کراچی:نیگلیریا سے ایک اور نوجوان زندگی کی بازی ہارگیا ،اطلاعات کے مطابق کراچی میں دماغ خور جرثومے سے 28 سالہ نوجوان انتقال کرگیا، ڈیفنس فیز 4 کا رہائشی مزمل علی چند روز قبل سوئمنگ پول میں نہایا تھا۔ رواں برس شہر قائد میں نیگلیریا امیبا سے یہ پانچویں ہلاکت ہے۔
جناح اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر شاہد رسول کے مطابق چند روز قبل کراچی ڈیفنس فیز 4 کے رہائشی نوجوان کو تیز بخار اور غنودگی کی حالت میں جناح اسپتال لایا گیا تھا، جس کی حالت کو دیکھتے ہوئے نیورولوجی وارڈ میں داخل کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق نجی لیبارٹری سے ٹیسٹ کے نتیجے میں نوجوان میں نیگلیریا امیبا کی تشخیص ہوئی تھی، متاثرہ نوجوان کے گھر والوں کے مطابق چند روز قبل وہ نجی سوئمنگ پول میں نہایا تھا، جس کے بعد مزمل کو بخار ہوا، الٹی، شدید سر درد اور غنودگی کی سی کیفیت طاری ہوگئی۔
اسپتال حکام کے مطابق نوجوان چند روز جناح اسپتال میں زیر علاج رہا اور انتقال کرگیا۔ محکمہ صحت سندھ کے مطابق نیگلیریا سے رواں برس کراچی میں ہونے والی یہ پانچویں ہلاکت ہے۔
سندھ میں 2011ء میں نیگلیریا سے ایک، 2012ء میں 9، 2013ء میں 3، 2014ء میں 14، 2015ء میں 12، 2016ء میں 3، 2017ء میں 6، 2018ء میں 7، 2019ء میں 15، 2020ء میں 8، 2021ء میں 7 اور 2022ء میں اب تک 5 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔
سندھ میں نیگلیریا کا مرض منظر عام پر آنے کے بعد سے اب تک 90 اموات رپورٹ ہوچکی ہیں، جن میں سے 86 متوفین کا تعلق کراچی سے تھا۔
طبی ماہرین کے مطابق نیگلیریا کو برین ایٹنگ امیبا یعنی دماغ خور جرثومہ بھی کہتے ہیں اور اس کا شکار ہونیوالے 98 فیصد افراد انتقال کرجاتے ہیں۔
نیگلیریا فاؤلیری عام طور پر سوئمنگ پولز، ندیوں اور جھیلوں میں موجود ہوتا ہے اور انسانوں میں Primary Amebic Meningoencephalitis (PAM) نام کے ایک مہلک دماغی انفیکشن کا سبب بنتا ہے، سندھ میں ہونیوالی زیادہ تر اموات کی وجہ پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدار کا شامل نہ ہونا ہے۔
دماغی و اعصابی بیماریوں کے ماہر پروفیسر عبدالمالک کے مطابق اگر بغیر کلورین ملے پانی میں موجود جرثومہ انسان کی ناک کے ذریعے دماغ تک پہنچ جائے تو یہ تیزی سے دماغ کو کھانا شروع کردیتا ہے، اس کی علامات ایک ہفتے بعد ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں اور دو یا تین ہفتے میں متاثرہ شخص انتقال کرجاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عموماً انسان کے انتقال کے بعد اس بیماری کی تشخیص ہوپاتی ہے یا اس وقت تشخیص ہوتی ہے جب انسان کے بچنے کے امکانات بالکل ختم ہوجاتے ہیں۔
اس بیماری کی علامات میں سر درد، بخار، متلی، الٹی، گردن میں اکڑن، تبدیل شدہ ذہنی کیفیت، فریب نظر، کوما، الجھن، لوگوں اور اردگرد کے ماحول پر توجہ نہ دینا، توازن کا کھو جانا، دورے پڑنا اور بعض اوقات بھری ہوئی ناک شامل ہیں۔اس جرثومے سے متاثر 98 فیصد افراد انتقال کرجاتے ہیں۔
لاہور:پنجاب حکومت نے راولپنڈی کی سابق تحصیل مری کو ضلع بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، ضلعی ہیڈ کوارٹر مری اور کوٹلی ستیاں کے درمیان پرہینا کے مقام پر ہوگا۔
پنجاب کا مشہور و معروف سیاحتی مقام مری جو کل تک راولپنڈی کی تحصیل تھی، اسے ضلع کا درجہ دے دیا گیا۔ پنجاب حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کردیا، 690 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا نیا ضلع کوٹلی ستیاں اور مری کی 2 تحصیلوں پر مشتمل ہوگا، دونوں تحصیلوں میں 22 یونین کونسلز شامل ہوں گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب کے نئے ضلع کا ڈسٹرکٹ کمپلیکس مری اور کوٹلی ستیاں کے درمیان پرہینا کے مقام پر 128 کنال کے رقبے پر بنایا جائے گا، ڈسٹرکٹ کمپلیکس کا فاصلہ مری سے 17 جبکہ کوٹلی ستیاں سے 19 کلومیٹر ہے۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت کو ضلع مری کیلئے 22 نئے ادارے بنانے ہوں گے، 3 ہزار 612 نئی آسامیاں بھی پیدا ہوں گی، تنخواہوں اور الاؤنس کی مد میں پونے 2 ارب روپے سے زائد خرچ ہونگے جبکہ غیر ترقیاتی بجٹ کيلئے 60 کروڑ روپے سے زائد کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فی الحال ضلع مری کے انتظامی معاملات راولپنڈی کے ڈی سی اور سی پی او ہی سنبھالیں گےکمشنر راولپنڈی ثاقب منان کا کہنا ہے کہ ڈی سی کا سارا نظام ہوگا، پولیس لائن بنائی جائے گی، مزید تھانے بنائے جائیں گے، ابھی وہاں صرف ایک اے سی ہے، بجٹ کی کوئی قید نہیں۔
انتظامیہ کے مطابق ضلع مری کا نیا انفرااسٹرکچر سیاحوں کی آمد و رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا جائے گا، اسی حوالے سے اسپتالوں کو بھی اپ گریڈ کیا جائے گا۔
لاہور:پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ جمعہ کو لبرٹی چوک سے شروع ہو گا۔
لاہور میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئر مین کا کہنا تھا کہ میں نے فیصلہ کیا ہے جمعے کولانگ مارچ کا اعلان کررہا ہوں، لبرٹی چوک لاہور سے اسلام آباد کے لیے مارچ شروع ہوگی، لبرٹی میں 11 بجے ہم جمع ہوں گے پھر وہاں سے اسلام آباد کی طرف مارچ شروع ہوگا۔ مجھے کہا گیا کہ آپ غیرذمہ دار ہیں ملک بڑی مشکل میں ہے،
عمران خان کا کہنا ہےکہ اس مشکل وقت میں احتجاج کر رہے ہیں۔ جب ہم نے اقتدارسنبھالا تو تاریخ کا سب سے بڑا بیرونی خسارہ تھا، ہمارے دورمیں ریکارڈ ٹیکس اکٹھا کیا گیا، ہماری حکومت نے کورونا کا بھی مقابلہ کیا، کورونا کے دوران ہم نے معیشت کوبھی بچایا، عالمی اداروں نے ہماری معاشی پالیسی کو سراہا، احساس پروگرام کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔
اپنی بات کوجاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت ہماری حکومت کے دوران 3 دفعہ لانگ مارچ کیا گیا، ایک مریم نواز نے بھی لانگ مارچ کیا تھا جو گُجرخان میں کہیں رہ گیا تھا، تب کسی کو پاکستان کی مشکلات کی پرواہ نہیں تھی، مجھے کہتے ہیں ملک مشکل میں ہیں، لانگ مارچ نہ کریں، 25 مئی کو احتجاج کال آف نہ کرتا تو اگلے دن ملک میں انتشار ہو جانا تھا، بیرونی سازش کے تحت پہلے چوروں کو مسلط کیا گیا، 25، 25 کروڑ دے کر سندھ ہاؤس میں نیلام گھر لگایا گیا، ضمنی الیکشن ہارنے کے بعد ہمارے خلاف مقدمات اورصحافیوں پرپابندیاں لگائی گئیں۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صحافی ملک سے باہر بھاگ رہے ہیں، سب سے زیادہ تکلیف دہ بات ارشد شریف کا قتل ہے، ارشد شریف کوئی دہشت گرد یا کوئی ڈاکو نہیں تھا، سب جانتے ہیں ارشد شریف محب وطن پاکستانی تھے، ارشد شریف کو ڈرایا دھمکایا گیا اپنے موقف سے ہٹ جائے، دو دفعہ ارشد شریف کو ایڈوائز کیا اس کی جان خطرے میں ہے، ملک کے نامور ڈاکو اپنے اپنے کیسز معاف کرا رہے ہیں، کبھی اسمبلی میں ایسا نہیں ہوا جس طرح کی ترامیم کی جا رہی ہیں، اپنی کرپشن بچانے کے لیے ترامیم کرائی، اپنے کیسز معاف اور ساتھ معیشت کو تباہ کر دیا، اکنامک سروے کی رپورٹ دیکھ لیں ہم کونسا پاکستان چھوڑ کر گئے تھے، ہماری حکومت بھی آئی ایم ایف پروگرام میں تھی اتنی مہنگائی نہیں تھی۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت تباہ اور ہمارے اوپر کیسز پر کیسزشروع کر دیئے، پاکستان میں ارشد شریف کی شہادت سے زیادہ ظلم کب ہوا، ارشد شریف جان بچانے کے لیے کینیا گیا، لانگ مارچ کوئی سیاست نہیں پاکستان کے مستقبل کی جنگ لڑ رہے ہیں، یہ چوروں سے آزادی کی جنگ ہے، یہ جہاد فیصلہ کرے گا پاکستان کیا چوروں کی غلامی یا خود مختار پاکستان بنے گا، یہ اور ان کے ہینڈلرز سمجھتے ہیں ہم بھیڑ، بکریوں کی طرح ان کی غلامی کریں گے، یہ حقیقی آزادی مارچ ہے کوئی ٹائم فریم نہیں ہے، جی ٹی روڈ سے براستہ اسلام آباد پہنچیں گے۔
پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ پیشگوئی کرتا ہوں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا عوامی سمندر شامل ہو گا، پاکستان میں کون قیادت کرے گا عوام فیصلہ کرے گی، ہم چاہتے ہیں ملک کے لوگ فیصلہ کریں، برطانوی وزیراعظم کی تبدیلی پر پوری اپوزیشن الیکشن کا مطالبہ کر رہی ہے، یہ پاکستان کے لیے فیصلہ کن وقت ہے، کیا ہم نے ایک خود مختار ملک بننا ہے یا چوروں کی غلامی کرنی ہے۔
راولپنڈی :آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان جرمنی کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے پاکستان میں جرمنی کے سفیر مسٹر الفریڈ گراناس نے آج جی ایچ کیو میں ملاقات کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی مجموعی صورتحال اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ملاقات میں معزز مہمان نے پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی پر دکھ کا اظہار کیا اور متاثرین کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کی۔
آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا ہے کہ جرمنی کے سفیرنے علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کو بھی سراہا اور پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔
اس موقع پر آرمی چیف نے معزز مہمان کو سفیر کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان جرمنی کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔
لاہور:ہمارے انتہائی شفیق ساتھی ارشد شریف کو کینیا میں شہید کردیا جاتا ہے ، ان کے موبائل فونز اور ان کا لیب ٹاپ غائب کردیا جاتا ہے، یہ اتنا بڑا خطرناک کھیل کوئی عام بندہ نہیں کرسکتا ، وہاں ایم کیوایم الطاف حسین کے کارندے بھی موجود ہیں مگریہ منظم کھیل کوئی عام بندہ نہیں کھیل سکتا
ان سیدھی سادھی باتوں کا اظہارکرتے ہوئے سنیئر صحافی مبشرلقمان نے کہا ہے کہ وہ بہت دکھی ہیں کہ ایک پاکستان کے ایک بڑے نام کو کینیا میں اس کو مروادیا جاتا ہے ، یہ لوگ کون ہیں ان کو منظرعام پر لانا ہوگا ،
سینیئر صحافی مبشرلقمان نے اس موقع پر مریم نوازکو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ کسی کی وفات پر اس طرح طعنے نہیں دیے جاتے اور نہ ہی اس قسم کی گھٹیا سوچ کا کوئی تصور کرسکتا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے جو آج صبح ٹویٹ کی ہے ،اس نے بہت دکھی کردیا ہے ، اس کو اس قسم کی حرکت نہیں کرنی چاہیے تھی ، مریم کا اپنی والدہ محترم کی وفات کو ارشد شریف کی وفات سے لنک کرکے طعنہ نہیں دینا چاہیے تھا ، سب نے اس جہان فانی سے کوچ کرجانا ہے ، ، اگر کسی سے کوئی زیادتی ہوگئی ہے تو پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم سب کو جانے والی کی تمام غلطیاں معاف کردینی چاہیں ، اور اگرہمارے اختیار سے معاملہ باہرہے تو جس ذات کے پاس جانے والا جارہا ہےوہ بہتر جانتا ہے
مریم نواز جو آپ نے حرکت کی اب تو دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰآپ کو ہمارے اوپرحکمران نہ بنائے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جومریم نوازلہجہ اور رویہ اپنا رہی ہیں یہ زیب نہیں دیتی ،عمران خان پر بھی تنقید کرتا رہا ہوں کہ ان کوچھوٹی چھوٹی باتوں کو بڑے لیڈر بنیاد نہیں بناتے لیکن آپ نے توتمام ضابطے ہی توڑ دیے ،
مبشرلقمان نے کہا کہ ارشد شریف سے سیاسی اختلاف تو ہوسکتا ہے لیکن یاد رکھیں ارشد شریف اس وطن عزیز کا وہ بیٹا ہے کہ جس کی وفات پر پاکستان کے ہرگھر سے رونے اورآہوں اور سسکیوں کی آوازیں آرہی ہیں، بے نظیربھٹو کے بعد ارشد شریف ہیں کہ جن کی وفات پر ہرپاکستانی دکھی ہے، بلکہ ارشد شریف کی وفات پرجہاں کہں بھی پاکستانی موجود ہیں یا صحافت کی دنیا سے تعلق رکھنے والے موجود ہیں وہ سب غمگین اور دکھی ہیں کہ کس طرح ایک حق کی آواز کوطاقت کے ساتھ دبا دیا گیا
ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ میں جہاں بھی جارہا ہوں وہاں مجھے ارشد شریف کی شہادت پرہرکوئی دکھی نظرآرہا تھا ، ان کا کہنا تھا کہ کسی کو ارشد شریف کی سیاسی سوچ سے تواختلاف کرسکتا ہے لیکن ارشد شریف جیسا ہونہار، تابندہ اور ملک وقوم کا خیرخواہ صحافی بے بسی کی حالت میں ماردیا گیا ،ان کا کہنا تھا کہ ارشد شریف ایک ہیرا تھا جسے ہم سے چھین لیا گیا ہے
مبشرلقمان نے دکھ بھرے لمحات بیان کرتےہوئے کہا ہے کہ کل جب میں نے یہ خبر سنی تو میں کاشف عباسی سے اس بات کی تصدیق کرنا چاہی تو انہوں نے کہا کہ کاشف کا کہنا تھا کہ میں نے خبردینے والوں سے معذرت کی اور کہا کہ میرے میں اتنی ہمت نہیں کہ میں ایک دکھی ماں ، بچوں کوان کے پاپا کی وفات کی خبر دوں ، ان کا کہنا تھا کہ اگر میں بھی ہوتا تو یہ نہ کرسکتا تھا
مبشرلققمان نے کہا کہ کل سے ہرکوئی ارشد شریف کی شہادت والی تصاویر ہر کوئی شیئر کررہا ہے جوکہ نہیں کرنی ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جس طرح دبئی حکومت نے ارشد شریف کو ملک بدر کیا ایسے تو کوئی بھی نہیں کرسکتا ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرڈی پورٹ کرنا تھا تو پاکستان کردیتے جیسے کیا جاتا ہے تو پھر کس کے کہنے پران کو کینیا کی طرف جانے پر مجبور کیا گیا ، ان کا کہنا تھا کہ کینیا کی پولیس جس طرح جرائم کرتی ہے ان کے مقابلے میں تو پنجاب پولیس والے تو فرشتے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ اتنا زیادہ تضاد ہے کہ میرےجیسے بندہ 10 منٹ میں انکی اصلیت سامنے لاکردکھا دوں گا
مبشرلقمان کاکہنا تھا کہ وہ دونوجوان کون تھے ،خرم اور وقار بنیادی طور پر الطاف حیسن کے بندے ہیں یہ بوری بند لاشوں کے ڈیلر ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ ان دونوجوانوں کے فارم کے نزدیک واردات ہوئی ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ارشد شریف کو کینیا کس نے بھیجا ، بعض کا کہنا تھا کہ یہ بھی کہا جارہا ہےکہ وہ ریل اسٹیٹ کے سلسلے میں آیا تھا لیکن یہ درست نہیں ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان دونوں کو پولیس تحفظ دے رہی ہے، انکا کہنا تھا یہ بڑی خطرناک گیم ہے ،
ان کا یہ بھی کہناتھاکہ ہرکوئی تحقیقات کرنے پر لگا ہوا ہے ، خرم اور وقار کو کون بچا رہا ہے ، ارشد شریف کے موبائلز اور لیب ٹاپس کس کے پاس ہے ، یہ عام بندہ نہیں کرسکتا ہے یہ بڑی قوت ہے جو خرم اور وقار کو بچانے کے لیے کوششیں کررہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ وہاں ہورہا ہے اور ہم یہاں الجھے ہوئے ہیں ، ان کا یہ کہنا تھا کہ اطہرمن اللہ نے درست فیصلہ کیا کہ انہوں نے جوڈیشیل کمیشن نہیں بنایا ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہاں جوڈیشل کمیشن کیا کرے گا ، جب بڑے اثرانداز ہوں گے ،ان کا کہنا تھا کہ ارشد شریف جیسا سمجھدار ، زیرک اورملک وقوم کا خیرآدمی جس طرح اس کوراستے سے ہٹایا گیا، اور جس طرح وہ بیچارہ پاکستان سے دبئی ، پھر دبئی سے لندن اور پھرلندن سے دبئی اورپھردبئی سے کینیا اس کے پیچھے کون سی قوتیں تھیں جو اس کا پیچھا کررہی تھیں ، ارشد شریف کن کے راستے میں رکاوٹ تھا جواس کو راستے سے ہٹانا چاہتے تھے ، یہ بہت ہی ایک خطرناک کھیل ہے ،وہ ایک محبت وطن ، سب کی آنکھوں کا تارا تھا جسے ہم سے چھین لیا گیا ، وہ تو اگلے سفر پر روانہ ہوچکا جہاں ہرکسی نے جانا ہےمگرافسوس کہ اتنے بڑے سانحے سے ہم نے کچھ نہیں سیکھا ، وہی منفی سوچ ، وہی الزام تراشیاں ، اس موقع پر ابصار عالم کے واقعہ کو بنیاد بنا کرجوزبان درازی کی جارہی ہے ، یہ سب باتیں بے فائدہ اور تکلیف دہ ہیں ، ارشد شریف کوئی اور نہیں تھا وہ بھی ہمارا ہی تھا اس کی شہادت پرہمیں اس قسم کے پراپیگنڈے سے باز رہنا چاہیے اور اس کے درجات کی بلندی کے لیے دعائیں کرنی چاہیں
اسلام آباد:الیکشن کمیشن کے باہر فائرنگ کیس میں انسداد دہشتگردی عدالت نے پی ٹی آئی کے مستعفیٰ ایم این اے صالح محمد خان کی ضمانت منظور کرلی۔
انسداددہشت گردی عدالت صالح محمدخان کی جانب سے ڈاکٹر بابر اعوان نے دلائل دیئے، اے ٹی سی کے جج راجہ جوادعباس حسن نے دلائل سننے کے بعد درخواست ضمانت منظور کرلی۔
عدالت نے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم بھی دیا۔ واضح رہے کہ توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کی نااہلی کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کے باہر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔
خیال رہے کہ چند روزقبل عمران خان کی نااہلی کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کے باہر ایم این اے صالح محمد کےگن مینوں نے فائرنگ کی تھی جس کے بعد پولیس نے صالح محمد اور ان کے دو گن مینوں کو گرفتار کرلیا تھا۔
پی ٹی آئی ایم این اے صالح محمد خان کے گلے میں تختی ڈال کر تصویر بنائی گئی ہے۔
ایم این اے صالح محمد خان کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔ سوشل میڈیا پر اسلام آباد پولیس پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔ عوامی نمائندے کے گلے میں دہشتگردوں کی طرح تختی ڈالی گئی۔
لندن: برطانیہ کے دارالحکومت میں مسلح شخص فائرنگ کر کے 2 افراد کو قتل اور ایک کو شدید زخمی کرنے کے بعد فرار ہوگیا۔برطانوی میڈیا کے مطابق لندن کے مشرقی علاقے الفورڈ میں تلخ کلامی کے بعد ملزم نے پستول تان لی اور تین افراد پر فائرنگ کردی جن میں ایک موقع پر دم توڑ گیا جب کہ دوسرے کو اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکا۔
نامعلوم شخص کی فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والا شخص انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج ہے جس کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو ایک شخص مردہ جب کہ دو شدید زخمی حالت میں پڑے تھے جن پر معمولی جھگڑے میں ایک شخص نے فائرنگ کی تھی۔ پولیس کو دیکھ کر مسلح ملزم فرار ہوگیا
پولیس کا مزید کہنا ہے کہ انتہائی تشویشناک حالت میں زیر علاج زخمی کے ہوش میں آنے پر بیان لیا جائے گا اور ملزم کا سراغ ملنے کی امید ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیجز سے بھی کوئی شواہد نہ مل سکے۔
ادھربرطانیہ کے پہلے بھارتی نژاد وزیراعظم رشی سنک نے اپنی پیشرو لز ٹرس کی جانب سے کی گئیں غلطیوں کو سدھارنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
لندن میں وزیراعظم کی حیثیت سے تقرری کے بعد میڈیا سے اپنی پہلی گفتگو کے دوران رشی سونک نے کہا کہ وہ اپنی پیشرو لز ٹرس کو خراج تحسین پیش کرنے چاہتے ہیں، وہ اس ملک میں ترقی کو بہتر بنانا چاہتی تھیں جو ایک عظیم مقصد ہے۔
رشی سونک نے مزید کہا کہ سابق وزیر اعظم لز ٹرس کے دور میں کچھ غلطیاں کی گئی تھیں- یہ غلطیاں برے ارادے یا غلط مقصد کے لئے نہیں کی گئیں۔ ان ہی غلطیوں کو ٹھیک کرنے کے لئے مجھے اپنی پارٹی کا لیڈر اور عوام کا وزیراعظم منتخب کیا گیا ہے۔
اس سے قبل لزٹرس نے رشی سونک کی ہر کامیابی اور اپنے ملک کی بھلائی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ میں جانتی ہوں کہ اچھے دن آنے والے ہیں، ہم کم ترقی یافتہ ملک بننے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
کراچی ::شہلا رضا کا کہنا ہے کہ اغوا کے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی نوعمر لڑکی سیلاب متاثرہ نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق صوبائی وزیر ترقئ نسواں سندھ سیدہ شہلا رضا نے جناح اسپتال کا دورہ کیا جہاں انھوں نےگزشتہ روز کلفٹن کے علاقے سے اغوا کے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی نو عمر لڑکی کی ع
اس موقع پر صوبائی وزیر نے نوعمر لڑکی کے ساتھ پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے پر دکھ کا اظہار کیا اور ڈاکٹرز کو بچی کو تمام تر طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔انھوں نے متاثرہ بچی کی والدہ کو ہر ممکن قانونی مدد فراہم کرنے اور مجرموں کوجلد ازجلد کیفرکردارتک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی۔
صوبائی وزیرشہلا رضا نے واضح کیا کہ بچی کے والد انتقال کرچکے ہیں اور اسکی والدہ غربت سے تنگ آکر پانچ بچوں کے ہمراہ کراچی آئی ہے۔ موجودہ دور میں بچے اور بچیوں کے ساتھ ذیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات مجرموں کو سخت ترین سزائے دینے کا تقاضا کررہے ہیں۔
انھوں نے مذید کہا کہ پولیس کو چاہیے کہ ذیادتی کے واقعات کے مقدمات کے اندراج میں سخت قانونی دفعات شامل کرے اورعدالتوں کو بھی چاہئے کہ جرم ثابت ہوجانے پرمجرمان کو سخت سزائیں دیں۔شہلا رضا نے والدین کو پیغام دیا کہ وہ بھی اپنے بچوں کو ایسے درندوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں ان کا خیال رکھیں۔
لندن:برطانیہ کے بادشاہ شاہ چارلس سوم نے رشی سونک کو ملک کا نیا وزیراعظم مقرر کردیا۔اطلاعات کے مطابق بکنگھم پیلس کی جانب سے تصدیق کی گئی ہےکہ شاہ چارلس سوم نے رشی سونک کو برطانیہ کا نیا وزیراعظم مقررکردیا ہے۔
وزیراعظم مقرر کیے جانے کے بعد ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ پر اپنے پہلے خطاب میں رشی سونک نے سابقہ وزیراعظم لزٹرس کو خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ کو اس وقت بڑے معاشی بحران کا سامنا ہے جس وجہ سے انہیں وزیراعظم کے دفتر کے لیے چنا گیا ہے تاکہ وہ سابقہ حکومت کی غلطیوں کو سدھار سکیں۔
نومنتخب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لز ٹرس نے تبدیلی کے لیے انتھک محنت کی لیکن ان سے کچھ غلطیاں ہوئیں۔
رشی سونک نے کہا کہ وہ بورس جانسن کے بطور وزیراعظم لیے گئے زبردست اقدامات پر ہمیشہ ان کے شکر گزار رہیں گے، اب ان کی حکومت ہر سطح پر دیانتداری، پروفیشنلزام اور احتساب نظر آئے گا۔
برطانیہ کے متوقع وزیراعظم کے آبا و اجداد کا تعلق پاکستان کے کس صوبے سے ہے؟اس حوالے سے تفصیلات منظرعام پرآگئی ہیں
رشی سونک کنزرویٹیوپارٹی کے سربراہ منتخب ہونے والے پہلے ایشیائی نژاد برطانوی وزیراعظم ہوں گے جن کے آبا و اجداد کا تعلق پاکستان سے ہے۔
رشی سونک کے آباو اجداد کا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے تھا، ان کے دادا رام داس سونک 1935 میں گوجرانوالہ سے نیروبی ہجرت کرگئے تھے جب کہ دادی سہاگ رانی کا تعلق بھی گوجرانوالہ سے تھا۔
رشی سونک کے والد یش ویر سونک سن 60کی دہائی میں نیروبی سے برطانیہ چلے آئے جہاں رشی سونک پیدا ہوئے۔اس کے علاوہ رشی سونک کی اہلیہ اک شتا مورتی بھارتی شہری ہیں اور ان کا شمار امیر ترین خواتین میں ہوتا ہے۔
رشی سونک نے آکسفورڈ سے اپنی تعلیم مکمل کرکے ڈگری حاصل کی اور انہوں نے انویسٹمنٹ بینک میں اپنے فرائض بھی انجام دیے ہیں۔
اسلام آباد:ڈریپ اور فارمسوٹیکل کمپنیوں میں ڈیڈ لاک برقرار، ملک بھر میں دواؤں کا بحران جاری ہے ، مریض سخت پریشان ہیں لیکن حکمرانوں کومریضوں کی پریشانی سے کیا تعلق، حکمران توادویات کی قیمتیں بڑھانے کے چکروں میں ہیں
ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کے پیش نظر ڈریپ اور فارمسوٹیکل کمپنیوں میں ڈیڈ لاک برقرار ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں دواؤں کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مختلف فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے متعدد ادویات کی سپلائی روک دی ہے جبکہ دواؤں کی قیمتوں میں من مانا اضافہ بھی کردیا گیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کراچی میں دواوں کی قیمتوں میں غیر اعلانیہ 50 فیصد اضافہ کردیا گیا ہے جبکہ سندھ میں ملیریا اور ڈینگی کی وباء جاری ہے مگر دوائیاں ناپید ہوگئی ہیں۔
اسکے علاوہ ملیریا کی کلوروکوئن، ڈاکسی سائلن ، میفلوکوئن، اور انجکشن ہماپرز مارکیٹ سے غائب ہوگئیں ہیں جبکہ بلڈ پریشر، شوگر، سر درد سمیت ذہنی سکون کی دوائیں مہنگی ہوگئیں ہیں۔امراض نسواں کی دوا پرمیلیوٹ این ، ڈیوفاسٹون نایاب ہوگئی ہیں جبکہ پیراسٹامول اور ایسپرین 40 تا 50 روپے کی ملنے لگی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہشوگر کی دوا گلیکو فیج اور ایمرل ، انوسٹا پلس کی قیمت میں بھی 30 فیصد اضافہ ہوگیا ہے جبکہ معدے کی تزابیت کی دوا اومی پرازول 170 سے 300 تک فروخت ہونے لگی اور سانس و دمہ کے لیے استعمال ہونے والے ان ہیلر کی قیمت میں بھی 40 فیصد اضافہ کردیا گیا ہے۔اسکے علاوہ کیموتھراپی کی دوائیں بھی مارکیٹ میں دگنی قیمتوں میں ملنے لگی ہیں۔