Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • لائنوں سے پانی مکمل طور پر ہٹنے تک  ٹرین سروس بحال نہیں ہوگی،ریلوے حکام

    لائنوں سے پانی مکمل طور پر ہٹنے تک ٹرین سروس بحال نہیں ہوگی،ریلوے حکام

    کراچی : ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ریلوے لائن پر سے پانی مکمل طور پر ہٹنے تک ریل گاڑیاں نہیں چلائی جائیں گی۔

    باغی ٹی وی : پاکستان ریلوے کے مطابق جب تک ریلوے ٹریک سے پانی مکمل طور پر نہیں ہٹ جاتا، اس وقت تک ٹرین سروس بحال نہیں ہوگی، تاہم خیبر میل صرف ملتان اور پشاور کے درمیان چلتی رہے گی۔

    پاکستان میں سیلاب اتنا تباہ کن کیوں ہے؟

    ریلوے حکام نے واضح کیا کہ بدھ 31 اگست کو بھی کراچی سے اندرون ملک کوئی ٹرین نہیں چلے گی ۔

    دوسری جانب بلوچستان میں بارشوں اور سیلابی ریلوں نے صوبے میں ریل سروسز کو معطل کر دیا نصیر آباد میں ریلوے ٹریک بہہ جانے اور ہرک ریلوے پل ٹوٹ جانے سے صوبے سے اندرون ملک کیلئے ٹرین سروس 10 روز سے اور ایران کیلئے ایک ماہ سے معطل ہے ۔

    ریلوے حکام کے مطابق اگلے 15 روز تک صوبےکیلئے ٹرین سروس بحال ہونے کا امکان نہیں ہے 29 جولائی کو چاغی میں سیلابی ریلوں کے باعث بہہ جانے والی کوئٹہ تفتان سیکشن کی مرمت ایک ماہ گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہوسکی جس کی وجہ سے ایران کیلئے ٹرین سروس بند ہے ۔

    پاکستان میں سیلاب نے ابھرتے ہوئے فوری اور طویل مدتی چیلنجز کو جنم دیا ہے،برطانوی…

    بلوچستان کے علاقےنصیر آباد میں سبی جیکب آباد ریلوےسیکشن پر سیلابی ریلوں کے بعد پڑنے والے شگاف کے باعث اندرون ملک کیلئے 10 روز سے ٹرین سروس بند تھی کہ 5 روز قبل ہرک پل بھی گرگیا،جس کی وجہ سے ٹرین سروس بدستور معطل ہے ۔

    گزشتہ روز ڈی ایس ریلویز کوئٹہ نثا ر احمد خان نے بتایا تھا کہ منگل کو چیف انجینیئر برج کی سربراہی میں لاہور سے ٹیم آرہی ہے جو این ایل سی کے ساتھ ہرک پل کاجائزہ لے گی جس کے بعد معلوم ہوسکے گا کہ ہرک پل کی مرمت کا کام کب شروع ہوگا اس پل کی مکمل مرمت میں کم ازکم 3 ماہ کا وقت درکار ہوگا جبکہ نصیر آباد میں ریلوے ٹریک کی مرمت میں مزید 15 دن لگ سکتے ہیں۔

    مشرقی بلوچستان میں پھرسےبارش کاسلسلہ شروع،کراچی سمیت سندھ کےساحلی علا قوں میں ہلکی بارش کا امکان

  • سیلاب سے تباہی،جاںبحق لوگوں کی تعداد 1 ہزار 162گئی،متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھوٹ پڑے

    سیلاب سے تباہی،جاںبحق لوگوں کی تعداد 1 ہزار 162گئی،متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھوٹ پڑے

    ملک بھرمیں بارشوں اور سیلاب کے باعث مزید 36 افراد جاں بحق ہوئے، جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار 162 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 3 ہزار 554 افراد زخمی ہوئے۔

    باغی ٹی وی : نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی رپورٹ کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث بلوچستان میں 249افراد جاں بحق ہوئے، سندھ میں بارشوں اور سیلاب کے باعث 405، پنجاب میں 187افراد خیبر پختونخوا میں 257 ، آزاد کشمیر میں 41افراد ،گلگت بلتستان میں 22 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    کوہستان:5نوجوانوں کی بےبسی کےواقعےپروزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نےانکوائری کمیٹی بنادی

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب کے باعث 7 لاکھ 30 ہزار483 مویشی ہلاک ہوئے، بلوچستان میں ایک ہزارکلومیٹر شاہراہیں متاثر ہوئیں ، 18 پلوں کو بھی نقصان پہنچا۔

    سندھ میں 2 ہزار 328 کلو میٹر شاہراہیں متاثر ہوئیں،60 پلوں کو نقصان پہنچا، پنجاب 130، خیبر پختونخوا 1 ہزار 589 کلومیٹر سڑکیں متاثر،84 پلوں کو نقصان پہنچا جبکہ گلگت بلتستان میں 16 کلومیٹر شاہراہ اور 65 پل متاثر ہوئے۔

    دوسری جانب ضلع دادو کی تحصیل خیرپورناتھن شاہ میں سیلابی پانی آنے کی وجہ سے لوگوں کی نقل مکانی تیزی سے جاری ہے، لوگوں کی ضرورت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹرانسپورٹرز نے کرائے دو سے تین گنا مہنگے کردیئے سیلابی پانی گھروں میں داخل ہونے کے بعد لوگ مال و متاع سمیٹ کر نقل مکانی پر مجبور گئے ہیں۔

    سیلاب سے متاثرہ لوگوں پرایک بڑی مشکل یہ آن پہنچی ہے کہ سامان کی منتقلی میں استعمال ہونے والی گاڑیوں نے کرایوں میں بے پناہ اضافہ کر کے من مانی شروع کر دی ہے۔

    دنیا میں سب سے زیادہ بارش کولمبیا:سب سے کم کہاں ہوتی ہے:تفصیلات آگئیں

    گھروں کو بند کر کے محفوظ مقام پر منتقلی کی کوششوں میں کچھ ایسے لوگ بھی نظر آتے ہیں جنہوں نے کبھی اس وقت کا سوچا بھی نہ تھا لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹرز کی لوٹ مار کو روکنے والا کوئی نہیں، حکومت اور انتظامیہ نے نہ خیمہ دیا نہ راشن، کم از کم برے وقت میں ہمیں ایسے تنہا تو نہ چھوڑتے-

    ادھر عمرکوٹ میں بارشوں کا سلسلہ تو تھم چکا ہے مگر متاثرین کی مشکلات کم نہ ہوئیں، ضلع کے بیشتر علاقوں سے تاحال برساتی پانی کی نکاسی نہیں ہو سکی ہے۔

    عمرکوٹ میں کئی دن گزرجانے کے باوجود سینکڑوں دیہاتوں میں اب تک برسات کا پانی کھڑا ہے ضلع کی چاروں تحصیلوں عمرکوٹ کنری سامارو اور پیتھورو کے کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں، ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ ہوگی ہیں۔

    عمرکوٹ میں حالیہ برساتوں کے باعث ایک لاکھ سولہ ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں جبکہ 05 لاکھ 57 ہزار سے زائد علاقہ مکین بے سروسامانی کے عالم میں ضلع کی مختلف راستوں پر امداد کے منتظر ہیں۔

    سیلاب کی تباہ کاریاں جاری،جاں بحق ہونے والوں کی تعداد1100 سے تجاوز

    متاثرہ علاقوں کے مکینوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر برساتی پانی کی نکاسی کے انتظامات کرے تاکہ ان کی گھروں کو واپسی ممکن ہو سکے-

    جبکہ راجن پور میں بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی سطح برقرار ہے کئی علاقوں میں سیلاب متاثرین سانپ کے ڈسنے کا شکار ہو ئے ہیں جبکہ سیلابی پانی جمع رہنے سے مچھروں کی بہتات اور وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں۔

    سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تباہ ہونے والے مکانات کو رہنے کے قابل بنانے کیلئے متاثرین کچھ مقامات پراپنے ٹوٹے گھروں کو بنانے کی کوشش کررہے۔

    سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں مچھروں کی بہتات ہے، رات کو مچھر اور سانپ سونے نہیں دیتے ہیں، سانپوں کے ڈسنے سے کئی افراد متاثر ہوچکے ہیں۔

    ادھر ڈیرہ غازی خان میں سیلابی پانی میں واضح کمی ہوگئی ہے لیکن متاثرین اب بھی ریلیف کیمپس اور بعض مقامات پر کھلے آسمان تلے یا سڑک کنارے بیٹھے ہیں، قبائلی علاقوں کے زمینی راستے جزوی بحال ہوگئے۔

    سیلاب کی تباہ کاریاں :سوات ایکسپریس وے پلئی کے مقام پرجزوی طور پر ٹریفک کے لیے بند

  • ہم اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں،انٹونی بلنکن

    ہم اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں،انٹونی بلنکن

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ ہم پاکستان پر مشکل کی اس گھڑی میں ساتھ کھڑے ہیں-

    باغی ٹی وی :پاکستان میں حالیہ سیلاب سے قیمتی جانوں کے ضیاع ، فصلوں، مویشیوں اور انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان سمیت وسیع پیمانے پر ہونے والی تباہی پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ پاکستان تباہ کن سیلاب سے دوچار ہے، ہم اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    امریکی سیاسی رہنماؤں کا پاکستان میں حالیہ سیلاب متاثرین سے اظہار یکجہتی

    اپنے ایک بیان میں انٹونی بلنکن نے کہا کہ امریکا یوایس ایڈ کے ذریعے سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے خوراک، پانی اور پناہ گاہوں کیلئے پاکستان کو 30 ملین ڈالرفراہم کررہا ہے۔

    امریکی انڈر سیکرٹری آف سٹیٹ ڈیرک شولے جوکہ امریکی وزیر خارجہ کےسینئر پالیسی ایڈوائزر بھی ہیں نے کہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں امریکہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے

    اپنے ٹوئٹ میں امریکی انڈر سیکریٹری ڈیرک شولے نے کہا کہ وہ حالیہ سیلاب کے نتیجے میں پاکستان میں ہونے والے قیمتی جانوں کے ضیاع و دیگر نقصانات اور ان کے اثرات پر بہت غمزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں-

    امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے رینکنگ ممبر سینیٹر جم رِش نے بھی سسیلاب زدگان سے ہمدردی کا اظہار کیا,اپنے ٹویٹ میں سینیٹر رِش نے کہا کہ ہم اس موقع پر پاکستان جوکہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے نبردآزماء ہے کے ساتھ ہیں۔ ہم سیلاب متاثرین کے لئے دعا گو ہیں۔

    مشکل وقت میں پاکستان کی ہر ممکن مدد کریں گے، صدرمتحدہ عرب امارات شیخ محمد بن زاید

    علاوہ ازیں دیگر امریکی رہنماؤں بشمول سینیٹر ٹیڈ کروز اور کانگریس وویمن شیلا جیکسن نے بھی سیلاب متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔

    دریں اثنا وزیراعظم شہبازشریف سے متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید نے ٹیلی فونک رابطہ کیاوزیر اعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات کے صدر کو پاکستان میں سیلاب کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا، جس سے تقریباً 33 ملین افراد متاثر ہوئے ہیں، 1162 کے قریب ہلاک اور 3554 زخمی ہوئے ہیں۔

    وزیر اعظم نے ایک بار پھر متحدہ عرب امارات کی طرف سے فراہم کی جانے والی سیلاب متاثرین کیلئے بروقت امداد اور تعاون پر شکریہ ادا کیا اور امارات ہلال احمر اور خلیفہ بن زاید فاؤنڈیشن کی جانب سے سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی تعریف کی۔

    عزت مآب شیخ محمد بن زاید نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پاکستانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور اس مشکل وقت میں متاثرین کی ہر ممکن مدد کی پیشکش کی۔

    بلاول بھٹوکی اپیل پردنیا نے ایک کھرب 30 ارب روپے پاکستان کودے دیئے:مزید امداد کی…

  • بنگلادیش کا پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سامان بھیجنے کا اعلان

    بنگلادیش کا پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سامان بھیجنے کا اعلان

    ڈھاکہ :پاکستان میں سیلاب متاثرین کی کیفیت دیکھ کربنگلا دیش نے بھی پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سامان بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

    بنگلادیشی میڈیا کے مطابق بنگلا دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کا کہنا ہے کہ بنگلا دیش پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے امداد بھیجے گا، پاکستان کے لیے کھانے اور دیگر سامان بھیجنے کا بندوبست کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، سیلاب متاثرین کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے جو ہم ادا کریں گے۔

    دوسری جانب پاکستان کیلئے مختلف ممالک سے مالی اور دیگر امداد کا سلسلہ شروع ہوگیا اور امریکا نے 3 کروڑ ڈالرز کی امداد کا اعلان کیا ہے جو یو ایس ایڈ کے تحت فراہم کی جائے گی۔

    آسٹریلیا نے سیلاب کی تباہ کاریوں سے نبرد آزما متاثرین کی مدد کیلئے عالمی خوراک پروگرام کے ذریعے 2 ملین ڈالر کی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    جرمنی پاکستان کے 60 ہزار سیلاب متاثرین کیلئے کھانے پینے کی اشیا اور حفظان صحت کی کٹس فراہم کر رہا ہے۔

  • کوہستان:5نوجوانوں کی بےبسی کےواقعےپروزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نےانکوائری کمیٹی بنادی

    کوہستان:5نوجوانوں کی بےبسی کےواقعےپروزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نےانکوائری کمیٹی بنادی

    پشاور:کوہستان میں سیلابی ریلے میں ڈوبنے والے پانچ دوستوں کے واقعہ پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی،کمیٹی غفلت برتنے والوں کی نشاندہی کرے گی اور 7 روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔

    سیلابی ریلے میں پھنسنے والے 5 دوست کئی گھنٹے انتظار کے بعد تیز موجوں کی نذر ہوگئے تھے، واقعہ 26 اگست کو کوہستان میں پیش آیا تھا۔پانچوں نوجوان کوہستان میں سیلابی ریلے میں پھنس گئے تھے اور ایک اونچے ٹیلے پر بے بسی کی تصویر بنے رہے۔

    اطلاعات کے مطابق پانچوں نوجوان تقریباً تین گھنٹے مدد کا انتظار کرتے رہے اور ہیلی کاپٹر کی مدد سے انکی زندگیاں بچائی جاسکتی تھیں۔

    اس واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر زیر گردش ہیں جس پر شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی شخصیات اور حکومتی وزراء کے دوروں کیلئے تو ہیلی کاپٹر استعمال کیے جاتے ہیں لیکن عوام کو سیلاب میں مرنے کیلئے چھوڑ دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ پانچوں نوجوان لوئر کوہستان کے علاقے سناگئ دوبیر نالہ میں جیپ کے ذریعے نالہ عبور کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ اس دوران پانچوں افراد سیلابی ریلے میں پھنس گئے۔

    پانچوں افراد نے بڑے پتھر پر چڑھ کر جان بچانے کی کوشش کی تاہم سیلابی ریلے کے بہاؤ میں اضافے سے درجوں لوگوں کے سامنے بے بسی کے عالم میں سیلابی ریلے کی نذر ہوگئے جبکہ ایک شخص کو مقامی لوگ رسیوں کی مدد سے بچانے میں کامیاب ہو گئے۔

    سیلابی ریلا گاڑی بھی بہا کر لے گیا، پولیس کے مطابق مرنے والوں میں بلال ولد رشید انور ولد آمیز ریاض ولد سمندر آور فصل ولد اکبر شاملِ تھے۔

  • مشکل وقت میں پاکستان کی ہر ممکن مدد کریں گے، صدرمتحدہ عرب امارات شیخ محمد بن زاید

    مشکل وقت میں پاکستان کی ہر ممکن مدد کریں گے، صدرمتحدہ عرب امارات شیخ محمد بن زاید

    وزیراعظم شہبازشریف سے متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید نے ٹیلی فونک رابطہ کیا.

    وزیر اعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات کے صدر کو پاکستان میں سیلاب کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا، جس سے تقریباً 33 ملین افراد متاثر ہوئے ہیں، 1162 کے قریب ہلاک اور 3554 زخمی ہوئے ہیں۔

    وزیر اعظم نے ایک بار پھر متحدہ عرب امارات کی طرف سے فراہم کی جانے والی سیلاب متاثرین کیلئے بروقت امداد اور تعاون پر شکریہ ادا کیا اور امارات ہلال احمر اور خلیفہ بن زاید فاؤنڈیشن کی جانب سے سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی تعریف کی۔

    عزت مآب شیخ محمد بن زاید نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پاکستانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور اس مشکل وقت میں متاثرین کی ہر ممکن مدد کی پیشکش کی۔

    پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات ہیں، جو دہائیوں پر محیط ، باہمی اعتماد اور افہام و تفہیم اور قریبی تعاون پر مشتمل ہیں۔ یہ مشترکہ تعلقات دلچسپی کے تمام شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون سے پر مبنی ہیں۔

    علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل پر مخیّر حضرات نے سیلاب زدگان کیلئے 2 کروڑ روپے امداد دے دی ہے جبکہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ سیلاب میں گھرے مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرنا عبادت سے کم نہیں، ملک میں لاکھوں افراد اس وقت بے گھر ہیں، فوری ریسکیو اور امداد کے بعد بنیادی ڈھانچے کی بحالی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو یہاں ایوان صنعت و تجارت اسلام آباد کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس نے وزیراعظم سے یہاں ملاقات کی۔

    ملاقات کرنے والوں میں صدر ایوان صنعت و تجارت اسلام آباد شکیل منیر، جمشید اختر شیخ، محمد فہیم خان، میاں شوکت مسعود، احسن بختاوری، زبیر احمد ملک، طارق صادق، عامر وحید، اظہر الاسلام، چوہدری جاوید اقبال، رانا قیصر، اختر حسین، حنیف عباسی اور دیگر شامل تھے۔ ملاقات میں شرکاء نے وزیرِاعظم کو سیلاب متاثرین کیلئے ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو اور ریلیف کی کارروائیوں پر خراجِ تحسین پیش کیا اور حکومت کے اقدامات کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ جو لوگ متاثرین کی مدد میں پیش پیش ہیں وہ انصار مدینہ کی سنت پر عمل کرکے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کر رہے ہیں، میری قوم سے اپیل ہے کہ ان مخیّر حضرات کی طرح بڑھ چڑھ کر سیلاب متاثرین کی مدد میں اپنا حصہ ملائیں، حالیہ سیلاب پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب ہے۔

    وزیرِاعظم نے کہا کہ ملک بھر میں لاکھوں لوگ اس وقت سیلاب کی وجہ سے بے گھر ہیں، گیارہ سو سے زائد لوگ جاں بحق اور 15 سو سے زائد لوگ زخمی ہیں، حکومت ترجیحی بنیادوں پر لوگوں کو ریسکیو کر رہی ہے، حکومت نے فوری طور پر سیلاب متاثرین کو 25 ہزار روپے نقد فراہم کرنا شروع کیا ہے، حکومت سیلاب متاثرین کو راشن، صاف پانی، خیمے اور مچھر دانیاں فراہم کر رہی ہے، دوست ممالک اور بین الاقوامی اداروں و تنظیموں کے شکر گزار ہیں کہ وہ سیلاب سے متاثرہ پاکستانیوں کی مدد کیلئے آگے بڑھے۔ انہوں نے کہا کہ فوری ریسکیو اور امداد کے بعد لوگوں اور انفرا سٹرکچر کی بحالی ایک بڑا چیلینج ہے، حکومت سیلاب متاثرین کی مدد و بحالی کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے، مصیبت میں گھرے ہم وطنوں کی مدد ہم سب پاکستانیوں کا فرض ہے، میں سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے مالی امداد فراہم کرنے والے مخیّر حضرات کا مشکور ہوں.

  • گوادر کی تاریخی ورثہ اور ثقافتی مقامات کی حفاظت کو یقینی بنائیں‌گے: ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری

    گوادر کی تاریخی ورثہ اور ثقافتی مقامات کی حفاظت کو یقینی بنائیں‌گے: ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری

    گوادر: ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلمپنٹ اتھارٹی مجیب الرحمن قمبرانی نے منگل کے روز گوادر کے تاریخی ورثہ اور ثقافتی مقامات کی بحالی و تحفظ سے متعلق اجلاس کی صدارت کی اجلاس میں چیرمین منیجمنٹ بورڈ براۓ نوادرات و آثارقدیمہ سندھ و ممتاز و معروف آرکاٸیولوجسٹ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری نے بھی شرکت کی اور گوادر کی تاریخی ورثہ اور ثقافتی مقامات کی تاریخی اہمیت اور پس منظر سے متعلق تفصیلی روشنی ڈالی اور انکی تعمیر و مرمت ، تزین و آرا اور بحالی و تحفظ سے متعلق ایک جامع پلان بھی پیش کیا۔

     

     

    مجوزہ پلان کے تحت گوادر کے تمام تاریخی ورثہ کو بحال کرکے انکی تحفظ کی جائیگی اور انہیں اصل و بنیادی حالت میں رکھا جاٸیگا ۔ تاریخی ساٸیٹ کی خدو خال اور ڈیزاٸن میں کوئی مداخلت نہیں کی جائیگی تاکہ انکی اپنی تاریخی و قدیمی اہمیت وحیثیت برقرار رہے۔ ابتداٸی مرحلہ میں چار پادگو، تار آفس،شاہی بازار، اسماعیلیہ محلہ اور عمانی فورٹ کی تعمیر و مرمت کا کام شروع کیا جاٸیگا۔ تاریخی ورثہ کی بحالی کے بعد ان مقامات کو تفریحی، علمی اور فنی سرگرمیوں کیلیے استمعال میں لایا جاسکتا ہے۔

     

     

     

    اجلاس میں ڈاٸریکٹر جنرل جی ڈی اے نے کہا کہ گوادر کی تاریخی و ثقافتی مقامات اس وقت خستہ حالت میں ہیں۔ انکی بحالی و تحفظ کو شہر کی ترقی کے ساتھ شامل کیا گیا ہے جو کہ اولڈ ٹاٶن بحالی منصوبہ کے حصہ ہونگے۔ گوادر کی تاریخ اور ثقافتی پہلو کو اجاگر کرکے محفوظ بنایا جاٸیگا تاکہ باہر سے آنے والے سیاح اور ہمارے مسقبل کے نوجواں یہاں کی تاریخ اورثقافتی مقامات کی بنیادی اہمیت سے آشنا ہوں۔

  • کالا باغ ڈیم کی کمی آج شدت سے محسوس ہو رہی ہے:فیصل انور

    کالا باغ ڈیم کی کمی آج شدت سے محسوس ہو رہی ہے:فیصل انور

    اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (خان قیوم خان) کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات فیصل انور بھٹی نے ملک میں موجودہ سیلابی صورتحال کو انتہائی تکلیف دہ آزمائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ 1948 میں قائداعظم محمد علی جناح نے کالا باغ ڈیم بنانے کی ہدایت کی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ بھارت کسی بھی وقت پاکستان پر آبی جارحیت کر سکتا ہے۔ 1948 میں بھی بھارت نے آبی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کا پانی روک دیا تھا۔

    فیصل انور نے کہا کہ دشمن ملک بھارت کبھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان کالا باغ ڈیم پر کام کا آغاز کرے۔ اگر ہم نے آج بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ ماضی میں جس جس نے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کی انہوں نے جانے انجانے میں ملک دشمن قوتوں کا ساتھ دیا۔

    مسلم لیگ قیوم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بھارت نے ہماری صفوں میں دراڑ ڈال کر خود کشن گنگا ڈیم تعمیر کر لیا تاکہ پاکستان کا پانی روکا جا سکے. بھارت نے کالا باغ ڈیم منصوبہ رکوانے کے لیے ہر بار ایک نئی سازش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم سے 4500 میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے جو ملک میں سب سے سستی بجلی ہوتی۔

  • دنیا میں سب سے زیادہ بارش کولمبیا:سب سے کم کہاں ہوتی ہے:تفصیلات آگئیں

    دنیا میں سب سے زیادہ بارش کولمبیا:سب سے کم کہاں ہوتی ہے:تفصیلات آگئیں

    لاہور: دُنیا میں سب سے زیادہ بارش کولمبیا میں ایورج 3240 مِلی میٹرہوتی رہی اور سب سے کم بارش مِصر میں 18مِلی میٹر ہوئی

     

     

    جبکہ دُنیا کے 195 مُمالک میں ھونے والی ایورج بارشوں میں پاکستان کا نمبر 145 واں ہے۔ جہاں سالانہ ایورج 494 مِلی میٹر بارش ھوتی ہے یہ اعدادوشمار 2017 کے ہیں‌ جبکہ اس سال ہونے والی بارش نے پاکستان کوکئی درجات اونچا کردیا ہے اس کی درجہ بندی مون سون کے موسم کے اختتام پر ہوگی

    یہ بھی یاد رہے کہ اس سے پہلے دُنیا میں 144 مُمالک ایسے ہیں جہاں پاکستان سے زیادہ بارشیں ہوتی رہی ہیں لیکن اس سال پاکستان میں ہونے والی بارشوں نے پاکستان کے ہی پچھلے سب ریکارڈ توڑ دیئے

    دنیا میں سب سے زیادہ بارشوں والے ٹاپ 10 ممالک کی فہرست کچھ اس طرح ہے

     

     

     

    10-بنگلہ دیش:
    ہر جگہ پانی، بنگلہ دیش ایک خلیج کے دہانے پر واقع ہے جس میں کئی دریا زیادہ ہیں ملک کی مون سون کی آب و ہوا اس کے بیشتر حصوں میں شدید بارش لاتی ہے۔ مون سون کا موسم عام طور پر جون سے شروع ہوتا ہے اور اکتوبر میں ختم ہوتا ہے۔ ان دنوں کے دوران، یہ تقریباً 80 فیصد بارش کا تجربہ کرتا ہے۔ ہمالیہ کے دامن کے قریب واقع علاقوں میں سب سے زیادہ بارش ہوتی ہے جس میں بنیادی طور پر سلہٹ کا علاقہ شامل ہے۔ اوسط بارش کا تخمینہ 2666 ملی میٹر سالانہ ہے۔

    9. انڈونیشیا
    انڈونیشیا گرم پانیوں کے ذخائر کے ساتھ ایک خوبصورت ملک ہے، جو اس کی آب و ہوا کو زیادہ بارش کا سبب بنتا ہے۔ کل زمین کا 81% گرم پانیوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ مانسون کا دورانیہ دسمبر سے شروع ہوتا ہے اور مارچ میں ختم ہوتا ہے۔ ملک کے مغربی اور شمالی علاقوں میں دیگر حصوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ بارشیں ہوتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال ملک میں تقریباً 2702 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔

     

    8. برونائی دارالسلام
    برونائی بھی دنیا کی اشنکٹبندیی پٹی کے بیچ میں واقع ہے اس لیے سب سے زیادہ بارشیں ہوتی ہیں۔ اس میں بنیادی طور پر ذیلی موسمی حالات ہیں جس کے نتیجے میں تیز بارش اور زیادہ نمی کے ساتھ گرم موسم ہوتا ہے۔ بارش کی اوسط شرح 2722 ملی میٹر سالانہ ہے، جو اسے دنیا میں سب سے زیادہ بارشوں والا 8 واں ملک بناتا ہے۔

    7. ملائیشیا
    ہر سال 2875 ملی میٹر بارش کے ساتھ، ملائیشیا اس فہرست میں اگلے نمبر پر آتا ہے۔ یہاں بھی مون سون کا موسم دسمبر کے اوائل سے شروع ہو کر مارچ میں ختم ہو جاتا ہے۔ شمال اور مغرب میں واقع علاقے جیسے سراواک اور صباح کی ڈھلوانیں سب سے زیادہ بارش کی زد میں ہیں، جو اس ملک میں ہونے والی کل بارش کا 70% سے زیادہ حصہ لیتے ہیں۔

    6. کوسٹا ریکا
    کوسٹ ریکا اپنے سفید ریتیلے ساحلوں کے لیے مشہور ہے اور دنیا بھر سے بہت سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یہ آپ کے موسم گرما کو سرفنگ اور دھوپ میں گزارنے کے لیے ایک بہترین میدان فراہم کرتا ہے۔ اس ملک میں بھی ہر سال بارشوں کا شدید سلسلہ ہوتا ہے جو مئی میں شروع ہوتی ہے اور سات ماہ تک جاری رہتی ہے۔ ان مہینوں کے دوران جوار بہت زیادہ ہوتے ہیں اور سیاحوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ساحلوں پر نہ جائیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں سالانہ اوسطاً 2926 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔

    5. پانامہ
    پانامہ میں مون سون کا معمول اپریل میں شروع ہوتا ہے اور دسمبر تک جاری رہتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے! بارش کے 9 مہینے۔ اس کے نتیجے میں تقریباً ہر سال 2926 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔ پاناما کا جغرافیہ ضرورت سے زیادہ بارشوں کا واحد عنصر ہے، بخارات کیریبین کے شمال اور شمال مشرق سے ہوتے ہیں جو بارش کا سبب بنتے ہیں۔ ساحلی پٹی کے قریب واقع علاقوں میں زیادہ تر بارش ہوتی ہے۔

    4. سلیمان جزائر
    سولومن جزائر سب سے زیادہ بارش والے ٹاپ ٹین ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے۔ دو الگ الگ آب و ہوا کی انتہا کا تجربہ کریں، ایک گیلی اور دوسری مکمل طور پر خشک۔ بارش کا موسم فروری سے شروع ہو کر مئی میں ختم ہوتا ہے جبکہ گیلے موسم کا دوسرا دور ستمبر سے نومبر تک جاری رہتا ہے۔ شدید بارشوں کے علاوہ، ملک کو ان جزائر کے بہت شمال سے آنے والے ٹائفون کے خطرے کا بھی سامنا ہے۔ اوسط بارش کا تخمینہ 3,028 ملی میٹر سالانہ ہے۔

    3. پاپوا نیو گنی
    پاپا نیو گنی دنیا میں سب سے زیادہ بارش والے 10 ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔ جہاں مون سون کا موسم عام طور پر دسمبر سے شروع ہوتا ہے اور مارچ میں ختم ہوتا ہے جس کی وجہ سے سالانہ اوسطاً 3142 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔ یہ ملک کے مغربی اور شمالی حصے ہیں جہاں زیادہ تر بارشیں ہوتی ہیں۔ سیلاب اور تباہی واضح ہو جاتی ہے اگر بارش کے پانی کو صحیح طریقے سے استعمال یا چینلائز نہ کیا جائے۔

    2. SAO TOME اور PRINCIPE
    ملک کے برساتی موسم کو دو مختلف مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ سب سے زیادہ بارش والے ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔ پہلا شارٹ اکتوبر سے شروع ہوتا ہے اور نومبر تک جاری رہتا ہے جبکہ لمبا حصہ مارچ سے مئی تک جاری رہتا ہے دونوں موسموں میں بارش کی شرح نمایاں طور پر زیادہ ہوتی ہے۔ دونوں موسموں میں اوسط بارش کی مشترکہ رقم تقریباً 3200 ملی میٹر سالانہ ہے۔ خط استوا کے آس پاس اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ملک میں سب سے زیادہ بارش ہوتی ہے۔

    1. کولمبیا
    کولمبیا میں بارش کی سب سے زیادہ شرح ہے جس کا تخمینہ 3240 ملی میٹر سالانہ ہے۔ بہت زیادہ اور بھاری بارش کی وجہ سے ریاست کا کچھ علاقہ مستقل طور پر سیلاب کی زد میں رہتا ہے۔ بحرالکاہل کا سامنا کرنے والے علاقے سب سے زیادہ بارش کا تجربہ کرتے ہیں۔ یہاں تقریباً ہر روز بارش ہوتی ہے۔ نتیجتاً، ملک میں بارشی جنگلات کی کثرت ہے۔ جب ہم ملک کے مشرقی حصوں کی طرف بڑھے تو بارش کی شرح میں کمی واقع ہوئی۔

    1. کولمبیا 3240
    2. ساؤ ٹوم 3200
    3. پاپا نیو گنی 3142
    4. جزیرہ سلیمان 3028
    5. پانامہ 2929
    6. کوسٹا ریکا 2926
    7. ملائیشیا 2875
    8. برونائی 2722
    9. انڈونیشیا 2702
    10. بنگلہ دیش 2666

  • فلڈ ریلیف کمیٹی  نے متاثرہ اضلاع کے نقشے تیار کرنے کی ہدایت کردی

    فلڈ ریلیف کمیٹی نے متاثرہ اضلاع کے نقشے تیار کرنے کی ہدایت کردی

    اسلام آباد:فلڈ ریلیف کمیٹی نے اپنے اہم اجلاس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے سیلاب متاثرہ اضلاع اوروہاں کے دیگرمقامات کی نشاندہی کرکے نقشے تیار کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں

    پاکستان میں سیلاب سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 75 افراد جان سے گئے۔ فلڈ ریلیف کمیٹی نے متاثرہ اضلاع کے نقشے تیار کرنے کی ہدایت اس کام کو جلد ازجلد مکمل کرنے کےبھی ہدایات جاری کیں‌

     

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال کی زیر صدارت فلڈ ریلیف کمیٹی کا اجلاس ہوا، بریفنگ میں بتایا گیا ہے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں سیلاب سے مزید 75 افراد کی ہلاکت کے بعد اموات کی تعداد 1100 سے تجاوز کرگئی۔وفاقی وزیر نے سیکریٹری صحت سے صوبوں کے ساتھ اجلاس کے بعد تفصیلی بریفنگ طلب کرلی۔

    فلڈ ریلیف کمیٹی کو بتایا گیا کہ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 53 قیمتی جانیں سندھ میں، 16 کے پی میں، 5 گلگت بلتستان اور 2 قیمتی جانیں بلوچستان میں سیلاب کی نذر ہوگئیں۔

    کمیٹی نے مستقبل میں ناخوشگوار واقعات سے بچنے کیلئے حکمت عملی کا جائزہ لیا اور این ڈی ایم اے کو اس حوالے سے قواعد و ضوابط تیار کرنے کی ہدایت کردی۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ متاثرین کی تعداد معلوم کرکے مدد کی جائے گی۔

    اس سے قبل اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ کے فنڈ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو اور دوبارہ آباد کاری پر خرچ کئے جائیں گے۔

    پہلے بھی تباہی ہوئی،تعمیرات کی اجازت دیکر غفلت کا مظاہرہ کیا گیا، آرمی چیف

    ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تخمینے کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے 10 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی، اس قدرتی آفت میں ایک ہزار 150 سے زائد افراد جاں بحق اور تقریبا 10 لاکھ گھروں کو نقصان پہنچا ہے، سیلاب سے 3 کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

    احسن اقبال نے مزید کہا کہ پوری قوم کو اجتماعی طور پر اتنے بڑے چیلنج سے نمٹنا ہوگا، قدرتی آفت سے ایک موقع یہ بھی ملا ہے کہ غریب خاندانوں کو منظم انداز میں استوار کیا جائے۔