Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • آج دنیا بھر میں ٹریفک حادثات سے متاثرہ افراد کی یادکا عالمی دن

    آج دنیا بھر میں ٹریفک حادثات سے متاثرہ افراد کی یادکا عالمی دن

    لاہور:آج دنیا بھر میں ٹریفک حادثات سے متاثرہ افراد کی یادکا دن عالمی طور پر منایا جارہا ہے،تفصیلات کے مطابق اس دن کا مقصد ٹریفک حادثات کی وجوہات اور غلطیوں سے سبق سیکھنا ہے جس کے لئے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں شہریوں کو ٹریفک قوانین سے آگاہی دی جارہی ہے‘

    تفصیلات کے مطابق آج دنیا بھر میں ٹریفک حادثات سے جاں بحق اور زخمی افراد کی یاد کا عالمی دن منایا جارہا ہے اس دن کو منانے کے لئےآج لاہور ٹریفک پولیس بھی تقریباًت کا انعقاد کر رہی ہے۔

    اس دن کا مقصد نہ صرف ٹریفک حادثات میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت کرنا ہے بلکہ اس دن کا مقصد ٹریفک حادثات کی وجوہات اور غلطیوں سے سبق سیکھنا بھی ہے۔

    حادثات ٹریفک قوانین کی پاسداری نہ کرنے کا نتیجہ ہیں۔حادثات قسمت میں نہیں بلکہ ہماری غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کیوجہ سے رونماں ہوتے ہیں۔

    دہشت گردی سے زیادہ جانیں ٹریفک حادثات میں ضائع ہورہی ہیں اور70 سے 80 فیصد حادثات ڈرائیور کا ٹریفک قوانین کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ پانچ سے دس فیصد حادثات دیگر روڈ یوزرز کی غلطی کی وجہ سے رونماں ہوتے ہیں تاہم گاڑی میں مکینکل خرابی، ٹائروں کا درست حالت میں نہ ہونا بھی حادثات کا سبب بنتا ہے ۔

    صرف یہ ہی نہیں بلکہ نامناسب روڈ انفراسٹرکچر بھی حادثات کا باعث بنتا ہے۔ حادثات میں سب سے زیادہ 21 سے 30 سال کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد شامل ہے اس حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں شہریوں کو ٹریفک قوانین سے آگاہی دی جارہی ہےاور انہیں بتایا جارہا ہے کہ محفوظ سفر کےلئے قوانین کا احترام کتنا ضروری ہے۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • حسینہ معین:کردار اوراقدار میں حسینہ:اب بھی بہت یاد آتی ہیں

    حسینہ معین:کردار اوراقدار میں حسینہ:اب بھی بہت یاد آتی ہیں

    لاہور:پاکستانی ڈراما نگاری کی کہکشاں سے ایک روشن ستارہ تھیں،حسینہ معین کو سب حسینہ آپا بھی کہتے تھے کیونکہ وہ اس قدر شفقت اور محبت سے لبریز لہجے میں گفتگو کرتی تھیں کہ کوئی وجہ نہ ہوتی کہ ان سے ذاتی تعلق نہ بنا لیا جائے۔ وہ پورے پاکستان کی حسینہ آپا تھیں۔ ان کی ذاتی زندگی اور پیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں تصور کیا جائے تو یہ 10، 20 برسوں کی بات نہیں بلکہ نصف صدی پر پھیلا ہوا سلسلہ ہے۔ انہیں دیکھنے کے بعد ہمیں سمجھ آتا ہے کہ کسی فن کے لیے اپنی زندگی کو تج دینا کیا ہوتا ہے اور کسی پیشے کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کردینے کی قربانی کیا ہوتی ہے۔

    حسینہ معین 20 نومبر 1941ء کو غیر منقسم ہندوستان کے شہر کانپور میں پیدا ہوئیں اور 26 مارچ 2021ء کو کراچی میں انتقال کیا۔ انہوں نے ابتدائی زندگی کے چند برس ہندوستان میں گزارے، پھر اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان ہجرت کرکے راولپنڈی میں سکونت اختیار کی۔ چند برسوں کے بعد 1950ء کی دہائی میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کراچی منتقل ہوگئیں۔ 1960ء میں گورنمنٹ کالج برائے خواتین سے گریجویشن کیا اور جامعہ کراچی سے 1963ء میں تاریخ کے موضوع پر ماسٹرز کی سند حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرتے ہی وہ تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگئیں۔ طویل عرصہ خدمات انجام دیں اور پرنسپل کے عہدے تک پہنچیں۔

    ریڈیو پاکستان سے لکھنے کا پیشہ ورانہ آغاز کیا۔ ریڈیو پاکستان کے مشہور زمانہ پروگرام ’اسٹوڈیو نمبر 9‘ کے لیے صوتی کھیل لکھے۔ ڈراما نگاری کے حوالے سے ان کی زندگی میں ڈرامائی موڑ تب آیا جب 1969ء میں پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز سے انہیں ایک ڈراما لکھنے کی پیشکش کی گئی۔ معروف شاعر افتخار عارف اسکرپٹنگ کے شعبے کے سربراہ تھے، انہوں نے حسینہ آپا کو راغب کیا کہ وہ ڈراما نگاری کریں۔ انہوں نے اس وقت عید کے لیے ایک خصوصی کھیل ’عید کا جوڑا‘ لکھا جس کے مرکزی کرداروں میں نیلوفر علیم اور طلعت حسین تھے جبکہ معاون کرداروں میں عشرت ہاشمی اور خالد نظامی تھے۔ یہ ڈراما بہت پسند کیا گیا۔

    انہوں نے اسی دور میں کچھ ڈرامے تھیٹر کے لیے بھی لکھے جو اسٹیج بھی ہوئے، مگر بہت جلد ان کی پوری توجہ ٹیلی وژن کے لیے ڈراما نگاری کی طرف ہوگئی۔ 1970ء کی دہائی سے لے کر اگلے 40 برس تک وہ ٹیلی وژن کے لیے ڈراما نگاری کرتی رہیں اور بے پناہ شہرت سمیٹی۔ ان کی پہلی ڈراما سیریل ’شہزوری‘ تھی جس کو انہوں نے مرزا عظیم بیگ چغتائی کے ناول سے ماخوذ کیا تھا۔ اس ڈراما سیریل نے شہرت کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ اس کے بعد حسینہ معین پاکستان میں ایک مقبول ڈراما نگار بن چکی تھیں۔

    حسینہ معین کا شمار ایسے قلم کاروں میں ہوتا تھا، جن کی وجہ شہرت کتاب نہیں بلکہ ریڈیو اور ٹیلی وژن کا میڈیم رہا۔ انہوں نے پاکستان میں ادبی رجحان کی ایک نئی جہت کو متعارف کروایا۔ وہ جہت ٹیلی وژن کے لیے ’اصل اسکرپٹ‘ تخلیق کرنا تھا۔

    ماضی میں ریڈیو پاکستان کی حد تک تو اسکرپٹ کا عمل دخل تھا، مگر پاکستان ٹیلی وژن شروع ہوا تو ابتدائی طور پر جتنے ڈرامے بنائے گئے ان کی بنیاد پاکستانی ناول نگاروں کے لکھے ہوئے ناول ہوتے تھے۔ ان ناولوں سے کہانیاں ماخوذ کرکے انہیں ڈرامائی تشکیل دی جاتی تھی۔ پہلی مرتبہ حسینہ معین نے کسی کہانی کو ماخوذ کیے بنا، ٹی وی کی ضرورت کے مطابق، اسکرین کے پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے اوریجنل اسکرپٹ لکھا اور اس پر کامیاب ڈراما بنا، اس ڈرامے کا نام ’کرن کہانی‘ تھا۔ پاکستانی ٹیلی وژن کے لیے یہ ان کا دوسرا ڈراما تھا۔

    اس کے بعد سے حسینہ معین نے بے شمار کہانیاں تخلیق کیں، اور وہ سب اسکرپٹس کی شکل میں تخلیق ہوئیں۔ کبھی ان اسکرپٹ کردہ کہانیوں کے ذریعے اسٹیج پر کھیل پیش کیے گئے، تو کبھی ان کو ریڈیو اور کبھی فلم کے پردے پر نشر کیا گیا۔ انہوں نے تھیٹر، ریڈیو اور پھر ٹیلی وژن کے لیے بے شمار ڈرامے لکھے، صرف یہی نہیں بلکہ ٹیلی وژن کے لیے ٹیلی فلمیں بھی لکھیں۔ مختلف مواقع پر خصوصی طور پر لکھے گئے ڈراموں کی روداد الگ ہے۔ 40، 50 سال پر محیط ان کی پیشہ ورانہ زندگی، ان کے لکھے گئے ڈراموں، طویل دورانیے کے کھیلوں، ٹیلی فلموں اور فیچر فلموں کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

    ڈراما سیریل کی فہرست
    حسینہ معین کے لکھے گئے ڈراموں میں ’شہزوری’، ’کرن کہانی’، ’انکل عرفی’، ’زیر زبر پیش’، ’پرچھائیاں’، ’ان کہی’، ’تنہائیاں’، ’دھوپ کنارے’، ’رومی’، ’بندش’، ’دُھند’، ’بالائے جان’، ’آہٹ’، ’پڑوسی’، ’کسک’، ’تان سین’، ’قہار’، ’جانے انجانے’، ’پل دو پل’، ’دیس پردیس’، ’آنسو’، ’دی کیسل’، ’ایک امید’، ’شاید کہ بہار آئے’، ’تیرے آجانے سے’، ’میرے درد کو جو زباں ملی’، ’تم سے مل کر’، ’اک نئے موڑ پر’، ’کیسا یہ جنون، آئینہ’، ’چھوٹی سی کہانی’، ’کشمکش’، ’تنہا’، ’سارے موسم اپنے ہیں’، ’تنہائیاں نئے سلسلے’، ’میری بہن مایا’، ’انجانے نگر’ اور ’محبت ہوگئی تم سے’ شامل ہیں۔

    حسینہ معین 26 مارچ 2021ء کو 79 سال کی عمر میں کراچی میں حرکت قلب بند ہونے سے وفات پاگئیں۔ حسینہ معین کو ان کی وفات سے پہلے، 22 مارچ 2021ء کو کورونا وائرس ویکسین کی پہلی خوراک دی گئی تھی۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • کراچی:شوہر نے بیوی کو چھری کے وار کر کے قتل کر دیا

    کراچی:شوہر نے بیوی کو چھری کے وار کر کے قتل کر دیا

    کراچی: قصبہ موڑ اسلامیہ کالونی میں شوہر نے بیوی کو چھری کے وار کر کے قتل کر دیا اور فرار ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق پیرآباد کے علاقے قصبہ موڑ اسلامیہ کالونی پراچہ اسپتال کے قریب گھر میں جھگڑے کے دوران تیز دھار آلے کے وار سے ایک خاتون زخمی ہوگئی،

    اس حوالے سےپولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمی خاتون کو ایدھی ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں خاتون دوران علاج خون زیادہ بہہ جانے کے باعث زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئی۔

    جاں بحق ہونے والی خاتون کی شناخت 50 سالہ یاسمین زوجہ صابری کے نام سے کی گئی۔ ورثا نے پولیس کارروائی کروانے سے انکار کر دیا اور لاش گھر لے گئے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ کو اس کے شوہر نے گھریلو جھگڑے کے دوران چھری کے وار سے کر کے قتل کیا اور موقع سے فرار ہوگیا، مقتولہ کی لاش کے ہمراہ آنے والے درجنوں افراد شدید مشتعل تھے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے لانڈھی مسلم آباد میں 8 سالہ بچی کے اغواء اور قتل کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور اطلاعات کے مطابق اس سلسلے میں تفیشی ٹیم نے 10 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا

    کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر ان کا ڈی این اے کرایا جائے گا، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے ایک پھر جائے وقوعہ کا دورہ کیا ہے

    ایس ایس پی ملیر نے بچی کے والد کو ابتدائی تفیش سے آگاہ کیا ،اس کے ساتھ ساتھ فرانزک کرائم ٹیم نے شواہد جمع کرکے لیبارٹری روانہ کردئیے ،مقدمہ کے انداج اور غفلت برتنے پر ایس ایچ او سمیت 3 افسران کو معطل کردیا گیا،

    ایس ایس پی ملیرعرفان بہادرکا کہنا تھا کہ لواحقین کی ہر ممکن مدد کرنے اور تفتیش میں کسی بھی صورت لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی،

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • بلوچستان، تین ماہ کے تعطل کے بعد آج سے ٹرین سروس بحال

    بلوچستان، تین ماہ کے تعطل کے بعد آج سے ٹرین سروس بحال

    لاہور:بلوچستان میں مون سون بارشوں اور سیلاب کے باعث تین ماہ سے تعطل کا شکار ٹرین سروس آج سے بحال کر دی جائے گی۔ریلوے حکام کے مطابق بلوچستان سے تین ماہ بعد آج پہلی ترین پشاور کیلئے روانہ ہوگی جوکہ جعفر ایکسپریس مچھ اسٹیشن سے پشاور تک جائے گی۔

    ریلوے حکام نے بتایا کہ مسافروں کو کوئٹہ اسٹیشن سے مچھ اسٹیشن ٹرانسپورٹ کے ذریعے پہنچایا جارہا ہے، 10 بوگیوں پر مشتمل ٹرین آج 11 بجے مچھ سے روانہ ہوگی، کوئٹہ تا مچھ ریلوے کا رابطہ منقطع ہے۔

    ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ بولان کے علاقے میں سیلاب کے باعث ریلوے ٹریک پل سیلاب میں بہہ گیا تھا، پل کی تعمیر کا کام جنوری میں مکمل ہوگا۔

    خیال رہے کہ بارشوں کے باعث بولان ریلوے ٹریک پل بہہ جانے کی وجہ سے ریل سروس 3 ماہ سے معطل تھی۔ترجمان ریلوے نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ عوام ایکسپریس آج بحال نہیں ہو رہی، آج 20 نومبر کو اب صرف ایک ٹرین جعفر ایکسپریس بحال کی جائے گی۔

    ترجمان نے کہا کہ جعفر ایکسپریس پشاور سے مچھ کے درمیان چلے گی، مچھ سے کوئٹہ کے درمیان مسافروں کو بسوں کے ذریعے پہنچایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ ریلوے نے پہلے بہاؤالدین زکریا ایکسپریس کو 20 نومبر کو بحال کرنے کا اعلان کیا تھا، اب بہاؤالدین زکریا ایکسپریس کے بجائے جعفرایکسپریس کو بحال کیا جائے گا۔

    چند روز قبل چیف ایگزیکٹو ریلوے اور فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر آف ریلوے کی مختلف سیکشنز کی سالانہ انسپکشن کا نیا شیڈول جاری کر دیا تھا۔

    چیف ایگزیکٹو ریلوے سلمان صادق شیخ اور ایف جی آئی آر راولپنڈی، کراچی اور سکھر ڈویزن کی انسپکشن کریں گے، جس کا عمل تین مرحلوں میں 21 نومبر سے 21 دسمبر تک جاری رہے گا جبکہ پاکستان ریلوے انتظامیہ نے اس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق پہلے مرحلے میں 21 نومبر کو لالہ موسیٰ سے راولپنڈی 157 کلو میٹر ٹریک کی انسپکشن کی جائے گی جبکہ 22 نومبر کو کندیاں، خوشاب، سرگودھا 130 کلو میٹر ٹریک کی انسپکشن کی جائے گی۔

    اس کے علاوہ دوسرے مرحلے میں 5 دسمبر کو کھوکھرا پار سے میر پور خاص تک 126 کلو میٹر ٹریک کی انسپکشن کی جائے گی جبکہ 6 دسمبر کو کراچی اور 7 دسمبر کو کراچی کینٹ سے حیدر آباد 173 کلو میٹر ٹریک کی انسپکشن ہو گی۔نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا کہ تیسرے مرحلے میں 20 دسمبر کو خانپور سے روہڑی تک 212 کلو میٹر ٹریک کی انسپکشن کی جائے گی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق 21 دسمبر کو سکھر سے جیکب آباد تک 80 کلو میٹر ٹریک کی انسپکشن ہوگی جبکہ معائنے کے دوران ٹریک، ریلوے اسٹیشنوں کی عمارات، پل سمیت دیگر تنصیبات کا جائزہ لیا جائے گا۔

    خیال رہے کہ انسپکشن کے دوران مختلف ریلوے اسٹیشنوں کی آمدن اور وہاں مسافروں کو دی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا جائے گا جبکہ ریلوے افسروں اور ملازمین کی ڈیوٹیوں اور ان کے کام کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • موسمیاتی تبدیلوں سے متاثرہ ملکوں کے نقصانات کے ازالے کیلئے فنڈ قائم کرنے پراتفاق

    موسمیاتی تبدیلوں سے متاثرہ ملکوں کے نقصانات کے ازالے کیلئے فنڈ قائم کرنے پراتفاق

    شرم الشیخ:پاکستان کی کوششیں کے بعد موسمیاتی تبدیلوں سے متاثرہ ملکوں کے نقصانات کے ازالے کے لیے اقوام متحدہ کے تحت فنڈ قائم کرنے پر اتفاق کر لیا گیا۔

    اقوام متحدہ کے تحت کوپ 27 اجلاس میں ماحولیاتی نقصان کے ازالے کے لیے فنڈ قائم کرنے پر اتفاق ہو گیا، مصر کے شہر شرم الشیخ میں دو ہفتے سے جاری کانفرنس میں پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک نے مالدار اور آلودگی پھیلانے والے ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ انھیں پہنچنے والی تباہی کی تلافی کی جائے، دو ہفتوں کے مذاکرات کے بعد مطالبہ منظور کر لیا گیا۔

    اس سے پہلے خبر ایجنسی سے گفتگو میں وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان کا کہنا تھا کہ معاہدہ ہو جاتا ہے تو یہ کمزور لوگوں کے لیے ایک مثال ہو گا، کمزور متحد ہو جائیں تو ناممکنات کی رکاوٹیں بھی ختم کر سکتے ہیں۔

    مصرمیں ماحولیاتی چیلنج سے نمٹنے کیلئے جاری کوپ27 کانفرنس میں یورپی یونین کی جانب سے ماحولیاتی چیلنج سے نمٹنے کا مسودہ مسترد کر دیا گیا ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق کانفرنس میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی سے متعلق امور پراختلافات آخری وقت تک برقرار ہیں۔

    کانفرنس میں گلوبل وارمنگ ایک اعشاریہ پانچ ڈگری تک محدود رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے تاہم گیسوں کے اخراج میں کمی کی یقین دہانی میں تاحال کوئی کامیابی نہیں ہو پائی ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق ماحولیاتی سانحات کا شکار ترقی پذیرملکوں کو فنڈ دینے کے معاملے پر بھی اختلافات سامنے آئے ہیں، فنڈز کی کمی اور نقصان فنڈ پر بات طے ہوگئی مگر مندوبین نے تاحال اس کی توثیق نہیں کی۔ساتھ ہی ماحولیاتی آلودگی پھیلانے پر رقم دینے والے امیر ممالک کا تعین کرنے کیلئے بھی شرائط طے نہیں ہوسکی ہیں۔

    فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون کا کہنا ہے کہ واحد فنڈ کے قیام کی تجویز نامناسب اور ناکافی ہے، جب مشکل درپیش ہو تو فنڈ قائم کیا جاتا ہے۔مصر میں جاری ماحولیاتی کانفرنس میں تاحال یہ فیصلہ نہیں ہو پایا کہ فنڈ کی گورننس کون کرے گا اور رقم کون ادا کرے گا؟

    واضح رہے کہ مصرمیں 2 ہفتے سے جاری کوپ 27 کانفرنس میں تقریباً 2 سو ممالک کے مندوبین شریک ہیں۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • وکلا حکومت کے سامنے ہاتھ پھیلائیں گے تو آزاد نہیں رہیں گے:جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    وکلا حکومت کے سامنے ہاتھ پھیلائیں گے تو آزاد نہیں رہیں گے:جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    کراچی: سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ وکلا کو حکومت کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا چاہیے، حکومت سے پیسے لیں گے تو آپ آزاد نہیں ہوں گے اور حکومت جو آپ کو پیسہ دے رہی ہے وہ عوام کے ٹیکس کا ہے۔

     

     

    تقریب سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ اداروں پر تنقید نہ کریں شخصیات پر تنقید کریں، جب ہم نے آئین کا دامن چھوڑا تو ملک دو لخت ہوا۔

     

    علاوہ ازیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 950 پیراگراف پر مشتمل ایک فیصلہ تھا جس پر شرمندگی ہوتی ہے، اس فیصلے میں وزیر اعظم کو سزا موت سنائی گئی، ججز کو کسی کے دباؤ میں آکر سزائے موت نہیں دینا چاہیے۔

     

    انہوں نے کہا کہ ملک کا ہر شہری عدلیہ کی آزادی چاہتا ہے، عدلیہ کا کام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، وکلا کا لہو پاکستان کا تحفظ کرتا ہے، ہمیں سوال کرنے کا حق دیں ہھر آپ ہمارے فیصلے پر بھرپور تنقید کریں۔

     

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کا کہ میں نے سوائے ایک کے توہین عدالت کا کوئی کیس نہیں سنا، آپ کو حق ہے آپ مجھ سے سوال جواب کرسکتے ہیں، میرے کیس کے بعد وومن ایکشن فورم کہا کہ ججز اثاثے ظاہر کریں، میں نے اور اہلیہ نے اپنے اثاثے ظاہر کردیے۔

     

    انہوں نے کہا کہ ججز ترقی پر وزیر قانون اور اٹارنی جنرل کا پہلےاور بعد کا موقف مختلف تھا، اس کے متعلق دلائل نہیں دیے گئے، شاید کچھ پریشر ہو؟، افسران سے گاڑیاں واپس لی جائیں تو پبلک ٹرانسپورٹ اچھی ہوجائے گی۔

     

    اس موقع پر جسٹس (ر) مقبول باقر نے کہا کہ آئین و قانون کی حکمرانی پر مبارکباد دینے کی خواہش ہے، ہم 75 برس سے ایسا نہیں کرسکے، یہ سب غیر سیاسی قوتوں کی نظام میں مداخلت ہے، اس کی ذمے داری سیاسی لوگوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔

     

    انہوں نےکہا کہ ہم خوشحال معاشرہ قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں،ملک میں جمہوری عمل کو کبھی پنپنےنہیں دیا گیا،بینظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ بروقت نہیں ہوا اور وہ غیر موثر ہوگئیں۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • کراچی یونیورسٹی کانباتاتی باغ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا

    کراچی یونیورسٹی کانباتاتی باغ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا

    جامعہ کراچی میں گزشتہ 15 برس قبل سائنسی بنیادوں پر قائم کیا گیا پاکستان کا پہلا نباتاتی باغ ”بوٹینیکل گارڈن“حکام کی عدم توجہی اورفنڈز کی شدید قلت کے سبب اپنی سائنسی افادیت کھورہا ہے۔جامعہ کراچی کے مرکزی داخلی دروازے سے شروع ہوکر کیمپس گیٹ سے کئی ایکڑرقبے پر محیط اس بوٹینیکل گارڈن ’سائنسی پارک‘ کے داخلی اورسامنے کے حصے آرائش کے ساتھ دیکھ بھال کی کوششیں تو جاری رہتی ہیں تاہم گارڈن کاعقبی حصہ بنجر زمین یامستقبل کے کسی جنگل کی ابتدائی شکل پیش کررہاہے۔

    واضح رہے کہ یہ بوٹنیکل گارڈن کئی ملین روپے کی مالیت سے قائم کیا گیا۔ اسی طرح پلانٹ کنزرویشن ایریا میں اے وی پلانٹ خراب ہونے کے سبب برباد ہوگیا ہے یہاں محفوظ کیے گئے پودے اب مفقود ہیں جبکہ مذکورہ ایریا اوراس کااے سی پلانٹ کھنڈرات کامنظرپیش کررہا ہے۔

    کچھ عرصے قبل جب ان سے فون پر رابطہ کرکے نباتاتی باغ کی موجودہ صورتحال اوراس کے مختلف سیکشن کے بتدریج ختم ہونے کے متعلق سوال کیا گیا تھا تو ڈاکٹر روحی کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے اسی سال 23 مئی کوجوائنگ دی یہاں فنڈنگ کامسئلہ رہا ہے‘۔ اس حوالے سے انتظامیہ کوایک تفصیلی خط بھی دیا ہے جس میں مسائل کی جانب نشاندہی کی گئی ہے۔

    ڈاکٹرروحی نے دعوی کیا تھا کہ انھوں نے آنے کے بعد نرسری ایریا کودوبارہ فعال کیا ہے جواس سے قبل بند پڑی تھی جبکہ ہم مزید میڈیسن پلانٹ لگوارہے ہیں“۔

    واضح رہے کہ بوٹنیکل گارڈن کے ایک مخصوص حصے میں ”پلانٹ کنزرویشن ایریا“ قائم کیاگیاتھا جس میں پاکستان کے دوردراز علاقوں سے ایسے پودے لاکریہاں محفوظ کیے گئے تھے جوایک مخصوص درجہ حرارت کے بغیرنشونما نہیں پاسکتے اوراس کے لیے پلانٹ کنزرویشن ایریا میں باقاعدہ طورپر اے سی پلانٹ لگائے اورمتعلقہ پودوں کومخصوص درجہ حرارت پررکھاجاتا تھا۔

    سابقہ وائس چانسلرزکے دورمیں اے سی پلانٹ کی ”مرمت“ نہ ہونے کے سبب یہ پلانٹ خراب ہوگیا۔ جس کی وجہ سے اے سی اور جنریٹرز ناکارہ ہوگئے اور کنزرویشن ایریا کوسایا فراہم کرنے والا نٹ بھی تارتارہوکراپنی جگہ چھوڑگیا جس کے بعد ملک کے مختلف حصوں سے لائے گئے پودے بھی ختم ہوگئے اب وہاں ناکارہ اے سی پلانٹ اورکنزرویشن ایریا کا ٹوٹا پھوٹا آئرن اسٹریکچراس بات کی گواہی دیتا ہے کہ کبھی وہاں کنزرویشن ایریا موجود تھا۔

    اس کنزرویشن ایریاسے آگے بڑھیں توگارڈن یکایک کسی اجاڑیا جنگل کانقشہ پیش کرنے لگتا ہے اورمزید آگے جاکریہ معلوم ہوتا ہے کہ مزید آئرن اسٹریکچراورنیٹ کی چھت کے ساتھ قائم کیے گئے حصے بھی بربادی کاشکارہیں وہاں ماضی میں رکھے گئے پودے موجودنہیں گھاس کی جگہ اب جھاڑیوں نے لے لی ہے۔

    یادرہے کہ جامعہ کراچی کے بوٹنیکل گارڈن کاپروجیکٹ ایچ ای سی کی جانب سے سن 2005میں منظورہواتھا اوراس کا باقاعدہ قیام سن 2007میں عمل میں آیاجب ستمبر2007کواس وقت کے گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العبادخان نے اس کاافتتاح کیا۔یہ پروجیکٹ معروف نباتاتی محقق اورجامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرمحمد قیصر کا اقدام تھا جواس وقت پاکستان کے معروف بوٹنیکل جرنل کے مدیربھی ہیں۔

    واضح رہے کہ جامعہ کراچی کانباتاتی باغ ایچ ای سی کی جانب سے ملنے والے تقریباً 3 کروڑروپے کے فنڈزسے قائم کیا گیا تھا جس میں ”سلائن ایریا“ میں نشونما پانے والے پودوں کے ساتھ ساتھ ”الپائن پلانٹس،میڈیسن پلانٹ اورہیلوفائیٹ“ بھی محفوظ کیے گئے تھے جبکہ پھل داردرختوں کیلیے ایک علیحدہ حصہ مختص کیا گیا تھا۔ جس میں آم سمیت دیگرپھل داردرخت موجود تھے جس ختم ہوگئے۔ بتایاجارہاہے کہ آم کے پودوں کی ایک بارپھرکاشت کی گئی ہے۔

    ادھر وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ عمومی طور پر سائنسی و تحقیقی منصوبوں کے لیے ہمارے لوگ ایچ ای سی گرانٹ تو لے آتے ہیں جس سے ایک بار منصوبہ شروع ہوجاتا ہے تاہم اسے جاری رکھنے اور مسلسل تحقیق کے لیے علیحدہ گرانٹ کا بھی ہیڈ ہونا چاہیے جسے پی ون میں شامل ہی نہیں کیا جاتا پھر ان منصوبوں کا بوجھ جامعات پر آجاتا ہے جیسا اس منصوبے میں ہوا ہے جبکہ موجودہ مالی صورتحال اور گرانٹ میں توسیع نہ ہونے سے ایسے منصوبے چلانا بھی کسی چیلنج سے کم نہیں ہے

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • پشاور:اسٹریٹ لائٹس کے فقدان کے باعث اسٹریٹ کرائمز میں اضافہ

    پشاور:اسٹریٹ لائٹس کے فقدان کے باعث اسٹریٹ کرائمز میں اضافہ

    پشاور:قتل، چوری ، ڈکیتی اور اغوا سمیت دیگر جرائم میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، شہر میں رواں سال اب تک 390 افراد قتل ہو چکے ہیں۔

    پولیس نے جرائم میں اضافے کی وجہ اسٹریٹ لائٹس کے فقدان کو بھی قرار دیا ہے جب کہ میئر پشاور کا کہنا ہےکہ جلد اسٹریٹ لائٹس کی جلد شروع کریں گے۔

    پشاور میں اندرون شہر کے اکثر علاقوں میں اسٹریٹ لائٹس نہ ہونے یا پھر خراب ہونے کے باعث گلیاں ، محلے اور کوچے اندھیرا چھاتے ہی تاریکی میں ڈوب جاتے ہیں جس سے نہ صرف شہریوں کو آمدورفت میں دقت کا سامنا رہتا ہے بلکہ راہزن بھی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شہریوں کو لوٹتے ہیں۔

    پشاور میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اسٹریٹ کرائمز بڑھ رہے ہیں اور پولیس بھی جرائم میں اضافے کی وجہ اسٹریٹ لائٹس کے فقدان کو قرار دے رہی ہے۔

    پولیس کے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ 6 ماہ کے دوران اندرون شہر کے مختلف علاقوں میں 5 ہزار سے زیادہ شہریوں سے موبائل فونز اور نقدی چھینی گئی۔

    پشاور میں رواں سال اب تک 390 افراد قتل ہو چکے ہیں جب کہ ڈکیتی کی 282 اور چوری کی 248 وارداتیں رپورٹ ہوئی ہیں، چوری ہونے والی 70 فیصد گاڑیاں منشیات کی اسمگلنگ اور باقی دہشت گردی اور ڈکیتی میں استعمال ہو رہی ہیں۔

    اندرون شہر میں جہاں اسٹریٹ لائٹس کا فقدان ہے وہیں سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب نہیں کیے گئے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے راہزن واردات کے بعد باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • لنکا پریمیئر لیگ کا شیڈول جاری، پہلا میچ 6 دسمبر کو ہوگا

    لنکا پریمیئر لیگ کا شیڈول جاری، پہلا میچ 6 دسمبر کو ہوگا

    کراچی: سری لنکا کے ٹی 20 ٹورنامنٹ لنکا پریمیئر لیگ کا آغاز 6 دسمبر کو ہمبنٹوٹا میں ہوگا۔ افتتاحی میچ دفاعی چیمپئن جافنا اور گال کے درمیان سہ پہر 3 بجے کھیلا جائے گا۔

    ٹورنامنٹ کا پہلا راؤنڈ 20 میچز پر مشتمل ہوگا جو ہمبنٹوٹا میں کھیلا جائے گا جس کے بعد کینڈی اور کولمبو میں مقابلے ہوں گے۔ آخری راؤنڈ کے مقابلے بھی کولمبو میں آر پی آئی سی ایس میں کھیلے جائیں گے۔

    لیگ کا فائنل 23 دسمبر کو کولمبو کے آر پی آئی سی ایس میں کھیلا جائے گا جبکہ پہلا کوالیفائر اور ایلیمنیٹر 21 دسمبر کو ہوں گے۔
    ناک آؤٹ راؤنڈ میں ٹیموں اور کھلاڑیوں کے لئے کوئی وقفہ نہیں ہے کیونکہ دوسرا کوالیفائر 22 دسمبر کو ہوگا۔

    سری لنکا پریمیئر لیگ سری لنکا کا سب سے بڑا مقامی ٹورنامنٹ ہے جو بین الاقوامی خصوصیت کے ساتھ 24 میچز پر مشتمل ہوگا جس میں صف اول کے مقامی اور بین الاقوامی کرکٹرز شرکت کریں گے۔

    ٹورنامنٹ میں پاکستان کے شعیب ملک کے علاوہ ایون لیوس، کارلوس بریتھ ویٹ، جینمین ملان، ڈوین پریٹوریس، ڈی آرسی شارٹ اور دیگر کھلاڑی شامل ہیں۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • پاکستان کے پہلےکاروباری اعلیٰ تعلیمی ادارے،ایکسٹریم کامرس کالج کوہائیرایجوکیشن کمیشن نےتسلیم کرلیا

    پاکستان کے پہلےکاروباری اعلیٰ تعلیمی ادارے،ایکسٹریم کامرس کالج کوہائیرایجوکیشن کمیشن نےتسلیم کرلیا

    کراچی: پاکستانی نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے انٹرپرینیورشپ کو سب سے اہم فیکلٹی کے طور پر ترجیح دیتے ہوئے، ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان (ایچ ای سی) نے ملک کے پہلے کاروباری اعلیٰ تعلیمی ادارے، ایکسٹریم کامرس کالج کو تسلیم کیا ہے۔

    ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اپنے نوٹیفکیشن نمبر 14(131)/A&A/Acc/HEC-2022 کے ذریعے ایکسٹریم کالج کامرس (ECC) اور اس کی قابلیت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔ اس کے ذریعے ای سی سی کے طلباء قومی سطح پر تسلیم شدہ بین الاقوامی قابلیت سے مستفید ہوں گے۔ یہ پہچان طلباء کے لیے دستیاب مواقع اور گیٹ ویز کو بڑھاتی ہے۔

    اکیڈمک علم اور ایک کامیاب پیشہ ورانہ کیریئر میں فرق کو ختم کرنے کے مقصد کے ساتھ، ایکسٹریم کامرس کالج کا قیام پاکستانی طلباء اور نوجوان افرادی قوت کو ایک کاروباری اور اختراعی ذہنیت کو فروغ دینے کے لیے پرورش کا ماحول فراہم کرنے کے لیے کیا گیا تھا، اس طرح ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ اپنی مکمل صلاحیتوں کا ادراک کر سکیں۔ ممکنہ، استعداد. کالج کمانے اور بااختیار ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو تعلیم دینے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ ہنر پر مبنی سیکھنے اور قابلیت کو بروئے کار لا کر حاصل کیا جاتا ہے۔

    ملک میں ایک اہم کاروباری اعلیٰ تعلیمی ادارہ (HEI) ہونے کے ناطے، ECC کالج میں قیام کے دوران تمام طلباء کو تکمیلی انکیوبیشن پلس ای کامرس کی ساختی تربیت فراہم کرتا ہے۔ کالج طلباء کو عملی اور تجرباتی سیکھنے کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے، جہاں صنعت کے ماہرین اور کاروباری افراد ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کے بارے میں اپنے علم کا اشتراک کرنے کے لیے دستیاب ہیں۔

    ایکسٹریم کامرس کی وژنری قیادت انسانی سرمائے میں موجود زبردست قومی صلاحیت کو تلاش کرنے میں کامیاب رہی اور وہ پاکستان کو عالمی ای کامرس مارکیٹوں کے لیے بیک آفس اور تکنیکی خدمات کا عالمی مرکز بنانے کے اپنے وژن کے لیے انتھک محنت کر رہی ہے۔

    ایکسٹریم کامرس کالج پاکستان کا پہلا کاروباری اعلیٰ تعلیمی ادارہ ہے جو ایکسٹریم کامرس اور آکسفورڈ کے انڈیپنڈنٹ بزنس سکول کے مشترکہ منصوبے کے طور پر وجود میں آیا ہے۔ مستقبل کے تعلیمی اور انکیوبیشن ہب کے طور پر ECC کا مقصد پوسٹ گریجویٹ قابلیت اور مہارت پر مبنی سیکھنے کے لیے سستی پری یونیورسٹی کے مکمل اسپیکٹرم کو تیار کرنا اور پھیلانا ہے، جو عالمی معیار کی بین الاقوامی قابلیت سے مکمل ہو۔

    ای سی سی ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ کے لیے ملک کا سب سے بڑا ادارہ ہے جس کی توجہ ای کامرس اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر ہے۔ اس کا صدر دفتر کراچی میں ہے، جس میں آٹھ مختلف شہروں میں سیٹلائٹ انکیوبیشن کیمپس ہیں، جو ملک بھر کے طلباء کو ایڈجسٹ کر سکتے ہیں اور عالمی سطح پر Extreme Commerce کی آن لائن کمیونٹی کے ذریعے 10 لاکھ سے زیادہ ای کامرس ماہرین اور کاروباری افراد کے ساتھ نیٹ ورکنگ کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا