Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • دنیا بھر میں واٹس ایپ سروس دو گھنٹے معطل رہنے کے بعد بحال

    دنیا بھر میں واٹس ایپ سروس دو گھنٹے معطل رہنے کے بعد بحال

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں واٹس ایپ کی سروسز تقریباً دو گھنٹے معطل رہنے کے بعد اب بحال ہونا شروع ہوگئیں۔

    باغی ٹی وی : منگل کے روز صارفین کو تقریباً 11 بج کر 50 منٹ پر واٹس ایپ کے استعمال میں مسائل کا سامنا کرنا پڑا، سب سے پہلے ایپ کے گروپس میں صارفین پیغامات بھیجنے سے قاصر تھے۔

    پاکستان میں واٹس ایپ ڈاؤن، صارفین پریشان

    واٹس ایپ دنیا بھر میں ڈاؤن ہونے کے بعد سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر فوری ٹرینڈ کر گیا تھا اور چند لمحوں میں ہی ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

    واٹس ایپ سروس پاکستان، بھارت، مشرق وسطیٰ، یورپ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں ڈاؤن ہو گئی تھی۔ واٹس ایپ سروس ڈاؤن ہوتے ہی صارفین نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس مسئلے کی نشاندہی کی اور پاکستان سمیت دنیا بھر سے لوگوں نے بتایا کہ واٹس ایپ گروپس میں میسجز نہیں جا رہے۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر سے لوگوں نے بتایا کہ واٹس ایپ گروپس میں میسجز نہیں جارہے جب کہ انفرادی طور پر صارفیں کو چیٹنگ کرنے میں مسئلہ ہورہا ہے۔

    واٹس ایپ بیٹا انفو نے سروس ڈاؤن ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ صارفین کو واٹس ایپ میں مسائل کا سامنا ہے جسے جلد از جلد بحال کر دیا جائے گا۔

    ایپ واٹس ایپ کی سروسز ڈاؤن ہونے پر میٹا کے ترجمان کا بیان سامنے آیا تھا میٹا ترجمان کا کہنا تھا کہ واٹس ایپ سروسز ڈاؤن ہونے سےآگاہ ہیں جسے جلد از جلد بحال کرنے کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں ہم آگاہ ہیں کہ کئی افراد کو واٹس ایپ پر پیغامات بھیجنے میں مشکلات کا سامنا ہے جس کی جلد از جلد بحالی کے لیے کام کیا جارہا ہے۔

    تاہم اب موبائل پر واٹس ایپ کی سروسز بحال ہونا شروع ہوگئی ہیں جب کہ ڈیسک ٹاپ ورژن استعمال کرنے والے افراد کو اب بھی مسئلے ہیں۔

    سیلاب سے متاثرہ بچی سے اجتماعی زیادتی کے بعد پولیس تحقیقات میں تاحال کوئی پیش رفت نہ ہو سکی


    https://twitter.com/GhConcra/status/1584825570830913537?s=20&t=zcUBDBK4-uC22y294VIaGQ
    https://twitter.com/mr_zim_fit/status/1584819618849656832?s=20&t=aqg4reQtHNqHzL7SwZ6WVg
    علاوہ ازیں واٹس ایپ ڈاؤن ہونے پر ٹوئٹر پر میمز کا طوفان آگیا صارفین کی جانب سے دلچسپ میمز بنائی جارہی ہیں، کچھ صارفین نے یہ بھی کہا کہ انہیں ٹوئٹر پر آنے کے بعد پتہ چلا کہ واٹس ایپ ڈاؤن ہے۔

    آصف زرداری کی عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں اداروں کے خلاف نعرے بازی کی سخت مذمت

  • آصف زرداری کی عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں  اداروں کے خلاف نعرے بازی کی سخت مذمت

    آصف زرداری کی عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں اداروں کے خلاف نعرے بازی کی سخت مذمت

    کراچی: سابق صدر آصف زرداری نے اداروں کے خلاف نعرے بازی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک شخص کی ہر تقریر سیاست کے بجائے نفرت سے بھری ہوتی ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ روز لاہور میں ہونے والی عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں اداروں کے خلاف نعرے بازی کی سخت الفاظ میں مذمت کی-

    منظور پشتین کے خلاف دہشت گردی اور بغاوت کا مقدمہ درج

    ایک بیان میں آصف زرداری نے کہا کہ کسی بھی پلیٹ فارم کو اداروں کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے، پاکستان کی بقا ہمارے اداروں سے ہی ہے اور افسوس کہ ایک شخص نے اس ملک کو گالیوں اور نفرت کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔

    سابق صدر کا کہنا تھا کہ عمران کی ہر تقریر سیاست کی بجائے نفرت سے بھری ہوتی ہے، اس شخص کے تانے بانے جہاں ملتے ہیں ہمیں سب معلوم ہے اور وہ کس کے کہنے پر اداروں کے خلاف نفرت پھیلا رہا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے جوان اور افسران اپنی جانوں کا نذرانہ اسی وردی میں دے رہے ہیں اور ان کے خلاف نعرے قابل مذمت ہیں۔

    قبل ازیں وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے نعروں کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں لگنے والے نعرے نامناسب تھے، ہم سب نے ملک بھر میں دہشت گردی کی آگ کا سامنا کیا ہے، ہم سب دہشت گردی کی آگ کا شکار ہوئے، ہمارا خاندان، عام شہری بھی دہشت گردی کا شکار ہوئے۔

    ارشد شریف کیس: تحقیقات کے منتظر ہیں تاکہ اس کو مدنظر رکھ کر آگے کا لائحہ عمل بنایا…

    چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ہماری فوج کے سپاہی دہشت گردی کے خلاف صف اول کا کردار ادا کرتے ہیں، ہماری فوج کے سپاہی دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں، ہمیں سیاست کرتے ہوئے ضرور سوچنا چاہیےکہ نعرے لگاتے وقت شہدا کےخاندانوں کو تکلیف نہ ہو۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارے کارکن اور دوسری تنظیموں کے لوگ بھی نعرے لگارہے تھے، میں نے جیسے ان کا جواب دیا تھا، وہ نامناسب تھا، بہتر طریقے سے جواب دیا جاسکتا تھا۔

    واضح رہے کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کے دوران وکلا نے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی رہائی کے لیے نعرہ بازی کی تھی –

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ آپ وہاں جا کر احتجاج کریں جو ان کو رہا کر سکتے ہیں جس پر آج بلاول بھٹو نے اپنے رویے پر ندامت کا اظہار کیا ہے-

    2022 کا دوسرا جزوی سورج گرہن آج پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھا جاسکے گا

  • 2022 کا دوسرا جزوی سورج گرہن آج پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھا جاسکے گا

    2022 کا دوسرا جزوی سورج گرہن آج پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھا جاسکے گا

    2022 کا دوسرا جزوی سورج گرہن آج بروز منگل 25 اکتوبر کو ہوگا جو پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھا جاسکے گا۔

    باغی ٹی وی : جزوی سورج گرہن یورپ، شمالی افریقا، مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے مختلف حصوں میں دیکھا جاسکے گا دنیا کے مختلف حصوں میں سورج گرہن کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 1 بج کر 58 منٹ سے شروع ہوگا جبکہ 4 بجے عروج پر پہنچنے کے بعد شام 6 بج کر 2 منٹ پر اس کا اختتام ہوگا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد میں سورج گرہن کا آغاز 3 بج کر 43 منٹ پر ہوگا، 4 بج کر 50 منٹ پر عروج جبکہ 5 بج کر 22 منٹ پر اختتام ہوگا۔

    اسی طرح لاہور میں 3 بج کر 49 منٹ پر آغاز، 4 بج کر 54 منٹ پر عروج اور 5 بج کر 20 منٹ پر اختتام ہوگا کراچی میں 3 بج کر 57 منٹ پر آغاز، 5 بج کر ایک منٹ پر عروج اور 5 بج کر 56 منٹ پر اختتام ہوگا۔

    پشاور اور کوئٹہ میں بالترتیب 3 بج کر 44 منٹ پر سورج گرہن کا آغاز ہوگا جبکہ پشاور میں اس کا اختتام 5 بج کر 28 منٹ اور کوئٹہ میں 5 بج کر 51 منٹ پر ہوگا۔

    دوسری جانب آج 25 اکتوبر کو ہونے والا جزوی سورج گرہن بھارت کی تمام ریاستوں میں نظر آئے گا بھارت میں توہم پرستی کی بنیاد پر اکثر و بیشتر مضحکہ خیز اور افسوسناک واقعات خبروں کی شہ سرخی بنتے ہیں، توہم پرستی پر مبنی ایک فیصلے کے بعد بھارتی ریاست اڑیسہ میں 25 اکتوبر کو عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔

    منظور پشتین کے خلاف دہشت گردی اور بغاوت کا مقدمہ درج

    بھارتی خبر رساں ایجنسی این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاست اڑیسہ کی حکومت نے 25 اکتوبر کو سورج گرہن کی وجہ سے سرکاری سطح پر عام تعطیل کا اعلان کیا۔ اعلان کے مطابق تمام سرکاری دفاتر، اسکول، کالج، تعلیمی ادارے، عدالتیں، بینک اور دیگر مالیاتی ادارے بند رہیں گے۔

    خیال رہے کہ سورج گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند گردش کرتے ہوئے زمین اور سورج کے درمیان آجاتا ہے جزوی سورج گرہن میں چاند سورج کے درمیان نہیں آتا بلکہ اس کے کچھ حصے کو ڈھانپ لیتا ہے اور زیادہ تر گرہن جزوی ہی ہوتے ہیں گرہن کے دوران سورج کو براہ راست کبھی مت دیکھیں کیونکہ اس سے بینائی کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    سن گلاسز سے بھی گرہن کو دیکھنے سے بینائی کو نقصان پہنچ سکتا ہے، گرہن کو دیکھنے کے لیے خصوصی فلٹر ہوتے ہیں جن کے بغیر اسے دیکھنے سے گریز کرنا چاہیے۔

    ارشد شریف کی میت کب پاکستان پہنچے گی؟ اہلیہ جویریہ صدیق نے بتا دیا

  • وزیر اعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پر ریاض پہنچ گئے

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پر ریاض پہنچ گئے

    ریاض: وزیراعظم سعودی عرب کے دو روزہ دورے پر ریاض پہنچ گئے ہیں-

    باغی ٹی وی : نائب گورنر ریاض شہزادہ محمد بن عبدالرحمان بن عبدالعزیز نے میاں محمد شہباز شریف کا ریاض پہنچنے پر استقبال کیا وزیراعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد بھی ہے جس میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر شامل ہیں۔

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف ڈیووس ان دی ڈیزرٹ کانفرنس میں شرکت کیلئے سعودی عرب روانہ

    میاں شہباز شریف سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر دورہ کر رہے ہیں، دورے کے دوران ان کی سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقاتیں ہوں گی جن میں دو طرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران ’ڈیووس ان دی ڈیزرٹ‘ کے نام سے ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کریں گے وزیراعظم اس موقع پر پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کریں گے سرمایہ کاری کانفرنس کی تھیم ’انسانیت کے لیے سرمایہ کاری: ایک نئے گلوبل آرڈر کی تشکیل‘ ہے۔

    ریاض میں منعقد ہونے والی یہ کانفرنس 2017 سے باقاعدگی سے منعقد ہونے والا ایک سالانہ ایونٹ بن گیا ہے۔

    رواں سال کا ایڈیشن منگل 25 اکتوبر سے شروع ہو کر جمعرات تک جاری رہے گا اور اس میں دنیا کے مختلف حصوں سے 6 ہزار مندوبین شرکت کریں گے جن میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اعلیٰ کارپوریٹ ایگزیکٹوز، پالیسی ساز، سرمایہ کار، کاروباری اور نوجوان رہنما شامل ہوں گے۔

    ارشد شریف کی موت،وزیراعظم کا کینیا کے صدر سے رابطہ ،شفاف تحقیقات کا مطالبہ

    اس عالمی سرمایہ کاری کانفرنس کی میزبانی فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو انسٹی ٹیوٹ کرتا ہے جو کہ سرکاری طور پر سعودی حکومت سے منسلک نہیں لیکن وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی نگرانی میں کام کرتا ہے۔

    سرمایہ کاری کانفرنس کا دوسرا ایڈیشن 2018 میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے گہنہ گیا تھا جب کہ رواں سال اوپیک کی تیل کی پیداوار میں کٹوتی پر امریکا-سعودی تنازع کے سائے میں منعقد ہو رہی ہے اسی تنازع کی وجہ سے امریکی حکام کو منتظمین کی جانب سے رواں سال کی کانفرنس میں مدعو نہیں کیا گیا۔

    کانفرنس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ سرمایہ سے متعلق پروگرام کے دوران سیاست کو مرکزی حیثیت حاصل ہو، کانفرنس میں سرمایہ کاری اور کاروبار پر ہی توجہ مرکوز رکھی جانی چاہیے، تاہم تقریباً 400 اعلیٰ امریکی کاروباری شخصیات نے کانفرنس میں شرکت کی تصدیق کی ہے۔

    پاکستان نے تیل کی پیداوار میں کمی سے متعلق فیصلے پر امریکا کے مقابلے میں سعودی عرب کا ساتھ دیا۔

    کانفرنس میں اداروں کے خلاف بلا جواز نعرہ بازی ،وزیراعظم نے کی مذمت

  • وزیراعظم شہبازشریف آج پاکستان سے سعودی عرب چلے جائیں گے

    وزیراعظم شہبازشریف آج پاکستان سے سعودی عرب چلے جائیں گے

    اسلام آباد:وزیراعظم شہبازشریف آج پاکستان سے سعودی عرب چلے جائیں گے ،اطلاعات کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر وزیراعظم شہباز شریف آج دو روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ ہونگے۔

    ’‘ ڈالر کی قیمت میں لائی گئی کمی "آنکھ کا دھوکہ:یعنی مصنوعی ہوگی’’:ماہرین…

    وزیراعظم سعودی سرمایہ کاری کے حوالے سے منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت کیلئے دو روزہ دورے پر روانہ ہورہے ہیں جہاں اُن کی سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات ہوگی۔

    بھارت نوازایمپائرنگ:بھارت کیخلاف آخری اوور میں نواز کی نوبال متنازع ہوگئی، سابق…

    خیال رہے کہ شہباز شریف سعودی ولی عہد کی دعوت پر یہ دورہ کررہے ہیں جبکہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس دورے کے بعد اگلے ماہ محمد بن سلمان کی پاکستان آمد متوقع ہے۔

     

    یاد رہے کہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد وزیراعظم شہبازشریف سعودی عرب گئے تھے،اس وقت بھی سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر وزیراعظم محمد شہباز شریف تین روزہ اعلیٰ سطح کے سرکاری دورے پر سعودی عرب میں قیام کیا تھا

    گورنر مکہ خالد بن فیصل آل سعود اور سعودی عرب کے قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر مسعدبن محمد العیبان نے ہوائی اڈے پر وزیراعظم پاکستان کا استقبال کیا تھا
    وفد میں وفاقی وزرا بلاول بھٹو زرداری، مریم اورنگزیب، خواجہ آصف، خالد مقبول صدیقی، چوہدری سالک حسین اور سابق فاٹا کے علاقے سے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ بھی شامل تھے ،شپبازشریف نے  روزہ رسول پر حاضری دی اور ریاض الجنتہ میں نوافل ادا کیے۔
  • عمران خان کی نااہلی کے خلاف درخواست پر سماعت آج ہوگی

    عمران خان کی نااہلی کے خلاف درخواست پر سماعت آج ہوگی

    اسلام آباد:توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی نااہلی کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں آج کیس کی سماعت ہوگی۔

    توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے نا اہلی کے فیصلے کو عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کررکھا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ پیر کو درخواست پر سماعت کریں گے۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیاگیا کہ الیکشن کمیشن کرپٹ پریکٹس کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ عدالت سے ہائیکورٹ کے فیصلے تک ای سی پی کی جانب سے نااہلی کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ 21 اکتوبر کو الیکشن کمیشن نے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس پر 19 ستمبر کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا تھا۔

    الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو 63 ون کے تحت نااہل قرار دے دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق عمران خان رکن قومی اسمبلی نہیں رہے، ان کی قومی اسمبلی کی سیٹ خالی قرار دے دی گئی ہے۔

  • عمران خان طےشدہ منصوبے کےتحت انتشارچاہتے ہیں:عطا تارڑ کی پریس کانفرنس

    عمران خان طےشدہ منصوبے کےتحت انتشارچاہتے ہیں:عطا تارڑ کی پریس کانفرنس

    لاہور:وزیراعظم کے معاون خصوصی عطا اللہ تارڑ نے کہاہے کہ عمران خان تاریخ پر تاریخ دے رہے ہیں کبھی قسمیں دیتے ہیں کبھی واسطے دیتے ہیں ، عمران خان نے تحفے بیچے یہ الیکشن کمیشن کا متفقہ فیصلہ ہے ، الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد گنتی کے لوگ احتجاج کے لیے نکلے ، عمران خان لانگ مارچ کی آڑ میں تشدد اور جلا ﺅگھراﺅ چاہتے ہیں ، کل چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں لوگ نکلے اور امن خراب ہوا،کل ہم نے صبر سے کام لیا کل ریڈ زون میں فائر کیا گیا عمران خان تشدد کرنے آرہے ہیں آگ لگانے آرہے ہیں اب یہ کام نہیں چلے گاکہ لوگوں کی پگڑیاں اچھالیں، اس کے ساتھ بغیر تصدیق اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی عمران خان طے شدہ منصوبے کے تحت انتشار چاہتے ہیں ،عمران خان اب سزا سے راہ فرار اختیار کریں گے۔

    معاون خصوصی عطا اللہ تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ پنجاب پولیس اور کے پی کے پولیس آمنے سامنے آگئی تھی ، اسلحے سے لیس جتھے آرہے ہیں، لانگ مارچ سے پہلے ایک ایم این اے گرفتار ہوا ہے جن کے گارڈ نے گولی چلائی یہ خان صاحب کی مرضی کے بغیر نہیں ہورہا، جو شخص اپنے منہ سے کہہ رہا ہے میں نظام کو تباہ کرنے آرہا ہوں ،اس کی نیت اچھی نہیں ہے معاون خصوصی عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ عمران خان نے ذاتی مقاصد کے لیے صوبائی اداروں کو استعمال کیا ،عمران خان صرف اپنے آپ کو وزیراعظم کے لئے اہل سمجھتے ہیں ،

    انہوں نے کہا کہ چار سال میں پرفارمنس زیرو ہے، آئی ایم ایف کی ڈیل انہوں نے کی، یہ شخص پاکستان کی سالمیت اور اداروں کے حوالے سے ایسی گفتگو کررہا ہے جو نارمل شخص نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ جب بجٹ پاس کروانا ہوتا تھا تو یہ ترلا کرتا تھا کہ لوگ پورے کردو، کیا اس وقت امریکہ یا کسی ادارے کی طرف سے آپ کے ایم این ایز کو کہا گیا سلپ ہوجاﺅ۔عطا تارڑ نے کہا کہ عمران خان کی نااہلی پر کل چھوٹی چھوٹی ریلیاں نکالی گئیں جن میں کہیں سو اور کہیں پچاس لوگ شامل تھے، گزشتہ روز عمران خان کی نااہلی پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کے باہر فائرنگ کا ناخوشگوار واقعہ رونما ہوا۔ میری موجودگی میں فائر ہوا اور باقی لوگ کبھی حملہ آور ہوئے ہم حکومت میں ہیں ہم نہ امن خراب کرنا چاہتے تھے اور نہ کسی قسم کا کسی پر تشدد کرنا چاہتے تھے

    تارڑ کہتے ہیں کہ ہم نے صبر و تحمل سے کام کیا۔ کل ایک فائر ہوا جس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ خان صاحب کوئی جمہوری لانگ مارچ کیلئے نہیں آ رہے یہ باقاعدہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پرتشدد کارروائیاں کرنے آ رہے ہیں آ گ لگانے آ رہے ہیں، قتل و غارت کرنے آ رہے ہیں پچھلی دفعہ بھی کے پی کے پولیس اور گلگت بلتستان پولیس کو استعمال کیا گیا۔ 25 مئی کو ایک موقع ایسا بھی آیا کہ پنجاب پولیس اور کے پی کے پولیس آمنے سامنے آ گئیں اور میرے پاس بطور وزیر داخلہ پنجاب یہ فیصلہ آیا کہ کیا کرنا ہے اگر میں اس وقت پنجاب پولیس کو پیچھے ہٹنے کا حکم نہ دیتا تو خدانخواستہ وہاں گولی چل جاتی اور کوئی جان ضائع ہو جاتی اور اس وقت اس کا شدید نقصان ریاست پاکستان کو ہوتا کہ پنجاب پولیس کے اہلکارنے گلگت پولیس کے اہلکار پر گولی چلائی ہے اور اس سے جو خطرات وفاق کو لاحق ہوتے ،ہمارے اتحاد و اتفاق کو لاحق ہوتے اس کا خمیازہ کئی دہائیوں تک قوم کو بھگتنا پڑتا۔یہ جو اسلحہ سے لیس جتھے آ رہے ہیں پچھلی دفعہ 25 مئی سے پہلے ہی گولی چلا کرکمال نامی ایک پولیس اہلکار کو شہید کیا گیا تھا اور پھر لانگ مارچ سے پہلے ایک شخص پکڑا گیا اور ایک ایم این اے صالح محمد گرفتار ہوا ہے جس کے گارڈ نے گولی چلائی

    میں بغاوت کا اعلان کرتا ہوں کہ میں انصاف کے اس نظام کو نہیں مانتا یہ خان صاحب کی منشا کے بغیر نہیں ہو سکتا ، خان صاحب نے خود کہا ہے کہ میں جب آﺅں گا تو کیا وہی ہو گا بدامنی ہو گی جب اسلام آباد آﺅں گا نہ صرف امن و امان خراب ہو گا جو شخص اپنے منہ سے کہہ رہا ہے کہ میں نظام کو تباہ کرنے آ رہا ہوں اس کی نیت کوئی اچھی نہیں ہے اس کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ اس کی بیوی بتاتی تھی کہ ڈالر اوپر چلا گیا ہے بطور وزیراعظم اسے ان باتوں کا بھی علم نہیں تھا وہ کہتا ہے کہ میری بیوی نے بتایا کہ ٹی وی پر چل رہا تھا کہ ڈالر اوپر چلا گیا ہے ہمیں ٹی وی نہیں بتاتا بلکہ ہم ٹی وی کو بتاتے ہیں کہ ڈار صاحب آ گئے ہیں اور ڈالر کی قدر میں کمی ہو رہی ہے اس کے علاوہ یہ کرنا کیا چاہتا ہے چار سال میں معیشت کو تباہ کر دیا۔آئی ایم ایف سے انہوں نے معاہدہ کیا اور نااہل ہو گیا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ نظام درہم برہم ہو اس کے منہ سے الفاظ نکلے ہیں کہ اگر میں اقتدار میں نہ آیا تو اس ملک کے تین ٹکڑے ہو جائیں گے۔ کبھی ایٹمی اثاثوں کی بات کرتا ہے اقتدار سے دوری کی وجہ سے یہ اب پاکستان کی سا لمیت کے حوالے سے اداروں کے حوالے سے اس طرح کی گفتگو پر آ گیا ہے کہ کوئی بھی ذی شعور شخص کوئی بھی ایسا شخص جو حب الوطنی کے جذبہ سے سرشار ہو وہ ایسی گفتگو نہیں کر سکتا اب اقتدار سے دوری کا ذمہ دار اداروں کو ٹھہراتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اب ادارے تو اس بات کے ذمہ دار نہیں کہ آپ اپنے ایم این ایز کو کنٹرول نہ کر سکیں اس سے پہلے جب بجٹ پاس کروانا ہوتا تھا تو یہ منت کرتے تھے کہ جی میرے ممبر پورے کر دیں اور میں نہیں جانتا کہ سیاسی مینجمنٹ کیسے کرنی ہے دو لوگ اس کی سیاسی مینجمنٹ کرتے تھے ایک علیم خاں اور دوسرے جہانگیر ترین تمام لوگوں کو تحریک انصاف میں شامل کروانے میں وہ پیش پیش تھے پھر جب ان لوگوں کے خلاف پرچے کاٹے گئے ان کے بیٹوں تک کو نہ چھوڑا گیا ان کے خلاف پرچے دیئے گئے ان کی فیملی کے خلاف پرچے دیئے گئے تو وہ آپکی سیاسی مینجمنٹ چھوڑ گئے تو آپ کے ایم این ایز سلپ ہو کر آئے ہیں کیا ان کو امریکہ نے کہا ہے کہ سلپ ہو جاﺅ۔انہوں نے کہا کہ گجرات کو ڈویثرن بنایا گیا اور کنجاہ کے ارد گرد مونس الہی نے زمین خرید لی ہے، یہ بڑا طاقت ور مافیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پرویز الہٰی نے گندم کا بحران پیدا کیا ہے، صوبائی حکومت گندم کے معاملے پر ناکام ہوچکی ہے۔

  • ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار دیوالی انتہائی جوش و جذبے کیساتھ منایا:

    ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار دیوالی انتہائی جوش و جذبے کیساتھ منایا:

    حیدرآباد:ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار دیوالی انتہائی جوش و جذبے کیساتھ منایا:،اطلاعات کے مطابق حسب سابق اس مرتبہ بھی پولیس ملازمین میں دیوالی کے موقع پر مٹھائیاں اور تحائف تقسیم کیے گئے،پاکستان بھر میں ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار دیوالی انتہائی جوش و جذبے کیساتھ مناتی ہے

    ڈسٹرکٹ پولیس حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ہندو برادری کے تمام ملازمین بھی اپنا مذہبی تہوار دیوالی روایتی طور طریقے سے مناتے ہیں

    ڈسٹرکٹ پولیس حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ہندو برادری کے تمام ملازمین کے مذہبی تہوار دیوالی کی خوشیوں کو مزید بڑھانے کیلئے ایس ایس پی حیدرآباد امجد احمد شیخ صاحب کی ہدایت پر ایس پی ہیڈکوارٹر انیل حیدرآباد منہاس صاحب اور تمام پولیس افسران نے ہندو برادری سے منسلک تمام ملازمین کو انکے مذہبی تہوار دیوالی کے موقع پر دیوالی کی مبارکباد پیش کی اور انہیں مٹھائیاں، تحفے و تحائف بھی دیے گئے

    اس سب کا مقصد ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے تمام پولیس ملازمین کو یہ احساس دلانا کہ ہم سب مسلمان اور ہندو یا دیگر تمام مذاہبِ سے تعلق رکھنے والے سب یکساں، متحد اور پاکستانی ہیں اور اہم ایک دوسرے کی خوشی و غم میں برابر کے شریک ہیں

    ادھروزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ ہندو برادری سمیت تمام اقلیتوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں، اقلیتوں سے بہتر سلوک اور احترام دین اسلام کا خاصہ ہے۔

    بھارت نوازایمپائرنگ:بھارت کیخلاف آخری اوور میں نواز کی نوبال متنازع ہوگئی، سابق…

    دیوالی کے تہوار کی مناسبت سے وزیراعلیٰ آفس میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، چودھری پرویز الٰہی مہمان خصوصی تھے نے ہندو اور دیگر اقلیتی برادریوں کے ساتھ مل کر کیک کاٹا اور پاکستان میں مقیم ہندو برادری کو مبارکباد دی جبکہ ہندو اور دیگر اقلیتی برادریوں کی جانب سے وزیراعلیٰ کو اجرک کا تحفہ دیا گیا۔

    ’‘ ڈالر کی قیمت میں لائی گئی کمی "آنکھ کا دھوکہ:یعنی مصنوعی ہوگی’’:ماہرین…

    اس موقع پر وزیر وزیراعلیٰ نے کہا کہ دیوالی پر ہندو برادری کی خوشیوں میں شریک ہیں، اقلیتی برادری کے طلباء کو سرکاری تعلیمی اداروں میں میٹرک سے پی ایچ ڈی تک سکالر شپ دیئے جا رہے ہیں، اقلیتی برادری کیلئے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں 2 فیصد کوٹہ مقرر کیا ہے، ملازمتوں میں 5 فیصد کوٹے پر عملدرآمد کیلئے ہدایات جاری کر دی ہیں، اقلیتی طلباء کیلئے ایجوکیشنل سکالر شپ سکیم میں 50 فیصد سنٹرل پنجاب، 35 فیصد، جنوبی پنجاب شمالی پنجاب کے طلباء کو 15 فیصد دیئے جا رہے ہیں، میٹرک سے اعلیٰ تعلیم تک 50 فیصد نمبر حاصل کرنے والے ا قلیتی طلباء کو 50 ہزار روپے تک سکالر شپ دے رہے ہیں۔

    فیض آباد:پولیس تشدد، پی ٹی آئی کارکنوں کی درخواست پرمقدمہ درج نہ ہوسکا:رکاوٹ…

    ان کا کہنا تھا کہ ایک دوسرے کی خوشیوں میں شرکت سے رواداری اور بھائی چارے کو فروغ ملتا ہے، اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے، ہندو برادری سمیت تمام اقلیتوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں، ہندو اور دیگر اقلیتی برادریوں کو تعلیم کیلئے مساوی مواقع فراہم کئے جا رہے ہیں۔

  • او آئی سی کومسلمانوں کے بنیادی حقوق اور مفادات کےتحفظ کےلئےاپنا کردار ادا کرناچاہئے:مریم اورنگزیب

    او آئی سی کومسلمانوں کے بنیادی حقوق اور مفادات کےتحفظ کےلئےاپنا کردار ادا کرناچاہئے:مریم اورنگزیب

    اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے اسلامو فوبیا کے مسئلے سے نمٹنے کی کاوشوں کو تیز کرنے اور دنیا بھر میں مسلمانوں کے بنیادی حقوق اور مسلم اقلیتوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے او آئی سی کے کردار کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامو فوبیا کا گھنائونا رجحان کم نہیں ہوا، جنوبی ایشیاءمیں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور جرائم گہری تشویش کا باعث ہیں، بھارت میں بے گناہوں کا قتل، فرقہ وارانہ فسادات اور الیکٹرانک و سوشل میڈیا پر اسلام کی منفی تصویر کشی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، ہمیں سچائی پر مبنی خبروں کے ذریعے جعلی خبروں کا مقابلہ کرنا ہوگا، پاکستان اور نائیجیریا جیسے او آئی سی کے کئی رکن ممالک دنیا میں موسمیاتی تبدیلی کے خطرے سے سب سے زیادہ دوچار ہیں، پاکستان میں حالیہ سیلاب سے تقریباً 40 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، متاثرہ ممالک میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے فنانسنگ کو بڑھایا جائے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزیہاں او آئی سی وزراءاطلاعات کانفرنس کے 12 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں 57 ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے او آئی سی وزراءاطلاعات کانفرنس کے اجلاس کے دوران پرتپاک اور فراخدلانہ مہمان نوازی پر ترکیہ کے عوام اور حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ سوشل میڈیا کا دور آنے کے بعد پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لئے او آئی سی نے نمایاں کوششیں کی ہیں، ہم ذرائع ابلاغ اور پبلک پالیسی پر او آئی سی ایکشن پروگرام 2025ءکے ساتھ اپنی بھرپور وابستگی کا اعادہ کرتے ہیں، اس ضمن میں ہم او آئی سی کے رکن ممالک کی استعداد کار میں اضافہ اور بہترین طریقے استعمال میں لانے کے پختہ عزم پر بھی کاربند ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے او آئی سی کے رکن ممالک کو درپیش چند بڑے چیلنجز اور ان سے نمٹنے میں میڈیا کے کردار کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ہمارے دور کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، حال ہی میں پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے تباہ کن سیلاب کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجہ میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔ پاکستان کا ایک تہائی سے زائد رقبہ زیر آب ہے، 33 ملین سے زائد لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے، 10 لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ پانچ لاکھ سے زائد افراد امدادی کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان میں تباہ کن سیلاب کے باعث 40 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر ریلیف و بحالی کا کام انجام دیا، ہم عالمی برادری بالخصوص او آئی سی کے رکن ممالک کے مشکور ہیں جنہوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری ریلیف سرگرمیوں میں بھرپور تعاون فراہم کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان میں تباہ کن سیلاب موسمیاتی ناانصافی کی ایک بڑی مثال ہے جس کا آج بہت سے ممالک سامنا کر رہے ہیں۔ پاکستان اور نائیجیریا جیسے او آئی سی کے کئی رکن ممالک دنیا میں سب سے زیادہ موسمیاتی تبدیلی کے خطرے سے دوچار ممالک میں شامل ہیں حتیٰ کہ ہمارا ملک میں کاربن کا اخراج نہ ہونے کے برابر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے رکن ممالک میں میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی برادری کی جانب سے بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے فوری، اجتماعی اور فیصلہ کن کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کرے اور کلائمیٹ فنانسنگ کو بڑھایا جائے۔ اسلامو فوبیا کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اسلامو فوبیا کا گھنائونا رجحان کم نہیں ہوا، ہمارے خطے، جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور جرائم بڑھتی ہوئی تشویش کا باعث ہیں۔ ہماری کوششوں کے باوجود ہندوستان میں بے گناہوں کا قتل، منصوبہ بندی کے تحت فرقہ وارانہ فسادات اور الیکٹرانک و سوشل میڈیا میں اسلام کی منفی تصویر کشی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ ہمیں اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے لئے اپنی کوششوں کو تیز کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم امہ کی نمائندہ تنظیم ہونے کی حیثیت سے او آئی سی انفرادی طور پر اس کوشش کیلئے صف اول کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے اور دنیا بھر میں مسلمانوں کے بنیادی حقوق اور مسلم اقلیتوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے اس ضمن میں چند سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اطلاعاتی استعماریت کا مقابلہ کرنا ہوگا اور ایک نیا انفارمیشن رجیم قائم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے مسلم ممالک میں آزاد میڈیا ہے جس نے اسلام کے تشخص کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں جگہ بنا لی ہے لیکن مسلم ریاستوں میں اطلاعاتی ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے ہمیں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مسلم ریاستوں کو اسلام اور مسلم معاشروں کے بارے میں غلط تصورات سے نمٹنے کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ غلط معلومات سے نمٹنے کے لئے زیادہ جمہوریت کے مزید فروغ، زیادہ عوامی شرکت، اجتماعیت میں اضافے اور اظہار رائے کی آزادی پر توجہ مرکوز کرنا ہمارا مقصد ہونا چاہئے۔ حساس مگر عالمی سطح پر نمایاں ہونے والے یہ موضوعات ہمارا ہدف ہونے چاہئیں جنہیں مسلمانوں اور مسلمان ممالک کے خلاف غلط اور گمراہ کن نیت سے استعمال کیا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں فیک نیوز کا سچی خبروں کے ذریعے مقابلہ کرنا ہوگا، جدید ٹیکنالوجی سے سوشل میڈیا پر رجحان بنانے والے طریقوں کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی بنانا ہوگی، ہمیں عوام کے حقیقی جذبات کی ترجمانی کی راہ ہموار کرنا ہوگی، روبوٹس سے عوامی رائے پر اثراندا ہونے کے ہتھکنڈوں سے نمٹنا ہوگا، ٹرولز کی جگہ حقیقی رائے شماری اور آگہی کے طریقوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی، ایسے قوانین کی ضرورت ہے جس کے تحت نفرت پھیلانے اور دھوکہ دہی کرنے والوںکی نشاندہی ہو اور انہیں سزا مل سکے، ان اقدامات کے ساتھ ساتھ بنیادی آزادیوں کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کا عالمی دن منانے کی قرارداد کی منظوری بڑا قدم ہے، ہمیں اس قرارداد سے پیدا ہونے والی تحریک کی رفتار اور دائرے میں وسعت لانے کے لئے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ”او آئی سی“ کے سیکریٹری جنرل سے درخواست کرتے ہیں کہ اسلاموفوبیا کے لئے خصوصی نمائندے کا تقرر کریں، اسلاموفوبیا کے لئے نمائندہ خصوصی کے تقرر کا فیصلہ اسلام آباد میں او آئی سی وزرا خارجہ کونسل کے اجلاس میں منظور کردہ قرار داد میں ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کی قیادت میں ماہرین کا پینل تشکیل دیا جائے جو اسلامو فوبیا کے واقعات سے نمٹنے کے لئے تنظیم کو تجاویز دے۔ اس پینل کے ذریعے اسلامو فوبیا کا نشانہ بننے والوں کی حمایت کی جائے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کشمیری اور فلسطینی عوام کی ثابت قدمی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے رکن ممالک کے میڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری اور فلسطینی عوام کے مصائب اور جرات مندانہ جدوجہد کی زیادہ سے زیادہ کوریج جاری رکھیں جو بھارتی اور اسرائیلی قابض افواج کے ہاتھوں مسلسل جارحیت اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے رکن ممالک کا میڈیا منظم خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ مقبوضہ علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انسانی المیوں کی حقیقت اور شدت سے دنیا کو ترجیحی بنیادوں پر آگاہ کرے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کی کوششوں کے لئے آگے بڑھ رہا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ خطے میں پائیدار امن اور طویل المدتی ترقی کے لئے پاکستان کی جدوجہد کا بھرپور ادراک کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے رکن ممالک کو اسلام اور اس کی تعلیمات کی حقیقی تصویر پیش کرنے، رواداری اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے اور انتہاءپسندی و دہشت گردی کو مسترد کرنے کے لئے وسیع پیمانے پر میڈیا ٹولز اور آپشنز کو استعمال کرنے کی کوششوں کو مربوط کرنا چاہئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے اس ضمن میں سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں او آئی سی کے رکن ممالک میں میڈیا تنظیموں کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنی چاہئے، ہمیں اسلام کی حقیقی روح کے مطابق غلط معلومات کے تدارک اور رواداری جیسی اسلامی اقدار کے فروغ کے لئے مشترکہ اسلامک میڈیا ایکشن انسٹیٹیوشنز قائم کرنے چاہئیں۔

    انہوں نے کہا کہ ”او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ کا ڈیپارٹمنٹ آف انفارمیشن“ غلط معلومات اور اسلامو فوبیا کے تدارک کے لئے اجتماعی کوششوں کی قیادت کرے۔ یہ رکن ممالک سے صحافیوں کا انتخاب کر سکتا ہے اور متعلقہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے تحقیقی صحافت اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ کی سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے جموں و کشمیر اور فلسطین کے دوروں کا اہتمام کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کو ثقافتی اور میڈیا وفود کے تبادلوں کے لئے ٹھوس اہداف اختیار کرنے چاہئیں، ہم اپنی ثقافتوں اور عوام کی باہمی افہام و تفہیم کیلئے سکرین ٹورازم کی بڑی صلاحیت بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سوشل میڈیا اور سائبر اسپیس کے دور میں غلط معلومات اور اسلامو فوبیا پر ایک ورکنگ گروپ قائم کرنا چاہئے، ورکنگ گروپ تجربات کو شیئر کرنے اور ان مسائل پر تفصیل سے بات کرنے کے مقصد کے ساتھ باہم نشست کے طریقہ کار کے تحت کام کر سکتا ہے، پلیٹ فارم کو بہترین طریقوں کو بروئے کار لانے کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان ورکنگ گروپ کے پہلے اجلاس کی میزبانی کی پیشکش کرتا ہے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ او آئی سی وزراءاطلاعات کانفرنس با معنی غور و خوض غلط معلومات اور اسلامو فوبیا سے نمٹنے کیلئے اجتماعی کوششوں اور باہمی تعاون کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

  • دو تہائی اکثریت نہ ملی تو حکومت نہیں لوں گا،عمران خان کی 30سےزائد مفتیان اورجید علمائےکرام سےگفتگو

    دو تہائی اکثریت نہ ملی تو حکومت نہیں لوں گا،عمران خان کی 30سےزائد مفتیان اورجید علمائےکرام سےگفتگو

    اسلام آباد:دو تہائی اکثریت نہ ملی تو حکومت نہیں لوں گا،عمران خان کی 30سےزائد مفتیان اورجید علمائےکرام سےگفتگو ،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اگر مجھے دو تہائی اکثریت نہ ملی تو حکومت نہیں لوں گا، انہوں نے نااہلی کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ توشہ خانہ کا کیا کریں گے؟ آخر میں تحائف بیچنے ہی پڑیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ اس بار ہم بہت تیاری کے ساتھ لانگ مارچ کیلیے آرہے ہیں، حکومت کچھ بھی کرلے عوام کے سمندر کو نہیں روک سکے گی۔

    انہوں نے کہا کہ ملک میں چوری اور کرپشن کو روکنا عمران خان کے علاوہ کسی کی ذمہ داری نہیں؟ توشہ خانہ کا کیا کریں گے؟ آخر میں بیچنے ہی پڑیں گے نہ‘۔ میں چیلنج کرتا ہوں نااہلی کا فیصلہ عدالت میں نہیں ٹھرے گا کیونکہ اس کی کوئی قانونی اہمیت نہیں ہے اور نہ ہی یہ ثابت کرسکیں گے، ، الیکشن کمیشن بزد ل اور ڈرپوک ہے فیصلے نہیں کرسکتا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ بلاول بھٹو کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتا کیونکہ اُس نے زندگی میں ایک دن بھی کام نہیں کیا، بھارت کے وزیر خارجہ کے مقابلے میں بلاول بچہ ہے۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف اور زرداری نے بھی توشہ خانہ سے گاڑیاں لیں، نواز شریف نے 17 فیکٹریاں بنائیں، یہ توشہ خانہ کیس میں عدالت کو ایک چیز نہیں بتاسکے اور نہ ہی اپنی بے گناہی ثابت کرسکے۔

    عمران خان نے کہا کہ جو بائیڈن نے پاکستان کو دنیا کا خطرناک ملک قرار دیا، کہاں ہے سفارتکاری، مجھے دو تہائی اکژیت نہ ملی کو حکومت نہیں لوں گا۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ سائفر میں صاف لکھا ہے کہ عمران خان کو ہٹا کر شہباز شریف کو وزیر اعظم لے کر آؤ۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ 6 تاریخ کو مراسلہ آتا ہے کہ 7 تاریخ کو عدم اعتماد آ جاتی ہے، نواز شریف کی واپسی سے ہمارا فائدہ ہوگا۔

    عمران خان نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف سے نکلنے میں ہماری ٹیم نے بہت محنت کی، مسلم لیگ ن اور پی پی کو کرپشن کی وجہ سے ہٹایا گیا، اب مافیا نے ملک کو کنٹرول کرلیا۔

    قبل ازیں سنی اتحاد کونسل پاکستان اور متحدہ علماء بورڈ پنجاب کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا کی قیادت میں سنی اتحاد کونسل سے وابستہ 30 سے زائد جید مفتیانِ کرام کے وفد نے سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ان کی رہائش گاہ بنی گالہ پر اہم ملاقات کی۔ اس موقع پر سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور سینیٹر شبلی فراز بھی موجود تھے۔

    ملاقات میں ملکی صورتحال، لانگ مارچ اور انتخابات کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔ عمران خان نے صاحبزادہ حامد رضا کی بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے کوششوں کو بھی سراہا۔

    سنی اتحاد کونسل پاکستان اور متحدہ علماء بورڈ پنجاب کے 30 مفتیان کرام نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف دوبارہ اقتدار میں آکر ملک میں نظام مصطفیﷺ کا عملی نفاذ کرے۔’علما کرام نوجوان نسل میں امن پسندی بیدار کرنے کیلیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں‘

    عمران خان نے مفتیانِ کرام کے وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انبیاء کرام علیہ السلام کے ناموس کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر قانون سازی ہونی چاہیے، پاکستان کی سلامتی و استحکام کے لیے دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کا خاتمہ ضروری ہے۔

    انہوں نے کہا کہ محب وطن قوتوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے، مستحکم پاکستان عالم اسلام کی ضرورت ہے، علماء نوجوان نسل میں امن پسندی بیدار کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں، مغربی قوتیں مسلمانوں کے جذبہ عشقِ رسول سے خائف ہیں۔

    مفتیان کرام کے وفد نے کہا کہ اسلامو فوبیا کے متعلق عمران خان کی تاریخی قرارداد کی او آئی سی کے اجلاس سے منظوری اور 15 مارچ کو اسلامو فوبیا کا عالمی دن قرار دینا عظیم کارنامہ ہے، تعلیمی نصاب میں قرآن و سنت، ناظرہ، ترجمہ قرآن لازمی، رحمتہ اللعالمین اتھارٹی کا قیام اور دنیا بھر میں اسلام کا درست تشخیص اجاگر کرنے اور ڈیڑھ ارب مسلمانوں کا مقدمہ اقوام متحدہ میں لڑنا قابل ستائش اقدامات ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف دوبارہ اقتدار میں آکر ملک میں نظام مصطفیﷺ کا عملی نفاذ کرے کیونکہ تمام مسائلِ کا حل نظام مصطفیﷺ کے نفاذ میں مضمر ہے۔علاوہ ازیں صاحبزادہ حامد رضا نے عمران خان سے ون آن ون ملاقات کی۔ دو گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات میں لانگ مارچ اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی طے کی گئی۔

    صاحبزادہ حامد رضا نے عمران خان کو یقین دلایا کہ ہم اہل وفا لوگ ہیں اور تحریک انصاف اور عمران خان کے سیاسی اتحادی ہیں، مشکل کی اس گھڑی میں تحریک انصاف کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔حامد رضا نے مزید کہا کہ عمران خان کی حقیقی آزادی کی تحریک میں ان کا ساتھ دیتے رہیں گے، سنی اتحاد کونسل نے اپنی تنظیمات اور کارکنانِ کو لانگ مارچ میں شرکت کی ہدایات جاری کردی ہیں، ہر محاذ پر سنی اتحاد کونسل تحریک انصاف کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔