجھتے بھی کہ حالات بتدریج حتمی تباہی اور بربادی کی طرف جا رہے ہیں اصلاح و حوال پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔ ملک میں دولت کی غیر مساویانہ تقسیم کے باعث غربت، افلاس اور بے روزگاری بڑھ رہی ہیں تمام سہولتیں طبقہ اشرافیہ کے لیے مخصوص ہیں مگر غربت وافلاس کی چکی میں پسنے والے کروڑوں عوام کو بنیادی سہولتیں بھی حاصل نہیں اور نہ ہی ان کا کوئی پرسان حال ہے ۔ عالمی مالیاتی اداروں کا قرض ادا کرنے کیلئے عوام کی جیبوں پر مسلسل ڈاکے ڈالے جارہے ہیں مگر حکمران اور اشرافیہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کررہے ہیں ۔اگر چہ ہمارے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے مگرہمارا ملک مسائلستان بن چکا ہے ۔ بات بہت سیدھی ہے کہ جب ایک اسلامی نظریاتی ملک کی معیشت کی بنیادیں سود پر رکھی جائیں گی تو معیشت میں سدھارکیسے آ سکتا ہے ؟ سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کی ڈنگ ٹپاﺅپالیسیوں نے ملک کو تباہ اور عوام کو بدحال کردیا ہے مگر شعور سے عاری ہماری عوام وڈیروں اور لٹیروں کے لئے ” آوئے ہی آوئے “ کے نعرے بلند کررہے ہیں ۔ کوئی لیڈر اسلام کے نام پر عوام کو بے وقوف بنا رہا ہے اور کوئی رہنما بنیادی انسانی حقوق کے نام پر عوام کے جذبات سے کھیل رہا ہے جبکہ دینی جماعتوں کے رہنما جن پر اصلاح احوال کی سب سے زیادہ ذمہ داری ہوتی تھی ۔۔۔۔وہ بھی قوم کی تقسیم در تقسیم کا سبب بن رہے ہیں ۔ ان حالات میں آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے جو دور حاضر کے سب سے بڑے مہاجن ہیں پاکستان کی معیشت کو اپنے شکنجے میں نہیں لیں گے۔۔۔۔عوام کاخون نہیں چوسیں گے تو اور کیاہوگا ۔۔۔؟
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے حکمران ہوں یا اپوزیشن جماعتیں یا دینی جماعتیں سب کے قول وفعل میں تضاد ہے اس تضاد نے ہی قوم اور ملک کو برباد کردیا ہے ۔ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ آئی ایم ایف سے نجات کے لیے خود انحصاری اور کفایت شعاری کی پالیسیاں اپنائی جائیں ، قرضے لینے کی بجائے جو کچھ ملک میں میسر ہے اسی پر گزر اوقات کی جائے ۔ مراعات یافتہ طبقے پر نواز شات کی بارش برسانے کے بجائے غریب عوام کے مسائل پر توجہ دی جائے ۔ یہ کتنے دکھ کی بات ہے ملک میں نان اور روٹی سمیت دیگر اشیا خوردونوش کے نرخ آسمان سے باتیں کررہے ہیں مگر ارکان پارلیمنٹ جو کروڑوں اربوں کے اثاثوں کے مالک ہیں ان کےلئے کھانا شرم ناک حد تک کم نرخوں پر دستیاب ہے۔ کم آمدن والے ملازمین کو وہ سہولتیں حاصل نہیں جو محکموں کے سربراہان کو حاصل ہیں ۔ یہ صورت حال اسلام کے احکامات اور تعلیمات سے متصادم ہے۔یہ طبقاتی تفاوت ملک اور قوم کےلئے تباہ کن ہے جو کہ ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کررہی ہے ۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ عوام کی فکر کریں ۔اسلئے کہ طبقہ امرا کی تو پہلے ہی پانچوں گھی میں ہیں ، انہیں ہرطرح کی سہولتیں میسر ہیں جبکہ غریب عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ بحیثیت قو م ہم سادگی اور کفایت شعاری ایسی پالیسیاں اپنا کرآئی ایم ایف سمیت عام عالمی ساہوکاروں سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ ضرورت صرف اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے، سودی نظام کو چھوڑنے اور اسلام کا معاشی نظام اختیار کرنے اور اخلاص نیت سے آگے بڑھنے کی ہے ۔ جب ہم خود سدھر جائیں گے تو یقین کریں دنیا کی کوئی طاقت ہمارا کچھ نہی بگاڑ سکتی ہے ۔اب وقت آگیا ہے کہ ہم آئی ایم ایف کے شکنجے سے نجات حاصل کرنے کا عہد کریں اور ان سیاستدانوں ، حکمرانوں کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کریں اور ان کو ووٹ بھی نہ دیں جو اپنے غیر ملکی آقاﺅں کو خوش کرنے کے لئے ہماری گردنوں سے معاشی غلامی کا ڈالتے اور خود داد عیش دیتے پھرتے ہیں ۔
-

آل رؤنڈر معین علی کی ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی
انگلش آل راؤنڈر معین علی کی ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کا امکان بڑھ گیا وہ آف اسپنر جیک لیچ کی انجری کے بعد ایشز سیریز میں نمائندگی حاصل کر سکتے ہیں
پینتیس سالہ آف اسپن آل راؤنڈر معین علی کا دو سال بعد ٹیسٹ کرکٹ میں کم بیک ہو سکتا ہے ، نوجوان اسپنر جیک لیچ کی انجری اور ایشز سیریز میں نمائندگی سے محرومی کے بعد کرکٹ گروز کی نظریں تجربہ کار معین علی پر جمنے گئی ہے دوہزار اکیس میں ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد آل راؤنڈر نے مختصر دورانیے کے فارمیٹ پر توجہ دی جہاں ان کی بہترین پرفارمنسز انہیں دوبارہ تاریخ ساز ایشز سیریز میں واپس لا سکتی ہیں -

سعودی عرب کی جنرل ایویشن سول ایویشن کا اعلی سطحی وفد پاکستان پہنچ گیا
سعودی عرب کی جنرل ایویشن سول ایویشن(گاکا) کا اعلی سطح کا وفد پاکستان پہنچ گیا
8 رکنی ایویشن سیکورٹی وفد نے آج صبح ہیڈ کوارٹرز میں ڈائریکٹر سیکیورٹی پاکستان سول ایوی ایشن سے ملاقات کی۔ بات چیت کے دوران فریقین نے برادرانہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور باہمی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کے مکمل عزم کا اعادہ کیا۔ ڈائریکٹر جنرل سی اے اے نے اپنے پیغام میں سعودی وفد کو خوش آمدید کہا اور ان کا خیرمقدم کیا ،ڈی جی سول ایویشن کا کہنا تھا کہ مختلف ہوائی اڈوں کے دوروں کے دوران سعودی مہمانوں سے مکمل تعاون کیا جائے۔ ڈی جی سول ایویشن نے برادر ملک سعودیہ سے آنے والے وفد کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی، سربراہ سعودی وفد کا کہنا تھا کہ ہم پرتپاک استقبال پر پاکستان سول ایوی ایشن کے شکرگزار ہیں۔ یہ دورہ دونوں سول ایوی ایشنز کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں سنگ میل ثابت ہوگا، سول ایوی ایشن حکام کے مطابق ملاقات کا اختتام پر دونوں اطرف سے تحائف کا تبادلہ ہوا،
ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات
کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت
پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی
-

پاکستان میں جب بھی شاپنگ کی دوکانداروں نے پیسے نہیں لئے،وریندر سہواگ
بھارت کے سابق معروف کرکٹر وریندر سہواگ کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں کی محبت پر آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے-
باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سابق بھارتی کرکٹر وریندر سہواگ کے انٹرویو کا ایک کلپ وائرل ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں کی اپنائیت پر آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے پاکستان کے دورے کے دوران جب بھی شاپنگ کی دوکانداروں نے پیسے نہیں لئے۔
گھر کے تمام بچوں میں تھوڑی بڑی تھی میں، ورثے میں دکھ تھے سو مجھے …
"No one ever took any money from us in Pakistan, I bought 30-35 sarees for my family from Lahore, and they didn't take a penny," Virender Sehwag.
'Aap toh mehmaan ho, aapse paise kese le sakte hain hum?' ❤️
Video courtesy: Oaktree Sports & @gauravkapur / @virendersehwag pic.twitter.com/mud4PUUkDY
— Farid Khan (@_FaridKhan) June 5, 2023
انہوں نے بتایا کہ 2004 میں لاہور میں اپنے گھر والوں کے لیے 30،35 سوٹ لیے، جب دکاندار کو پتا چلا کہ بھارت سے آیا ہوں تو انہوں نے کہاکہ آپ تو مہمان ہو آپ سے پیسے کیسے لے سکتے ہیں ہم۔وریندر سہواگ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت دو بھائی ہیں جو الگ الگ ہیں، سابق کرکٹر کا کہنا تھا کہ دورہ پاکستان میں ہم جہاں جہاں گئے بہت پیار ملا، لوگوں کی باتیں سن کر جذباتی ہوجاتے تھے اور آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے۔
ہیلن سے افئیر اور پھر شادی بارے خود اپنی پہلی اہلیہ کو بتایا سلمان خان …
قبل ازیں ایک انٹرویو میں بھارت کے سابق مایہ ناز اوپننگ بیٹر وریندر سہواگ نے پاکستان کے سابق کپتان انضمام الحق کو اپنے دور میں ایشیا کا سب سے بہترین مڈل آرڈر بیٹر قرار دیدیا تھا، وریندر سہواگ کا پاکستان ٹیم کے سابق کپتان کی تعریف کرتے ہوئے کہنا تھا انضی بھائی بہت اچھے ہیں، سب لوگ سچن ٹنڈولکر کی بات کرتے ہیں لیکن میں انضمام الحق کو ایشیا کا سب سے بڑا مڈل آرڈر کا بلے باز مانتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ہم تو ٹنڈولکر کو بلے بازوں کی فہرست میں گنتے ہی نہیں کیونکہ وہ تو اس فہرست میں بہت اوپر ہیں، اب پاکستان، بھارت، سری لنکا اور دیگر ایشین ممالک میں مڈل آرڈر کے جتنے بھی بلے باز آتے ہیں ان میں انضمام الحق سے بہتر بلے باز کوئی نہیں ہے۔
ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک اور گرم رہے گا،محکمہ موسمیات
سابق بھارتی بیٹر کا کہنا تھا 04-2003 میں وہ 8 رنز فی اوور کی ایوریج کے لیے کہتے تھے فکر نہ کر ہم آرام سے بنا لیں گے، 10 اوورز میں 80 رنز بنانے کے لیے دوسری ٹیمیں اور کھلاڑی گھبرا جاتے تھے لیکن وہ (انضمام الحق) کہتے تھے بن جائیں گے فکر مت کرو۔
-

ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک اور گرم رہے گا،محکمہ موسمیات
محکمہ موسمیات نے خطہ پوٹھوہار،جنوبی پنجاب،بالائی خیبر پختونحوا اور کشمیر میں بارش کا امکان ظاہر کیاہے۔
باغی ٹی وی: محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد میں تیز ہواؤ ں اورگرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے، بہاولنگر، لیہ، بھکر، ملتان، راجن پور اور ساہیوال میں بھی بارش کی پیشگوئی ہے خطہ پوٹھوہار، بہاولپور،رحیم یار خان، مری، گلیات میں بارش جبکہ سوات،ایبٹ آباد، مانسہرہ اورکو ہستان میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔
روسی ریڈیو اسٹیشنز ہیک، صدرپیوٹن کا جعلی پیغام نشر
محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک اور گرم رہے گا۔
دوسری جانب بحیرہ عرب کے جنوب مشرق میں ہوا کا کم دباؤ بن گیا اور ہوا کا کم دباؤ کراچی سے 1550 کلومیٹر دور ہےمحکمہ موسمیات کے مطابق کل شام تک ہوا کا کم دباؤ ڈپریشن میں تبدیل ہوسکتا ہے تاہم سسٹم سے اب تک پاکستان کے کسی بھی ساحلی علاقے کو خطرہ نہیں سائیکلون وارننگ سینٹر سسٹم کو مانیٹر کر رہا ہے اور ابتدائی طور پر اس سسٹم کا شمال مغربی سمت میں بڑھنے کا امکان ہے۔
ہر سفارتی رابطے پر بیان نہیں دیا جاتا،امریکا
-

ہر سفارتی رابطے پر بیان نہیں دیا جاتا،امریکا
واشنگٹن: امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو خوشحال اور مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں، خوشحال اور مستحکم پاکستان امریکہ کیلئے اہم ہے۔
باغی ٹی وی: نائب ترجمان امریکی وزارت خارجہ ویدانت پٹیل نے وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اہم امور پر گفتگو کے لیے پاکستانی حکام سے براہ راست رابطے میں رہتے ہیں ایسے امور جو امریکا، خطے کی سکیورٹی اور استحکام کے لیے ضروری ہیں۔
پی ٹی آئی نے امریکی کانگریس میں پاکستان سے متعلق قرار داد لانےکی مدد مانگ …
ویدانت پٹیل سے پریس کانفرنس کے دوران ان سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے متعلق سوال کیا گیا جس پر جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر سفارتی رابطے پر بیان نہیں دیا جاتا۔
انٹربینک میں ڈالر 51 پیسے جبکہ اوپن مارکیٹ میں 8 روپے مہنگا