Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • سعودی عرب میں  منشیات وصول کرتے ہوئے 6 پاکستانی گرفتار

    سعودی عرب میں منشیات وصول کرتے ہوئے 6 پاکستانی گرفتار

    ریاض: سعودی عرب میں 71 کلوگرام منشیات وصول کرتے ہوئے 6 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

    سعودی وزارتِ داخلہ کے سکیورٹی ترجمان طلال الشلہوب کے مطابق جنرل ڈائریکٹوریٹ آف نارکوٹکس کنٹرول (جی ڈی این سی) نے زکوٰۃ، ٹیکس اینڈ کسٹمز اتھارٹی کے تعاون سے ریاض ریجن میں مقیم 6 پاکستانی باشندوں کو گرفتار کیا، ملزمان کو 71 کلو گرام میتھایمفیٹامین وصول کرتے ہوئے حراست میں لیا گیا۔

    ایک اور کارروائی میں جی ڈی این سی کی جانب سے عمانی حکام کے ساتھ شیئر کی گئی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر اسمگلنگ کی دو کوششیں ناکام بنا دی گئیں جن کے دوران 200 کلوگرام سے زائد منشیات ضبط کی گئیں۔

    بلوچستان:سیکیورٹی بہتر بنانے کیلئے پہلا آرٹیفیشل انٹیلیجنس سیل قائم کرنے کا اعلان

    سکیورٹی ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب منشیات کے ذریعے ملکی سلامتی اور نوجوانوں کو نشانہ بنانے والی مجرمانہ سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے گا، ایسی کوششوں کو ناکام بنائے گا اور ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    سندھ میں جرائم پیشہ عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں، ضیا الحسن لنجار

  • رمضان المبارک کے آغاز کی ممکنہ تاریخ سامنے آگئی

    رمضان المبارک کے آغاز کی ممکنہ تاریخ سامنے آگئی

    ملک میں رمضان المبارک کے آغاز کی ممکنہ تاریخ سامنے آگئی۔

    کیلنڈر کےمطابق برکتوں والےمہینےکا آغاز 20 یا 21 فروری 2026 کو ہونےکی توقع ہے،جس کا مطلب ہے کہ اب رمضان المبارک کی آمد میں محض 60 سے 61 دن باقی رہ گئے ہیں،اگررجب اورشعبان،دونوں مہینے اپنےمقررہ دن پورے کرتے ہیں تو فروری کے تیسرے ہفتے میں پہلا روزہ ہونے کا امکان ہے،تاہم حتمی اعلان رویتِ ہلال کمیٹی چاند دیکھنے کے بعد ہی کرے گی۔

    کیلنڈر کےمطابق اگررمضان المبارک کے 30 روزےپورے ہوئےتو عید الفطر 22 مارچ 2026 بروز اتوارکو ہونے کا امکان ہے،تاہم 29 روزے ہونےکی صورت میں عید 21 مارچ بروز ہفتہ کو منائی جا سکتی ہے،عید کی حتمی تاریخ کا اعلان شوال کا چاند نظر آنے کے بعد رویتِ ہلال کمیٹی کرے گی۔

    چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ،

    واضح رہے ملک میں رجب المرجب کا چاند نظر آنے کے بعد رمضان المبارک کی گنتی شروع ہوگئی ہے،کیونکہ رجب کے بعد شعبان، اور پھر رمضان المبارک آتا ہے-

    جہیز پر پابندی کا بل مسترد کر دیا گیا

  • ’انڈیا فرسٹ‘ کا دور ختم، ٹرمپ کی جنوبی ایشیا پالیسی میں پاکستان  مرکزی ستون

    ’انڈیا فرسٹ‘ کا دور ختم، ٹرمپ کی جنوبی ایشیا پالیسی میں پاکستان مرکزی ستون

    نیویارک:واشنگٹن ٹائمز نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ 2025 میں پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی پالیسی اور جنوبی ایشیا کے توازن کو دوبارہ لکھنے میں اصل کردار ادا کیا، جس سے پاکستان ناپسندیدہ ریاست سے شراکت دار ملک میں بدل گیا۔

    واشنگٹن ٹائمز کے ایک آرٹیکل میں 2025 کو پاک امریکا تعلقات میں انقلابی تبدیلی کا سال قرار دیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا کہ صدر ٹرمپ کی جنوبی ایشیا پالیسی میں پاکستان کو مرکزی ستون بنایا گیا اور ’انڈیا فرسٹ‘ کا دور ختم ہو گیا۔

    آرٹیکل میں کہا گیا کہ پاک امریکا تعلقات میں پہلا پگھلاؤ خفیہ کاؤنٹر ٹیررازم ایکسچینجز سے آیا، جس نے واشنگٹن کو پاکستان کے ساتھ سبسٹینٹو تعاون (Substantive Cooperation) کا واضح اشارہ دیا۔مارچ میں ٹرمپ نے قومی خطاب میں پاکستان کی غیر متوقع تعریف کی، جس نے امریکی پالیسی کا رخ بدل دیا۔

    مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مختصر مگر شدید جھڑپ نے تعلقات میں فیصلہ کن موڑ لایا۔ پاکستان کی ملٹری کارکردگی، ڈسپلن، اسٹریٹجک فوکس اور ایسِمٹرک کیپیبلٹی (Asymmetric Capability) نے ٹرمپ کو حیران کر دیا اور پاکستان کو دوبارہ سنجیدہ ریجنل ایکٹر کے طور پر دیکھا جانے لگا۔

    آرٹیکل کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کو سیزفائر پر بھارت کا ردعمل سخت ناگوار گزرا، جبکہ پاکستان نے ثالثی کی کوشش کو قبول کیا۔ جس کے نتیجے میں بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی حیثیت واشنگٹن میں مزید مضبوط ہو گئی اس پیش رفت کے بعد پاکستان کو دوبارہ ایک سنجیدہ علاقائی قوت کے طور پر دیکھا جانے لگا اور واشنگٹن میں ’انڈیا فرسٹ‘ کا دور اب ختم ہوچکا ہے،وہ ٹرمپ حکام جو پہلے پاکستان کو نظرانداز کرتے تھے، اب اس کا ذکر ایک شراکت دار ملک کے طور پر کرنے لگے ہیں۔

    واشنگٹن ٹائمز کے مطابق، پاکستان کی ملٹری ماڈرنائزیشن کو نئی عالمی اہمیت حاصل ہوئی اور چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ فعال کیا گیا، جس پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا نام نمایاں طور پر لیا گیا انہیں Disciplined Dark Horse اور Deliberate Mystery جیسے القابات دیے گئے اور وائٹ ہاؤس میں لنچ میٹنگ بھی ان کے لیے ایک تاریخی تقریب تھی۔

    جریدے کے مطابق فیلڈ مارشل کا سینٹ کام ہیڈکوارٹرز میں ریڈ کارپٹ استقبال ہوا، امریکی عسکری قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک بات چیت کی گئی، 2026 کے آغاز پر پاکستان کو ٹرمپ کی گرینڈ اسٹریٹیجی کے مرکز کے قریب دیکھا جا رہا ہے۔

    امریکی اخبار نے لکھا کہ نئی امریکی پالیسی کی پائیداری دہلی اور اسلام آباد کے رویے سے مشروط رہے گی، 2025 میں امریکی پالیسی اورجنوبی ایشیا کاتوازن ری رائٹ کرنے میں پاکستان اور فیلڈ مارشل نے اصل کردار ادا کیا۔

    آرٹیکل میں کہا گیا کہ ٹرمپ کے نزدیک فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ تعلق کو ہاف جوکنگ ’برومانس‘ کہا گیا اور 2026 کے آغاز پر پاکستان کو امریکی گرینڈ اسٹریٹیجی کے مرکز کے قریب دیکھا جا رہا ہے ایران اور غزہ کے معاملات میں پاکستان کے ممکنہ کلیدی کردار کو بھی واشنگٹن نے اہم قرار دیا۔

    واشنگٹن ٹائمز نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ 2025 میں پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی پالیسی اور جنوبی ایشیا کے توازن کو دوبارہ لکھنے میں اصل کردار ادا کیا، جس سے پاکستان ناپسندیدہ ریاست سے شراکت دار ملک میں بدل گیا،اخبار کے مطابق پاکستان کا ناپسندیدہ ریاست سے شراکت دار ملک بن جانا اور امریکا میں پاکستان کے بارے میں رائے کا اس قدر تیزی سے بدلنا ایک منفرد واقعہ ہے، جبکہ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا پالیسی میں پاکستان کو اب ایک مرکزی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔

  • پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان معاشی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان معاشی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

    اسلام آباد: پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ٹیکس تعاون اور دوطرفہ معاشی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر اور نیشنل بورڈ آف ریونیو (این بی آر) کے اعلیٰ سطحی وفد نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا دورہ کیا ہے۔

    وفد کی قیادت این بی آر کے رکن انٹرنیشنل ٹیکسز محمد لطفل عظیم کر رہے ہیں جبکہ وفد میں رکن ٹیکس ایڈمنسٹریشن جی ایم عبد الکلام کائیکوباد، بیریسٹر متصم بلال فاروقی فرسٹ سیکریٹری ٹیکس پالیسی، محمد عبد الرکیب کمشنر آف ٹیکسز، محمد جعفر امام فرسٹ سیکریٹری ٹیکس پالیسی، دیوان محمد غلام کبریا سیکنڈ سیکریٹری اور عتیق الاسلام سینئر اسسٹنٹ سیکریٹری شامل ہیں۔

    دورے کے پہلے روز بنگلہ دیشی وفد کا استقبال ایف بی آر کے ممبر ایڈمنسٹریشن اقبال خان اور ڈائریکٹر جنرل انٹرنیشنل ٹیکسز آفتاب عالم نے کیا ،فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی ڑر)کے مطابق اس موقع پر بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر/سفیر محمد اقبال حسین خان نے چیئرمین ایف بی آر رشید محمود لنگڑیال سے ملاقات کی ہے-

    افغانستان کی نئی ٹی ٹوئنٹی لیگ متعارف

    اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا اور باہمی تجارت کے فروغ کے ساتھ ساتھ معاشی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے،اس موقع پر دونوں فریقین کے درمیان بین الاقوامی ٹیکس کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور تجربات شیئر کیے گئےدونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ باقاعدہ روابط اور ملاقاتوں کے ذریعے ادارہ جاتی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا تاکہ دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو نئی جہت دی جا سکے۔

    ملاقات کے دوران یہ بھی طے پایا کہ دونوں ممالک کی بین الاقوامی ٹیکس سے متعلق تکنیکی ٹیمیں موجودہ ڈبل ٹیکسیشن معاہدے کا جائزہ لیں گی اور اسے بدلتے ہوئے عالمی معیارات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے بات چیت کریں گی، اس سلسلے میں عملی پیش رفت کے لیے باقاعدہ مذاکرات اور تکنیکی مشاورت جاری رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔

    بنگلہ دیش ، بھارت کشیدگی میں اضافہ، دہلی میں قونصلر اور ویزا سروس معطل

    پاکستان کے دورے پر آیا ہوا بنگلہ دیش کے نیشنل بورڈ آف ریونیو کا ایک اعلیٰ سطح وفد 26 دسمبر 2025 تک پانچ روزہ سرکاری دورے پر پاکستان رہے گا اس دورے کا مقصد پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان آمدنی پر ٹیکس سے متعلق دوہرے ٹیکس سے بچاؤ اور مالی بے ضابطگیوں کی روک تھام کے موجودہ کنونشن میں ترمیم کے لیے پروٹوکول پر مذاکرات کا آغاز کرنا ہے۔

  • پاکستان،لیبیا دفاعی معاہدہ  دو اہم پہلوؤں کا عکاس

    پاکستان،لیبیا دفاعی معاہدہ دو اہم پہلوؤں کا عکاس

    پاکستان نے لیبیا کے ساتھ روایتی اسلحہ اور دفاعی سازوسامان کی فراہمی کے لیے ایک کثیر ارب ڈالر کا بڑا برآمدی معاہدہ طے کر لیا ہے، جسے دفاعی اور معاشی حلقوں میں ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان کی دفاعی صنعت کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا مظہر ہے بلکہ برآمدات پر مبنی، خود کفیل معیشت کے وژن کی عملی تعبیر بھی سمجھا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق اس بڑے دفاعی معاہدے سے دو بنیادی پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔ اول، یہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی معاشی پالیسیوں اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت پر اعتماد کا اظہار ہے، جنہوں نے ملکی معیشت کو درآمدات کے بجائے برآمدات کے ذریعے مستحکم کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی۔ دوم، یہ معاہدہ ایک جانب پاکستان کی اندرونی صنعتی اور تکنیکی مہارت کو اجاگر کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور سپاہی سفارتکار مدبرانہ ریاستی بصیرت کی عکاسی کرتا ہے۔حالیہ برسوں میں پاکستان نے اپنی مقامی صنعتی بنیاد کی ترقی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ کان کنی اور معدنیات، مصنوعی ذہانت (AI)، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کرپٹو ٹیکنالوجیز، بڑے پیمانے کی صنعت کاری، زراعت اور جدید دفاعی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں پیش رفت نے پاکستان کو خطے میں ایک ابھرتی ہوئی صنعتی طاقت کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ انہی کوششوں کا عملی مظاہرہ حال ہی میں معرکہ حق دیکھنے میں آیا، جہاں پاکستان کی مقامی دفاعی مصنوعات کو ملکی و غیر ملکی ماہرین کی جانب سے بھرپور سراہا گیا۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان ماضی میں بھی کئی ممالک کو روایتی اسلحہ اور دفاعی سازوسامان فراہم کرتا رہا ہے، تاہم لیبیا کے ساتھ طے پانے والا یہ معاہدہ اپنے حجم، وسعت اور مالی اثرات کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کامیابی کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کی غیر معمولی عسکری سفارتکاری اور عالمی سطح پر مؤثر روابط کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    لیبیا پر اقوامِ متحدہ کی جانب سے عائد اسلحہ پابندی کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے متعدد بڑے مغربی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک لیبیا کو اسلحہ اور عسکری سازوسامان فراہم کرتے آ رہے ہیں۔ اس تناظر میں کہا جا رہا ہے کہ اگرچہ کاغذی طور پر پابندی موجود ہے، مگر عملی طور پر یہ مختلف وجوہات کی بنا پر غیر مؤثر رہی ہے، خصوصاً اس لیے کہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے مختلف فریقین کے درمیان اسلحے کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس معاہدے کے ذریعے پاکستان نے باضابطہ طور پر خود کو روایتی اسلحہ اور دفاعی سازوسامان کے نمایاں عالمی برآمد کنندگان کے کلب میں شامل کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف ملکی معیشت کے لیے زرمبادلہ کے نئے ذرائع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کے دفاعی شعبے کو عالمی سطح پر مزید مستحکم مقام دلانے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔

  • پی ٹی وی  میں مالی کو پروڈیوسر لگائے جانے کا انکشاف

    پی ٹی وی میں مالی کو پروڈیوسر لگائے جانے کا انکشاف

    وزیر اطلاعات عطا تارڑ نےسرکاری ٹی وی پی ٹی وی میں ایک مالی کو پروڈیوسر لگائے جانے کا انکشاف کیا ہے۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹ کا اجلاس چیرمین کمیٹی پولین بلوچ کی زیر صدارت ہوا ، کمیٹی میں پاکستان ٹیلی ویژن کے ملازمین کی تنخواہوں کا معاملہ زیرِ بحث رہا عطا تارڑ نے کہا کہ بہت لوگ سرکاری ٹی وی میں بیٹھے تھے ،گمنام اکاؤنٹ سے میرے خلاف ٹویٹ کروائے جاتے ہیں ، میں سرکاری ٹی وی میں بیٹھے مافیا سے بہت لڑا ہوں ،جب تک اللہ کی مرضی ہے مافیا کے خلاف لڑتے رہیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ کسی نے اپنی بیگم اور رشتہ داروں کو سرکاری ٹی وی بھرتی کیا ہوا ہے ، مافیا پر ہاتھ ڈالتے ہیں تو کالیں آنا شروع ہو جاتی ہیں،میرے آنے سے پہلے پرچی پر ٹی وی اینکر بیٹھے تھے ،ایسے اینکر لگے تھے جن کو گھر میں بھی کوئی نہیں پہچانتا تھا ، ہم نے میر ٹ پر لوگوں کو لگایا ماضی میں جس کو منسٹر چاہتا تھا وہ اینکر لگ جاتا تھا۔

    پاپوانیو گنی میں زلزلے کے شدید جھٹکے

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ جب تک ہم گولڈن شیک ہینڈ نہیں لے کر آتے تب تک چینل نہیں چل سکتا ، سرکاری ٹی وی میں سیاسی بھرتیاں ہیں ، مالی کو پروڈیوسر لگایا گیا،ایک ایک پوسٹ پر پچیس لوگ بھرتی ہوئے ہیں،اب ہم نے پاکستان ٹیلی ویژن میں بہتری لائی ہے،انگلش چینل پر ہم اچھے اینکر لے کر آ رہے ہیں،جنگ کے بعد ہمیں احساس ہوا کہ ہمارے پاس کوئی اچھا چینل ہونا چاہیے ،ہم نے الگ فنا نشل ماڈل کے تحت انگلش چینل کو شروع کیا ہے

    بھارتی ٹیم کا کرکٹ میں رویہ غیر اخلاقی تھا ،سرفراز احمد

  • مدرسہ کے بارے جو نظریہ انگریز کا وہی نظریہ آج کے اسٹبلشمنٹ کا ہے، مولانا فضل الرحمان

    کراچی:جمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مدرسہ کے بارے جو نظریہ انگریز کا وہی نظریہ آج کے اسٹبلشمنٹ کا ہے ،اگر میں پاکستان کی دفاع کو طاقتور دیکھنا چاہتا ہوں تو پھر تم ان دینی مدارس کو طاقتور کیوں نہیں دیکھ سکتے۔

    جے یو آئی ضلع جنوبی کراچی کے زیر اہتمام مولوی عثمان پارک لیاری کراچی میں عظیم الشان تحفظ مدارس دینیہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےمولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دینی مدارس کیخلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے، ہم تو علم کے تقسیم کے قائل ہی نہیں، ہم ایک نصاب کے قائل ہیں، تم نے مدارس کو تقسیم کیا ان کے حقوق پر شب خون مارا انہی مدارس نے آپ کو شکست دے دی، جو مدرسہ تمہارے ہاتھ لگا اس کی دینی علوم کی حیثیت ختم ہوگئی۔

    اںہوں نے نے کہا کہ تمام مکاتب فکر جمیعت علماء اسلام اور وفاق المدراس العربیہ پاکستان یہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان میں ایک پرامن نظام کا قیام ہو، کہتے ہیں ہمیں سیاست میں مت گھسیٹوں آپ سیاست میں آتے کیوں ہو؟ زبان سے بات نہیں بنتی، کردار سے تاثر بنتا ہے، پاکستان کے تمام ادارے ناگزیر ہیں، آپ ہمارے سرآنکھوں پر مگر جب اپنے حد میں رہیں گے۔

    بھارتی وزارت دفاع کے لیفٹیننٹ کرنل رشوت اور کرپشن کیس میں گرفتار

    انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ کی جماعت نے کراچی کے اضلاع کے دینی مدارس کے فضلاء کو یہاں جمع کیا ہے اور ان کے سروں پر دستار فضلیت سجانے کیلئے اس اجتماع کا اہتمام کیا گیا، میں سب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انہوں اپنا نصاب مکمل کیا اور انہوں نے عملی طور دنیا کے طرف جانا ہے، ایک تاثر پھیلا جارہا ہے کہ دینی مدارس نے کم نوجوانوں کی صلاحیتیں محدود کی جاتی ہیں اور وہ معا شر ے کے لیے کردار ادا نہیں کرتے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مجھ سے قبل علماء کرام نے اپنے بیان کیے، ہمیں سوسائٹی میں مختلف لوگوں سے ملنا پڑتا ہے ان کے دل و دماغ میں تحفظات ہوتے ہیں لیکن ان کو یہ نہیں بتایا کہ مدرسہ کیوں وجود میں آیا 1857 سے پہلے اس نوعیت کا مدرسہ نہیں تھا مدرسہ کے قیام کا سبب تم بنے ہو، قرآن و سنت کا مسئلہ تم نے اٹھایا، مدرسہ کے بارے جو نظریہ انگریز کا وہی نظریہ آج کے اسٹبلشمنٹ کا ہے جو نظریہ اس وقت اسٹبلشمنٹ کا تھا وہی ان کا ہے۔

    ایرانی سرحد عبور کرتے ہوئے 40 افغان شہری شدید سردی سے جاں بحق

    امیر جے یو آئی نے کہا کہ مولانا شبیر احمد عثمانی اور مفتی شفیع نے دیوبند سے ہجرت کی اور اس ملک میں ہجرت کی اور آکر تجویز دی اب نہ ہندو ہے نہ انگریز آئیں دینی مدرسہ کیلئے ایک لائحہ طے کریں، لیکن تم نے ان کی رائے اور تجویز کو قبول نہیں کیا، تم آج کہتے ہو ہمیں انگریز سے خطرہ نہیں بلکہ خطرہ دینی مدارس سے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ تعاون ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنے کانام ہےمدارس کے تمھارے مذاکرات ہوئے دستخط ہوئے مختلف ادوار میں آپ کے طرف سے شرائط آئیں، دینی مدارس نے قبول کی اس کے باوجود دینی مدارس کیخلاف سازش کیوں کررہے ہو؟مانتا ہوں کہ ملک پاکستان میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹیاں ہیں لیکن ہمارے مدارس سے تم نیشنل ڈمی یونیورسٹی بناؤ تو ہم قبول نہیں کریں گے، تم نے مدارس کو تقسیم کیا اسکے تنظیم پر شب خون مارا لیکن مدارس نے تمھیں شکست دی۔

    پی ٹی آئی رہنما عمر ڈار احتجاجی ریلی کے دوران گرفتار

    مولانا نے کہا کہ ہمیں انگریز یا ہندو سے نہیں دینی علوم کے لیے مسلمانوں سے خطرہ ہے اپنی بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ سے خطرہ ہے، کونسا شعبہ ہے پاکستان کا جو تمھارے 78 سال کاکردگی کی گواہی دے، پاکستان میں صرف دینی مدارس ہیں جس نے ملک کو ٹاپ رینکنگ پر رکھا ہوا ہے ،اگر میں پاکستان کی دفاع کو طاقتور دیکھنا چاہتا ہوں تو پھر تم ان دینی مدارس کو طاقتور کیوں نہیں دیکھ سکتے،دینی مدارس کیخلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے اگر سنجیدہ ہو تو آؤ بیٹھو بات کرو ملک کے کتنے مدراس جو تم نے اپنے تحویل میں لیے آج کہاں ہیں ، پاکستان میں جو بھی ادراہ آپکے ہاتھ لگا ہے اسکی دینی حیثیت ختم کردی گئی، کوئی پارٹی اپنے منشور کے لیے پُرامن جدوجہد کرتی ہے تو یہ اس کا آئینی حق ہے۔

    چیئرمین پی سی بی کا انڈر 19 ایشیا کپ جیتنے والی ٹیم کیلئے بڑا اعلان

  • پاکستان اور عراق کا دہشت گردی، انتہا پسندی اور منشیات کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر اتفاق

    پاکستان اور عراق کا دہشت گردی، انتہا پسندی اور منشیات کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر اتفاق

    بغداد:صدر مملکت آصف علی زرداری نے عراقی صدر ڈاکٹر عبداللطیف جمال رشید سے بغداد پیلس میں ملاقات کی –

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے عراقی صدر ڈاکٹر عبداللطیف جمال رشید سے بغداد پیلس میں ملاقات کی جہاں ان کی آمد پر صدر آصف علی زرداری کو شان دار گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور سرکاری استقبالیہ تقریب میں قومی ترانے بجائے گئے، صدر مملکت آصف علی زرداری نے عراق کے صدر کو ملک کی تعمیر نو میں پاکستان کے کردار کی پیش کش کی جبکہ دونوں ممالک نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور منشیات کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر اتفاق کیا۔

    اعلامیے کے مطابق دونوں صدور کے درمیان ون آن ون اور وفود کی سطح پر تفصیلی ملاقات ہوئی اور عراقی صدر نے صدر آصف علی زرداری اور پاکستانی وفد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔

    صدر آصف علی زرداری نے عراقی قیادت اور عوام کے پرت پاک استقبال پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بغداد تہذیب، تاریخ اور استقامت کی علامت عظیم شہر ہے اور عراق میں کامیاب پارلیمانی انتخابات پر عراقی قیادت اور عوام کو مبارکباد دی،انہوں نے کہا کہ پاکستان عرا ق کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی اتحاد کی بھرپور حمایت کرتا ہے، صدر پاکستان نے عراق کےاستحکام، ترقی اور جمہوری عمل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

    ملاقات میں پاک-عراق دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورت حال اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دونوں رہنماؤں نے اعلیٰ سطح پر را بطوں اور مشترکہ کمیشن کے اجلاس پر اطمینان کا اظہار کیا،صدر مملکت نے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، دفاعی پیداوار میں تعاون بڑ ھا نے پر زور دیا اور ساتھ ہی آئی ٹی، تعمیرات، ادویات اور متعلقہ صنعتوں میں تعاون کے وسیع امکانات پر بات چیت کی۔

    ملاقات کے دوران صدر زرداری نے بزنس ٹو بزنس روابط اور تجارتی وفود کے تبادلے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے درمیان براہ راست بینکاری چینلز کے قیام کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مالیاتی سہولتیں ناگزیر ہیں۔

    صدر آصف علی زرداری نے عراق کی تعمیر نو میں پاکستان کے کردار کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان موجودہ ایم او یو کے تحت ہنرمند اور نیم ہنرمند افرادی قوت فراہم کرنے کے لیے تیار ہےانہوں نے طبی سہولیات، مالیاتی مہارت اور ڈیجیٹل گورننس میں تعاو ن کی بھی پیش کش کی اور محفوظ ڈیٹا مینجمنٹ سمیت تکنیکی تجربات عراق کے ساتھ شیئر کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا۔

    صدر پاکستان نے عراقی زیارات پر جانے والے پاکستانی زائرین کے لیے سہولتوں میں بہتری کا مطالبہ کیا اور زائرین مینجمنٹ ایم او یو کی جلد حتمی منظوری اور نفاذ پر زور دیا گیا غیر قانونی داخلے اور زائد قیام کرنے والے پاکستانیوں کی روک تھام کے لیے مکمل تعاون کریں گے، پاکستان عراقی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کا حامی ہے۔

    دونوں صدور نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور منشیات کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر اتفاق کیا، پاک-عراق قیادت نے سیکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا، اقوام متحدہ اور او آئی سی سمیت عالمی فورمز پر قریبی مشاورت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    عراقی صدر نے مسلم امہ کو متحد کرنے میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کی تاریخی اور مسلسل حمایت کی تعریف کی۔

  • پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون باہمی اعتماد اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کا مظہر ہے،صدر مملکت

    پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون باہمی اعتماد اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کا مظہر ہے،صدر مملکت

    اسلام آباد : صدر مملکت آصف علی زرداری نے ترکیہ میں پاک بحریہ کے جدید جنگی جہاز کی شمولیت کو قومی بحری دفاع کے لیے اہم سنگِ میل قرار دیتے ہو ئے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون باہمی اعتماد اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کا مظہر ہے-

    ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدرِ مملکت نے پی این ایس خیبر کی کمیشننگ پر پاک بحریہ، دفاعی ماہرین اور تمام شراکت داروں کو مبارکباد دی، کہا کہ جدید بحری جہاز کی شمولیت سے پاکستان کی سمندری سرحدوں کے تحفظ اور بحری سلامتی مزید مضبوط ہوگی،پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون باہمی اعتماد اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کا مظہر ہے۔

    صدرِ مملکت نے دفاعی صنعت میں دوطرفہ شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا، کہا کہ بحری طاقت میں اضافہ پاکستان کی معیشت، تجارت اور سمندری راستوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے،ملجم کلاس جہازوں کا منصوبہ دونوں ممالک کی تکنیکی مہارت اور مشترکہ وژن کی کامیاب مثال ہے۔

  • اسحاق ڈار سے تاجکستان کے سفیر کی ملاقات

    اسحاق ڈار سے تاجکستان کے سفیر کی ملاقات

    اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے پاکستان میں تاجکستان کے سفیر شریف زادہ یوسف توہیرنے ملاقات کی،دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان قریبی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور –

    دفتر خارجہ کے مطابق تاجک سفیر نے پاکستان میں پہلے تاجک ثقافتی ہفتہ کے انعقاد میں تعاون پر نائب وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا، تاجکستان کے ساتھ پاکستان کے کثیر جہتی دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے کی پاکستان کی پختہ خواہش کا اظہار کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم نے کہا کہ وہ 2026 میں تاجکستان کے ساتھ متعدد اعلیٰ سطحی رابطوں کے منتظر ہیں۔

    انہوں نے پاکستان تاجکستان دوطرفہ تجارت کو 500 ملین امریکی ڈالر تک بڑھانے کے لیے دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان قریبی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔