واشنگٹن: ناسا نے چاند کا چکر لگانے کے لیے بھیجے گئے اسپیس کرافٹ اوائن کی جانب سے عکس بند کی گئیں چاند کی نئی تصاویر جاری کردیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز امریکی خلائی ادارے ناسا کا اورائن کے ساتھ غیر متوقع طور پر رابطہ منقطع ہوگیا جو 47 منٹ بعد بحال ہوا۔ لیکن آف لائن ہونے سے قبل اسپیس کرافٹ نے چاند کی نئی دلچسپ تصاویر زمین پر بھیجیں۔
مشرقی معیارِ وقت کے مطابق اورائن کے ساتھ رابطہ صبح 1 بج کر 9 منٹ پر منقطع ہوا جس کے بعد ٹیمیں زمین پر مسئلے کو حل کرنے میں لگ گئیں۔ تاہم، مسئلے کے سبب کا تعین کیا جانا ابھی باقی ہے۔اورائن اسپیس کرافٹ نے گڑھوں سے بھرپور چاند کی سطح کی یہ تصاویر چاند سے صرف 130 کلو میٹر کی دوری سے 8210 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گزرتے وقت لیں۔
جمعے کے روز اس اسپیس کرافٹ کا انجن چلایا جائے گا جس سے اسپیس کرافٹ چاند کے گرد مدار میں پہنچ جائے گا۔ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا تو اورائن اس مدار میں آئندہ ایک ہفتے تک رہے گا اور پھر یکم دسمبر کو زمین پر واپسی کا رخ کرے گا۔واپسی پر اس اسپیس کرافٹ کا 11 دسمبر کو 25.5 دنوں کا مشن مکمل کرنے کے بعد بحرالکاہل میں اترنا متوقع ہے۔
راولپنڈی: تحریک انصاف لانگ مارچ کے پیش نظر راولپنڈی کے تمام بڑے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔جبکہ ٹریفک کے لیے متبادل پلان بھی جاری کردیا گیا ہے،اسلام آباد اتنظآمیہ کی طرف سے پیغام میں کہا گیا ہے کہ فیض آباد میں مری روڈ پر ٹریفک کے دونوں اطراف کے لیے ڈائیورشن ہے۔متبادل طور پر اسلام آباد سے راولپنڈی میں داخل ہونے کے لیے پرانی ایئرپورٹ روڈ اور اسٹیڈیم کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایکسپریس چوک اور نادرا چوک سے ریڈ زون کا داخلہ اور باہر جانے کے راستہ بند ہے۔متبادل طور پر مارگلہ روڈ، ایوب چوک اور سرینا چوک کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ اسلام آباد کی تمام سڑکیں ٹریفک کے لیے کھلی ہیں۔
دوسری طرف ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کی جانب سے جاری ہونے والے ہنگامی الرٹ کے بعد چاروں اسپتالوں میں پہلے سے طے آپریشن موخر کردیے جبکہ تمام سرجن ڈاکٹر اور عملے کی چھٹیاں منسوخ کرتے ہوئے انہیں ہر صورت ڈیوٹی پر آنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔
انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اسپتالوں کے آپریشن تھیٹر کو ایمرجنسی کے لیے استعمال کیا جائے گا جبکہ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں بیڈز کی گنجائش کو بڑھا دیا گیا ہے اور ادویات، ضروری آلات، بلڈ بینک میں تمام گروپ کا بلڈ جمع کرلیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کے حکم نامے کی روشنی میں ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف اور دیگر معاون عملے کی چھٹیاں بھی منسوخ کردی گئیں ہیں جبکہ چاروں ہسپتالوں میں ایمبولینس سروس دستیابی کو یقینی بنانے کیلیے اقدامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔
بینظیر بھٹو جنرل اسپتال کے آفیسر وارڈ خالی کرالیا گیا ہے، اسپتالوں میں مسلسل رہنے والے ڈاکٹرز اور عملے کو عارضی رہائش گاہ پر منتقل کردیا گیا ہے جبکہ سینٹرل آکسیجن سسٹم کے مکمل فعال ہونے اور سلنڈرز میں آکسیجن کی موجود گی یقینی بنادی گئی ہے۔
بینظیر بھٹو جنرل اسپتال، ہولی فیملی اسپتال ایمرجنسی الرٹ پر رہیں گے جبکہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال، یورا لوجی انسٹی ٹیوٹ بھی ایمرجنسی الرٹ پر ہونگے۔واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے پنڈی جلسے کے حوالے سے الرٹ جاری کرتے ہوئے پی ٹی آئی سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنا پروگرام منسوخ کردے۔
کراچی: وفاقی جامعہ اردو کی انجمن اساتذہ نے صدر پاکستان و چانسلر وفاقی اردو یونیورسٹی سے اپیل کردی کہ اردو یونیورسٹی میں جاری بحران کا نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔اسی حوالے سے وفاقی جامعہ اردو کی انجمن اساتذہ (عبدالحق کیمپس) نے صدر پاکستان و چانسلر وفاقی اردو یونیورسٹی سے اپیل کردی کہ اردو یونیورسٹی میں جاری بحران کا نوٹس لیں اور مسائل کے حل میں اپنا آئینی کردار ادا کریں۔
انجمن اساتذہ کے جنرل سیکریٹری روشن علی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اردو یونیورسٹی میں سلیکشن بورڈ 2013 اور 2017 کے تحت تقرر کیے گئے اساتذہ کو گزشتہ پانچ ماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی گئی اور 30 سے زائد اساتذہ آج کی مہنگائی کے دور میں بغیر تنخواہوں کے اپنے تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ سلیکشن بورڈ کے تحت ترقی پانے والی اساتذہ کی بھی اب تک پے فکسیشن نہ ہونے کے باعث انہیں سابقہ عہدوں کی ہی تنخواہیں ادا کی جارہی ہیں جو سراسر زیادتی ہے۔
سینیٹ کے خصوصی اجلاس منعقدہ 15 ستمبر 2022 میں صدر پاکستان و چانسلر نے ہدایت کی تھی کہ پے فکسیشن کے تمام معاملات فوری طور پر جائزہ کے لیے ایچ ای سی ارسال کیے جائیں اور چیئرمین ایچ ای سی کو پابند کیا تھا کہ وہ یہ جائزہ ایک ہفتہ کے اندر مکمل کر کے یونیورسٹی کو واپس بھجوائیں تاکہ اساتذہ کو نئی تنخواہیں دی جا سکیں۔ جس کے بعد اب 2 ماہ گزرنے کے باوجود اس پر اب تک کوئی مثبت پیش رفت نہ ہونا بھی تشویش کا باعث ہے۔
روشن علی کا کہنا تھا کہ نئے منتخب ہونے والے لیکچرار کو بھی اب تک تقرر نامے جاری نہیں کیے گئے جبکہ اب تک 2013 اور 2017 کے باقی ماندہ سلیکشن بورڈ کا انعقاد بھی نہیں کیا گیا جس کے باعث ترقیوں کے حقدار اساتذہ انصاف کے منتظر ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان مسائل کے حل میں اب بظاہر کوئی رکاوٹ دکھائی نہیں دیتی، انجمن اساتذہ نے قائم مقام شیخ الجامعہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی تمام توجہ محض تبادلوں اور پوسٹنگ سے ہٹا کر اساتذہ کے مذکورہ دیرینہ اور جائزمسائل کے حل میں اپنی اہم ذمہ داری ادا کریں ۔
اسلام آباد:کیمبرج اسسمنٹ انٹرنیشنل ایجوکیشن نے پاکستان میں آؤٹ اسٹینڈنگ کیمبرج لرنر ایوارڈز کے فاتحین کا اعلان کر دیا ہے۔یہ ایوارڈز جون 2022 کے کیمبرج امتحان میں پاکستان میں طلباء کی شاندار تعلیمی کامیابیوں کا ثبوت ہے۔ بہت سے اسکول اپنے طلبہ کی کامیابیوں کا جشن منانے کے لیے انفرادی ایوارڈز کی تقریبات کا انعقاد بھی کریں گے۔
مجموعی طور پر پاکستان میں 277 طلباء نے کیمبرج کے امتحانات میں غیر معمولی کارکردگی پر 304 ایوارڈز حاصل کیے، جن میں 40 طلباء جنہوں نے کیمبرج کے امتحان میں دنیا میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے اور 43 طلباء جنہوں نے ایک مضمون میں پاکستان میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے تھے۔آؤٹ اسٹینڈنگ کیمبرج لرنر ایوارڈ پروگرام دنیا بھر کے 40 سے زیادہ ممالک میں کیمبرج کے امتحانات دینے والے امیدواروں کی کامیابی کا ثبوت ہے۔
کیمبرج انٹرنیشنل طلبہ کو اپنے بین الاقوامی تعلیمی پروگراموں اور قابلیت کے مرکز میں رکھتا ہے جو تعلیمی سوچ میں بہترین سے متاثر ہوتے ہیں۔ کنٹری ڈائریکٹر پاکستان، کیمبرج اسسمنٹ انٹرنیشنل ایجوکیشن عظمیٰ یوسف نے جون 2022 کیمبرج امتحانی سیریز میں پاکستان کے طلباء کو ان کی تعلیمی کامیابیوں پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بے حد خوشی ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایوارڈز طلبہ کی قابلیت اور محنت کی عکاسی کرتے ہیں اور اساتذہ اور والدین دونوں کی لگن اور عزم کو تسلیم کرتے ہیں۔
ہم امید کرتے ہیں کہ تعلیمی کامیابی کا یہ اعتراف سیکھنے والوں کو مستقبل میں ان کی تعلیم اور کیریئر میں حوصلہ افزائی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایوارڈز ان سیکھنے والوں کی کامیابیوں کا بھی جشن مناتے ہیں جنہیں ‘اعلیٰ کامیابی’ کے لیے تسلیم کیا گیا ہے۔
ان مضامین میں شاندار کارکردگی کی بنیاد پر جو پاکستان میں ابھی تک اتنے بڑے پیمانے پر نہیں لیے گئے اور ایسے طلبہ جنہوں نے متعدد مضامین میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے ہیں۔ جیتنے والوں نے دنیا بھر کے ہزاروں امیدواروں کو پیچھے چھوڑ دیا جنہوں نے جون 2022 سیریز میں کیمبرج او لیولز، کیمبرج IGCSEs اور کیمبرج انٹرنیشنل AS&A لیولز کے امتحانات میں شرکت کی تھی۔
لاہور: پنجاب کے دارالحکومت میں ای چالان کیلئے نصب کیمرے آپریشنل نہ ہونے کے باعث شہر میں روزانہ ای چالان کی تعداد 12 ہزار سے کم ہوکر 2 ہزار تک رہ گئی، جس سے صوبائی حکومت کو کروڑوں روپے کا نقصان ہونے لگا۔ذرائع کے مطابق پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ای چالاننگ کےلیے نصب کیمرے آپریشنل نہ ہونے سے خزانہ کو بڑا نقصان ہونے لگا، شہر میں روزانہ ای چالاننگ کی تعداد 12 ہزار سے کم ہوکر 2 ہزار تک رہ گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ای چالاننگ کے کیمرے نان آپریشنل ہونے کی وجہ سے سالانہ 1 ارب کا نقصان ہوا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیف سٹیز اتھارٹی کی جانب سے حکومت کو بار بار آگاہ کیا گیا لیکن حکومت کی جانب سے غیر ملکی کمپنی کے ساتھ معاملات میں تاخیر کی وجہ سے نقصان 1 ارب تک پہنچ گیا۔
حکام کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ای چالاننگ کے آغاز سے اب تک 2 ارب 90 کروڑ سے زائد کے 80 لاکھ سے زائد ای چالان کئے گئے، لیکن کیمروں میں خرابی کے باعث ای چالاننگ میں کمی کا سامنا ہے۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ غیر ملکی کمپنی کے ساتھ آپریںشنز اینڈ مینٹینینس کے معاملات حتمی مراحل میں ہیں۔
یاد رہے کہ لاہور کی طرح اسلام آباد میں بھی کئی مقامات پر کیمروں کے خراب ہونے کی اطلاعات ہیں جسکی وجہ سے جرائم پیشہ افراد پر نطررکھنا مشکل ہوجاتا ہے ، ملک بھر میں سیکورٹی کی صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے جدید کیمروں کی انسٹالینشن بہت ضروری قرار دی گئی ہے
لاہور:سید تسنیم حیدرشاہ سے ہمارا کوئی خاندانی تعلق نہیں:مشیروزیراعلیٰ پنجاب کے بھتیجے کی لندن میں پریس کانفرنس ،اطلاعات کے مطابق وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی کے مشیر عدیل شاہ کے بھتیجے سید شجاع عباس نے لندن میں پریس کانفرنس کی ہے اور سید تسنیم حیدر شاہ کے دعووں کو بے بنیاد قرار دیا ہے
۰اطلاعات کے مطابق چند دن قبل لندن میں مبینہ طور پر اپنے آپ کو لندن ن لیگ کے ترجمان کے طور پر متعارف کروانے والے اور ارشد شریف کے قتل اور عمران خان پر وزیرآباد میں حملے کے ماسٹر مائنڈ نوازشریف کوقراردینے والے سید تسنیم حیدر شاہ کے بارے میں مزید انکشافات سامنے آئے ہیں،
اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ مشیروزیراعلیٰ پنجاب عدیل شاہ کے بھتیجے سید شجاع عباس نے لندن میں پریس کانفرنس کی ہے ، جس میں انہوں نے تسنیم حیدر شاہ کی طرف سے قریبی رشتہ داری کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ سادات ضرور ہیں لیکن ان کے ساتھ ہمارا کوئی خونی تعلق نہیں ہے ،
لندن میں پریس کانفرنس کے دوران جب عدیل شاہ کے بھتیجے سید شجاع عباس نے اپنے چچا سے فون پر جب یہ بات کہ سید تسنیم حیدرشاہ کہتے ہیں کہ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کوسید عدیل شاہ کو مشیر وزیراعلی پنجاب بنانے کی درخواست کی تھی تو سید عدیل شاہ نے یہ دعویٰ مسترد کردیا اورکہا کہ ہماری اپنی سیاسی حیثیت اور قوت ہے ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں
ایسے ہی سید تسنیم حیدرشاہ کے دوسرے دعوے کی نفی کرتے ہوئے عدیل شاہ کے بھتیجے سید شجاع عباس نے کہا ہے کہ سید تسنیم حیدرشاہ سینیئر صحافی مبشرلقمان کے پروگرام میں یہ کہنا ہے کہ سید عدیل شاہ کو مشیروزیراعلیٰپنجاب میری درخواست پر لگایا گیا ہے تو اس کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی غلط ہے ، اس کی اپنی کوئی سیاسی بیک گراونڈ نہیں ہے ، وہ ہمارے کے لیے کیا کرسکتا ہے ، جبکہ میرے داداسید طالب حسین شاہ ہماری ابائی یونین کونسل معین الدین پورسیداں کے بلامقابلہ 20 سال سے زائد عرصہ چیئرمین رہے ،اب میرے والد سید عقیل شاہ اس کونسل کے چیئرمین ہیں
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ مدینہ پور سیداں سے ہیں اور ہم معین الدین پورسے ہیں ، جو یہ دعویٰ کہ پرویز الہی نے ان کے کہنے پر بنایا اس وجہ سے بھی بے بنیاد ہے کیونکہ ہمارا خاندان اس علاقے سے پچھلے 30 ، 35 سال سے سیاست میں ہے ، ہماری اپنی سیاسی حیثیت ہے ،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک طرف سید تسنیم حیدر شاہ کاکہنا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی نے میرے اوپر قتل کے پرچے کروائے ہیں اور دوسری طرف یہ کہنا ہےکہ اس کی سفارش پر میرے چچا کو مشیربنادیا گیا ، یہ ایک غیرمعقول دعوی ہے ،
صحافیوں کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سید شجاع عباس کا کہنا تھا کہ تسنیم حیدر شاہ فیس بک پر تو بڑے مشہور ہیں ، اس کے علاوہ ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ، وہ اپنے آپ کو کسی انجمن سادات کے رکن اور ممبر کہتے ہیں ، سادات جو بھی ہیں ان کا ایک دوسرے سے اس نسبت سے تعلق تو ضرور ہے مگرمیرا اس سے کوئی تعلق نہیں
یاد رہے کہ لندن میں سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف پر عمران خان پر وزیر آباد میں ہونیوالے حملے اور کینیا میں ارشد شریف کے قتل کے حوالے سے الزام عائد کرنے والے سید تسنیم حیدر شاہ کے حوالے سے اہم حقائق سامنے آئے ہیں ۔سید تسنیم حیدر شاہ جو کہ چھیمے شاہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، امریکہ بھی چار سال سے زائد عرصہ تک رہے جس کے بعد پاکستان اور پھر لندن منتقل ہو گئے
سید تسنیم حیدر شاہ عرف چھیمے شاہ کا تعلق مدینہ سیداں ، گجرات سے ہے ۔ ان کے والد کا نام سید اکرم شاہ تھا جو کہ خاندانی دشمنی میں قتل ہوئے تھے ۔ان کے والد اسلامیہ سکول گجرات کے ہیڈماسٹر تھے ۔ ان کے چچا سید اعظم شاہ ایڈوکیٹ ہائی کورٹ بھی گجرات کچہری میں قتل ہوئے تھے ۔سید تسیم حیدر شاہ کے خاندان کے اہم ارکان پر بھی قتل کے الزامات ہیں۔
لاہور:علی ظفر کا خواجہ سراؤں کو بھی اسٹائل ایوارڈز دینے کا مطالبہ ،اطلاعات کے مطابق علی ظفر نے لکس اسٹائل ایوارڈز کی انتظامیہ سے درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے سال ٹرانس جینڈر کمیونٹی کیلئے بھی خصوصی اچیومنٹ ایوارڈز رکھے جائیں۔
پاکستانی اداکاروں اور فنکاروں کے اعزاز میں لکس اسٹائل ایوارڈز کے 21 ویں ایڈیشن کی رنگا رنگ تقریب لاہور ایکسپو سینٹر میں منعقد ہوئی جس میں شوبز انڈسٹری سے وابستہ بڑے ناموں نے شرکت کی۔
اس تقریب میں شریک ہونے والوں میں سجل علی، صبور علی، عائزہ خان، حدیقہ کیانی، عروہ حسین، میرب علی، دنا نیر، صائبہ، علیزے ناصر، سنگیتا، انجمن، حمائمہ ملک، احمد علی اکبر، فیروز خان، بلال عباس، علی انصاری، جان رینبو جبکہ گلوکاروں میں عاصم اظہر، علی ظفر اور نتاشہ بیگ شامل تھے۔
لکس اسٹائل ایوارڈز میں گلوکار علی ظفر کو سال کے بہترین گلوکار کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ایوارڈ وصول کرتے وقت علی ظفر نے سب کا شکریہ ادا کیا، ساتھ ہی انہوں نے خواجہ سراؤں کیلئے بھی آواز اٹھائی۔
علی ظفر کا کہنا تھا کہ ہم اداکار تو نظروں میں آتے رہتے ہیں، ہمیں تو شہرت ملتی رہتی ہے مگر خواجہ سراؤں کو ان کے حقوق دینا، انہیں قبول کرنا بے حد ضروری ہے، میں چاہتا ہوں کہ انہیں بھی اعزاز دیا جائے۔
علی ظفر نے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ اگلے لکس اسٹائل ایوارڈز میں خواجہ سراؤں کے لیے بھی مخصوص ایوارڈز رکھے جائیں۔
استبنول:پاکستان اور ترکی کو قابل تجدید توانائی کے حصول کیلئے مل کر کام کرنا ہو گا،وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ دفاعی قوت کو امن کیلئے مستحکم کررہے ہیں۔
استنبول میں پی این ایس خیبر تھری کی لانچنگ تقریب سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر آپ امن سے رہنا چاہتے ہیں تو جنگ کیلئے بھی تیار رہنا ہوگا۔
شہبازشریف نے کہا کہ مجھے اپنے دوسرے گھر کا دورہ کرنے میں بڑی خوشی ہے، آج کا دن ہمارے تاریخی تعلقات کے حوالے سے عظیم ہے۔ ترکیہ ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکیہ ماحولیاتی آلودگی کیلئے ملکر کام کرسکتے ہیں، پاکستان،ترکیہ کو قابل تجدید توانائی کے حصول کیلئے ملکر کام کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھرکی طرح پاکستان کو بھی توانائی بحران کا سامنا ہے اور پاکستان قابل تجدید اور سستی توانائی ذرائع کیلئے اقدامات کررہا ہے۔شہبازشریف نے کہا کہ آج دنیا کو بہت سے تنازعات کا سامنا ہے، پاک، ترکیہ تعلقات وقت کیساتھ مزیدمضبوط ہوں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ طیب اردوان کی زیر قیادت ترکیہ ایک جدید فلاحی ریاست بن چکا ہے، ترک صدر کے ویژن کے باعث ترکیہ ماڈرن سوسائٹی میں تبدیل ہوا۔
اس موقع پر ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکیہ کے گہرے برادرانہ اور تاریخی تعلقات ہیں، دوطرفہ دفاعی تعاون باہمی تعلقات کا بنیادی ستون ہے۔رجب طیب اردوان نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے متحد ہیں، دہشت گردوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر گامزن ہیں۔
کراچی: شہر قائد کی مقامی عدالت نے پڑھائی نہ کرنے پر بیٹے کو زندہ جلانے والے باپ کی ضمانت منظور کرلی۔ذرائع کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ غربی نے پڑھائی نہ کرنے پر باپ کی جانب سے 12 سالہ بیٹے کو زندہ جلانے کے مقدمے میں ملزم کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ سنایا اور ضمانت منظور کرلی۔عدالت نے ملزم نذیر کو ایک لاکھ روپے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیدیا۔
مدعی کے وکیل کے مطابق عدالت نے تفتیشی افسر کو رپورٹ مکمل کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ ملزم نے اپنے بیٹے کو آگ لگا کر قتل کیا تھا۔
مقتول کی والدہ نے کہا تھا کہ ملزم نذیر پہلے بھی بیٹے کو آگ لگانے کی دھمکیاں دے چکا تھا، میں اپنے بیٹے کا کیس ہر حال میں لڑوں گی، ورنہ روز محشر میں بیٹا مجھ سے پوچھے گا۔
پولیس کے مطابق پڑھائی نہ کرنے پر باپ نے 12 سالہ شہیر پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگادی تھی۔ ملزم کے خلاف اس کی اہلیہ اقبال مارکیٹ تھانے میں مقدمہ درج کرایا تھا۔
بچے نے اپنے والد سے پتنگ اڑانے کی ضد کی تھی۔ جب باپ نے بچے پڑھائی کا پوچھا تو وہ کوئی جواب نہیں دے سکا جس پر باپ نے طیش میں آکر بیٹے پر پیٹرول چھڑکا اور اُس کو آگ لگا دی تھی۔
لاہور:سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے اپنے کپتان عمران خان کے بارے میں دلچسپ انکشاف کیا ہے۔ وسیم اکرم نے ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ عمران خان نے ایک بار مجھے ایک جزیرے پر اکیلا چھوڑ دیا تھا۔
سابق سٹار بائولر نے بتایا کہ عمران خان کو ایئر پورٹ پر اپنی ایک خاتون دوست سے ملنے جانا تھا، جہاں وہ مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ ان کی اس خاتون دوست کے پاس ذاتی جہاز تھا۔ وہ ہمیں 45 منٹ کی پرواز کے بعد ایک جزیرے پر لے گئی۔ وہاں پہنچ کر عمران خان مجھے اکیلا چھوڑ کر اپنی خاتون دوست کے ساتھ چلے گئے اور ہمیں جنوبی امریکی جزیرے کے درمیان اکیلا چھوڑدیا جہاں سے میں ہوٹل واپس بھی نہیں جاسکتا تھا۔
وسیم اکرم نے ایسا ہی ایک اور واقعہ یاد کرتے ہوئے بتایا کہ یہ میرے کیریئر کے شروع کے دنوں کی بات ہے۔ میرے وہ دن عمران خان کے ساتھ بہت دلچسپ گزرے۔ ایک بار انہوں نے مجھے کہا کہ چلو نائٹ کلب چلتے ہیں۔
نائٹ کلب پہنچ کر عمران خان نے دودھ آرڈر کیا کیونکہ انہوں نے کبھی ڈرنک نہیں کی تھی۔ وہاں عمران خان کو لڑکیوں کے ساتھ ہاتھ ملاتے دیکھ کر میں حیران رہ گیا تھا۔پوڈ کاسٹ کے میزبان سے گفتگو کرتے ہوئے وسیم اکرم نے مزید بتایا کہ عمران خان بہت سخت کپتان تھے مگر گرائونڈ کے باہر وہ بہت مذاق بھی کیا کرتے تھے۔