Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پاکستان کو عظیم ملک بنانا مشکل ہے ناممکن نہیں،وزیراعظم

    پاکستان کو عظیم ملک بنانا مشکل ہے ناممکن نہیں،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگر ہم یہ فیصلہ کر لیں کہ پاکستان کو عظیم تر ملک بنانا ہے تو یہ کام مشکل ضرور ہے تاہم ناممکن نہیں، بار اور بنچ اگر اکھٹے نہیں ہوں گے تو آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور انصاف کی بات کون کرے گا، سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے ہم سب نے اپنا کردار اداکرنا ہوگا، اگر ہم نے اپنے آپ کو نہ بدلا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی.

    وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف سے کئے معاہدے کی پاسداری نہیں کی،75 سال بعد آج بھی کشکول اٹھائے پھر رہے ہیں اور ہمارے ہمسائے ہم سے معاشی اور سماجی اعتبار سے بازی کے گئے، وکلا کو الاٹمنٹ لیٹرز کے حصول پر مبارکباد پیش کرتے ہیں، اگر ہم کمر باندھ لیں تو پاکستان ایک عظیم ملک بن جائے گا تاہم یہ تقاریر سے نہیں عمل اور عزم سے ہو گا، یہاں وسائل، اذہان، انسانی قوت موجود ہے، سردیوں میں گیس کے انتظام میں لگے ہیں، جب گیس سستی ترین تھی ہم نے پرواہ نہیں کی، دنیا نے طویل المدتی معاہدے کئے، آج 40 سنٹ میں گیس مہنگی مل رہی ہے، آپ ایسے پیشہ سے وابستہ ہیں جو باوقار ہے۔

    وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وکلاء کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا ہے اور ایک مکمل ضابطہ کے تحت قرعہ اندازی کے بعد الاٹیز میں الاٹمنٹ لیٹر تقسیم کئے گئے، اس ہائوسنگ کالونی میں پلاٹ حاصل کرنے والوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، وزیر قانون اور وزیر ہائوسنگ نے اس ضمن میں بھرپور کام کیا، اب یہ پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، اس ہائوسنگ سکیم میں ترقیاتی کاموں کے حوالہ سے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پورے ملک میں سیلاب نے ایک تباہی مچائی ہوئی ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی، ملک بھر سے آئے ہوئے وکلاء نے اپنے علاقوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والی شدید تباہی کا مشاہدہ کیا ہو گا، یہ قدرتی آفت ایک ایسے وقت میں آئی جب پہلے ہی ملک ڈیفالٹ ہونے کے قریب تھا، حکومت نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا اور معاشی عدم استحکام کو کسی حد تک کنٹرول کیا لیکن مہنگائی اپنے عروج پر ہے، اس میں کسی کو کوئی شک نہیں، 11 اپریل کو جب حکومت تبدیل ہوئی تو ڈیڑھ ماہ ہم فیصلے کرنے میں شش و پنج کا شکار تھے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ میں یہاں سیاست نہیں قومی امور پر بات کرنے کیلئے آیا ہوں، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی گذشتہ حکومت نے پاسداری نہیں کی اور بری طرح اس کی دھجیاں بکھیریں جس پر آئی ایم ایف نے گذشتہ حکومت کی طے کردہ شرائط پر عملدرآمد سے پروگرام کو مشروط کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ وکلاء برادری کے سامنے یہ سوال رکھتے ہیں کہ کیا آج 75 سال بعد پاکستان جس مقام پر کھڑا ہے کیا پاکستان اس لئے معرض وجود میں آیا تھا اور قائداعظم جو ایک ماہر قانون دان تھے انہوں نے جس بصیرت اور وژن کے ساتھ علامہ اقبال کے ساتھ مل کر پاکستان کا خواب دیکھا تھا اور اس کیلئے عظیم تحریک چلائی تھی اور لاکھوں لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی ان قربانیوں کے طفیل پاکستان معرض وجود میں آیا۔

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا دورہ کیا، اس وقت بھی اس علاقہ میں پانی کھڑا ہے، پٹ فیڈر کینال کی بھل صفائی کیلئے اقدامات جاری ہیں، وہاں لاکھوں لوگوں کو پینے کا پانی نہیں مل رہا، لاکھوں لوگ کھلے آسمان تلے اپنے پیاروں سے بچھڑ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، آپ سے استدعا ہے کہ آپ ملک میں قانون کی حکمرانی اور پاسداری چاہتے ہیں اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ یہاں نظریہ ضرورت بھی دریافت ہوا، پاکستان ہی نہیں دنیا کی تاریخ میں وکلاء نے اپنی عظیم تحریک سے ججز بحالی کی تحریک چلائی، وکلاء کو یہ مقام جدوجہد سے ملا ہے، انہوں نے اس کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں، ان تمام تر ترجیحات اور کامیابیوں کے بعد آج 75 سال بعد ہم ایک دائرے میں ہی چل رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جوہری طاقت ہونے کے بعد پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہو گیا ہے لیکن معاشی اعتبار سے بہت سے چھوٹے ممالک ہم سے آگے نکل چکے ہیں، آج 75 سال بعد بھی ہم کشکول لے کر پھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گیس سے چولہے بھی جلتے ہیں، گاڑیاں بھی چلتی ہیں اس کی قلت کا سامنا ہے، قوم ہم سے یہ سوال پوچھتی ہے کہ قائداعظم کا خواب آج بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا اور آج بھی ہم اس ملک کے اندر غربت کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، بے روزگاری کے خلاف لڑ رہے ہیں، جن ممالک کے ساتھ ہمارا مقابلہ تھا، ہندوستان میں روپے کی قدر ہم سے کم تھی، آج وہ ہم سے بہت آگے ہے، ہم چاہتے ہیں کہ تمام طبقات جو تاریخ کا رخ موڑنے کی استعداد کے حامل تھے ان سے قوم یہ سوال پوچھتی ہے کہ ہمارا مستقبل کیا ہے، سیلاب متاثرین کی زندگی مشکلات کا شکار ہے، 6 لاکھ متاثرہ علاقوں کی خواتین حاملہ ہیں، ان کیلئے کتنی مشکلات ہیں، یہاں بیٹھ کر اس کا اندازہ نہیں کر سکتے، سیلاب سے تین کروڑ سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں، اس وقت موسم گرم ہے تاہم موسم سرما میں انہیں شدید مشکلات درپیش ہوں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت اب نہیں یا کبھی نہیں والی صورتحال ہے، اگر قوم کو ہم نے فائدہ نہ پہنچایا اور ایثار و قربانی کا مظاہرہ نہ کیا تو قوم ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بار اور بنچ اگر اکٹھے نہیں ہوں گے تو انصاف اور قانون و آئین کی حکمرانی کی بات کون کرے گا، آئین پر حملہ آور ہونے والوں کے خلاف کون کھڑا ہو گا، وکلاء کی تاریخ اس سے بھری پڑی ہے، آج یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ ہم سے بعد میں آزاد ہونے قومیں ہم سے آگے کیسے بڑھ گئیں بطور وزیراعظم اس کا جواب سب سے پہلے مجھے دینا ہے، وکلاء سیلاب میں گھرے ان لاکھوں لوگوں کے بارے میں بھی سوچیں جن کے گھر زمین بوس ہو چکے ہیں، جو کھلے آسمان تلے پڑے ہیں، لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں، اس دکھی انسانیت کے بارے میں بھی ضرور سوچیں، اگر ہم فیصلہ کر لیں کہ ہم نے اس ملک کی تقدیر بدلنی ہے مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ وزیراعظم نے اس موقع پر وکلاء کیلئے کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر سینئر وکلاء میں الاٹمنٹ لیٹر بھی تقسیم کئے۔

  • طیاروں کے پرزوں کی چوری:سی اے اے حکام کا تحقیقات کا اعلان:کیاسی اے اے اپنے لوگوں کومجرم قراردے گا؟

    طیاروں کے پرزوں کی چوری:سی اے اے حکام کا تحقیقات کا اعلان:کیاسی اے اے اپنے لوگوں کومجرم قراردے گا؟

    کراچی :طیاروں کے پرزوں کی چوری:سی اے اے حکام کا تحقیقات کا اعلان:کیاسی اے اے اپنے لوگوں کومجرم قراردے گا؟تحقیقات کے اعلان کے ساتھ ہی یہ سوالات آنے شروع ہوگئے ہیں کہ کیا سی اے اے اپنی انتظامی غلطی تسلیم کرلے گا اور پھرکیا اپنے ان لوگوں کو مجرم قراردے کرسزا دے پائے گا جوسی اےاے میں بڑے بااثرہیں ،

    اس پر تو ابھی قیاس آرائی ہی کی جاسکتی ہے ، لیکن فی الحال دوسری طرف کراچی ایئر پورٹ پر طیاروں کے پرزوں کی چوری کی خبر پر سی اے اے کے اعلیٰ حکام کی جانب سے تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ سی اے اے ترجمان کا کہنا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات مکمل کر کے میڈیا کو آگاہ کریں گے، 2018 میں ہینگر سیل کرتے وقت ایک طیارے کا پروپائیلر موجود نہیں تھا،اس میں چوری کے شواہد نہیں ملے۔

    ترجمان سی اے اے نے بتایا کہ دوسرے طیارے میں جو پرزے کم ہیں ان کا علم نہیں، جن طیاروں کے پرزے غائب ہیں ان کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    ترجمان سی اے اے کا کہنا تھا کہ ڈھائی کروڑ روپے کے نادہندہ ہونے پر ایوی ایشن کمپنی کو سیل کیا گیا، طیارے سے پرزوں کی چوری کا میڈیا کو بتانے کی بجائے سی اے اے کو بتایا جاتا تو بہتر تھا، ترجمان سی اے اے نے کہا کہ میڈیا بریفنگ میں خود صحافیوں نے طیاروں میں سے پرزے غائب دیکھے جبکہ سی اے اے ترجمان نے صرف ایک طیارے کا تصویری رکارڈ پیش کیا۔

    ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہے کہ کے کے ایوی ایشن کے جہازوں میں مزید سامان غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے، کے کے ایوی ایشن کے ایک طیارے میں 6 ہزار امریکی ڈالر مالیت کا ریڈیو نیویگیشن آلہ غائب تھا۔ایوی ایشن ذرائع نے مزید بتایا کہ طیاروں کو دوبارہ پرواز کے قابل بنانے میں لاکھوں ڈالر خرچ آئے گا جبکہ طیاروں کو اڑانے کے لیے کم سے کم ایک سال لگ جائے گا۔

     

    یاد رہے کہ اس سے پہلے ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نےچیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کرتے ہوئے کہا تھاکہ جناب چیف جسٹس صاحب جب حساس علاقوں سے جہازوں کے حساس پرزے چوری ہونے لگیں‌ توپھرملک کااللہ ہی حافظ ہے:جہازوں کے مالکان ، ماہرین اور فضائی عملے نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اس اہم مسئلے پرتحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے ، ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایئرپورٹ جوکہ ہماری سیکورٹی اورسلامتی کے حوالے سے بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں جہاں فوجی اورسویلین جہازوں کوبطور امانت روکا جاتا ہےاگریہاں یہ قومی تنصیبات اور یہاں موجود ہوائی جہاز ہی محفوظ نہیں تو باقی کیا بچے گا

     

    ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے چیف جسٹس آف پاکستان اور دیگرسیکورٹی اداروں کے سربراہان سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ کس قدر چوری ،کرپشن اور سینہ زوری بڑھ گئی ہے کہ سی اے اے کی تحویل میں جہازوں کے پرزے اگرچوری ہونے لگے ہیں تو یہ واقعی ایک لمحہ فکریہ ہے،جس کی فکراس ملک کے ذمہ داران کو کرنی چاہیے ، آج اگرجہازوں کے قیمتی اور حساس پرزے چوری ہونے لگے ہیں تو کل کو تو کوئی بڑا حادثہ ہوسکتا ہے ، پاکستان سول ایوی ایشن جیسے ادارے کی کریڈبلٹی ہی مشکوک ہوگئی جس نے حفاظت کرنی تھی وہ ہی اس باغ کو اجاڑنے لگے ہیں‌،

     

    پاکستان ایئر کرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے اس قومی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہازوں کے پرزے چوری ہونے کے حوالے سے پاکستان کے مستند میڈیا ذرائع بھی دعویٰ کرچکے ہیں کہ سی اے اے کے ملازمین خود ہی اس باغ کو اجاڑ رہے ہیں تو وہ کیسے یہ گناہ اور غلطی تسلیم کریں گے ،ایسویسی ایشن نے دکھ کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں ایرپورٹ ایریا سے کے کے ایوی ایشن کے جہازوں سے پرزے چوری ہونا سی اے اے کی نا اہلی ہے

  • الیکشن کمیشن کا سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ کرانے کا اعلان

    الیکشن کمیشن کا سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ کرانے کا اعلان

    اسلام آباد:الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے ضمنی حلقوں میں الیکشن کے اعلان کے ساتھ ہی سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ کرانے کا اعلان کردیا ہے، اس حوالے سے الیکشن کمیشن کاکہنا ہے کہ تیاری شروع کردی گئی ہے

    اس سے پہلے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ قومی اسمبلی کے 8 حلقوں میں ضمنی انتخاب 16 اکتوبر کو کرانے کا امکان ہے۔

    ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ پر بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے صرف ایک نشست این اے 246 کا نوٹی فکیشن معطل کیا ہے۔الیکشن کمیشن کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 16 اکتوبر تک قانون نافذ کرنے والے ادارے دستیاب ہوں گے۔

    ذرائع نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے 8 حلقوں میں ضمنی انتخابات کی تیاریاں کرنے کی ہدایت کردی اور ممکنہ طور پر 16 اکتوبر کو ضمنی انتخابات ہوں گے، اس حوالے سے کمیشن جلد حتمی تاریخ کا اعلان کرے گا۔

    ذرائع نے بتایا کہ این اے 22 مردان، این اے 24 چارسدہ، این اے 31 پشاور، این اے 45 کرم، این اے 108 فیصل آباد، این اے 118 ننکانہ صاحب، این اے 237 ملیر اور این اے 239 میں ضمنی الیکشن ہوگا۔

    اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی شکور شاد کو ڈی سیٹ کرنے کا نوٹی فکیشن معطل کرتے ہوئے اسپیکر اور قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا تھا۔

    واضح رہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں سیلاب کے باعث ملک کے مختلف حلقوں میں 11، 25 ستمبر اور 2 اکتوبر کو قومی و صوبائی اسمبلی کے 13 حلقوں میں ہونے والے ضمنی الیکشن ملتوی کردیے گئے تھے۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • سعودی سفیر نواف المالکی سیلاب زدگان کی مدد کےلیے کراچی پہنچ گئے

    سعودی سفیر نواف المالکی سیلاب زدگان کی مدد کےلیے کراچی پہنچ گئے

    کراچی:سعودی سفیر نواف المالکی سیلاب زدگان کی مدد کےلیے سندھ کے دورے پر ہیں اور اس سلسلےمیں وہ آج کراچی پہنچ چکے ہیں جہاں وزیراعلٰی سندھ نے ان کا استقبال کیا،سعودی سفیر نے پاکستان مین سیلاب سے ہونے والی تباہی پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا

    سیلاب متاثرین کی مدد کے سلسلے میں اس دورے کا ذکرپاکستان میں سعودی سفارتخانے کی طرف سے بھی کیا گیا ، سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹویٹر پرپیغام جاری کرتے ہوئے سعودی سفارتخانے کی طرف سے کہا گیا ہے کہ صوبہ سندھ کے وزیر اعلی جناب سید مراد علی شاہ نے آج وزیر اعلی آفس میں خادم حرمین شریفین کے سفیر برائے پاکستان جناب نواف المالکی کا استقبال کیا۔

     

     

     

    سفارتخانے کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں متعین سعودی سفیر نواف المالکی نےسیلاب سے ہونے والے جانی نقصان پر اظہار تعزیت کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ مملکت ہمیشہ پاکستانی بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

     

     

     

    دوسری طرف سیلاب زدگان کیلئے امدادی سامان کی آمد جاری ہے، سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات سے امدادی پروازیں کراچی ایئرپورٹ پہنچ گئیں۔

     

     

    سعودی عرب سے دوسری امدادی پرواز کراچی پہنچ گئی، کراچی ایئرپورٹ پر سعودی سفیر،قونصل جنرل، این ڈی ایم اے نمائندوں سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

    امدادی سامان پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی، کراچی میں سعودی عرب کے قونصل جنرل بندر فہد الدیل نے این ڈی ایم اے کے نمائندوں کے ہمراہ وصول کیا۔

    دوسری جانب سیلاب زدگان کیلئے متحدہ عرب امارات کی جانب سے 23 ویں پرواز بھی کراچی پہنچ گئی، اماراتی ایئرفورس کا طیارہ امداد لے کر کراچی ایئرپورٹ پہنچا جہاں دبئی ہاوس عملے،این ڈی ایم اے اور پاک فوج افسران نے استقبال کیا۔

    یاد رہے کہ اب تک دنیا بھر سے 62 امدادی پروازیں پاکستان کے سیلاب زدگان کیلئے کراچی پہنچیں، یو اے ای سے 23،اقوام متحدہ کی یو اے ای سے 13، ترکی سے 11،چین سے 4، قطرسے 3،سعودی عرب سے2 پروازیں کراچی پہنچیں جبکہ ازبکستان، فرانس، ترکمانستان، نیپال،جارڈن اور یونیسف کی جانب سے ایک ایک امدادی پرواز کراچی ایئرپورٹ پہنچ چکی ہیں۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • حساس علاقوں سےجہازوں کےحساس پرزوں کاچوری ہونا    لمحہ فکریہ:چیف جسٹس صاحب قومی اثاثوں کوبچالیں

    حساس علاقوں سےجہازوں کےحساس پرزوں کاچوری ہونا لمحہ فکریہ:چیف جسٹس صاحب قومی اثاثوں کوبچالیں

    کراچی :چیف جسٹس صاحب جب حساس علاقوں سے جہازوں کے حساس پرزے چوری ہونے لگیں‌ توپھرملک کااللہ ہی حافظ ہے:جہازوں کے مالکان ، ماہرین اور فضائی عملے نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اس اہم مسئلے پرتحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے ، ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایئرپورٹ جوکہ ہماری سیکورٹی اورسلامتی کے حوالے سے بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں جہاں فوجی اورسویلین جہازوں کوبطور امانت روکا جاتا ہےاگریہاں یہ قومی تنصیبات اور یہاں موجود ہوائی جہاز ہی محفوظ نہیں تو باقی کیا بچے گا

     

    ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے چیف جسٹس آف پاکستان اور دیگرسیکورٹی اداروں کے سربراہان سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ کس قدر چوری ،کرپشن اور سینہ زوری بڑھ گئی ہے کہ سی اے اے کی تحویل میں جہازوں کے پرزے اگرچوری ہونے لگے ہیں تو یہ واقعی ایک لمحہ فکریہ ہے،جس کی فکراس ملک کے ذمہ داران کو کرنی چاہیے ، آج اگرجہازوں کے قیمتی اور حساس پرزے چوری ہونے لگے ہیں تو کل کو تو کوئی بڑا حادثہ ہوسکتا ہے ، پاکستان سول ایوی ایشن جیسے ادارے کی کریڈبلٹی ہی مشکوک ہوگئی جس نے حفاظت کرنی تھی وہ ہی اس باغ کو اجاڑنے لگے ہیں‌،

     

    پاکستان ایئر کرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے اس قومی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہازوں کے پرزے چوری ہونے کے حوالے سے پاکستان کے مستند میڈیا ذرائع بھی دعویٰ کرچکے ہیں کہ سی اے اے کے ملازمین خود ہی اس باغ کو اجاڑ رہے ہیں تو وہ کیسے یہ گناہ اور غلطی تسلیم کریں گے ،ایسویسی ایشن نے دکھ کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں ایرپورٹ ایریا سے کے کے ایوی ایشن کے جہازوں سے پرزے چوری ہونا سی اے اے کی نا اہلی ہے،

    ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کراچی ایئرپورٹ کے حساس علاقے سے جہازوں کے قیمتی اور حساس پورزے چوری ہونے کے واقعات کی سخت مذمت کرتے ہیں، پاکستان ایئر کرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن کا کے کے ایوی ایشن کے جہازوں کے پرزے چوری ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں گے ،اگرآج اس ملک کے قیمتی اداروں کو تباہ کرنے والوں کا راستہ نہ روکا گیا تو کل کو یہ سب کچھ تباہ کردیں گے

    پاکستان ایئر کرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن کے ماہرین ، فضائی عملے کے اراکین کا کہنا ہے کہ کے کے ایوی ایشن کے جہازوں کے پرزے چوری ہونے کا معاملہ افسوسناک عمل ہے، کے کے ایوی ایشن نے سیکڑوں پائلٹس اور انجینئرز کو تربیت دی، ایوی ایشن صنعت میں کے کے ایوی ایشن کا الگ مقام تھا، جسے سی اے اے جان بوجھ کر تباہ کردیا، کراچی ایرپورٹ کے جنرل ایوی ایشن کے تمام ایریا کی سیکورٹی سی اے اے کے ذمہ داری ہے، سی اے اے کے سیکورٹی کمپنی کے گارڈز 24 گھٹنے تعینات ہوتے ہیں،

    پاکستان ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے افسوس کااظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ جہازوں کے پرزے اور دیگر سامان چوری ہونا سی اے اے کی سیکورٹی پر سوالیہ نشان ہے، سی اے اے حکام نے غلط بلنگ کرکے کے کے ایوی ایشن کو بند کیا، اسکی ذمہ دار سی اے اے ہے، سی اے اے کا ملک میں ایوی ایشن کمپنیوں کو بند کرنے کا طریقہ واردات پرانا ہے، ماضی میں بھی اسی طرح کے غلط چارجر لگا کر کئی ایوی ایشن کمپنیز کو بند کیا جاچکا،سیل کی گئی ایوی ایشن کمپنی کے جہازوں کی سیکورٹی اور حفاظت کا ذمہ دار سی اے اے ہے،کے کے ایوی ایشن کے جہازوں کے پرزے چوری ہونے کی زمہ داری سی اے اے سیکورٹی ہے،کے کے ایوی ایشن سے جہازوں کے پرزے چوری ہونا سیکورٹی کے ناقص انتظامات کا واضح ثبوت ہے،

    پاکستان ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن کے ماہرین ، فضائے عملے کے اراکین نے چیف جسٹس آف پاکستان کواس معاملے کی حساسیت کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکورٹی کے ناقص انتظامات سے ایرپورٹ ایریا میں بڑا واقعہ رونما ہوسکا یے،ایسوسی ایشن سی اے اے کے خلاف قانونی چارہ جوئی مین کے کے ایوی ایشن کی مکمل طور مالی معاونت کرے کرے گی،پاکستان ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطے میں ہے، ایسوسی ایشن کی قانونی ٹیم اس معاملے کو دیکھ رہی ہے،

    پاکستان ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے قومی چوری اور نقصان کےسدباب کے حوالے سے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اور چیف جسٹس سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہیں، سی اے اے کے کے ایوی ایشن کمپنی کے چوری ہونے والے پرزوں اور دیگر اثاثوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ کرے، سی اے اے پر ذمہ داری عاید ہوتی ہے، دنیا بھر میں ریگولیٹر کی زمہ داری ایوی ایشن صنعت کو فروغ دینا ہے،لیکن پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی ملک میں ایوی ایشن کے صنعت کو تباہ کر رہی ہے،پاکستان سی اے اے کرپشن، بد انتظامی اور نااہلی کے طور جانا جاتا ہے،

    پاکستان ایئر کرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے اداروں کی ناقص کارکردگی کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہی وجہ ہے پاکستان سی اے اے کئی آفیشلز اینٹی کرپشن کورٹس میں مقدمات کا سامنا کررہے ہیں،چند برسوں میں سی اے اے نے ملک کی 20 ایوی ایشن کمپنیز کو تباہ کرکے بند کردیا، پاکستان سی اے اے کی وجہ ملکی ایوی ایشن انڈسٹری تاریکی میں ڈوب چکی ہے،

     

    یہ بھی یاد رہے کہ اس اسکینڈل کے منظرعام پرآنے کے بعد سول ایوی ایشن کی طرف سے چوری کی وارداتوں کی تردید کی گئی ہے لیکن اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ وہ جو سامان غائب ہوا ہے کیوں ہوا، کس نے کیا اور کیوں کیا، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ سول ایوی ایشن کا عملہ اس بڑی واردات سے بچنے کے لیے اب کئی دلائل اورتاویلیں پیش کرکے جان چھڑانے کی کوشش کرے گا

  • کوہِ نور!! وہ ہیرا جو سب کو چاہیے — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کوہِ نور!! وہ ہیرا جو سب کو چاہیے — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کچھ دن قبل برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کی وفات کے بعد سوشل میڈیا پر یہ مہم زور پکڑ رہی ہے کہ برطانیہ کو کوہِ نور ہیرا برصغیر کو واپس کرنا چاہئے۔

    کوہِ نور کا ہیرا دنیا کے مہنگے ترین ہیروں میں شمار ہوتا ہے۔ اسکی قیمت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ کچھ ہیرا شناس اسے انمول کہتے ہیں۔ مگر بعض اندازوں کے مطابق اسکی قیمت تقریباً 400 ملین ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ یعنی آئی ایم ایف کی پاکستان کو موجودہ قسط کا تقریباً آدھا حصہ۔

    کوہِ نورفارسی کا لفظ ہے جسکے معنی ہیں روشنی کا پہاڑ۔ اس ہیرے کو کب دریافت کیا گیا۔ اسکا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اس حوالے سے کئی مفروضے قائم ہیں۔مگر غالباً اسے بارویں یا تیرویں صدی میں بھارت کی دکن کے قریب کانوں سے دریافت کیا گیا۔

    یہ ہیرا موجودہ حالت میں تقریباً 105.6 کیرٹ ہے مگر اس سے پہلے یہ 186 کیرٹ تھا۔ اسے بیسویں صدی میں تراش کر اسکی خوبصورتی میں اضافہ کیا گیا۔ اسکا وزن اس وقت تقریبا 21.2 گرام ہے۔

    یہ ہیرا مغلوں کے پاس بھی تھا کیونکہ اسکا ذکر 1526 میں بابر کی لکھی گئی سوانح حیات تزکِ بابری میں بھی ہے۔مگر بعض محقیقین کا خیال ہے کہ تزک بابری میں اس ہیرے کا ذکر نہیں کسی اور پتھر کا ذکر ہے۔ اور یہ ہیرو دراصل بابر کے بیٹے ہمایوں کو گوالیارہ کے گورنر نے پہلی پانی پت کی لڑائی کی جیت کی خوشی میں تحفتاً دیا۔

    1739 میں جب ایران سے آئے حملہ آوار نادر شاہ نے دیلی پر قبضہ کیا تو اسکے سامنے یہ ہیرا لایا گیا جس نے اسے کوہِ نور کا نام دیا۔ نادر شاہ کی وفات کے بعد اُسکے افغانستان سے آئے جرنیل احمد شاہ درانی نے دہلی پر سلطنت قائم کی اور ہیرا درانی سلطنت میں رہا۔ 1813 میں سکھوں کے درانی سلطنت کے خاتمے پر آخری درانی بادشاہ شاہ شجا کو بھارت سے بھاگنا پڑا اور یہ ہیرا بطور تحفہ راجہ رنجیت سنگھ کو دینا پڑا۔ یہ ہیرا رنجیت سنگھ سے مہاراجہ دلیپ سنگھ کو ملا۔

    جب انگریزوں نے 1849 میں سکھ انگریز جنگ کے اختتام پر پنجاب ہر قبضہ کیا تو یہ ہیرا اُنکے ہاتھ لگا اور اسے ممبئی سے جہاز پر انگلیڈ بھیج دیا گیا جہاں اسے 1850 میں ملکہ برطانیہ کو پیش کیا گیا۔ یوں یہ ہیرا کئی ہاتھ بدلتے بلآخر برطانوی شاہی خاندان کے قبضے میں چلا گیا۔

    وہاں اسکو ماہر ڈچ جوہریوں نے تراش خراش سے مزید نکھارا اور موجودہ شکل میں لے آئے۔

    آج کوہ نور کو تاجِ برطانیہ کا تاج کہا جاتا ہے۔ مگر اسکی ملکیت پر بھارت اور پاکستان کے علاوہ افغانستان اور ایران بھی دعوی کرتے ہیں۔ ماضی میں اسے بھارت لانے کے لیے کئی کوششیں کی گئی۔ 1976 میں اُس وقت کے پاکستانی وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو نے بھی اسے پاکستان کو واپس کرنے کی درخواست کی۔ آج بھارت میں اسے واپس بھارت لانے کے لیے کئی سماجی اور حکومتی شخصیات قانونی چارہ جوئی کر رہی ہیں مگر فی الحال برطانوی حکومت یا پرطاموی شاہی خاندان اسے دینے سے انکاری ہے۔

  • جانے کب ہوں گے کم — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    جانے کب ہوں گے کم — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    دنیا کے کسی بھی علاقےمیں کسی بھی وقت کوئی قدرتی آفت آسکتی ہے لیکن دیگر قدرتی آفات جیسے زلزلہ یا کو ویڈ وغیرہ کے برعکس سیلاب ایسی آفت ہے جسکی اس کے آنے کے وقت سے بہت پہلے بہت واضح انداز میں اور بڑی صحیح صحیح نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

    دنیا میں سائنسی ترقی کی وجہ سے ایسے زبردست کمپیوٹر پروگرام بن چکے ہیں کہ جو مستقبل کے بارش اور اس سے آنے والے سیلاب کے زیر آنے والے علاقوں کی بہت ٹھیک ٹھیک نشاندھی کر سکتے ہیں اور یہ ماڈل اس وقت بھی پاکستان کے قومی اور نجی اداروں کے زیر استعمال بھی ہیں۔

    اس سال محکمہ موسمیات پاکستان نے مئی کے شروع میں ہی تباہ کن بارشوں کی پیش گوئی کر دی تھی۔ تحفظ ماحولیات کی وزیر شیریں رحمان نے بھی 19 جون کی پریس کانفرنس میں بالکل واضح انداز میں اس سال غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے 2010 کے سیلاب سے بھی بڑا سیلاب آنے کی بات کردی تھی لیکن متعلقہ اداروں کی طرف سے اس آفت سے بچاو کے لئے کوئی خاص عملی اقدامات نہ کئے گئے۔

    مئی سے جولائی تک کے دو مہینے ضائع کر دئے گئے۔ یہ شائد ہماری اس ذہنیت کا شاخسانہ ہے کہ جب سر سے پانی گزرتا ہے تو ہم بیدار ہوتے ہیں اور پھر اگلے پانی تک سو جاتے ہیں۔ غلطی سے سبق نہیں سیکھتے اور ایڈوانس پلاننگ یا وقت سے پہلے تدبیر نہیں کرتے۔

    اور کچھ نہیں تو کچھ سادہ سے طریقوں سے لوگوں کے جانی اور مالی نقصان کو ضرور کم کیا جا سکتا تھا۔ مثلاً

    ۱- مئی میں ہی محکمئہ موسمیات کی وارننگ کے بعد 2010 کے سیلاب زدہ علاقوں کے نقشے کے اندر موجود تمام آبادیوں کے لوگوں کو پرنٹ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے محفوظ مقامات پر رضاکارانہ طور پر چلے جانے کے پیغامات نشر کئے جاتے۔ اس طرح کے آگاہی پیغامات کوویڈ کے دنوں میں بہت موثر ثابت ہو چکے ہیں۔

    ۲- نشیبی سیلابی علاقوں میں موجود اونچی محفوظ جگہوں یا آبادیوں کی نشاندہی کرکے وہاں پناہ گاہیں بنانے کی ایسی منصوبہ بندی ہوتی کہ بارش سے سیلاب کی صورت میں چند گھنٹوں میں وہ اپنا کام شروع کر دیتیں اوروہاں انسانوں اور جانوروں کی رسائی آسانی سےممکن ہوتی۔ اس سلسلے میں این ایچ کے روڈ اور سرکاری عمارات کا انتخاب کیا جاسکتا تھا۔

    ۳- ریسکیو آپریشن کے تمام لوازمات مکمل ہوتے ۔ مٹی اور پتھرکی کھدائی کا کام کرنے والی مشینری ان علاقوں میں موجود ہوتی۔ مناسب تعداد میں کشتیاں ، پاور بوٹس اور ہیلی کاپٹر ز کا بندوبست ہوتا۔

    ۴- موبائل فیلڈ ہسپتال اور ڈسپنسریاں کشتیوں پر قائم کر دی جاتیں۔ ویٹنری ڈاکٹر اور موبائل فیلڈ ہسپتال ہوتے۔

    ۵- صاف پانی کے ذرائع کو سیلابی پانیوں سے بچانے کا خصوصی بندوبست ہوتا تاکہ سیلاب کی صورت میں بھی مقامی طور پر پینے کے پانی کا بندوبست ہوتا۔ خشک خوراک کے واٹر پروف پیکٹ تیار ہوتے۔

    ۶۔ سیٹلائٹ ڈیٹا اور پچھلے سیلابوں کے پانی کے راستوں کو دیکھتے ہوئے پانی کے راستوں کی صفائی کر دی جاتی اور تمام پکی رکاوٹوں جیسے سڑک یا غیر قانونی تعمیرات کو کاٹ دیا جاتا۔

    ۷۔ آج بھی متعلقہ محکمے ایک ایپ بنا کر اس پر آج تک کے تمام سیلابی پانیوں کے راستے اور اونچی جگہوں جہاں پر پناہ لی جا سکے ان کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ اسی ایپ میں اوبر کریم طرز پر قریب ترین موجود موبائل ریسکیو یونٹ، فیلڈ ہسپتال، موبائل راشن اور لنگر سپلائی اور ان علاقوں میں کام کرنے والے رضاکارانہ تنظیموں کی لوکیشن ڈال کر بہت سا کام آسان کرسکتے ہیں تاکہ موجودہ آفت کے ساتھ ساتھ آئندہ کے لئے بھی کارآمد رہے۔

    پاکستان میں تمام متعلقہ محکمے روٹین میں ہر سال مون سون کی آمد سے پہلے اپریل یا مئی میں ہی اپنے اپنے مون سون سے نپٹنے کے مقامی پروگرام بنا کر حکومت کو جمع کرواتے ہیں لیکن لگتا ہے اس سال ملک میں اسی دوران جاری سیاسی سرکس کی کی وجہ سے اس روٹین کے کام کو بھی شائد اس کی روح کے مطابق نہیں کیا گیا حالانکہ اس دفعہ روٹین سے ہٹ کر ہنگامی بنیادوں پر کام ہونا چاہئے تھا۔

    بہرحال آفت آچکی ہے اور پانی سر سے گزر چکا ہے۔ عوام جانی اور مالی نقصانات اٹھا چکی ہے اور عمر بھر کے جذباتی صدمات اٹھا رہی ہے۔

    دنیا پاکستان سے افسوس کر رہی ہے اور پاکستانی عوام کی مدد کرنے کو تیار ہے۔

    کیا ہم اگلے سال کی مون سون کے لئے تیار ہوں گے یا حسب عادت سب کچھ بھول کر ایک اور آفت کےآنے تک بے فکر رہیں گے۔

  • کراچی: گزشتہ 24 گھنٹوں میں ڈینگی کے161،اسلام آباد میں128 کیسز رپورٹ

    کراچی: گزشتہ 24 گھنٹوں میں ڈینگی کے161،اسلام آباد میں128 کیسز رپورٹ

    گزشتہ 24 گھنٹوں میں کراچی میں 161 اور اسلام آباد میں 128 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    باغی ٹی وی : محکمہ صحت کے مطابق کراچی میں گزشتہ 24 گھنٹے میں161 کیسز رپورٹ ہو ئے ضلع وسطی 48 کیسز، ضلع شرقی میں36، ضلع کورنگی میں 32 ، ضلع جنوبی میں 25 اور غربی میں 4 کسیز سامنے آئے ہیں۔

    کراچی: گزشتہ 24 گھنٹوں میں ڈینگی کے115کیسزرپورٹ،7 افراد جاںبحق،اسلام آباد میں…

    محکمہ صحت کے مطابق ستمبر کے مہینے میں ایک ہزار 66 کیسز رپورٹ ہوئے مجموعی طور پر کراچی سے رواں سال اب تک 3 ہزار 434 کیسز رپورٹ ہوئے، رواں سال ڈینگی سے9 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

    ڈی ایچ او ڈاکٹر زعیم ضیا کے مطابق اسلام آباد میں ڈینگی کے مزید 128 کیسز سامنے آ گئے محکمہ صحت کے مطابق اسلام آباد کےدیہی علاقوں میں 75 افراد ڈینگی میں مبتلا ہوئےاسلام آباد کے شہری علاقوں میں 53 افراد کا ڈینگی ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں ڈینگی مریضوں کی تعداد 553 ہو گئی ۔

    اسلام آباد کے شہری علاقوں میں ڈینگی مریضوں کی تعداد 318 ہو گئی ہے اسلام آباد میں اب تک ڈینگی سے 4 افراد انتقال کرچکے ہیں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اسلام آباد کے مطابق اس وقت پولی کلینک اسپتال میں ڈینگی سے متاثرہ 14 مریض زیر علاج ہیں۔

    شیخوپورہ: 10 افراد قادیانیت چھوڑکر دائرہ اسلام میں داخل

    حکومت کی ہدایت پر اسلام آباد کے سرکاری اسپتالوں میں ڈینگی مریضوں کے لیے خصوصی طور پر وارڈز بنائے گئے ہیں۔ پمز اسپتال اسلام آباد میں اس وقت ڈینگی سے متاثرہ 56 مریض زیر علاج ہیں۔

    پمز اسپتال اسلام آباد میں ڈینگی وارڈ کے انچارج ڈاکٹر شجیع صدیقی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اسپتال میں ڈینگی مریضوں کے لیے مزید بیڈز کی ضرورت ہے ترجمان ڈاکٹر شفاعت خاتون کا کہنا ہے کہ ڈینگی بچوں اور حاملہ خواتین میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔

    کوہاٹ پولیس سٹیشن پر دستی بم حملہ، ایس ایچ اوسمیت 7 افراد زخمی

  • سوات:طالبان نے ٹیلی نار کمپنی کے 7 ملازمین کو تاوان کے عوض اغوا کرلیا

    سوات:طالبان نے ٹیلی نار کمپنی کے 7 ملازمین کو تاوان کے عوض اغوا کرلیا

    مینگورہ: تحریک طالبان پاکستان نے سوات میں ایک مرتبہ پھر اپنی تحریبی کاروائیاں تیز کرتے ہوئے ٹیلی نار کمپنی کے 7 ملازمین کو تاوان کے عوض اغوا کرلیا ہے۔آج طالبان کی جانب سے سوات سے ٹیلی نار کمپنی کے 7 ملازمین کو تاوان کے عوض اغوا کرلیا گیا ہے۔

    دوسری جانب سوات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک رہنما کے بیٹے نے آج پولیس تھانہ میں ایک ایف آئی آر درج کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کے والد کو تحریک طالبان کی طرف سے کزشتہ کئی دنوں سے وٹس ایپ پر دھمکی آمیز پیغامات اور کال موصول ہورہے ہیں کہ ہمارے ساتھ معاشی امداد کردو ورنہ نتائج کے لئے تیار رہو۔

    سوات میں مختلف زرائع سے ملنے والے اطلاعات کے مطابق طالبان نے آج ٹیلی نار کمپنی کے جو 7 ملازمین اغوا کرلئے ہیں ان کے بدلے کمپنی سے 7 کروڑ روپے تاوان طلب کی ہے۔
    سوات کے رہائیشیوں کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے یہاں پر ہزاروں افراد کی قربانیوں سے امن قائم ہوا ہے اس لئے جلد از جلد اس کا تدارک کیا جائے ورنہ حالات ایک بار پھر 2007 سے 2010 تک جاسکتی ہے۔

    دوسری طرف اس سے پہلے سوات میں ایک بار پھر حالات خراب، کبل کے نزدیکی علاقے بانڈئی میں بم دھماکے کے باعث ایک رکن امن کمیٹی ادریس خان سمیت 5 افراد شہید ہوگئے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے سیاحتی علاقے سوات میں ایک مرتبہ پھر حالات خراب ہوگئے ہیں اور آج سوات سے ملحقہ علاقے کبل کے علاقے برہ بانڈئی کوٹکے میں دھماکے کے نتیجے میں ایک رُکن امن کمیٹی ادریس خان سمیت 5 افراد شہید ہوگئے۔

    اُدھر سوات کے ڈی پی او زاہد مروت کا کہنا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں شہید افراد میں 2 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں نزدیکی اسپتال سیدو شریف منتقل کردیا گیا ہے۔اس حوالے سے مزید تفصیلات کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا ریموٹ کنٹرول سے کیا گیا۔

  • سانگھڑ:5 سال سے لاپتہ 50 سالہ شخص کی لاش برآمد

    سانگھڑ:5 سال سے لاپتہ 50 سالہ شخص کی لاش برآمد

    سندھ کے ضلع سانگھڑ کے علاقے شاہ پور چاکر سے ایک 50 سالہ شخص کی لاش ملی ہے۔پولیس کے مطابق لاش کی شناخت بصارت صدیقی کے نام سے ہوئی ہے جو کراچی کے علاقے پی آئی بی کالونی کا رہائشی تھا۔

    دوسری جانب ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی شیخ صلاح الدین کا کہنا ہے کہ بصارت صدیقی 5 سال سے لاپتہ تھے۔انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ میں جبری گمشدگی کا کیس زیر سماعت ہے، جس کی سماعت 14 ستمبر کو مقرر ہے۔شیخ صلاح الدین کا یہ بھی کہنا تھا کہ لاش وصول کرنے کے لیے شاہ پور تھانے پہنچا ہوں۔

     

    دوسری طرف

    سانگھڑ میں سیلاب متاثریں کی مشکلات میں ایک بار پھر اضافہ

    سانگھڑمیں  طوفانی بارشوں کے باعث سیلاب متاثریں کی مشکلات میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سانگھڑ اور مضافات میں تیز آندھی کے بعد گرج چمک کے ساتھ تیز بارش نے کھلے آسمان تلے متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

    بارش اور تیز آندھی کے باعث حیدرآباد روڈ پر قائم ٹینٹ سٹی تباہ ہوگیا ہے جب کہ تین متاثرین بھی زخمی ہوگئے ہیں، متاثرین کی چارپائیاں ٹوٹ گیئں اور برتن بھی ہوا سے اڑ گئے ہیں۔

    تیز بارش اور ٹینٹ گرنے کے بعد متاثرین نے فیکٹری کے مخدوش کوارٹروں میں پناہ لی ہے۔ جس عمارت میں متاثرین نے پناہ لی ہے وہ انتہائی مخدوش اور زندگیوں کیلئے خطرناک ہے۔ٹینٹ سٹی کے تباہ ہونے کی خبر ملنے پر ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر عمران الحسن خواجہ نے نوٹس لیتے ہوئے متاثرین کو فوری محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

    اسسٹنٹ کمشنر طلحہ خان نے ٹینٹ سٹی پہنچ کر دو زخمیوں کو اپنی گاڑی میں اسپتال پہنچایا جب کہ سول اسپتال کی ایمرجنسی میں کوئی ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا۔

    تاہم نرسنگ اسٹاف نے دونوں زخمیوں کو طبی امداد دی اور ایک زخمی کو تشویش ناک حالت کے باعث نوابشاہ اسپتال منتقل کیا گیا۔

    اطلاعات کے مطابق کچھ متاثرین نے اپنا سامان اور بچے چھوڑ کر دوسری جگہ جانے سے انکار کردیا ہے وہ بارش کے باوجود کھلے آسمان تلے ہی رات گزاریں گے۔