Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • برطانیہ خود بھی معاشی تباہی کےدہانے پریورپ کو بھی لےڈوبا

    برطانیہ خود بھی معاشی تباہی کےدہانے پریورپ کو بھی لےڈوبا

    لندن:برطانیہ کی معاشی صورتحال بگڑتی جا رہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ملک گیر ہڑتالوں میں شدت آئی تو کساد بازاری کی شدت میں اضافہ کم سے کم سن دو ہزار چوبیس تک جاری رہے گا۔برطانیہ کی جدیدترین معاشی صورتحال کے بارے میں جاری ہونے والی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں ہڑتالوں کی بڑھتی شدت اور یورو زون میں اقتصادی تنزلی کے نتیجے میں برطانیہ میں کساد بازاری آئندہ سال بھی جاری رہ سکتی ہے۔ادھر برطانیہ کی مزدور یونینوں نے بھی مختلف شعبوں میں سرگرمیاں روک دی ہیں اور دو ہزار تیئس میں ہڑتال کی وسعت بڑھانے کی جانب سے بھی لندن کو خبردار کیا ہے۔

    قابل ذکر ہے کہ برطانوی حکومت نے ایک جانب جنگی اخراجات میں کئی گنا اضافہ کیا ہے تو دوسری جانب خدماتی، تعلیمی اور طبی شعبے کے بجٹ میں کمی کرکے ثابت کردیا ہے کہ اسے ذرہ برابر عوام کی پرواہ نہیں ہے۔قابل ذکر ہے کہ نرسوں، ٹرین ڈرائیوروں، محکمہ ریلوے، سرحدی افواج اور محکمہ ڈاک کے کارکنوں کے علاوہ متعدد دوسرے شعبوں کے ملازمین نے ہڑتال کی نئی تاریخوں کا اعلان کردیا ہے۔

    ان یونینوں نے اعلان کیا ہے کہ جب تک حکومت ان کے مطالبات منظور نہیں کرتی تب تک ہڑتال جاری رہے گی۔ ادھر بینک آف انگلینڈ کی جانب سے جاری شدہ اعداد و شمار کے مطابق، گذشتہ اکتوبر میں برطانیہ میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر گیارہ اعشاریہ ایک فیصد تک پہنچ گئی جسے گذشتہ چالیس سال کا بدترین ریکارڈ قرار دیا گیا ہے۔ایک طرف رشی سونک کا یہ کہنا ہے کہ تنخواہیں بڑھانے کے نتیجے میں افراط زر میں بھی اضافہ ہوگا تو دوسری طرف برطانیہ کے سینٹرل بینک کے گورنر جیریمی ہنٹ نے متضاد بیان دیتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ مہنگائی کو کم کرنا اور عوام کی قوت خرید کو بڑھانا ان کی اولین ترجیح ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ معاشی پالیسی کے نتیجے میں، برطانیہ کی اقتصادی صورتحال میں بہتری کی جانب سے بے یقینی بڑھتی جا رہی ہے۔

    یہ ایسی حالت میں ہے کہ بتایا جا رہا ہے کہ برطانیہ میں بے روزگار شہریوں کی تعداد میں لگاتار تیسرے مہینے بھی اضافہ ہوا ہے۔بڑھتی مہنگائی، ملازمین کی تنخواہوں کی گھٹتی قدر اور کنزرویٹیو حکومت کی پالیسیوں نے عوام کے سامنے احتجاجی مظاہروں اور ہڑتال کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں چھوڑا ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ ہڑتال کے نتیجے میں صنعتی، خدماتی اور سرکاری مراکز کی کارکردگی گذشتہ دس سال کی بدترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ عوام کی موجودہ معاشی صورتحال کا براہ راست اثر عوام کی قوت خرید اور سیاحت کے شعبے پر مرتب ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال کے دوسری شش ماہی میں، معاشی صورتحال سے پریشان برطانوی شہریوں کی بڑی تعداد نے اپنے سفر کا پلان ملتوی یا منسوخ کردیا ہے۔دوسری جانب یورپی یونین کے ایگزیکٹیو کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ یورو زون کے انیس رکن ممالک میں سن دو ہزار تیئیس کے دوران کساد بازاری جاری رہے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا ایک بڑی تباہی کی جانب گامزن ہے جسے گلوبلائزیشن یا عالمگیریت، جیوپالیٹکل، ٹیکنالوجی اور سماجیات کے مختلف شعبوں میں غلط تبیدیلیوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔یورو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، یورپی یونین سے علیحدگی پر برطانوی عوام میں پچھتاوا بڑھتا جا رہا ہے اور لندن کے معاشی نظام کے ساتھ ساتھ تمام یورپی ممالک کے اقتصاد کا مستقبل بھی داؤ پر لگا ہوا ہے ۔

  • دہشتگردی کے خلاف دفاع کرنا پاکستان کا حق ہے،افغان طالبان اپنے وعدوں کو پورا کریں،امریکا

    دہشتگردی کے خلاف دفاع کرنا پاکستان کا حق ہے،افغان طالبان اپنے وعدوں کو پورا کریں،امریکا

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف دفاع کرنا پاکستان کا حق ہے-

    باغی ٹی وی : واشنگٹن میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے نیڈ پرائس نے کہا کہ پاکستانی عوام نے دہشتگرد حملوں سے شدید نقصان اٹھایا ہے طالبان کو کہا جائے کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کریں، افغان سرزمین دہشتگردی کیلئے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال نہ ہو۔

    فرانسیسی بحریہ کی بحیرہ عرب میں کاروائی،5 کروڑ 32 لاکھ ڈالر سے زائد کی منشیات پکڑ…

    نیڈ پرائس کا کہنا تھا کہ ہم جائزہ لے رہے ہیں کہ طالبان کے فیصلوں کے خلاف کیا اقدامات لیے جا سکتے ہیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے خبردارکیا کہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکا کی طرف سے رسپانس دیا جائے گا۔

    دوسری جانب افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے بارے میں امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں کہا کہ امارت اسلامیہ افغانستان پاکستان سمیت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ اچھے ہمسائے کے طور پر بہتر تعلقات چاہتی ہے اور ان تمام وسائل و ذرائع پر یقین رکھتی ہے جو اس ہدف تک ہمیں پہنچاسکتے ہیں۔

    ایران کے جوہری منصوبے کے خلاف عالمی محاذ بنانے کیلئے کوشاں ہیں

    ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ حالیہ دنوں پاکستانی حکام کی جانب سے افغانستان کےخلاف بیانات دیئے جارہے ہیں جو قابل افسوس ہیں امارت اسلامیہ اپنی پوری کوشش کر رہی ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان یا کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔

    انہوں نے کہا کہ ہم اس مقصد کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہیں، پاکستانی فریق کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ حالات کو قابو رکھنے کی کوشش کرے۔ بے بنیاد باتوں اور اشتعال انگیز خیالات کے اظہار سے احتراز کرے۔ کیوں کہ ایسی باتیں اور بداعتمادی کی فضا کسی فریق کے مفاد میں نہیں۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ امارت اسلامیہ جس طرح اپنے ملک کے اندر امن و استحکام کو اہمیت دیتی ہے اسی طرح پورے خطے کے لیے امن و استحکام چاہتی ہے اور اس سلسلے میں اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

    آئی فون نے خاتون کی جان بچا لی

  • مبشر لقمان کی دہائی، ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔جنرل فیض بے نقاب،وائٹ پیپر،خطرے کی گھنٹیاں

    مبشر لقمان کی دہائی، ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔جنرل فیض بے نقاب،وائٹ پیپر،خطرے کی گھنٹیاں

    لاہور:پی ڈی ایم کی حکومت کیوں آئی ، عمران خان کی حکومت کیوں ختم ہوئی ، ان سوالات کے جوابات سب کومعلوم ہونے چاہیں، عمران خان نے جب حکومت کی تو اس وقت ملک کو معاشی تباہی کے دہانے پرلے گیا،عوام الناس تو تنگ تھے ہی ساتھ پی ٹی آئی کے اہم رہنما بھی عمران خان کی پالیسیوں سے نالاں تھے اور وہ ناخوش بھی تھے

    اس حوالےسے سنیئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ عمران خان حکومت کی طرف سے معاشی تباہی میں جنرل ریٹائرڈ کا بھی کردار ہے اس شخص کا بھی احتساب ہونا چاہیے، ان کا کہنا تھاکہ عمران خان نے ادارے تباہ کردیئے تھے ،اپنے مخالفین کو کھڈے لائن لگانے کی منصوبہ بندی کررکھی تھی اور یہ کہ اس سارے منصوبے کو انجام تک پہنچانے کےلیے جنرل فیض حمید کردار ادا کررہے تھے، ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ ان حالات نے پی ڈی ایم کی شکل میں ایک سیاسی جماعتوں کا اتحاد بنایا اورپھریہی اتحاد اقتدار میں آگیا ، ان کا کہنا تھاکہ اس ملک کی تباہی میں سب کا برابر کا کردار ہے، اسفند ولی یار سمیت دیگرکئی سیاستدانوں کے اپنے بچے تو یورپ میں ہیں ان کو کیا پرواہ ہے ،ان کے بچے باہر ہیں ، جیسے مونس الٰہی باہر ہے ،

    ان کا کہنا تھاکہ پہلے سائفرکا ڈرامہ چلایا گیا اورپھرخود ہی کہہ دیا کہ امریکی سازش نہیں تھی ،

     

    ان کا کہنا تھاکہ یورپ کی منڈیوں میں ایکسپورٹ میں کمی آگئی ہے جو دوسال پہلے بہت بڑھ گئی تھی، اس کی وجہ یہ تھی کہ بنگلا دیش اور بھارت کو آڈڑ بہت کم ملے تو پاکستان کو موقع مل گیا

    ان کا کہنا تھا کہ اب امپورٹڈ حکومت نے وزیروں کی فوج بھرتی کررکھی ہے ، غیرملکی تعلیمی اداروں میں پاکستانی طالب علم پریشان ہیں، بچوں کی تعلیم متاثرہوتی ہے ،ہمارے مسائل ہمارے بچوں کے گلے پڑ گئے ان کے تعلیمی اخراجات پورے کرنے مشکل ہوگئے ہیں ، اب لوگوں نے ہنڈی اور حوالا کا سہارا لینا شروع کردیئے ہیں ،

    زرمبادلہ ذخائر بہت کم ہیں ، اور جو ہیں اگرسعودی عرب اور عرب امارات نے واپس مانگ لیے توپھرہمارے پاس کیا بچے گا ، اب کہہ رہے ہیں کہ امریکہ میں پی آئی اے کا ہوٹل بیچ کر معیشت کو سہارا دینے کی کوشش کریں گے ، ان کا کہنا تھاکہ پنجاب حکومت کی توجہ ہیلی کاپٹر پر ہے ،عمران خان پنجاب اور کے پی حکومت کے ہیلی کاپٹراستعمال کرتے ہیں، ان کا کہنا تھا ہمارے زرمبادلہ کے ذخائرکم ہوگئے ہٰیں ،ان کا کہنا تھا کہ 6 ملین ڈالرز میں امریکہ میں پاکستان کا قیمتی اثاثہ بیچنے کا پروگرام ہے

     

    ان کا کہنا تھا کہ گورنر،وزیراعظم اور دیگر بیوروکریسی بڑے بڑے محلات میں رہتے ہیں ، ان کا کہنا تھاکہ آئی ایم ایف اگر کچھ پیسے دے دیں تو کب تک وہ کام آئے گا، ادویات کےلیے پیسے نہیں مگرہوٹلوں پر کھانا کھانے چاتےہیں تو بڑے بڑے مشروب اور بہترین چیزیں کھاتے ہیں

    ہنڈا جیسی کمپنی پاکستان میں سروسز بند کررہی ہیں ، ان کا کہنا تھا یہ کمپنیاں پاکستان میں مہنگی گاڑیاں بناکرسرمایہ باہر لے گئیں ،ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں گاڑیوں پر پابندی لگا دیں کہ جس گاڑی پر دو یا تین سے کم مسافر ہوں تو ان کو بند کردیں ،

    انہوں نے کہاک عارف علوی دانتوں کا کیڑا تو نکال سکتا ہے ،اس پر کروڑوں روپے خرچ ہورہےہیں، زمان پارک کی بات کرتے ہوئے کہٰتےہیں کہ اب وہاں بڑی سیکورٹی لگا دی ہے ، فائراس کو لگا نہٰیں اور جھوٹ بول رہا ہے ، ایسے تو عوام قریب آئے گی ، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بچانے کےلیے سخت فیصلےکرنےہوں گے ، سترکی دہائی میں پاکستان چین کو قرض دیتا تھا اب یہ حال ہیں کہ ہم چین کے سامنے ہاتھ پھیلائے ہیں ، تمام سرکاری افسران کا علاج سرکاری ہسپتال میں ہونا چاہیے ، ان کے بچے سرکاری سکولوں میں پڑھیں گےتو سکول بہتر ہوں‌گے

  • بلاول بھٹو اور انڈونیشیا کی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    بلاول بھٹو اور انڈونیشیا کی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    اسلام آباد:وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور انڈونیشیا کی وزیر خارجہ کے مابین ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ان کا انڈونیشیا کی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ انڈونیشین ہم منصب سے گفتگو کرکے بہت مسرت ہوئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ گفتگو میں انڈونیشیا نے سیلاب متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کی اور ہر ممکن مدد کے عزم کا اظہار بھی کی جبکہ موسمیاتی طور پر مضبوط پاکستان کانفرنس کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔

     

     

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گفتگو میں دوطرفہ اور عالمی معاملات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ افغانستان کی صورتحال پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی اور پاک، انڈونیشیاء تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری مزید کہا کہ اس موقع پر دونوں جانب سے خواتین کے حقوق اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے مل کر کام کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    ادھر اس سے پہلے دادو میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تحریک طالبان افغانستان حقیقت اور تحریک طالبان پاکستان فتنہ ہے۔دادو میں پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نے 2010 کا سیلاب دیکھا مگر 2022 کے سیلاب نے سب کچھ متاثر کیا، سیلاب کی وجہ سے لوگ آج بھی مشکل میں ہیں، سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے ہمیں کچھ وقت ضرور درکار ہوگا مگر عزم ہمارا پختہ ہے، سیلاب متاثرین کی بحالی کے بعد انہیں گھر بنا کر بھی دیئے جائیں گے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق پاکستان کا موقف دنیا بھر میں پیش کیا، سیلاب متاثرین کی بحالی،گھروں کی تعمیر اور نقصانات کے ازالے کے لیے ورلڈ بینک سے رقم منظور کروائی۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے سیلاب متاثرین کے لئےکئی پروگرامز شروع کیےہیں، سندھ حکومت کی ملکیت زمین پر رہنے والوں کو اس کا مالک بنادیں گے۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کوویڈ کے دوران ساری چیزیں بھول کر ہم نے عمران خان سے کہا کہ آپ وزیر اعظم ہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں، سیلاب کی صورت حال میں ہمارے سیاسی حریف نے سندھ ، جنوبی پنجاب، خیبر پختونخوا اور کوہستان و گلگت بلتستان میں مدد کرنے کے بجائے اپنی سیاست جاری رکھی۔ ملک میں سیلاب کی صورتحال تھی مگر پی ٹی آئی کا لانگ مارچ چلتا رہا۔

  • بلدیاتی انتخابات؛ جماعت اسلامی کا سندھ حکومت کو 24 گھنٹے کا الٹی میٹم

    بلدیاتی انتخابات؛ جماعت اسلامی کا سندھ حکومت کو 24 گھنٹے کا الٹی میٹم

    کراچی: جماعت اسلامی نے سندھ حکومت کو کراچی میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرانے کیلئے الیکشن کمیشن کو دئیے گئے خطوط 24 گھنٹے میں واپس نہ لینے پر دھرنے کی دھمکی دے دی۔امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے سندھ حکومت کو 24 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے التواء کے لیے الیکشن کمیشن کوبھیجے گئے خطوط 24گھنٹوں کے اندر واپس نہ لیے تو وزیر اعلیٰ ہاؤس پر دھرنا دیں گے اور پھر حالات کی تمام تر ذمہ دار ی حکومت پرعائد ہو گی۔

    انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے التواء کا کوئی آئینی و قانونی اور جمہوری جواز موجود نہیں ہے، گورنر ہاؤس، وزیر اعلیٰ ہاؤس اور بلاول ہاؤس سازشوں کے اڈے بنے ہوئے ہیں، ماضی کی طرح شہر کو ایک بار پھر تباہ و برباد کرنے کے لیے پیپلز پاٹی، ایم کیو ایم کے ساتھ اب نواز لیگ کی جوڑ توڑ اور سازشیں بھی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں ایسا گورنر بنایا گیا ہے جس کا ماضی میں کرمنل ریکارڈ موجود ہے، جماعت اسلامی کی مقبولیت سے خوفزدہ ہوکر حکمران پارٹیاں اکھٹی ہورہی ہیں اور بلدیاتی الیکشن ملتوی کرانے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔

    حافظ نعیم جماعت اسلامی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ کراچی کے شہری چاہتے ہیں کہ جماعت اسلامی کا میئر آئے اور شہر میں تعمیر و ترقی کا کام دوبارہ شروع ہو، کراچی میں ہر صورت میں بلدیاتی الیکشن 15 جنوری کو ہونے چاہیے۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ایم کیو ایم حلقہ بندیوں پر اعتراض کررہی ہے یہ اعتراض اس وقت کیوں نہیں کیا گیا جب یہ اپنا مینڈیٹ فروخت کررہے تھے،ایم کیو ایم نے ہمیشہ عوامی مینڈیٹ فروخت کیا اور شہر کی ترقی کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا یہ ہر حکومت میں شامل رہی ہے 2013 کے ایکٹ کی منظوری میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں برابر کے شریک جرم رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت جتنی کرپشن اور لوٹ مار کررہی ہے اس میں ایم کیو ایم برابر کی حصہ دار ہے 2018میں اہل کراچی نے پی ٹی آئی کو بھی مینڈیٹ دیا لیکن اس نے بھی کراچی کے لیے پیکجز کے اعلان تو کیے لیکن کام کچھ نہیں کیا۔

    امیرجماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ شہر میں مسلح ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں لیکن پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی کے باوجود کراچی کے عوام کو جان و مال کا تحفظ نہیں۔ اہل کراچی وفاقی و صوبائی حکومتوں اور حکمران پارٹیوں سے سوال کر رہے ہیں کہ ان کے حقوق،مسائل کا حل اور تحفظ کب ملے گا۔

  • پاک فوج کے سینیئرافسرنے یوٹیوبرمیجر(ر) عادل راجہ پربرطانوی عدالت میں مقدمہ کردیا

    پاک فوج کے سینیئرافسرنے یوٹیوبرمیجر(ر) عادل راجہ پربرطانوی عدالت میں مقدمہ کردیا

    لاہور:پاک فوج کے حاضرسروس افسر نے پاک فوج کے ریٹائرڈ افسر کے خلاف برطانیہ میں ہتک عزت کا مقدمہ دائر کردیا ہے ، یہ مقدمہ برطانوی ہائی کورٹ میں کیا گیا ہے،یو ٹیوبر میجر ریٹائرڈ عادل راجہ نے بریگیڈیئر راشد نصیر پر پاکستان تحریک انصاف کے خلاف انتخابی دھاندلی کرنے اور جنرل ریٹائرڈ باجوہ پر ہارس ٹریڈنگ کے الزامات عائد کیے تھے۔

    جیو ٹی وی کے مطابق متنازع یو ٹیوبر میجرریٹائرڈ عادل راجہ جوکہ اس وقت لندن میں رہ رہے ہیں نے بریگیڈیئر راشد نصیر پر پنجاب کے ضمنی انتخابات کے حوالے سے آصف زرداری سے خفیہ ملاقاتوں کے الزامات بھی لگائے ۔میجر ریٹائرڈ عادل راجہ کی طرف سے لگائے الزامات کے بعد برطانوی عدالت میں دائر کیے گئے مقدمے میں کہا گیا ہے کہ یوٹیوبر نے 14 جون 2022 کو حاضر سروس فوجی افسر کے خلاف مہم کا آغاز کیا۔

    مدعی مقدمہ کے وکلاء نے مؤقف اپنایا ہے کہ یو ٹیوبر کی طرف سے چلائی گئی مہم سے حاضر سروس بریگیڈیئر کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔دوسری جانب یوٹیوبر عادل راجہ نے اپنے خلاف دائر ہونے والے مقدمے کی تصدیق کردی ہے۔ یوٹیوبر کا دعویٰ ہے کہ اس کی ٹوئٹس اور وی لاگس میں دی گئیں معلومات اسٹیبلشمنٹ کے ہی اعلیٰ ذرائع کی فراہم کردہ تھیں۔

    خیال رہے کہ یہ یوٹیوبر گزشتہ برس اپریل میں اسلام آباد سے لاپتہ ہونے کے بعد لندن پہنچ گئے تھے۔

    دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ حال ہی میں عادل راجا نے سوشل میڈیا پر جاری وی لاگ میں پاکستان کی ٹاپ ماڈلز اور اداکاراؤں پر سنگین الزامات عائد کیے تھےاور ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ ایک ادارے کے پاس ان ماڈلز اور اداکاراؤں کی نازیبا ویڈیوز بھی موجود ہیں۔جن اداکاراوں کو پرالزام تراشی کی گئی ہے ،ان میں سجل علی،مہوش حیات،ماہرہ خان اور کبریٰ خان پرمختلف قسم کے الزامات عائد کیے گئے تھے

    عادل راجا نے اپنے وی لاگ میں اداکاراؤں کا نام لینے کے بجائے ان کے ناموں کے ابتدائی حروف بتائے تھے جن میں M H. – M K. – A K- S A شامل تھے۔

    اس معاملے پر اداکارہ کبریٰ خان نے اپنی اسٹوری میں لکھا کہ ’آپ کے پاس ثبوت سامنے لانے کیلئے صرف 3 دن ہیں جس کیلئے آپ نے حق اور سچ کا دعویٰ کیا ہے، اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو اپنا بیان واپس لو اور عوام کے سامنے معافی مانگو ورنہ میں تمہارےخلاف مقدمہ کروں گی اور میں صرف پاکستانی ہی نہیں برطانوی شہری بھی ہوں لہٰذا میں وہاں بھی تمہارے پیچھے پہنچ جاؤں گی کیوں کہ میں سچ پر ہوں، میں حق پر ہوں اور میں کسی کے باپ سے بھی نہیں ڈرتی‘۔

  • اسلام آباد میں حالیہ خودکش دھماکے کے بمبار کی شناخت ہوگئی

    اسلام آباد میں حالیہ خودکش دھماکے کے بمبار کی شناخت ہوگئی

    اسلام آباد:گزشتہ سال دسمبر میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بمبار کی شناخت ہوگئی۔پولیس ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور کی شناخت موقع سے ملنے والی موبائل سم سے ہوئی، جائے وقوعہ سے ملنے والی سم ملزم کے نام پر رجسٹرڈ تھی۔

    برطانوی خواتین پرحملے:قتل کے واقعات سےہرطرف خوف وہراس

    22 سالہ حملہ آور ثاقب الدین کرم ایجنسی کا رہائشی تھا۔ خودکش حملہ آور نے 22 دسمبر کو ضلع کرم سے صوابی کا سفرکیا، حملہ آور کوراولپنڈی کے ایک رہائشی شخص کیجانب سے مدد فراہم کی گئی تھی۔پولیس ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور10 سے12 کلوگرام باردو سے بھری جیکٹ پہنے ہوئے تھا۔

    یوکرین کاروس پرامریکی ہتھیاروں سےحملہ:پوتن نےہنگامی اجلاس طلب کرلیا

    خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے بتایا تھا کہ اسلام آباد میں ہونے والے خود کش حملے کے کیس میں چار سے پانچ ملزمان اور ان کے ہیلنڈرز کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بیان کے ملے میں استعمال ہونے والی ٹیکسی کا ڈرائیور بے گناہ تھا۔

    خیال رہے کہ 23 دسمبر کو اسلام آباد میں ہونے والے خود کش حملے میں ایک پولیس اہلکار اور ٹیکسی ڈرائیور سمیت دو افراد جاں بحق جبکہ 4 زخمی ہوئے تھے۔

  • پی آئی اے کامسافرطیارہ خراب ہوگیا:عمرہ پرواز19گھنٹےبعد جدہ روانہ

    پی آئی اے کامسافرطیارہ خراب ہوگیا:عمرہ پرواز19گھنٹےبعد جدہ روانہ

    کراچی:پرواز پر 330 مسافر سوار تھے، جو کئی گھنٹوں سے ایئرپورٹ پر پریشان بیٹھے تھے،اطلاعات کے مطابق کراچی ایئر پورٹ پر پی آئی اے کے طیارے کے فیول پمپ میں فنی خرابی کے باعث جدہ جانے والی عمرہ پرواز میں 19 گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی، جس کے بعد بالآخر مسافروں کو سعودی عرب روانہ کردیا گیا۔

    کراچی:لائنز ایریا میں 2دن سے بجلی کی فراہمی معطل:علاقہ مکین رُل گئے:احتجاج بھی کام…

    کراچی سے پی آئی اے کی پرواز پی کے 731 کو منگل کی رات 2 بجے 300 سے زائد مسافروں کو جدہ لے جانا تھا۔رپورٹ کے مطابق پرواز سے کچھ وقت پہلے معمول کی جانچ پڑتال کے دوران طیارے کے فیول پمپ میں خرابی کی نشاندہی ہوئی، جس کی وجہ سے پرواز تاخیر کا شکار ہوئی۔

    برطانوی خواتین پرحملے:قتل کے واقعات سےہرطرف خوف وہراس

    متاثرہ پرواز کے اکانومی اور بزنس کلاس کے 330 مسافروں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جن میں اکثریت نے احرام باندھ رکھا تھا۔

    آسٹریلیا میں دو ہیلی کاپٹروں کا فضا میں تصادم،4 افراد ہلاک 3 کی حالت تشویشناک

    بزرگ اور خواتین سمیت دیگر مسافر رات سے ایئرپورٹ کے بین الاقوامی لاؤنج میں موجود رہے، جبکہ پرواز کی روانگی میں مسلسل تاخیر کے باعث مسافروں کی عملے سے تلخ کلامی بھی ہوئی ہے۔بالآخر پی آئی اے کی پرواز 19 گھنٹے کی تاخیر کے بعد عمرہ زائرین کو لے کر جدہ روانہ ہوگئی۔

    پرواز میں تاخیر کے حوالے سے ترجمان پی آئی اے کا کہنا تھا کہ متاثرہ طیارے کے مسافروں کو رات میں کھانا اور صبح میں ناشتہ پیش کیا گیا، ہوٹل منتقل کرنے کی پیشکش مسافروں نے قبول نہیں کی۔

  • منشی نول کشور:ہندوستان کے سب سے بڑے اشاعتی ادارے کے بانی مالک

    منشی نول کشور:ہندوستان کے سب سے بڑے اشاعتی ادارے کے بانی مالک

    منشی نول کشور
    ہندوستان کے سب سے بڑے اشاعتی ادارے کے بانی مالک

    یوم پیدائش : 3 جنوری 1836

    منشی نول صاحب کی پیدائش 03؍جنوری 1836ء کو متھرا اتر پردیش ہندوستان میں ہوئی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم کا آغاز مکتب میں فارسی اور اردو پڑھ کر کیا تھا۔ منشی نول کشور ایک کتاب پبلشر تھے۔ انہیں بھارت کا کیکسٹون کہا جاتا ہے۔ 1858ء میں، 22 سال کی عمر میں، انہوں نے ‘نول کشور پریس اور کتاب ڈپو’ لکھنؤ میں قائم کیا تھا۔ آج یہ ادارہ ایشیا میں سب سے پرانی پرنٹنگ اور اشاعت کا مرکز ہے۔ مرزا غالب منشی نول کشور کے وفادار دوست تھے۔ منشی نول کشور کے والد کا نام پنڈت جمونا پرساد بھگاوکا تھا، آپ کے والد علی گڑھ کے زمیندار تھے 1970ء میں ہندوستان کی حکومت نے ان پر اعزاز میں ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔

    منشی نول کشورکی نوجوانی کے زمانے میں لاہور سے اخبار ‘کوہِ نور’ نکلتا تھا جس میں آپ کے مضامین شائع ہونے لگے، جو اس قدر مقبول ہوئے کہ اس کے مدیر منشی ہرسُکھ رائے نے انھیں لاہور آ کر اخبار میں کام کرنے کی دعوت دی جو نول کشور نے قبول کر لی۔1857ء کے ملک گیر فسادات شروع ہو چکے تھے، جن میں دوران میں امرا و روسا کے صدیوں پرانے کتب خانوں میں موجود ہزاروں نادر مخطوطے تلف ہو گئے۔ 21 سالہ نول کشور نے تمام صورتِ حال کا گہری نظر سے جائزہ لیا اور انھیں ہم وطنوں کی حالت سدھارنے کا ایک کارگر طریقہ سوجھ گیا۔ آپ نے چند مذہبی رسائل اور بچوں کے قاعدے چھاپے اور انھیں خود ہی بیچنا شروع کیا۔ وہ خود اپنے کندھوں پر طبع شدہ مواد کے گٹھڑ اٹھا کر بازار اور دفاتر تک لے جاتے تھے۔ انگریزوں کو ان کی لگن پسند آئی اور انھیں دفتری سٹیشنری کے ٹھیکے ملنے لگے۔ 26 نومبر 1858ء میں انھوں نے ’اودھ اخبار‘ کا اجرا کیا جو بڑے سائز کے چار صفحات پر مبنی ہوتا تھا۔

    #داستانامیرحمزہ

    اس سلسلے میں غالباً ان کے پریس کا سب سے بڑا کارنامہ داستانِ امیر حمزہ کی 46 جلدوں کی اشاعت ہے جسے دنیا کی سب سے بڑی داستان کہا جاتا ہے۔

    دیگر کتب کی اشاعت
    ہندو ہونے کے باوجود منشی نول کشور نے کئی اہم اسلامی کتابیں، قرآن کی تفاسیر، احادیث کے مجموعے اور فقہ کی کتابیں شائع کیں۔ مطبع منشی نول کشور لکھنؤ سے 1858ء سے 1950ء تک 6000 سے زیادہ کتابیں شائع ہوئی۔ 1950ء میں منشی نول کشور کا پریس خاندانی جھگروں کی بنا پر بند ہو گیا۔

    نول کشور پریس کی طبع شدہ کتابوں کے چند نام ۔

    فتاویٰ عالمگیری
    سنن ابی داؤد
    سنن ابن ماجہ
    مثنوی مولانا روم
    قصائدِ عرفی
    تاریخِ طبری
    تاریخِ فرشتہ
    دیوانِ امیر خسرو
    مراثی انیس
    فسانۂ آزاد
    داستانِ امیر حمزہ
    دیوانِ غالب
    کلیاتِ غالب فارسی
    الف لیلہ
    آثار الصنادید (سر سید احمد خان)
    قاطعِ ب رہان (غالب)،
    آرائشِ محفل
    دیوانِ بیدل
    گیتا کا اردو ترجمہ
    رامائن کا اردو ترجمہ
    بوستان
    اور دیگر کئی صد کتابیں ہیں۔

    غالب سے دوستی
    منشی صاحب کے ساتھ جن لوگوں نے اس اخبار میں کام کیا ان میں رتن ناتھ سرشار، عبد الحلیم شرر، قدر بلگرامی، منشی امیر اللہ تسلیم اور دوسرے مشاہیرِ اردو شامل ہیں۔ اس اخبار میں جن لوگوں کے مضامین چھپتے تھے ان میں مرزا غالب اور سر سید احمد خان بھی شامل ہیں۔ سرشار کا شاہکار ’فسانۂ آزاد‘ اسی اخبار میں دسمبر 1878ء سے دسمبر 1879ی تک قسط وار چھپتا رہا۔ غالب منشی صاحب کے ذاتی دوستوں میں شامل تھے۔ وہ نول کشور پریس کے بارے میں ایک خط میں لکھتے ہیں: ‘اس چھاپہ خانے نے جس کا بھی دیوان چھاپا، اس کو زمین سے آسمان تک پہنچا دیا۔’ غالب منشی صاحب کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملانے سے دریغ نہیں کرتے، چنانچہ ایک اور خط میں ان کے بارے میں لکھتے ہیں: ‘خالق نے اسے زہرہ کی صورت اور مشتری کی سیرت عطا کی ہے۔’ غالب کے دوست قدر بلگرامی جب مالی مشکلات کا شکار ہوئے تو غالب نے انھیں خط میں لکھا کہ جا کر لکھنؤ میں میرے دوست سے ملو، تمھارا کام ہو جائے گا۔
    منشی نول کشور 19؍فروری 1895ء کو دہلی میں انتقال کر گئے۔

  • میراجینامرناپاکستان،پاکستان کےبغیرنہیں رہ سکتا،سابق     صدرجنرل پرویزمشرف کی چیف جسٹس سےدرخواست

    میراجینامرناپاکستان،پاکستان کےبغیرنہیں رہ سکتا،سابق صدرجنرل پرویزمشرف کی چیف جسٹس سےدرخواست

    لاہور:سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف نے پاکستان واپس آنے کی خواہش کا ا‌ظہارکردیا،سابق جنرل پرویز مشرف نے کہا ہےکہ پاکستان ان کا جینا مرنا ہے،اس حوالے سے سابق جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس آف پاکستان سے پاکستان واپس آنے کی استدعا کردی ،

    باغی ٹی وی ذرائع کےمطابق سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے اس سلسلے میں ایک ویڈیو پیغام جاری کیاہےجس میں‌ وہ چیف جسٹس آف پاکستان سے استدعا کی ہے کہ وہ پاکستان واپس آنا چاہتےہیں، زندگی کے آخری ایام وہ پاکستان میں گزارنا چاہتےہیں، پرویز مشرف نےکہاکہ ان کے اباواجداد،رشتہ دار دوست احباب سب پاکستان میں ہیں لیکن وہ بیماری کی وجہ سے ملک سے باہرتھے اب وہ پاکستان واپس آنا چاہتےہیں،

     

    پرویز مشرف نے اپنے ویڈیو پیغام میں‌ کہاہے کہ وہ نسلاَ اوراصلاَ پاکستانی ہیں وہ دیار غیر میں رہ کرانگریزوں یادیگرقوموں کےساتھ نہیں کرنا چاہتے، ان کی خواہش یہ ہےکہ اب وہ زندگی کے آخری ایام پاکستان میں گزاریں اورجب موت آئے توپاک وطن میں‌ ہی دفن کیا جائے،

    سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ ان کو کوئی علم نہیں‌ کہ انکے خلاف کیا کیسزہیں اور ان کیسز میں چارجز کیا ہیں،انکا کہنا تھا کہ انہوں نے وطن پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کےلیے اپنی زندگی وقف کررکھی تھی،پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ اب وہ بہت بیمار ہیں اور ان حالات میں‌ خواہش یہی ہے کہ واپس اپنےوطن چلا جاوں اور اپنے دوست احباب اور رشتہ داروں کےساتھ زندگی کے آخری ایام گزار سکوں‌

    پرویز مشرف نے مزید کہاکہ چیف جسٹس آف پاکستان اس معاملے توجہ دیں اور میری پاکستان واپسی کےلیے اقدامات کریں ،پرویز مشرف کا کہنا تھاکہ وہ کسی مقدمے کے ڈر سے ملک سےباہر نہیں بلکہ طبعیت کےپیش نظراچھے علاج معالجے کےلیے باہر جانا پڑا اب وہ پاکستان واپس آنا چاہتے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر قسم کی قانونی جنگ لڑنےکےلیے تیار ہیں لیکن اس سے پہلے پاکستان واپس آنے کےانتظامات کیے جائین