Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • چین میں پھرکورونا کا قہرجاری وطاری،لاکھوں ہلاکتوں کا خدشہ

    چین میں پھرکورونا کا قہرجاری وطاری،لاکھوں ہلاکتوں کا خدشہ

    بیجنگ:چین کو اس وقت دنیا میں کورونا کی بدترین لہر کا سامنا ہے۔چین سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق رواں ماہ دسمبر کے ابتدائی ہفتوں کے دوران چین میں پچیس کروڑ افراد کو کورونا وائرس کا سامنا ہے۔غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ چین میں کورونا پابندیاں نرم کرنے کے بعد کورونا کیسز کی تعداد میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق چین میں آئندہ کچھ ماہ میں کورونا سے دس لاکھ افراد کے جانی نقصان کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔بعض ذرائع نے امریکی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ دسمبر کے دوران چین میں تقریبا پچیس کروڑ افراد کورونا کی زد پر ہیں۔

    چین کے ایک صوبے کا یہ حال ہے کہ کورونا کے یومیہ کیسز کی تعداد 10 لاکھ تک جا پہنچی

    ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال پر اپنے بیان میں چینی صدر چی جن پنگ کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں کورونا کی روک تھام کے حوالے سے نئی صورتحال کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں کورونا کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کے لیے نئے سرے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

    دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ چین میں بیرون ملک سے آنے والے افراد کے لیے کورونا وائرس کے حوالے سے لازمی قرنطینہ پابندی آٹھ جنوری سے ختم کی جا رہی ہے۔بیرون ملک سے آنے والوں کے لیے دوہزار بیس میں قرنطینہ لازمی کیا گیا تھا اور پچھلے ماہ اس کی مدت پانچ روز کر دی گئی تھی۔

    تائیوان اور امریکا کے عسکری تعاون کے جواب میں چین کا اپنی ’جنگی‘ طاقت کا مظاہرہ

    واضح رہے کے تقریبا تین برس قبل شروع ہوئی عالمی وبا کے حوالے سے امریکہ اور چین ایک دوسروں پر الزامات عائد کرتے رہے ہیں اور ہر ایک دوسرے کو کووڈ۔۱۹ نامی اس وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے۔

    یاد رہےکہ کل عالمی ادارے کی طرف سے وارننگ جاری کی گئی تھی کہ چین کے صنعتی صوبے ژجیانگ میں کورونا کے ایک دن میں 10 لاکھ نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور اس تعداد کے دگنا ہونے کے خدشات بڑھ گئے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین میں زیرو کورونا ٹالیرنس پالیسی کے باوجود مہلک وائرس کی نئی لہر انتہائی تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔

    چین میں نیا کورونا ویرئنٹ؛ جسکا پاکستان میں بھی خطرہ. حکام این سی او سی

    شنگھائی کے نزدیک واقع صوبے ژجیانگ میں کورونا کیسز میں اضافے کے باعث لاک ڈاؤن کو مزید سخت کیا جا رہا ہے تاہم حالات کنٹرول سے باہر ہیں۔چین کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ صوبے ژجیانگ میں زیادہ مریضوں میں معمولی علامات ہیں وہ گھر پر قرنطینہ میں ہے جب کہ 13 ہزار 583 اسپتال میں داخل ہیں۔

  • نیٹوکےارادے بتا رہےہیں کہ روس کےخلاف بڑی جنگ لڑی جانےوالی ہے:روس

    نیٹوکےارادے بتا رہےہیں کہ روس کےخلاف بڑی جنگ لڑی جانےوالی ہے:روس

    ماسکو:نیٹوکےارادے بتا رہےہیں کہ روس کےخلاف بڑی جنگ لڑی جانےوالی ہے:اس حوالے سے روسی نیشنل سیکیورٹی کے نائب سربراہ نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سیاسی شکست کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو ایٹمی تباہی اور تیسری عالمی جنگ سے دنیا کو بچانے کے لئے ہر کام کرے گا۔روسی نیشنل سیکیورٹی کے نائب سربراہ دیمیتری مدودف نے اخبار روسیسکا گازتا میں لکھتے ہوئے کہا ہے کہ مغرب کی نیٹو کے پھیلاؤ کی تیاری کا معنیٰ ماسکو کے ساتھ جنگ کی تیاری ہے۔

    یوکرین نے روس کو فروری میں مشروط امن مذاکرات کی پیشکش کر دی

    مدودف نے اپنے مقالے میں لکھا کہ ابھی واضح ہو گیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اینگلوساکسن ممالک کے ساتھ دنیا کے آزاد ممالک کے تعلقات میں اعتماد، شراکت داری، شائستگی کی امید اور خود انہی کی زبان اور اصولوں کے لحاظ سے بات کرنا اب بے معنی باتیں ہیں اور اس موضوع پر تو اب بات نہیں ہوسکتی، اب روس کے پاس ایسا کوئی عنوان اور موضوع نہیں کہ جس کی وجہ سے وہ مغربی ممالک سے مذاکرات کرنا چاہے اور اس کی کوئی دلیل بھی موجودنہیں ہے۔

    مدودف نے مزید لکھا کہ آج روس اور مغربی ممالک کے درمیان اتحاد کے بجائے دوری ہے۔ گزشتہ سال اس حوالے سے بہت اہم تھا اور اس میں جو واقعات ہوئے، ان کی وجہ سے باہمی اعتماد اور احترام کی گفتگو اور مذاکرات کا موقع ختم ہو گیا ہے، مغربی ممالک کے سابقہ اور موجودہ سربراہوں کے کردار اور اعمال سے ان کی مایوسی دیکھنے والی ہے، وہ ایک خونی جنگ کی شروعات کی تیاری کر چکے تھے۔

    سیاحت کی ترقی کیلئے سعودی عرب کے 10 نئے ضوابط جاری

    سابق روسی صدر نے روس اور مغربی ممالک کے درمیان اعتماد کی کم ترین سطح کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک پر اعتماد کا بحران اب آشکار ہو گیا ہے جو روسی اپنے ممالک میں روسی املاک پر قبضہ کر رہے ہیں اور اس پر نئی پابندیاں لگا رہے ہیں، شاید آنے والی کئی دہائیوں تک ہم مغربی ممالک کے ساتھ معمول کے مطابق تعلقات کی بحالی کو فراموش کردیں اور یہ ہمارا انتخاب نہیں ہے۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ مغربی ممالک کا ایک قطبی دنیا کا خواب پورا نہیں ہو سکا جس میں ایک شخص حکومت اور اپنی ارادہ دوسروں پر تھونپ سکتا ہے۔ جدید حالات میں اب مغرب کے پاس کوئی نیا آئیڈیا بھی نہیں ہے جو وہ دنیا کے سامنے پیش کرکے انسانیت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکے اور اس طریقے سے دنیا کی مشکلات اور اجتماعی امن و امان کے مسئلے کو حل کر سکے۔

    شہباز شریف کا عمران خان کیخلاف 10 ارب ہرجانے کا دعوی،سماعت ملتوی

    سابق روسی صدر نے کہا کہ روس دنیا کو ایٹمی تباہی اور تیسری عالمی جنگ سے بچانے کے لئے ہر کام کرے گا، اگر ہمیں روس کے امن و امان کی ضمانت نہ ملی تو کشیدگی غیرمعینہ مدت کے لئے جاری رہے گی اور دنیا تیسری عالمی جنگ اور ایٹمی تباہی کی جانب بڑھتی چلی جائے گی۔اس سے پہلے روسی وزیر خارجہ نے کرنسی لین دین میں ڈالر کے خاتمے کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ جلد ہی مغربی ممالک اپنی اقتصاد کو کنٹرول کرنے اور اس میدان میں دنیا کی رہبری کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔

  • عمران خان کی اگلی آڈیوکس کےساتھ ہے؟دس ایم پی اےغائب:پرویزالہی خطرے میں:عمران خان کی گرفتاری

    عمران خان کی اگلی آڈیوکس کےساتھ ہے؟دس ایم پی اےغائب:پرویزالہی خطرے میں:عمران خان کی گرفتاری

    لاہور:پنجاب میں عدم اعتماد آرہی ہے اور حکومتی اتحاد کے دس بندے غائب ہیں، کیا بنے گا، اس سوال کا جواب دیتےہوئے سنیئر صحافی مبشرلقمان نےکہا کہ ابھی تو دس بندے غائب ہوئے ہیں آگےآگے دیکھئے ہوتا ہے کیا، اور لوگوں کے فون خراب ہوجائیں گے اور پھر وہ غائب ہوجائیں گے ، چوہدری پرویز الٰہی کی کہانی بھی ختم ہوجائے گی ،عمران خان پہلے کے پی کی اسمبلی تو توڑیں ،ان کو ادھر کوکوئی اسمبلی توڑنے نہیں‌دے رہا ادھر کیا بنے گا ،عمران خان بڑا منافق شخص ہے اس کے نفاق کی نشانیاں بیان ہوچکی ہیں مگریہ صرف عقل والے ہی سمجھ سکتےہیں‌

    عمران خان کی گرفتاری کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتےہوئے مبشرلقمان نے کہا کہ عمران خان نے جو کچھ کیا ہے ان کو گرفتار تو ہونا ہے، جنوری کے وسط تک پتہ چل جائے ،عمران خان گرفتار ہوں گے اور پھرآپ دیکھیں‌ گے کہ پنجاب میں‌ عمران خان کی حکومت بھی‌ نہیں‌رہے گی اور جو پولیس آج پروٹوکول دے رہی ہے وہ ہی کہتے کہ آجاو جناب آپ کی گرفتاری کےآرڈر آچکےہیں،ان کا کہنا تھا کہ اس شخص نے جو کچھ کیا ہے اس کی قیمت تو چکانا پڑے گی

    آڈیو اور ویڈیو کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مبشرلقمان نے کہا کہ آج عمران خان کہہ رہا ہے کہ دوسروں کے گناہوں پر پردہ ڈالنا چاہیے،آج ان کو یہ بڑی نیکیاں یاد آرہی ہیں ، وہ وقت بھی یاد کریں‌جب عمران خان نے علما کو علمائے سو کہا،میڈیا والوں کو لفافے کہا،سیاستدانوں کو چور کہا اور پھر پاک فوج کو نہ بخشا ایسا شخص آج اپنے لیے بھلائی کی امید کرتا ہے،ایسا نہیں چلے گا ،رانا ثنااللہ جو کہہ رہے ہیں‌ کہ ایک آڈیو ان کے پاس ہے وہ آئے گی ،وہ کیسی ہوگی رانا ثنااللہ ہی بتا سکتے ہیں ، جو آج اس کی ذمہ داری لے رہےہیں‌

    ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئےمبشرلقمان نے کہاکہ اس شخص نے جو کچھ کیا ہے اس کو بھگتنا پڑے گا، ناجائز بچیاں پیدا کرتا ہے ،اس نے کون سی اخلاقیات کا مظاہرہ کیا آج اخلاقیات کا درس دے رہا ہے

    مبشرلقمان کا کہناتھاکہ کے پی میں‌ امن وامان کی صورت حال خراب کردی گئی ہے ،پولیس اور سی ٹی ڈی جیسے اداروں کی کارکردگی تباہ ہوگئی ہےاور یہ شخص دوسروں کے پیچھے پڑا ہوا ہے، نو دس سال سے یہ کےپی میں‌حکومت کررہاہے،ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مبشرلقمان کا کہنا تھاکہ یہ وہی شخص ہے جو طالبان سے مذاکرات کا ڈھنڈورا پیٹتا رہا، طالبان جیسے دہشت گردوں کے ساتھ روابط اس کے قائم تھے ، آج ان حالات کی وجہ سے کی پی کی صورت حال بہت خراب ہے

    سوشل میڈیا کے پی کے لوگوں کو تنخواہ دی جاتی ہے، کے پی کے لوگوں کو تنخواہیں مل نہیں رہیں، عارف علوی نے پہلے عمران خان کو سلیکٹڈ کہا اب اپنے بیان سے مکر رہا ہے، مبشرلقمان کا کہنا تھاکہ میں نے پہلے کہا تھا کہ یہ صرف دانت سے کیڑا نکال سکتےہیں اور کچھ نہیں‌کرسکتے،یہ شخص کیا کرسکتا ہے،ان کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ میں‌ چند لوگ ہیں وہ ریکارڈ دے سکتے ہیں‌ کہ کس کس نے فائدہ اٹھایا،اسلام آباد ہائی کورٹ سب ریکارڈ لے لے گی

    مفتاح ااسمٰعیل کے حوالے سے ان کا کہنا تھاکہ یہ ن لیگ کے وزیرخزانہ رہ چکے ہیں‌، اب اپنی ہی پارٹی کے خلاف زہراگل رہےہیں، اسحاق ڈار کےخلاف یہ جان بوجھ کر یہ جنگ لڑرہےہیں‌ان کو تو پارٹی سےنکل دینا چاہے تھا ، لیکن کچھ نہیں‌ ہورہا تو یہ باقاعدہ منصوبہ بندی سے کروایا جارہا ہے،ان کا ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھاکہ خواجہ سعد رفیق نے جو کچھ کہا ہے وہ سب جانتے ہیں جہاں تک تعلق ہے حمزہ شہباز کےلیے وزارت اعلیٰ کے امیدوار برقرار نہیں رہ سکتے ، کیا اس ملک کے سب عہدے اس خاندان نے ہی اپنے پاس رکھنے ہیں، لیڈر آف دی اپوزیشن،وزیراعظم ، وزیراعلیٰ‌ ، یہ سب ان کے لیے خاص ہیں ،

    پنجاب کی وزارت اعلیٰ‌ کے حوالےسے مبشرلقمان کا کہنا تھاکہ ان کا لالچ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ پیے عہدے اور سب موجیں یہ خاندان ہی سمیٹے گا، اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے

  • بھارت نے پاکستان اور چین کی سرحدوں پر”خاص”میزائل نصب کردیئے

    بھارت نے پاکستان اور چین کی سرحدوں پر”خاص”میزائل نصب کردیئے

    نئی دہلی :چین اور بھارت کے درمیان ہونے والی حالیہ سرحدی جھڑپوں کے بعد کشیدہ ہوتے حالات میں بھارت نے چینی اور پاکستانی سرحدوں پر ’’پرالے بلیسٹک میزائل‘‘ نصب کرنے کی منظوری دے دی ہے، پرالے کا معنی قیامت یا بہت شدید تباہی بتایا جارہا ہے۔

    ہند چین حالیہ سرحدی تنازعے کے بعد بھارت نے پرالے بلیسٹک میزائل چینی پاکستانی سرحدوں پر نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقامی طور پر تیار کردہ زمین سے زمین تک مار کرنے والا یہ میزائل 100سے 120 کی تعداد میں بھارتی فوج کے حوالے کیا جائے گا۔

    بیرونی اشاروں پر آنیوالی حکومت کے نتائج سے پہلے خبردار کیا تھا،عمران خان

    بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اعلی سطحی وزارت دفاع کے اجلاس میں پرالے میزائل فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا، پہلے مرحلے میں یہ میزائل بھارتی فضائیہ کے حوالے کئے جائیں گے۔ گزشتہ سال اس میزائل کا تجربہ کیا گیا تھا۔

    بھارتی وزارت دفاع کی جانب سے بلیسٹک میزائل کو ٹیکٹکل امور میں استعمال کرنے کی دی جانے والی منظوری کا پہلا واقعہ ہے۔ یہ میزائل 150سے 500 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ بھارت، پاکستان اور چین تینوں ایٹمی صلاحیت کے حامل ممالک ہیں اور تینوں ممالک کے پاس ایک دوسرے پر حملہ، جوابی کاروائی کے لئے فضائی، بحری اور میزائل صلاحیت موجود ہے، گزشتہ کئی دہائیوں سے ان ممالک کے تعلقات میں کشیدگی چلی آرہی ہے اور کسی ایک فریق کی جانب سے چھوٹی سی غلط فہمی خطے کے اربوں انسانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

    پاکستانی لالہ چمن لعل کا منفرد اعزازبین الاقوامی فیلوشپ کی ڈگری لینے والے پہلے…

    کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے پاس 165، بھارت کے پاس 160 اور چین کے پاس 350 ایٹم بم موجود ہیں جو نہ صرف ان ممالک بلکہ آس پاس کے ممالک کو بھی ناقابل برداشت تباہی سے دوچار کر سکتے ہیں۔

  • پاکستان اور افغانستان کو طویل مدت کے لیے قدرتی گیس فراہم کی جا سکتی ہے،روسی نائب وزیراعظم

    پاکستان اور افغانستان کو طویل مدت کے لیے قدرتی گیس فراہم کی جا سکتی ہے،روسی نائب وزیراعظم

    ماسکو: روسی نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کو طویل مدت کے لیے قدرتی گیس فراہم کی جا سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی: روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کو دیئے گئے انٹرویو میں روسی نائب وزیراعظم نے کہا کہ مغرب کو یامل- یورپ گیس پائپ لائن کے ذریعے گیس فراہم کرنے لیے تیار ہیں جبکہ پاکستان اور افغانستان کو بھی طویل مدت کے لیے گیس فراہم کی جا سکتی ہے۔

    جنوبی کوریا کا شہری پیرا گلائیڈنگ کےدوران 50 فٹ کی بلندی سےگرکرہلاک

    نائب وزیراعظم کی جانب سے یہ بات ایک ایسے وقت میں کہی گئی ہے کہ جب پاکستان کو گیس کی شدید قلت کا سامنا ہے اور ملک میں توانائی کا بحران محسوس کیا جا رہا ہے۔

    الیگزینڈر نوواک نے کہا کہ گیس کی قلت کے باعث یورپی مارکیٹ بہت اہم ہے اور ہمارے پاس گیس کی دوبارہ سپلائی کا بھرپور موقع ہے، گیس کی فراہمی کی مثال یامل –یورپ پائپ لائن ہے جو سیاسی اسباب کے باعث بند کئی گئی تھی۔

    روس کے نائب وزیراعظم نے کہا کہ ترکیہ میں مرکز بنانے کے بعد اس کے ذریعے اضافی گیس فراہم کرنے کے لیے بھی روس کی بات چیت جاری ہے، توقع ہے 2022 میں یورپ کو 21 ارب کیوبک میٹر ایل این جی گیس فراہم کی گئی ہو گی۔

    انہوں نے کہا کہ رواں سال ہم نے یورپ کو گیس کی سپلائی بڑھائی ہے، گزشتہ گیارہ ماہ میں 19 ارب 4 کروڑ کیوبک میٹر گیس سپلائی کی گئی جو اس ماہ کے اختتام پر 21 ارب کیوبک میٹر تک پہنچ جائے گی۔

    نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے کہا کہ روس طویل مدت کے لیے افغانستان اور پاکستان کی مارکیٹس کو بھی وسطی ایشیا اور یا پھر ایران کے ذریعے قدرتی گیس فراہم کر سکتا ہے، گھریلو استعمال کے لیے گیس کے استعمال کو بڑھانے کے لیے روس اور آذربائیجان کے درمیان بھی معاہدہ طے پایا گیا ہے۔

    یوکرین جنگ پرمذاکرات چاہتے ہیں، لیکن مغربی ممالک انکار کر رہے ہیں،روسی صدر

    انہوں نے کہا کہ مستقبل میں جب آذربائیجان گیس کی پیداوار میں اضافہ کرے گا تو ہم تبادلے پر بات کر سکیں گے، ماسکو کی جانب سے کازکستان اور ازبکستان کو بھی بڑی مقدار میں گیس سپلائی کرنے کے لیے بات چیت ہو رہی ہے۔

    خیال رہے کہ یامال۔یورپ پائپ لائن مغرب سے جاتی ہے لیکن پولینڈ کی طرف سے جرمنی میں ذخیرہ شدہ گیس پر ڈرائنگ کے حق میں روس سے گیس کی خریداری سے منہ موڑنے کے باعث دسمبر 2021 کے بعد سے اس گیس پائپ لائن کے ذریعے سپلائی منقطع ہے۔

    روسی گیس سپلائر کمپنی گیز پروم نے سپلائی منقطع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ماسکو کی جانب سے یامل۔یورپ پائپ لائن کے پولش سیکشن کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے بعد وہ پولینڈ کے راستے سے گیس سپلائی نہیں کر سکتے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے وفاقی وزیر مملکت سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک کی سربراہی میں ماسکو کا دورہ کیا تھا جس کے دوران روس سے پیٹرول خریدنے کے حوالے سے گفت و شنید ہوئی تھی وفاقی وزیر مملکت برائے پیٹرولیم نے اپنے دورہ روس کو کامیاب قرار دیا تھا جبکہ اس سے قبل پاکستان نے روس سے گندم خریدنے کی بھی منظوری دی تھی۔

    خواتین کے فلاحی تنظیموں میں کام کرنے پر پابندی افغان عوام کیلئے تباہ کن ہو سکتا…

  • خواتین کے کام کرنے پر پابندی، تین فلاحی تنظیموں کا افغانستان آپریشنز معطل کرنے کا اعلان

    خواتین کے کام کرنے پر پابندی، تین فلاحی تنظیموں کا افغانستان آپریشنز معطل کرنے کا اعلان

    کابل:افغانستان کی حکومت کی جانب سے خواتین کو کام نہ کرنے کا حکم دینے کے بعد تین غیر ملکی فلاحی تنظیموں (این جی اوز) نے اپنے آپریشنز معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق غیر سرکاری تنظیموں کے اعلان کے فوری بعد اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار اور این جی اوز نے خبردار کیا کہ افغانستان میں انسانی امداد کو سخت نقصان پہنچے گا۔

    سیو دی چلڈرن، ناورے کی ریفیوجی کونسل اور کیئر نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ہم خواتین عملے کے بغیر افغانستان میں ضرورت مند بچوں، خواتین اور مردوں تک مؤثر طریقے سے نہیں پہنچ سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہمیں اس اعلان کے حوالے سے وضاحت نہیں ملتی، ہم اپنے پروگراموں کو معطل کر رہے ہیں۔مزید بتایا گیا کہ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ افغانستان میں مرد اور خواتین یکساں طور پر جان بچانے والی امداد جاری رکھیں گے۔

    یاد رہے کہ 24 دسمبر کو افغان طالبان نےتمام مقامی اور غیر ملکی فلاحی تنظیموں کو خواتین ملازمین کو کام پر نہ بلانے کی ہدایت جاری کی تھی۔ترجمان وزارت اقتصادیات عبدالرحمٰن حبیب نے بتایا تھا کہ خواتین کے لباس سے متعلق ’اسلامی قوانین‘ پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے تمام افغان خواتین اگلے نوٹس تک کام نہیں کرسکتیں۔

    یہ واضح نہیں ہوسکا تھا کہ افغان طالبان کے حکم کا اطلاق اقوام متحدہ کے زیر انتظام کام کرنے والی این جی اوز پر بھی ہوتا ہے یا نہیں کیونکہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے فلاحی ادارے بڑی تعداد میں کام کررہے ہیں۔اقوام متحدہ کے سربراہ کے نائب خصوصی نمائندے برائے افغانستان رمیز الکباروف نے اے ایف پی کو بتایاتھا کہ اس پابندی سے لاکھوں افراد تک امداد کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوگی، اور ملک کی خستہ حال معیشت پر بھی تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ انسانی امداد کو آزادانہ اور منصفانہ طریقے سے جاری رکھنا بہت مشکل ہو جائے گا، اس کے لیے خواتین کی شرکت بہت اہم ہے۔انہوں نے بتایا تھا کہ ہم اس حوالے سے حکام کے ساتھ بات چیت کریں گے اور پابندی واپس لینے کا مطالبہ کریں گے۔رمیز الکباروف نے اتوار کو بتایا کہ آج فلاحی تنظیموں کے حکام کا اجلاس ہوا، جس میں یہ فیصلہ نہیں ہوسکا کہ آیا تمام این جی اوز اپنے آپریشنز معطل کریں گی یا نہیں۔انہوں نے تسلیم کیا کہ پابندی سے اقوام متحدہ کی امدادی کارروائیوں پر اثر پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پروگرام کی فراہمی کی ہماری صلاحیت اور خوراک اور غیر غذائی اشیا جیسی امداد فراہم کرنے کی ہماری صلاحیت پر براہ راست اثر پڑے گا۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل افغان طالبان نے خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر بھی پابندی عائد کردی تھی جس کے بعد عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی اور افغانستان میں بھی اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔23 دسمبر کو جامعہ الازہرکے امام نے طالبان کے خواتین کی تعلیم پر پابندی کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے اسلامی شریعت سے خلاف قرار دیا تھا۔اسلامی تعلیم کی مشہور جامعہ کے سربراہ شیخ احمد الطیب نے افغانستان میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی پر تشویش کا اظہار کیا اور اس فیصلے کی مذمت کی تھی۔شیخ احمد الطیب نے افغان حکام سے خواتین پر تعلیم کی پابندی کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی درخواست کی، انہوں نے کہا کہ افغان خواتین کو اعلیٰ تعلیم تک رسائی کی پابندی پر جامعہ الازہر کو شدید افسوس ہے۔

  • اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی: رانا ثنااللہ کا ورکرز کنونشن سے خطاب

    اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی: رانا ثنااللہ کا ورکرز کنونشن سے خطاب

    فیصل آباد:وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کا کہنا ہےکہ اسمبلیاں توڑنے کے عمل کو غیر جمہوری اور غیر آئینی سمجھتے ہیں، اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی، 2023 کے الیکشن کی انتخابی مہم کی قیادت نواز شریف کریں گے۔

    فیصل آباد میں مسلم لیگ ن کے ورکرز کنونشن سےخطاب کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت صوبے سے 7،8 ماہ سے غائب ہے، پولیس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، یہ ایک چیز بتا دیں جو انہوں نے ملک کی بہتری کے لیےکی ہو، ہم سی پیک لےکر آئے انہوں نے بند کیا، اگر سی پیک پر عمل درآمد ہوچکا ہوتا تو ملک میں کوئی بے روز گار نہ ہوتا۔

    قیام پاکستان سے ابتک توشہ خانہ میں کون سےتحائف آئےبتایا جائے:درخواست سماعت کےمقرر

    رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے گھر میں بیٹھی مرشد کے ساتھ مل کر توشہ خانہ چوری کیا، یہ جب ہم پر جھوٹے مقدمات درج کرا رہا تھا، اس وقت خود توشہ خانہ چوری کر رہا تھا ، ان کے خلاف اب کیسز بنیں گے۔

    وفاقی وزیرکا کہنا تھا کہ اگر یہ اسمبلیاں توڑتے ہیں تو پھر ہم بھرپور طریقے سے الیکشن لڑیں گے، الیکشن اکتوبر 2023 میں ہوں گے، اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی، 2023 کے الیکشن میں مسلم لیگ ن اکثر یت حاصل کرےگی۔

    مستحق فنکاروں کیلیے امداد 25 ہزار:چوہدری پرویز الٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰہی نے اعلان…

    ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک کو دیوالیہ اور عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں، عمران خان کا وجود ایک فساد و فتنہ ہے، ووٹ کی طاقت سے اس کا قلع قمع کرنا چاہیے، عمران خان نے قوم کو نفرت اور گالیوں کا کلچر سکھایا، اس فتنے کے ہوتے جمہوریت کیسے آگے بڑھ سکتی ہے، اس فتنے کو عوام اپنی ووٹ کی طاقت سے مائنس کرے۔

  • امریکا کی افغانستان سے دہشتگردوں کو روکنے کیلئے پاکستان کو مدد کی پیشکش

    امریکا کی افغانستان سے دہشتگردوں کو روکنے کیلئے پاکستان کو مدد کی پیشکش

    واشنگٹن:امریکا نے افغانستان سے دہشتگردوں کے حملے روکنے کیلئے پاکستان کو مدد کی پیشکش کردی۔اس حوالےسے پاکستان کے وزیرخارجہ بلاول بھٹوزرداری کا کہنا ہے کہ امریکا افغان سرحد سے حملے روکنے کیلئے پاکستان کو فنڈز فراہمی کیلئے تیار ہے۔بلاول بھٹو کے مطابق دورہ امریکا کے دوران انکی امریکی سینیٹر باب مینینڈیز اور لنڈسے گراہم سے اہم ملاقاتیں ہوئیں۔

    دوسری جانب ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نیڈ پرائس کے مطابق افغانستان میں موجود دہشتگردوں نے حال ہی میں پاکستان میں حملوں میں اضافہ کیا ہے۔امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ ”بڑھتے خطرے“ سے نمٹنے کیلئے پاکستان کو مدد کی پیشکش کی ہے، دہشتگردی کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے پاکستان سے تعاون کریں گے۔

    دوسری طرف وزیراعظم شہبازشریف کا کہناہے کہ بلوچستان میں کیپٹن سمیت5 فوجی جوانوں کی شہادت کی خبر دل دہلا دینے والی ہے۔ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔ٹویٹر پیغام میں شہبازشریف نے کہا کہ وطن کیلئے جانیں قربان کرنے والے ہیروز کو قوم خراج عقیدت پیش کرتی ہے، دہشت گردی کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    دوسری جانب وزیرداخلہ راناثنااللہ نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہداء قوم کے ماتھے کا جھومر اور فخر ہیں،قوم ان کے پیچھے کھڑی ہے، دہشتگردی کا پہلے بھی مقابلہ کیا،اب بھی طاقت سے قلع قمع کریں گے۔

  • میری زوجہ محترمہ کا کوئی سوشل میڈیا اکاونٹ نہیں‌ہے:حارث روف

    میری زوجہ محترمہ کا کوئی سوشل میڈیا اکاونٹ نہیں‌ہے:حارث روف

    لاہور:میری زوجہ محترمہ کا کوئی سوشل میڈیا اکاونٹ نہیں‌ہے:حارث روف بھی شرپسندوں کے رویے سے تنگ اگئے،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے فاسٹ بولر حارث رؤف ہفتے کو اپنی کلاس فیلو مزنا مسعود ملک سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ایک طرف ان کوشادی کی مبارکباد کا سلسلہ شروع ہے تو دوسری طرف کچھ شرپسندوں نے ان کی اہلیہ کے حوالے سے پراپیگنڈہ شروع کردیا

    بتایا جارہا ہے کہ سوشل میڈیا پیجز پرحارث روف کی اہلیہ مزنا مسعود کے نام سے فیک اکاونٹ شیئر کرکے ان کی کردر کشی کی کوشش کی گئی تھی ، حارث روف نے اس قسم کا پراپیگنڈہ کرنے والوں کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خدارا اس کو چھوڑ دیں،ان کی اہلیہ اس قسم کی نہی جس قسم کا تصورپیش کیا جارہاہے

     

    بعد ازاں اتوار کو حارث رؤف نے بیگم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے حوالے سے صارفین کو خبردار کیا۔

    سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے حارث رؤف نے کہا کہ ‘ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میری بیگم مزنا مسعود ملک سوشل میڈیا پر نہیں ہیں ،ان کا کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کوئی آفیشل اکاؤنٹ موجود نہیں ہے،کسی بھی دھوکے سے محتاط رہیں’۔

    یاد رہے کہ حارث رؤف کا نکاح اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ہوا، جس میں ان کے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں نے شرکت کی۔

  • اٹل بہاری واجپائی ،شاعربھی وزیراعظم بھی،ادبی شخصیت

    اٹل بہاری واجپائی ،شاعربھی وزیراعظم بھی،ادبی شخصیت

    جنگ نہ ہونے دیں گے
    ہم جنگ نہ ہونے دیں گے

    اٹل بہاری واجپائی

    پیدائش:25 دسمبر 1924ء
    آگرہ
    وفات:16 اگست 2018ء
    آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس، نئی دہلی
    وجۂ وفات:ذیابیطس
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:انڈین، برطانوی ہند
    جماعت:بھارتیہ جنتا پارٹی (1980-2018)
    جن سنگھ
    مادر علمی:چھاتراپتی شاہو جی مہاراج
    پیشہ:سیاست داں، شاعر، صحافی
    اعزازات:
    بھارت رتن (2015)
    نمایاں ماہرِ پارلیمانی امور اعزاز (1994)
    بنگا بیبھوشن (1994)
    پدم وبھوشن
    وزیر خارجہ بھارت
    1977 – 1979
    وزیر اعظم ہند
    16 مئی 1996 – 1 جون 1996
    19 مارچ 1998 – 19 مئی 2004

    ایک تھے اٹل بہاری واجپئی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیدہ مہرافشاں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    آزاد ہند کی ایک قدآورسیاسی شخصیت، سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی ایک مدت صاحبِ فراش رہنے کے بعد آزادی کی 71ویں سالگرہ پر زندگی کی قید سے آزاد ہوگئے۔یہ ان کے جسم کی موت ہوئی۔ ورنہ پارٹی نے تو 2009 کے پارلیمانی چناؤ میں شکست کے بعد ہی ان کوکنارے کردیا تھا اورلوہ پرش کوآگے بڑھادیا تھا۔اس دوران بیشک جسم و جان کی دیکھ بھال تو ہوئی مگران کی سوچ اورطورطریقوں کی پامالی ہی پامالی ہوئی۔ تھے تو وہ بھی سنگھی مگران میں جووضعداری اورسیاسی دوراندیشی تھی، اس کی جھلک بھی موجودہ میں نظر نہیں آتی۔ البتہ ان کی شخصیت کو بھنانے کیلئے ان کے استھی کلش اٹھائے گھوم رہے ہیں۔

    چندسال کے علاوہ اٹل جی کی سیاسی زندگی اپوزیشن میں گزری۔ مگر جواہر لعل نہروسے لے کرڈاکٹرمن موہن سنگھ تک سب نے ان کو مان سمان دیا۔ جب ان کی پارٹی سمٹ کر دوممبران تک رہ گئی تھی تب بھی ان کی بے قدری نہیں ہوئی، جیسا اب اپوزیشن کے ساتھ ہورہا ہے۔ اس لئے سنگھی ہونے کے باوجود باجپئی جی مختلف تھے۔وہ کسی بڑے گھرانے سے نہیںآئے تھے، مگر کبھی پریوار کے پس منظرکو ووٹوں کیلئے بھنایا نہیں۔ہمیشہ سادہ زندگی گزاری ۔ چاہتے تو برانڈڈ کپڑے وہ بھی پہن سکتے تھے اورروز ودیش جاسکتے تھے۔

    ہم نے ان کی خوش مزاجی کے قصے سنے ہیں۔ وہ جب تقریر کرتے توتنقید کا کوئی پہلو چھوڑتے نہیں تھے، مگرکسی پر ذاتی حملہ ان زبان پر کبھی نہیں آیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے سیاسی نظریہ کے مخالف بھی ان کااحترام کرتے ۔ ان کے ہر لفظ، ہر جملے کی داد دیتے تھے۔وہ سیاسی فائدے کیلئے نہ جھوٹ کا سہارالیتے اورنہ سبزباغ دکھاتے۔ ان کی متانت اورسوجھ بوجھ نے ان کو مقبول عام لیڈربنادیا تھا۔ انہی خوبیوں کی وجہ سے ان کو دنیا خراج عقیدت پیش کررہی ہے۔

    اٹل جی 1924میں گوالیار میں ایک برہمن گھر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ’’سرسوتی ششومندر، گوالیار‘‘ سے ہوئی۔انگریزی، ہندی اورسنسکرت میں ڈسٹنکشن کے ساتھ بی اے کیا اورسیاسیات میں فرسٹ ڈویزن میں ایم اے کیا۔ برہمن ہونے کے باوجود و ہ آریہ سماج سے جڑے اورعہدیدار بنے۔ 16سال کی عمرمیں آرایس ایس سے وابستہ ہوگئے ۔ اس کے کارکن (سیوم سیوک) اورمبلغ (پرچارک )رہے۔اسی لئے ان کا نام جہاد آزادی میں نہیں آتا کہ آرایس ایس اس میں حصہ دارنہیں تھی۔ہندستان چھوڑوتحریک کے دوران وہ اپنے گاؤں بٹیشورمیں گرفتارہوگئے مگرجلد ہی معذرت پیش کرکے چھوٹ گئے۔ انہوں نے ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے ہندی ماہنامہ ’’راشٹردھرم‘‘ سے صحافت شروع کی۔ کئی دوسرے اخباروں میں بھی کام کیا اورجب آزادی کے بعد آرایس ایس کے سیاسی بازوکے طور پر ڈاکٹرمکھرجی نے بھارتیہ جن سنگھ بنائی تواس کے بانی ممبروں میں شامل ہوگئے ۔ یہی جن سنگھ بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی بنی۔ مرتے دم تک ان کا یہ رشتہ قائم رہا۔ وہ کوئی چالیس سال پارلیمنٹ کے ممبررہے۔ لوک سبھا کے دس چناؤ جیتے اوردوبارراجیہ سبھا میں گئے۔مرارجی دیسائی کی جنتادل سرکار میں وزیرخارجہ بنے تو چین کے ساتھ رشتوں کی نئی بنیاد ڈالی۔ بحیثیت وزیراعظم انہوں نے پاکستان سے تعلقات بہترکرنے اورکشمیر مسئلہ کو حل کرنے کی جو جرأتمندانہ کوششیں کیں ان کی دوسری مثال نہیں ۔ ان کے نظریہ سے اختلاف کے باوجودان کی ان خدمات کا اعتراف ہونا چاہئے اوربھاجپاکی موجودہ قیادت کویاددلانا چاہئے کہ ’راج دھرم ‘ پرکاربندرہنے کی انکی نصیحت پر کان دھرے۔صرف استھی کلش لئے پھرناکوئی معنی نہیں رکھتا۔

    بیشک انہوں نے پوری لگن سے آرایس ایس کیلئے کام کیا۔ان کاکہنا تھا کہ مرتے دم تک سنگھ کا سیوم سیوک رہوں گا۔سنگھ کا مقصد ہے بھارت کو خالص ہندو راشٹربنانا۔مگرموجودہ سرکار ہندستان کی گنگاجمنی تہذیب اور آپسی بھائی چارہ کو ملیا میٹ کرکے جس طرح کاراشٹربنانا چاہتی ہے،جس میں انسانی جانوں اور قانون کی پامالیوں کی پرواہ نہیں، اٹل جی ہوتے توایسا چاہتے۔اگروہ ایسا چاہتے ہوتے توپاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ نہ بڑھاتے۔ جس کیلئے وہ خود لاہورگئے۔ لاہوردہلی بس سروس ان کی ہی دین ہے۔ انہوں نے کشمیری عوام میں اعتماد کی روح پھونکی۔ گجرات 2002کے فساد پر انہوں نے کہا تھا’ہم ودیشوں میں کیا منھ دکھائیں گے۔‘ان کا یہ کہنا ظاہر کرتا ہے کہ ان کیلئے ایک امن پسند ہندستان کو سب سے زیادہ ترجیح حاصل تھی۔

    بزرگ صحافی جناب حفیظ نعمانی نے لکھا ہے، ’’اٹل جی اگرآرایس ایس کی گرفت میں نہ ہوتے تو پنڈت نہروجیسے قدآورسیکولر ہوتے۔‘اور یہ کہ ’2004میں انہوں نے مسلمانوں کو آواز دی،لیکن موقع پرستوں کے علاوہ کوئی نہیں آیا۔ کیونکہ بات اصل بھاجپا کی تھی، وہ اگراپنے ان آقاؤں کوچھوڑ کر آتے تومسلمان قوم بڑی سیدھی اورجذباتی قوم ہے، وہ ان کو قائد اعظم بنا دیتی۔‘‘

    سب سے بڑی رکاوٹ مسلمانوں کیلئے یہ رہی کہ باجپئی جی نے ایڈوانی جی کی رام رتھ یاترااوررام مندرتحریک کی خاموش تائید کی جس نے ملک کی سیکولربنیادوں کو ہلادیا۔ آپسی بھائی چارے پر کاری ضرب لگائی۔ ٹھیک ویسی ہی ضرب جیسی سردارپٹیل کی پہل اورگاندھی جی کی تائید پر ملک کی تقسیم پر آمادہ ہوکرکانگریس نے لگائی تھی۔ہم اجودھیا سانحہ کیلئے باجپئی جی کو کیا دوش دیں کہ تھے تووہ بھی سیوم سیوک ہی، جس پران کو فخر تھا۔ بی جے پی کو توفسادی ہندوواد چاہئے جس نے ملک کے ماحول کوزہر آلود کررکھا ہے۔ کسی بھی مذہب کاپیروکار خود کو محفوظ نہیں سمجھ رہا ہے۔ اگرایسا ہی چلتا رہا اور2019 میں تبدیلی نہیں آئی تواندیشہ ہے ایک مرتبہ پھرتقسیم وطن کے دور کی سیاہ تاریخ دوہرائی جائیگی۔ یہ سب کچھ بے لگام ستا کیلئے ہورہا ہے۔ یہ نہیں سمجھتے کہ ہٹلر اور سکندر نہیں رہے،اسٹالن اورمسولینی نہیں رہے تو تم کیا رہوگے؟بقول راحت اندوری:
    جو آج صاحب مسند ہیں، کل نہیں ہوں گے
    کرایہ دار ہیں، ذاتی مکان تھوڑی ہے
    انسان کو اقتدار کی ہوس اندھا بنادیتی ہے۔لیکن وہ وقت بھی آتا ہے جب پرچھائی بھی ساتھ چھوڑ جاتی ہے۔ کوئی دل سے رونے والابھی نہیں ملتا۔
    اٹل جی کی زندگی کا ایک رومانی پہلو بڑادلچسپ ہے ۔ انہوں نے سنگھ پرچارک کے اصول پر عمل کیا اورزندگی بھرشادی نہیں کی۔ کربھی لیتے تو مودی جی کی طرح ہوسکتا ہے چھوڑ دیتے ۔ ان کے بارے میں ایک دلچسپ داستان عشق کا ذکرآتا ہے ۔ طالب علمی کی زمانے میں اٹل جی اپنی ایک خوبصورت ہم جماعت راجکماری ہکسرسے قریب ہوگئے۔ یہ قربت دلی تعلق میں بدل گئی۔ جوبات زبان پر نہ آتی وہ انہوں نے خط سے کہی جس کا جواب اگرراجکماری نے لکھا تو، مگراٹل جی کونہیں ملا۔ بات آگے نہیں بڑھی۔ وہ دورتھا ہی ایسا۔ اگرچہ دونوں برہمن تھے مگرراجکماری کا خاندان کشمیری تھا اوراپنے آپ کو زیادہ اعلیٰ برہمن تصورکرتا تھا۔

    1947میں راجکماری کے والدین دہلی آگئے اور راجکماری کی شادی برج نارائن کول سے کردی جو دہلی یونیورسٹی میں فلاسفی پڑھاتے تھے۔ لیکن شادی کے باوجود دوستی کا رشتہ برقرار رہااوربڑھا۔مسزکول اپنے بچوں کے ساتھ اٹل جی کے ساتھ ان کے گھر کی منتظمہ کی طرح رہنے لگیں ۔ ان کی بڑی بیٹی کو اٹل جی نے منھ بولی بیٹی بنا لیا ۔یہ تعلق ایسا تھا جس پرپروفیسرکول نے بھی نہ کبھی اعتراض کیا اورنہ کسی نے چھپایا۔ ابتدائی دورکی محبت کو بھلایا نہیں جا سکتا۔ البتہ شادی کے بعد اس کو نبھانا مشکل ہوتا ہے۔ اٹل جی اور راجکماری نے یہ کردکھایا۔باجپئی کی اس پریم کہانی میں آج کل کے مجنوؤں کیلئے ایک سبق ہے۔ عشق اور محبت کا رشتہ شادی کے رشتہ سے زیادہ پاکیزہ ہوتا ہے۔ سماج کے تانے بانے کو توڑے بغیراوررنجشیں پھیلائے بغیردوستی کے رشتہ کو نبھایا جاسکتا ہے۔

    مجھے اکثر قارئین کے دلی جذبات کا احساس ہے۔ مگرمیں کہتی ہوں اچھا اخلاق، اچھا رویہ اوراچھی تعلیم جہاں سے ملے وہ ہماراگم شدہ اثاثہ ہے۔ اس کو لے لیجیے۔ گلاب کا پھول جس ٹہنی پرلگاہوتاہے، اس میں کانٹے بھی ہوتے ہیں۔ لیکن ان کی وجہ سے پھول کو ٹھکرانہیں دیتے۔ ہمارے دین کی تلقین اورمصلحت کا تقاضا ہے کہ غیروں میں جہاں کچھ اچھا ہے اس کا اعتراف کیجئے ۔ اس لئے ہم اٹل جی کی خوبیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ وہ یقینابھاجپا کی موجودہ قیادت سے لاکھ درجہ بہترتھے۔ ان کیلئے بھی اس میں بڑا سبق ہے۔

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔
    آؤ پھر سے دیا جلائیں
    ۔۔۔۔۔۔
    بھری دوپہری میں اندھیارا
    سورج پرچھائیں سے ہارا
    انترتم کا نیہ نچوڑیں بجھی ہوئی باقی سلگائیں
    آؤ پھر سے دیا جلائیں
    ہم پڑاؤ کو سمجھے منزل
    لکچھ ہوا آنکھوں سے اوجھل
    ورتمان کے موہ جال میں آنے والا کل نہ بھلائیں
    آؤ پھر سے دیا جلائیں
    آہوتی باقی یگیہ ادھورا
    اپنوں کے وگھنوں نے گھیرا
    انتم جے کا وجر بنانے نو ددھیچی ہڈیاں گلائیں
    آؤ پھر سے دیا جلائیں

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔
    جنگ نہ ہونے دیں گے
    ۔۔۔۔۔۔
    ہم جنگ نہ ہونے دیں
    وشو شانتی کے ہم سادھک ہیں جنگ نہ ہونے دیں گے
    کبھی نہ کھیتوں میں پھر خونی کھاد پھلے گی
    کھلیانوں میں نہیں موت کی فصل کھلے گی
    آسمانوں پھر کبھی نہ انگارے اگلے گا
    ایٹم سے ناگا ساکی پھر نہیں جلے گا
    یدھ وہین وشو کا سپنا بھنگ نہ ہونے دیں گے
    جنگ نہ ہونے دیں گے
    ہتھیاروں کے ڈھیروں پر جن کا ہے ڈیرا
    منہ میں شانتی بغل میں بم دھوکے کا پھیرا
    کفن بیچنے والوں سے کہہ دو چلا کر
    دنیا جان گئی ہے ان کا اصلی چہرہ
    کامیاب ہو ان کی چالیں ڈھنگ نہ ہونے دیں گے
    جنگ نہ ہونے دیں گے
    ہمیں چاہیے شانتی زندگی ہم کو پیاری
    ہمیں چاہیے شانتی سرجن کی ہے تیاری
    ہم نے چھیڑی جنگ بھوک سے بیماری سے
    آگے آ کر ہاتھ بٹائے دنیا ساری
    ہری بھری دھرتی کو خونی رنگ نہ لینے دیں گے
    جنگ نہ ہونے دیں گے
    بھارت پاکستان پڑوسی ساتھ ساتھ رہنا ہے
    پیار کریں یا وار کریں دونوں کو ہی سہنا ہے
    تین بار لڑ چکے لڑائی کتنا مہنگا سودا
    روسی بم ہو یا امریکی خون ایک بہنا ہے
    جو ہم پر گزری بچوں کے سنگ نہ ہونے دیں گے
    جنگ نہ ہونے دیں گے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی