Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پاکستان میں23فیصدریلوےانجن اور24فیصدریل ویگن ناقابلِ استعمال ہوچکے:ایشین ترقیاتی بینک کا دعویٰ

    پاکستان میں23فیصدریلوےانجن اور24فیصدریل ویگن ناقابلِ استعمال ہوچکے:ایشین ترقیاتی بینک کا دعویٰ

    لاہور:پاکستان میں23فیصد ریلوے انجن اور24فیصد ریل ویگن ناقابلِ استعمال ہوچکے ہیں:ایشین ترقیاتی بینک کا دعویٰ ،اطلاعات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک کی پاکستان سمیت وسط ایشیائی ممالک کے ریلوے نظام پر اسٹڈی رپورٹ جاری کردی گئی ہے۔رپورٹ کےمطابق پاکستان میں 23 فیصد ریلوے انجن اور 24 فیصد ریل ویگن ناقابل استعمال قرار دئیے گئے ہیں۔

    ایم ایل ون اپنے طور پر شروع کر رہے ہیں۔ پاکستان ریلوے کا اعلان

    ایشین ترقیاتی بینک کی طرف سے اس حوالے سے جاری تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان سمیت خطے کے ممالک میں ریلوے کو مالی نقصانات کا سامنا ہے اور اے ڈی بی نے سینٹرل ایشیا میں ریلوے نظام کی بہتری کیلئے 6 پالیسی اصلاحات پیش کی ہیں۔

     

     

    ایشیائی ترقیاتی بینک کی طرف سے جاری رپورٹ کے مطابق سینٹرل ایشیا ریجنل کا آپریشنل پروگرام ریلوے کو مالی طور پر مستحکم بنا سکتا ہے اور اس سےعلاقائی ترقی میں اضافہ، عوام کا معیار زندگی بہتر ہوگا۔

    پاکستان ریلوے اور پی آئی اے کے کرایوں میں کمی کا اعلان

    رپورٹ کے مطابق کاریک ریلوے اسٹریٹجی 2017 تا 2030 علاقائی پروگرام کا مقصد علاقائی ممالک میں روابط بہتر بنانا ہے۔ کاریک ممالک میں پاکستان، چین، قازقستان، ازبکستان، آزربائیجان شامل ہیں۔عالمی ادارے کی طرف سےجاری رپورٹ کے مطابق جارجیا، منگولیا، ترکمانستان، کرغزستان، تاجکستان اورافغانستان بھی گروپ کا حصہ ہیں۔ریلوے کو کمرشل بنیادوں پر چلانے، سرمایہ کاری اور اصلاحات کے وسیع مواقع ہیں اور کراس بارڈر فریٹ ریلویز اور کمرشلائزیشن کے وسیع مواقع ہیں۔

    خطے میں ریلوے کی بہتری کیلئے لیز یا نجی شعبے کی شراکت داری کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

    پاکستان ریلوے کا نوحہ اور اس کا سدباب — نعمان سلطان

    پاکستان سمیت دیگر ممالک کو ریلوے کے سسٹم میں اسٹاف کی کارکردگی بہتری بنانے کی ضرورت ہے، خطے میں ریلوے کیلئے ماڈرن کمرشل اکاؤنٹنگ سسٹم متعارف کرانا نا گزیر ہے،پاکستان سمیت خطے کے ممالک کو ریلوے کیلئے ٹیرف ریگولیشنز ضروری ہیں۔عالمی ادارے کی رپورٹ کےمطابق ریلوے کیلئے ٹیرف ریگولیشنز متعارف کرانے سے ریونیو اقدام میں بہتری آئے گی اور سینٹرل ایشیائی ممالک کو ریلوے کے شعبے میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔

  • کامن ویلتھ گیمز جویلین تھرو فائنل: ارشد ندیم نے پہلی ہی باری میں ریکارڈ تھرو کردی

    کامن ویلتھ گیمز جویلین تھرو فائنل: ارشد ندیم نے پہلی ہی باری میں ریکارڈ تھرو کردی

    برمنگھم:کامن ویلتھ گیمز جویلین تھرو (نیزہ بازی) کا فائنل شروع ہوتے ہی پاکستان کے ارشد ندیم نے پہلی ہی باری میں ریکارڈ تھرو کردی۔

    برمنگھم میں جاری کامن ویلتھ گیمز کے نیزہ بازی مقابلے کے فائنل میں ارشد ندیم ایکشن میں ہیں جہاں انہوں نے پہلی باری میں 86.81 میٹر کی تھرو کی، یہ پاکستانی ایتھلیٹ کے کیریئر کی بہترین تھرو ہے۔ اس سے قبل ارشد ندیم کی بہترین تھرو 86.38 میٹر تھی۔

    البتہ ارشد ندیم کی دوسری باری ضائع ہوگئی لیکن پاکستانی ایتھلیٹ اب بھی 86.81 کی تھرو کے ساتھ سرفہرست ہیں۔

    ارشد ندیم نے تیسری باری میں اپنا قومی ریکارڈ اور بہتر کر دیا،ا نہوں نے تیسری باری میں 88 میٹر کی تھرو کر دی،یہ جویلین تھرو میں کسی بھی پاکستانی کی سب سے بڑی تھرو ہے۔

    کامن ویلتھ گیمز:مردوں کی200میٹردوڑکی ہیٹ 2میں پاکستان کےشجرعباس کی پہلی پوزیشن

    ادھرترکی کے شہر کونیا میں شروع ہونے والے پانچویں اسلامک سالیٹیریٹی گیمز میں حصہ لینے والے پاکستان کے تینوں ٹیبل ٹینس کے کھلاڑی کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے۔

    کامن ویلتھ گیمز، ریسلر انعام بٹ نے چاندی، عنایت اللہ نے کانسی کا تمغہ جیت لیا

    اطلاعات کے مطابق ٹیبل ٹینس ٹورنامنٹ میں پاکستان کے دو کھلاڑیوں کو کھیلے بغیر ہی اگلے راؤنڈ میں رسائی مل گئی، مینز سنگلز ایونٹ میں تیمور خان گھانا کے کھلاڑی شمر بریٹون کے خلاف واک اوور ملنے کے بعد پری کوارٹر فائنل میں پہنچے جہاں ان کا مقابلہ لبنانی کھلاڑی سے ہوگا۔

    ویمنز سنگلز ایونٹ میں بھی پاکستان کی قومی چمپیئن حائقہ حسن کی قسمت نے بھرپور ساتھ دیا، وہ بھی حریف کھلاڑی کے خلاف کھیلے بغیر واک اوور ملنے کے بعد کوارٹر فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئیں جہاں ان کا مقابلہ بنگلہ دیش کی قومی چیمپئن سعدیہ رحمان سے ہوگا۔

    کامن ویلتھ گیمز،پاکستان کےریسلرعلی اسدنےکانسی کاتمغہ جیت لیا

    اسی ایونٹ میں پاکستان کی حور فواد نے ایک آسان مقابلے کے بعد یوگنڈا کی ٹاپ پلیئر ایرن نیکیساکو 0-3 سے شکست دے کر اگلے راؤنڈ میں رسائی حاصل کی جہاں اُن کا مقابلہ ترکی کی کھلاڑی سے ہوگا۔

  • عمران خان کا مقابلہ نواز شریف ہی کر سکتا ہے:تجزیہ:۔ شہزاد قریشی

    عمران خان کا مقابلہ نواز شریف ہی کر سکتا ہے:تجزیہ:۔ شہزاد قریشی

    موجودہ حالات میں فہم و فراست اور سوجھ بوجھ کا مظاہرہ ہی ملک میں جمہوریت کو دوام اور جمہوری اداروں کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔ باقی تمام راستے غلط ہیں۔ جمہوریت میں سیاسی رونقیں ہونی چاہئیں بلکہ عروج پر ہونا چاہئے۔ بلاشبہ عمران خان کی تحریک انصاف حقیقت ہے افسانہ نہیں لیکن آصف علی زرداری کی قیادت میں اس جماعت کو دیوار سے لگانے کی جو کوشش کی جا رہی ہے اور جن راستوں کا انتخاب کیا جا رہا ہے کیا وہ راستہ جمہوری ہے؟ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو بھٹو کو ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے پھانسی لگا دی گئی تھی کیا تادم تحریر آج کی پیپلزپارٹی بھٹو کے نام سے ووٹ حاصل نہیں کر رہی؟ کیا بھٹو کی جماعت کو کوئی طاقت ختم کر سکی؟

    مشکل وقت،جذبے سے کام لینا ہو گا،تجزیہ : شہزاد قریشی

    بلاشبہ عمران خان بھٹو نہیں لیکن ملک میں اس وقت تحریک انصاف کو مقبولیت حاصل ہے بالخصوص نوجوان طبقہ عمران خان کو اپنا ہیرو سمجھتا ہے جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں جن میں شہباز شریف سمیت مولانا فضل الرحمٰن، آصف علی زرداری، عوام میں کتنے مقبول ہیں؟ مسلم لیگ (ن) میں آج بھی نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز مقبول ترین ہیں آج بھی اگر نوازشریف پنجاب میں خود موجود ہوں تو وہ عمران کا سیاسی اور جمہوری طریقے سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔ نوازشریف کی مقبولیت کا اندازہ 1990ء سے لے کر 1993ء تک بخوبی لگایا جا سکتا ہے نوازشریف کی کامیاب سیاسی حکمت عملی نے پنجاب میں کسی دوسری جماعت کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔

    عمران خان کے بیانیہ پر ن لیگ کیسے حاوی ہو سکتی؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    پیپلزپارٹی کے سنجیدہ اور بھٹو کے قریبی دوستوں کو یاد ہوگا پیپلزپارٹی کے وجود کو ختم کرنے کے لئے ایم کیو ایم معرض وجود میں آئی کیا صوبہ سندھ میں پیپلزپارٹی کے وجود کو ختم کیا گیا؟ اس لئے آصف علی زرداری کو تاریخ سے سبق حاصل کرنا ہوگا ۔ان دنوں ملکی سیاست میں پردے کے پیچھے بہت کچھ جاری ہے چلئے عمران خان کو مائنس کر دیا گیا، وہ نااہل ہو گیا لیکن کیا نوازشریف کو نااہل اور سزا دے کر ان کی جماعت کو ختم کر دیا گیا نوازشریف آج بھی عوام میں مقبول ہیں۔ کیا مریم نواز کو سزا دی گئی کیا مریم نواز کی مقبولیت ختم ہو گئی۔

    سیاسی انتشار کی وجہ قیادت کا فقدان، تجزیہ: شہزاد قریشی

    بھٹو کا نام ختم ہو گیا کیا محترمہ بے نظیر بھٹو آج بھی عوام کے دلوں اور دماغ میں زندہ نہیں؟ اسی طرح عمران کا سیاسی مقابلہ کرنے کے بجائے جن راستوں کاانتخاب پی ڈی ایم کر رہی ہے اس سے عمران خان کی عوامی مقبولیت میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ جس طرح بھٹو اوران کی بیٹی موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کا استقبال کیا بہت کم سیاستدان ہیں جو اس طرح کے بہادر ہیں۔ عمران خان بھی معلو م نہیں کتنا بہادر ہے تاہم ان کا سیاسی مقابلہ نوازشریف ہی کر سکتا ہے ۔ وطن عزیز میں سیاستدانوں کا رویہ سیاست کو مقتل گاہ کی طرف لے کر جا رہا ہے ۔

  • پاکستان آرمی نے ہمیشہ ملک کو بحران سے نکالا،حافظ محمد طاہر اشرفی

    پاکستان آرمی نے ہمیشہ ملک کو بحران سے نکالا،حافظ محمد طاہر اشرفی

    چیئر مین متحدہ علماء بورڈ پنجاب حافظ محمد طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ افراد سے تعاون کیلئے مخیر حضرات دل کھول کر امداد کریں، ملک میں سیاحت کے فروغ کیلئے ٹھوس اقدامت کی ضرورت ہے، دنیا بھر سے سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں انہیں مناسب پلیٹ فارم مہیا کرنے کی ضرورت ہے،ملک میں امن و استحکام کے ذریعے سے ہی معاشی بحران پر قابو پایاجاسکتاہے.

    سب سے بڑا ڈاکو پنجاب کا وزیراعلیٰ تو ڈیرھ ارب کرپشن سیکنڈل کا ملزم مشیر مقرر

    پاکستان آرمی نے ہمیشہ ملک کو بحران سے نکالا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز میزاب گروپ کی طرف سے ”عمرہ سیمینار 2022”سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان کا مثبت تشخص دنیا کے سامنے لانے کیلئے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،ہم تجارت، سیاحت کے ذریعے ملکی معیشت کو بہتری کی طرف کامزن کرسکتے ہیں۔

     

    آرمی چیف کی میجر جنرل امجد حنیف (شہید) اور میجر محمد طلحہ منان (شہید) کے اہل خانہ سے ملاقات

     

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اللہ پاک نے قدرتی وسائل سے مالامال کررکھا ہے اور ہمارے شمالی علاقہ جات انتہائی خوبصورت ہیں وہا ں پر سیاحت کو فروغ دینے کیلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب بھی اب اپنا انحصار پٹرول کی بجائے سیاحت اور تجارت کے فرغ پر کررہا ہے کیونکہ یہی وہ شعبے ہیں جن سے معیشت کو بے پناہ فائدہ ہوسکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ملک کو موجودہ چیلنجز سے نکالنے کیلئے تمام سیاسی رہنمائوں کو مل بیٹھ کر موثر حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ  ہمیں ہمیشہ پاک فوج نے بحرانوں سے نکالا ہے اور اب بھی وہ ملک کو مشکل حالات سے نکالنے کیلئے پر عزم ہیں۔طاہر اشرفی نے کہا کہ سیلاب کی صورتحال دیکھ کر دل خون کے آنسو رورہا ہے اور بلوچستان میں بڑے پیمانے پر سیلاب نے تباہی مچائی ہے جن کی مدد کیلئے پاک فوج کے جوان اور فلاحی ادارے پیش پیش ہیں۔

  • لاہوراور کراچی پھرپانی پانی ہوگئے:مزید بارشوں کی پیشن گوئی

    لاہوراور کراچی پھرپانی پانی ہوگئے:مزید بارشوں کی پیشن گوئی

    لاہور:: کراچی اور لاہور کے کچھ حصے ہفتے کے روز مون سون کے نئےسپیل کی نذر ہوگئے ہیں ، نشیبی علاقے زیر آب آگئے اور روزمرہ کی زندگی متاثر ہوئی۔

    کراچی کے مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ محکمہ موسمیات نے چند گھنٹوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کردیا۔

    کراچی سے ذرائع کے مطابق اس حوالے سے محکمہ موسمیات نے کراچی میں آج رات سے تیز بارش کی پیش گوئی کی تھی۔

    کراچی کے مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا، اسٹیل ٹاؤن، گلشن حدید اور اطراف میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش ہورہی ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بادل مشرق کی جانب سے کراچی کی طرف بڑھ رہے ہیں، چند گھنٹوں میں شہر میں موسلا دھار بارش متوقع ہے۔دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں بارش کا سلسلہ 9 اگست تک جاری رہے گا جبکہ 11 سے 13 اگست تک موسلاھار بارش کا بھی امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق 11 سے 13 اگست کو کراچی کے علاوہ ٹھٹھہ، بدین، حیدرآباد، دادو، جامشورو، سکھر، لاڑکانہ، شہید بے نظیر آباد اور میرپورخاص میں بھی موسلا دھار بارش ہو سکتی ہے۔

    ملک کے چوٹی کے علاقوں میں مون سون کی لہریں داخل ہو رہی ہیں۔ ملک کے مغربی اور بالائی علاقے بھی مغربی لہر سے متاثر ہو رہے ہیں۔

    کراچی کے مختلف علاقوں میں صبح سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ کراچی میں رواں مون سون کے دوران، محکمہ موسمیات نے موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔

    یہاں تک کہ لاہور میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کا دفتر بھی بارش کے نتیجے میں زیر آب آگیا۔ بارش کے پانی کی وجہ سے کئی نشیبی مقامات زیر آب آگئے ہیں۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق اتوار کو ملک کے بیشتر حصوں میں گرم اور گہرے موسم کی توقع ہے۔

    تاہم بالائی پنجاب، بالائی خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں بارش، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ زیریں سندھ اور شمالی بلوچستان میں چند مقامات پر بارش، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس دوران کشمیر، بالائی خیبرپختونخوا اور بالائی پنجاب میں بھی الگ تھلگ اہم بارشوں کا امکان ہے۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کی اکثریت نے موسم گرم اور مرطوب رہا۔ تاہم کشمیر، گلگت بلتستان، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں چند مقامات پر بارش، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔

  • ایفائے عہد اور تکمیل پاکستان —  حافظ شاہد محمود

    ایفائے عہد اور تکمیل پاکستان — حافظ شاہد محمود

    اوفوا بالعھد ان العھد کان مسئولا (71 : 43)

    ”اور وعدہ کو پور اکرو ، بیشک عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا“۔

    وفائے عہد کے بارے میں اللہ تعالیٰ خود سوال کرے گا اور جو لوگ وفائے عہد نہیں کرتے ، ان سے قیامت کے دن اس سلسلے میں باز پرس ہوگی۔

    کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر کسی سے عہد کے بارے میں پوچھ گچھ کرنی ہے۔ اس عہد سے مراد وہ عہد بھی لیا جاسکتا ہے جو روز آفر ینش اللہ تعالیٰ نے بنی آدم سے یہ کہہ کرلیا تھا کہ کیا میں تمہارا رب ہوں یا نہیں ؟اس عہد کی پاسداری نہ کرنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور شرک کرنا ہے۔ ایک دوسرے سے کیے ہوئے عہد کو توڑنا اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑا گناہ ہے۔ دنیا میں بھی عہد شکنی کرنے والے کی عزت کو شدید دھچکا لگتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی نماز، حج اور ہر قسم کی نیکی لوگوں کی نظروں میں طعنہ بن جاتی ہے۔

    مختصر یہ کہ ایفائے عہد کی اس قدر زیادہ اہمیت ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنی نسبت بار بار اعلان فرمایا ہے کہ :

    ” ان اللہ لا یخلف المیعاد “۔ الرعد ٣ : ٣١) ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “
    ” لا یخلف اللہ المیعاد “۔ (الزمر ٣٩ : ٢٠) ” اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “
    ” انک لا تخلف المیعاد “ (آل عمران ٣ : ١٩٤) ” (اے ہمارے پروردگار) بلاشبہ تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “
    ” وعداللہ لا یخلف اللہ وعدہ “۔ (الروم ٣٠ : ٦) ” اللہ کا وعدہ ہے ‘ اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “
    ” ولن یخلف اللہ وعدہ “۔ (الحج ٢٢ : ٤٧) ” اور اللہ ہرگز نہ ٹالے گا اپنا وعدہ ۔ “
    (آیت) ” فلن یخلف اللہ عہدہ “۔ (البقرہ : ٢ : ٨٠) ” پس اللہ تعالیٰ اپنے قول وقرار کے خلاف نہ کرے گا۔ “
    ” ومن اوفی بعھدہ من اللہ “۔ (التوبہ ٩ : ١١١) ” اور اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہے ۔ “

    جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کا سچا اور اپنے عہد کا پکا ہے ‘ اسی طرح اس کے بندوں کی خوبیوں میں سے ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی سے جو وعدہ کریں وہ پورا کریں اور جو قول وقرار کریں اس کے پابند رہیں ‘ سمندر اپنا رخ پھیر دے تو پھیر دے اور پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائے تو ٹل جائے مگر کسی مسلمان کی یہ شان نہ ہو کہ منہ سے جو کہے وہ اس کو پورا نہ کرے اور کسی سے جو قول وقرار کرے اس کا پابند نہ رہے ۔

    عام طور پر لوگ عہد کے معنی صرف قول وقرار کے سمجھتے ہیں لیکن اسلام کی نگاہ میں اس کی حقیقت بہت وسیع ہے وہ اخلاق ‘ معاشرت ‘ مذہب اور معاملات کی ان تمام صورتوں پر مشتمل ہے جن کی پابندی انسان پر عقلا شرعا قانونا اور اخلاقا فرض ہے اور اس لحاظ سے یہ مختصر سا لفظ انسان کے بہت سے عقلی ‘ شرعی قانونی اخلاقی اور معاشرتی فضائل کا مجموعہ ہے اسی لئے قرآن مجید میں بار بار اس کا ذکر آیا ہے اور مختلف حیثیتوں سے آیا ہے ، ایک جگہ اصلی نیکی کے اوصاف کے تذکرہ میں ہے ۔

    ” والموفون بعھدھم اذا عاھدوا “۔ (البقرہ ٢ : ١٧٧)
    اور اپنے قول وقرار اور عہد کو پورا کرنے والے جب وہ عہد کریں ۔
    بعض آیتوں میں اس کو کامل ال ایمان مسلمانوں کے مخصوص اوصاف میں شمار کیا گیا ہے ۔

    ” والذین ھم لامنتھم وعھدہم راعون “۔ (المومنون ٢٣ : ٨)
    اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس ملحوظ رکھتے ہیں ۔

    ایک دوسری سورة میں جنتی مسلمانوں کے اوصاف کا نقشہ کھینچا گیا ہے اس کی تصویر کا ایک رخ یہ ہے :

    ” والذین ھم لامنتھم وعھدہم راعون “۔ (المعارج ٧٠ : ٣٢)
    اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس ملحوظ رکھتے ہیں ۔

    تمام عہدوں میں سے سب سے پہلے انسان پر اس عہد کو پورا کرنا واجب ہے جو خدا اور اس کے بندوں کے درمیان ہوا ہے ‘ یہ عہد ایک تو وہ فطری معاہدہ ہے جو روز الست کو بندوں نے اپنے خدا سے باندھا اور جس کو پورا کرنا اس کی زندگی کا پہلا فرض ہے چنانچہ ارشاد ہوا:
    ” الذین یوفون بعھد اللہ ولا ینقضون المیثاق والذین یصلون ما امر اللہ بہ ان یوصل “۔ (الرعد ١٣ : ٢٠ ، ٢١)

    جو اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اپنے اقرار کو نہیں توڑتے اور جو خدا نے جن تعلقات کے جوڑنے کا حکم دیا ہے ان کو جوڑے رکھتے ہیں ۔

    اس آیت میں پہلے اس فطری عہد کے ایفاء کا ذکر ہے جو خدا اور بندہ کے درمیان ہے پھر اس قول وقرار کا جو باہم انسانوں میں ہوا کرتا ہے ‘ اس کے بعد اس فطری عہد کا ہے جو خاص کر اہل قرابت کے درمیان قائم ہے ۔

    سورة نحل میں اللہ کے عہد کا مقدس نام اس معاہدہ کو بھی دیا گیا ہے جو خدا کو حاضر وناظر بتا کر یا خدا کی قسمیں کھا کھا کر بندے آپس میں کرتے ہیں ، فرمایا :

    ” واوفوا بعھد اللہ اذا عاھدتم ولا تنقضو ال ایمان بعد توکیدھا وقد جعلتم اللہ علیکم کفیلا “۔ (النحل ١٦ : ٩١)

    اور اللہ کا نام لے کر جب تم آپس میں ایک دوسرے سے اقرار کرو تو اس کو پورا کرو اور قسموں کو پکی کرکے توڑا نہ کرو اور اللہ کو تم نے اپنے پر ضامن ٹھہرایا ہے ۔

    سورة انعام میں بھی ایک اور عہد الہی کے ایفا کی نصیحت کی گئی ہے ، فرمایا :

    ” وبعھد اللہ اوفوا ذلکم وصکم بہ لعلکم تذکرون “۔ (الانعام ٦ : ١٥٢)
    اور اللہ کا اقرار پورا کرو ‘ یہ اس نے تم کو نصیحت کردی ہے تاکہ تم دھیان رکھو۔

    صلح حدیبیہ میں مسلمانوں نے کفار سے جو معاہدہ کیا تھا ‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی کارسازی نے یہ موقع بہم پہنچایا کہ فریق مخالف کی قوت روز بروز گھٹتی اور اسلام کی قوت بڑھتی گئی اس حالت میں اس معاہدہ کو توڑ دینا کیا مشکل تھا مگر یہی وہ وقت تھا جس میں مسلمانوں کے مذہبی اخلاق کی آزمائش کی جاسکتی تھی کہ اپنی قوت اور دشمنوں کی کمزوری کے باوجود وہ کہاں تک اپنے معاہدہ پر قائم رہتے ہیں ‘ چناچہ اللہ تعالیٰ نے بار بار اس معاہدہ کی استواری اور پابندی کی یاد دلائی اور فرمایا کہ تم اپنی طرف سے کسی حال میں اس معاہدہ کی خلاف ورزی نہ کرو جن مشرکوں نے اس معاہدہ کو توڑا تھا ان سے لڑنے کی گو اجازت دے دی گئی تھی اور مکہ فتح بھی ہوچکا تھا پھر بھی یہ حکم ہوا کہ انکو چار مہینوں کی مہلت دو ۔

    ” برآء ۃ من اللہ ورسولہ الی الذین عاھدتم من المشرکین فسیحوا فی الارض اربۃ اشھر واعلموا انکم غیر معجزی اللہ “۔ (التوبہ ٩ : ١)
    اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں کو پورا جواب ہے جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا تو پھر لو (تم اے مشرکو) ملک میں چار مہینے اور یقین مانو کہ تم اللہ کو تھکا نہیں سکتے ۔

    آگے چل کر جب یہ اعلان ہوتا ہے کہ اب ان مشرکوں اور مسلمانوں کے درمیان کسی قسم کے معاہدہ کی ذمہ داری نہیں رہی تو ساتھ ہی ان مشرکوں کے ساتھ ایفائے عہد کی تاکید کی گئی جنہوں نے حدیبیہ کے معاہدہ کی حرمت کو قائم رکھا تھا فرمایا :

    ” الا الذین عاھدتم من المشرکین ثم لم ینقصوکم شیئا ولم یظاھروا علیکم احدا فاتموا الیھم عھدھم الی مدتھم ان اللہ یحب المتقین “۔ (التوبہ ٩ : ٤)

    مگر جن مشرکوں سے تم نے عہد کیا تھا پھر انہوں نے تم سے کچھ کمی نہیں کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کو مدد دی تو ان سے ان کے عہد کو ان کی مقررہ مدت تک پورا کرو ‘ بیشک اللہ کو پسند آتے ہیں تقوی والے ۔

    اور ان مشرکوں کے ساتھ اس ایفائے عہد کو اللہ تعالیٰ تقوی بتاتا ہے اور جو اس عہد کو پورا کریں ان کو متقی فرمایا اور ان سے اپنی محبت اور خوشی کا اظہار فرمایا آگے بڑھ کر ان مشرکوں سے اپنی براءت کا اعلان کرتے وقت جنہوں نے اس معاہدہ کو توڑا تھا اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو پھر تاکید فرماتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ جوش میں ان عہد شکن مشرکوں کے ساتھ ان مشرکوں کے ساتھی بھی خلاف ورزی کی جائے جنہوں نے اس معاہدہ کو قائم رکھا ہے ۔

    ” کیف یکون للمشرکین عھد عند اللہ وعند رسولہ الا الذین عاھدتم عند المسجد الحرام فما استقاموا لکم فاستقیموا لھم ان اللہ یحب المتقین “۔ (التوبہ ٩ : ٧)

    مشرکوں کے لئے ان کے پاس اور اس کے لئے رسول کے پاس کوئی عہد ہو ‘ مگر وہ جن سے تم نے مسجد حرام کے نزدیک معاہدہ کیا جب تک وہ تم سے سیدھے رہیں تم ان سے سیدھے رہو بیشک اللہ کو تقوی والے پسند آتے ہیں ۔

    سیدھے رہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ اپنے عہد پر قائم رہیں تم بھی اس عہد کو پورا کرتے رہو اور جو لوگ اپنے عہد کو اس احتیاط سے پورا کریں ان کا شمار تقوی والوں میں ہے جو قرآن پاک کے محاورہ میں تعریف کا نہایت اہم لفظ ہے اور تقوی والے اللہ تعالیٰ کی محبت اور رضامندی کی دولت سے سرفراز ہوتے ہیں نتیجہ یہ نکلا کہ معاہدہ کا ایفا اللہ تعالیٰ کی خوشی اور پیار کا موجب ہے اور یہ وہ آخری انعام ہے جو کسی نیک کام پر بارگاہ الہی سے استعمال کیا گیا ہے ۔

    ” یایھا الذین امنوا اوفوا بالعقود “۔ (المائدہ : ٥ : ١)

    مسلمانو ! (اپنے اقراروں کو پورا کرو۔

    (عقد) کے لفظی معنی گرہ اور گرہ لگانے کے ہیں اور اس سے مقصود لین دین اور معاملات کی باہمی پابندیوں کی گرہ ہے اور اصطلاح شرعی میں یہ لفظ معاملات کی ہر قسم کو شامل ہے چناچہ امام رازی تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں ” اوفوا بالعھد “۔ خداوند تعالیٰ کے اس قول کے مشابہ ہے ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا اوفوا بالعقود “۔ اور اس قول میں تمام عقد مثلا عقد بیع ‘ عقد شرکت ‘ عقد یمین ‘ عقد نذر ‘ عقد صلح ‘ اور عقد نکاح داخل ہیں ، خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت کا اقتضاء یہ ہے کہ دو انسانوں کے درمیان جو عقد اور جو عہد قرار پایا جائے اس کے مطابق دونوں پر اس کا پورا کرنا واجب ہے ۔ (تفسیر کبیر جلد ٢ ص ٥٠٥)

    لیکن (عقد) کا لفظ جیسا کہ کہا گیا صرف معاملات سے تعلق رکھتا ہے اور عہد کا لفظ اس سے بہت زیادہ عام ہے یہاں تک کہ تعلقات کو اس ہمواری کے ساتھ قائم رکھنا جس کی توقع ایک دوسرے سے ایک دو دفعہ ملنے جلنے سے ہوجاتی ہے حسن عہد میں داخل ہے ، صحیح بخاری کتاب الادب میں حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ مجھ کو حضرت خدیجہ (رض) سے زیادہ کسی عورت پر رشک نہیں آیا ‘ میرے نکاح سے تین سال پیشتر انکا انتقال ہوچکا تھا لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کا ذکر کیا کرتے تھے اور بکری ذبح کرتے تھے تو اس کا گوشت ان کی سہیلیوں کے پاس ہدیتا بھیجا کرتے تھے یعنی حضرت خدیجہ (رض) کی وفات کے بعد بھی ان کی سہیلیون کے ساتھ وہی سلوک قائم رکھا جو ان کی زندگی میں جاری تھا ۔ امام بخاری (رح) نے کتاب الادب میں ایک باب باندھا ہے جس کی سرخی یہ ہے ” حسن العھد من ال ایمان “ اور اس باب کے تحت میں اسی حدیث کا ذکر کیا ہے ۔

    حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں حاکم اور بیہقی کے حوالہ سے یہ روایت کیا ہے کہ ” ایک بڑھیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے کہا کہ تم کیسی رہیں ‘ تمہارا کیا حال ہے ‘ ہمارے بعد تمہارا کیا حال رہا ؟ اس نے کہا اچھا حال رہا ۔ جب وہ چلی گئی تو حضرت عائشہ (رض) نے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بڑھیا کی طرف اس قدر توجہ فرمائی ؟ فرمایا عائشہ ‘ یہ خدیجہ کے زمانہ میں ہمارے ہاں آیا کرتی تھی اور حسن عہد ایمان سے ہے ۔ “ یعنی اپنے ملنے جلنے والوں سے حسب توقع یکساں سلوک قائم رکھنا ایمان کی نشانی ہے سبحان اللہ۔

    یہاں ہم کچھ اور احادیث مبارکہ ذکر کرتے ہیں

    (عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ؓ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَ لَا تَسْتَعْمِلُنِیْ قَالَ فَضَرَبَ بِیَدِہٖ عَلٰی مَنْکِبِیْ ثُمَّ قَالَ یَا اَبَا ذَرٍّ اِنَّکَ ضَعِیْفٌ وَاِنَّھَا اَمَانَۃٌ وَاِنَّھَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ خِزْیٌ وَنَدَامَۃٌ اِلَّامَنْ اَخَذَھَا بِحَقِّہَا وَاَدَّی الَّذِیْ عَلَیْہِ فِیْھَاوَفِی رِوَایَۃٍ قَالَ لَہٗ یَا اَبَاذَرٍّ اِنِّیْ اَرَاکَ ضَعِیْفًا وَاِنِّیْ اُحِبُّ لَکَ مَا اُحِبُّ لِنَفْسِیْ لَا تَأَمَّرَنَّ عَلَی اثْنَیْنِ وَلَا تَوَلَّیَنَّ مَالَ یَتِیْم)
    [ رواہ مسلم : کتاب الامارۃ، باب کَرَاہَۃِ الإِمَارَۃِ بِغَیْرِ ضَرُورَۃٍ ]

    ”حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی ‘ کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ مجھے کوئی عہدہ کیوں نہیں عنایت فرماتے ؟ آپ نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھتے ہوئے فرمایا اے ابوذر ! یقیناً تو کمزور آدمی ہے اور یہ عہدہ امانت ہے جو قیامت کے دن رسوائی اور ذلت کا باعث ہوگا۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اس کے حقوق کو پورا کیا اور ذمہ داریوں کو صحیح طور پر نبھایا۔ ایک روایت میں ہے۔ آپ نے اس سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا : اے ابوذر ! میرے خیال میں تم کمزور آدمی ہو۔ میں تیرے لیے وہی کچھ پسند کرتا ہوں ‘ جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں۔ دو آدمیوں کی بھی ذمّہ داری نہ اٹھانا اور نہ ہی یتیم کے مال کی ذمّہ داری لینا۔“

    (عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ عِنْدَ اِسْتِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِوَفِیْ رَوَایَۃٍ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرْفَعُ لَہٗ بِقَدَرِ غَدْرِہٖ اَ لَاوَلَا غَادِرَ اَعْظَمُ غَدْرًا مِنْ اَمِیْرِ عَامَّۃٍ)
    [ رواہ مسلم : کتاب الجہاد والسیر، باب تحریم الغدر ]

    ”حضرت ابو سعید ؓ بیان کرتے ہیں نبی مکرم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن انسان کی مقعد کے نزدیک جھنڈا ہوگا۔ ایک روایت میں ہے ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن جھنڈا ہوگا ‘ جو اس کی عہد شکنی کے مطابق بلند کیا جائے گا۔ خبردار ! سربراہ مملکت کی عہد شکنی سب سے بڑی ہوتی ہے۔“

    (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ مَا خَطَبَنَا نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ إِلَّا قَالَ لَا إِیمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَۃَ لَہٗ وَلَا دینَ لِمَنْ لَا عَہْدَ لَہٗ)[ رواہ احمد ]

    ”حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں نبی معظم ﷺ نے جب بھی ہمیں خطبہ دیا تو فرمایا جو بندہ امانت دار نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جو شخص وعدہ پورا نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں۔“

    قرآن مجید کی آیات اور فرامین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوتا ہے کہ وفائے عہد ہی اصل معیار ہے کہ کون شخص ٹھوس اور ثابت قدم ہے ، کون ضمیر کے اعتبار سے پاکیزہ ہے چاہے یہ عہد اللہ کی طرف سے ہو ، لوگوں کی طرف سے ہو ، فرد کی طرف سے ہو ، کسی جماعت یا سوسائٹی کی طرف سے ہو ، رعایا کی طرف سے ہو یا حکومت کی طرف سے ہو ، حاکم کی طرف سے ہو یا محکوم کی طرف سے ، نیز بین الاقوامی تعلقات میں اسلام نے عہد کی پابندی کی وہ مثایں قائم کیں کہ انسانی تاریخ میں ایسی مثالیں صرف اس حصے میں ملتی ہیں جن میں مسلمان دنیا کے حکمران تھے ، یا دنیا کے حکمرانوں میں سے معتبر حکمران تھے.

    یہ بھی انفرادی اخلاقی ہدایت نہیں بلکہ جب اسلامی حکومت قائم ہوئی تو اسی کو پوری قوم کی داخلی اور خارجی سیاست کا سنگ بنیاد ٹھہرایا گیا۔ اسلامی اخلاق میں ڈپلومیسی کے نام پر وعدے کی خلاف ورزی اور جھوٹ بولنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ سیاستدانوں میں یہ بات عام ہے کہ سیاسی وعدے پورا کرنے کے لیے نہیں ہوتے اور اپنی کہی ہوئی بات سے مکر جانا سیاستدان کا حق ہے۔ لیکن اسلام میں یہ ایک جرم ہے چاہے اس کا ارتکاب کوئی بھی کرے۔ اس لیے جس طرح عہد کی پابندی افراد کے لیے ضروری ٹھہری اسی طرح اسلامی حکومت بھی اس کی پابند رہی اور مشکل سے مشکل حالات میں بھی اسلامی حکومتیں عہد و پیمان کو نبھاتی رہیں۔ تاریخ میں نقل کیا گیا ہے کہ حضرت امیر معاویہ (رض) نے قیصر سے جنگ بندی کا ایک معاہدہ کیا اور یہ طے کیا گیا کہ فلاں تاریخ تک جنگ بند رہے گی۔ چناچہ جب اس معاہدے کا آخری دن آیا تو آپ (رض) نے آخری دن کا سورج غروب ہوتے ہی اپنی فوجیں اس کی مملکت میں داخل کردیں۔ بظاہر یہ معاہدے کی خلاف ورزی نہیں تھی کیونکہ معاہدے کی مدت گزر گئی تھی۔ فوجیں فتح کا پھریرا لہراتے ہوئے آگے بڑھتی جا رہی تھیں کہ پیچھے سے سر پٹ دوڑتا ہوا ایک سوار نظر آیا۔ اسے دیکھ کر امیر معاویہ رک گئے۔ جب وہ قریب آیا تو دیکھا کہ ایک مشہور صحابی عمرو بن عبسہ (رض) ہیں جنھوں نے ہاتھ بلند کیا ہو اتھا اور وہ بلند آواز سے کہہ رہے تھے کہ وفائً لاغدرًا ”وعدہ توڑنا نہیں پورا کرنا ہے۔“

    امیر معاویہ (رض) نے حیران ہو کر پوچھا کہ ”ہم نے کون سا وعدہ توڑا ؟“ انھوں نے بتایا کہ ”معاہدے کی مدت ختم بھی ہوجائے تب بھی حملہ کرنے سے پہلے دشمن کو بتلانا ضروری ہے۔ بیخبر ی میں حملہ کرنا یہ ایک طرح کی وعدہ خلافی اور معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔“ امیر معاویہ نے اسی وقت مفتوحہ علاقے خالی کردیے اور فوجوں کو واپسی کا حکم دے دیا۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہ صرف اخلاقی نصیحتیں نہ تھیں ‘ بلکہ اسلامی حکومتوں کے رہنما اصول تھے.

    آج ہمارے وطن عزیز پاکستان کے مسائل کی بڑی وجہ بھی اللہ تعالیٰ سے کئے ہمارے عہد و پیماں ہی ہیں جو پورے کرنے سے اب تک قاصر رہے ہیں۔

    پاکستان بنتے وقت ہمارا اللہ رب العزت سے وعدہ تھا اللہ وطن دے ہم لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کا وطن بنائیں گے جو اس وقت ہمارے بڑوں نے نعرے کی صورت ہمیں دیا تھا قائد اعظم محمد علی جناح سے لے کر علامہ محمد اقبال تک یہی بات تھی جو اللہ نے ہمیں وطن عزیز پاکستان کی صورت میں عطا فرمایا وہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللہ لیکن 75 سال گزرنے کے باوجود اس عہد کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں یاد رکھو!

    "نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے ”

    اللہ تعالیٰ ہمیں وعدوں کو پورا کرنے والا بنائے

  • ٹانک: سیلاب سے پل ٹوٹنے سے درجنوں دیہات متاثر:عوام الناس پریشان

    ٹانک: سیلاب سے پل ٹوٹنے سے درجنوں دیہات متاثر:عوام الناس پریشان

    ٹانک: سیلاب سے پل ٹوٹنے سے درجنوں دیہات متاثر:عوام الناس پریشان ،اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا کے علاقے ٹانک میں سیلابی ریلوں کے بعد صورت حال بہتر نہ ہوسکی۔

    ٹانک سے ذرائع کے مطابق سیلابی پانی کی وجہ سے پائی پل ٹوٹنے کے باعث کئی روز سے درجنوں دیہات کا شہر سے زمینی رابطہ منقطع ہے، جس کی وجہ سے خواتین اور مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جب کہ متاثرہ علاقوں میں کھانے پینے کی اشیا کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔

    ادھر ملک بھرمیں سیلاب اور بارشوں سے جوحالات درپیش ہیں اس کے مطابق
    بلوچستان:
    بلوچستان میں مون سون بارشوں کے تین اسپیلز کے دوران مجموعی طور جاں بحق افراد کی تعداد ایک سو ستر ہوگئی ہے، جب کہ سیلاب سے اٹھارہ ہزار سے زائد مکانات تباہ اور سولہ پل بہہ گئے۔ تئیس ہزار سے زائد مویشی بھی ہلاک ہوئے۔متاثرین ابھی پچھلے سیلاب سے سنبھل نہیں سکے تھے کہ پی ڈی ایم اے نے چوتھے اسپیل کا الرٹ جاری کردیا۔ میٹ آفس کے مطابق مکران، کوئٹہ، ژوب، سبی اور قلات ڈویژن میں شدید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات نے 10 سے 13 اگست تک مون سون کے چوتھے اسپیل کا الرٹ جاری کیا ہے۔ مشیر داخلہ ضیاٗ لانگو کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نئے اسپیل سے نمٹںے کیلئے تیار ہے۔مشیر داخلہ ضیا کے مطابق اب تک 90 جاں بحق افراد کے ورثاٗ کو امدادی چیک تقسیم کئے گئے ہیں۔ صوبائی حکومت کے مطابق سیلاب ڈیمز کو پہنچنے والے نقصان کی ہر صورت تحقیقات کی جائیں گی۔

    پروینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( پی ڈی ایم اے) نے آج سے مشرقی بلوچستان میں سیلابی صورت حال کی وارننگ جاری کردی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 9 اگست تک کشمیر، اسلام آباد اور شمال مشرقی پنجاب میں بھی موسلادھار بارش کا امکان ہے۔

    لاہور

    لاہور میں ہفتے کی صبح شروع ہونے والا بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ سب سے زیادہ بارش جوہر ٹاؤن میں 81 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ محکمے کے مطابق بارش کا سلسلہ اتوار تک جاری رہے گا۔

    کراچی

    قائد کے شہر میں ایک بار پھر گھنگور گھٹاؤں نے ہفتے کی صبح سے ہی ڈیرے ڈال لیے، مون سون کے نئے اسپیل نے میٹروول، صدر، ایف بی ایریا اور لیاقت آباد میں بادل برسانے شروع کردیئے۔

    پاکستان چوک، عائشہ منزل، اولڈ ایریا، گارڈن اور لسبیلہ میں بھی بوندا باندی کا سلسلہ جاری ہے۔ محکمہ موسمیات نے آج شہر میں موسلا دھار بارش کی پیشگوئی کی ہے۔

  • عمران خان کا قومی اسمبلی کے 9 حلقوں سے خود ضمنی الیکشن لڑنے کا فیصلہ

    عمران خان کا قومی اسمبلی کے 9 حلقوں سے خود ضمنی الیکشن لڑنے کا فیصلہ

    اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین عمران خان نے قومی اسمبلی کے 9 حلقوں سے خود ضمنی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر لیا۔

    جن نو حلقوں میں ضمنی الیکشن ہوں گے ان علاقوں میں این اے 22 مردان، این اے 24 چارسدہ، این اے 31 پشاور،این اے 45 کرم، این اے 108 فیصل آباد، این اے 118 ننکانہ صاحب، این اے 237 ملیر، این اے 239 کورنگی کراچی، این اے 246 کراچی جنوبی شامل ہیں۔

    دوسری طرف عمران خان نے قومی اسمبلی کے ان 9 حلقوں سے خود ضمنی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    دوسری طرف عمران خان کے سکیورٹی آف چیف ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ جس جس سیٹ سے استعفی منظور کر کے خالی کی جائے گی، وہاں خان صاحب خود امیدوار ہوں گے اور خود الیکشن لڑیں۔ اب آجائیں میدان میں لگ پتہ جائے گا۔

    خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین نے 2018ء کے جنرل الیکشن میں پانچ حلقوں سے الیکشن میں حصہ لیا تھا اور پانچوں سیٹیں میں کامیابی حاصل کی تھی۔

    2018ء کے جنرل الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے این اے 131 لاہور سے خواجہ سعد رفیق، این اے 53 اسلام آباد سے شاہد خاقان عباسی، این اے 243 سے ایم کیو ایم پاکستان کے سیّد علی رضا، این اے 95 میانوالی سے ن لیگ کے عبید اللہ خان، این اے 35 بنوں سے اکرم خان درانی کو شکست دی تھی۔

  • روس نےیاری کاحق ادا کردیا:ہندوستان پرنوازشات ہی نوازشات

    روس نےیاری کاحق ادا کردیا:ہندوستان پرنوازشات ہی نوازشات

    ماسکو:روس نےیاری کاحق ادا کردیا:ہندوستان پرنوازشات ہی نوازشات ،اطلاعات کے مطابق روس نے تیل کی قیمت اپنے اوپیک اتحادی سعودی عرب کے مقابلے میں کم کر دی ہے۔ ہندوستانی حکومت کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق اپریل سے جون کے دوران روسی بیرل سعودی کروڈ کے مقابلے سستے تھے۔ روس نے جون میں سعودی عرب کو پیچھے چھوڑ کر ہندوستان کو دوسرا سب سے بڑا سپلائی کیا۔

    روس، چین کو سستے داموں سب سے زیادہ خام تیل سپلائی کرنے والا ملک بن گیا

    ہندوستان اور چین روسی خام تیل کے رضامند صارف بن گئے ہیں کیونکہ روس-یوکرین جنگ کے بعد بیشتر دوسرے خریداروں نے روس سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔

    جنوبی ایشیائی ملک اپنی تیل کی ضروریات کا 85 فیصد درآمد کرتا ہے اور سستی سپلائی کچھ معاشی ریلیف فراہم کرتی ہے، کیونکہ ملک کو افراط زر اور تجارتی فرق کا سامنا ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق،عالمی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ایندھن کی مانگ میں اضافے کے بعد دوسری سہ ماہی میں ملک کا خام تیل کا درآمدی بل بڑھ کر 47.5 بلین ڈالر تک پہنچ گیا۔یہ پچھلے سال کی اسی مدت میں 25.1 بلین ڈالر کے مقابلے میں، جب قیمتیں اور حجم کم تھے۔

    یوکرین پر حملے کے بعد بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود انڈیا کو سب سے زیادہ تیل فروخت کرنے والے ممالک کی فہرست میں روس، سعودی کو پیچھے چھوڑ کر دوسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔ عراق اب بھی پہلے نمبر پر ہے۔

    حکومت کاپٹرول اورڈیزل کی قیمت میں30روپےفی لٹراضافہ:عمران خان کی حکومت پرشدید تنقید

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق روس سے رعایتی نرخوں پر تیل لینے والی انڈین ریفائنری نے مئی کے مہینے میں ہی 25 ملین بیرل تیل درآمد کیا جو کل درآمدات کا 16 فیصد ہے۔رواں سال اپریل میں سمندر کے ذریعے انڈیا میں خام تیل کی کل درآمدات میں روس کا حصہ پانچ فیصد رہا، جو کہ پچھلے پورے سال اور سنہ 2022 کی پہلی سہ ماہی میں ایک فیصد سے بھی کم تھا۔

    پاک آئل ریفائنریز کا روسی تیل خریدنے سے انکار

    دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک انڈیا، یوکرین پر حملے کے بعد روس پر عائد پابندیوں کے درمیان روس سے سستے نرخوں پر تیل خریدنے کے اپنے فیصلے کا مسلسل دفاع کر رہا ہے۔

  • دوسروں کو چور کہنے والا خود کتنا بڑا چور نکلا۔ اسحاق ڈار

    دوسروں کو چور کہنے والا خود کتنا بڑا چور نکلا۔ اسحاق ڈار

    دوسروں کو چور کہنے والا خود کتنا بڑا چور نکلا۔ اسحاق ڈار

    اسلام آباد( رپورٹ شہزاد قریشی) الیکشن کمیشن کے فیصلے نے ثابت کردیا کہ عمران خان جو قانون کی حکمرانی کا دعویدار تھا خود قانون شکن نکلا عمران کی جھوٹی سیاست کا سورج غروب ہونے والا ہے ۔ اس نے ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے پاکستان اورعوام کو نقصان پہنچا عوام کو گمراہ کیا مدینہ کی ریاست کے دعویدار کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی ۔ ان خیالات کا اظہار سابق وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں انتشار کی سیاست کو فروغ دیا تحریک انصاف افواہ ساز فیکٹری کا روپ دھار چکی ہے اس افوا ساز فیکٹری کو اب الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد تالا لگنے والا ہے ۔ یہ سیاسی جماعت نہیں ایک افواہ ساز تھی جو دوسروں کے خلاف جھوٹی افواہیں پھیلانے کا فریضہ سرانجام دے رہی تھی۔

    سینیٹر اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ عمران خود تسلیم کرلیں کہ وہ صادق اور امین نہیں تھے اور نہیں ہیں۔ ملکی معیشت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج اگر ملکی معیشت لڑکھڑا رہی ہے تو اس تباہی میں بھی عمران خان کا ہی ہاتھ ہے ۔ نواز شریف کے دور حکومت میں ملک ترقی کررہا تھا ملکی معیشت مستحکم تھی ۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا رُخ پاکستان کی طرف تھا ملک سے غربت ، بے روزگاری کا خاتمہ کیا جا رہا تھا عمران خان نے اپنے دور اقتدار میں ملک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہونے جا رہا تھا ۔ عمران خان کا دور حکومت پاکستان کی تاریخ میں بدترین دور اقتدار یاد کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ 22 کروڑ عوام اور پاکستان کے مستقبل سے نہیں کھیلنے دیا جائے ۔ قانون حرکت میں آئے گا ۔ عمران خان اور اس میں ملوث کرداروں کو کیفرکردار تک پہنچایاجائے گا۔الیکشن کمیشن کا فیصلہ اس بات کی گواہی ہے کہ دوسروں کو چور کہنے والا خود کتنا بڑا چور نکلا۔

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور