Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر تصادم کا خدشہ ہے۔ رانا ثنا اللہ

    کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر تصادم کا خدشہ ہے۔ رانا ثنا اللہ

    وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر تصادم کا خدشہ ہے۔

    وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر تصادم کا خدشہ ہے۔ وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے کراچی اورحیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات کے معاملے پرکشیدگی پرگہری تشویش کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے 15 جنوری کوانعقاد پرسیاسی جماعتوں کےدرمیان اختلافات نےتشویشناک صورتحال اختیارکرلی ہے۔موجودہ صورتحال میں کراچی اورحیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات کےمعاملے پرتصادم کا خدشہ ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ بعض شرپسندعناصر صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، تصادم اورامن وامان کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔کوئی ایک چھوٹا سا واقعہ کراچی اورحیدرآباد میں کسی بڑے حادثے کا سبب بھی بن سکتاہے۔سیاسی جماعتوں اورالیکشن سےمتعلقہ دیگر فریقین کومعاملہ فہمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشیدگی کی فضاکو ڈی فیوزکرنےکی ضرورت ہے۔الیکشن کمیشن اور عدلیہ حالات کی سنگینی کا نوٹس لیں، آئین اور قانون کی روشنی میں مناسب حل نکالا جائے۔

    دوسری جانب وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عوام کے جان ومال کی حفاظت اور صوبے میں امن وامان وزیراعلی خیبر پختونخواہ کی ترجیح نہیں ہے۔ وزیراعلی خیبرپختونخوا کی ساری توانائیاں صوبائی اسمبلیاں توڑنے پر مرکوز ہیں۔حالیہ واقعے سے لگتا ہے کہ خیبر پختونخواہ حکومت نے بنوں سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹرزپر حملے سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سعودی عرب میں جسمانی طور پر ساتھ جُڑے دو عراقی بچوں کا کامیاب آپریشن
    سندھ حکومت نے بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کیلئے الیکشن کشمنر کو خط لکھ دیا
    برلن میں پاکستانی مشن کا 33 گاڑیاں خریدنے کا انکشاف
    بینکوں کا پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کے سلسلے میں لیٹر آف کریڈٹ دینے سے انکار
    اچھوتے آئیڈیے کی مدد سے ایک بے قیمت کچرے کو لگڑری آرٹ کے نمونے میں بدلنے کا فن
    2022 میں سوشل میڈیا ایپ کی مقبولیت میں غیرمعمولی اضافہ
    اغوا برائے تاوان کے الزام میں سی ٹی ڈی افسر کا ڈرائیور گرفتار
    معاشی غیریقینی کے باوجود:انڈس موٹرز نے گاڑیوں کی قیمتوں میں 12 لاکھ تک اضافہ کردیا
    انہوں نے کہا کہ وفاق کو صوبہ خیبرپختونخواہ میں مسلسل بگڑتی ہوئی امن امان کی صورتحال پرسخت تشویش ہے۔دہشتگردوں کے حملوں میں کے پی پولیس بھی محفوظ نہیں تو عوام کے تحفظ کا کیا ہوگا۔ وزیر داخلہ نے پشاور میں تھانہ سربند پر دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے شہدا کے اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔

  • عالمی اقتصادی ادارے ورلڈ اکنامک فورم کی 2025 تک پاکستان کو درپیش 10 بڑے خطرات کی نشاندہی

    عالمی اقتصادی ادارے ورلڈ اکنامک فورم کی 2025 تک پاکستان کو درپیش 10 بڑے خطرات کی نشاندہی

    عالمی اقتصادی ادارے ورلڈ اکنامک فورم نے 2025 تک پاکستان کو درپیش 10 بڑے خطرات کی نشاندہی کردی۔

    ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو ڈیفالٹ کے خطرے کا سامنا ہے، اگلے دو سال تک پاکستان کو خوراک کی کمی، سائبر سیکیورٹی، مہنگائی اور معاشی بحران کے خطرات درپیش ہونگے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کو عدم استحکام کے ساتھ ساتھ خوراک اور قرضوں کے بحران کا سامنا ہے، خطے کے ممالک آبی وسائل کو علاقائی تنازعات میں بطور ہتھیار بھی استعمال کرسکتے ہیں.

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے 8 لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی زمین تباہ ہوئی، اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
    عالمی اقتصادی ادارے ورلڈ اکنامک فورم کی گلوبل رسک رپورٹ کے مطابق ڈیفالٹ کا سامنا کرنے والے دیگر ممالک میں ارجنٹائن، تیونس، گھانا، کینیا، مصر، ترکیہ شامل ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سعودی عرب میں جسمانی طور پر ساتھ جُڑے دو عراقی بچوں کا کامیاب آپریشن
    سندھ حکومت نے بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کیلئے الیکشن کشمنر کو خط لکھ دیا
    برلن میں پاکستانی مشن کا 33 گاڑیاں خریدنے کا انکشاف
    بینکوں کا پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کے سلسلے میں لیٹر آف کریڈٹ دینے سے انکار
    اچھوتے آئیڈیے کی مدد سے ایک بے قیمت کچرے کو لگڑری آرٹ کے نمونے میں بدلنے کا فن
    2022 میں سوشل میڈیا ایپ کی مقبولیت میں غیرمعمولی اضافہ
    اغوا برائے تاوان کے الزام میں سی ٹی ڈی افسر کا ڈرائیور گرفتار
    معاشی غیریقینی کے باوجود:انڈس موٹرز نے گاڑیوں کی قیمتوں میں 12 لاکھ تک اضافہ کردیا
    ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق آئی ایم ایف کے ہنگامی قرضوں کے ریکارڈ اجراء کے باوجود 54 سے زائد ممالک کو قرضوں کی ضرورت ہے،کچھ ترقی یافتہ ممالک ملکی ضروریات میں اضافے،مالی دباؤ کے سبب رعایتی بنیاد پر قرض دینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔پورٹ کے مطابق پاکستان کو عدم استحکام کے ساتھ خوارک،قرضوں کے بحران کا سامنا ہے،خطے کے ممالک آبی وسائل کو علاقائی تنازعات میں بطور ہتھیار بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

  • اسٹیٹ بینک کی اپنے زرمبادلہ کے ضوابط میں ترمیم

    اسٹیٹ بینک کی اپنے زرمبادلہ کے ضوابط میں ترمیم

     اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنے زرمبادلہ کے ضوابط میں ترمیم کی ہے۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سافٹ ویئر، آئی ٹی اور آئی ٹی کی حامل خدمات میں برآمد کنندگان کو سہولت دینے کے لیے اپنے زرمبادلہ کے ضوابط میں ترمیم کی ہے جس کے تحت بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 31 مارچ 2023 خصوصی زرمبادلہ اکاؤنٹس میں ان کی برآمدی آمدنی کے 35 فیصد تک retention کی لازمی طور پر اجازت دیں۔

    تاہم ایسے برآمدکنندگان کے لیے ضروری ہے کہ وہ یا تو پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ یا پاکستان سافٹ ویئر ہاوسز ایسوسی ایشن کے پاس رجسٹرڈ ہوں۔ ان ہدایات کا جائزہ آئی ٹی شعبے کی جانب سے اضافی برآمدی کارکردگی اور اس مدت کے دوران موصول ہونے والی برآمدی آمدنی کی روشنی میں لیا جائے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سعودی عرب میں جسمانی طور پر ساتھ جُڑے دو عراقی بچوں کا کامیاب آپریشن
    سندھ حکومت نے بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کیلئے الیکشن کشمنر کو خط لکھ دیا
    برلن میں پاکستانی مشن کا 33 گاڑیاں خریدنے کا انکشاف
    بینکوں کا پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کے سلسلے میں لیٹر آف کریڈٹ دینے سے انکار
    اچھوتے آئیڈیے کی مدد سے ایک بے قیمت کچرے کو لگڑری آرٹ کے نمونے میں بدلنے کا فن
    2022 میں سوشل میڈیا ایپ کی مقبولیت میں غیرمعمولی اضافہ
    اغوا برائے تاوان کے الزام میں سی ٹی ڈی افسر کا ڈرائیور گرفتار
    معاشی غیریقینی کے باوجود:انڈس موٹرز نے گاڑیوں کی قیمتوں میں 12 لاکھ تک اضافہ کردیا
    برآمد کنندگان کو اجازت ہو گی کہ وہ اپنی قانونی کاروباری ادائیگیاں یا بیرون ملک اخراجات کے لیے اپنے زیر تحویل فنڈز استعمال کریں۔

  • برلن میں پاکستانی مشن کا 33 گاڑیاں خریدنے کا انکشاف

    برلن میں پاکستانی مشن کا 33 گاڑیاں خریدنے کا انکشاف

    آڈٹ رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ کی پابندی کے باوجود ایک ارب 46 کروڑ روپے کی گاڑیاں خریدی گئیں.

    آڈٹ رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ کی پابندی کے باوجود ایک ارب 46 کروڑ روپے کی گاڑیاں خریدی گئیں.  برلن میں پاکستانی مشن کی جانب سے بلا اجازت 33 گاڑیاں خریدنے کا انکشاف ہوا ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر مشاہد حسین سید کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزارت خارجہ کی آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران وزارت خارجہ ہیڈ کوارٹر اور بیرون ملک مشنز میں 79 افسران کو الاؤنس کی مد میں ایک کروڑ 73 لاکھ روپے اضافی ادا کرنے کا انکشاف ہوا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بینکوں کا پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کے سلسلے میں لیٹر آف کریڈٹ دینے سے انکار
    اچھوتے آئیڈیے کی مدد سے ایک بے قیمت کچرے کو لگڑری آرٹ کے نمونے میں بدلنے کا فن
    2022 میں سوشل میڈیا ایپ کی مقبولیت میں غیرمعمولی اضافہ
    اغوا برائے تاوان کے الزام میں سی ٹی ڈی افسر کا ڈرائیور گرفتار
    معاشی غیریقینی کے باوجود:انڈس موٹرز نے گاڑیوں کی قیمتوں میں 12 لاکھ تک اضافہ کردیا
    پی اے سی نے اضافی ادائیگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ قائم مقام سیکرٹری خارجہ نے بتایا کہ مذکورہ افسران سے ریکوری کی جا رہی ہے۔ اجلاس کے دوران برلن میں پاکستانی مشن کی جانب سے بلا اجازت 33 گاڑیاں خریدنے کا انکشاف ہوا، آڈٹ رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ کی پابندی کے باوجود ایک ارب 46 کروڑ روپے کی گاڑیاں خریدی گئیں۔

  • اچھوتے آئیڈیے کی مدد سے ایک بے قیمت کچرے کو لگڑری آرٹ کے نمونے میں بدلنے کا فن

    اچھوتے آئیڈیے کی مدد سے ایک بے قیمت کچرے کو لگڑری آرٹ کے نمونے میں بدلنے کا فن

    طالبہ کے ٹیکسٹائل کچرے سے تیار دریوں اور میٹس کی عالمی میلے میں پذیرائی ملی.

     جرمنی میں جاری ہوم ٹیکسٹائل مصنوعات کی سب سے بڑی عالمی نمائش پاکستانی مصنوعات کی ایکسپورٹ بڑھانے میں معاون ثابت ہونے کے ساتھ پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا بھی ایک موثر پلیٹ فارم بن گئی۔ پاکستانی ٹیکسٹائل ڈیزائنر کے ٹیکسٹائل کے کچرے سے تیار کردہ دیدہ زیب دریاں (رگز) اور میٹس ٹیکسٹائل انڈسٹری کے عالمی میلے ہیم ٹیکسٹائل نمائش میں عالمی برانڈز اور یورپی ڈیزائنر کمپنیوں کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔ انڈس ویلی اسکول آف آرٹ اینڈ آرکیٹک کی گرجویٹ ام کلثوم علی اکبر نے ٹی شرٹس کی تیاری کے بعد بچ جانے والے کپڑوں کو اپنی تخلیقی صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے ہاتھ سے بنے ہوئے دل کش رگز اور میٹس میں تبدیل کردیا۔ ام کلثوم کا تخلیقی آئیڈیا ٹیکسٹائل کی صنعت کے فضلے سے پاکستان میں بڑھنے والی ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں مدد فراہم کرے گا جس کے ذریعے کچرے کو خزانے میں تبدیل کرکے پاکستان کے لیے زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔

    ام کلثوم کے تیار کیے گئے میٹس اور رگز ٹیکسٹائل کے عالمی میلے ہیم ٹیکسٹائل نمائش میں ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ماحول دوست طریقوں کو اجاگر کرنے والے خصوصی پویلین میں عالمی برانڈز، انٹریریئر ڈیزائنرز اور ڈیزائنرز کمپنیوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں،ام کلثوم کا انتخاب ٹیکسٹائل ری سائیکلنگ اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ماحول دوست بنانے کے تخلیقی آئیڈیاز کے عالمی مقابلے میں کیا گیا۔ نیو اینڈ نیکسٹ یونیورسٹی کے تحت ہونے والے اس مقابلے میں دنیا کی 33سے زائد یونیورسٹیوں کے 150 طلبا نے ٹیکسٹائل ری سائیکلنگ اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ماحول دوست بنانے کے لیے اپنے پراجیکٹ اور تھیسس پیش کیے۔ نیو اینڈ نیکسٹ یونیورسٹی اور ہیم ٹیکسٹائل کے عالمی ماہرین پر مشتمل ایک جیوری نے تمام آئیڈیاز کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہوئے ٹیکسٹائل اور گارمنٹ انڈسٹری کے کچرے بشمول کاٹن، سینتھیٹک اور فائبر فیبرک رگز اور میٹس بناکر ماحول تحفظ کے لیے پاکستانی طالبہ کے آئیڈے کو عالمی نمائش کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کیا۔

    ہیم ٹیکسٹائل کے موقع پر ام کلثوم نے اپنے اسٹال پر نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یورپ، چین اور جاپان کے ساتھ پاکستان کی معروف برانڈز نے بھی ان کی تکنیک میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ یورپی اور جاپان کی کمپنیاں ٹیکسٹائل کے کچرے سے تیار ان رگز اور میٹس کو اپنی برانڈ شناخت کے ساتھ دنیا میں پیش کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں اسی طرح چینی کمپنی نے انہیں چھوٹے سائز کے میٹس تیار کرنے کے ابتدائی آرڈر دیے ہیں۔ جرمنی کی ایک وال پیپر کمپنی ان نمونوں کو وال پیپر کی شکل دینے کے لیے اشتراک کی پیش کش کی ہے۔ ام کلثوم نے بتایا کہ پاکستان میں ٹیکسٹائل کے کچرے سے پھیلنے والی آلودگی پر اب تک کسی کی توجہ نہیں کیونکہ زیادہ تر لوگ پلاسٹک سے پھیلنے والی آلودگی کو ماحول کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں حالانکہ پلاسٹک کی طرح ٹیکسٹائل کے کچرے کو بھی ری سائیکل یا دوبارہ استعمال میں نہ لایا جائے تو یہ طویل عرصہ تک ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنتا ہے بالخصوص سینتھیٹک فائبر سے بننے والا ڈینم اور فیبرک سنگین ماحولیاتی خطرات کا سبب ہے۔

    ام کلثوم کے مطابق انہوں نے ٹی شرٹ فیکٹری سے نکلنے والے اس کچرے کو استعمال کیا گیا جسے پھینک دیا جاتا ہے، چھوٹی چندیوں اور کترنوں کی شکل میں نکلنے والے اس کچرے سے دھاگہ بناکر بنائی (ویونگ) کی مختلف تکنیکوں سے میٹس اور رگز تیار کیے گئے ہیں۔ جن کی ایکسپورٹ سے نہ صرف زرمبادلہ حاصل ہوگا بلکہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کو بھی کم کرنے میں مدد ملے گی۔ ام کلثوم کا آئیڈیا کچرے کو خزانے میں بدلنے کی مثال ہے، ٹیکسٹائل اور گارمنٹ کمپنیوں کے لیے ٹیکسٹائل کا ویسٹ ایک دردسر ہے جسے ماحول دوست طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے عالمی سطح پر قانون سازی ہورہی ہے اور عالمی خریدار پاکستانی فرمز سے اس بات کا تقاضہ کررہے ہیں کہ وہ اپنی مصنوعات اور پراسیس کو ماحول دوست بنائیں۔ ام کلثو کے اچھوتے آئیڈیے کی مدد سے ایک بے قیمت کچرے کو لگڑری آرٹ کے نمونے کی شکل دے کر نہ صرف معاشی فوائد حاصل ہوں گے بلکہ صنعتی فضلہ ماحول دوست طریقے سے ٹھکانے لگاکر پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی مشکلات میں بھی کمی لائی جاسکے گی۔

  • بینکوں کا پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کے سلسلے میں لیٹر آف کریڈٹ دینے سے انکار

    بینکوں کا پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کے سلسلے میں لیٹر آف کریڈٹ دینے سے انکار

     تیل درآمد کیلیے بینکوں کا ایل سیز کھولنے سے انکار کر دیا، بحران کا خدشہ

    ملک میں تونائی کے بحران کے مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں کیونکہ بینکوں نے پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کے سلسلے میں لیٹر آف کریڈٹ دینے اور اس کی توثیق سے انکار کردیا ہے۔ آئل ایڈوائزری کونسل نے سیکریٹری فنانس اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی توجہ اس گھمیر صورت حال کی جانب مبذول کرائی ہے۔

    آئل ایڈوائزی کونسل کی جانب سے لکھے گئے ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وہ تیل کمپنیوں کے ممبران اور ریفائنریزکی جانب سے اس امر کی نشاندہی کرنا چاہتی ہے کہ بینک تیل درآمدات کے لیے لیٹر آف کریڈٹ فراہم نہیں کررہے اور ایل سیز وقت پر فراہم نہیں کیے گئے تو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی شدید کمی واقع ہوگی اور اگر طلب اور رسد میں فرق پیدا ہوا تو صورت حال کو قابو کرنے کے لیے چھ سے آٹھ ہفتے مزید لگ سکتے ہیں۔

    اپنے مراسلے میں آئل ایڈوائزی کونسل کا مزید کہنا تھا کہ بینکوں کی جانب سے ایل سیز وقت پر نہ کھولنے کے باعث متعدد درآمدی شپمنٹ تاخیر کا شکار ہیں اور بہت سے کیسنل کرنا پڑی ہیں۔ تیل کی درآمد میں رکاوٹ اور تاخیر سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ وزارت پیٹرولیم اور مرکزی بینک مداخلت کرتے ہوئے تیل کے درآمدی عمل کے تسلسل کو یقینی بنائیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    2022 میں سوشل میڈیا ایپ کی مقبولیت میں غیرمعمولی اضافہ
    اغوا برائے تاوان کے الزام میں سی ٹی ڈی افسر کا ڈرائیور گرفتار
    معاشی غیریقینی کے باوجود:انڈس موٹرز نے گاڑیوں کی قیمتوں میں 12 لاکھ تک اضافہ کردیا
    اس حوالے سے ہیسکول پیٹرولیم لمیٹڈ نے بھی گورنر اسٹیٹ بینک کو ایک خط لکھا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی کو تیل کی درآمد کے سلسلے میں بینکوں میں لیٹر آف کریڈٹ کھولنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور اس مسئلے کو بروقت حل نہ کیا گیا تو ملک میں تیل کی سپلائی میں کمی واقع ہوگء جس سے مسائل میں اضافہ ہوگا۔

  • 2022 میں سوشل میڈیا ایپ کی مقبولیت میں غیرمعمولی اضافہ

    2022 میں سوشل میڈیا ایپ کی مقبولیت میں غیرمعمولی اضافہ

    تازہ رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں سوشل میڈیا ایپس اور ان کے استعمال میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔

    دنیا بھر میں ڈجیٹل رحجانات پر نظررکھنے والی ایک کمپنی ڈیٹا اے آئی نے 91 صفحے کی رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 2022 میں سوشل میڈیا ایپ کی مقبولیت اور اس پر گزارے گئے عوامی وقت میں بھی غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارم کے علاوہ نئی ایپ بھی اپنی جگہ بناسکیں جن میں ’بی ریئل‘ نامی تصویری ایپ بھی ہے جن کے صارفین اگست 2022 میں 53 لاکھ تھے اور اب ایک کروڑ تک پہنچ چکے ہیں۔ تاہم ان میں امریکی صارفین کی اکثریت ہے اور میٹا کی ایپس یعنی فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام اور ٹک ٹاک اب بھی سرفہرست ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اغوا برائے تاوان کے الزام میں سی ٹی ڈی افسر کا ڈرائیور گرفتار
    معاشی غیریقینی کے باوجود:انڈس موٹرز نے گاڑیوں کی قیمتوں میں 12 لاکھ تک اضافہ کردیا
    رپورٹ کے مطابق 2022 میں ٹک ٹاک ایپ کی آمدنی میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے جو سب سے زیادہ بھی ہے۔ اس سال بالخصوص لائیو اسٹریمنگ اور لائیو شاپنگ اسٹریم بہت مقبول ہوئیں۔ پھر ٹک ٹاک نے ایپ کے اندر ہی کرنسی خریدنے اور فروخت کرنے کی سہولت بھی دی جسے بہت سراہا گیا ہے۔ اس سال امریکی صارفین چین اور جاپان سے بازی لے گئے اور انہوں نے سب سے زیادہ وقت سوشل میڈیا ایپ پر صرف کیا۔ سوشل میڈیا ایپس کے استعمال پر عالمی پیمانے پر تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ سال 2022 میں سوشل میڈیا ایپس پر گزارے گئے وقت میں بھی 17 فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ پیشگوئی کے مطابق اس سال بھی سوشل میڈیا ایپس کے استعمال اور آمدنی میں اضافہ ہوگا۔

  • عالمی بینک کے وفد کی فیصل کریم کنڈی سے ملاقات؛ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو سراہا

    عالمی بینک کے وفد کی فیصل کریم کنڈی سے ملاقات؛ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو سراہا

    دوران ملاقات عالمی بینک نے بی آئی ایس پی کے مستحقین کے اندراج اور رقوم کی ادائیگیوں کے جدید طریقہ کار کو سراہا.

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ / وزیر مملکت فیصل کریم کنڈی نےآج اسلام آباد میں مسٹر لائر ایرساڈو Mr. Lire Ersado کی سربراہی میں عالمی بینک کے ایک وفد سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران عالمی بینک کے وفد نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی جانب سے مستحق خواتین کے اندراج اور رقوم کی ادائیگی کے طریقہ کار میں شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے جدید طریقہ کار کو سراہا۔

    فیصل کریم کنڈی نے وفد کو بی آئی ایس پی کے مختلف اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔ عالمی بینک کے وفد نے پاکستان میں تخفیف غربت کے لیے بی آئی ایس پی کو اپنے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور مستحقین میں نقد رقم کی تقسیم اور ڈائنامک رجسٹری کے تحت رجسٹریشن کے عمل کا جائزہ لینے کے لیے بی آئی ایس پی کے فیلڈ دفاتر کا دورہ کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔


    مسٹر لیئر ایرساڈو نے بی آئی ایس پی کو مکمل طور پر غیر سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز اس پروگرام میں گہری دلچسپی ظاہر کرتے ہیں۔ وفد نے بی آئی ایس پی کے سیلاب ریلیف پیکیج کی تقسیم کے دوران سیکھے گئے تجربات کو آئندہ اجلاس میں عالمی بینک کے ماہرین سے شیئر کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔ وفد کے سربراہ نے کہا کہ عالمی بینک کو بی آئی ایس پی کے کرائسز ریسیلینٹ سوشل پروٹیکشن (سی آر آئی ایس پی) پراجیکٹ پر فخر ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری کرنے کے خلاف پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد
    آٹا بحران کیس؛ پشاور ہائیکورٹ کا سیکریٹری فوڈ و دیگر کو مارکیٹ کا دورہ کرنیکا حکم
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    عدلیہ اورنیب کو درخواست کرتا ہوں جھوٹے کیسز ختم کیے جائیں. وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
    ملاقات کے دوران وزیر مملکت فیصل کنڈی نے وفد کو بی آئی ایس پی کے مختلف اقدمات جیسے ڈائنامک سروے کے آغاز، بینظیر کفالت سے مستفید ہونے والوں کے لیے 55 ارب روپے کے اجراء، بینظیر تعلیمی وظائف کے مستحقین کے لیے 13 ارب کی ادائیگی، کفالت پروگرام میں خواجہ سراؤں کی شمولیت، حالیہ سیلاب سے متاثر ہونے والے بی آئی ایس پی مستحقین کے لیے 70 ارب کے پیکج اورسابقہ حکومت میں نکالےگئے 8 لاکھ سے زائد بی آئی ایس پی مستحقین کے لیے اپیل کا طریقہ کار متعارف کرانے کے حوالے سے آگاہ کیا۔

  • پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر کرسٹن پاکستان سے واپس روانہ

    پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر کرسٹن پاکستان سے واپس روانہ

    پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر کرسٹن پاکستان سے واپس روانہ ہو گئے.

    پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر کرسٹن ٹرنر کے عہدے کی مدت مکمل ہو گئی ہے جس کے بعد کرسٹن ٹرنر پاکستان سے واپس روانہ ہو گئے ہیں. پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر کرسٹن ٹرنر کی الوادعی ویڈیو بھی جاری کر دی گئی ہے. کرسٹن ٹرنر نے اپنے دفتر سے سامان کی پیکنگ کی ویڈیو شیئر کردی کرسٹن ٹرنر نے پاکستان کے روایتی بکسے میں اپنا سامان رکھا.


    واضح رہے کہ دو روز قبل صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے سبکدوش ہونے والے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے ملاقات کی تھی. ایوان صدر میں ہونے والی ملاقات میں صدر مملکت نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دو طرفہ تجارت بڑھانے کےلیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا.ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا تھا کہ اقتصادی اور سیاسی استحکام یقینی بنا کر دو طرفہ تجارت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہاتھا کہ برطانیہ کی جانب سے سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے سے ملکی معاشی صورتحال بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری کرنے کے خلاف پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد
    آٹا بحران کیس؛ پشاور ہائیکورٹ کا سیکریٹری فوڈ و دیگر کو مارکیٹ کا دورہ کرنیکا حکم
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    عدلیہ اورنیب کو درخواست کرتا ہوں جھوٹے کیسز ختم کیے جائیں. وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ دو طرفہ معاشی تعلقات میں اضافے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ دوران ملاقات صدر مملکت نے برطانیہ کی ترقی پذیر ممالک کےلیے تجارتی اسکیم میں پاکستان کی شمولیت کو سراہا گیا تھا. ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا تھا کہ 120 برطانوی کمپنیاں پاکستان میں تقریباً 10بلین ڈالر سرمایہ کاری کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دفاعی، سیکیورٹی تعاون اور انسداد دہشتگردی تعاون مزید گہرا کرنے کی ضرورت ہے۔ برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے کہا تھا کہ پاکستان برطانوی کمپنیوں کی جانب سے سرمایہ کاری کےلیے موزوں ملک ہے، معاشی اور سیاسی استحکام سے پاکستان میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مدد ملے گی۔

  • فیصل آباد موٹروے پر دو حادثات میں 5 افراد جاں بحق

    فیصل آباد موٹروے پر دو حادثات میں 5 افراد جاں بحق

    فیصل آباد موٹروے پر دو حادثات میں 5 افراد جاں بحق

    موٹروے ایم ٹو اور ایم تھری پر ہونے والے دو مختلف حادثات میں بچوں اور خاتون سمیت پانچ افراد جان بحق ہوگئے۔ فیصل آباد موٹروے ایم ٹو اور ایم تھری پر ہونے والے دو مختلف حادثات میں بچوں اور خاتون سمیت پانچ افراد جان بحق ہوگئے جبکہ نو زخمیوں میں سے تین کی حالت تشویش ناک ہے۔ پولیس کے مطابق پہلا حادثہ موٹروے ایم 3 پر ہوا، جہاں تیزرفتار کار الٹنے سے خاتون اور 2 بچے جاں بحق ہوگئے۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور پولیس کی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچیں اور لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔ حکام کے مطابق دوسرا حادثہ موٹر وے ایم 4 پر تیزرفتار کار ٹرک سے ٹکرا گئی، حادثے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے۔ جب کہ دونوں حادثات میں 9 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 3 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری کرنے کے خلاف پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد
    آٹا بحران کیس؛ پشاور ہائیکورٹ کا سیکریٹری فوڈ و دیگر کو مارکیٹ کا دورہ کرنیکا حکم
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    عدلیہ اورنیب کو درخواست کرتا ہوں جھوٹے کیسز ختم کیے جائیں. وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ

    یاد رہے کہ ٹریفک حادثات اور ان کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع کی افسوس ناک باتیں سنتے ہوئے آپ کے ذہن میں‌ شاید یہ سوال بھی آیا ہو کہ دنیا میں پہلا کار حادثہ کب ہوا یا کسی موٹر کار کی وجہ سے ہلاک ہونے والا پہلا انسان کون تھا؟ 1840ء کے بعد یہ خیال کیا جارہا تھا کہ ایسی موٹر کاریں تیّار کی جاسکتی ہیں جنھیں بہت جلد بھاپ کی مدد سے چلانا ممکن ہوگا، لیکن ایسا نہیں‌ ہوسکا۔ اس زمانے کی یہ کار گزاری اور ایجاد ریل کے لیے تو کارآمد ثابت ہوئی، لیکن چوں کہ کاریں بہت وزنی اور بھاری ہوتی تھیں، اس لیے ان کا ناہموار زمین پر چلنا آسان نہ تھا۔ تاہم اس حوالے سے سائنس دان اور موجد تجربات اور آزمائشوں میں مصروف تھے اور موٹر کاریں بھی بنائی جارہی تھیں۔

    آئرلینڈ کی رہائشی میری وارڈ کے ایک کزن نے بھی ایک موٹر کار تیّار کی اور 31 اگست 1869ء کو اس کی آزمائش کے لیے گھر سے نکلا۔ میری وارڈ بھی اپنے کزن کے ساتھ بھاپ سے چلنے والی اس کار میں سوار ہوگئی۔ اس کا شوہر، دو رشتہ دار اور ان کے ایک استاد بھی اس گاڑی کے مسافر تھے۔ موٹر کار آگے بڑھی۔ سبھی مسافر اس آزمائشی سفر کے دوران ایک انجانی مسرّت محسوس کررہے تھے۔

    وہ سوچ بھی نہیں‌ سکتے تھے کہ خوشی کے یہ لمحے اور بے پناہ مسرّت انھیں ایک آزار کی جانب دھکیل رہی ہے اور اس کار کا ایک مسافر، جو ان کا اپنا ہے، موت کی طرف بڑھ رہا ہے۔

    ایک مقام پر جب تنگ موڑ آیا تو اچانک میری وارڈ گاڑی سے باہر جاگری اور اسی گاڑی کے نیچے آکر کچلی گئی۔ اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی اور خون بہہ جانے کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوگئی۔

    کہتے ہیں‌ کہ یہی میری وارڈ وہ پہلی انسان تھی جو موٹر کار کی وجہ سے اپنی زندگی سے محروم ہوگئی۔ حادثے کے وقت اس کی عمر 42 سال تھی۔

    میری وارڈ آئرلینڈ میں 1827ء میں پیدا ہوئی تھی۔ وہ ایک ایسے خاندان کی فرد تھی جو بالخصوص سائنس کے لیے معروف تھا۔ میری بھی نہایت قابل اور باصلاحیت لڑکی تھی جو کم عمری ہی میں قدرتی ماحول، مظاہرِ فطرت اور فلکیات میں دل چسپی لینے لگی تھی۔ یہ اپنے والد ہنری اور والدہ ہیرٹ کنگ کی تیسری اولاد تھی۔ اس زمانے میں لڑکیوں کو گھر پر تعلیم دینے کا رواج تھا اور کالج یا جامعات میں ان کا داخلہ حاصل کرنا مشکل تھا۔ میری وارڈ اور اس کی بہنوں کو گھر پر ہی ابتدائی تعلیم دی گئی، لیکن وہ عام لڑکیوں کے مقابلے میں مختلف تھی، کیوں کہ ان کا تعلق ایک علمی گھرانے سے تھا۔

    میری وارڈ چار سال کی تھی جب اس نے مختلف اقسام کے حشرات کا مشاہدہ اور انھیں باقاعدہ جمع کرنا شروع کر دیا تھا۔ جلد ہی وہ فلکیات میں دل چسپی لینے لگی، کیوں کہ اس کے ایک کزن نے اس وقت ایک دور بین تیّار کرلی تھی جسے 1917ء تک دنیا کی سب سے بڑی دور بین سمجھا جاتا رہا۔ اس دور بین نے میری کو غور و فکر اور فلکی اجسام کے مطالعے میں مدد دی اور ان کے علم میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔

    لائقِ توجہ امر یہ ہے کہ میری وارڈ نے رسمی تعلیم کو اپنے لیے کافی نہیں جانا اور اپنے علم کو بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ جاننے کی غرض سے اس دور کے ماہرین اور اساتذہ سے خط و کتابت کا سلسلہ شروع کردیا۔ ایک مرتبہ معروف ماہرِ فلکیات جیمز ساؤتھ نے اسے محدب عدسے سے حشرات کا معائنہ کرتے دیکھا اور ساتھ ہی میری کی بنائی ہوئی حشرات کی تصاویر بھی دیکھیں تو بہت حوصلہ افزائی کی۔ والد نے انہی کہنے پر اپنی بیٹی کو ایک خرد بین دلا دی جس سے میری نے بہت فائدہ اٹھایا۔

    اس کے علمی و تحقیقی کام کو دیکھتے ہوئے میری کو رائل سوسائٹی کا صدر بھی بنایا گیا۔ وہ ان تین خواتین میں شامل تھی جنھیں باقاعدگی سے ڈاک بھیجی جاتی تھی۔
    1854ء میں وہ ہنری وارڈ سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوگئی اور یہ خاندان سیاسی اور سماجی اعتبار سے مستحکم اور خطاب یافتہ تھا۔ یہا‌ں بھی اسے اپنے سائنسی اور تحقیقی کام کو جاری رکھنے کا موقع ملا۔

    جب میری نے اپنی پہلی کتاب "خرد بین سے حاصل شدہ خاکے (Sketches with the Microscope)” تصنیف کی تو اس کا خیال تھا کہ یہ کتاب شائع نہیں ہوگی، کیوں کہ اس وقت سماج میں عورتوں کو کسی قسم کی اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔ یوں بھی میری وارڈ کا کسی قسم کا تعلیمی پس منظر نہیں تھا۔ تب اس نے ذاتی طور پر اپنے کام کی نقل تیّار کروا کے اس کی تشہیر کروائی اور اس کی شہرت نے لندن کے ناشروں کو اس جانب متوجہ کرلیا۔ اس کی کتاب اوّلین اشاعت کے بعد آٹھ مرتبہ "خرد بین سے منکشف ہونے والے عجائب کی دنیا (A world of Wonders Revealed by the Microscope)” کے عنوان سے بازار میں فروخت کے لیے لائی گئی۔

    ان کی کتابیں اے ونڈ فال فار دا مائیکرو اسکوپ (1856)، اے ورلڈ آف ونڈرز ریویلڈ بائے دا مائیکرو اسکوپ (1857)، مائیکرو اسکوپ ٹیچنگز (1864) اور ٹیلی اسکوپ ٹیچنگز (1859) شائع ہوئیں۔ میری وارڈ نے متعدد تحقیقی مضامین بھی سپردِ قلم کیے۔ کئی برس بعد اس خاتون سائنس دان کے گھر کو میوزیم کا درجہ دے کر عوام کے لیے کھول دیا گیا۔