Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • کنگ عبدالعزیز سٹریٹ دنیا کی سب سے طویل خطاطی والی دیوار بن گئی

    کنگ عبدالعزیز سٹریٹ دنیا کی سب سے طویل خطاطی والی دیوار بن گئی

    کنگ عبدالعزیز سٹریٹ دنیا کی سب سے طویل خطاطی والی دیوار بن گئی، مسجد حرام کے راستے عربی خطاطی سے مزین دیواریں

    مکہ مکرمہ کی سڑکوں پر روشن رنگوں میں عربی خطاطی سے مزین دیواروں نے شاندار جمالیاتی ذوق پیدا کر دیا ہے۔ عربی خطاطی کے فن کی مختلف شکلوں اور نمونوں کے ساتھ ان دیواروں نے زائرین کی زبردست توجہ حاصل کرلی ہے۔ کیپیٹل سیکریٹریٹ نے مکہ مکرمہ میں محبس الجن میں کنگ عبدالعزیز سٹریٹ پر دنیا کی سب سے طویل خطاطی والی دیوار بنا ڈالی ہے۔ رنگ و حروف سے تخلیق کردہ فن سے آراستہ یہ دیوار مقدس ترین مقام مسجد حرام کی طرف جاتی ہے۔ کنگ عبد العزیز سٹریٹ وہ خوبصورت نظارہ پیش کر رہی ہے جو لوگوں کے ورثہ، نظریات، تاریخ اور ثقافتی پیغام کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔

    دیوار وں پر ایک جمالیاتی پیغام ہے جو اچھے ذوق والی نظروں کو اپنی طرف مائل کر لیتا ہے۔ یہ دیواریں دستاویزی کاموں میں سے ایک کام کی نمائندگی کرتی ہیں جو خوشبو دار ماضی اور اصلیت سے متعلق ہیں۔ یہ ماضی کے تمام معانی کی حالت میں بات کر رہی ہیں ۔ یاد رہے دیوار آرٹ کو انسانی فن کی قدیم ترین شکلوں میں سے ایک کے طور پر جانا جاتا تھا۔ اس کی نشاندہی دنیا بھر کی قدیم ترین انسانی بستیوں میں غار کی پینٹنگز سے ہوتی ہے۔ قبل از تاریخ دور میں بھی دیواروں پر فن کا اظہار کیا جاتا تھا۔ قدیم انسانوں کی جانب سے دیواروں پر خاکہ کو مجسم کیا گیا تھا۔ تاریخ میں دیواروں پر ڈیزائن ہی اولین انسانی فنون میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔

    یاد رہے مکہ مکرمہ کی میونسپلٹ مجسمہ سازی اور جمالیاتی نمونوں کی سرگرمی کے اندر دیواروں پر خاکے بنانے اور عربی حروف بنانے کے مقابلے کا انعقاد کرتی ہے۔ عربی خطاطی عرب اور اسلامی تہذیب کے اہم ترین مظاہر میں سے ایک ہے۔ عربی خطاطی کی بڑی وابستگی قرآن کریم سے بھی ہے۔ عربی خطاطی سب سے اہم تحریری اور بصری فنون میں سے ایک ہے ۔

  • سعودی عرب میں افراطِ زرکی شرح 3.3 فی صد؛ مکانات کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ

    سعودی عرب میں افراطِ زرکی شرح 3.3 فی صد؛ مکانات کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ

    سعودی عرب میں دسمبر کے دوران افراطِ زرکی شرح 3.3 فی صد،مکانات کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ

    سعودی عرب کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دسمبر میں افراط زر کی شرح 3.3 فی صد رہی ہے۔نومبر میں یہ شرح 2.9 فی صد تھی۔ سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے شماریات کا کہنا ہے کہ دسمبر میں قیمتوں میں 0.3 فی صد اضافہ ہوا جبکہ نومبرمیں 0.1 فی صد ماہانہ اضافہ ہوا تھا۔ مکانات، پانی، بجلی، گیس اور دیگرایندھن کی قیمتوں میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں 5.9 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور نومبر کے مقابلے میں 0.9 فی صد زیادہ تھا۔یہ تمام اشیاء صارفین کی کل ماہانہ خریداری کا 25.5 فی صدہیں۔

    ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ افراط زرکی شرح میں یہ اضافہ ‘گھروں کے اصل کرایوں میں 1.1 فی صد اضافے کے نتیجے میں ہوا ہے۔ اشیائے خورونوش کی قیمتیں، جو 2022ءکے زیادہ تر عرصے کے دوران میں افراط زر کا بنیادی محرک تھیں، ماہانہ بنیاد پر0.1 فی صد گر گئیں، حالانکہ دسمبر2021ء کے مقابلے میں ان میں اب بھی 4.2 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

    جنرل اتھارٹی برائے شماریات نے ایک علاحدہ رپورٹ میں کہا ہے کہ 2022ء کے سالانہ کنزیومر پرائس انڈیکس میں 2021 کے مقابلے میں 2.5 فی صد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں 3.7 فی صد اور ٹرانسپورٹ کی قیمتوں (کرایوں) میں 4.1 فی صد اضافہ ہے۔

    اتھارٹی کا کہنا ہے کہ 2022 میں مکانات کے زمرے میں 1.8 فی صد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ ہاؤسنگ کے اصل کرایوں میں 2.0 فی صد اضافہ ہے۔ واضح رہے کہ سعودی وزارت خزانہ نے مالی سال 2023 کے بجٹ بیان میں کہا تھا کہ اسے 2022 کے آخر تک اوسط افراط زر کی شرح 2.6 فی صد رہنے کی توقع ہے۔

  • آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نے امریکا سے قرض کی درخواست کر دی

    آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نے امریکا سے قرض کی درخواست کر دی

    اسلام آباد: حالیہ بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے ہونے والے نقصانات پر آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے امریکا سے قرض کی درخواست کر دی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اپٹما نے پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کو خط لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکا کاٹن امپورٹ کے لیے دو ارب ڈالر قرض پاکستان کو فراہم کرے، پاکستان میں کاٹن کی پیداوار تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، پاکستان کو بارشوں اور سیلاب کے باعث سالانہ 5 ملین بیلز کا نقصان ہوا۔

    ای پاسپورٹس اجرا کے لیے فیس شیڈول جاری

    خط میں اپٹما نے کہا ہے کہ سیلاب اور بارشوں کی تباہی کے باعث محض کاٹن کی فصل کو 2 بلین ڈالر کا نقصان ہوا، جون تا اکتوبر 2022ء کے دوران سیلاب کے باعث پاکستان کو15.2 ارب ڈالرکا معاشی نقصان ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ مقامی کاٹن کی پیداوار انتہائی حد تک کم ہونے کے باعث ٹیکسٹائل سیکٹر کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، رواں سیزن کیلئے پاکستان کو 10 ملین کاٹن بیلز امپورٹ کی ضرورت ہے،امریکی قرض کی رقم سے لاکھوں لوگوں کا روزگاربچ جائے گا، قرض سے پاکستان کے بیلنس آف پیمنٹ میں بہتری آئے گی-

    چین سے مال گاڑیوں کی 70 بوگیاں کل پاکستان پہنچیں گی

  • ہر بیٹی کی پیدائش پر قسمت بدلتے دیکھا ہے،شاہد آفریدی

    ہر بیٹی کی پیدائش پر قسمت بدلتے دیکھا ہے،شاہد آفریدی

    شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ وہ بہت خوش قسمت ہیں کہ ان کے پاس اللہ کی رحمتیں ہیں کیونکہ انہوں نے ہر بیٹی کے ساتھ اپنی قسمت بدلتے ہوئے دیکھی۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی سائٹ انسٹاگرام پر قومی کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر شاہد آفریدی کا ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہورہا ہے جس میں وہ اپنی بیٹیوں کے حوالے سے بات کررہے ہیں۔

    شاہد آفریدی کابطور چیف سلیکٹر کی ذمہ داری پوری ہونے پر پیغام

    وائرل ہونے والے کلپ میں شاہد آفریدی نے کہا کہ ہمارے پٹھانوں کے خاندانوں میں بھی کہا جاتا ہے کہ بیٹا نہیں ہے تو تعویذ بناؤلیکن میں ان چیزوں کے سخت خلاف ہوں میں اپنی اہلیہ کو کئی بار حدیث سنائی کہ بیٹیاں اللہ کی رحمت ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے میں جس کو اولاد دوں تو یہ کہتا ہوں کہ باپ کی فکر نہ کرو، باپ کا سہارا میں بنوں گا، قرآن پر ہمارا ایمان اور یقین ہے،اللہ تعالی نے باپ، بیٹی اور ماں ، بیٹے کا رشتہ بنایا ہے۔

    ایم کیو ایم نے الیکشن کمیشن کے خلاف چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    انہوں نے کہا کہ میری اہلیہ بھی بیٹے کی کمی محسوس کرتی تھی لیکن انہیں کبھی فکر اس لیے نہیں ہوئی کہ ان کا شوہر مطمئن ہے، اہلیہ کو پتا ہے کہ میں اپنی بیٹیوں سے بہت خوش ہوں، انہیں محبت دیتا ہوں اس لیے میری اہلیہ بھی کافی ریلیکس ہیں۔

    بیٹیوں سے تعلق پر بات کرتے ہوئے سابق کپتان کا کہنا تھا کہ میں بہت قسمت والا ہوں کہ میرے پاس اللہ کی رحمتیں ہیں اور الحمد اللہ میں نے ہر بیٹی کے ساتھ اپنی قسمت کو بدلتے ہوئے دیکھا ہے۔

    ای پاسپورٹس اجرا کے لیے فیس شیڈول جاری

  • ای پاسپورٹس اجرا کے لیے فیس شیڈول جاری

    ای پاسپورٹس اجرا کے لیے فیس شیڈول جاری

    اسلام آباد : ای پاسپورٹس اجرا کے لیے فیس شیڈول جاری کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی:وفاقی حکومت کی منظوری سے ای پاسپورٹس اجرا کے لیے فیس شیڈول کا اعلان کر دیا گیا، ای پاسپورٹس اجرا کے لیے فیس شیڈول کا اطلاق ڈپلومیٹیک، آفیشل اورعام کیٹیگری کے لیے کیا گیا-

    بلدیاتی انتخابات:دوسرے مرحلے میں کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں پولنگ کا عمل شروع

    عام شہریوں کوای پاسپورٹ کا اجرا موجودہ پاسپورٹ کی مدت کے اختتام پرکیا جائے گا ابتدائی طور پرای پاسپورٹس اجرا کا آغاز صرف اسلام آباد سے کیا جا رہا ہے، ملک کے باقی شہروں میں بتدریج ای پاسپورٹ اجرا کی تاریخ کا جلد اعلان کیا جائے گا۔

    36 صفحات کے 5 سالہ ای پاسپورٹ کے لیے نارمل فیس9 ہزار، ارجنٹ فیس 15ہزار، 36 صفحات کے لیے10سالہ پاسپورٹ کی نارمل فیس 13ہزار500 ، ارجنٹ 22 ہزار500 ، 72صفحات کے 5سالہ ای پاسپورٹ کی نارمل فیس 16ہزار500، ارجنٹ 27 ہزار500، 72 صفحات کے 10سالہ ای پاسپورٹ کی نارمل فیس 24 ہزار 750 ، ارجنٹ فیس 40ہزار500روپے ہوگی۔

    فیس کی ادائیگی نیشنل بینک، موبائل ایپ ، موبی کیش اورایزی پیسہ سے بھی کی جاسکے گی۔

  • چین سے مال گاڑیوں کی 70 بوگیاں کل پاکستان پہنچیں گی

    چین سے مال گاڑیوں کی 70 بوگیاں کل پاکستان پہنچیں گی

    کراچی: چین سے مال گاڑیوں کی 70 بوگیاں کل پاکستان پہنچیں گی-

    باغی ٹی وی :پاکستان ریلویز ہیڈ کوارٹرز کی طرف سے جاری بیان کے مطابق مال گاڑیوں کے ساتھ لگنے والی70 اسٹیٹ آف دی آرٹ بوگیاں چین سے پاکستان کیلیے روانہ ہو گئیں جو کل 16جنوری پیرکو کراچی پہنچیں گی۔

    ریلوے حکام کے مطابق رواں سال مارچ میں ایسی مزید130 بوگیاں ریلوے سسٹم میں شامل ہو جائیں گی یہ 820 بوگیوں کا منصوبہ ہے۔ ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی معاہدے کے تحت باقی ماندہ 620 بوگیاں پاکستان میں بنیں گی۔

    گورنرپنجاب نےچوہدری پرویزالٰہی اورحمزہ شہبازکو3دن کی مہلت دے دی

    ملک میں مینوفیکچرنگ سے قومی خزانے کا پیسہ بچے گا اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔ نئی بوگیوں سے ریلوے آمدن میں سالانہ ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہو گا۔

    موجودہ بوگیاں60 ٹن وزن کے ساتھ 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتی ہیں۔ نئی بوگیوں میں70 ٹن وزن کے ساتھ 100کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے کی صلاحیت ہے۔ جدید بوگیوں کی سسٹم میں شمولیت سے ریلوے کے ذریعہ مال کی ترسیل کے رجحان میں اضافہ ہو گا۔

  • اردو کے معروف شاعرسید محسن نقوی کا یوم وفات

    اردو کے معروف شاعرسید محسن نقوی کا یوم وفات

    یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
    ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کر کے

    محسن نقوی

    پیدائش:سید غلام عباس نقوی 05 مئی 1947ء ڈیرہ غازی خان، برطانوی ہند، وفات:15 جنوری 1996ءسادات گاؤں، ڈیرہ غازی خان

    سید محسن نقوی اردو کے مشہور شاعر تھے۔ ان کا مکمل نام سید غلام عباس تھا۔ لفظ محسن اُن کا تخلص تھا اور لفظ نقوی کو وہ تخلص کے ساتھ استعمال کرتے تھے۔ لہٰذا بحیثیت ایک شاعر انہوں نے اپنے نام کو محسن نقوی میں تبدیل کر لیا اور اِسی نام سے مشہور ہو گئے۔ محسن نقوی 5، مئی 1947ء کو محلہ سادات، ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے- انہوں نے گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان سے گریجویشن اور پھر جامعہ پنجاب سے ایم اے اردو کیا تھا۔ گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان سے گریجویشن کرنے کے بعد جب یہ نوجوان جامعہ پنجاب کے اردو ڈیپارٹمنت میں داخل ہوا تو دنیا نے اسے محسنؔ نقوی کے نام سے جانا۔ اس دوران ان کا پہلا مجموعۂ کلام چھپا۔ بعد میں وہ لاہور منتقل ہو گئے۔ اور لاہور کی ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے جہاں انہیں بے پناہ شہرت حاصل ہوئی۔ بعد میں محسن نقوی ایک خطیب کے روپ میں سامنے آئے مجالس میں ذکرِ اہل بیت اور واقعاتِ کربلا کے ساتھ ساتھ اہلبیت پہ لکھی ہوئی شاعری بیان کیا کرتے تھے۔

    شاعری
    ۔۔۔۔۔
    محسن نقوی شاعری کے علاوہ مرثیہ نگاری میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں واقعہ کربلا کے استعارے جابجا استعمال کیے۔ ان کی تصانیف میں بند قبا،عذاب دید، خیمہ جان، برگ صحرا، طلوع اشک، حق ایلیا، رخت شب ،ریزہ حرف ، موج ادراک اور دیگر شامل ہیں۔ محسن نقوی کی شاعری میں رومان اور درد کا عنصر نمایاں تھا۔ ان کی رومانوی شاعری نوجوانوں میں بھی خاصی مقبول تھی۔ ان کی کئی غزلیں اور نظمیں آج بھی زبان زد عام ہیں اور اردو ادب کا سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔ محسن نے بڑے نادر اور نایاب خیالات کو اشعار کا لباس اس طرح پہنایا ہے کہ شاعری کی سمجھ رکھنے والا دنگ رہ جاتا ہے۔

    اِک ”جلوہ“ تھا، سو گُم تھا حجاباتِ عدم میں
    اِک ”عکس“ تھا، سو منتظرِ چشمِ یقیں تھا

    محسن نقوی کے غزل اور نظم کے قادر الکلام شاعر ہونے کے بارے میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔ محسن کی نثر جو اُن کے شعری مجموعوں کے دیباچوں کی شکل میں محفوظ ہو چکی ہے بلا شبہ تخلیق تحریروں کی صفِ اوّل میں شمار کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک اور صنفِ سخن یعنی قطعہ نگاری کے بھی بادشاہ ہیں۔ اِن کے قطعا ت کے مجموعے ” ردائے خواب” کو ان کے دیگر شعری مجموعوں کی طرح بے حد پزیرائی حاصل ہوئی۔ نقادانِ فن نے اسے قطعہ نگاری میں ایک نئے باب کا اِضافہ قرار دیا۔ مذہبی نوعیت کے قطعات ” میراثِ محسن ” میں پہلے ہی درج کیے جا چکے ہیں۔ محسن نے اخبارات کے لیے جو قطعات لکھے ان کی زیادہ تر نوعیت سیاسی تھی لیکن ان کا لکھنے والا بہر حال محسن تھا – 1994ء میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ محسن نقوی شاعر اہلِ بیت کے طور پر بھی جانے جاتے تھے ۔

    اردو غزل کو ہر دور کے شعرا نے نیا رنگ اور نئے رجحانات عطا کیے۔ محسن نقوی کا شمار بھی انہی شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے غزل کی کلاسیکی اٹھان کا دامن تو نہیں چھوڑا تاہم اسے نئی شگفتگی عطا کی۔ محسن نقوی کے کلام میں صرف موضوعات کا تنوع ہی موجود نہیں بلکہ زندگی کی تمام کیفیتوں کو انہوں نے جدید طرز احساس عطا کیا۔ محسن نقوی کی شاعری کا ایک بڑا حصہ اہل بیت سے منسوب ہے۔ انہوں نے کربلا پر جو شاعری لکھی وہ دنیا بھر میں پڑھی اور پسند کی جاتی ہے۔ ان کے مذہبی کلام کے بھی کئی مجموعے ہیں جن میں بندِ قبا، برگِ صحرا، ریزہ حرف، عذابِ دید، طلوعِ اشک، رختِ شب، خیمہ جاں، موجِ ادراک اور فراتِ فکر زیادہ مقبول ہیں۔

    محسن نقوی نے شاعری کا آغاز زمانہ طالب علمی سے کیا ان کا سب سے اہم حوالہ تو شاعری ہے۔ لیکن ان کی شخصیت کی اور بھی بہت سی جہتیں ہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری صرف الف- لیلٰی کے موضوع تک ہی محدود نہ رکھی بلکہ انہوں نے دینا کے حکمرانوں کے بارے میں بھی بہت کچھ لکھا جنہیں اپنے لوگوں کی کوئی فکر نہ تھی۔ ان کی شاعری کا محور معاشرہ، انسانی نفسیات، رویے، واقعۂ کربلا اور دنیا میں ازل سے جاری معرکہ حق و باطل ہے۔ اپنے عروج کی انتہا کو پہنچ کر محسن نقوی نے کالعدم تحریکِ طالبان،سپاہ صحابہ اور اس کی ذیلی شاخوں کو اپنی شاعری کے ذریعے بے نقاب کرناشروع کیا تو پھر وہی ہوا جو اس ملک میں ہر حق گو کا مقدر ہے۔ اردو ادب کا یہ دمکتا چراغ 15 جنوری 1996ء کو مون مارکیٹ لاہور میں اپنے دفتر کے باہر دہشت گردوں کی فائرنگ سے بجھ گیا تھا تاہم اس کی روشنی ان کی شاعری کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق 45 گولیاں محسنؔ کے جسم میں لگیں
    یہ جاں گنوانے کی رُت یونہی رائیگاں نہ جائے –

    سر سناں، کوئی سر سجاؤ ! اُداس لوگو
    شہادت سے چند لمحے قبل محسن نقوی نے ایک لازوال شعر کہا تھا کہ
    سفر تو خیر کٹ گیا
    میں کرچیوں میں بٹ گیا

    محسنؔ نے بے انتہا شاعری کی جس میں حقیقی اور مجازی دونوں پہلو شامل تھے۔ ان کی پہچان اہلبیتِ محمدؐکی شان میں کی گئی شاعری بنی۔

    مجموعۂ کلام
    ۔۔۔۔۔
    ان کے کئی مجموعہ کلام چھپ چکے ہیں جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں
    ٭ بندِ قبا۔ 1969ء
    ٭ برگِ صحرا۔ 1978ء
    ٭ ریزہ حرف۔ 1985ء
    ٭ عذابِ دید۔ 1990ء
    ٭ طلوعِ اشک۔ 1992ء
    ٭ رختِ شب۔ 1994ء
    ٭ خیمہ جاں۔ 1996ء
    ٭ موجِ ادراک
    ٭ فراتِ فکر

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
    تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر

    تمہیں جب روبرو دیکھا کریں گے
    یہ سوچا ہے بہت سوچا کریں گے

    اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
    بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں

    وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھا
    کہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے

    صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
    کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں

    ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
    میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی

    کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھے
    شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو

    یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ
    وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں

    وہ اکثر دن میں بچوں کو سلا دیتی ہے اس ڈر سے
    گلی میں پھر کھلونے بیچنے والا نہ آ جائے

    جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا
    اپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا

    کہاں ملے گی مثال میری ستم گری کی
    کہ میں گلابوں کے زخم کانٹوں سے سی رہا ہوں

    کتنے لہجوں کے غلافوں میں چھپاؤں تجھ کو
    شہر والے مرا موضوع سخن جانتے ہیں

    اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
    اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا

    یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
    ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے

    گہری خموش جھیل کے پانی کو یوں نہ چھیڑ
    چھینٹے اڑے تو تیری قبا پر بھی آئیں گے

    ازل سے قائم ہیں دونوں اپنی ضدوں پہ محسنؔ
    چلے گا پانی مگر کنارہ نہیں چلے گا

    لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں
    ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی

    موسم زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے
    ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں

    کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانیٔ دل
    زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں

    جن اشکوں کی پھیکی لو کو ہم بے کار سمجھتے تھے
    ان اشکوں سے کتنا روشن اک تاریک مکان ہوا

    ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
    ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا

    جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادر
    وہ میری بانجھ زمیں کو کپاس کیا دے گا

    وہ لمحہ بھر کی کہانی کہ عمر بھر میں کہی
    ابھی تو خود سے تقاضے تھے اختصار کے بھی

    شاخ عریاں پر کھلا اک پھول اس انداز سے
    جس طرح تازہ لہو چمکے نئی تلوار پر

    پلٹ کے آ گئی خیمے کی سمت پیاس مری
    پھٹے ہوئے تھے سبھی بادلوں کے مشکیزے

    دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
    ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا

    چنتی ہیں میرے اشک رتوں کی بھکارنیں
    محسنؔ لٹا رہا ہوں سر عام چاندنی

  • اب نواز شریف کو بلائیں اور ان کا بھی سیاسی کام تمام کرائیں۔ شیخ رشید

    اب نواز شریف کو بلائیں اور ان کا بھی سیاسی کام تمام کرائیں۔ شیخ رشید

    اب نواز شریف کو بلائیں اور ان کا بھی سیاسی کام تمام کرائیں۔ شیخ رشید

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ اب نواز شریف کو بلائیں اور ان کا بھی سیاسی کام تمام کرائیں۔ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 15 جنوری سے 15 اپریل اہم ہیں اور 100 دن میں انتخابی شیڈول آئے گا جبکہ پنجاب کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی سے اراکین کی واپسی ہو گی اور قومی اسمبلی سے استعفے منظور کرائیں گے۔ بلدیاتی شعبدہ بازی کام نہیں آئے گی اور جتنی دیر کریں گے یہ اپنی سیاست ڈھیر کریں گے۔


    شیخ رشید احمد نے کہا کہ بینکوں کے لٹنے کے خوف سے سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے جبکہ معاشی، ملکی، اقتصادی اور قومی سلامتی سب خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب نواز شریف کو بلائیں اور ان کا بھی سیاسی کام تمام کرائیں۔ الیکشن ناگزیر ہیں اور سیاسی بکرے کی ماں کب تک الیکشن سے بھاگے گی۔ پی ڈی ایم الیکشن سے فراری ہے تو پھر ملک میں وہ کیا چاہتی ہے؟ ملک میں اہم سیاست شروع ہو گئی ہے۔


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سعودی عرب میں جسمانی طور پر ساتھ جُڑے دو عراقی بچوں کا کامیاب آپریشن
    سندھ حکومت نے بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کیلئے الیکشن کشمنر کو خط لکھ دیا
    برلن میں پاکستانی مشن کا 33 گاڑیاں خریدنے کا انکشاف
    بینکوں کا پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کے سلسلے میں لیٹر آف کریڈٹ دینے سے انکار
    اچھوتے آئیڈیے کی مدد سے ایک بے قیمت کچرے کو لگڑری آرٹ کے نمونے میں بدلنے کا فن
    2022 میں سوشل میڈیا ایپ کی مقبولیت میں غیرمعمولی اضافہ
    اغوا برائے تاوان کے الزام میں سی ٹی ڈی افسر کا ڈرائیور گرفتار
    معاشی غیریقینی کے باوجود:انڈس موٹرز نے گاڑیوں کی قیمتوں میں 12 لاکھ تک اضافہ کردیا

  • عمران خان کو حاضری یقینی بنانے کے لیے آخری موقع دے دیا

    عمران خان کو حاضری یقینی بنانے کے لیے آخری موقع دے دیا

    وفاقی دارالحکومت کی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین عمران خان کو حاضری یقینی بنانے کے لیے آخری موقع دے دیا۔

    وفاقی دارالحکومت کی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین عمران خان کو حاضری یقینی بنانے کے لیے آخری موقع دے دیا۔ بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں ممنوعہ فنڈنگ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی اور عدالت نے عمران خان کی غیر حاضری پر انہیں حاضری یقینی بنانے کا آخری موقع دے دیا ہے۔

    عدالت نے عمران خان کو 31 جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا اور تحریری حکمنامے میں کہا کہ عمران خان آئندہ سماعت پر ہر صورت عدالت میں پیش ہوں۔ اسلام آباد کی بینکنگ کورٹ نے عمران خان کو جلد شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا۔ عمران خان کی درخواست پر بینکنگ کورٹ کے جج نے آخری موقعے کا حکمنامہ جاری کر دیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر ممنوعہ فنڈنگ کیس میں بینکنگ کورٹ اسلام آباد نے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی عبوری ضمانت میں 31 جنوری تک توسیع دیتے ہوئے انہیں شامل تفتیش ہونے کا حکم دے دیا تھا. عمران خان سمیت دیگر ملزمان کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر بینکنگ کورٹ کی جج رخشندہ شاہین نے سماعت کی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سعودی عرب میں جسمانی طور پر ساتھ جُڑے دو عراقی بچوں کا کامیاب آپریشن
    سندھ حکومت نے بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کیلئے الیکشن کشمنر کو خط لکھ دیا
    برلن میں پاکستانی مشن کا 33 گاڑیاں خریدنے کا انکشاف
    بینکوں کا پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کے سلسلے میں لیٹر آف کریڈٹ دینے سے انکار
    اچھوتے آئیڈیے کی مدد سے ایک بے قیمت کچرے کو لگڑری آرٹ کے نمونے میں بدلنے کا فن
    2022 میں سوشل میڈیا ایپ کی مقبولیت میں غیرمعمولی اضافہ
    اغوا برائے تاوان کے الزام میں سی ٹی ڈی افسر کا ڈرائیور گرفتار
    معاشی غیریقینی کے باوجود:انڈس موٹرز نے گاڑیوں کی قیمتوں میں 12 لاکھ تک اضافہ کردیا

    کیس میں شریک ملزمان عامر محمود کیانی، سیف اللہ نیازی سمیت دیگر ملزمان عدالت کے روبرو پیش ہوئے، دوران سماعت عمران خان کے وکیل کی جانب سے ان کی طبی بنیادوں پر حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔ عمران خان کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 3 جنوری کو عمران خان کا چیک اَپ ہوا، ڈاکٹرز نے مزید 2 ہفتے بیڈ ریسٹ کا کہا ہے، ایف آئی اے کو بھی کہا ہے تفتیش کرنی ہے تو زمان پارک آسکتے ہیں۔
    تحریر جاری ہے‎

  • ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 0.44 فیصد اضافے کے بعد 31.75 فیصد پر پہنچ گئی۔

    ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 0.44 فیصد اضافے کے بعد 31.75 فیصد پر پہنچ گئی۔

    اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے سے ہفتہ وار مہنگائی 31.75 فیصد تک پہنچ گئی ہے.

    مہنگائی سے پریشان عوام پر رواں ہفتہ بھی بھاری رہا، آٹے، دالوں، انڈے، گوشت، پیاز، لہسن سمیت 23 اشیاء ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 0.44 فیصد اضافے کے بعد 31.75 فیصد پر پہنچ گئی۔ ایک ہفتے کے دوران لہسن 15 روپے 68 پیسے فی کلو مہنگا ہونے کے بعد ملک میں لہسن کی اوسط فی کلو قیمت 363 روپے 10 پیسے ہو گئی جبکہ انڈوں کی قیمت 11 روپے 54 پیسے فی درجن بڑھ گئی۔

    وفاقی ادارہ شماریات نے ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کے اعدادوشمار جاری کردیے جس کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ملک میں آٹے کا 20 کلو کا تھیلا اوسط 115 روپے 22 پیسے مہنگا ہواجبکہ ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 115 روپے 33 پیسے مہنگا ہوا جس کے بعد اوسط قیمت 2680 روپے ہو گئی۔ دال مسور 4 روپے 30 پیسے، دال مونگ 10 روپے 37 پیسے، دال ماش 6 روپے 28 پیسے، دال چنا 5 روپے 47 پیسے مہنگی ہوئی، چھوٹی بریڈ کی قیمت میں 4 روپے 31 پیسے اضافہ ہوا، ٹوٹا باسمتی چاول 5 روپے، پیاز کی فی کلو قیمت میں 5 روپے 38 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سعودی عرب میں جسمانی طور پر ساتھ جُڑے دو عراقی بچوں کا کامیاب آپریشن
    سندھ حکومت نے بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کیلئے الیکشن کشمنر کو خط لکھ دیا
    برلن میں پاکستانی مشن کا 33 گاڑیاں خریدنے کا انکشاف
    بینکوں کا پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کے سلسلے میں لیٹر آف کریڈٹ دینے سے انکار
    اچھوتے آئیڈیے کی مدد سے ایک بے قیمت کچرے کو لگڑری آرٹ کے نمونے میں بدلنے کا فن
    2022 میں سوشل میڈیا ایپ کی مقبولیت میں غیرمعمولی اضافہ
    اغوا برائے تاوان کے الزام میں سی ٹی ڈی افسر کا ڈرائیور گرفتار
    معاشی غیریقینی کے باوجود:انڈس موٹرز نے گاڑیوں کی قیمتوں میں 12 لاکھ تک اضافہ کردیا
    ہفتہ وار بنیادوں پر آگ جلانے والی لکڑی، چینی، دودھ اور گوشت کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا۔ ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 7 اشیاء ضروریات میں کمی اور 21 میں استحکام رہا ، ٹماٹر کی فی کلو قیمت میں7 روپے 87 پیسے کمی کے بعد اوسط قیمت 56 روپے 13 پیسے ہوگئی ،اس کے علاوہ آلو 3 روپے 69 پیسے ، زندہ برائلر مرغی 17 روپے فی کلو سستی ہوئی۔