Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • امریکہ پاکستان کیلئے سب سے بڑی برآمدی مارکیٹ ہے،پرویزالہی سے امریکی  نمائندہ خصوصی کی ملاقات

    امریکہ پاکستان کیلئے سب سے بڑی برآمدی مارکیٹ ہے،پرویزالہی سے امریکی نمائندہ خصوصی کی ملاقات

    سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی سے امریکی نمائندہ خصوصی برائے کمرشل و کاروباری امور دلاور سید نے سپیکر چیمبر میں ملاقات کی۔ دلاورسید امریکہ میں سمال، میڈیم کاروباری اداروں کے صدر اور سی ای او رہے ہیں اور تجارتی و اقتصادی پالیسیوں کا بھرپور تجربہ رکھتے ہیں۔ ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات، پارلیمانی و باہمی دلچسپی کے امور اور ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزیراعظم پاکستان کی امریکہ کو یوم آزادی پر مبارک باد

    سپیکر چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ دونوں ملکوں میں دیرینہ تعلقات کے فروغ کیلئے باہمی رابطے، تجارت اور عوامی سطح پر وفود کے زیادہ سے زیادہ تبادلوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان کی شراکت داری کو 75 سال ہو چکے ہیں، امریکہ پاکستان کیلئے سب سے بڑی برآمدی مارکیٹ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقتصادی ترقی کیلئے دونوں ممالک کے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔

    الوداع الوداع؛سداخوش رہوپاکستانیو:پاکستان میں جرمن سفیرکےآخری الفاظ

     

    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، توانائی اور صحت سمیت دیگر شعبہ جات میں شر اکت داری مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے، سلیکون ویلی میں پاکستان اور امریکہ کا داخلہ دوطرفہ تجارتی تعلقات کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

    امریکی نمائندہ خصوصی دلاور سید نے کہا کہ امریکہ اورپاکستان کے مابین خوشگوار تعلقات بڑھانے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے، امریکہ پاکستان کے ساتھ باہمی تعلقات کو فروغ دینے کیلئے پرعزم ہے۔ دلاور سید نے چودھری پرویزالٰہی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ ان کی وزارت اعلیٰ کے دور میں ایف سی کالج لاہور واپس پریسبیٹیرین چرچ کے حوالے کیا گیا۔

    سپیکر نے دلاور سیدکو پنجاب اسمبلی میں ہونیوالی قانون سازی سے آگاہ کیا۔ سپیکر نے امریکی نمائندہ خصوصی کو پنجاب اسمبلی کے نئے ایوان اور بلڈنگ کا دورہ بھی کروایا۔ ملاقات میں مس گایا (Ms. Gaia)، علاقائی پالیسی لیڈر برائے امریکی بین الاقوامی ترقیاتی مالیاتی کارپوریشن، مس کیتھلین گبیلیسکو (Ms. Kathleen Gibilisco) سربراہ سیاسی و اقتصادی امور برائے امریکی قونصلیٹ لاہور اور مس صدف سعد پولیٹیکل اینڈ اکنامک سپیشلسٹ برائے امریکی قونصلیٹ بھی موجود تھیں۔

  • تین ملکی گرین ڈرائیو 2022 ایکو ٹورازم انٹرنیشنل موٹربائیک کمپین کا آغاز ہوگیا

    تین ملکی گرین ڈرائیو 2022 ایکو ٹورازم انٹرنیشنل موٹربائیک کمپین کا آغاز ہوگیا

    ڈیرہ غازی خان۔ گرین ڈرائیو 2022 ایکو ٹورازم انٹرنیشنل موٹربائیک کمپین میں پاکستان سے ایران، ترکی اور آذربائجان تک بائیک رائیڈ ہوگی۔
    باغی ٹی وی رپورٹ۔پا کستان کے انٹرنیشنل بائیکر مکرم خان ترین دنیا کے دیگر ممالک میں پاکستان کی طرف سے شجرکاری اور امن کا پیغام لے کر بائیک رائیڈ کا آغازکیا ،مکرم ترین پاکستان کے میدانِ سیاحت میں ایک فعال اور سرکردہ شخصیت کا نام ہے موٹر بائیک ٹورازم کو بام عروج تک پہنچایا۔ مکرم ترین پاکستان کے معروف موٹر بائیک کلب "کراس روٹ موٹر سائیکل ٹریولرز کلب آف پاکستان” کے بانی و چیئرمین ہیں۔شجرکاری کے سلسلہ میں بھی مکرم ترین نے لوکل، صوبائی اور ملکی سطح پر متعدد موٹر بائیک رائیڈز کیں اور اب گرین ڈرائیو کے عنوان سے بین الاقوامی شجرکاری مہم پر روانہ ہو رہے ہیں جس کیلئے لاہور سے بائیک رائیڈ کا آغازکر چکے ہیں ، اور ہمسایہ مسلم ممالک ایران، ترکی اور آذربائجان کے سیاحتی دورہ کے ساتھ ساتھ شجرکاری اور ایکوٹورازم کے پیغام کو فروغ دیں گے۔مکرم ترین کی جنوبی پنجاب آمد پر وسیب ایکسپلورر کی جانب سے ڈاکٹر سید مزمل حسین نے ملتان تا فورٹ منرو بائیک رائیڈ کا اعلان کیا جس میں ملتان، میاں چنوں، جامپور، رحیم یار خان اور ڈیرہ غازی خان سے سیاحوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ جنوبی پنجاب کے بائیکر ٹورسٹس مکرم ترین کے ہمراہ ڈیرہ غازی خان پہنچے جہاں مقامی سیاح برادری بشمول پروفیسر شعیب رضا، ہمایوں ظفر جسکانی، حاجی عبداللہ ، محمد اسلم بھائی،سعید خان، اسد کھوسہ، عمر خان لغاری، طاہر شاہ، و دیگر نے ان کا بھرپور استقبال کیا۔ اور پھولوں کے ہار پہنائے گئے، جس کے بعد انہیں ریسکیو 1122 ڈیرہ غازی خان کے مرکزی سنٹر پر لے جایا گیا، جہاں عالمگیرخان ، ذیشان خالد اور کاشف ممتاز بخاری نے ان کا استقبال کیا، ریسکیو کی تربیت بارے آگاہی دی، انہیں کنٹرول روم کا دورہ کرایا گیا انہوں نے ریسکیو کے لان میں بسلسلہ شجر کاری سایہ دار پودا لگایا۔ اس کے بعد ڈیرہ غازی خان کے مایہ ناز تاریخ دان عمران بھٹی مرحوم کے گھر تشریف لے گئے،جہاں ان کے بھائیوں سے ملاقات کی، عمران بھٹی کی سیاحت کے حوالے سے خدمات کو سراہا اور ایصال ثواب کے لیے فاتحہ پڑھی، اس کے بعد مکرم خان نے عمران بھٹی مرحوم کی خدمات انکے بڑے بھائی کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پیش کیا۔ مکرم ترین کو سخی سرور میں الطاف شیخ اور دیگر سیاحوںنے خوش آمدید کہا بعدازاں ملتان ، ڈیرہ غازی خان ، رحیم یار خان و دیگر علاقوں کے سیاح حضرات کے ساتھ فورٹ منرو گئے جہاں انہیں جبیب اللہ بلوچ،اسدا للہ ،محمد طارق اور دیگر نے ویلکم کیا یہ ٹور ڈھائی ماہ کے عرصے پر محیط ہوگا جس میں وہ تین ممالک میں بائیک رائیڈ کریں گے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قائم ہونے جا رہا ہے کہ کسی پاکستانی بائیکر نے شجر کاری اور امن کے پیغام کو لے کر دنیا کے دیگر ممالک میں بائیک رائیڈ کی ہو۔

  • پاکستان میں سعودی سفیر کا دورہ سوات، جڑواں بہنوں سے ملاقات

    پاکستان میں سعودی سفیر کا دورہ سوات، جڑواں بہنوں سے ملاقات

    پاکستان میں سعودی سفیر نواف المالکی نے اتوار کو سوات کا دورہ کیا، جہاں سعودی سفیر نے جڑواں بہنوں فاطمہ اور مشاعل سے آپریشن کے 7 سال بعد خصوصی ملاقات کی آپریشن سے قبل جڑواں بچیاں پیٹ اور سینے سے جُڑی ہوئی تھیں-

    باغی ٹی وی: (پیراسیٹک ٹون) پیدائشی جڑواں بہنوں کا آپریشن 2016 میں ہوا تھا، دونوں بچیوں کے والد نے سعودی حکومت اور قیادت کی طرف سے بچیوں کی دیکھ بھال اور توجہ دینے پر اشکریہ ادا کیا۔


    واضح رہے کہ سعودی عرب میں اب تک 22 ملکوں کےایک دوسرےسے جڑے ہوئے 118 بچوں کے کامیاب آپریشن ہو چکے ہیں د سمبر 1991 میں ریاض کے شاہ فیصل ہسپتال میں ڈاکٹرعبداللہ الربیعہ کی سربراہی میں مملکت میں اپنی نوعیت کا پہلا سیامی بچوں کا آپریشن کیا گیا جو سوڈانی بچیوں ‘سماح اورھبہ’ کا تھا۔ بچیاں پیٹ اور سینے سے جڑی ہوئی تھیں۔


    تین دہائی قبل سعودی عرب میں اس نوعیت کا آپریشن کرنا انتہائی اہم پیش رفت اور چیلنج تھا۔ اس وقت کی رپورٹوں کے مطابق آپریشن میں کامیابی کا تناسب 55 سے 60 فیصد تھا تاہم پہلا کامیاب آپریشن سیامی بچوں کے آپریشن کے میدان میں ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔

    واضح رہے کہ پیراسیٹک ٹون (parasitic twins) عام جڑواں بچوں سے اس طرح مختلف ہوتے ہیں کہ ماں کے پیٹ کے اندر ایک بچے کی نشو و نما رک جاتی ہے اور وہ دوسرے نارمل بچے کے ساتھ پیدائش کے بعد بھی نامکمل حالت میں جڑا رہتا ہے۔

  • ملک بھر میں موسم کیسا رہے گا؟

    ملک بھر میں موسم کیسا رہے گا؟

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتراضلاع میں موسم گرم رہے گا-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ ، بلوچستان، آزادکشمیر، پنجاب اور خیبر پختونخوامیں بارش کا امکان ہے،اسلام آباد میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جبکہ کوئٹہ ،خضدار،قلات ، لسبیلہ،پنجگور، آواران میں بارش متوقع ہے-

    سستی بجلی کی جانب بڑا قدم:نیپرا کے مقابلے میں سیپرا کے قیام کا مسودہ تیار

    محکمہ موسمیات کے مطابق تربت، خاران، ژوب ، بارکھان ، سبی ، کوہلو، ہر نائی اورچمن میں بارش کا امکان ہے ،زیارت ، نصیر آباد اور ساحلی پٹی میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہےجبکہ خطۂ پوٹھوہار،گوجرانوالہ،سیالکوٹ ،نارووال اورمنڈی بہاؤالدین میں بارش کاامکان ہے-

    دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    محکمہ موسمیات کے مطابق فیصل آباد، لاہور، ساہیوال، بہاولنگر، بہاولپور،ملتان اوروہاڑی میں بارش کا امکان ہے جبکہ رحیم یار خان ، راجن پور اور ڈیرہ غازی خان میں بھی بارش کا امکان ہے-

    چیف میٹر و لوجسٹ سردار سرفراز کے مطابق کراچی میں آج دوپہر اور شام کو بارشیں متوقع ہیں،سندھ میں مون سون بارشوں کا سسٹم موجود ہے ،سسٹم کے تحت کل بھی کراچی میں تیز بارش کا امکان ہے ،عیدالاضحیٰ پر بھی بارش کا امکان ہے-

    دوسری جانب محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ عید الاضحی پر پنجاب میں بارش کا امکان نہیں ہے لاہور میں عید پر موسم ابر آلود رہنےکا امکان ہےساتھ ہی حبس بھی رہےگا تاہم عید سے پہلے بارشوں کا ایک سسٹم آ رہا ہےجس سے 6 سے 8 جولائی تک صوبے میں موسلادھار بارشیں متوقع ہیں۔

    محکمہ موسمیات نے عید پر بارشوں کے حوالے سے پیشگوئی کر دی

  • یہ پہلی حکومت ہے جس نے قبائلی اضلاع کا ترقیاتی بجٹ کم کیا، تیمور سلیم جھگڑا

    یہ پہلی حکومت ہے جس نے قبائلی اضلاع کا ترقیاتی بجٹ کم کیا، تیمور سلیم جھگڑا

    پشاور:تیمور سلیم جھگڑا نے کہا ہے کہ یہ پہلی وفاقی حکومت ہے جس نے قبائلی اضلاع کا ترقیاتی بجٹ کم کیا۔

    خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی اضلاع کے لوگوں کو صحت کارڈ کے پینل سے نکال دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب تک این ایف سی کے ذریعے ہمیں قبائلی اضلاع کا پیسہ نہیں ملتا ہے۔

    تیمور سلیم جھگڑا نے یہ بھی کہا کہ ہماری حکومت نے سب سے زیادہ قبائلی اضلاع کو سنبھالنے کے لیے کوشش کی، یہ لوگ 785 ارب روپے سے 954 ارب روپے تک وفاقی تنخواہ لے کر گئے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جانب سے گزشتہ 3 سال میں قبائلی اضلاع کا بجٹ بڑھایا گیا، یہ پہلی حکومت ہے جس نے قبائلی اضلاع کا ترقیاتی بجٹ کم کیا۔

    خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا کا مزید کہنا تھا کہ بجٹ سے پہلے بھی ہم نے مفتاح اسماعیل سے بات کی، ہم چاہتے ہیں کہ ایم او یو سائن کرنے کی پوزیشن میں آئیں۔

  • الوداع الوداع؛سداخوش رہوپاکستانیو:پاکستان میں جرمن سفیرکےآخری الفاظ

    الوداع الوداع؛سداخوش رہوپاکستانیو:پاکستان میں جرمن سفیرکےآخری الفاظ

    اسلام آباد:الوداع الوداع؛سداخوش رہوپاکستانیو:پاکستان میں جرمن سفیرکےآخری الفاظ ،یادوں کا دریچہ بن گئے ، بہت ہی پیارے اورپیاربھرے انداز سے پاکستان میں سبکدوش ہونے والے جرمن سفیر برن ہارڈ شلاگیک نے ملک کو الوداع کرتے ہوئے پاکستان کے لیے اپنے دلی جذبات کا اظہار کیا۔

    سبکدوش ہونے والے جرمن سفیر برن ہارڈ شلاگیک کہتے ہیں کہ "اگر میں کل صبح اسلام آباد اور اس کے ریڈ زون کا یہ نظارہ نہیں کروں گا تو بھی یقین دلاتا ہوں کہ … پاکستان اور اس کے لوگ میرے ذہن پر مضبوطی سے قائم رہیں گے،” انہوں نے اپنے وطن واپسی کے سفر سے قبل اپنے پیغام میں کہا۔

    جمعرات کو جرمن سفارت خانے کی جانب سے فیس بک پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں سبکدوش ہونے والے سفیر کو اپنی روانگی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے قبل سائیکل پر سوار ہوتے دیکھا گیا۔

    "یہ ایک بہت ہی خاص صبح ہے جیسا کہ آپ اس حقیقت سے دیکھ رہے ہیں کہ میں صبح سویرے یہاں ہوں،” انہوں نے کہا۔سبکدوش ہونے والے جرمن سفیر برن ہارڈ شلاگیک نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں ان کا آخری دن تھا کیونکہ ان کی مدت ملازمت ختم ہو رہی ہے اور آج رات ان کا وطن واپسی کا سفر ہے۔

    "انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "اگر یہ کہا جائے کہ ان تین سالوں میں پاکستان میں جو سب سے قیمتی چیز آئی ہے وہ کون سی ہے، میں بلا جھجک کہوں گا کہ یہ پاکستانی ہیں… وہ لوگ… جن کی سخاوت، مہمان نوازی اور مہربانی کسی سے پیچھے نہیں رہی،

    میں کہوں گا، اس نے مزید کہا، یہی وہ چیز ہے جس سے حقیقی دوستی بنتی ہے… جس سے بنی ہے۔شلاگیک نے دونوں ممالک اور اس کے عوام کے درمیان تعلقات کے تئیں اعتماد، اعتماد اور عزم پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

    میری دعائیں‌آپ کے ساتھ ہیں کہ سدا خوش رہیں آباد رہیں شاد رہیں پاکستانیو۔۔۔۔۔

  • ڈونلڈ لو سے پی ٹی آئی نے معافی مانگ لی، شواہد ہمارے پاس آچکے ہیں: خواجہ آصف

    ڈونلڈ لو سے پی ٹی آئی نے معافی مانگ لی، شواہد ہمارے پاس آچکے ہیں: خواجہ آصف

    سیالکوٹ:وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ ڈونلڈلو سے پی ٹی آئی نے معافی مانگ لی۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وفاقی وزیر خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ڈونلڈلو سے پی ٹی آئی کی معافی سے متعلق ہم نے تمام ریکارڈ حاصل کر لیا، تحریک اںصاف کے رہنما کی ملاقات اور معافی کے شواہد ہمارے پاس آچکے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ امریکاکے خلاف نعرے لگانے والا امریکا کے پاؤں پکڑ رہا ہے،عمران خان نے پیغام دیا ہے کہ ہم سے غلطی ہوگئی ہے، سلسلہ وہیں سے شروع کیا جائے جہاں سے ٹوٹا تھا۔

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مہنگائی میں اضافے کا ادراک ہے، آنے والے دنوں میں حالات بہتر ہوں گے، عمران خان کا ایجنڈا ملک میں انتشار اور فساد پھیلانا، ان کے گرد قانون کا گھیرا تنگ ہو رہا ہے، شفاف انتخابات پر یقین رکھتے ہیں۔

    سیالکوٹ سے جاری کردہ بیان کے مطابق خواجہ محمد آصف نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ شخص اپنے خون کا وفا دار نہیں، آج ادارے آئنی حدود میں رہ رہے ہیں تو یہ ان پر کیچڑ اچھالتا ہے، ہم تمام اداروں کا دفاع کریں گے، عمران خان کا ایک ہی مشن ہے کہ ہمارا ایٹمی ملک اندر سے کمزور ہو۔

    وفاقی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ 2023 میں آئین کے مطابق شفاف انتخابات ہوں گے، شفاف انتخابات پر یقین رکھتے ہیں، ملک میں انتشار اور فساد پھیلانا عمران خان کا ایجنڈا ہے، ایسا دور شروع ہوگیا ہے کہ ملک میں آئین کی حکمرانی ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ ادارے ساتھ نہ دیں تو عمران خان انکے خلاف مہم شروع کر دیتے ہیں، عمران خان چھپ کر خیبر پختونخوا میں بیٹھا رہا، سابق وزیراعظم کے گرد قانون کا دائرہ تنگ ہو رہا ہے، مہنگائی کے عذاب میں سابق حکومت نے ڈالا، ہم آئین و قانون کی حکمرانی کے داعی ہیں، اداروں کا احترام کرتے ہیں، مضبوطی کے خواہاں ہیں۔

    واضح رہے کہ:
    سابق وزیر اعظم عمران خان نے 27 مارچ کو اپنے خلاف عدم اعتماد ووٹ لائے جانے کے دوران اسلام آباد میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ایک دھمکی آمیز خط لہرا کر الزام عائد کیا تھا کہ ایک امریکی سفیر (ڈونلڈ لو) نے ہمارے پاکستانی سفیر کو کہا تھا کہ اگر عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہوگئی تو پاکستان کو بہت فائدہ ہوگا.انہوں نے مزید دعوی کیا تھا کہ ان کی حکومت کو ختم کرنے کیلئے ساری سازش امریکہ نے کی ہے.

    بعدازاں پاکستان کی اعلیٰ ترین پالیسی ساز نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس نے عمران خان کے امریکی سازش والے دعوے کو مسترد کر دیا تھا کہ انھیں اقتدار سے نکالنے کے لیے کوئی سازش ہوئی

  • باپ پارٹی کی ”ن لیگ” سےگرما گرمی۔۔| بلوچستان کے مسائل کی اصل جڑ کون ؟

    باپ پارٹی کی ”ن لیگ” سےگرما گرمی۔۔| بلوچستان کے مسائل کی اصل جڑ کون ؟

    لاہور:باپ پارٹی کی ”ن لیگ” سے گرما گرمی۔۔| بلوچستان کے مسائل کی اصل جڑ کون ؟اس حوالے سے بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ علاؤالدین مری جو کہ آج کل باغی ٹی وی سے منسلک ہیں اوربلوچستان کے مسائل کے حوالے سے ایک ماہرانہ تجزیہ اورتبصرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں آج انہوں نے بلوچستان کےمسائل کے حل نہ ہونے کا ذمہ دارقوتوں اورافراد کی نشاندہی کی ہے

    علاوالدین مری نے بلوچستان کے حوالے سے گفتگو کرتےہوئے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا وہ صوبہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام موسم اور دنیا کی قیمتی ترین معدنیات سے مالا مال کررکھا ہے لیکن اس کے باوجود یہ صوبہ ابھی بھی پسماندگی کا شکار ہے ،

    علاوالدین مری کہتے ہیں کہ اس ساری صورت حال کے ذمہ داربلوچستان کی سیاسی قوتیں بھی ہیں اور وفاق بھی اس کاذمہ دار ہے، عفیفہ راو کے ایک سوال کے جواب میں علاوالدین مری نے کہا کہ شہبازشریف کا صوبے کا تھوڑے ہی عرصے میں تین مرتبہ دورہ ایک اچھی بات ہے لیکن صرف دورے ہی کافی نہیں ، سابق حکومت کے دور میں بھی بلوچستان کی ترقی کے لیے بہت زیادہ فنڈز رکھے گئے لیکن اس کے باوجود کوئی خاص ترقی دیکھنے کو نہیں ملی

    علاوالدین مری کہتےہیں کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے قائدین اسلم بھوتانی ,خالد مگسی اور دیگررہنماوں کا یہ کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں بلوچستان کو اربوں روپے کے خصوصی فنڈزدیئے گئے لیکن ہمیں عزت نہیں دی گئی ، اوراگرموجودہ حکومت کو دیکھا جائے توہمیں اگرعزت دیتے ہیں تو بلوچستان کے لیے اس قدرفنڈز نہیں دے رہے ہیں بلوچستان ہردوراورہرحکومت میں ایسے ہی پسماندہ رہا ہے ، گوادر کے حالات سب کے سامنے ہیں ، چین کے بھی کچھ ایسے ہی کنسرن ہیں

     

     

    علاوالدین مری کہتےہیں کہ بلوچستان کی ترقی کےلیے ضروری ہے کہ بلوچستان بھرمیں ترقیاتی کاموں کے جال بچھائے جائیں ، صنعتوں کو فروغ دیا جائے ،اعلیٰ تعلیم کا بندوبست کیا جائے ، نوجوان طبقے کوفنی تعلیم دلوا کرمعاشی سرگرمیوں کے لیےتیار کیا جائے نہ کہ گورنمنٹ جاب کی طرف دھکیل دیا جائے جس میں کم تنخواہوں سے کیسے گزارہ ہوسکتا ہے

    علاوالدین مری کہتے ہیں کہ صوبے میں انڈسٹریل اسٹیٹس بنائی جائیں‌، ٹیکس فری زون بنائیں جائیں تاکہ لوگ معاشی سرگرمیوں کی طرف لوٹیں اورصوبے میں ایک بہتردور کاآغاز ہوسکے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے لیے ضروری ہےکہ بلوچستان کے ہرعلاقے میں ترقیاتی کام کیے جائیں ، لوگوں‌کوتعلیم صحت اورروزگار فراہم کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو اپنے ہی علاقوں میں روزگارمل سکے

    علاوالدین مری کہتےہیں‌کہ اس سلسلے میں حکومتوں کوعملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے نہ کہ بیانات کے ذریعے سہارا لیکرعوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جائے ،وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ صوبے کی خوشحالی کے لیے عملی اقدامات اٹھائے اور احساس محرومی ختم کرنے کےلیے کوشش کرے

  • ڈنمارک:شاپنگ مال میں فائرنگ ہرطرف آہ وبکا

    ڈنمارک:شاپنگ مال میں فائرنگ ہرطرف آہ وبکا

    کوپن ہیگن: ڈنمارک میں شاپنگ مال میں فائرنگ ہرطرف آہ وبکاکی خبریں بڑی تیزی سے وائرل ہورہی ہیں، اوراس سلسلے میں عالمی ذرائع ابلاغ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن کے ایک شاپنگ سینٹر میں متعدد افراد کو گولی مار دی گئی ہے۔

    مسلح افسران کو شہر کے جنوب میں واقع فیلڈز مال میں بھیجا گیا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

     

    وہاں کی تمام سڑکیں اور اسے شہر کے مرکز سے جوڑنے والی میٹرو لائن کو بند کر دیا گیا ہے، اور ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کا عملہ جائے وقوعہ پر موجود ہے۔

    پولیس نے بعد میں کہا کہ ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے، لیکن اس نے کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔

  • کیا سیلاب پھرسب کچھ بہالے جائے گا؟

    کیا سیلاب پھرسب کچھ بہالے جائے گا؟

    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    محکمہ موسمیات کاکہنا ہے کہ پاکستان کے بالائی اور وسطی علاقوں میںآنے والی بارشوں سے مون سون کا سلسلہ شروع ہو چکاہے جبکہ اس سال ملک کے مختلف علاقوں میں 10سے 30فیصد تک زیادہ بارشیں ہونے کی توقع ہے۔رواں سال صوبہ پنجاب اور سندھ میں زیادہ بارشیں ہوں گی جبکہ باقی تمام علاقوں میں بھی معمول سے کچھ زیادہ بارشیں ہوں گی۔پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کی وارننگ جبکہ صوبہ سندھ، پنجاب، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ کے علاوہ بڑے شہروں کراچی، لاہور، فیصل آباد سمیت دوسرے شہروں میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ رواں سال ملک میں معمول سے زیادہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں پاکستان کو 2010 جیسی سیلابی صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔
    انسان کو خدانے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن میں سب سے قیمتی اور ضروری نعمت پانی ہے ۔ انسان پانی کے بغیرچنددن سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا،ہمارے جسم کا دو تہائی حصہ پانی پرمشتمل ہے۔ پانی ایک اہم غذائی جزوہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ پانی زندگی ہے تویہ غلط نہ ہوگا،انسان کی تخلیق سے لے کر کائنات کی تخلیق تک سبھی چیزیں پانی کی مرہون منت ہیں۔ قرآن کریم میں ہے۔ وجعلنا من الماِ کل شی حی افلا یو منون۔(ترجمہ)اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان نہ لائیں گے (سورہ انبیا ، آیت30 ) دوسری جگہ قرآن مجیدمیں اعلا ن فرمایا(ترجمہ)اور اللہ نے زمین پر ہرچلنے والا پانی سے بنایا تو ان میں کوئی اپنے پیٹ پر چلتاہے اور ان میں کوئی دو پائوں پر چلتا ہے اور ان ہی میں کوئی چار پائوں پر چلتاہے۔ اللہ بناتا ہے جو چاہے،بے شک اللہ سب کچھ کر سکتاہے۔(سورہ نور)اسی کرہِ ارض یعنی زمین پر جتنے بھی جاندار ہیں خواہ انسان ہوں یا دوسری مخلوق ان سب کی زندگی کی بقا پانی پر ہی منحصر (Depend) ہے ۔زمین جب مردہ ہوجاتی ہے تو آسمان سے آبِ حیات بن کر بارش ہوتی ہے اور اس طرح تمام مخلوق کے لئے زندگی کا سامان مہیا کرتی ہے۔
    پانی جہاں زندگی کی علامت ہے وہیں بارشوں اور سیلاب کی صورت میں کئی انسانی جانوں کے ضیاع کا بھی موجب ہے،بارشیں زیادہ ہونے سے دریائوں اور جھیلوں میں جب پانی گنجائش سے بڑھ جاتا ہے توان کے کناروں سے باہر آجاتا ہے جوسیلاب کاباعث بنتاہے،جس سے ہزاروں پاکستانی متاثرہوتے ہیں ،اس سیلاب سے قیمتی انسانی جانیں موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں، فصلیں اور مال مویشی سب کچھ اس سیلاب کی نظرہوجاتے ہیں،حالانکہ محکمہ موسمیات سیلاب کی پیشگی وارننگ جاری کرتا ہے ،مگراس سیلاب سے بچائوکیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے جاتے ،جن علاقوں میں سیلاب کاخطرہ زیادہ ہوتا ہے وہاں پر ڈی سی اورکمشنرصاحبان وزٹ کرکے صرف فوٹوسیشن کرکے اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوجاتے ہیں ،یہ نہیں دیکھاجاتاکہ محکمہ انہارکے آفیسران کیاگل کھلارہے ہیں،اس سیلاب سے بچائوکیلئے سپربندوں کے پشتے مضبوط بنانے کیلئے فرضی بلنگ اورفرضی ٹھیکے دیکربڑی کرپشن کی جاتی ہے۔ان کرپشن میں لتھڑے ناسوروں کے خلاف آج تک کوئی ایسی کارروائی دیکھنے کونہیں ملی جس میں ان لوگوں کوکوئی عبرت ناک سزادی گئی ہوتاکہ آئندہ ان سیلابوں سے ہونے والے نقصانات سے مملکت پاکستان کے باسیوں کوبچایاجاسکے۔
    ہرسال سیلاب سے ہماراکسان سب سے زیادہ متاثرہوتا ہے،یہ سیلابی پانی اپنے ساتھ فصلات ،مویشی اورپختہ سڑکیں، تعمیر اور ترقی کو بہا کرلے جاتاہے جبکہ ہر سال ہی یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ سیلاب کا باعث بننے والے پانی کو ذخیرہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ ہر سال جولائی سے ستمبر تک مون سون بارشیں اپنے ساتھ سیلاب لاتی ہیں لیکن حالیہ برسوں میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ غیر معمولی صورتحال کاسامنا کرناپڑرہاہے۔اس وقت پاکستان کی زرخیز زرعی زمینیں پانی کی کمی کی وجہ سے صحرا میں تبدیل ہو رہی ہے۔پاکستان میں ایک روایت سی بن گئی ہے کہ ہر سال مون سون سیزن سے پہلے وفاقی اور صوبائی سطحوں پر ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا جاتا ہے ،ان ہنگامی صورت حال کے اعلان سے کرپشن کا ایک ناختم ہونے والاسلسلہ شروع ہوجاتاہے ،میٹنگ درمیٹنگ اورسائٹ وزٹنگ کی دوڑشروع ہوجاتی ہے ،دفتری فائلوں کے پیٹ بھرجاتے ہیں، اِس سے زیادہ اورکچھ نہیں کیا جاتا۔جب مون سون سیزن کے دوران تباہی و بربادی ہوچکی ہوتی ہے تو حسب روایت حکومتی مشینری حرکت میں آ جاتی ہے اور قومی خزانے سے کروڑوں روپے محض آنیوں اور جانیوں پر خرچ کر دیے جاتے۔ اگر یہی وسائل بارشوں اور سیلابی بربادی سے پہلے منصوبہ بندی کے تحت لگائے جائیں اور ماہر انجینئرز اور سائنسدانوں اور ماہر تعمیرات کے تجربات سے استفادہ کیا جائے تو یقینا حکومت کا سب سے احسن اقدام ہو گا۔
    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ممکنہ حالات سے بچائو کے لیے حکومتِ پاکستان نے اب تک کیا حکمت عملی اختیار کی ہے۔ پاکستان میں عوام کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں، اعلی حکومتی شخصیات اور اداروں کی غفلت و لا پرواہی کے نتائج گذشتہ سالوں میں آنے والے سیلاب کے دوران قوم بھگت چکی ہے۔حکومت کی جانب سے سیلاب سے نمٹنے اور سیلابی پانی کو نئے آبی ذخائر میں محفوظ کرنے کے لیے کسی قسم کی کوئی پالیسی یا منصوبہ بندی سامنے آئی نہ ہی کبھی مستقل بنیادوں پر کسی قسم کے کوئی ٹھوس اقدام ہی اٹھائے گئے، ہمیشہ جب سیلاب سر پر آ جاتا ہے اور اپنی غارت گری دکھاتا ہے تو نمائشی اقدامات کرکے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
    پاکستان میں دستیاب اعدا وشمار کے مطابق 2010میں سیلاب سے تقریبا دو کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں80 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے جبکہ پانچ لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ ضلع مظفرگڑھ میں سب سے زیادہ مکانات یعنی ساٹھ ہزار کو سیلابی پانی نے نقصان پہنچایا۔ رحیم یار خان اور گجرات دوسرے نمبر پر ہیں جہاں تیرہ ہزار مکانات تباہ ہوئے۔ اس کے علاوہ بھکر، ڈیرہ غازی خان، حافظ آباد، خوشاب، لیہ، میانوالی اور راجن پور بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔صوبہ خیبر پختونخواہ میںایک ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں،ڈیرہ اسماعیل خان کی آبادی سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ،تقریبا چار سو دیہات کی چھ لاکھ آبادی کو سیلاب سے نقصان پہنچا، نوشہرہ کے سو سے زائد دیہات کی پونے پانچ لاکھ آبادی کو نقصان پہنچا،چارسدہ کے80 دیہات کی ڈھائی لاکھ آبادی متاثر ہوئی،خیبر پختونخواہ کے شمالی اضلاع جن میں کوہستان، سوات، شانگلہ اور دیر شامل ہیں بعض علاقوں تک ایک ماہ گزر جانے کے باوجود زمینی رابطے بحال نہیں ہوسکے تھے۔سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے 36 لاکھ سے زائدآبادی متاثرہوئی،جیکب آباد کی سات لاکھ آبادی کو نقصان پہنچا۔کشمور میں 6 لاکھ سے زائد افرادمتاثرہوئے۔ شکارپور، سکھر، ٹھٹہ اور دادو میں بھی متاثرین کی تعداد لاکھوں میںتھی۔صوبہ سندھ میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد70سے زیادہ تھی۔ سندھ میں چار لاکھ باسٹھ ہزار مکانات کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا تھا۔بلوچستان جوکہ آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے میں تقریبا سات لاکھ لوگ متاثر ہوئے اور76 ہزار مکانات کو نقصان پہنچاتھا،کشمیر اور گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر تقریبا تین لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے اور نو ہزار مکانات کو نقصان پہنچا تھا۔
    موجودہ حالات میں ہماری قوم مہنگائی اور بیروزگاری کے ہاتھوں تباہ حالی کا شکار ہے اوراس قابل نہیں ہے کہ ممکنہ طورپرآنے والے سیلاب کامقابلہ کرسکے ،ہمارے حکمرانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرناچاہئے، ملک کو بحرانوں اورعوام کو ممکنہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر عملی اقدامات مکمل کرنے کی جتنی ضرورت آج ہے اس سے پہلے شاید کبھی نہیں تھی ، حکومتِ وقت کو کمیٹیاں بنانے اور نوٹس لینے کی بھونڈی باتوں سے نکلناہوگا کہیں ایسانہ کہ حکومت اقدامات کرتی رہے اور پانی ایک بار پھر سر سے گزر جائے اورعوام کو دوبارہ 2010ء کی طرح سیلاب کی تباہ کاریوں کاسامناکرناپڑے،سب کچھ اپنے ساتھ بہاکرلے جائے۔