Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • چند ماہ کے دوران مہنگائی میں کمی آئے گی: مفتاح اسماعیل

    چند ماہ کے دوران مہنگائی میں کمی آئے گی: مفتاح اسماعیل

    اسلام آباد:وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں حالات بہتر ہوں گے اور مہنگائی میں کمی آئےگی، عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم قیمتوں میں کمی ہوئی تو عوام کو ریلیف دیں گے۔

    واضح رہے کہ اڑھائی ماہ قبل پٹرول کی عالمی مارکیٹ میں قیمت 125 ڈالر بیرل سے بڑھ چکی تھی جو اب مسلسل نیچے آرہی ہے، اس وقت عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی گر چکی ہے، جس کے بعد قوی امکان ہے کہ ملک میں پٹرول کی قیمت کم ہوسکے۔

    سرکاری ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی دیتے تو ملک دیوالیہ ہوجاتا، ہماری پہلی ترجیح پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانا تھا۔ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدہ چند روز میں ہوجائے گی۔

    وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے حکومت نے تمام مشکل فیصلے کیے، عمران خان نے اپنی حکومت جاتے دیکھ کر پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کا اعلان کیا، گزشتہ حکومت نے نیب قوانین کو سیاسی مخالفین کیلئے استعمال کیا، عمران خان حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ملک میں مہنگائی بڑھی۔

  • چین کا افغانستان کے لیے سرمایہ کاری اور تجارت کے منصوبوں کا باضابطہ اعلان

    چین کا افغانستان کے لیے سرمایہ کاری اور تجارت کے منصوبوں کا باضابطہ اعلان

    بیجنگ:چینی سفیر نے افغانستان کے لیے تجارتی اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان کردیا جو طالبان کی حکومت میں کاروبار کرنے کے لیے عالمی سطح پر کسی ملک کی جانب سے توثیق ہے ۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کابل میں طالبان انتظامیہ کے قائم مقام وزیر برائے ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چینی سفارت کار وینگ یو نے اسی لاکھ ڈالر امداد کا اعلان کیا ہے۔ یہ رقم 22 جون کے زلزلے کے ریلیف کی مد میں دی جائے گی۔

    اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ انسانیت کے لیے ہنگامی امداد کے علاوہ گزشتہ سال سیاسی تبدیلی اور زلزلے کے بعد ہمارے پاس اقتصادی تعمیرِ نو کے طویل المدتی منصوبے ہیں، جس میں تجارت کو ترجیح دی جائے گی۔ بعدازاں، سرمایہ کاری اور زراعت پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

    طالبان حکومت کو تا حال کسی بھی ملک نے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔

    اس حوالے سے مغربی ممالک کا کہنا تھا کہ افغانستان سے پابندیاں اسی صورت میں ہٹائی جا سکتی ہیں جب یہ گروپ ہماری شرائط پورا کرے جن میں خواتین اور لڑکیوں کو حقوق دینا شامل ہے۔

    Advertisement

    مغربی ممالک کی جانب سے افغانستان پر عائد پابندیوں میں غیرملکی اربوں ڈالر کے ذخائر منجمد کرنا بھی شامل ہے۔

    مغربی بینکوں میں افغانستان کے منجمد اثاثوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وینگ یو کا کہنا تھا کہ چین ہمیشہ سمجھتا ہے کہ یہ پیسہ افغانستان کے عوام کا ہے، چین ہمیشہ عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ منجمد فنڈز جاری کیے جائیں

    پریس کانفرنس کے موقع پر چینی سفیر وینگ یو کا کہنا تھا کہ کان کنی کے دو بڑے منصوبوں پر مذاکرات جاری ہیں، جس میں جنوبی افغانستان میں تانبے کی ایک کان ‘میس عینک’ بھی شامل ہے، اس کے حقوق چین کی سرکاری کمپنی کے پاس ہیں، جس کا معاہدہ گزشتہ افغان حکومت کے ساتھ ہوا تھا۔افغانستان معدنی ذخائر سے مالا مال ہے، جس میں لوہے اور تانبے کے بڑے ذخائر بھی شامل ہیں۔

    یاد رہے، چین کے ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ طویل سرحد ہے، وہ اپنے بڑے منصوبے ‘بیلٹ اینڈ روڈ’ پر سرمایہ کاری کے حوالے سے ہمسایہ ممالک میں اثر و رسوخ رکھتا ہے۔

    ڈیجیٹل چائنا کنسٹرکشن سمٹ کی پریس کانفرنس میں چین کے نیشنل انٹرنیٹ انفارمیشن آفس کے انچارج نے کہا کہ 2017سے 2021 تک ، چین کی ڈیجیٹل اکانومی کا حجم 27 ٹریلین سے 45 ٹریلین تک پہنچ گیا، جو دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ڈیجیٹل اکانومی کے کل جی ڈی پی کا تناسب انتالیس اعشاریہ آٹھ فیصد تک ہو گیا ہے۔

    “جدت نئی تبدیلیاں لاتی ہے، اور ڈیجیٹل نئے انداز کا رہنما ہے” کے موضوع پر پانچویں ڈیجیٹل چائنا کنسٹرکشن سمٹ 23 سے 24 جولائی تک صوبہ فوجیان کے شہر فو زو میں منعقد ہو گی ۔

    “چینی وزارتِ خارجہ اطلاعات کے مطابق پانچ جولائی کوحکومت سندھ اور پاکستان کےمحکمہِ انسداد دہشت گردی نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس کی اور بتایا کہ جامعہ کراچی کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے اہم ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ “بلوچ لبریشن فرنٹ” اور “بلوچ لبریشن آرمی” جیسے کئی دہشت گرد گروپ اپنے رابطے مضبوط کر رہے ہیں، اور ان کے پیچھے غیر ملکی قوتیں ہو سکتی ہے۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چیاؤ لی جیان نے چھ جولائی کو منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ چین ، کراچی میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ پر دہشت گردانہ حملے کی تحقیقات میں پیش رفت پر بھرپور توجہ دیتا ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کی کوششوں کو سراہتا ہے۔ فی الحال اس کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور امید ہے کہ پاکستان سچائی کا پتہ لگائے گا اور مجرموں کو سخت سزا دی جائے گی ۔

    عالمی ترقی: مشترکہ مشن اور شراکت ” تھنک ٹینک اور میڈیا کا اعلیٰ سطحی فورم بیجنگ میں شروع ہو گیا ۔ افتتاحی تقریب میں صدر شی جن پنگ نے فورم کے نام مبارکباد کا خط بھیجا جس میں عالمی ترقی کو فروغ دینے کی صورتحال اور درپیش چیلنجز کی وضاحت کی گئی ہے اور گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کو عملی جامہ پہنانے کے تصورات اور تجاویز کا واضح طور پر اعلان کیا گیا ہے ۔ بلاشبہ، ہنگامہ خیز اور بدلتی ہوئی دنیا اور اقتصادی ترقی کی سست روی کے پیشِ نظر، صدر شی کی طرف سےپیش کردہ جی ڈی آئی یقیناً بنی نوع انسان کی مشترکہ ترقی کے حصول کے لیے جستجو کی عکاسی کرتا ہے۔چین اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کی تکمیل کے لیے اپنی دانشمندی اور چینی حل کے ذریعے عالمی تعاون اور مشترکہ ترقی کا ایک نیا دروازہ کھول رہا ہے ۔

    بد ھ کے روز چینی میڈ یا کےمطابق ترقی ہر ملک کا اندرونی تقاضا ہے اور عالمی ترقی کے لیے ایک ناگزیر ضرورت ہے، اس لیے عالمی ترقی دنیا کے تمام ممالک کا مشترکہ مشن ہے۔ گزشتہ سال 21 ستمبر کو صدر شی جن پھنگ نے اقوام متحدہ کی 76ویں جنرل اسمبلی میں جی ڈی آئی پیش کیا، اس کے بعد انہوں نے متعدد مواقع پر عالمی مشترکہ ترقی کے لیے چین کے تصور ات اور تجاویز کو واضح کیا، اور ترقی کو بین الاقوامی ترجیحی ایجنڈے میں شامل کرنے پر زور دیا۔ ا س سے ایک بڑے ملک کے احساس ذمہ داری کو ظاہر کیا گیا ہے ۔

    اہداف مقرر کئے گئے ہیں اور تقاضوں کو بھی واضح کیا گیا ہے،تو اب سب سے اہم چیز اسے عملی جامہ پہنانا ہے، جیسا کہ موجودہ “عالمی ترقی: مشترکہ مشن اور شراکت ” تھنک ٹینک اور میڈیا کے اعلیٰ سطحی فورم میں زور دیا گیا ہے۔ چین نے ہمیشہ مشترکہ ترقی، تعاون اور جیت جیت پر مبنی نئے بین الاقوامی تعلقات کے قیام پر زور دیا ہے ۔

    چین عالمی مشترکہ ترقی پر مبنی انیشیٹو پیش کرنے والا ہے اور ساتھ ہی عمل کرنے والا بھی ہے۔ چین نے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر نوول کورونا وائرس کی وبا کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے بھر پور کوششیں کیں اور دوسرے ممالک کے لیے ویکسین اور وبا سے بچاؤ کے سازو سامان کی فراہمی جیسی ہر ممکنہ مدد کی ہے ۔چین نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بین الاقوامی کانفرنسوں میں سرگرمی سے شرکت کی ہے ۔چین ماحولیاتی ترجیحات ، سبز اور کم کاربن کی حامل ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔

    چین نے اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن، ورلڈ فوڈ پروگرام اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے اقدامات اور سرگرمیوں میں گرم جوشی سے حصہ لیا ہے اور عالمی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ چین نے نہ صرف اپنے ملک میں غربت کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر پزیرائی حاصل کرنے والی کامیابیاں سمیٹی ہیں بلکہ اقوام متحدہ کے “غربت مٹاؤ اتحاد” میں بھی بانی رکن کی حیثیت سے شرکت کی ہے، جس سے عالمی سطح پر انسداد غربت کو مزید آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ حال ہی میں میزبان ملک کی حیثیت سے چین میں منعقدہ برکس سربراہی اجلاس کا بنیادی نچوڑ بھی عالمی ترقی ہے۔چین ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک کے ساتھ مل کر نئے عالمی ترقیاتی شراکت داری کے تعلقات کے قیام اور نئے عہد میں پائیدار ترقی کے 2030 ایجنڈے کی تکمیل کے لیے مل کر کام کرنے پر آمادہ ہے ۔

    جی ڈی آئی کا مقصد دنیا کی مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا حصول ہے ، اور یہ دنیا کے تمام ممالک کے لوگوں کی خواہشات و توقعات کے عین مطابق ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کچھ ممالک اپنے ذاتی مفادات کے لیے تسلط پسندی اور طاقت کی سیاسی سوچ سے چمٹے ہوئے ہیں، اور دنیا کو ایک نئی سرد جنگ کے خطرے کا سامنا ہے۔

    اس تناظر میں جی ڈی آئی کی اہمیت اور بھی زیادہ نمایاں ہو گئی ہے ۔ لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس انیشیٹو کے نفاذ کے دوران مختلف چیلنجز کا سامنا ہو گا ۔ یہ ایک ہموار راستہ نہیں ہے اور اس کے لیے لمبا سفر کرنا پڑے گا ۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ جب تک بین الاقوامی برادری مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے جی ڈی آئی کے نفاذ کو مستقل طور پر آگے بڑھانے، اور مشترکہ طور پر ایک عالمی ترقیاتی برادری کی تعمیر کے لیے ٹھوس اور بھر پور کوشش کرنے کا پختہ ارادہ رکھتی ہے ، تو کثیرالجہتی اور عالمی تعاون کو مزید قوت محرکہ ملے گی اور ایک بہتر اور روشن مستقبل کا آغاز ہو گا ۔

  • برٹش ایئرویز نے اکتوبر تک کی اپنی مزید 10,300  پروازیں منسوخ کر دیں

    برٹش ایئرویز نے اکتوبر تک کی اپنی مزید 10,300 پروازیں منسوخ کر دیں

    لندن :برٹش ایئرویزنے اعلان کیا ہے کہ وہ اکتوبر کے آخر تک مزید 10,300 مختصر فاصلے کی پروازوں میں کمی کرے گی۔

    ایئر لائن، وبائی امراض کے بعد کے عملے کی کمی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد میں سے جس کے نتیجے میں اس سال مسافروں کے لیے بڑے پیمانے پرمعاملات میں سردمہری آئی ہےجس کی وجہ سے ایئرلائن نے شیڈول کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش میں یہ پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے

    ادھریہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ فیصلہ اس ہڑتال کی دھمکی کے بعد آیا جس کے بارے میں کہاجارہاہےکہ برٹش ایئرویز کے ملازمین تنخواہوں میں کٹوتی کے خلاف احتجاج کرنے جارہے ہیں، ایئرویز کا خیال ہےکہ اس بحران سے نمٹنے کا واحد حل یہی ہےکہ فی الوقت یہ پروازیں منسوخ کردی جائیں تاکہ اس بحرانی عرصےکےبعد معاملات کو سنبھالا دیا جاسکے

    یاد رہےکہ اس سے پہلے بھی برٹش ایئرویز بہت سی پروازیں منسوخ کرچکی ہے، جس سے ایئرویز کو بہت ہی زیادہ معاشی دھچکہ لگا ہے

    پچھلے سال بھی برطانوی فضائی کمپنی برٹش ایئرویز نے مارچ 2022 تک کے لیے شیڈول کی گئی اپنی دو ہزار 144 پروازیں منسوخ کر چکی ہے۔ برٹش ایئرویز نے رواں ماہ دسمبر میں جانے والی 210پروازیں منسوخ کی تھیں‌۔ اسی طرح جنوری کی ایک ہزار 146، فروری کی 210اور مارچ کی 243پروازیں منسوخ کی گئی تھیں۔

    کمپنی کے اس حالیہ فیصلے سے اندرون و بیرون ممالک دونوں روٹس متاثر ہوں گے۔ کمپنی کے ترجمان کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ پروازیں منسوخ کرنے کے اس فیصلے کا کئی پہلووں کے حوالے اطلاق کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ برطانیہ اور دیگر بیشتر ممالک کی طرف سے اومیکرون کے پھیلاﺅ کو روکنے کے لیے نئی سفری بندشیں لاگو کی جا رہی ہیں۔

  • گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو عالمی تعاون اور ترقی کا نیا دروازہ کھولےگا:چین

    گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو عالمی تعاون اور ترقی کا نیا دروازہ کھولےگا:چین

    بیجنگ:“عالمی ترقی: مشترکہ مشن اور شراکت ” تھنک ٹینک اور میڈیا کا اعلیٰ سطحی فورم بیجنگ میں شروع ہو گیا ۔ افتتاحی تقریب میں صدر شی جن پنگ نے فورم کے نام مبارکباد کا خط بھیجا جس میں عالمی ترقی کو فروغ دینے کی صورتحال اور درپیش چیلنجز کی وضاحت کی گئی ہے اور گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کو عملی جامہ پہنانے کے تصورات اور تجاویز کا واضح طور پر اعلان کیا گیا ہے ۔ بلاشبہ، ہنگامہ خیز اور بدلتی ہوئی دنیا اور اقتصادی ترقی کی سست روی کے پیشِ نظر، صدر شی کی طرف سےپیش کردہ جی ڈی آئی یقیناً بنی نوع انسان کی مشترکہ ترقی کے حصول کے لیے جستجو کی عکاسی کرتا ہے۔چین اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کی تکمیل کے لیے اپنی دانشمندی اور چینی حل کے ذریعے عالمی تعاون اور مشترکہ ترقی کا ایک نیا دروازہ کھول رہا ہے ۔

    بد ھ کے روز چینی میڈ یا کےمطابق ترقی ہر ملک کا اندرونی تقاضا ہے اور عالمی ترقی کے لیے ایک ناگزیر ضرورت ہے، اس لیے عالمی ترقی دنیا کے تمام ممالک کا مشترکہ مشن ہے۔ گزشتہ سال 21 ستمبر کو صدر شی جن پھنگ نے اقوام متحدہ کی 76ویں جنرل اسمبلی میں جی ڈی آئی پیش کیا، اس کے بعد انہوں نے متعدد مواقع پر عالمی مشترکہ ترقی کے لیے چین کے تصور ات اور تجاویز کو واضح کیا، اور ترقی کو بین الاقوامی ترجیحی ایجنڈے میں شامل کرنے پر زور دیا۔ ا س سے ایک بڑے ملک کے احساس ذمہ داری کو ظاہر کیا گیا ہے ۔

    اہداف مقرر کئے گئے ہیں اور تقاضوں کو بھی واضح کیا گیا ہے،تو اب سب سے اہم چیز اسے عملی جامہ پہنانا ہے، جیسا کہ موجودہ “عالمی ترقی: مشترکہ مشن اور شراکت ” تھنک ٹینک اور میڈیا کے اعلیٰ سطحی فورم میں زور دیا گیا ہے۔ چین نے ہمیشہ مشترکہ ترقی، تعاون اور جیت جیت پر مبنی نئے بین الاقوامی تعلقات کے قیام پر زور دیا ہے ۔

    چین عالمی مشترکہ ترقی پر مبنی انیشیٹو پیش کرنے والا ہے اور ساتھ ہی عمل کرنے والا بھی ہے۔ چین نے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر نوول کورونا وائرس کی وبا کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے بھر پور کوششیں کیں اور دوسرے ممالک کے لیے ویکسین اور وبا سے بچاؤ کے سازو سامان کی فراہمی جیسی ہر ممکنہ مدد کی ہے ۔چین نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بین الاقوامی کانفرنسوں میں سرگرمی سے شرکت کی ہے ۔چین ماحولیاتی ترجیحات ، سبز اور کم کاربن کی حامل ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔

    چین نے اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن، ورلڈ فوڈ پروگرام اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے اقدامات اور سرگرمیوں میں گرم جوشی سے حصہ لیا ہے اور عالمی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ چین نے نہ صرف اپنے ملک میں غربت کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر پزیرائی حاصل کرنے والی کامیابیاں سمیٹی ہیں بلکہ اقوام متحدہ کے “غربت مٹاؤ اتحاد” میں بھی بانی رکن کی حیثیت سے شرکت کی ہے، جس سے عالمی سطح پر انسداد غربت کو مزید آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ حال ہی میں میزبان ملک کی حیثیت سے چین میں منعقدہ برکس سربراہی اجلاس کا بنیادی نچوڑ بھی عالمی ترقی ہے۔چین ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک کے ساتھ مل کر نئے عالمی ترقیاتی شراکت داری کے تعلقات کے قیام اور نئے عہد میں پائیدار ترقی کے 2030 ایجنڈے کی تکمیل کے لیے مل کر کام کرنے پر آمادہ ہے ۔

    جی ڈی آئی کا مقصد دنیا کی مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا حصول ہے ، اور یہ دنیا کے تمام ممالک کے لوگوں کی خواہشات و توقعات کے عین مطابق ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کچھ ممالک اپنے ذاتی مفادات کے لیے تسلط پسندی اور طاقت کی سیاسی سوچ سے چمٹے ہوئے ہیں، اور دنیا کو ایک نئی سرد جنگ کے خطرے کا سامنا ہے۔

    اس تناظر میں جی ڈی آئی کی اہمیت اور بھی زیادہ نمایاں ہو گئی ہے ۔ لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس انیشیٹو کے نفاذ کے دوران مختلف چیلنجز کا سامنا ہو گا ۔ یہ ایک ہموار راستہ نہیں ہے اور اس کے لیے لمبا سفر کرنا پڑے گا ۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ جب تک بین الاقوامی برادری مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے جی ڈی آئی کے نفاذ کو مستقل طور پر آگے بڑھانے، اور مشترکہ طور پر ایک عالمی ترقیاتی برادری کی تعمیر کے لیے ٹھوس اور بھر پور کوشش کرنے کا پختہ ارادہ رکھتی ہے ، تو کثیرالجہتی اور عالمی تعاون کو مزید قوت محرکہ ملے گی اور ایک بہتر اور روشن مستقبل کا آغاز ہو گا ۔

  • پبلک اکاونٹس کمیٹی کے بلانے پر نیب،اسپیشل سیکرٹری اور دیگر غیرحاضر

    پبلک اکاونٹس کمیٹی کے بلانے پر نیب،اسپیشل سیکرٹری اور دیگر غیرحاضر

    اسلام آباد: پبلک اکاونٹس کمیٹی کے بلانے پر نیب،اسپیشل سیکرٹری اور دیگر غیرحاضر ،اطلاعات کے مطابق چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کہا ہے کہ نیب کے افسران کو اپنےا ثاثوں کی تفصیلات تو دینا پڑیں گی۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ پٹرول کی قیمت عالمی مارکیٹ میں کم ہوئی ہے۔ جب قیمت عالمی مارکیٹ میں کم ہوتی ہے تو ہمارے ملک میں کم کیوں نہیں ہوتی؟۔ جب قیمت عالمی مارکیٹ میں زیادہ ہوتی ہے اِدھر بڑھتی ہے مگر کم ہونے کے ساتھ کم نہیں ہوتی۔

     

     

    کمیٹی رکن شیخ روحیل بولے تیل کی عالمی قیمتوں میں 50 روپے لیٹر کے مساوی کمی آچکی ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے حکومت سے سیلز ٹیکس بڑھانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔پی اے سی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیئرمین نور عالم خان نے کہا کہ ایک محکمے نے کہا کل عید ہے، اس لیے نہیں آ سکتے جبکہ عید تو 10 جولائی کو ہے۔

     

     

     

    مختلف اداروں کے سربراہان کی عدم موجودگی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کمیٹی اراکین نے کہا کہ ایسی کوئی روایت قائم نہ کریں کہ کسی ادارے کے سربراہ کے بجائے کوئی اور آ جائے۔کمیٹی نے اجلاس میں اسپیشل سیکرٹری وزارت خزانہ کی عدم موجودگی پر اظہار برہمی کیا۔ایڈیشنل سیکرٹری فنانس نے اجلاس کو بتایا کہ اسپیشل سیکرٹری وزیراعظم شہباز شریف کے پاس میٹنگ میں ہیں۔ جس پر چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ آپ نے جو معیشت اور عوام کے ساتھ کیا ہے وہی کمیٹی کے ساتھ کر رہے ہیں۔

  • سلیمان شہباز نے عمران اسماعیل کو 1 ارب روپے کا ہتک عزت کا نوٹس بھیج دیا۔

    سلیمان شہباز نے عمران اسماعیل کو 1 ارب روپے کا ہتک عزت کا نوٹس بھیج دیا۔

    لاہور:وزیر اعظم شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز نے بدھ کے روز پی ٹی آئی کراچی کے رہنما اور سندھ کے سابق گورنر عمران اسماعیل کے خلاف شریف خاندان کے خلاف بے بنیاد الزامات لگانے پر ہتک عزت کا دعویٰ کردیا ہے اوراس جُرم کی پاداش میں ایک ارب روپےہرجانہ مانگا ہے

    عمران اسماعیل نے الزام لگایا کہ شریف خاندان ترک فرموں کے ذریعے سولر انرجی کے ٹینڈرز میں ملوث ہے۔

    سلیمان نے ہتک عزت آرڈیننس 2002 کے سیکشن 8 کے تحت قانونی طور پر بھیجا اور 14 دن کے اندر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔

    سلیمان شہبازکہتے ہیں کہ مجھ پر اور میری کمپنی پر جھوٹے الزامات لگانے والے عمران اسماعیل کے خلاف ہتک عزت کی کارروائی کی جائے

    اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف کے بیٹے سلیمان شہباز نے پاکستان پینل کوڈ 1860 کے سیکشن 499 اور 500 اور پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے سیکشن 18 اور 21 کے تحت روکنے اور باز رہنے کا مطالبہ کیا۔

    نوٹس میں لکھا گیا ہےکہ ہتک عزت آرڈیننس 2002 ("ہتک عزت آرڈیننس”) کے سیکشن 8 کے تحت ایک قانونی نوٹس بھیجا جارہاہے،اس نوٹس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ بے بنیاد اور بدنیتی سے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پرسلیمان شہباز کو بدنام کرنے کی سازش کی گئی

    سلمان شہبازکے وکیل کی طرف سےدائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ آپ کی طرف سے آپ کے ہتک آمیز ٹویٹس میں ہمارے کلائنٹ کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات جھوٹے، غیر سنجیدہ اور مکمل طور پر بے بنیاد ہیں اور ہمارے کلائنٹ کو بدنام کرنے اور اس کی ساکھ کو بلاوجہ نقصان پہنچانے کے واحد مقصد سے بنائے گئے ہیں۔”

    یاد رہے کہ عمران اسمٰعیل نے چند دن پہلے جب شہبازشریف ترکی گئے تھے تواس کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہبازشریف نے اس دورے کے دوران اپنے بیٹے سلیمان شہباز کے ساتھ کاوروباری معاملات طئے کیے ہیں نہ کہ ترک حکام سے کوئی ملکی سطح کی بات کی

    عمران اسمٰعیل نے کہا تھا کہ شہبازشریف اب اپنے بیٹے کی سولرپینل کمپنی کا مال پاکستان میں کھپانے کے لیے سلیمان شہبازسے بات چیت کرنے ترکی گئے

    جس پرسلیمان شہباز نے ان الزامات کو جھوٹ قراردیتے ہوئے ہتک عزت کا دعویٰ کیا ہے اور ساتھ ہی ہرجانے کا مطالبہ بھی کیا ہے

  • امریکہ کے بعد یورپ نے انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کولگام ڈالنےکا فیصلہ کرلیا

    امریکہ کے بعد یورپ نے انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کولگام ڈالنےکا فیصلہ کرلیا

    پیرس:انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کی منمانیوں کے بعد اب یورپ نے انہیں لگام دینے کے لیے خصوصی قوانین وضع کر دئے ہیں جن کے تحت کمپنیوں کو صارفین کی پرائیویسی کا خیال رکھنے اور ان کے ڈیٹا اور نجی معلومات کا کاروباری مقاصد کے لئے استعمال نہ کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔

    نیوز ایجنسی رائٹرز کے مطابق یورپی پارلیمنٹ نے ’ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ‘ (ڈی ایم اے) اور ’ڈیجیٹل سروسز ایکٹ‘ (ڈی ایس اے) نامی دو قوانین کی منظوری دے دی۔

    ’ڈیجیٹل سروسز ایکٹ‘ کا قانون فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام اور ایمازون سمیت اسی طرح کی دیگر ویب سائٹس پر نافذ ہوگا جس کے ذریعے مذکورہ ویب سائٹس کو صارفین کی پرائیویسی کو یقینی بنانے کا پابند کیا جائے گا۔

    اسکے علاوہ تمام ویب سائٹس خطرناک اور غیر قانونی چیزوں کی فروخت کی بندش کو بھی یقینی بنائیں گی اور ساتھ ہی سوشل میڈیا ویب سائٹس، میسیجنگ ایپلی کیشن، سوشل شیئرنگ ایپس اور آن لائن اسٹورز کے پلیٹ فارمز صارفین کے ذاتی ڈیٹا کا غلط استعمال بھی نہیں کریں گے اور نہ ہی ان کے ڈیٹا کو کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کر سکیں گے۔

    اس قانون کے تحت تمام سوشل میڈیا ویب سائٹس یورپین یونین کے ماہرین کی کمیٹی کو اپنے الگورتھم تک رسائی دیں گی۔

    یورپی یونین نے اسی طرح ’ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ‘ بھی منظور کرلیا جو بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں یعنی گوگل، ایمازون، ایپل اور مائیکرو سافٹ جیسی کمپنیوں پر نافذ ہوگا۔ اس ایکٹ کے تحت تمام کمپنیاں اپنی پالیسی کو شفاف رکھیں گی، کسی طرح بھی صارفین کے ڈیٹا کا غلط استعمال نہیں کریں گی، انہیں ان کی پسند یا نہ پسند کی بنیاد پر دوسرے مواد تک رسائی نہیں دیں گی اور کسی طرح بھی صارفین کے ایپس یا انٹرنیٹ کے استعمال میں رکاوٹ نہیں بنیں گی۔

    مذکورہ قوانین کے تحت خلاف ورزیوں کی صورت میں ٹیکنالوجی کمپنیز کو اپنی سالانہ آمدنی کا دس سے بیس فیصد حصہ جرمانے کے طور پر ادا کرنا ہوگا۔

  • مون سون بارشیں، دریائے راوی اور چناب میں سیلابی الرٹ جاری

    مون سون بارشیں، دریائے راوی اور چناب میں سیلابی الرٹ جاری

    لاہور: ملک بھر میں طوفانی بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہےمحکمہ موسمیات کی جانب سے مون سون کے موجودہ سپیل میں توسیع کی پیشگوئی کے بعد محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایات کر دی گئی ہے جبکہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے دریائے راوی اور چناب میں سیلابی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارش سے دریائے راوی اور دریائے چناب کے 11 نالوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔ دریائے راوی اور چناب میں پانی کے تیز بہاؤ کی توقع ہے ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ کی وجہ سے گوجرانوالہ ڈویژن کے متاثر ہونے کا امکان ہے جبکہ گجرات، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، سیالکوٹ، نارووال اور شیخوپورہ کے بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔

    کوہ سلیمان سے آنے والے سیلابی ریلے نے تباہی پھیلادی:ٹرینوں کا نظام درہم برہم

    پی ڈی ایم اے کے مطابق تمام اضلاع کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں جبکہ پنجاب بھر کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کا عملہ 24 گھنٹے الرٹ رہے گا۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق مون سون ہواؤں کا حالیہ سلسلہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹے تک مزید جاری رہ سکتا ہے، جبکہ مون سون کے سپیل میں ہفتے کے آخر تک مزید شدت آسکتی ہے۔

    بلوچستان میں مون سون بارشوں سے تباہی،کوئٹہ آفت زدہ قرار، ایمرجنسی نافذ

    ملک کے بیشتر علاقوں میں 5 جولائی رات تا 7 جولائی صبح آندھی،تیز ہواؤں اور بوندا باندی کے ساتھ موسلا دھار بارش کا امکان ہے، جس کی وجہ سے وفاقی، صوبائی و ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز ودیگر محکموں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایات کر دی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ ملک بھر میں طوفانی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور وفاقی وزیر ماحولیات کے مطابق حالیہ مون سون بارشیں توقع سے 87 فیصد زیادہ ہیں اور موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے موسم گرما میں برفانی جھیلیں پھٹنے کے 16 واقعات ہوئے جبکہ ہر سال اس طرح کے 5 یا 6 واقعات ہوتے ہیں۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ 14 جون سے اب تک مون سون میں 77 اموات رپورٹ ہوئی ہیں اور بلوچستان میں سب سے زیادہ 39 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ آئندہ دنوں میں مون سون کے اثرات پنجاب میں ہوں گے جبکہ آزاد کشمیر میں 49 فیصد زیادہ بارشیں ہوئی ہیں اوربلوچستان میں بھی اندازےسے 274 فیصد زیادہ بارشیں ہوئی ہیں سندھ میں 261 فیصد زیادہ بارشیں ہوئی ہیں اور یہ مون سون میں شدید بارشوں کی شروعات ہے۔

    دوسری جانب بلوچستان میں مون سون بارشوں سے تباہی کے بعد حکومت نے کوئٹہ کو آفت زدہ قرار دے کر ایمرجنسی نافذ کردی ہے وئٹہ میں مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے گذشتہ روز کوئٹہ میں مون سون کی بارشوں کے باعث صوبے کے ندی نالے بھر گئے پی ڈی ایم بلوچستان کی جانب سے کہا گیا ہےکہ چھتیں اور دیواریں گرنے سمیت مختلف حادثات میں 14 افراد جاں بحق ہو گئے اور متعدد زخمی ہیں۔

    پاکستان میں موسم کیسا رہے گا؟

    جاں بحق افراد میں سے 6 کا تعلق کوئٹہ 3 کا تربت جبکہ خضدار اور قلعہ سیف اللہ میں مرنے والوں کی تعداد ایک ایک ہے سریاب مشرقی بائی پاس نواں کلی میں درجنوں مکانات زیر اب آگئے۔چالیس سے زیادہ خاندان بے گھر ہوگئے۔ ان علاقوں میں مال مویشیوں کو بھی نقصان پہنچاتھا۔

    بلوچستان کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کےمطابق بارشوں کےباعث قلعہ سیف اللہ، ژوب، پشین، ہرنائی اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جبکہ مسلم باغ، قمرالدین اور خشنوب میں سیلابی صورتحال ہے خشنوب میں متعدد دیہات میں رات کو سیلابی ریلے داخل ہوئے جبکہ خشنوب میں رابطہ پل سیلابی ریلے میں بہہ جانے سے ریسکیو اہلکاروں کو متا ثرین تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

  • ملک بھر میں کورونا کیسز کی تعداد 800 سے تجاوز کرگئی

    ملک بھر میں کورونا کیسز کی تعداد 800 سے تجاوز کرگئی

    ملک بھر میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد 800 سے تجاوز کرگئی جبکہ مزید ایک شخص انتقال کرگیا جب کہ 168 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 17 ہزار 150 کووڈ ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 805 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔

    این آئی ایچ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 4 اعشاریہ 69 فیصد رہی جب کہ اب بھی 168 افراد کی حالت خطرے میں ہے۔

    خیال رہے کہ ملک بھر میں یومیہ رپورٹ ہونے والےکورونا کیسز میں صوبہ سندھ سب سے آگے ہے۔

  • پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹی 20 سیریزکا انعقاد تین شہروں میں ہونے کا امکان

    پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹی 20 سیریزکا انعقاد تین شہروں میں ہونے کا امکان

    پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان 7 ٹی 20 میچز پر سیریز کا انعقاد راولپنڈی، لاہور اور کراچی میں ہونے کا امکان ہے-

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے خلاف 7 ٹی 20 میچز پر مشتمل سیریز سے قبل انگلینڈ کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کی سیکیورٹی ٹیم اگلے ہفتے پاکستان پہنچے گی انگلینڈ کی سیکیورٹی ٹیم ہوٹل کے اطراف اور سٹیڈیم کے راستے سمیت دیگر انتظامات کا جائزہ لے گی-

    کرکٹ ذرائع کے مطابق سیریز کا انعقاد تین شہروں راولپنڈی، لاہور اور کراچی میں ہونے کا امکان ہے تاہم ابھی تک اس کی کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

    سری لنکا کی کنڈیشنز کے لیے تیار ہیں،بابر اعظم

    ذرائع کے مطابق انگلش بورڈ کی سکیورٹی ٹیم ملتان کرکٹ اسٹیڈیم کا بھی دورہ کرے گی کیونکہ پی سی بی کچھ میچز ملتان میں شیڈول رکھنے کا خواہاں ہے تاہم تین شہروں میں دو مقامات پر سیریز کھیلنے کی توقع کی جارہی ہے۔

    واضح رہے کہ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم رواں سال 15 ستمبر کو پاکستان کا دورہ کرے گی جب کہ تین ہفتوں پر مشتمل دورے کے دوران پاکستان 7 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کی میزبانی کرے گا۔