Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • حج آپریشن کا آج سے باقاعدہ آغاز ہو گیا

    حج آپریشن کا آج سے باقاعدہ آغاز ہو گیا

    قومی ائیرلائن کی دو پروازیں آج علی الصبح حجاج کرام کو لے کر جدہ سے پاکستان پہنچ گئیں۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق ے بعد از حج آپریشن کا آج سے باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے، جس کے تحت پی آئی اے کی پہلی پرواز پی کے 732 جمعرات کو علی الصبح ایک بجے جدہ سے کراچی اور دوسری پی کے 739 جدہ سے لاہور صبح 2 بجے پہنچیں۔

    پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا 18 جولائی کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان

    ترجمان کے مطابق 14 جولائی کو قومی ائرلائن کی 5 پروازیں جدہ سے کراچی، لاہور، ملتان، اسلام آباد اور پشاور کے لیے شیڈول ہیں۔

    رواں سال کا دوسرا ائیربس 320 طیارہ شارجہ سے پاکستان پہنچ گیا

    پی آئی اے کا حج آپریشن 154 پروازوں پر مشتمل ہوگا، جس کے ذریعے 28 ہزار 80 حجاج کرام وطن واپس پہنچیں گے۔ بعد از حج آپریشن 13 اگست تک جاری رہے گا۔

    عدالت نے اینٹی کرپشن کو حلیم عادل شیخ کیخلاف کارروائی سے روک دیا

  • عبدالرزاق قومی ٹیم کو تمام فارمیٹس میں نمبر ون دیکھنے کے خواہشمند

    عبدالرزاق قومی ٹیم کو تمام فارمیٹس میں نمبر ون دیکھنے کے خواہشمند

    لاہور:قومی ٹیم کے سابق آل راؤنڈر عبدالرزاق کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم تمام فارمیٹس میں نمبر ون مقام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر عبدالرزاق کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم حالیہ دنوں میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے، سچ کہوں تو میں یہ صرف اس لیے نہیں کہہ رہا کیونکہ میں پاکستان سے ہوں بلکہ ہمیں رینکنگ میں بھی نمبر 1 ہونا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جس طرح سے ہم تینوں شعبوں میں کارکردگی دکھا رہے ہیں جبکہ بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ میں ہماری ٹیم کا اتحاد مثالی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم نے آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا جبکہ دورہ کرنے والی ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو بھی ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے دونوں سیریز میں وائٹ واش کیا اور اس سے قبل ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی تھی۔

    آسٹریلیا میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بارے میں بات کرتے ہوئے عبدالرزاق نے کہا کہ پاکستان میں ٹاپ پر پہنچنے کی صلاحیت ہے۔مجھے پوری امید ہے کہ آئندہ آئی سی سی ٹورنامنٹس میں پاکستانی ٹیم کارکردگی دکھائے گی اور ٹاپ پر رہے گی۔

    سابق آل راؤنڈر کا کہنا تھا کہ بابر اعظم کو پہلے ہی ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے کی بلے بازوں کی فہرست میں نمبر ون درجہ دیا جاتا ہے جبکہ وہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر جلد ہی ٹیسٹ کرکٹ میں بھی نمبر ون پوزیشن حاصل کر لیں گے۔یہ ان کے ڈیلیور کرنے کا وقت ہے، وہ گذشتہ 4،5 سالوں سے پرفارم کررہے اور مجھے امید ہے کہ وہ اسی رفتار کو جاری رکھیں گے اور تمام فارمیٹس میں نمبر ون بن جائیں گے۔

     

    رواں سال آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے خلاف ہوم سیریز میں بابر کی کارکردگی پر عبدالرزاق نے کہا کہ، اگر وہ اسی طرح کھیلتے رہے تو یہ پاکستان ٹیم اور پاکستان کی کرکٹ کے لیے اچھا ہوگا۔

  • لاہور میں موسلادھار بارش سے موسم خوشگوارہوتے ہی بجلی غائب

    لاہور میں موسلادھار بارش سے موسم خوشگوارہوتے ہی بجلی غائب

    لاہور : لاہور میں موسلادھار بارش سے موسم خوشگوارہوتے ہی بجلی غائب ،اطلاعات کے مطابق مون سون کی بارشوں نے لاہور میں جل تھل ایک کردیا، شہریوں کے چہرے کھل اٹھے، شہر کی اہم شاہراہیں زیرآب آگئیں۔

    لاہور ميں موسلادھار بارش اور ژالہ باری سے موسم خوشگوار ہوگيا جبکہ کئی فيڈرز ٹرپ ہونے سے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔محکمہ موسميات کے مطابق لاہور کے جیل روڈ پر33.6 ،ایئرپورٹ پر 45.5،گلبرگ میں 57.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

    موسلادھار بارش کے باعث شہر کے نشيبی علاقے زيرآب آگئے، لکشمی چوک اور نسبت روڈ سمیت شہر کی مختلف سڑکوں پر بارش کا پانی جمع ہوگیا۔

    لکشمی چوک پر 85،اپر مال پر69، مغل پورہ میں 66،تاج پورہ میں83 ملی میٹر، نشتر ٹاؤن میں 80 ،چوک نا خدا پر67 ،پانی والا تالاب میں104 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    موسم کا حال بتانے والوں کا کہنا ہے کہ فرخ آباد میں101 ،گلشن راوی میں78, اقبال ٹاؤن میں41، سمن آباد میں50 ملی میٹربارش ہوئی۔اس حوالے سے ایم ڈی واسا کا کہنا ہے کہ جوہر ٹاؤن میں 63 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، پانی والا تالاب میں سب سے زیادہ 104 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    اس کے علاوہ کوپر روڈ، لکشمی چوک، دوموریہ، جی پی او، کشمیر روڈ، قینچی اسٹاپ، شاہ جمال اور اللہ ہو چوک کے علاقے کلیئر کردیے گئے ہیں۔

  • سری لنکا کےصدرگوتابایا راجا پاکسےمالدیپ چھوڑ کرنامعلوم مقام کی طرف چلے گئے

    سری لنکا کےصدرگوتابایا راجا پاکسےمالدیپ چھوڑ کرنامعلوم مقام کی طرف چلے گئے

    مالی:غیر ملکی میڈیا کے مطابق اپنے ملک سے فرار ہو کر گزشتہ روز مالدیپ پہنچنے والے سری لنکا کے صدر گوتابایا راجا پاکسے نجی طیارے میں سنگاپور کی طرف روانہ ہو گئے۔ اس سے قبل سری لنکا کے صدر نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا تاہم پارلیمنٹ کے اسپیکر کو ابھی تک ان کا استعفیٰ موصول نہیں ہوا۔

    دوسری جانب سری لنکا میں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 2 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے۔ حکومت نے مظاہرین سے نمٹنے کے لیے فوج کو طلب کر لیا۔ سری لنکا میں غیر معینہ مدت کے لیے ایمرجنسی نافذ ہے۔

    سری لنکا میں بدترین معاشی بحران کے بعد حکمران اشرافیہ کے خلاف شدید احتجاج اور مظاہرے جاری ہیں اور شدید معاشی بحران کے باعث عوام کو گزشتہ کئی ماہ سے بدترین لوڈشیڈنگ، ایندھن، خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی قلت کا سامنا ہے۔

    ادھر کولمبوسے آمدہ اطلاعات کے مطابق سری لنکا میں گوٹابایا راجا پکشے کے ملک چھوڑنے کے بعد مظاہروں میں ایک بار پھر شدت آگئی ہے۔ مظاہرین نے کولمبو میں وزیر اعظم کے دفتر پر قبضہ کر لیا ہے۔ صورتحال کو قابو سے باہر ہوتے دیکھ کر امریکی سفارت خانے نے آج اور کل کے لیے اپنی تمام قونصلر خدمات منسوخ کر دی ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق راجا پکشے بدھ کو مالدیپ سے سنگاپور جائیں گے۔ اپوزیشن نے رانیل وکرماسنگھے کو نگراں صدر کے طور پر قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ قائد حزب اختلاف ساجیت پریماداسا نے کہا، "وزیراعظم صرف اس وقت قائم مقام صدر بنتے ہیں جب صدر ان کا تقرر کرتے ہیں، ان کا عہدہ خالی ہوتا ہے، یا چیف جسٹس اسپیکر کے ساتھ مشاورت کرتے ہوئے محسوس کرتے ہیں کہ صدر کام کرنے سے قاصر ہیں۔ ان کے بغیر وزیراعظم صدر کے اختیارات کا استعمال نہیں کر سکتے۔

    سری لنکا کے نیوز وائر نے ملکی پارلیمان کے اسپیکر کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ سری لنکا کے صدر آج اپنا استعفیٰ پیش کر دیں گے-جب کہ نئے صدر کا انتخاب 20 جولائی کو کیا جائے گا۔

    بتادیں کہ استعفیٰ دیئے بغیر صدر گوتابایا راجا پکشے ملک چھوڑ کر مالدیپ فرار ہوگئے ہیں۔ اس صورتحال میں کولمبو میں مظاہرین نے سخت موقف اختیار کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس نے تشدد کو روکنے کے لیے آنسو گیس کے گولے بھی داغے۔ بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر سری لنکا کے وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے نے قائم مقام صدر کی حیثیت سے ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔

    سری لنکن میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سری لنکا کے قومی ٹی وی چینل روپواہنی کارپوریشن کی نشریات روک دی گئی ہیں۔ کولمبو میں مظاہرین کی طرف سے اس کے احاطے کا گھیراؤ کرنے کے بعد چینل نے نشریات بند کر دیں۔

    ساتھ ہی مظاہرین کا کہنا ہے کہ اگر صدر اور وزیر اعظم نے 13 جولائی کی شام تک اپنے استعفے جمع نہ کرائے تو وہ جمع ہو کر پارلیمنٹ اور دیگر سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیں گے۔ اس کے ساتھ ہی کولمبو میں ایک بار پھر مظاہروں کے پیش نظر سری لنکا کے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔

  • جدہ کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طیارہ رن وے سے پھسل گیا

    جدہ کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طیارہ رن وے سے پھسل گیا

    جدہ کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طیارہ لینڈنگ کے دوران رن وے سے پھسل گیا ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق جدہ کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے دوران طیارہ رن وے سے پھسل گیا تاہم اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ رن وے سے پھسلنے والا طیارہ گلف اسٹریم 400 تھا جس میں عملے کے 5 ارکان سوار تھے۔انتظامیہ کے مطابق طیارہ صبح 8 بج کر 10 منٹ پر رن وے سے پھسلا تاہم خوش قسمتی سے بڑے حادثے سے بال بال بچ گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اطلاع ملنے پر ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی ہیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔انتظامیہ کا مزید کہنا تھا کہ حادثے کے بعد ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن معمول کے مطابق جاری رہا، پروازیں متاثر نہیں ہوئی ہیں جبکہ شیڈول میں بھی کوئی تعطل نہیں آیا ہے۔

    یاد رہے کہ 2019 میں گلگت ایئرپورٹ پربھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا جب قومی ایئر لائن پی آئی اے کا طیارہ گلگت ایئر پورٹ پر لینڈنگ کے دوران پھسل گیا۔

    پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کا طیارہ پی کے 605 گلگت ایئر پورٹ پر لینڈنگ کے دوران رن وے سے کچی زمین پر پھسل گیا۔طیارہ رن وے پر پھسل کر دائیں جانب الٹ گیا، تاہم پائلٹ نے کمالِ مہارت سے طیارے پر قابو پا لیا۔

    اس سے قبل اسلام آباد سے گلگت جانے والی پہلی پرواز پی کے 607 گلگت میں لینڈ کر گئی تھی، پہلی پرواز واپس روانگی کے لیے تیار تھی کہ دوسری پرواز کے لینڈنگ کے دوران رن وے سے پھسلنے کا واقعہ پیش آ گیا۔

  • پاکستان:جون میں 157 خواتین کا اغوا:91 کا ریپ کیا گیا

    پاکستان:جون میں 157 خواتین کا اغوا:91 کا ریپ کیا گیا

    اسلام آباد:جون میں 157 خواتین کا اغوا، 91 کا ریپ کیا گیا ،اطلاعات کےمطابق سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن اور سینٹر فار ریسرچ، ڈیولپمنٹ اینڈ کمیونیکیشن کی جانب سے مرتب کی گئی رپورٹ کے مطابق جون میں پاکستان بھر میں کم از کم 157 خواتین کو اغوا کیا گیا، 112 کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور 91 کا ریپ کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق پاکستانی خواتین کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان کو مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافے پر بھی غور کیا گیا، انہوں نے کہا کہ گزشتہ ماہ گھریلو تشدد کے کم از کم 100 واقعات رپورٹ ہوئے۔

    اسی طرح جون میں ملک بھر میں تقریباً 180 بچے جنسی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنے جس میں بچوں سے زیادتی کے 93 واقعات، اغوا کے 64 واقعات اور جسمانی تشدد کے 37 واقعات شامل ہیں۔

    پنجاب میں اغوا کے سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے کیونکہ 157 واقعات میں سے کم از کم 108 جون میں صوبے میں ہوئے، سندھ میں 22 کیسز رپورٹ ہوئے، اس کے بعد خیبرپختونخوا میں چھ کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ بلوچستان میں اغوا کے چار واقعات رپورٹ ہوئے، اسلام آباد میں ایک ہی ماہ میں اغوا کی 17 وارداتیں ہوئیں۔

    خواتین پر جسمانی تشدد کے واقعات میں بھی پنجاب سرفہرست ہے، 112 کیسز میں سے 66 پنجاب، 27 سندھ، 11 خیبرپختونخوا اور 8 اسلام آباد میں ہوئے، بلوچستان میں کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا، گھریلو تشدد کے 100 کیسز میں سے کم از کم 68 پنجاب، 17 سندھ، 13 خیبر پختونخوا اور دو کیس اسلام آباد میں رپورٹ ہوئے، بلوچستان نے پھر کوئی کیس رپورٹ نہیں کیا۔

    جون میں میڈیا میں ریپ کے کم از کم 91 واقعات رپورٹ ہوئے، ایک بار پھر پنجاب میں سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے جہاں 53 واقعات رپورٹ ہوئے، خیبرپختونخوا میں 16 کیسز، سندھ میں 14 اور اسلام آباد میں 6 کیسز سامنے آئے، بلوچستان میں ایک ہی عرصے میں دو ریپ کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

    جون میں غیرت کے نام پر قتل اور کام کی جگہ پر ہراساں کرنے کے سات واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔

    جون میں ملک بھر میں بچوں سے زیادتی کے 93 واقعات رپورٹ ہوئے۔

    پنجاب میں زیادتی کے 36 واقعات ہوئے، اس کے بعد خیبر پختونخوا میں 28 اور سندھ میں 18 واقعات ہوئے، سب سے کم تعداد اسلام آباد میں 6 اور بلوچستان میں پانچ رپورٹ ہوئے۔

    جون کے مہینے میں پاکستان بھر میں کم از کم 64 بچوں کو اغوا کیا گیا اور 37 کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، پچھلے مہینے مئی میں چائلڈ لیبر اور چائلڈ میرج سے متعلق کوئی کیس سامنے نہیں آیا لیکن جون میں بالترتیب پانچ اور سات کیس رپورٹ ہوئے۔

    سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید کوثر عباس نے کہا کہ اس ڈیٹا کو باقاعدگی سے شائع کرنے کا مقصد خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد میں تیزی سے اضافے کی طرف توجہ دلانا ہے۔

    ان کے مطابق جون میں کیسز میں پچھلے مہینے کے مقابلے میں اضافہ ہو اور امید ظاہر کی کہ میڈیا کی بڑھتی ہوئی توجہ اور رپورٹنگ کے ساتھ، حکومت، پولیس اور عدلیہ اپنی توجہ مقدمات کی تیز رفتار کارروائی، ان کے حل اور سزا کے لیے وقف کریں گے۔

  • ایران کی غیر ملکی تجارت کا حجم 120 بلین ڈالرتک پہنچ گیا

    ایران کی غیر ملکی تجارت کا حجم 120 بلین ڈالرتک پہنچ گیا

    تہران :ایران نے پابندیوں کے باوجود بہت زیادہ کامیابیاں حاصل کیں ہیں ، یہی وجہ ہے کہ آج ان مثبت پالیسیوں کی وجہ سے ایران کی غیر ملکی تجارت کا حجم 120 بلین ڈالرتک پہنچ گیا

    ایرانی وزیر صنعت، معدن اور تجارت رضا فاطمی امین نے کہا ہے کہ گزشتہ سال ایران کی غیر ملکی تجارت کا حجم 120 بلین ڈالر تھا جو کہ بارٹر میکینزم، رقم کی منتقلی اور سیوڈو سوئفٹ(SWIFT) کے طریقوں سے کیا گیا تھا۔

    انہوں نے بیلاروس اور ایران کے پارلیمانی دوستی گروپ کے سفیر کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ ایران 40 سال سے زیادہ عرصے سے پابندیوں کی زد پر ہے لیکن ان برسوں میں ہم نے پابندیوں کے باوجود بہت سی کامیابیاں حاصل کیں۔

    ایرانی وزیر نے کہا کہ کان کنی کے آلات کے میدان میں عظیم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور ایران کے پاس اس شعبے میں بہت سے معدنی ذخائر اور اس شعبے میں سرگرم کمپنیاں موجود ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے دریافت ہونے والے تانبے کے ذخائر دنیا کے ذخائر کا کل سات فیصد شمار ہوتے ہیں۔

    یاد رہےکہ دو دن قبل ایران کے نائب صدر محمد مخـبر نے ایک آن لائن تقریب کے دوران روس ہندوستان ٹرانزٹ کنٹینر ٹرین کے ایران کی سرحد میں داخلے کا حکم دیا تھا ۔ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر محمد مخبر کا کہنا تھا کہ ملک کی علاقائی پوزیشن کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹرانزٹ کی پوری گنجائشوں سے فائدہ اٹھانا ہماری حکومت کی اقتصادی پالیسیوں میں سرفہرست ہے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ صدر سید ابراہیم رئیسی شروع ہی سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی لین دین کے حجم میں اضافے پر زور دیتے آئے ہیں۔
    ایران کے نائب صدر نے مزید کہا کہ وزارت ٹرانسپورٹ کی کوشش ہے کہ ملک کی ٹرانزٹ گنجائش کو پہلے مرحلے میں آٹھ ملین ٹن اور اس کے بعد بیس ملین ٹن تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سہولتوں میں اضافہ کرکے ملک کی ٹرانزٹ گنجائش کو تین سو ملین ٹن تک لے جانے کا امکان پایا جاتا ہے۔

    ایران کے نائب صدر کا کہنا تھا کہ ٹرانزیٹ کے مواقع اور گنجائشوں سے فائدہ اٹھانے سے جہاں بے پناہ اقتصادی فوائد حاصل ہوتے ہیں وہیں اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے سیاسی اور عالمی تعلقات کے میدانوں میں بھی غیر معمولی فوائد حاصل ہوں گے ۔

  • رواں سال کا دوسرا ائیربس 320 طیارہ شارجہ سے پاکستان پہنچ گیا

    رواں سال کا دوسرا ائیربس 320 طیارہ شارجہ سے پاکستان پہنچ گیا

    پی آئی اے کے فضائی بیڑے میں نئے طیاروں کی شمولیت کا عمل جاری –

    باغی ٹی وی : رواں سال کا دوسرا ائیربس 320 طیارہ شارجہ سے پاکستان پہنچ گیا ہے پہلا جہاز 29 اپریل کو پاکستان آیا تھا اور اب آپریشنل خدمات سرانجام دے رہا ہے

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق پی آئی اے نے گزشتہ برس طیاروں کی حصول کا ٹینڈر کیا تھا جس میں سے دو طیارہ رواں سال پاکستان پہنچ گئے ہیں اور مزید دو طیارہ اگلے چند دنوں میں پاکستان پہنچ جائیں گے-

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق ان طیاروں کے بیڑے میں شمولیت سے پی آئی اے میں ائیربس 320 ساختہ طیاروں کی تعداد 14 ہوجائے گی

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق یہ طیارہ نئی نشستوں، جدید اور آرام دہ کیبن سےلیس ہے جس کی وجہ سے سفری سہولیات اور پی آئی اے کے پروڈکٹ کا معیار بہتر ہوگا یہ طیارہ اندرون ملک، ریجنل اور گلف کے روٹس پر چلایا جائے گا-

    ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ طیارہ 6 سالہ ڈرائی لیز پر حاصل کیا گیا ہے جس کی مدت کے اختتام پر باہمی رضامندی کے ساتھ پی آئی اے اس طیارہ کو اپنی ملکیت میں لے سکتا ہے-

    دوسری جانب وفاقی وزیر ہوا بازی خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کا نیا ہوائی جہاز جلد آ رہا ہے ڈرائی لیزکے تحت حاصل کئے جانیوالےائیرکرافٹس میں سے یہ دوسرا طیارہ ہے-

  • پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ طے پا گیا

    واشنگٹن: پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : آئی ایم ایف کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ای ایف ایف کے تحت ساتویں اور آٹھویں جائزے کے معاملات طے پا گئے ہیں تاہم آئی ایم ایف بورڈ معاہدے کی حتمی منظوری دے گا۔

    آئی ایم ایف کے اعلامیے میں بتایا گیا کہ آئی ایم ایف کے عملے اور پاکستانی حکام نے پاکستان کی توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے مشترکہ 7ویں اور 8ویں جائزے کو مکمل کرنے کے لیے پالیسیوں پر عملے کی سطح پر معاہدہ کیا ہے۔ یہ معاہدہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔

    بلند بین الاقوامی قیمتیں، اور تاخیری پالیسی کارروائی نے مالی سال 22 میں پاکستان کی مالی اور بیرونی پوزیشن کو خراب کیا، شرح مبادلہ میں نمایاں کمی واقع ہوئی، اور غیر ملکی ذخائر میں کمی واقع ہوئی۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فوری ترجیح مالی سال 23 کے لیے حال ہی میں منظور کیے گئے بجٹ کے مستقل نفاذ، مارکیٹ سے طے شدہ شرح مبادلہ کی مسلسل پابندی، اور ایک فعال اور محتاط مالیاتی پالیسی کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔ سب سے زیادہ کمزوروں کی حفاظت کے لیے سماجی تحفظ کو بڑھانا، اور ریاستی ملکیتی اداروں (SOEs) اور گورننس کی کارکردگی کو بہتر بنانے سمیت ساختی اصلاحات کو تیز کرنا ضروری ہے۔

    آئی ایم ایف اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عالمی مہنگائی اور اہم فیصلوں میں تاخیر سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوئے، زائد طلب کے سبب معیشت اتنی تیز تر ہوئی کہ بیرونی ادائیگیوں میں بڑا خسارہ ہوا۔

    عالمی مالیاتی فنڈ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو 1 ارب 17 کروڑ ڈالر دستیاب ہوں گے تاہم پاکستان کو حالیہ بجٹ پر سختی سے عمل کرنا ہو گا، صوبوں نے بجٹ خسارے کو محدود رکھنے کیلیے یقین دہانی کرائی ہے۔

    آئی ایم ایف اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایکسپورٹ ری فنانس اسکیمیں شرح سود سے منسلک رہیں گی۔

    آئی ایم ایف کے اعلامیے کے مطابق بورڈ کی منظوری سے مشروط، تقریباً 1,177 ملین ڈالر (SDR 894 ملین) دستیاب ہوں گے، جس سے پروگرام کے تحت کل ادائیگی تقریباً 4.2 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ مزید برآں، پروگرام کے نفاذ میں مدد کرنے اور مالی سال 23 میں اعلیٰ فنانسنگ کی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ اضافی فنانسنگ کو متحرک کرنے کے لیے-

    آئی ایم ایف بورڈ جون 2023 کے آخر تک EFF کی توسیع اور SDR 720 ملین تک رسائی میں اضافے پر غور کرے گا۔ EFF کے تحت کل رسائی کو تقریباً 7 بلین امریکی ڈالر تک لے آئیں۔

    پاکستان ایک مشکل معاشی موڑ پر ہے۔ ایک مشکل بیرونی ماحول جو کہ گھریلو پالیسیوں کے ساتھ مل کر گھریلو مانگ کو غیر پائیدار سطح تک پہنچاتا ہے۔ نتیجتاً معاشی حد سے زیادہ گرمی نے مالی سال 22 میں بڑے مالی اور بیرونی خسارے کو جنم دیا، افراط زر میں اضافہ ہوا، اور ریزرو بفرز کو ختم کیا۔

    "معیشت کو مستحکم کرنے اور آئی ایم ایف کے تعاون سے چلنے والے پروگرام کے مطابق پالیسی اقدامات لانے کے لیے، کمزوروں کی حفاظت کرتے ہوئے، پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہیں:

    مالی سال 2023 کے بجٹ کا مستقل نفاذ۔ بجٹ کا مقصد جی ڈی پی کے 0.4 فیصد کے بنیادی سرپلس کو ہدف بنا کر حکومت کی بڑی قرض لینے کی ضروریات کو کم کرنا ہے، جو کہ موجودہ اخراجات پر پابندی اور وسیع ریونیو کو متحرک کرنے کی کوششوں کے ذریعے خاص طور پر زیادہ آمدنی والے ٹیکس دہندگان پر مرکوز ہے۔

    ترقیاتی اخراجات کا تحفظ کیا جائے گا، اور سماجی معاونت کی اسکیموں کو وسعت دینے کے لیے مالی گنجائش پیدا کی جائے گی۔ صوبوں نے مالی اہداف تک پہنچنے کے لیے وفاقی حکومت کی کوششوں کی حمایت کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور اس سلسلے میں ہر صوبائی حکومت نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔

    پاور سیکٹر میں اصلاحات میں تیزی پہلے سے طے شدہ منصوبے کے کمزور نفاذ کی وجہ سے، مالی سال 22 میں پاور سیکٹر کے گردشی قرضے (CD) کا بہاؤ نمایاں طور پر بڑھ کر تقریباً 850 بلین پی آرز تک پہنچنے کی امید ہے، پروگرام کے اہداف کو اوور شوٹنگ، پاور سیکٹر کی عملداری کو خطرہ، اور بار بار بجلی کی بندش کا باعث بنتا ہے۔

    پاور سیکٹر کی صورتحال کو بہتر بنانے اور لوڈ شیڈنگ کو محدود کرنے کے لیے حکام اصلاحات کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے پرعزم ہیں، جن میں تنقیدی طور پر، بجلی کے نرخوں کی بروقت ایڈجسٹمنٹ بشمول تاخیر سے ہونے والی سالانہ ری بیسنگ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ شامل ہیں۔

    مہنگائی کو مزید معتدل سطح تک لے جانے کے لیے فعال مانیٹری پالیسی۔ جون میں ہیڈ لائن افراط زر 20 فیصد سے تجاوز کر گئی، خاص طور پر سب سے زیادہ کمزور لوگوں کو نقصان پہنچا۔ اس سلسلے میں، مانیٹری پالیسی میں حالیہ اضافہ ضروری اور مناسب تھا، اور مانیٹری پالیسی کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تیار کرنے کی ضرورت ہوگی کہ افراط زر کو 5-7 فیصد کے درمیانی مدتی مقصد تک مسلسل نیچے لایا جائے۔

    اہم بات یہ ہے کہ مانیٹری پالیسی کی ترسیل کو بڑھانے کے لیے، دو بڑی ری فنانسنگ اسکیموں EFS اور LTFF (جن میں حالیہ مہینوں میں بالترتیب 700 bps اور 500 bps کا اضافہ کیا گیا ہے) کی شرحیں پالیسی کی شرح سے منسلک رہیں گی۔ زر مبادلہ کی شرح میں زیادہ لچکدار سرگرمی کو بڑھانے اور ذخائر کو مزید محتاط سطح تک دوبارہ بنانے میں مدد کرے گی۔

    غربت کو کم کرنا اور سماجی تحفظ کو مضبوط کرنا۔ FY22 کے دوران، غیر مشروط کیش ٹرانسفر (UCT) کفالت سکیم تقریباً 80 لاکھ گھرانوں تک پہنچ گئی، وظیفہ میں مستقل اضافہ کے ساتھ PRs 14,000 فی خاندان، جب کہ PRs 2,000 (Sasta Fuel Sasta Diesel, SFSD) کی ایک بار کیش ٹرانسفر کے ساتھ۔ تقریباً 8.6 ملین خاندانوں کو دی گئی مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے۔ FY23 کے لیے، حکام نے BISP کے لیے 364 بلین PRs مختص کیے ہیں (FY22 میں PRs 250 سے زیادہ) تاکہ 9 ملین خاندانوں کو BISP حفاظتی جال میں لایا جا سکے، اور SFSD سکیم کو اضافی غیر BISP، نچلے متوسط ​​طبقے تک بڑھایا جا سکے۔

    فائدہ اٹھانے والے گورننس کو مضبوط کریں۔ گورننس کو بہتر بنانے اور بدعنوانی کو کم کرنے کے لیے، حکام ایک مضبوط الیکٹرانک اثاثہ جات کے اعلان کا نظام قائم کر رہے ہیں اور انسداد بدعنوانی کے اداروں (بشمول قومی احتساب بیورو) کا ایک جامع جائزہ لینے کا منصوبہ بنا رہے ہیں تاکہ بدعنوانی کے مقدمات کی تحقیقات اور قانونی کارروائی میں ان کی تاثیر کو بڑھایا جا سکے۔

    "مشترکہ ساتویں اور آٹھویں جائزوں کے لیے SLA کو بنیاد بناتے ہوئے، بیان کردہ پالیسیوں کا مستقل نفاذ، پائیدار اور زیادہ جامع ترقی کے لیے حالات پیدا کرنے میں مدد کرے گا۔ اس کے باوجود حکام کو عالمی معیشت اور مالیاتی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر پروگرام کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے ضروری اضافی اقدامات کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

    "آئی ایم ایف کی ٹیم مذاکرات کے دوران نتیجہ خیز بات چیت اور تعاون پر پاکستانی حکام، نجی شعبے اور ترقیاتی شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتی ہے۔”

    دوسری جانب وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان معاہدہ ہوجانے کا اعلان کیا ہے-

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ایک ارب 17 کروڑ ڈالر جلد مل جائیں گے جبکہ معاہدے میں مدد اور کوششوں پر وزیر اعظم، ساتھی وزرا، سیکرٹریز اور وزارت خزانہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں پاکستان کو بجٹ پر سختی سے عمل کرنا ہو گا جبکہ پاکستان کو طلب اور رسد پر مبنی ایکسچینج ریٹ بھی برقرار رکھنا ہو گا۔

  • امریکی صدر مشرق وسطیٰ کے دورے پر اسرائیل پہنچ گئے

    امریکی صدر مشرق وسطیٰ کے دورے پر اسرائیل پہنچ گئے

    امریکی صدر جوبائیڈن مشرق وسطیٰ کے دورے کے پہلے مرحلے پر اسرائیل پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل پہنچنے پر امریکی صدر نے کہا کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے انضمام کو مزید آگے بڑھائےگا، امریکی انتظامیہ امریکا اسرائیل روابط کو مزید مضبوط بنانےکے لیے پرعزم ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق دو روزہ دورے میں صدر جوبائیڈن بیت المقدس میں اسرائیلی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے امریکی صدر جمعےکو مغربی کنارے میں فلسطینی صدر محمود عباس سے بھی ملیں گے۔

    اسرائیل کے بعد امریکی صدر جمعے کو براہ راست پرواز سے سعودی عرب روانہ ہوجائیں گے، خیال رہےکہ جو بائیڈن کا بطور امریکی صدر مشرق وسطیٰ کا یہ پہلا دورہ ہے۔

    فلسطینیوں نے مایوسی کا اظہار کیا ہے کہ 2021 میں ان کی صدارت شروع ہونے کے بعد سے امریکہ نے ان کے لیے زیادہ کام نہیں کیا لیکن انسانی حقوق پر تناؤ کی وجہ سے اصل توجہ ان کے سعودی دورے پر ہوگی۔

    مسٹر بائیڈن کو ہفتے کے روز مملکت کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ اپنی منصوبہ بند ملاقات پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جن پر امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے 2018 میں ترکی میں سعودی مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی منظوری دینے کا الزام لگایا تھا۔ شہزادے نے اس کی تردید کی۔ الزامات، اور سعودی پراسیکیوٹرز نے سعودی ایجنٹوں کو مورد الزام ٹھہرایا۔

    مسٹر بائیڈن نے ہفتے کے روز واشنگٹن پوسٹ میں ایک آپشن میں اپنے دورے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کا "مقصد ریاض کے ساتھ تعلقات کو از سر نو تشکیل دینا تھا –

    یہ دورہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ایک ایسے وقت میں بھی آیا ہے، اور توقع ہے کہ مسٹر بائیڈن اور شہزادہ محمد کے درمیان ہونے والی بات چیت کے ایجنڈے میں توانائی کی پیداوار ہو گی، جن کا ملک دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔

    صدر اور ان کے وزیر خارجہ، انٹونی بلنکن، سعودی عرب میں ہونے والی علاقائی سربراہی کانفرنس میں شرکت کریں گے، ان اطلاعات کے درمیان کہ امریکہ اسرائیل اور کئی عرب ریاستوں کے درمیان قریبی دفاعی تعاون کے معاہدے کا خواہاں ہے، جن میں سے کچھ پرانے دشمن ہیں۔ ایران سے خطرہ

    مسٹر بائیڈن اسرائیل سے براہ راست سعودی عرب جانے والے پہلے امریکی صدر بنیں گے، جسے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کئی دہائیوں کے بائیکاٹ کے بعد ریاض کی جانب سے اسرائیل کو قبول کرنے کی ایک چھوٹی لیکن اہم علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    اسرائیل کے وزیر اعظم یائر لاپڈ نے کہا ہے کہ مسٹر بائیڈن کا طیارہ سعودیوں کے لیے "ہماری طرف سے امن اور امید کا پیغام لے کر جائے گا”۔