Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • ہماری حکومت گرانے والے مضبوط پاکستان نہیں چاہتے، عمران خان

    ہماری حکومت گرانے والے مضبوط پاکستان نہیں چاہتے، عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بیرونی سازش کے تحت ہماری حکومت کو گرایا گیا ،میر صادق اور میر جعفر نے مل کر اس سازش کا کامیاب کیا، ہماری حکومت گرانے پر بھارت اور اسرائیل میں خوشی منائی گئی،اس سازش میں پلان بنا ہوا ہے کہ سب سے بڑی جماعت کو اپنی فوج کے ساتھ لڑوا دیا جائے،کوشش کی جا رہی ہے ایسا لاجک دیا جائے کہ ہم ایک دوسرے کے مخالف ہیں، سب کو تکلیف تھی کہ فوج اور حکومت ایک پیج پر چل رہی ہے.

    شہباز گل کی گرفتاری کے بعد پہلی پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ 800کے قریب جعلی سائٹس پر پاکستان کیخلاف پراپیگنڈہ کیا جا رہا تھا، عمران خان اور پاکستانی فوج کو ٹارگٹ کیا گیا،ان کے اربو ں ڈالر باہر پڑے ہیں،ان کی چوری کا ذکر ہر جگہ ہے،ملک کی سب سے بڑی جماعت کو اداروں سے لڑانے کی سازش کی جا رہی ہے،25مئی کو پرامن احتجاج میں عوام پر بڑا ظلم کیا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی،فارن فنڈنگ کیس میں کچھ بھی نہیں ہے، لوگوں کے گھروں میں گھسے، عورتوں اور بچوں پر شیلنگ کی گئی،ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن ان کے ساتھ ملا ہوا تھا،انہوں نے پوری کوشش کی کہ الیکشن میں کسی طرح ہمیں شکست دی جائے.

    عمران کان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ساری جماعتوں نے مل کر ہمارے خلاف ضمنی الیکشن میں حصہ لیا،اس ظلم کے پیچھے یہی سوچ تھی کہ اس پارٹی کو کرش کر دیا جائے،انہیں پورا اعتماد تھا کہ یہ ضمنی الیکشن بھی جیت جائیں گے، ان سب جماعتوں نے مل کر الیکشن لڑا پھر بھی ہار گئے،انہوں نے ہماری پارٹی کو توڑنے کا پورا پلان بنایا ہوا ہے، ہمیں نقصان پہنچانے کا پہلا مرحلہ الیکشن کمیشن ہے، الیکشن کمیشن کو سب کچھ دینے والی پارٹی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جھوٹی رپورٹس بنا کر تحریک انصاف کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہوا ہے،توشہ خانہ کیس کے ذریعے بھی مجھے نااہل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،اس ملک میں بڑے بڑے عہدوں پر رہنے والے سب کو تحفے ملتے ہیں.

    چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ زرداری نے توشہ خانہ سے 3 گاڑیاں لیں، نواز شریف نے ایک گاڑی لی،سازش کا تیسرا حصہ میری کردار کشی ہے،یہ میری کردار کشی کر کے کسی کیس میں پھسانا چاہتے ہیں،ہماری حکومت گرانے والے مضبوط پاکستان نہیں چاہتے،سابق وزرائے اعظم سے تحقیقات کریں کہ کیا سب نے قانونی طریقہ کار اختیار کیا،ٹی ٹی پی کی جانب سے تحریک انصاف کے رہنماو ں کو دھمکیاں آرہی ہیں، میرے بیرونی ملک کوئی پیسے نہیں پڑے ،میر ا جینا مرنا یہاں ہے،شہباز گل نے اگر کچھ کہا تو اسے صفائی کا موقع ملنا چاہئے، ہم کبھی اداروں کو کمزور نہیں کرنا چاہتے،

    قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان سےسربراہ مسلم لیگ ض اعجازالحق نے اسلام آباد میں ملاقات کی ہے، ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اورضمنی انتخابات پر تبادلہ خیال کیا گیا.علاوہ ازیں چیئرمین پی تی آئی عمران خان سے سہیل زمان کھگہ اورسردار سمیع نے بھی ملاقات کی ہے ،ملاقات میں سہیل زمان کھگہ اورسردار سمیع نے پی ٹی آئی میں شمولیت کااعلان کیا.ملاقات میں بہاولنگر کی نشست پر ضمنی الیکشن مل کر لڑنے کے حوالے سے بات چیت کی گئی جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ 13اگست جلسے کے بعد اس بارے باقاعدہ حکمت عملی طے کی جائے گی

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ 13اگست کولاہور میں عظیم الشان جلسہ کرینگے، جلسے میں اہم اعلانات کروں گا اور مستقبل کالائحہ عمل دوں گا، اس موقع پر اعجاز الحق نے کہا کہ حکومت بوکھلاہٹ کاشکار ہے ،کسی نے غلط کام کیاہے تو باقاعدہ وارنٹ جاری کرکے تفتیش کی جا سکتی ہے، حکومت مہنگائی، بیروزگاری اورامن وامان پر بالکل توجہ نہیں دے رہی .

  • خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت — نعمان سلطان

    خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت — نعمان سلطان

    پاکستان میں جائیداد سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں ایک ہی تصور تھا کہ اسے فروخت کر کے منافع کمایا جائے یا اسے کرائے پر دے کر ماہانہ کرایہ لے کر اپنی ضروریات پوری کی جائیں اور جگہ کے مالکانہ حقوق اپنے پاس رکھے جائیں لیکن ملک ریاض نے "بحریہ ٹاؤن ” بنا کر پراپرٹی کی خرید و فروخت میں ایک نیا تصور دیا کہ حکومت کے کاغذات میں جگہ کے مالکانہ حقوق ملک ریاض کے پاس ہیں جبکہ ملک ریاض نے اپنا پٹواری نظام بنا کر لوگوں کو "بحریہ ٹاؤن” میں جگہ کی خرید و فروخت شروع کر دی۔

    زمین کی خرید و فروخت میں مختلف” ٹیکسز” کی مد میں حکومت کو جو آمدن ہوتی تھی وہ ملک ریاض نے اپنے پٹواری نظام کی وجہ سے خود حاصل کرنا شروع کر دی اس کے علاوہ مختلف سروسز کی مد میں لوگوں سے سروسز چارجز کے نام پر بھی ہر مہینے ایک معقول رقم وصول کرنا شروع کر دی اس طرح سمجھیں زمین کے مالکان ہر مہینے ملک ریاض کو کرایہ دینا شروع ہو گئے، مزے کی بات یہ ہے کہ اس معاملے میں اپنی زمین بیچنے کے باوجود بھی ملک ریاض حکومت کے کاغذات میں زمین کا مالک ہی رہا اور لوگ ملک ریاض کے کاغذوں میں زمین کے مالک ہونے کے باوجود ملک ریاض کے کرایہ دار ہی رہے لوگ اس سب کے باوجود مطمئین اور اپنی خوش نصیبی پر رشک کرتے رہے کہ "شکر ہے ہمیں بحریہ ٹاؤن میں پلاٹ مل گیا” یہ سب صرف ملک ریاض کی کاروباری سوچ، میڈیا کے درست استعمال اور مسائل پیدا کرنے والے لوگوں سے ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے ممکن ہو سکا ۔

    اب ہم اپنی خارجہ پالیسی کا مطالعہ کرتے ہیں سب سے پہلے "چین” کی صورت میں دنیا میں ایک ایسا ملک تھا جس کے پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک خاص طور پر امریکہ سے تعلقات نہ ہونے کے برابر تھے، "جیسے ابھی ہمارے اسرائیل سے تعلقات نہیں ہیں اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی تنازع پیدا ہو جائے تو اس کی ثالثی کے لئے ہم امریکہ کی طرف دیکھتے ہیں کیونکہ دونوں ممالک میں اس کا اثر و رسوخ ہے” ایسے ہی چین اور امریکہ کے درمیان تنازعات یا غلط فہمیاں دور کرنے کے لئے دونوں ممالک کے درمیان پاکستان ثالث کا کردار ادا کرتا تھا ۔

    اب اگر پاکستان ملک ریاض والی پالیسی اختیار کرتا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایک خاص حد سے زیادہ نہ بڑھنے دیتا تو دونوں ممالک تنازعات اور غلط فہمیاں دور کرنے کے لئے پاکستان پر ہی انحصار کرتے رہتے اس کا ہمیں یہ فائدہ ہوتا کہ دونوں ممالک پاکستان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ملک پاکستان کے مفادات کا خیال رکھتے ایک مضبوط ملک ہی مضبوط ضامن ہوتا ہے اس وجہ سے وہ پاکستان پر کبھی بھی بھارت کو فوقیت نہ دیتے اور ملک دولخت بھی نہ ہوتا اس کے علاوہ بھی پاکستان دونوں ممالک سے بےتحاشہ فوائد حاصل کر سکتا تھا ۔

    لیکن ہم نے اس کے بالکل الٹ کام کیا ہم نے چین اور امریکہ کو ایک ساتھ مذاکرات کی میز پر بٹھا کر ان کی آپس کی غلط فہمیاں دور کر دی اس کا ہمیں یہ نقصان ہوا کہ اپنا مطلب نکلنے کے بعد ہم امریکہ کے کسی کام کے نہ رہے اور اس نے ہمیں نظر انداز کر کے بھارت کے ساتھ دوستی اپنے مفاد میں بڑھانا شروع کر دی اور بھارت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے جہاں جہاں ان کا مفاد ہوا پاکستان کے خلاف بھارت کی بھرپور سیاسی اور عسکری ساز و سامان سے مدد کی اور نتیجتاً پاکستان کو بھرپور نقصان پہنچایا، یہاں تک کہ ملک کے دو ٹکڑے بھی کر دئیے ۔

    جبکہ امریکہ کے مقابلے میں چین ایک عرصے تک پاکستان کا احسان مند رہا اور جب جب بھی پاکستان کو اس کی ضرورت محسوس ہوئی چین نے کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا یہاں تک کہ انڈیا پاکستان کی جنگ کے دوران اپنی فوج کو انڈیا کے بارڈر پر لے آیا اور انڈیا پر بارڈر کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر جنگ کی دھمکی بھی دی جس کی وجہ سے انڈیا گھبرا گیا اور پاکستان سے جنگ بندی کر لی اس کے علاوہ پاکستان میں ریکارڈ انویسٹمنٹ کی اور عسکری شعبے میں پاکستان کے ساتھ لامحدود تعاون کیا، لیکن اب ہماری سیاسی قلابازیوں سے تنگ آکر چین نے بھی اپنا مفاد دیکھ کر پاکستان کے ساتھ تعاون محدود کرنا شروع کردیا ہے ۔

    پاکستان کو دوسرا موقع افغانستان کی خانہ جنگی اور طالبان کی کامیابی کی صورت میں ملا، طالبان اپنی سخت گیر سوچ اور نظریات میں لچک نہ ہونے کی وجہ سے بیرونی دنیا کے لئے قابل قبول نہ تھے لیکن ان میں مدارس کے طالب علم ہونے کی وجہ سے وہ پاکستانی علماء کا بے حد احترام کرتے تھے اور کئی معاملات میں ان کے سپریم لیڈر اپنی رائے پر پاکستان کے جید علماء کی رائے کو ترجیح دیتے تھے اور ان کے کہنے پر اپنے موقف میں لچک پیدا کر لیتے تھے، اس وجہ سے ہم دوبارہ مغرب کی ضرورت بن گئے اور وہ طالبان سے معاملات طے کرنے کے لئے ہمارا سہارا لینے پر مجبور ہو گئے جبکہ ان کی وجہ سے ہمارا بارڈر بھی محفوظ ہو گیا، اور وہاں موجود اضافی نفری ہم نے جہاں ضرورت محسوس کی تعینات کر دی ۔

    لیکن اپنی افتاد طبع سے مجبور ہو کر ہم نے نائن الیون کے بعد امریکہ کی جنگ میں بغیر کوئی فائدہ اٹھائے امریکہ کا ساتھ دیا، جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ اگر ہم ان کی اخلاقی حمایت نہیں کر سکتے تو اس جنگ میں غیر جانبدار ہو جائیں نتیجتاً طالبان کی امریکہ تک تو پہنچ نہ تھی ان کے بعض اتحادیوں نے امریکہ کا اتحادی ہونے کی وجہ سے پاکستان کے خلاف کاروائیاں شروع کر دی اور پاکستان کو اپنی تاریخ کی سب سے طویل جنگ دہشت گردی کے خلاف لڑنی پڑی، جس میں وطن عزیز کا بے پناہ جانی اور مالی نقصان ہوا اس کے علاوہ افغانستان میں امریکی حمایت یافتہ حکومت آنے کی وجہ سے بارڈر سے دہشت گرد پاکستان میں آنے لگے، انہیں روکنے اور ان کا قلع قمع کرنے کے لئے افغان بارڈر پر دوبارہ سے فوج اور باڑ لگانی پڑی، یعنی یہ فیصلہ کسی بھی طرح ملکی مفاد میں اچھا ثابت نہیں ہوا۔

    ابھی قسمت سے ہمیں دوبارہ موقع ملا ہے افغانستان میں طالبان برسرِ اقتدار آ گئے ہیں، یہ ٹھیک ہے دونوں طرف اعتماد کا فقدان ہے لیکن اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے طالبان نے بھی اپنے مزاج میں تھوڑی بہت لچک پیدا کر لی ہے اور مدارس کے اساتذہ کی وجہ سے بھی وہ پاکستان کے لئے ابھی بھی نرم گوشہ رکھتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ آپس کی غلط فہمیاں دور کر کے ان کے ساتھ تعلقات کو بتدریج بہتر بنائیں، اس کا ہمیں سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ افغانستان سے جو تھوڑی بہت دہشت گردی کی کارروائیاں ہوتی ہیں ان کا خاتمہ ہو جائے گا اور مغربی ممالک سے طالبان کے تعلقات بہتر بنانے کے صلے میں ہمیں ان کی حمایت حاصل ہو جائے گی جس کا ہم معاشی فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔

    اس کے علاوہ تائیوان کے معاملے کو لے کر چین اور امریکہ کے تعلقات دوبارہ سے کشیدہ ہو گئے ہیں اور ان معاملات میں ثالث یا پیامبر کا کردار پاکستان ہی ادا کرے گا تو پاکستان کو چاہیے کہ وہ اب ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سابقہ غلطیوں کو نہ دہرائے، یہ ابھی بہترین موقع ہے دونوں ممالک اپنے مفاد کے تحفظ کے لئے پاکستان کو خوش کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے، اب یہ ہم پر ہے کہ ہم موقع کا فائدے اٹھاتے ہیں یا حسب معمول پرانی روش ہی اختیار کرتے ہیں ۔

    ملک ریاض نے اگر ایک عام آدمی ہوتے ہوئے "بحریہ ٹاؤن” بنا دیا،موقع کے مطابق لوگوں سے تعلقات بنا کر ان کو مطمئین کر کے اپنا مفاد حاصل کیا، طاقت کے مراکز(بحریہ ٹاؤن سے متعلقہ ادارے) کی ہر خواہش کو پورا کر کے راستے کی رکاوٹیں دور کیں اور تمام محکموں کو دینے کے بعد بھی اتنا کچھ بنا لیا کہ رفاہ عامہ کے بے شمار کام کرنے کے باوجود اس کے پاس لامحدود سرمایہ موجود ہے ۔تو حکومت اتنے زیادہ وزیر، مشیر اور تھنک ٹینک ہونے کے باوجود ایسی پالیسیاں کیوں نہیں بناتی کہ جس کے نتیجے میں ملک کو معاشی اور عسکری استحکام حاصل ہو ۔

    آخر یہ مشیر حکومت وقت کو مشورہ کیوں نہیں دیتے کہ اگر گرنا ہی ہے تو بنئیے کے بیٹے کی طرح "کسی کام کی چیز "پر تو گرو، اگر ہم سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگاتے ہیں تو پھر عملی طور پر اس پر عملدرآمد کر کے دکھائیں، وقت کسی کو دوسرا موقع نہیں دیتا اگر خوش قسمتی سے ہمیں دوسرا موقع مل گیا ہے تو ہمیں اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے ورنہ دستیاب وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھا کر کامیابی حاصل کرنے کی وجہ سے تاریخ کی کتابوں میں "ملک ریاض” کا نام ایک کامیاب کاروباری شخص اور بھرپور وسائل کے ہوتے ہوئے بھی سفارتی ناکامیوں کی وجہ سے "حکمرانوں” کا نام بدترین حکمرانوں اور ہماری "خارجہ پالیسی” کا ذکر بدترین خارجہ پالیسیوں میں ہو گا۔

  • نواز شریف کی پاکستان واپسی کی تیاریاں شروع۔ مریم کو ذمہ داری دے دی گئی

    نواز شریف کی پاکستان واپسی کی تیاریاں شروع۔ مریم کو ذمہ داری دے دی گئی

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی پاکستان واپسی کی تیاریاں شروع ہو گئیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کی پاکستان واپسی کی تیاریاں شروع ہو گئیں نواز شریف نے پاکستان واپسی کے حوالہ سے پارٹی کو آگاہ کر دیا ہے نواز شریف کی واپسی پر استقبال کی تیاریاں کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے نواز شریف کی واپسی پر انکا بھر پور استقبال کیا جائے گا اس ضمن میں مریم نواز کو ذمہ داری سونپی گئی ہے مریم نواز اپنے والد نواز شریف کے استقبال کے لئے ٹیمیں تشکیل دیں گی اور تمام تر انتظامات کی خود نگرانی کریں گی

    سابق وزیراعظم نواز شریف بیمار ہوئے تھے تو علاج کے لیے لندن گئے تھے شہباز شریف نے نواز شریف کی واپسی کی ضمانت دی تھی نواز شریف کے لندن جانے کے بعد کرونا شروع ہو گیا جس کی وجہ سے انکا علاج نہ ہو سکا اب کرونا کی شرح کم ہونے کے بعد ہسپتال کھلے ۔

    نواز شریف کی اسلام آباد متوقع ہے اسلام آباد میں نواذ شریف کا پارٹی قائدین اور کارکنان استقبال کریں گے۔ بعد ازاں نواز شریف ایک کارواں کی صورت میں لاہور آئیں گے۔ نواز شریف کی واپسی کی حتمی تاریخ کا اعلان بھی جلد ہو جائے گا ۔

    موجودہ سیاسی صورتحال میں عمران خان کا مقابلہ کرنے کے لئے ن لیگی رہنماؤں کی جانب سے کہا گیا تھا کہ نواز شریف ہی مقابلہ کر سکتے ہیں اور انکو پاکستان میں پارٹی کی قیادت کرنی چاہئے ۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں پارٹی کی مضبوطی کے لیے نواز شریف نے وطن واپسی کا فیصلہ کیا

  • وزیراعظم شہباز شریف اور یو اے ای کے صدر کا ٹیلیفونک رابطہ

    وزیراعظم شہباز شریف اور یو اے ای کے صدر کا ٹیلیفونک رابطہ

    اسلام آباد:وزیراعظم محمد شہباز شریف اور صدر یو اے ای شیخ محمد بن زید النہیان کا ٹیلیفونک رابطہ، وزیراعظم نے امارات میں حالیہ سیلاب میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔

    متحدہ عرب امارات کے صدر نے وزیراعظم شہباز شریف سے پاکستان میں سیلاب اور ہیلی کاپٹر حادثے پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

    قطری شہزادے کے خط کے بعد برطانوی شہزادی کے خط کے چرچے

    دونوں رہنماؤں نے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران مشترکہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال اور قریبی برادرانہ تعلقات کے فروغ کا اعادہ کیا۔

    گفتگو کے دوران مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا، وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک ارب ڈالر سرمایہ کاری کے حالیہ اماراتی اعلان کا خیرمقدم کیا۔

    وزیراعظم کا قطری امیرکوٹیلی فون، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور قطرکےامیرشیخ تمیم بن حمد الثانی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔شہبازشریف نے قطری شہزادے کو سلام کہا اورپھراس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلیفونک رابطے میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ قطر اور پاکستان کے درمیان قریبی اور خوشگوار تعلقات ہیں، قطر میں موجود 2 لاکھ سے زائد پاکستانی قطر اور پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

    چیئرمین سعودی شوریٰ کونسل کی وفد کے ہمراہ وزیراعظم سے اچانک ملاقات،بھارت پریشان

  • سیاست اوراقتدارسےزیادہ ملک کی سلامتی اہم ہے:شیخ رشید

    سیاست اوراقتدارسےزیادہ ملک کی سلامتی اہم ہے:شیخ رشید

    لاہور:سابق وفاقی وزیر شیخ رشید نے کہا ہے کہ موجودہ حالات کی پیش نظر سیاست اور اقتدار سے زیادہ ملک کی سلامتی اہم ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک پیغام میں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے ملک اور قوم کی سلامتی پر بات کی ہے۔شیخ رشید نے کہا ہے کہ عمران خان کو گرفتار کرنا یا پی ٹی آئی کو توڑنے کی منصوبہ بندی کرنا خونی سیاست کا آغاز ہوگا۔

     

     

    انہوں نے کہا کہ افغانستان کا عدم استحکام پاکستان پر بھی اثرانداز ہوگا جبکہ چین پاکستان کا بھلا سوچ رہا ہے، حکومت کو چاہیئے کہ اس کے اشاروں کو سمجھیں کیونکہ اس وقت ملکی سیاست اور اقتدار سے زیادہ ملک کی سلامتی اہم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی خواہشوں سے من پسند خبریں نہیں بن سکتیں جبکہ ملک بھر میں ایک بار پھر بھتہ اور خودکش حملے شروع ہو گئے ہیں اور معاشی تباہی، سیاسی عدم استحکام، بھتہ اور دہشتگردی کا آغاز انکی سیاست کودفن کردے گا۔

    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ مشرف کے دور میں چینل لائیسنس دیے گئے تھے لیکن اب مفاد پرست فاشسٹ اسے بند کر رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آج ن لیگ کا بیانیہ دفن ہوگیا ہے۔

    اپنے ایک اور پیغام میں شیخ رشید نے کہا کہ دو ووٹوں کی حکومت،15اتحادی پارٹیوں کے ساتھ بے لگام ہو رہی ہے اور انکا ناکام ایجنڈا عمران خان کو نااہل اور نواز شریف کو اہل کروانا ہے۔

  • کامن ویلتھ گیمز کا رنگا رنگ اختتام،پاکستان کی 18ویں پوزیشن

    کامن ویلتھ گیمز کا رنگا رنگ اختتام،پاکستان کی 18ویں پوزیشن

    برمنگھم: کامن ویلتھ گیمز 2022 میں پاکستان کی پوزیشن 18ویں رہی جب کہ آسٹریلیا کی برتری کے ساتھ کھیلوں کے مقابلے اپنے اختتام کو پہنچ گئے۔

    کامن ویلتھ گیمز میں سب سے زیادہ تمغے آسٹریلیا نے حاصل کیے، آسٹریلیا سونے کے 67 ، چاندی کے 57 اور کانسی کے 54 میڈلز کے ساتھ نمبر ون رہا اور کینگروز نے مجموعی طور پر 178 میڈلز اپنے نام کیے۔

    کامن ویلتھ گیمز سے سری لنکن دستے کے 10 ارکان غائب

    برمنگھم میں ہونے والے گیمز میں انگلینڈ نے 57 سونے، 66 چاندی اور 53 کانسی کے میڈل جیت کر دوسری پوزیشن حاصل کی جبکہ کینیڈا نے سونے کے 26، چاندی کے 32 اور کانسی کے 34 میڈلز جیتے اور تیسرے نمبر پر رہا۔

    بھارت نے 22 سونے، 16 چاندی اور 23 کانسی کے تمغے جیت کر چوتھی پوزیشن حاصل کی جبکہ پاکستان نے سونے کے دو چاندی اور کانسی کے تین تین تمغے جیت کر 18ویں پوزیشن حاصل کی۔

    کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈیل جیتنے پر مسلح افواج، وزیراعظم کی ارشد ندیم کو

    کامن ویلتھ گیمز 2022 پیر کو برمنگھم کے الیگزینڈر اسٹیڈیم میں ایک شاندار اختتامی تقریب کے بعد اختتام کو پہنچا۔ گیمز کا جھنڈا نیچے کر کے وکٹوریہ، آسٹریلیا کے حوالے کیا گیا جو 2026 میں کامن ویلتھ گیمز کے اگلے ایڈیشن کی میزبانی کر رہا ہے۔ اختتامی تقریب کا آغاز سولیہل بینڈ اوشین کلر سین کی پرفارمنس سے ہوا۔ اس کے بعد برمنگھم میں پیدا ہونے والے بینڈ ڈیکسی مڈ نایٹ رننر کی میوزیکل پرفارمنس پیش کی گئی۔ اب تک کے سب سے بڑے بینڈز میں سے ایک، یو بی 40نے ایونٹ میں مزید اضافہ کیا، جبکہ مڈلینڈز کے علاقے کے دیگر موسیقاروں اور بینڈز نے اپنی کارکردگی سے ہجوم کو محظوظ کیا۔

    کامن ویلتھ گیمز،پاکستان کےریسلرعلی اسدنےکانسی کاتمغہ جیت لیا

  • پاکستان کی آسیان  رکن ممالک کو 55 ویں آسیان دن پر مبارکباد

    پاکستان کی آسیان رکن ممالک کو 55 ویں آسیان دن پر مبارکباد

    پاکستان نے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی ایسوسی ایشن (آسیان) کے رکن ممالک کو 55 ویں آسیان دن پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا آسیان کے ساتھ دیرینہ تعاون ہے۔ تعاون، دوستی اور عدم مداخلت کے اصولوں پر قائم آسیان ایک متحرک اور مربوط اقتصادی برادری میں تبدیل ہوا ہے جو علاقائی امن اور ترقی کے مشترکہ مفادات کو آگے بڑھاتا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی ایسوسی ایشن آسیان کے رکن ممالک کو آسیان کے 55 ویں دن پر مبارکباد پیش کرتا ہے۔ پاکستان کا آسیان کے ساتھ دیرینہ تعلق اور تعاون ہے 1993ء سے پاکستان سیکٹرل ڈائیلاگ پارٹنر جبکہ 2004ء سے آسیان ریجنل فورم کا رکن ہے۔ پاکستان نے 2004ء میں جنوب مشرقی ایشیا میں تعاون کے معاہدے میں بھی شمولیت اختیار کی۔

    ترجمان نے کہا کہ پاکستان آسیان کی پیش رفت اور علاقائی تعاون کو آگے بڑھانے میں اہم پیش رفت کو سراہتا ہے۔ اپنی ویژن ایسٹ ایشیا پالیسی کے مطابق پاکستان آسیان کے ساتھ اپنے کثیر الجہتی تعلقات کو مزید مربوط بنانے کو اولین ترجیح دیتا ہے جس میں بہتر روابط اور عوامی سطح پر روابط شامل ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ حال ہی میں منعقدہ 29 ویں اے آر ایف وزارتی اجلاس میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی شرکت آسیان کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری کو آگے بڑھانے کیلئے اس کے عزم کا مظہر ہے۔

  • پی پی نے بلدیاتی ایکٹ سے متعلق وعدہ وفا نہیں کیا، وزیر اعظم کردار ادا کریں: ایم کیو ایم

    پی پی نے بلدیاتی ایکٹ سے متعلق وعدہ وفا نہیں کیا، وزیر اعظم کردار ادا کریں: ایم کیو ایم

    کراچی:ايم کيوايم پاکستان نے اتحادی حکومت سے وفاقی اور صوبائی سطح پر ہونے والے معاہدوں پر عملدرآمد ميں تاخير پر تشويش کا اظہار کرديا۔

    ايم کيوايم پاکستان کے کنوينر ڈاکٹر خالد مقبول صديقی کی زير صدارت کراچی ميں بہادرآباد مرکز پر رابطہ کميٹی کے اجلاس میں شرکاء کا کہنا تھا کہ متعدد بار مذاکرات کے باوجود غیرسنجیدہ رویے کے باعث معاہدوں پر ابتک عملدرآمد نہیں کیا جاسکا۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا، جس میں ایم کیوایم رہنماؤں نے پیپلزپارٹی سے معاہدوں پر عملدرآمد نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اجلاس میں متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے سندھ حکومت کے رویے پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

    ازبکستان کے صدر شوکت مرزا یوف روسی صدر کا اہم پیغام لے کرپاکستان پہنچ گئے

    ایم کیوایم رابطہ کمیٹی نے وزیراعظم شہباز شریف سے دوبارہ اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے ضامن تھے وہ اس نازک صورتحال میں ثالثی کا کردار ادا کریں۔

    رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ پی پی نے بلدیاتی ایکٹ عدالتی فیصلے کے مطابق تیار کرنے کا وعدہ کیا تھا جس پر اب تک عملدرآمد نہیں ہوا جبکہ سندھ میں حلقہ بندیاں بھی الیکشن کمیشن کے بجائے حکومت نے کی ہیں، جس میں بدترین تعصب اور دھاندلی کا مظاہرہ کیا گیا۔

    وزیراعظم عمران خان کے دورے کے ثمرات آنےلگے:پاکستان ازبکستان مشترکہ اعلامیہ جاری

    ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ اس طرح کی حلقہ بندیاں قبل ازانتخابات دھاندلی کی بد ترین مثال ہے، سندھ کی صوبائی حکومت جان بوجھ کر تاخیری حربے استعمال کررہی ہے، ایم کیو ایم نے ہمیشہ شہری، دیہی علاقوں کی خلیج کو کم کرنے کیلئے کام کیا۔

    ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سندھ بلدیاتی ایکٹ سے متعلق وعدہ وفا نہیں کیا ۔۔ رابطہ کمیٹی نے وزیر اعظم سے کردار ادا کرنے کی اپیل کردی۔

    ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادرآباد میں کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی زیر صدارت رابطہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں رابطہ کمیٹی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے سندھ کے بلدیاتی ایکٹ کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق آرٹیکل کے مطابق تیار کرنے کا وعدہ کیا تھا
    اجلاس میں ایم کیوایم رابطہ کمیٹی ارکان کا کہنا تھا کہ ہم پر کارکنان اور عوام کا دباؤ بڑھ رہا ہے، عوام چاہتے ہیں ایم کیو ایم کو اس صورتحال میں کوئی فیصلہ کرنا چاہیے۔

  • چین بنگلہ دیش کا ہمیشہ سےایک قابل اعتماد اسٹریٹجک پارٹنررہا ہے:چینی وزیر خا رجہ

    چین بنگلہ دیش کا ہمیشہ سےایک قابل اعتماد اسٹریٹجک پارٹنررہا ہے:چینی وزیر خا رجہ

    بیجنگ:بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے ڈھاکہ میں چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای سے ملاقات کی۔

     

     

    چینی میڈ یا کے مطا بقاس موقع پر وانگ ای نے کہا کہ چین بنگلہ دیش کا ہمیشہ سے ایک قابل اعتماد اسٹریٹجک پارٹنر رہا ہےاور قومی خود مختاری اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے بنگلہ دیش کی مضبوطی سے حمایت جاری رکھے گا،اور اپنے قومی حالات کے مطابق ترقی کی راہ پر گامزن رہنے اور بین الاقوامی سطح پر اپنا کردار ادا کرنے میں بنگلہ دیش کی حمایت کرتا رہیگا۔

    چینی فوج نے پینٹاگان کی ٹیلی فونز کالز سُننے سے انکارکردیا

    وانگ ای نے اس بات کو سراہا کہ بنگلہ دیش اور دیگر ترقی پذیر ممالک نے ون چائنا پالیسی اور چین کے جائز موقف کی حمایت کی ہے۔ وانگ ای نے زور دے کر کہا کہ امریکی فریق کے اقدامات نے چین کے اقتدار اعلیٰ کی سنگین خلاف ورزی کی ہے، چین کے اندرونی معاملات میں سنگین مداخلت کی ہے اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔چین کے جوابی اقدامات کا مقصد ملک کے اقتداراعلیٰ اور علاقائی سالمیت کا تحفظ ہے، اور ان کا مقصد دنیا، آبنائے تائیوان اور ایشیا میں حقیقی معنوں میں امن کو برقرار رکھنا ہے۔

    انگریز چین دشمنی کے ساتھ چین کے چائے کا فارمولا چرانے میں ملوث —

    دوسری طرف چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے بنگلہ دیشی وزیر خارجہ عبدل مومن سے بات چیت کی۔پیر کے روز چینی میڈ یا کے مطا بقمومن نے کہا کہ بنگلہ دیش اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے بنگلہ دیش چین تعلقات میں تیزی سے ترقی ہوئی ہے۔ بنگلہ دیش میں انسداد وبا کے لیے مدد فراہم کرنے، بنیادی تنصیبات کی تعمیر کو تیز کرنے اور ملک کی صورتحال کو بہتر بنانے میں بنگلہ دیش کی مدد کرنے پر ہم چین کے مشکور ہیں۔ چین بنگلہ دیش کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن چکاہے، اور بنگلہ دیش “گولڈن بنگلہ دیش” کے خواب اور “بیلٹ اینڈ روڈ” تعاون کی مشترکہ تعمیر کو مضبوط بنانے کا منتظر ہے، تاکہ بنگلہ دیش کے وژن اور اہداف کی تکمیل کو تیز کیا جا سکے۔

    چینی سرحدوں پرامریکہ اوربھارت کی جنگی مشقیں

    وانگ ای نے کہا کہ چین اور بنگلہ دیش کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی ہموار پیش رفت سے دونوں اطراف کے عوام کو فائدہ پہنچا ہے۔ بنگلہ دیش کے “گولڈن بنگلہ دیش” کے خواب کی تعبیر کے عمل میں، چین ہمیشہ سے بنگلہ دیش کا سب سے قابل اعتماد طویل مدتی اسٹریٹجک پارٹنر رہا ہے۔ امید ہے کہ فریقین چین-بنگلہ دیش آزاد تجارتی معاہدے کی مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی کو تیز کریں گے، اور ترقی اور مارکیٹ کے مواقع، جدید تجربہ اور ٹیکنالوجی کا اشتراک جلد از جلد کیا جا سکےگا ۔وانگ ای نے امور تائیوان کے حوالے سے چین کے جائز موقف پر بنگلہ دیش کی فوری حمایت کو سراہا۔ مومن نے کہا کہ بنگلہ دیش ایک چین کے اصول پر سختی سے کاربند ہے، تائیوان چین کی سرزمین کا حصہ ہے، اور ہم چین کے بنیادی مفادات اور اہم خدشات کے تحفظ میں اس کی حمایت کرتے ہیں۔

  • پاکستانی شیربرائےفروخت:اگلے ہفتے نیلامی کا اعلان ہوگیا

    پاکستانی شیربرائےفروخت:اگلے ہفتے نیلامی کا اعلان ہوگیا

    لاہور:چڑیا گھر کے حکام نے 12 شیر فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے لیے اگلے ہفتے نیلامی ہو گی اور عام لوگ ان کو خرید سکیں گے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فروخت کا فیصلہ شیروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور جگہ کی گنجائش کم ہونے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ لاہور چڑیا گھر کے ڈپٹی ڈائریکٹر تنویر احمد جنجوعہ نے بتایا کہ چڑیا گھر میں شیروں کی تعداد اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ ان کے گھومنے پھرنے کے لیے بنائے گئے مخصوص احاطے میں جانے کے لیے باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق ’فروخت سے نہ صرف جگہ کی گنجائش پیدا ہو گی بلکہ ان جانوروں کی خوراک پر اٹھنے والے اخراجات بھی کم ہوں گے۔‘

    شیروں کے دن بُرے آگئے:لاہورکے شیربرائے فروخت

    اس وقت چڑیا گھر میں 29 شیر موجود ہیں اور حکام 11 اگست کو ان میں سے 12 کو فروخت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جن کی عمریں دو سے پانچ سال کے درمیان ہیں۔ اسی طرح چڑیا گھر میں چھ ٹائیگرز اور دو چیتے بھی موجود ہیں۔

    قدرتی ماحول قائم رکھنے پر زور دینے والے اداروں کی جانب سے شیروں کی فروخت کی مخالفت کی گئی ہے جبکہ ورلڈ وائلڈ لائف (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کا کہنا ہے کہ جانوروں کو دوسرے چڑیا گھروں میں منتقل کیا جائے، مادہ جانوروں کو جراثیم سے پاک کیا جائے اور مانع حمل ادویات کا استعمال کیا جائے

    گروپ کی رکن عظمٰی خان کا کہنا ہے کہ ’چڑیا گھروں کے درمیان جانوروں کا تبادلہ یا پھر جانور عطیہ کرنا ایک عام سی بات ہے۔‘ ان کے مطابق ’جب ایک جانور پر قیمت کی تختی لگ جاتی ہے تو اس سے تجارت کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے جو کہ قدرتی طور پر چلنے والے تحفظ کے سلسلے کے لیے نقصان دہ ہے۔‘ شیروں، چیتوں جیسے دوسرے خطرناک جانوروں کو پالنا پاکستان میں عام بات نہیں ہے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اس کو ’سٹیٹس سمبل‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے

    ‏اپوزیشن کا کام مخالفت برائے مخالفت عمران خان ، ورنہ کل شام تک پیٹرول دبئی سے بھی…

    اکثر امیر افراد ایسے جانوروں کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں اور فلموں وغیرہ کے لیے کرائے پر بھی دیتے ہیں۔ چڑیا گھر کے حکام کی جانب سے ایک شیر کی بولی قیمت ڈیڑھ لاکھ روپے کے قریب مقرر کی گئی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ ایک شیر تقریباً 20 لاکھ روپے تک میں فروخت ہو گا

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعمیرات کا اجلاس، 50 لاکھ گھروں‌ کی تعمیر

    اسی طرح خریداروں کے لیے بھی ایک خاص معیار مقرر کیا گیا ہے۔ چڑیا گھر کے ڈپٹی ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ جانور خریدنے کا ارادہ رکھنے والوں کو پہلے خود کو صوبائی حکام کے ساتھ رجسٹرڈ کرنا پڑے گا اور یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ ان کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ ایسے جانوروں کو مناسب طور پر رکھ سکیں۔

     

     

    چڑیا گھر کے ویٹرنری آفیسر نے اے ایف پی کو بتایا کہ پچھلے سال نیلامی کے وقت مکمل دستاویزی کارروائی اور لائسنس کے مسائل سامنے آئے تھے۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے نعمان حسن نیلامی میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ’میری کوشش ہوگی کہ دو یا تین شیر خرید لوں، ان کے مطابق یہ اچھا موقع ہے ان لوگوں کے لیے جو پہلے سے ایسے جانور رکھتے بھی ہیں۔