Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پاکستان قدرتی آفات کے لحاظ سے ہائی رسک پر ہے،ایشیائی ترقیاتی بینک

    پاکستان قدرتی آفات کے لحاظ سے ہائی رسک پر ہے،ایشیائی ترقیاتی بینک

    سارک ممالک میں قدرتی آفات کے بارے میں ایشیائی ترقیاتی بینک نے رپورٹ جاری کردی-

    باغی ٹی وی: رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان قدرتی آفات کے لحاظ سے ہائی رسک پر ہے، پاکستان میں سیلاب کی تباہی زلزلے سے زیادہ ہے جب کہ پاکستان میں ہرسال قدرتی آفات سے 2ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے سیلاب اور زلزلے سے بچاؤ کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے-

    امریکی ریاست اوریگن کے جنگلات میں لگی آگ بے قابو،86 ہزار ایکڑ سے زائد اراضی پر جنگلات تباہ

    ایشیائی ترقیاتی بینک رپورٹ میں پاکستان میں سیلاب اور زلزلوں سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات کو غیر تسلی بخش قرار دیا گیا ہے رپورٹ کے مطابق سیلاب اور زلزلے سے بچاؤ کیلیے ڈیزاسٹر رسک فنانس اپروچ کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔

    ایشیائی ترقیاتی بینک رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں سیلاب وزلزلےکےباعث سب سے زیادہ لوگ غربت کا شکار ہیں۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ میں زیادہ تر لوگ غربت کا شکار ہیں سیلاب پاکستان کے پسماندہ اضلاع کو مزید پسماندہ کردیتا ہے۔

    امریکہ، پاکستان میں سیلاب زدگان کے لیے مزید 2 کروڑ ڈالر امداد دے گا

    رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں قدرتی آفات سے ہرسال اوسطاً 863افرادجاں بحق ہوتے ہیں۔ قدرتی آفات کی تباہی سے پاکستان میں غربت بڑھتی ہے۔سیلاب، فصلیں ، گھراورسامان سب تباہ کردیتا ہے پاکستان میں فصلوں کی انشورنس بہت محدود ہے، پاکستان میں صرف 2لاکھ 27ہزار کسانوں کی فصل انشورڈ ہے۔

    و اضح رہے کہ ملک میں حالیہ سیلاب سے تقریباً 33 ملین افراد متاثر ہوئے ہیں تقریباً 20 لاکھ گھر اور کاروبار تباہ ہوئے۔ 7000 کلومیٹر سڑکیں بہہ گئیں اور 256 پل ٹوٹ گئے ہیں۔

  • پاکستان میں سیلاب،آئرن برادر کے ساتھ ہرممکن تعاون کریں گے،چین

    پاکستان میں سیلاب،آئرن برادر کے ساتھ ہرممکن تعاون کریں گے،چین

    چین نےکہا ہے کہ ہمیشہ کی طرح گزشتہ سال بھی پاک چین دوستی ہر طرح کے حالات میں لوہے کی طرح مضبوط رہی،آئرن برادر کے ساتھ ہرممکن تعاون کریں گے،پاکستان کو کئی دہائیوں کے شدید ترین سیلاب کا سامنا ہے جس کے باعث 1 ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق اور 33 ملین (3 کروڑ 30 لاکھ)سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں،سیٹلائٹ جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ پاکستان کے کل رقبے کا بڑا حصہ زیر آب آچکا ہے۔اس بات کا اظہار چینی وزارت خارجہ کے شعبہ ایشیائی امور کے ڈائریکٹر جنرل لیوجن سونگ نے دوسرے پاک چائنہ تھنک ٹینک سے اپنے خطاب کے دوران کہی۔

    انہوں نے گلوبل ٹائمز کی رپورٹ کا حوالے دیتےہوئے کہا کہ پاکستان میں بارش اور سیلاب نے پلوں اور سٹرکوں کو بہادیا جبکہ خشک زمین دلدل میں تبدیل ہوچکی ہے،متاثرہ علاقوں میں نقل و حمل کا سلسلہ رک چکا ،کھیتی باڑی اور مکانات تباہ جبکہ باشندے بے گھر ہوچکے ہیں اس کے ساتھ ساتھ بچے حصول علم سے محروم ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چینی عوام پاکستانیوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے اور ان کے دکھ درد میں شریک ہیں،اس کے ساتھ ساتھ ہم پاکستانی عوام کے مضبوط کردار کی تعریف کرتے ہیں جنہوں نے خود کو ریلیف کے لیے اکٹھا کیا اور تیزی سے اپنے گھروں کی تعمیر نو شروع کی۔انہوں نے چین اور پاکستان کو آئرن برادر قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کی مدد کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ کبھی نہیں بھولیں گے کہ 2008 میں وینچوان زلزلے کے بعد پاکستان نے فوری طور پر فوجی طیاروں کے ذریعے ٹینٹ اور دیگر سامان بھیجا،چین اس کابدلہ اس سے کئی گنا اتارے گا۔لیو جن سونگ نے کہا کہ اپنے آئرن برادر کی مشکلات کو سمجھتا ہے،یہاں سیلاب کے بعد صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی کی چیانگ نے بالترتیب صدر عارف علوی اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف کو تعزیتی پیغامات بھیجے۔انہوں نے کہا کہ چین نے سی پیک فریم ورک کے تحت پاکستان کو 4,000 خیمے، 50,000 کمبل اور 50,000 واٹر پروف سائبان فراہم کیے ہیں اور ان سب کو سیلاب کے خلاف فرنٹ لائن پر استعمال میں لایا گیا ہے۔ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ چائنا انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کوآپریشن ایجنسی (سی آئی ڈی سی اے) کے ذریعے چین نے پاکستان کو 100 ملین یوآن ہنگامی انسانی امداد فراہم کی، اگست کے آخر میں کل 25,000 میں سے پہلے 3,000 خیموں کو چینی فوجی ہوائی جہازوں کے ذریعے صوبہ سیچوان سے پاکستان بجھوایا اور استعمال میں لایا گیا،جیسے جیسے سیلاب کی صورتحال تیار ہوئی سیڈا نے انسانی امداد کے 300 ملین یوآن کا اضافہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ دیگر فوری امدادی سامان جیسے سبزیوں اور خیموں کا فوری بندوبست کیا جا رہا ہے،چینی عوام بھی مدد کر رہے ہیں، پاکستانی سفارت خانے کے ہنگامی امدادی اکاؤنٹ کو کھلنے کے چند گھنٹوں کے اندر 1 ملین یوآن کے عطیات موصول ہو گئے یہاں تک کہ بیجنگ سے تعلق رکھنے والے پرائمری سکول کے طالب علم لوان منگ سوان نے اپنی تمام جیب خرچ عطیہ کردی۔ان کا کہنا تھا کہ چینی شہری امدادی رضاکاروں کی ٹیمیں بھی پاکستان پہنچ گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں چینی کمپنیوں نے متاثرہ سڑکوں اور پلوں کی مرمت کے لیے پہل کی، حال ہی میں، وزیر اعظم محمد شہبازشریف نے صوبہ سیچوان کی لوڈنگ کاؤنٹی میں زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں پر اظہار ہمدردی کیا۔ سیلاب بے رحم ہیں لیکن انسان رحم دل ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک بار پھر ثابت ہو گیا ہے کہ چین اور پاکستان کی دوستی پہاڑ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے، ہمیں یقین ہے کہ ہمارے پاکستانی بھائی تباہی پر غالب آ جائیں گے اور اپنا گھر دوبارہ بنائیں گے۔

    سی پیک بارے انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی معاشی ترقی اور سماجی استحکام کے لیے مضبوط معاونت فراہم کر رہا ہے، کچھ عرصہ قبل کروٹ پلانٹ، سی پیک کے تحت پہلے ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نے سات سال کی تعمیر کے بعد کام شروع کر دیا ۔ اس منصوبے نے ہزاروں مقامی ملازمتیں پیدا کی ہیں اور 3.2 بلین کلوواٹ آور کی سالانہ پیداوار کے ساتھ یہ اب 50 لاکھ خاندانوں کے لیے سستی صاف توانائی فراہم کرتا ہے،اس سے ہر سال کاربن کے اخراج میں 3.5 ملین ٹن کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس سے پاکستان کو توانائی کی حفاظت اور سبز معیشت میں منتقلی میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ سی پیک اعلیٰ معیار کی ترقی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، وزیر اعظم محمد شہبازشریف سی پیک کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور انہوں نے دو بار گوادر پورٹ کا دورہ کیا، چینی کمپنیوں سے ملاقاتیں کیں اور ان کی درخواستوں کا موقع پر ہی جواب دیا۔

    رشکئی انڈسٹریل پارک زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاروں کو راغب کر رہا ہے،سی پیک کے تحت صنعتی، زرعی اور سماجی ذریعہ معاش میں تعاون ٹھوس پیش رفت کر رہا ہے جو پاکستان کی صنعت کاری اور جدید کاری میں نئے کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے تائیوان اور سنکیانگ جیسے چین کے بنیادی مفادات سے متعلق مسائل پر چین کے لیے پاکستان کی مضبوط حمایت کو بھی تسلیم کیا۔امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی کے گزشتہ ماہ چین کے علاقے تائیوان کے دورے پر پاکستان کی حکومت، پارلیمنٹ اور مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین نے آگے بڑھ کر 100 سے زائد ممالک کے ساتھ انصاف کا پیغام دیتے ہوئے ون چائنا اصول پر اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔

  • سعودی عرب کی پاکستانی سیلاب زدگان کیلئے قومی مہم کا آغاز

    سعودی عرب کی پاکستانی سیلاب زدگان کیلئے قومی مہم کا آغاز

    سعودی عرب نے پاکستان میں سیلاب زدگان کی مدد کیلئے قومی مہم کا آغاز کر دیا۔
    برادر ملک سعودی عرب نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے بڑا اقدام کیا ہے۔ سیلاب زدگان کی بحالی اور امداد کے لیے قومی مہم شروع کی گئی ہے۔

    مہم کا آغاز سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایت پر کیا گیا۔ سعودی سفارتخانہ کا کہنا ہے کہ سیلاب زدگان کی مدد کیلئے سعودی عرب میں براہ راست نشریات کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

    شاہ سلمان مرکز برائے امداد و انسانی خدمات کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے لیے 100 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی سیلاب زدگان کی مدد کے لیے عطیات مہم شروع کی گئی ہے تمام اہل خیر سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ ’ساھم‘ پلیٹ فارم کے ذریعے پاکستانی عوام کی مدد کے لیے آگے آئیں۔

    دوسری جانب اسلام آباد میں متحدہ عرب امارات كے سفیر حمد عبید الزعابی پاکستان میں سیلاب سے متاثرین کے لیے امدادی پیکجز جمع كرنے کے لیے "ہم آپ کے ساتھ ہیں” کے اقدام میں یو اے ای بھر سے سینکڑوں رضاکاروں کے ساتھ شامل ہوئے، اور یہ مہم 1,200 ٹن خوراک جمع کرنے میں کامیاب ہوئی۔

  • ملکہ الزبتھ دوم کی وفات پر پاکستان میں یوم سوگ،قومی پرچم سرنگوں رہا

    ملکہ الزبتھ دوم کی وفات پر پاکستان میں یوم سوگ،قومی پرچم سرنگوں رہا

    آنجہانی ملکہ الزبتھ دوم کی وفات پر پاکستان میں یوم سوگ منایا گیا، اہم سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہا اور آنجہانی ملکہ کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ملکہ برطانیہ کی وفات پر یوم سوگ منانے کی منظوری دی تھی، اور پیر کا دن پاکستان میں یوم سوگ کے طور پر منایا گیا۔

    وزارت خارجہ نے وزیر اعظم کو ملکہ برطانیہ کی وفات پر سرکاری سطح پر یوم سوگ منانے کی تجویز دی تھی۔ وزیراعظم نے وزارت خارجہ کی تجویز کی منظوری دیتے ہوئے کابینہ ڈویژن کو متعلقہ انتظامات کرنے کی ہدایت کی تھی۔وزیر اعطم کی ہدایت پر سوگ کے موقع پر تمام اہم سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رکھا گیا۔

    آنجہانی ملکہ الزبتھ دوم کی دہائیوں پر محیط زندگی پاکستان کے ساتھ شاندار تعلقات پر محیط تھی وہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی داعی تھیں۔آنجہانی ملکہ نے 1997 میں پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تھا۔ پاکستان کے ساتھ نیک خواہشات کی وجہ سے پاکستانی قوم بھی انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھی اور ان کی وفات پر افسردہ ہے۔ 70سال تک برطانیہ پر حکمرانی کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم 96 برس کی عمر میں جمعرات کو بیلمورل میں انتقال کر گئیں.

    الزبتھ1952 میں ملکہ بنیں اور اپنے دور میں انھوں نے بڑے پیمانے پر سماجی تبدیلی دیکھی۔ان کی موت کے بعد ان کے سب سے بڑے بیٹے اور ویلز کے سابق شہزادے چارلس برطانیہ کے نئے بادشاہ اور دولتِ مشترکہ میں شامل 14ممالک کے سربراہ بن گئے ہیں۔ بادشاہ چارلس نے باضابطہ طور پر برطانیہ کے نئے بادشاہ کا منصب سنبھال لیا ہے اور ملکہ کنسورٹ کمیلا پارکر بھی ان کے ہمراہ تھیں ۔

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ، وزیر اعظم محمد شہبازشریف ، چیئرمین سینیت اور اسپیکر قومی اسمبلی نے ان کی وفات پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے انتقال پر برطانوی شاہی خاندان، حکومت اور عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا جمعرات کو ملکہ الزبتھ کی وفات کے موقع پر ایوان صدر کے میڈیا ونگ سے جاری تعزیتی بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ ملکہ برطانیہ کے انتقال سے ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوا ہے جسے آنے والے وقتوں میں پر کرنا مشکل ہے ، وہ بہت چھوٹی عمر میں تخت نشین ہوئیں لیکن انہوں نے پختگی، کردار اور اعلی ترین عزم کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے وہ دنیا میں طویل ترین حکمرانی کرنے والے حکمرانوں میں شامل ہوئیں۔

    صدر عارف علوی نے کہا کہ ملکہ الزبتھ دوم کی ولولہ انگیز قائدانہ خوبیوں نے انہیں عظیم اور مہربان حکمران کے مرتبے تک پہنچایا جسے عالمی تاریخ میں سنہری الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے مرحومہ کے لئے دعا کی اور کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں ان کے احساسات شاہی خاندان کے افراد اور برطانیہ کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال پر برطانوی شاہی خاندان ، حکومت اور عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

    اپنے ایک ٹویٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ ملکہ الزبتھ دوئم کے انتقال پر انہیں گہرا دکھ اور افسوس ہوا ہے۔ پاکستان ان کی وفات کے سوگ میں برطانیہ اور دولت مشترکہ کے دیگر ممالک کے ساتھ شریک ہے۔ برطانیہ کے شاہی خاندان ، عوام اور برطانوی حکومت سے دلی تعزیت کرتے ہیں۔ سپیکرقومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے برطانوی ہائی کمیشن کا دورہکیا اور برطانوی ہائی کمشنر سے ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے انتقال پراظہارافسوس کیا اور تعزیتی کتاب میں ملکہ کی زندگی سے وابستہ اہم پہلوں پر اپنے تاثرات قلم بند کیے۔ سپیکرنے کہا کہ ملکہ برطانیہ کے انتقال پر شاہی خاندان اور عوام سے اظہارہمدردیکرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکہ کی دہائیوں پر محیط زندگی پاکستان کے ساتھ شاندار تعلقات پر مبنی تھی.

  • برطانیہ کی جانب سے پاکستان کی جاسوسی،امریکی سی آئی اے اہلکار کا انکشاف

    برطانیہ کی جانب سے پاکستان کی جاسوسی،امریکی سی آئی اے اہلکار کا انکشاف

    امریکہ کی طرف سے ساری دنیا میں لاکھوں لوگوں اور پیغام رسانی کی جاسوسی کے خفیہ پروگرام کا انکشاف کرنے والے سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے کہا ہے کہ برطانیہ نے پاکستان کے علم میں لائے بغیر بڑے پیمانے پر جاسوسی کی.

    بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں ایڈورڈ سنوڈن نے کہا کہ ان کو افسوس رہے گا کہ انہوں نے جاسوسی کے اس پروگرام کا انکشاف پہلے کیوں نہیں کیا؟ ،حسین عسکری اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایڈورڈ سنوڈن سے انٹرویو طے کرنے میں تین ماہ لگے.

    انٹرویو کیلئے ہمیں ایک خفیہ زبان کے ذریعے ماسکو بلایا گیا.جہاں ایڈورڈ سنوڈن کو خود ہمارے ہوٹل (قیام گاہ) آنا تھا.جو کچھ انہوں نے کیا اس کی وضاحت کرتے ہوئے ایڈورڈ سنوڈن کا کہنا تھا کہ میں نے دیکھا کہ لوگوں کو بتائے بغیر کسی جرم کے بغیر ہی لوگوں کی پیغام رسانی کی مستقل نگرانی کی جارہی ہے،اور یہ سب لوگوں کی مرضی کے بغیر ہو رہا ہے.

    برطانوی سراغ رساں ادارے ( جی سی ایچ کیو) کی طرف سے لوگوں کے سمارٹ فونز کی جاسوسی پر بھی ایڈورڈ سنوڈن نے تشویش کا اظہار کیا.انہوں نے بتایا کہ اس صلاحیت کو کمپیوٹر نیٹ ورک ایکسپلائیٹیشن کہا جاتا ہے.

    سی آئی اے کے سابق اہلکار نے جی سی ایچ کیو کے تحت چلنے والے خفیہ پروگرام کے بارے میں بھی بتایا،ان کا کہنا تھا اس کو کارٹون کردار( سمرفس) کا نام دیا گیا ہے.انہوں نے بتایا کہ ڈریم سمرس کے ذریعے وہ جب چاہیں آپ کا موبائل فون بند (آف)یا کھول (آن)سکتے ہیں .

    نوزی سمرف کے بارے میں سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے بتایا کہ فون کے مائیک کو کنٹرول کرتا ہے،اور کسی بھی جیب میں پڑے فون کے مائیک کوآن کر کے ارد گرد کی آوازیں یا گفتگو سنی جا سکتی ہے اور ٹریکر سمرف پروگرام کے ذریعے آپ کے فون کی مدد سے آپ کی نقل وحرکت کی بالکل درست نشاندہی کی جاسکتی ہے.

    ایڈورڈ سنوڈن نے یہ بھی بتایا کہ کس طرح سے جی سی ایچ کیو نے پاکستان میں بڑے پیمانے پر مواصلاتی معلومات حاصل کیں.جس کا مقصد غالبا دہشت گردوں کی نشاندہی اور ان کا پیچھا کرنا تھا،اس برطانوی سرکاری ادارے نے پاکستان میں ایک امریکی کمپنی سیسکو کے ڈیجیٹل جنکشن باکس تک رسائی حاصل کی ، یہ پاکستان میں فون کی سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے سرورز کو ان کی اجازت کے بغیرکنٹرول کرتے ہیں.

    انہوں نے مذید بتایا کہ بظاہر یہ جاسوسی برطانوی حکومت کی اجازت سے کی گئی،تاہم جی سی ایچ کیو نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا. بس اتنا کہا کہ ان کے تمام کام قانون کے دائرہ میں رہ کر کئے جاتے ہیں.

    امریکی اور برطانوی حکومتیں ایڈ ورڈ سنوڈن کو غدار سمجھتی ہیں،جس نے ان کے اعتماد کو دھوکا دیا،بی بی سی کے نمائیندہ کو سوال کے جواب میں سنوڈن کا کہنا تھا کہ میں غدار نہیں ہوں ،میں نے کس سے غداری کی ہے؟،ان کا کہنا تھا کہ یہ دلیل بھی دی جاسکتی ہے کہ میں نے امریکیوں کو بچانے کیلئے حکومت سے غداری کی.

    ایڈ ورڈ سنوڈن اب ماسکو میں ہی رہیں گے یا کھبی امریکہ جا کر اہنے خلاف مقدمہ کا سامنا کرے گا ،یا کو کچھ انہوں نے کیا س پر جیل جائیں گے،ایک سوال کے جواب میں ایڈ ورڈ سنوڈن نے کہا کہ مجھے یہ افسوس ضرور ہے کہ میں نے یہ انکشاف پہلے کیوں نہیں کیا؟ ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے فیصلے پر مطمئن ہوں اور اس کیلئے میں نے قیمت بھی ادا کی ہے.انہوں نے کہا کل جب میں اس دنیا میں نہیں ہوں گا تو میں خود کو خوش نصیب سمجھوں گا.

  • خوراک کا ضَیاع!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    خوراک کا ضَیاع!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    "باجی مرچیں ہیں۔ گھر میں ختم ہو گئی ہیں”

    "چاچی پیاز مل سکتا ہے؟ کل ابا جی بازار سے لانا بھول گئے”

    پاکستان میں ایک زمانے میں گھروں میں یہ عام رواج ہوتا۔ کھانا بنانے کے دوران اگر کوئی سبزی یا روزمرہ کے پکانے کی شے ختم وہ جاتی تو پڑوسی یا محلے میں کسی سے مانگ لی جاتی۔ زمانہ بدل گیا۔۔لوگ اچھی عادتیں بھول کر کہیں اور نکل گئے۔ ایک ایسی دوڑ میں جسکی کوئی سمت نہیں۔

    یہ بات مجھے اقوام متحدہ کے خوراک اور زراعت کے ادارے کی ایک رپورٹ ہڑھتے ہوئے یاد آئی۔ اس رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں انسانوں کے استعمال کے لیے ہیدا کی جانے والی خوراک کا ایک تہائی ہر سال ضائع ہو جاتا ہے۔ 2021 کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر کی 14 فیصد خوراک کھیتوں یا فارمز سے منڈیوں اور مارکیٹ تک آنے میں ضائع ہو جاتی ہے جسکی کل مالیت تقریباً 400 ارب ڈالر بنتی ہے۔

    جبکہ 17 فیصد خوراک مارکیٹوں سے گھر میں پڑی پڑی خراب ہو جاتی ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال 930 ملین ٹن خوراک ضائع ہوتی ہے۔جس میں سے 569 ملین خوراک گھروں میں استعمال نہ ہونے کے باعث کوڑے دانوں کا نصیب بنتی ہے ۔ دنیا کا ہر فرد اوسطاً سالانہ 74 کلو گرام خوراک ضائع کرتا ہے۔ مگر حیران مت ہوں یہ اوسط ہے۔ بہت سے لوگوں کو سمجھانے کے لیے کہ اوسط کا مطلب دراصل یہاں کل خوراک کے ضیاع اور دنیا کی کل آبادی کا تناسب ہے۔

    آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک چین، دنیا کا سب سے زیادہ خوراک ضائع کرنے والا ملک ہے جہاں ہر سال تقریباً 92 ملین ٹن چوراک ضائع ہوتی ہے ۔ اسی طرح بھارت دوسرا بڑا خوراک ضائع کرنے والا ملک ہے جبکہ امریکہ اور پھر بڑے ہورپی ممالک جیسے فرانس اور جرمنی۔

    مگر یہ تصویر مکمل نہیں کیونکہ ظاہر ہے جس ملک کی آبادی زیادہ ہو گی وہاں کل خوراک کا ضیاع بھی زیادہ بنے گا۔ اس لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کس ملک کا شہری سالانہ کتنی نخوراک ضائع کرتا ہے۔

    تو اس پر پہلے نمبر پر براجمان ہیں نائجیریا جہاں ہر شہری سالانہ 189 کلو گرام خوراک ضائع کرتا ہے۔۔جبکہ دوسرے اور تیسرے نمبر پر عراق اور سعودی عرب ہیں۔

    پاکستان میں ہر شہری سالانہ 74 کلو گرام خوراک ضائع کرتا ہے۔اور یوں پاکستان اس رینکنگ میں سترویں نمبر پر ہے۔ یہ اعداد و شمار 2020 کے ہیں۔

    یہاں یہ بتانا ضروری کے کہ پاکستان میں خوراک کی مناسب ترسیل ، سٹوریج اور بہتر دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث زیادہ تر خوراک منڈیوں تک آتے ہی خراب ہو جاتی ہے ۔

    ایک ایسا ملک جہاں غذائی ضروریات کی پہلے سے ہی قلت ہے اور خوراک ایک مسئلہ بننے جا رہی ہو وہاں حکومت اور عوام دونوں کی بے حسی دیدنی ہے۔

    حکومت کیطرف سے اس حوالے سے مناسب پالیسیوں کا فقدان اور غیر سنجیدگی اورعوام کی جانب سے خوراک کے ضیاع کی عادت، اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہم نے نہ جاگنے کی قسم کھائی ہے۔

    خوراک کے ضیاع سے بچنے کے لیے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کئی طریقے اپنا رہے ہیں۔ کچھ حکومتی سطح پر اور کچھ عوامی سطح پر۔

    حکومتیں مارکیٹوں کو پابند کر رہی ہیں کہ زائد المعیاد اشیاء کو خراب ہونے سے قبل سستے داموں یا مفت بیچ دیا جائے ورنہ خوراک کے ضیاع پر انہیں کو جرمانہ عائد ہو گا۔جبکہ عوامی سطح پر کئی ممالک میں ٹیکنالوجی کی مدد سے خوراک کے ضیاع کے مسئلے کو حل کیا جا رہا ہے۔

    اس حوالے سےبرطانیہ میں ایک ایپ بنائی گئی ہے OLIO جہاں اگر اپکے پڑوسی کے پاس اضافی خوراک ہے تو وہ ایپ پر بتا سکتا ہے اور آپ اسے مفت حاصل کر سکتے ہیں۔

    ویسے انگریز کیسے کہتے ہوں گے؟

    "نی مارگریٹ تیرے کول بلیک پُڈِنگ ہے؟ ”

    میری مُک گئی سی۔”

  • اپنے گھوڑے تیار رکھو — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    اپنے گھوڑے تیار رکھو — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    اس سال کی طوفانی بارشوں اور سیلاب کی تباہی سے اگر کوئی ایک انتہائی اہم سبق سیکھا جا سکتا ہے تو وہ ہے “بروقت تیاری”۔ ہم اپنے سر پر کھڑی موسمیاتی تبدیلی کی اتنی بڑی آفت سے آنکھیں بند کرکے حسب معمول کالا باغ ڈیم بنانے یا نہ بنانے کی بحث کرنے، کرپشن کے قصوں کے چسکے لینے اور اپنے اپنے سیاسی لیڈروں سے وفاداری نبھانے میں مصروف ہیں۔کہا جاتا ہے کہ جب ہلاکو خان کی فوج بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے شہر کے دروازے پر پہنچ چکی تھی تو شہر میں موجود عالم لوگ اس بحث میں مصروف تھے کہ سوئی کے چھید سے کتنے فرشتے گزر سکتے ہیں۔

    ماحولیاتی سائنسدان تو پچھلے بیس پچیس سال سے وقتا فوقتا موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں خبردار کر رہے تھے لیکن پاکستان میں اس سال اسے حاضر کی آنکھ سے دیکھا ہے جب سال کے پہلے نصف میں انتہا کی خشک سالی اور پھر جولائی سے شروع ہونے والی طوفانی بارشیں جونہ صرف پانی کی مقدار کے لحاظ سے بہت زیادہ تھیں بلکہ جن علاقوں میں ہوئی ہیں وہ عام طور پر مون سون کی بارش والے علاقے نہیں سمجھے جاتے جیسا کہ مغربی بلوچستان اور سندھ۔ ان کا آغاز کراچی میں خلاف معمول تباہ کن بارشوں سے ہوا۔

    پنجاب جسے روایتی طور پرمون سون کا مرکز مانا جاتا ہے وہاں اس دفعہ معمول کی بارش ہوئی اور کوئی دریائی طغیانی یا سیلاب نہیں آیا۔ کوہ سلیمان اور وسیب کا سیلاب بھی خلاف معمول تھا۔شمالی علاقوں خصوصا سوات میں بھی سیلاب نے 2010 کے سپر فلڈ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

    سیلاب سے متاثر ہونے والی ہماری آبادی دنیا کے 150 ملکوں کی انفرادی آبادیوں سے زیادہ ہے اور سیلاب سے متاثرہ رقبہ بھی دنیا کے 150 ملکوں کے انفرادی رقبے سے زیادہ ہے۔ اس وقت جتنے پاکستان کے جتنے علاقے پر سیلاب کا پانی کھڑا ہے وہ دنیا کے 100 ملکوں کے انفرادی علاقے سے بھی بڑا ہے۔

    تباہی بہت بڑی ہے اور ہم سے کچھ نیا کرنے کو مانگتی ہے کیونکہ ایسے حالات میں معمول کی ترکیبیں یا اقدامات کام نہیں آئیں گے۔سب سے اہم بات تو اگلی آفت سے پہلے آفت کی تیاری ہے تاکہ ہم جانی و مالی نقصانات سے بچ سکیں۔اس تیاری کے لئے جو وسائل چاہئے ہوں گے وہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کے نقصانات سے انتہائی کم ہیں۔

    دنیا کے ماحول کو گندہ کرنے والے ممالک جن میں چاچا سام پیش پیش ہے نے گرین کلائمیٹ فنڈ کو جو 10 بلئین ڈالر سے زیادہ کی فنڈنگ دی ہے وہ رشوت کے پیسوں سے صدقہ کرنے کے مترادف ہے لیکن ہم اس سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکے اور پچھلے اتنے سالوں میں کوئی منصوبہ بنا کر لانچ نہیں کر سکے۔ مجبوری میں امیر ملکوں کی طرف سے قائم کیا گیا یہ فنڈ بھی صدقہ خیرات یا قرض معاف کرنے کے لئے نہیں بلکہ قابل عمل زمینی منصوبوں کے لئے ہے۔

    پاکستان کو بھی اس موسمیاتی تبدیلی کے خطرے کو سمجھتے ہوئے پر اپنی ترجیحات طے کرنی چاہئیں۔

    فوری ردعمل والے سیلاب کے پیشگی اطلاعاتی نظام بنانے ہوں گے۔

    سیلابی علاقوں کی نقشہ بندی کرکے آفت کی صورت میں محفوظ پناہ کے علاقے تلاشنے ہوں گے۔

    آفت کی صورت میں پانی، خوراک اور آمدورفت کو رواں رکھنے کا سوچنا ہوگا۔

    سیلابی پانیوں کو راستہ دینا ہوگا اور ان کی راہ میں رکاوٹوں کو ختم کرنا ہوگا۔

    تمام انفراسٹرکچر منصوبے بشمول سڑکیں پانی دوست بنانا ہوں گے۔

    سیلاب کے بعد کھڑے ہونے والے پانی کی نکاسی کے مقامی پلان بنانے ہوں اور ان سب کاموں میں معیشت کو مضبوط کرنے کے بے انتہا مواقع چھپے ہوئے ہیں

    جتنے بڑے خطرے کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں اس کا حل آفت کو قابو کرنے کی بجائے اسے گلے لگانے میں ہے۔اپنے آپ کو آفت کا عادی بنانے میں ہے۔دنیا کی بہت سی مخلوقات حتی کہ بڑے بڑے ڈائنوسار بھی ارتقا کے عمل میں ختم ہوگئے لیکن کمزور حضرت انسان اس دھرتی پر اس لئے دندناتا پھر رہا ہےکہ اللہ نے انسان کو ماحول کے مطابق ڈھالنے کی بے پناہ صلاحیت رکھی ہے۔ “جو ڈھل گیا وہ چل گیا”

    اس ساری صورت کا مثبت پہلو درد دل رکھنے والے وہ افراد یا سماجی بھلائی کی تنظیمیں ہیں جو آفت کے آتے ہی اپنے آپ متحرک ہوئے اور جس کاجو سمجھ آتا تھا اس نے کر ڈالا ۔ ریسکیو، کھانا، راشن، خیمے ، کیش، کپڑے اور گھروں کی دوبارہ تعمیر میں مصروف ہوگئے۔

    مستقبل کی آفت کی تیاری کے عمل میں ایسے لوگ اور تنظمیں ریڑھ کی ہڈی ہیں جو آگے بڑھ کر مقامی طور پر لوگوں کی ذہن سازی، عوامی بیداری اور آفت سے پہلے بچاو کے پروگراموں کو عوام میں کامیاب بنا سکتے ہیں۔ یہ کام جتنا زیادہ سے زیادہ مقامی سطح پر ہوگا،اتناموثر ہوگا۔اس کام کے لئے مرکز یا صوبوں کی سطح پر قائم ادارے فوری اور موثر رد عمل نہیں دے سکتے۔

    کاش ہم جنگ سے پہلے اپنے گھوڑے تیار رکھنے کی عادت اپنا لیں۔

  • ایشیاکپ فائنل میں شکست ،شعیب اختر قومی ٹیم پر برس پڑے

    ایشیاکپ فائنل میں شکست ،شعیب اختر قومی ٹیم پر برس پڑے

    قومی کرکٹ کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے رضوان کی سست بیٹنگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ 50 گیندوں پر 50رنز والی کرکٹ اب نہیں چلے گی۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایشیاکپ فائنل میں شکست پر سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے قومی ٹیم پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامبینیشن کام نہیں کر رہا، پاکستان کو کئی پہلووں پر کام کرنا ہو گا۔


    انہوں نے کہا کہ فائنل میں فخرزمان ، افتخار اور خوش دل کی بلے بازی بھی سمجھ نہیں آئی شعیب اختر نے محمد رضوان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ 50 گیندوں پر 50 رنز والی کرکٹ اب نہیں چلے گی۔

    شعیب اختر نے سری لنکن ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ سری لنکا بہترین ٹیم کے طور پر کھیلی۔

    واضح رہے کہ واضح رہے کہ ایشیا کپ کے فائنل میچ میں سری لنکا نے پاکستان کو 23 رنز سے شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کر لی سری لنکا کی جانب سے دیئے جانے والے 171 رنز کے تعاقب میں قومی کرکٹ ٹیم 20 اوورز میں صرف 147 رنز بنا سکی۔

    شاداب خان نےسری لنکا کی اننگز میں اہم مواقع پرراجا پکسا کے 2 کیچ ڈراپ کیے جس کے بعد راجا پکسا نے شاندار بیٹنگ کرتےہوئے 45 گیندوں پر 71 رنز کی اننگز کھیلی اورٹیم کا اسکور 170 رنز تک پہنچایا-

    ایشیا کپ فائنل:سری لنکا پاکستان کوشکست دیکرفاتح قرارپایا

    دوسری جانب پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ایشیا کپ کے فائنل میچز جیتنے کا موازنہ کیا جائے تو سری لنکا 6 میچز جیت کر نمایاں ہے ریکارڈ کے مطابق سری لنکا نے ایشیا کپ کے 11 فائنل کھیلے جن میں سے 6 میچز میں ٹائٹل اپنے نام کرنے میں کامیاب رہا جبکہ پاکستان نے 4 مرتبہ فائنل میچز کھیلے لیکن قومی ٹیم دو مرتبہ ہی ٹائٹل اپنے نام کر سکی۔

    پاکستان نے سن 2000 اور 2012 میں ایشیا کپ کی ٹرافی اپنے نام کی تھی جبکہ یہ دونوں فائنل میچز بنگلہ دیش میں کھیلے گئے تھے۔ سن 2000 میں پاکستان نے سری لنکا جبکہ 2012 میں بنگلہ دیش کو شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کی تھی۔

    سری لنکا سن 1986 میں پاکستان کو شکست دے کر پہلی مرتبہ ایشیا کپ کا چیمپیئن بنا تھا جبکہ دوسری مرتبہ 1997، تیسری مرتبہ 2004، چوتھی مرتبہ 2008 اور پانچویں مرتبہ 2014 میں ٹائٹل اپنے نام کیا تھا اور چھٹی مرتبہ اب 2022 میں پاکستان کو شکست دے چیمپئین بن گیا ہے-

    پاکستان نے بھارت کو ہرا کر پولو ورلڈکپ کیلئےکوالیفائی کرلیا

  • شاداب خان نے ایشیا کپ کے فائنل میں شکست کی  ذمہ داری قبول کر لی

    شاداب خان نے ایشیا کپ کے فائنل میں شکست کی ذمہ داری قبول کر لی

    شاداب خان نے ایشیا کپ کے فائنل میں شکست کی ذمہ داری قبول کر لی-

    باغی ٹی وی : شاداب خان نے ایشیا کپ کے فائنل میں کیچ ڈراپ کرنے پر غلطی کا اعتراف کرلیا قومی کرکٹر شاداب خان نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں انہوں نے کہا ہے کہ کیچز ون میچز،میں شکست کی ذمہ داری لیتا ہوں،میں نے اپنی ٹیم کو مایوس کیا-

    پاکستان نے بھارت کو ہرا کر پولو ورلڈکپ کیلئےکوالیفائی کرلیا


    انہوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ نسیم شاہ،حارث روف اور محمد نوازنے شانداربالؤنگ کی۔ محمد رضوان نے جیت کے لیے اچھی کوشش کی پوری ٹیم نےاچھی کوشش کی۔

    انہوں نے سری لنکن ٹیم کو ایشیا کپ کے فائنل میں کامیابی پر مبارکباد بھی دی۔

    ایشیا کپ فائنل:سری لنکا پاکستان کوشکست دیکرفاتح قرارپایا

    واضح رہے کہ ایشیا کپ کے فائنل میچ میں سری لنکا نے پاکستان کو 23 رنز سے شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کر لی سری لنکا کی جانب سے دیئے جانے والے 171 رنز کے تعاقب میں قومی کرکٹ ٹیم 20 اوورز میں صرف 147 رنز بنا سکی۔

    واضح رہے کہ شاداب خان نےسری لنکا کی اننگز میں اہم مواقع پرراجا پکسا کے 2 کیچ ڈراپ کیے جس کے بعد راجا پکسا نے شاندار بیٹنگ کرتےہوئے 45 گیندوں پر 71 رنز کی اننگز کھیلی اورٹیم کا اسکور 170 رنز تک پہنچایا ایشیا کپ کےفائنل میں سری لنکا پاکستان کو شکست دے کر چھٹی بار ایشین چیمپئن بن گیا۔

    آسٹریلیا کے کپتان ایرون فنچ نے ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کو خیر باد کہہ دیا

  • پاکستان نے بھارت کو ہرا کر پولو ورلڈکپ کیلئےکوالیفائی کرلیا

    پاکستان نے بھارت کو ہرا کر پولو ورلڈکپ کیلئےکوالیفائی کرلیا

    پاکستان نے بھارت کو ہرا کر پولو ورلڈکپ کے لیے کوالیفائی کرلیا۔جنوبی افریقا کے شہر جوہانسبرگ میں ہونے والی عالمی پولو چیمپئن شپ 2022 کے کوالیفائنگ میچ میں پاکستان نے دوسرے پلے آف میں بھارت کو شکست دی۔

    پاکستان نے بھارت کو تین کے مقابلے میں سات گول سے ہرایا، پاکستان نے زون ای سے پولو ورلڈکپ کے لیےکوالیفائی کرلیا ہے۔پاکستان کی طرف سے حمزہ معاذ نے 6 جب کہ میکائل سمیع نے ایک گول کیا۔پاکستان پولو ٹیم اکتوبر میں امریکا میں ہونے والے مین راؤنڈ میں کھیلےگی۔

    دوسری طرف ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے فائنل میں سری لنکا پاکستان کو شکست دے کر چھٹی بار ایشین چیمپئن بن گیا۔

    سری لنکا نے پاکستان کو تیسری بار ایشیا کپ کے فائنل میں شکست دی ہے، سری لنکن ٹیم اس سےقبل 1986 اور 2014 میں بھی پاکستان کو فائنل میں ہراچکی ہے۔سری لنکا کے 171 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی بیٹرز مقررہ 20 اوورز میں147رنز بناسکے، محمد رضوان 49 گیندوں پر 55 رنز بناکر نمایاں رہے۔

    اس سے قبل 58 کے مجموعی اسکور پر آدھی ٹیم کے پویلین لوٹنے کے بعد بھانوکا راجاپکسا کی شاندار بیٹنگ کی بدولت سری لنکا نے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں پر170 رنز بنائے۔راجاپکسا 45 گیندوں پر 71 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

    دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر سری لنکا کو بیٹنگ کی دعوت دی۔پاکستان ٹیم میں 2 تبدیلیاں کی گئیں، حسن علی اور عثمان قادر کی جگہ نسیم شاہ اور شاداب خان کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔ایشیا کپ کے فائنل میں سری لنکا کی اننگز کا آغاز بالکل اچھا نہ رہا ،پہلے ہی اوور میں 2 کے مجموعی اسکور پر اوپنر کوشل نسیم شاہ کی شاندارگیند پر بولڈ ہوگئے۔

    سری لنکا کو دوسرا نقصان پاتھم نسانکا کی صورت میں اٹھانا پڑا، وہ 8 رنز بناکر حارث رؤف کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔سری لنکن ٹیم کی تیسری وکٹ چھٹے اوور میں 36 کے مجموعی اسکور پر گری، گھناتھیلاکا حارث رؤف کی تیز گیند کا سامنا نہ کرسکے اور ایک رنز بناکر بولڈ ہوگئے جبکہ افتخار احمد نے سیٹ بیٹر دھننجایا ڈی سلوا کو 28 رنز پویلین بھیجا۔

    سری لنکا کو پانچواں نقصان کپتان داسن شانکا کی صورت میں اٹھانا پڑا ، وہ 2 رنز بناکر شاداب کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔58 رنز پر 5 وکٹیں گرنے کے بعد بھانوکا راجاپکسا اور ہسارنگا کے درمیان شاندار 58 رنز کی شراکت داری قائم ہوئی لیکن پھر ہسارنگا 21 گیندوں پر 36 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔

    اختتامی اوورز میں راجا پکسا جارحانہ اننگز کھیلتے ہوئے 45 گیندوں پر 71 رنز بناکر ناقابل شکست رہے،اس کے علاوہ کرونارتنے نے 14 رنز بنائے۔پاکستان کی جانب سے حارث رؤف نے 3 ، نسیم، شاداب اور افتخار نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

    سری لنکا کے 171 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان ٹیم کا آغاز اچھا نہ رہا، کپتان بابر اعظم ایک بار پھر بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے، وہ صرف 8 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے جبکہ نئے آنے والے بیٹر فخر زمان پہلی گیند پر صفر پر پویلین لوٹے۔

    22 رنز پر 2 وکٹیں گرنے کے بعد افتخار احمد اور محمد رضوان کے درمیان 71 رنز کی شراکت داری قائم ہوئی لیکن پھر افتخار 31 گیندوں پر 32 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔

    پاکستان کی چوتھی وکٹ 102 رنز پر گری، محمد نواز 6 رنز بناکر ٹیم کا ساتھ چھوڑ گئے، اس کے بعد میڈل آرڈر ریت کی دیوار ثابت ہوا، خوشدل شاہ 2، محمد آصف صفر اور شاداب خان 8 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔محمد رضوان نے 49 گیندوں پر55 رنز بنائے پر وہ بھی پاکستان کو کامیابی نہ دلواسکے اور پوری ٹیم 20 اوورز میں 147 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

    سری لنکا کی جانب سے مدوشان نے 4 اور ہسارنگا نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔یوں پاکستان کو 23 رنز سے شکست دے کر سری لنکا نے ایشیا کپ کا ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔سری لنکا کے بھانوکا راجاپکسا کو مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا جبکہ پلیئر آف دی سیریز کا ایوارڈ ونندو ہسارنگا کے نام رہا۔