Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی سوالات کے گھیرے میں؟ — نعمان سلطان

    نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی سوالات کے گھیرے میں؟ — نعمان سلطان

    ناگہانی آفات اور مسائل سے نبٹنے کے لئے حکومت نے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا قیام کیا، جس کا سربراہ کوئی بھی سول یا فوجی افسر ہو سکتا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے قیام کا بنیادی مقصد ناگہانی آفات کی صورت میں اداروں میں رابطے کے فقدان کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کی شرح کو کم کرنا، ختم کرنا اور تمام اداروں کا انفرادی کے بجائے اجتماعی کام کرنا تاکہ اداروں کے وسائل تقسیم یا ضائع ہونے کے بجائے مرکزیت کی وجہ سے تمام متاثرین میں برابر تقسیم ہوں۔

    ملک میں معمول سے زیادہ بارشیں ہونے اور ان کی وجہ سے سیلاب آنے کی پیش گوئی پہلے سے ہی محکمہ موسمیات نے کر دی تھی، ظاہری بات ہے ملک میں مناسب مقامات پر ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے ہم ان سیلابی ریلوں کو مینج نہیں کر سکتے تھے ۔

    اس صورت حال میں این ڈی ایم کی پہلی ترجیح تمام متعلقہ محکموں کی میٹنگ بلا کر انہیں ہنگامی صورتحال کے لئے تیار رہنے اور ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں انہیں پیشگی آگاہ کرنا اور انہیں ان ذمہ داریوں کے لئے ضروری وسائل پیشگی اکٹھے کرنے کی ہدایات دینا تھی۔

    اس کے بعد این ڈی ایم اے کو متعلقہ محکموں کو ہدایت کرنا تھی کہ وہ سروے کریں کہ سیلاب آنے کی صورت میں کن علاقوں میں کٹ لگا کر سیلابی علاقوں کا رخ وہاں موڑا جائے تا کہ مالی نقصان یا انفراسٹرکچر کا نقصان کم سے کم ہو۔

    پھر این ڈی ایم اے کا کام سیلاب سے متوقع متاثرہ علاقوں کے رہائشی تمام لوگوں (جن کے شناختی کارڈ پر اس علاقے کا پتا "ایڈریس ” ہو) کو قریب ترین محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ہے، متاثرین کو رہائش ترجیحی بنیادوں پر تمام سرکاری اور نجی اسکولز میں، اس کے بعد سرکاری عمارتوں میں اور سب سے آخر میں کھلے میدانوں میں خیمہ بستیاں لگا کر فراہم کرنا ہے ۔

    اس کے بعد متاثرین کو جن علاقوں میں منتقل کیا گیا ہو وہاں موجود بنکوں کو پابند کیا جائے کہ متاثرین کے اکاؤنٹ بائیو میٹرک کھولے جائیں اور انہیں بنک لاکر فراہم کئے جائیں اور اے ٹی ایم کارڈ فراہم کئے جائیں تا کہ امدادی کیمپوں سے جو نقدی اور قیمتی سامان چوری ہونے کا خدشہ یا شکایات ہوتی ہیں، وہ نہ ہوں اور متاثرین حسب ضرورت اے ٹی ایم کارڈ سے پیسے نکلوا سکیں ۔

    اس کے بعد متاثرین کو ان کے کوائف کے مطابق روزانہ راشن فراہم کیا جائے جبکہ نجی تنظیموں کو پابند کیا جائے کہ وہ متاثرین کو راشن حکومت کے تعاون سے فراہم کرے تا کہ راشن ضائع نہ ہو، امدادی کیمپوں میں میڈیکل کیمپ لگائے جائیں اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔

    متاثرین کو امدادی کیمپوں میں منتقل کرنے اور ان کی خوراک و ادویات کا انتظام کرنے کے بعد این ڈی ایم اے کی ذمہ داری تھی کہ وہ سیلابی پانی اترنے کے بعد کوائف کے مطابق اور اپنے دستیاب وسائل کے مطابق (بین الاقوامی اور حکومتی امداد) لوگوں کے ملکیتی مکانات کم از کم اسٹرکچر بنا کر دے اور لوگوں کی فصلوں کا جو نقصان ہوا اس کے انہیں نقد پیسے دے تاکہ وہ بحالی کے بعد دوبارہ حالات سازگار ہونے پر اپنی فصلیں دوبارہ کاشت کر سکیں ۔

    مکانات کی ملکیت اور فصلوں کو ہونے والے نقصانات کا تخمینہ این ڈی ایم اے متعلقہ اداروں کے ذریعے پہلے سے ہی لگوا سکتا تھا، متاثرین کی بحالی کے بعد این ڈی ایم اے کی ذمہ داری حکومت کو تمام متاثرین کا ڈیٹا فراہم کرنا ہے تاکہ اس ڈیٹا کی بنیاد پر حکومت متاثرین کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے مناسب امداد دے۔

    این ڈی ایم اے کے ان قبل از وقت اقدامات کی وجہ سے سیلاب آنے کی وجہ سے جانی نقصان بالکل بھی نہیں ہونا تھا جبکہ مالی نقصان کم سے کم ہونا تھا، اکثر لوگ نقدی اور قیمتی اشیاء گھروں میں رکھتے ہیں امدادی کیمپوں میں ان کی چوری یا گمشدگی کا خدشہ ہوتا ہے جو کہ بنک میں رکھنے کی وجہ سے محفوظ ہو جاتیں ہیں ۔

    سیلابی پانی میں گھرے لوگوں کو امداد پہنچانا مشکل ہوتی ہے جبکہ تمام لوگوں کی امدادی کیمپوں میں منتقلی کی وجہ سے تمام متاثرین کو ان کے خاندان کی تعداد کے مطابق امدادی راشن بغیر کسی دشواری کے باعزت طریقے سے ملتا ہے ۔

    انفرادی حیثیت میں امداد جمع کرنے سے اس میں خردبرد کا امکان ہوتا ہے جبکہ حکومتی تعاون کی وجہ سے اس امداد کا بھی ریکارڈ ہوتا ہے اور امدادی کیمپوں میں کوائف کی بنیاد پر متاثرین کی منتقلی کی وجہ سے پیشہ ور اور جعلی متاثرین کا معلوم ہو جاتا ہے۔

    امدادی کیمپوں میں خوراک اور ادویات کی فراہمی تک تمام کام این ڈی ایم اے اپنے وسائل اور مخیر حضرات کے تعاون سے بآسانی کر سکتی تھی جبکہ متاثرین کی بحالی اور انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے وسائل بین الاقوامی برادری سے ملنے والی امداد اور حکومتی اور مخیر حضرات کے تعاون سے فراہم کر سکتی تھی۔

    این ڈی ایم اے کے قیام کا مقصد اور تمام متعلقہ اداروں کو اس کے ماتحت کرنے کا مقصد اور وہ اپنے وسائل کو بروئے کار لا کر کیا اقدامات کر سکتی تھی اور ان کے فوائد کیا تھے وہ سب آپ کو بتا دئیے۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا این ڈی ایم اے نے اپنی ذمہ داریاں ٹھیک طرح سے پوری کیں یا وہ بھی ہماری قوم کے لئے ایک سفید ہاتھی ہے؟

    اس سوال کا جواب آپ کی صوابدید پر چھوڑتا ہوں ۔

  • آئی ایم ایف کبھی نہیں چاہتاکہ پاکستان اس کےشکنجےسےنکلے:شوکت ترین

    آئی ایم ایف کبھی نہیں چاہتاکہ پاکستان اس کےشکنجےسےنکلے:شوکت ترین

    کراچی :تحریک انصاف کی حکومت نے پاکستان کوآئی ایم ایف کے شکنجے سے چھڑانے کا تہیہ کررکھاتھا ،مگرہماری چھٹی کرا دی گئی ، ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سابق وزیرخزانہ شوکت ترین نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ستمبر 2022 تک آئی ایم ایف کی چھٹی کرادینی تھی کیوں کہ آئی ایم ایف کبھی نہیں چاہتا کہ پاکستان اس کے شکنجے سے نکل سکے۔

    کراچی پریس کلب میں مزمل اسلم کے ساتھ پریس کانفرنس کرتےہوئے شوکت ترین نے سخت انداز میں آئی ایم ایف پر تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف تو اپنا چورن بیچتا رہے گا اور کبھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان اس کے شکنجے سے نکل سکے۔انھوں نے کہا کہ جنوری 2022 تک ہمارے لئے یہ ہی آئی ایم ایف بہت اچھی رپورٹ دے رہا تھا۔ تحریک انصاف کی حکومت میں ہم آئی ایم ایف کے سامنے کھڑے ہوجاتے تھے لیکن موجودہ حکمران بالکل لیٹ گئے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    شوکت ترین نے تجویز دی کہ اب حکومت یہ کرے کہ آئی ایم ایف کے پاس جائے اور کہیں کہ ملک میں سیلاب کے باعث ہمیں عوام کو ریلیف دینا ہے، آئی ایم ایف سے شرائط نرم کروائی جائیں۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ روس سمیت جہاں سے سستا تیل مل سکتا ہے اس کو حاصل کرنا چاہئے اور ٹیکس کا دائرہ بڑھا کر ٹیکس ریونیو بڑھایا جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ شوکت ترین کو غدار کہنے والے اپنے گریبان میں جھانکیں۔ شوکت ترین پاکستان کیلئے تھائی لینڈ سے ایک ملین ڈالر کی نوکری چھوڑ کر آیا۔

    اپنی آڈیو سے متعلق انھوں نے کہا کہ جمہوریت میں اظہار رائے کی آزادی ہوتی ہے اورمیری گفتگو ٹیپ کرنا غیرقانونی ہے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزیرخزانہ کے ساتھ گفتگو کٹ اینڈ پیسٹ اور ڈاکٹرڈ تھی۔اس لیک ٹیپ کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہوں اور وقت آنے پر یہ کارروائی کروں گا۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

     

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے ٹیپ خود لیک کرکے آئی ایم ایف پروگرام خطرے میں ڈالا اور اگر ان کی نیت صاف ہوتی تو یہ آڈیو ایسے موقع پر لیک نہ کی جاتی،یہ ماضی میں آئی ایم ایف پروگرام پر بہت کچھ بول چکے ہیں تو ہم نے تو انہیں غدار نہیں کہا تھا۔

  • غریب عوام جینے کا حق مانگتی ہے!!! — حاجی فضل محمود انجم

    غریب عوام جینے کا حق مانگتی ہے!!! — حاجی فضل محمود انجم

    پیٹرول کی قیمت میں دوبارہ اضافے کا اعلان کیا ہوا کہ میرے لئے تو کمبختی آ گئی۔وہ یوں کہ رات گئے جونہی حکومت نے پندرہ دنوں بعد پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کا اعلان کیا تو "ماما بلو” جسے مجھ سے ملے ہوۓ کافی عرصہ ہو گیا تھا وہ آن دھمکا اور لگا ہاتھ اٹھا اٹھا کر صلواتیں سنانے-! یہ ہے تمہاری حکومت جس نے اب پھر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھا دی ہے۔کیسی ہے یہ حکومت ؟ جو دن کے اوقات میں قیمتیں بڑھانے کی سمری کو مسترد کرتی ہے اور جونہی رات کا اندھیرا چھا جاتا ہے۔اور لوگ سونے کی کوشش میں ہوتے ہیں تو ایسے میں تم قیمتیں بڑھانے کا اعلان کر دیتے ہو تاکہ سوۓ ہوۓ لوگ صبح بیدار ہوں تو ان کو یہ روح فرسا خبر ملے اور ان کے آنے والے پورے دن کا ستیاناس کر دے۔ آخر آپ چاہتے کیا ہیں-؟

    یہی کہ لوگ اب مر جائیں کیونکہ پہلے ہی اتنی مہنگائی ہو چکی ہے کہ اب یہی راستہ ان کے پاس رہ گیا ہے کہ وہ خودکشی کر لیں۔نہ صرف خود مر جائیں بلکہ اپنی "جیا جنت "کو بھی ساتھ لیکر ملک عدم کو سدھار جائیں۔

    آپ نے حکومت میں آتے وقت دعوے تو بہت بڑے بڑے کئے تھے۔اب وہ سب دعوے کیا ہوۓ۔؟عوام کو ریلیف دینے کا دعویٰ۔لوڈ شیڈنگ کو ختم کرنے کا دعویٰ۔عوام کو سہولیات دینے کا دعویٰ۔مہنگائی کو ختم کرنے کا دعویٰ- عوام میں ہائی جانے والی بے چینی کو کم کرنے کا دعویٰ۔ذخیرہ اندوز مافیا کو لگام دینے کا دعویٰ۔صحت اور تعلیم کی سہولیات کو عام کرنے کا دعویٰ۔

    معاشرے میں موجود نا انصافی اور استحصال کو جڑ سے اکھاڑنے کا دعویٰ۔یہ سب دعوے اب کیا ہوۓ۔لوگ تو اب مایوس ہونے لگے ہیں آپ سے بھی اور وہ بھی اتنی جلدی-! ۔لیکن جب کوئی آپ سے اس بارے میں پوچھتا ہے تو آپ اس بحران کو سابقہ حکومت کے کھاتے میں ڈالنا شروع کر دیتے ہو۔او بھائی-! یہ سابقہ حکومت کا گند تھا تو آپ نے کیوں اسے اپنے کندھوں پہ اٹھا لیا۔؟ کیوں ان کی برائیوں کو اپنی جھولی میں ڈال لیا۔؟ چلنے دیتے ان کو اور کچھ عرصہ اپنے ان کرتوتوں کیساتھ۔اگر ملک کی بھلائی اور عوام کی اشک سوئی ہی آپ کا مقصد تھا تو اب وہ مقصد کہاں گیا۔؟

    معلوم ہوا تمہارے پاس کوئی پالیسی کوئی پلان اور کوئی منصوبہ تھا ہی نہیں۔ایسا لگتا ہے کہ تم بھی بغیر کسی تیاری کے آۓ ہو ان سابقہ حکمرانوں کی طرح جنہیں حکومت کرنے کا تو کوئی تجربہ ہی نہ تھا سواۓ ملک کو لوٹنے کے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تم صرف نے سابقہ حکمرانوں کے بغض میں اس بھاری پتھر کو چوما ہے۔

    "ماما بلو” اپنی لمبی چوڑی اس تقریر کے بعد جب اپنے دل کی بھڑاس نکال چکا تو میں نے اسے کہا کہ تمہاری یہ باتیں بلکل سچ ہیں۔ نئی آنے والی موجودہ اتحادی حکومت نے بھی تحریک عدم اعتماد میں کامیابی کے ذریعے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ  دعویٰ کیا تھا کہ اس کی پہلی ترجیح  یہ ہو گی کہ ملک کی معاشی اور اقتصادی کارکردگی کو بہتر بنایا جاۓ اور  اس کیساتھ   ساتھ افراط زر میں بڑھتی ہوئی شرح کو کم کیا جاۓ گا مگرحالیہ دو مہینوں میں روز مرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں جو  ہوشربا اضافہ ہوا ہے اور اس کیساتھ ساتھ  بجلی اور گیس کے نرخوں میں جو  اضافہ ہوا ہے اس نے  تو عوام کی کمر ہی توڑ کر رکھ  دی ہے بلکہ اس کی چیخیں ہی نکال دیں ہیں-

    اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ حکومت بظاہر صرف دعووں پر جی رہی ہے  اور وعدوں پر انحصارکر رہی ہے اور عوام کو سہولت پہنچانے اور مہنگائی ختم کرنے کے یہ دعوے اب دھوکہ سمجھے جانے لگے ہیں کیونکہ اب اس طرف کسی کی بھی کوئی نظر یا توجہ نہیں ہے۔صرف یہ کہہ دینا کہ اس مہنگائی کے ذمہ دار سابقہ حکمران ہیں کوئی جواب نہیں ہے۔وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف جنہیں حکومت کرنے کا وسیع تجربہ ہے وہ بھی بے بس دکھائی دیتے ہیں کیونکہ یہ حکومت اتحادیوں کے رحم و کرم پر ہونے کی وجہ سے کمزور وکٹ پر کھڑی ہے اور انہیں خوش کر کے اور ان کے مفادات پورے کر کے ہی حکومت کی جا سکتی ہے ۔

    اس اتحادی حکومت نے آتے ہی قرضہ لینے کی خاطر آئی ایم ایف کے مطالبے پر صرف پندرہ دنوں کے اندر اندر تیل کی قیمتوں میں چوراسی روپے کا خطیر اور ہوشربا اضافہ کیا تھا جس سے ہر وہ شخص بلبلاء کے رہ گیا جو کما کے کھاتا ہے۔جو مزدور ہے جو دیہاڑی دار ہے۔ جو ٹھیلے والا اور سبزی فروش ہے اور جو پینشنر ہے۔ مہنگائی کی یہ شرح اسی طرح بڑھتی رہی تو وہ وقت دور نہیں بلکہ اب وہ وقت آ چکا ہے اور کسی بھی وقت یہ لاوا پھٹنے کو ہے ۔ موجودہ حکومت نے آئے روز بجلی گیس پٹرول سمیت اشیائے خوردونوش میں اضافہ کرکے عوام کی پریشانیوں میں اضافہ کیا ہے۔

    اگرچہ حکومت کی طرف سے سرکاری یوٹیلیٹی سٹورز  پر  کئی اشیاء کم قیمت پر فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن آبادی کے تناسب سے انہتائی کم تعداد پر موجود ان سٹوروں پر ساری اشیائے خردو نوش دستیاب نہیں ہیں اور شومئی قسمت ان یوٹیلیٹی اسٹورز سے بھی لوگ مطمن نہیں ہیں اور اکثر لوگ ان کی انتظامیہ کے بارے میں یہ  شکائیت کرتے ہوۓ نظر آتے ہیں کہ بعض اشیاء جیسے چینی اور گھی باہر ہی باہر اپنے تعلق داروں یا دوکانداروں کو فروخت کر دیا جاتا ہے اور عوام اس سے محروم ہی رہتی ہے۔

    اس وقت یوٹیلیٹی سٹورز کے باہر لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں اور لوگ ہاتھوں میں پیسے لئے آٹے گھی اور چینی کی تلاش میں جگہ جگہ مارے مارے پھرتے دکھائی دے رہے ہیں مگر ان کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔وہ سارا سارا دن ذلیل و خوار ہو کر شام کو بے نیل و مرام اپنے گھر واپس چلے جاتے ہیں۔

    اس بد نظمی ہی کی وجہ سے آج ہمارا ہر شعبہ زندگی انحطاط کا شکار ہے۔ہر جگہ کوئی نہ کوئی مافیا قبضہ جماۓ بیٹھا ہے۔بلکل اسی طرح سیاست کا شعبہ بھی بد ترین فرعونیت کا شکار ہے۔ ہر ایک خود کو ہی جمہوریت کا ٹھیکیدار اور چیمپین سمجھتا ہے اور کسی دوسرے کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔موجودہ سیاسی بحران اس کی بہترین مثال ہے۔ آئین کو ایک کھلونا بنا کے رکھ دیا ہے۔

    بڑے بڑے آئینی عہدیدار ہی آئینی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں۔اسی لئے ہماری عدلیہ پہ بھی بوجھ بڑھ گیا ہے۔عام لوگوں کے سالہا سال تک فیصلے نہیں ہوتے اور وہ انصاف کیلئے ترستے اور جیلوں میں بند رہتے ہیں دوسری طرف پوری دنیا میں قاعدہ یہ ہے کہ ٹیکس امیروں سے لیا جاتا ہے اور اسے غریبوں کی فلاح و بہبود پہ خرچ کیا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں اس کے بلکل برعکس ہے۔یہاں غریبوں سے ٹیکس لیا جاتا ہے اور امیروں پہ خرچ کیا جاتا ہے۔غریبوں سے بجلی کے بل اس پہ انواع و اقسام کے اضافی ٹیکس لگا کر لئے جاتے ہیں اور امیروں اور واپڈا اہلکاروں کو بجلی مفت مہیا کی جاتی ہے۔موجودہ ماہ کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ پرائس کے نام پر ہزاروں روپے ڈال دئے گئے ہیں ۔

    طرفہ تماشہ یہ ہے کہ اس پہ کسی قسم کا کوئی تاسف یا پریشانی کا اظہار بھی نہیں کیا جاتا اور بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اسے بلوں میں شامل کر دیا جاتا ہے۔یہ بہت بڑا ظلم ہے جو واپڈا نے غریب عوام پہ ڈھا رکھا ہے ۔ غریبوں کیلئے تیل مہنگا کیا جاتا ہے اور اہل ثروت اور اہل اقتدار کیلئے اس کے مفت کوٹے مقرر ہیں۔حکومت اگر کسی چیز پہ سبسڈی دیتی ہے تو اس سبسڈی کا بہت بڑا حصہ یہ بڑی بڑی توندوں اور پیٹوں والے کھا جاتے ہیں اور غریب بیچارا بھوکا رہ جاتا ہے۔

    ہماری تاریخ گواہ ہے کہ یہی وہ رویہ ہے جس نے ملک کو استحکام نصیب نہیں ہونے دیا۔جو بھی حکومت میں آتا ہے وہ فرعون بن بیٹھتا ہے اور دوسرا اس کی ٹانگیں کھینچنا شروع کر دیتا ہے ۔پولیس اور انتظامیہ کا مورال ڈاؤن کرنے کیلئے پروگرام بناۓ جاتے ہیں اور انہیں برسر اقتدار آنے کی صورت میں سزا کی دھمکیاں دی جاتی ہیں ۔ زیادہ دور کی بات نہیں جب نوے کی دہائی میں دو سیاسی پارٹیوں نے حکومت میں ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے وہ وہ جتن کئے جو آج بھی ریکارڈ پر ہیں اور یہی کچھ بعد میں آنے والوں نے بھی کیا اور کسی کو کام نہ کرنے دیا بلکہ احتجاج دھرنے اور لانگ مارچ کر کے ایک دوسرے کو زچ کرنے کی کوشش کی۔ نتیجے کے طور پر حکومتیں بر طرف ہوئیں اور ہر برطرفی کے پیچھے جمہوریت کے کسی نہ کسی دعویدار اور ٹھیکیدار کا ہاتھ ہی محسوس کیا گیا۔

    سوال یہ ہے اب شکائیت کس سے کریں کہ کب تک ایسا ہوتا رہیگا اور کب تک عوام مہنگائی نا انصافی اور ظلم کی چکی میں پستی رہے گی اور کب تک امیر اور غریب کے درمیان موجود یہ تقسیم باقی رہے گی۔؟ دنیا داروں نے تو جینے کا حق ہی چھین لیا۔لہذا اب شکائیت صرف اللہ سے ہے جو قادر مطلق ہے اور پالنے والا ہے سب جہانوں کا۔ اسلئے خدارا سوچو۔سوچو -! اس ملک کی بہتری کیلئے اس کی بقاء اور ترقی کیلئے اس کے استحکام اور حفاظت کیلئے کیونکہ یہ ملک ہی ہے جس کی بناء پر دنیا میں ہماری پہچان ہے۔

  • لاہوراور اسلام آباد سمیت ملک کے بالائی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی

    لاہوراور اسلام آباد سمیت ملک کے بالائی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق آج رات سے منگل تک آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان ، اسلام آباد ،راولپنڈی ،مری ، چکوال میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    امریکی ارکان کانگریس پاکستان میں سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کیلئے روانہ

    محکمہ موسمیات کے مطابق اٹک ، جہلم ،سیالکوٹ، نارووال، لاہور، گوجرانوالہ میں بھی گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان ہے جبکہ اتوار اور پیر کو دیر ،کوہستان، ایبٹ آباد ، مانسہرہ ، ہری پور میں بارش کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ اس سال ملک میں مون سون بارشوں کا 30سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں میں ایک ہزار 265 موات ہوئیں 12 ہزار 577 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ بڑے پیمانے پر مالی نقصان بھی ہوا۔ ماہرین کے مطابق پاکستان موسمی تبدیلیوں کا شکار ہے۔

    یونیسیف پاکستان کا کہنا ہے کہ بارشوں اور سیلاب نے ایک صدی کاریکارڈ توڑ دیا ہے،ملک کے کچھ صوبوں میں 30 سال کی اوسط سے 5 گناہ زیادہ بارش ہوئی بارشوں اور سیلاب سے 400 بچوں سمیت ایک ہزار 200 افراد جاں بحق ہوئے-

    بارشوں اور سیلاب کے باعث ملک میں24 گھنٹے کے دوران مزید 57 افراد جاں بحق

    پاکستان میں بارشوں اور سیلاب سے 11 لاکھ سے زائد مکانات کونقصان پہنچا، پانی سے پیدا ہونے والی مہلک بیماریوں کے مزید تیزی سے پھیلنے کا خدشہ ہے ڈائریا،ہیضہ،ڈینگی،ملیریاپھیلنے کے زیادہ خدشات ہیں-

    نواب شاہ میں بارش اورسیلاب سے 65 ہزار234 گھروں کومکمل نقصان پہنچا ،نواب شاہ میں بارش اورسیلاب سے 68 ہزار871 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ،بارش اورسیلاب سے نواب شاہ میں 29 افراد جاں بحق ہوئے-

    نواب شاہ میں بارشوں اورسیلاب سےمیں 41 افراد زخمی ہوئےبارش اورسیلاب سے نواب شاہ میں ایک لاکھ 66 ہزار 60 خاندان متاثرہوئے نواب شاہ میں بارشوں اورسیلاب سے 5 لاکھ 59 ہزار 404 آبادی متاثر ہوئی-

    نواب شاہ کے ریلیف کیمپ میں 29 ہزار650 افراد میں موجود ہیں،نواب شاہ میں بارش کی تباہ کاریوں میں ایک ہزا ر632 مویشی اور اونٹ ہلاک ہوئے،

    منچھر جھیل پر پانی کا شدید دباؤ،پانی کا رساؤ شروع،لوگ نقل مکانی کرنے لگے

  • سپر فور مرحلہ : سری لنکا اورافغانستان کی ٹیمیں آج مدمقابل جبکہ پاک بھارت ٹاکرا کل ہو گا

    سپر فور مرحلہ : سری لنکا اورافغانستان کی ٹیمیں آج مدمقابل جبکہ پاک بھارت ٹاکرا کل ہو گا

    دبئی: سپر فور کے پہلے میچ میں آج شارجہ میں سری لنکا اور افغانستان کی ٹیمیں مد مقابل ہوں گی-

    باغی ٹی وی: ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں سپر فور مرحلے کا آغاز آج سے ہو گا بھارت ، افغانستان ، سری لنکا اور پاکستان سپر فور مرحلے میں پہنچ چکے ہیں ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کا ٹاکر ا ایک بار پھر ہو گا دونوں ٹیمیں سپر فور مرحلے میں 4ستمبر کو آمنے سامنے ہوں گی۔

    انگلینڈ کا دورہ پاکستان کے لیے 19 رکنی اسکواڈ کا اعلان

    پاک و بھارت دونوں ٹیمیں سپر فور مرحلے میں دبئی میں آمنے سامنے ہوں گی سپر فور کے پہلے میچ میں آج شارجہ میں سری لنکا اور افغانستان کی ٹیمیں مد مقابل ہوں گی بھارت اور سری لنکا کی ٹیموں کے درمیان 6 ستمبر کو دبئی میں میچ ہو گا۔

    قومی ٹیم 7 ستمبر کو افغانستان کیخلاف میچ کھیلے گی 8 ستمبر کو دبئی میں بھارت اور افغانستان کی ٹیمیں مد مقابل ہوں گی۔ قومی ٹیم کا نو ستمبر کو سری لنکا سے بھی دبئی میں مقابلہ ہوگا ایشیا کپ کا فائنل 11 ستمبر کو سپر فور کی دو ٹاپ ٹیموں کے درمیان دبئی میں ہو گا۔

    پی سی بی نے پاک انگلینڈ T20 سیریز کیلئے ٹکٹ کی قیمتوں کا اعلان کردیا

    یاد رہے کہ گروپ اسٹیج پر بھارت نے دلچسپ مقابلے کے بعد پاکستان کے خلا ف میچ آخری اوور میں جیتا تھا جبکہ متحدہ عرب امارات میں جاری ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے گروپ اے کے ناک آؤٹ میچ میں پاکستان نے ہانگ کانگ کو یکطرفہ مقابلے کے بعد 155 رنز سے شکست دے کر سپر فور مرحلے کیلئے کوالیفائی کرلیا ہے۔

    پاکستان کے 194 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ہانگ کانگ کا کوئی بھی بیٹر قومی فاسٹ بولرز کا سامنا نہ کرسکا۔پوری ٹیم صرف 10 عشاریہ 4 اوورز میں 38 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

    پی سی بی نے انگلینڈ کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز کے شیڈول کا اعلان کر دیا

  • امریکی ارکان کانگریس پاکستان میں سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کیلئے روانہ

    امریکی ارکان کانگریس پاکستان میں سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کیلئے روانہ

    امریکی ارکان کانگریس شیلا جیکسن اور ٹام سؤزی سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کیلئے روانہ ہو گئے، اتوار کو پاکستان پہنچیں گے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق سیلاب سے تباہ شدہ علاقوں کا دورہ کرنے کیلئے پاکستان روانگی سے قبل شیلا جیکسن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سیلاب زدگان کی امداد کیلئے ہر ممکن اقدام کریں گے امریکی کانگریس ارکان شیلاجیکسن اور ٹام سؤزی دو روزہ دورے پرپاکستان آئیں گے۔

    خوفناک سیلاب سے تباہی: خیرپور میں لاش دفنانے کیلئے خشک جگہ ملنا مشکل ہوگیا

    علاوہ ازیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل ایرک نے رابطہ کیا ہے۔ امریکی سینٹ کام کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جنرل مائیکل ایرک نے سیلاب سے تباہ کاریوں اور نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا۔ سینٹ کام نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ بہت جلد پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا جائزہ لینے کیلئے اپنی ٹیم پاکستان بھیجے گا امریکی ٹیم سیلاب کی تباہ کاریوں اور دیگر امور کا جائزہ لے گی، جائزہ رپورٹ کی روشنی میں یو ایس ایڈ کی امداد کے امور طے کیے جائیں گے

    دوسری جانب معروف سرچ انجن گوگل نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے پانچ لاکھ ڈالر عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے گوگل جنوب مشرقی ایشیا کی نائب صدر سٹیفنی ڈیوس نےلنکڈ ان پرپوسٹ کیاکہ ٹیک جائنٹ یہ رقم جو تقریبا 110 ملین روپےکےبرابرہے، Googl . org کے ذریعے سینٹر فار ڈیزاسٹر فلانتھروپی کو عطیہ کرے گی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سینٹر فار ڈیزاسٹر فلانتھروپی اس کے نتیجے میں مقامی تنظیموں کو ذیلی گرانٹ فراہم کرے گا جو بحران سے نمٹنے اور بحالی کے لیے عمل پیرا ہیں پاکستان میں سب کو سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے آگے بڑھتے دیکھا، ہم پاکستانیوں کےجذبے سے متاثر ہوئے ہیں اور ہم بھی مدد کرنا چاہتے ہیں گوگل کمپنی دیگر وسائل سے بھی پاکستانی سیلاب متاثرین کی مدد کرے گی۔

    جنوبی پنجاب کے 1 لاکھ 40 ہزار سے زائد سیلاب متاثرین مختلف بیماریوں کی لپیٹ میں

    دوسری جانب ڈی جی خان،راجن پور میں گزشتہ 7 روز کے دوران سیلاب زدگان کی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، محکمہ صحت پنجاب کے مطابق جنوبی پنجاب کے37 ہزار سے زائد سیلاب زدگان سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیں راجن پور میں 68 ہزار، ڈیرہ غازی خان میں 58 ہزار سے زائد سیلاب زدگان بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیں، لیہ میں 8 ہزار، مظفرگڑھ میں 6 ہزار سے زائد سیلاب زدگان بیماریوں کا شکار ہوئے ہیں،سیلاب زدگان میں سانس کی تکلیف، خارش، تیز بخار، ڈائریا سب سے زیادہ رپورٹ ہوئے

    پنجاب کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی سیلاب زدہ علاقوں میں بیماریاں پھیل چکی ہیں، سیلاب زدگان کی مدد کے لئے جانے والے ریسکیو ورکرز بھی بیمار ہوچکے ہیں ،مچھروں کی بہتات ہے،سیلاب زدگان کواس وقت مچھردانیوں کی بھی ضرورت ہے،ادویات کی بھی ضرورت ہے،کئی دوردراز علاقوں میں ابھی تک کوئی میڈیکل ٹیم نہیں پہنچی

    برطانوی رکن پارلیمنٹ کا دنیا سے پاکستان کے قرضے معاف کرنے کا مطالبہ

  • پاکستان کے چاروں صوبوں، کشمیر اور گلگت بلتستان میں خواتین پولیس کونسلز کے قیام کا اعلان

    پاکستان کے چاروں صوبوں، کشمیر اور گلگت بلتستان میں خواتین پولیس کونسلز کے قیام کا اعلان

    اسلام آباد:پاکستان کے چاروں صوبوں، کشمیر اور گلگت بلتستان میں خواتین پولیس کونسلز کے قیام کا اعلان کر دیا گیا ہے ۔یہ اعلامیہ اسلام آباد میں تین روزہ نیشنل فیلو شپ فار ویمن پولیس کونسل کانفرنس کے اختتام پہ جاری کیا گیا ۔

    کانفرنس کاانعقاد پارلیمنٹرین کمیشن فار ہیومن راٸٹس اورپولیس عوام ساتھ ساتھ نے یو ایس آٸی پی اورآٸی این ایل کے تعاون سےکیا۔کانفرنس میں وویمن پولیس کونسلز کو فعال بنانے اور ان اہداف کی تکمیل کے لیے تجاویز بھی مرتب کی گیٸں ۔

    اس تین روزہ پروگرام کا مقصد محکمے میں نامزد کردہ ویمن پولیس کونسلز کے ممبران کی تربیت سازی اور کونسلز کے سالانہ منصوبے کی تیاری تھی ۔ وویمن پولیس کونسلز اپنی مجوزہ محکموں میں خواتین پولیس افسران کی فلاح و بہبود ، پیشہ ورانہ استعدادکار اور یکساں وساٸل اور مواقعوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ پولیس میں خواتین کی بھرپور شمولیت کے لیے کام کریں گی ۔

    کانفرنس میں آئی جی پنجاب فیصل شاہکار، آئی جی آزاد کشمیر امیر احمد شیخ ، ڈپٹی ڈی جی آنٹی نارکوٹکس عامر ذوالفقار ، سابق آئی جی اسلام آباد کلیم امام ، ڈی آئی جی انوسٹیگیشن کامران عادل ، سابق ڈی جی نیشنل پولیس بیورو احسان غنی ، وفاقی محتسب کی سربراہ کشمالہ خان ، مسلم لیگ نون کی رہنما شائشہ پرویز ملک ، پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما ریاض فتیانہ، یو ایس آئی پی کے کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر عدنان رفیق ، پی سی ایچ آر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد شفیق چوہدری سمیت ملک بھر سے خواتین و مرد پولیس افسران ، قانونی و آٸینی ماہرین ، انسانی حقوق کے نماٸندوں اور سماجی کارکنوں نے کانفرنس میں اظہار خیال کیا ۔

    آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے کانفرنس کے شرکاء کو یقین دہانی کروائی کہ وویمن پولیس کونسلز کے لیے ان کی خدمات ہر طرح سے حاضر ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ خواتین پولیس اہلکاروں کو محکمے میں اعلی سطح پہ ترقیاں ملیں اور انہیں پالیسی سازی میں شامل کیا جائے

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    ڈپٹی ڈی جی انٹی نارکوٹکس فورس عامر ذوالفقار نے کہا پولیس فورس میں خواتین پولیس اہلکاروں کو پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی اداٸیگی میں مشکلات کا سامنا تھا ، انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ خواتین پولیس اہلکاروں کے مساٸل حل ہوں گے جس سے ان کی کرکردگی میں نمایاں تبدیلی آۓ گی

    آئی جی آزاد کشمیر امیر احمد شیخ نے کہا کہ وویمن پولیس کونسل کا قیام وقت کی اشد ضرورت تھی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین ملکی آبادی کو نصف ہیں اور ان کے مساٸل حل کیے بغیر ملک کو ترقی کی راہ پہ گامزن کرنا ممکن نہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما ریاض فتیانہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وویمن پولیس کونسلز کا قیام خوش آئند ہے لیکن ہمیں اس منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے وقت مقرر کرنا ہو گا تاکہ کارکردگی کا جائزہ لیا جاسکے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں وویمن پولیس کونسلز کے قیام کے بعد اس پہلو پہ بھی سوچنا ہو گا کہ اس منصوبے کو طویل عرصے کے لیے کیسے پائئیدار بنایا جا سکتا ہے کیونکہ ماضی میں کئی منصوبے ایسے تھے جو شخصیات کے گرد گھومتے رہے اور افسران کے تبادلوں کے ساتھ ان منصوبوں کو بھی سرد خانوں میں ڈال دیا گیا۔

    پارلیمنٹری کمیشن فار ہیومن راٸٹس کے ایگزیکٹو ڈاٸریکٹر محمد شفیق چوہدری نے وویمن پولیس کونسلز کے قیام کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوۓ کہا اس کامیابی میں تمام پارٹنرز ، سول سوساٸٹی اور سینٸر پولیس افسران نے بھرپور کردار ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ وویمن پولیس کونسلز کے قیام سے جراٸم میں کمی آۓ گی اور عدلیہ کے سامنے خواتین سے متعلق کیسوں کی انتہاٸی جامع اور مکمل انکواٸری رپورٹ پیش ہوگی جس سے انہیں فیصلہ کرنے میں بہت مدد ملے گی ۔

    یو ایس آٸی پی کے کنٹری ڈاٸریکٹر ڈاکٹر عدنان رفیق نے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ اگرچہ تبدیلی کی رفتار سست ہے لیکن ہم درست میں گامزن ہیں اور وویمن پولیس کونسلز کا قیام کامیابی کی جانب پہلا قدم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی پولیس کو بین الاقوامی معیار کی فورس بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور مستقبل میں چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوۓ ایسی مزید اصلاحات تجویز کریں گے جس سے پولیس کے محکمے میں بہتری آۓ اور پولیس اپنی کارکردگی اور عویے سے حقیقی معنوں میں عوام دوست پولیس ثابت ہو۔

    مسلم لیگ نون کی سینئر رہنما شائسہ پرویز ملک نے کہا کہ اب اس تاثر کو ختم ہونا چاہیے کہ خواتین کسی مجبوری کے تحت پولیس فورس میں نوکری کرتی ہیں ۔ خواتین کو اللہ تعالی نے خداداد صلاحیتوں سے نوازا ہے اور یہ کسی بھی شعبے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں ۔

    وفاقی محتسب کی سربراہ کشمالہ خان نے خواتین پولیس اہلکاروں کو تاکید کی اب اگر ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی ناانصافی ہوتی ہے تو انہیں چپ نہیں رہنا چاہیے کیونکہ زمانہ بدل چکا ہے اور خواتین کو اپنے حقوق کی جنگ خود لڑنا ہو گی ۔

    کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوۓ لاہور ہاٸیکورٹ کی سابق جج جسٹس ناصرہ جاوید ملک نے وویمن پولیس کانسلز کے قیام کو خوش آٸند قرار دیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ ان کونسلز کے ذریعے ملک میں نہ صرف خواتین شہریوں کے پیچیدہ مساٸل کو حل کرنے میں مدد ملے گی بلکہ خواتین پولیس افسران بھی بااختیار ہوں گی ۔

    اس موقع پہ ڈی جی لیگل اینڈ جسٹس اتھارٹی ڈاکٹر رحیم اعوان کا کہنا تھا کہ اسلامی اور برصغیر دونوں کی تاریخ میں خواتین نے بہترین حکمرانی کی مثالیں قاٸم کی ہیں ۔ ہماری خواتین پولیس افسران کو بھی چاہیے کہ اپنے آٸینی و قانونی حقوق سے آگاہی حاصل کریں جو انہیں بااختیار بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے ۔ ڈاکٹر رحیم اعوان نے کہا پولیس کانسلز کے قیام کے بعد تفتیش کے دوران تھانوں میں آنیوالی خواتین شہریوں کو تحفظ کا احساس ہو گا اور شفاف انکواٸری ہو گی ۔

    سابق آٸی جی اسلام آباد کلیم امام نے کہا کہ اگر ملک نے آگے بڑھنا ہے تو معاشرے کو خواتین کے حوالے سے رویے میں تبدیلی لانا ہو گی اور خواتین ہولیس افسران کو بھی اپنی کارکردگی اور کردار سے منفرد کام کرتے ہوۓ آگے بڑھنا ہو گا ۔ خواتین افسران کو اپنے کام سے محبت کرتے ہوۓ اپنی استعداد کو بڑھاٸیں تاکہ پولیس محکمے میں نٸی آنیوالی خواتین کے لیے مثالی نمونہ بنیں ۔

    تقریب کے اختتام پہ شرکاء کو شیلڈز اور سرٹیفیکیٹ دئے گئے ۔

  • آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتویں اور آٹھویں جائزے کی رپورٹ جاری کردی۔:عمران خان کونافرمان قراردیا

    آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتویں اور آٹھویں جائزے کی رپورٹ جاری کردی۔:عمران خان کونافرمان قراردیا

    اسلام آباد:عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے متعلق رپورٹ جاری کردی۔تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کنٹری رپورٹ جاری کردی ہے جس میں پچھلی حکومت کی جانب سے اپنائی گئی غلط پالیسیوں کو سامنے رکھا گیا ہے۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے جو رپورٹ جاری کی گئی ہے اُس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ موجودہ حکومتِ پاکستان نے قرض پروگرام کی بحالی کیلئے کچھ اقدامات کیے ہیں جس میں بنیادی سرپلس پر مبنی بجٹ، شرح سود میں نمایاں اضافہ، فیول سبسڈی کا خاتمہ، ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہے۔

    آئی ایم ایف نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ موجودہ حکومت نے مالیاتی شعبے کے استحکام کیلئے اقدامات کی یقین دہانی کرادی جبکہ مجموعی طور پر پاکستان کارکردگی کی تین شرائط پوری کرنے میں ناکام رہا۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے آئی ایم ایف کا مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے جبکہ ٹیکس ریونیو بڑھانے اور زرمبادلہ زخائر میں اضافے پر زور دیا گیا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قرض پروگرام کی مدت میں جون 2023 تک توسیع کر دی گئی، اس سے ضروری بیرونی فنانسنگ کے حصول میں مدد ملے گی تاہم پالیسی اصلاحات کے باوجود قرض پروگرام کو غیر معمولی خطرات کا سامنا ہے۔

    آئی ایم ایف کی جاری کردہ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال کشیدہ سیاسی ماحول کے دوران کئی وعدوں اور اہداف پر عمل نہیں کیا گیا جس سے بیرونی پوزیشن غیر مستحکم اور کرنٹ اکاونٹ خسارے میں اضافہ ہوا۔

    ’عمران خان کی حکومت نے وعدے پورے نہیں کیے جس سے معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا‘

    آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق حکومت نے مالیاتی شعبے کے استحکام کیلئے اقدامات کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ آئی ایم ایف نے مارکیٹ بیسڈ ایکس چینج ریٹ برقرار رکھنے پر زور دیا جب کہ سماجی تحفظ اور توانائی شعبے کو مضبوط بنانے اور ٹیکس ریونیو اور زرمبادلہ ذخائر میں اضافے پر بھی زور دیا گیا۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ بیرونی پوزیشن غیر مستحکم اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ ہوا، زرمبادلہ ذخائر اور روپے کی قدر میں نمایاں کمی آئی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر اور پرائمری بجٹ خسارے سمیت 5 اہداف پورے نہیں کیے گئے علاوہ ازیں سات اسٹرکچرل اہداف پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔پٹرول ،بجلی اور گیس کی قیمتیں نہیں بڑھائی گئیں

    آئی ایم ایف کی رپورٹ میں پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے کئی وعدوں اور اہداف پر عمل درآمد نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی حکومت نے زرمبادلہ کے ذخائر اور پرائمری بجٹ خسارے سمیت 5 اہداف پورے نہیں کیے، 3 کارکردگی اور 7 اسٹرکچرل شرائط بھی پوری نہیں کیں۔

    کنٹری رپورٹ میں شہباز شریف حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ موجودہ حکومت نے قرض پروگرام دوبارہ ٹریک پر لانے کیلئے ٹھوس پالیسی اقدامات کیے۔شہبازشریف آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے وعدوں کی پاسداری کررہے ہیں‌، پاکستان کی نئی مخلوط حکومت نے پیٹرولیم ڈیویلپمنٹ لیوی 50 روپے فی لیٹر تک بڑھانے کی یقین دہانی کرائی ہے جب کہ جی ایس ٹی بحال کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق رواں سال پاکستان کی معاشی شرح نمو ساڑھے 3 فیصد جبکہ بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 4.4 فیصد تک رہنے کی توقع ہے، اس کے علاوہ جاری کھاتوں کا خسارہ ڈھائی فیصد تک رہ سکتا ہے۔

  • ایشیا کپ: پاکستان کی تباہ کُن باولنگ:ہانگ کانگ کو 155 رنز سے شکست، پاکستان سپر فور میں داخل

    ایشیا کپ: پاکستان کی تباہ کُن باولنگ:ہانگ کانگ کو 155 رنز سے شکست، پاکستان سپر فور میں داخل

    دبئی: متحدہ عرب امارات میں جاری ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے گروپ اے کے ناک آؤٹ میچ میں پاکستان نے ہانگ کانگ کو یکطرفہ مقابلے کے بعد شکست دے کر سپر فور مرحلے کیلئے کوالیفائی کرلیا۔

    پاکستان کے 194 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ہانگ کانگ کا کوئی بھی بیٹر قومی فاسٹ بولرز کا سامنا نہ کرسکا۔پوری ٹیم صرف 38 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی ۔

    یوں پاکستان نے 155 رنز سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے سپر فور مرحلے کے لیے کوالیفائی کرلیا۔شاداب خان نے 4،محمد نواز نے 3 اور نسیم شاہ نے 2 کھلاڑی آؤٹ کیے۔

    ہانگ کا نگ کا کوئی بھی بیٹر ڈبل فیگرمیں داخل نہ ہوسکا۔ کپتان نزاکت خان 8 رنز بناکر نمایاں رہے۔

    واضح رہے کہ یہ پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں رنز کے اعتبار سے سب سے بڑی کامیابی ہے۔

    شارجہ میں کھیلےگئے میچ میں ہانگ کانگ کے کپتان نزاکت خان نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔

    پاکستان ٹیم نے مقررہ 20 اوورز میں 2 وکٹوں کے نقصان پر 193 رنز بنائے ، محمد رضوان 78 رنز بناکر نمایاں رہے۔قومی ٹیم نے آخری اوور میں خوشدل کے 4 چھکوں کی بدولت 29 رنز اسکور کیے۔

    پاکستان کی اننگز

    ہانگ کانگ کے خلاف پاکستان کا آغاز اچھا نہ رہا،13 کے مجموعی اسکور پر کپتان بابر اعظم 9 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔تاہم ایک وکٹ گرنے کے بعد محمد رضوان اور فخر زمان نے شاندار بیٹنگ کی اور دونوں کے درمیان 116 رنز کی شراکت داری قائم ہوئی لیکن پھر فخر 41 گیندوں پر 53 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔

    میچ کے اختتامی اوورز میں محمد رضوان اور خوشدل شاہ نے تیز ی سے رنز بنائے اور ٹیم کا اسکور 20 اوورز میں 193 رنز تک پہنچایا۔
    خوشدل شاہ نے اننگز کے آخری اوور میں 4 چھکے لگائے، وہ 15 گیندوں پر 35 رنز جبکہ رضوان 57 گیندوں پر 78 رنز بناکر ناقابل شکست رہے۔

    ہانگ کانگ کی جانب سے احسان خان نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔

    ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں محمد رضوان نے ایک اور سنگ میل عبور کرلیا.محمد رضوان نے ایشیا کپ میں ہانگ کانگ کیخلاف اننگز میں 48 واں رن لے کر یہ سنگ میل عبور کیا، محمد رضوان ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پانچ ہزار رنز مکمل کرنے والے ساتویں پاکستانی ہیں۔

    پاکستان اور ہانگ کانگ کو اپنے پہلے گروپ میچ میں بھارت کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    دونوں ٹیموں نے آج کے میچ کیلئے ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

     

    شارجہ میں کھیلےجارہے میچ میں ہانگ کانگ کے کپتان نزاکت خان نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دے دی۔پاکستان اور ہانگ کانگ کو اپنے پہلے گروپ میچ میں بھارت کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    تاہم آج کا یہ میچ ناک آؤٹ ہے، جیتنےوالی ٹیم سپر فور مرحلے کیلئے کوالیفائی کرے گی جبکہ ہار کی صورت میں اس ٹیم کا ایشیا کپ 2022 کا سفر ختم ہوجائے گا۔

     

    دونوں ٹیموں نے آج کے میچ کیلئے ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

    سپر فور مرحلے ميں رسائی کے ليے پاکستان کو کاميابی حاصل کرنا ضروری ہے،ہانگ کانگ سے میچ کیلئے پاکستان کی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

    سپر فور ميں رسائی سے پہلے پاکستان کے لیے یہ آخری امتحان ہوگا۔ شاہينوں کو ہانگ کانگ کے خلاف ميچ جيتنا ہوگا۔پاکستان کو پہلے ميچ ميں بھارت نے 5 وکٹوں سے شکست دی تھی۔بھارت نے ہانگ کانگ کو بھی 40 رنز سے ہرايا تھا۔

    دونوں ٹیمیں پہلی بار ٹی 20 فارمیٹ میں آمنے سامنے آئی ہیں۔

  • صدرمملکت نےمنشیات کنٹرول (ترمیمی) بل کی منظوری دے دی

    صدرمملکت نےمنشیات کنٹرول (ترمیمی) بل کی منظوری دے دی

    اسلام آباد:صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے منشیات کنٹرول ترمیمی بل 2022 کی منظوری دے دی۔اطلاعات کے مطابق صدر مملکت عارف علوی نے منشیات کنٹرول ترمیمی بل 2022 کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت منشیات سے متعلق جرائم میں ملوث مجرموں کو موت یا عمر قید کی سزائیں ہوں گی۔

    پیاز اور ٹماٹر کے 40 ٹرک پاکستان پہنچ گئے

    ترمیمی بل میں سزاؤں کیلئے ہیروئن، مورفین، کوکین، آئس اور دیگر نشہ آور ادویات کی الگ الگ مقدار مقرر کی گئی ہے۔

    بل کے مطابق اِسی جرم میں 15 سے 20 لاکھ روپے جرمانے کے ساتھ عمرقید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔صدر مملکت نے ترمیمی بل کی منظوری آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت دی ہے۔صدر مملکت کی منظوری کے بعد یہ بل منشیات کنٹرول (ترمیمی) ایکٹ 2022ء کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    خیال رہے کہ ہیروئن یا مورفین کی 4 کلو گرام یا زائد مقدار کے جرائم پر 20 سال سے زائد قید اور 10 لاکھ روپے سے زائد جرمانہ ہوگا جبکہ ہیروئن یا مورفین کی 6 کلوگرام یا زائد مقدار کے جرائم پر سزائے موت یا 15 سے 20 لاکھ روپے کے جرمانے کے ساتھ عمر قید کی سزا ہوگی۔

     

    اس کے علاوہ 5 کلو یا زائد کوکین کے جرم میں سزائے موت یا 20 سال سے زائد قید کے ساتھ 25 لاکھ روپے سے زائد جرمانہ ہوگا جبکہ آئس کی 4 کلوگرام یا زائد مقدار کے جرائم پر سزائے موت یا 25 لاکھ روپے سے زائد جرمانے کے ساتھ عمر قید کی سزا ہوگی۔

    واضح رہے کہ جرم کسی اسکول، کالج، یونیورسٹی، یا تعلیمی ادارے کے اندر یا قریب سرزد ہونے پر اس جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا ہوگی۔