Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • شیخ رشید کی سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹوں کے حق کی درخواست اعتراضات کے ساتھ واپس

    شیخ رشید کی سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹوں کے حق کی درخواست اعتراضات کے ساتھ واپس

    اسلام آباد:شیخ رشید نے سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹوں کے حق کے حوالے سے سپریم کورٹ میں درخواست دی جس پر رجسٹرار آفس سے اعتراضات عائد کردیئے گئے۔

    رجسڑار سپریم کورٹ نے سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کے حق کے لئے لکھی گئی شیخ رشید کی درخواست اعتراض لگاکر واپس کردی ہے۔

    رجسٹرار آفس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ درخواست عوامی مفاد میں دائر کرنے کی وضاحت نہیں کی گئی، درخواست گزار نے براہ راست سپریم کورٹ انے کی وجہ بھی نہیں بتائی۔

    اعتراض کیا گیا ہے کہ سمندرپار پاکستانیوں کے ووٹنگ حق کے مقدمات ماتحت عدالتوں میں زیرالتواء ہیں، درخواست کے ساتھ منسلک کئے گئے سرٹیفکیٹس بھی قانون کے مطابق نہیں، دائر کردہ درخواست پر درخواست گزار کے وکیل کے دستخط بھی موجود نہیں۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے الیکشن ایکٹ میں تارکین وطن کے ووٹ دینے کے حق سے متعلق نئی حکومت کی جانب سے کی گئی ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج تھا،

    درخواست گزار نے بدھ کے ر وز آئین کے آرٹیکل 184/3کے تحت دائر کی گئی درخواست میں وفاقی حکومت،وزارت قانون اور الیکشن کمیشن کو فریق بناتے ہوئے موقف اپنایا کہ تارکین وطن پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں اور انہیں ووٹ کے بنیادی حق سے محروم کرنا خلاف آئین ہے، حکومت تارکین وطن کو ووٹ کے حق سے محروم کررہی ہے، حکومت کی الیکشن ایکٹ میں کی گئی ترامیم آرٹیکل 218، 219 اور 222 سے متصادم ہے۔

  • برطانیہ میں دولت مشترکہ کھیلوں کا آغاز،پاکستان 12 کھیلوں میں قسمت آزمائی کرےگا

    برطانیہ میں دولت مشترکہ کھیلوں کا آغاز،پاکستان 12 کھیلوں میں قسمت آزمائی کرےگا

    لندن:برطانیہ کے شہر برمنگھم میں رنگا رنگ تقریب کے ساتھ دولت مشترکہ کھیلوں کا آغآز ہوگیا ہے۔برمنگھم میں دولت مشترکہ کھیلوں کے افتتاح کےموقع پررنگا رنگ افتتاحی تقریب میں فن کاروں نےسماں باندھ دیا۔

    تقریب میں شہزادہ چارلس نے بطورمہمان خصوصی شرکت کی۔تقریب میں قومی دستے کی قیادت کرکٹر بسمہ معروف اور ریسلر انعام بٹ نے کی۔دولت مشترکہ کھیلوں میں پاکستان کا 103 رکنی دستہ شریک ہے۔ قومی کھلاڑی 12 مختلف کھیلوں میں حصہ لیں گے۔

    پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم اپنا پہلا میچ آج بارباڈوس کےخلاف کھیلےگی جبکہ قومی ایتھلیٹس اوربیڈمنٹن ٹیم بھی اپنےمیچزآج کھیلیں گی۔ان کےعلاوہ جہاں آراء 200 میٹر اسٹائل اور بسمہ خان 100 میٹر بٹرفلائی کے مقابلوں میں حصہ لیں گی۔باکسنگ میں تیرسٹھ اعشاریہ پانچ کیٹیگری میں پاکستان کے سلمان بلوچ بھارت کے تھاپا شاوا کے مدمقابل ہوں گے۔

    پاکستان کی شاندانہ گلزار بھارت کی مخالفت کے باجود دولت مشترکہ خواتین پارلیمنٹیرینز

    دولت مشترکہ کی تنظیم کیا ہے اور پاکستان کا اس سے کیا تعلق ہے؟

    اقوام کی دولت مشترکہ ان ملکوں کی تنظیم ہے جو برطانیہ کی نو آبادیاتی رہے ہیں۔ یہ تنظیم 1926ء میں اس وقت قائم ہوئی جب سلطنت برطانیہ کا زوال شروع ہوا۔ اس تنظیم کے 53 رکن ممالک ہیں جن میں پاکستان ، بھارت اور دیگر ممالک بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر دولت مشترکہ بھی موجود ہیں جن میں آسٹریلیا کی دولت مشترکہ اور آزاد ممالک کی دولت مشترکہ شامل ہیں لیکن اقوام کی دولت مشترکہ ایک الگ تنظیم ہے۔

    بھارت کو ایک اور رسوائی کا سامنا،دولت مشترکہ کی خواتین پارلیمنٹیرینزتنظیم

    اقوام کی دولت مشترکہ کی اصطلاح 1884ء میں لارڈ روزبیری کے دورۂ آسٹریلیا کے موقع پر وجود میں آئی۔ دولت مشترکہ سیاسی تنظیم نہیں۔ ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوم دولت مشترکہ کی سربراہ ہیں جبکہ تنظیمی معاملات معتمد عام (سیکرٹری جنرل) دیکھتا ہے تاہم یہ واضح رہے کہ ملکہ برطانیہ یا معتمد عام کا کسی رکن ملک یا اس کی حکومت پر کوئی اختیار نہیں اور تمام 53 رکن ممالک آزاد ہیں۔ تنظیم کے قائم کرنے کا مقصد رکن ممالک میں اقتصادی تعاون کو فروغ دیناجمہوریت کو فروغ دینااور حقوق انسانی کی پاسداری ہے۔

    دولت مشترکہ کی پارلیمانی ایسوسی ایشن کی کانفرنس کا انعقاد خوش آئند ہے، اسد قیصر

    دولت مشترکہ کے تمام ممالک کی کل آبادی 1.975 ارب ہے جو دنیا کی کل آبادی کا 31 فیصد بنتا ہے۔دولت مشترکہ کے 4 بڑے ممالک بھارت (1،100 ملین)، پاکستان (200ملین)، بنگلہ دیش (141 ملین) اور نائیجیریا (137 ملین) ہیں۔ٹووالو بلحاظ آبادی سب سے چھوٹا رکن ہے جس کی آبادی صرف 11 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔تمام 53 رکن ممالک کا کل رقبہ 12.1 ملین مربع میل ہے جو زمین کے کل رقبے کا 21 فیصد بنتا ہے۔رقبے کے لحاظ سے دولت مشترکہ کے تین بڑے ممالک کینیڈا (3.8 ملین مربع میل)، آسٹریلیا (3 ملین مربع میل) اور بھارت (714 ہزار مربع میل) ہیں۔

    تمام رکن ممالک کی معیشت عالمی اقتصادیات کا 16 فیصد بنتی ہے۔

    اس وقت دولت مشترکہ کے معتمد عام ڈون میک کینون ہیں جو 1999ء سے اس عہدے پر فائز ہیں جبکہ رینزفورڈ اسمتھ نائب سیکرٹری معتمد عام ہیں۔ تنظیم کا صدر دفتر برطانیہ کے دار الحکومت لندن میں واقع ہے۔

    ارکان میں سے 16 ممالک ملکہ برطانیہ کو سربراہ مملکت تسلیم کرتے ہیں جبکہ اکثر رکن ممالک کے اپنے سربراہان مملکت ہیں۔ہر 4 سال بعد اولمپک کھیلوں کی طرز پر دولت مشترکہ کھیل بھی منعقد ہوتے ہیں۔

     

    پاکستان نے 1972ء میں دولت مشترکہ کی جانب سے بنگلہ دیش کو تسلیم کیے جانے پر احتجاجا دولت مشترکہ کی رکنیت چھوڑ دی تھی تاہم 1989ء میں ایک مرتبہ پھر تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی۔ 1999ء میں جمہوری حکومت کے خاتمے کے بعد دولت مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت معطل کردی تھی تاہم 2004ء میں اسے بحال کر دیا گیا۔

    کرکٹ اور رگبی کے کھیل، سڑک اور پٹری کے بائیں جانب ڈرائیونگ کا نظام اور امریکی کی بجائے برطانوی انگریزی کا استعمال دولت مشترکہ کے رکن ممالک کی پہچان ہیں۔

  • آگ سے مت کھیلو!چین کا امریکہ کوایک بارپھرانتباہ

    آگ سے مت کھیلو!چین کا امریکہ کوایک بارپھرانتباہ

    بیجنگ:امریکا کے صدر جو بائیڈن اور چین کے صدر شی جن پنگ نے ہونے والی ٹیلی فونی گفتگو میں تائیوان سمیت دو طرفہ امور پر تفصیلی گفتگو کی۔دونوں رہنماؤں کی گفتگو 2 گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہی اور باہمی تجارت سمیت متعدد حل طلب امور زیر بحث آئے۔

    چین میانمار کے خلاف اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے، امریکا

    چینی میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے اپنے امریکی ہم منصب کو متنبہ کیا ہے کہ امریکا تائیوان میں مداخلت کرکے آگ سے کھیل رہا ہے، امریکی قیادت کو معلوم ہوگا کہ آگ سے کھیلنے کا انجام کیا ہوتا ہے یعنی سب کچھ جل جاتا ہے۔

    امریکی اسپیکر کے دورہ تائیوان سے چین کے اقتدار اعلی کو شدید نقصان پہنچے گا:چین

    ڈیڑھ سال قبل صدر بننے کے بعد سے جو بائیڈن اور شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی یہ پانچویں بات چیت تھی، تجارتی جنگ اور تائیوان کے معاملے پر کشیدگی کے دوران دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کو چھپانا مشکل ہو رہا ہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور تناؤ کی تازہ ترین وجہ جو بائیڈن کی اتحادی اور ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کا جزیرہ نما ریاست تائیوان کا ممکنہ دورہ ہے جس کی اپنی الگ جمہوری حکومت ہے۔

    امریکہ اسپیکر نینسی پیلوسی کے دورہ تائیوان کےانتظامات بند کرے:چینی وزارت خارجہ

    اگرچہ امریکی عہدیداران اکثر تائیوان کا دورہ کرتے ہیں، بیجنگ، نینسی پیلوسی کے دورے کو بڑی اشتعال انگیزی سمجھتا ہے کیوں کہ وہ امریکی صدارت کے بعد دوسرے نمبر پر اہم ترین عہدیدار ہیں۔تائیوان اور چینی سرزمین کے درمیان مختصر سمندری فاصلہ ہے۔

    چین نے خبردار کیا کہ اگر یہ دورہ انجام پاتا ہے تو واشنگٹن کو اس کے نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ تاہم بتایا جاتا ہے نینسی پیلوسی نے ابھی اس تصدیق نہیں کی ہے۔

  • پاکستان براستہ سری لنکا  — محمد خضر بھٹہ

    پاکستان براستہ سری لنکا — محمد خضر بھٹہ

    اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک آزاد ریاست 14 اگست 1947 پوری قوم شکرانے کے نفل ادا کر رہی تو کوئی اپنے بچھڑے والے پیاروں کو یاد کر کے زاروقطار رو رہے اور یہ آزادی ایک عظیم لیڈر کی دن رات محنت سے ملی ایک دن بعد بھارت آزاد ہوا اور دل میں پاکستانی کی قیامت تک دشمن رہنے کی قسم کھائی.

    پاکستان کا سفر شروع ہوا تو اس وقت ہر کسی نے فرض سمجھ کہ پاکستان کو دنیا کا ترقیافتہ ملک بنانے کے لیے محنت شروع کر دی 1971 سے پہلے نشیب و فراز اس کی تاریخ کا حصہ رہے ہیں پاکستان کو شروع دن سے اقتدار کی حوس کے لیے استعمال کیا جاتا رہا اس اقتدار کی جنگ نے 1971 کو دو حصوں میں بدل دیا اور اس وقت کے دو کردار آج ذولفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن کے نام سے تاریخ کے لیڈر ثابت ہوے دور بدلتے رہے اور پاکستان بھی حالات کی کشمکش میں رہا.

    اللہ نے اس ملک کو بہت نعمتوں سے نوازا ہے جس کے کسان ایک ریڑھ کی ہڈی ہیں مزدور اس کا حسن ہیں پہاڑ،دریا،ندی نالے جھیل اس کا سنگھار ہیں جنگل سکون ہے اس ملک میں رہنے والا ہر وہ شخص اپنے پاکستان کی ترقی میں لگا ہے جو آج کا غریب ہے جس کو کرسی کی حوس نہیں اقتدار نے اسے ظالم نہیں بنایا اور اس کا دوسرا رخ بہت افسوس زدہ ہے کہ ہمارے ملک کے سیاست دان سے لیکر جرنیلوں تک جرنیلوں سے لےکر کلرک تک جس کو دیکھو اپنی جیب بھر رہا ہے آج ہر نوجوان اپنی پسند کی جماعت کے نعروں میں مصروف ہے اور ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہیں کیا یہ آزاد ریاست ہے کہ موروثی سیاست کی غلامی کرو اور نعرہ لگاتے ہو پاکستان زندہ باد.

    آج کسی کو یاد نہیں جس پاکستان کی ترقی کے لیے دن رات محنت کی خون بہا آج اس ہی پاکستان کی عزت لوٹ کہ دنیا کو بتا رہے ہو کہ ہم مفاد پرست غلام ابن غلام قوم ہیں آج میں اور آپ نہیں پاکستان بھیک مانگنے پہ آچکا ہے اور اس کے ذمے دار جتنے سیاست دان ہیں اتنا آپ اور میں ہیں آج کسی کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ ہم دیوالیہ ہونے جا رہے ہیں؟ نہیں ہمیں بس عمران خان زندہ باد،نواز شریف زندہ باد،زرداری زندہ باد کا پتہ ہے.

    ہم اپنی اس عقل سے آنے والی نسلوں کا مستقبل تباہ کر رہے ہیں یہ وہی پاکستان ہے جو گندم دوسرے ممالک کو دیتاہ تھا آج لینے پہ مجبور ہے کیوں؟گھی،دال،چینی آئل نہانے کا صابن تک باہر سے آتا ہے ہم ایک سوئی تک باہر سے لیتے ہیں اور بولتے ہیں کہ ہم غریب ملک ہیں خدا کا خوف کرو ہم غریب نہیں ہمارے حکمران چور ہیں.

    آج سری لنکا ہر ملک کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے کہ ہمیں بچا لو ہم دیوالیہ ہو چکے ہیں سری لنکا کی سوئی ہوئی عوام جو نعروں کے مزے لے رہی تھی آج انہیں نعرے لگوانے والوں کے ایوانوں صدارتی محل میں گھس کہ ازالہ کر رہے ہیں چین سری لنکا میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والا ملک ہے جیسے کہ پاکستان میں کر رہا ہے آج سری لنکا اگر بھیک مانگنے پہ مجبور ہے تو اس کی وجہ موروثی سیاست اور غلام ذہنوں کی وجہ ہے یہی لوگ کل ان کو کاندھوں پہ اٹھاتے تھے اور آج گریبان پر پڑتے ہیں سری لنکا کی حکومت نے اپنے رشتہ داروں کو وزارتیں دی کہ اقتدار کے مزے لو بندر کے ہاتھ میں ماچس آنے والا کام ہوا اور پورے رشتہ داروں نے سری لنکا کو دیوالیہ کر دیا.

    اب پاکستان بھی نا چاہتے ہوئے اسی ہی راستے پر ہے اقتدار دیکھو تو بس مفاد کے لیے سیاست دیکھو تو خاندانی اعلی افسران دیکھو تو کرپشن اور غریب دیکھو تو ہسپتال میں ہے آج پاکستان کا کسان بھی پورا سال بچوں کی طرح فصل تیار کرتا ہے فرٹیلائزر استعمال کرتاہے تو گھر کے زیور بیچ کہ اور جب منڈی پہنچتا ہے تو ٹکے کے حساب سے دے کہ آتا ہے آج نوجوان بھی لکیر کا فقیر ہو چکا ہے اگر اس پاکستان کو سری لنکا نہیں بنانا تو پھر نعرے چھوڑ کہ حق کی آواز لگانی پڑے گی خاندانی سیاست کو دفن کرنا پڑے گا کرپشن کرنے والوں کو اس ملک سے نکالنا پڑے گا اعلی اداروں کو اپنا فرض جہاد سمجھ کہ ایمانداری سے چلنا پڑے گا اور غریب کا احساس اور خدا کا ڈر پیدا کرنا پڑے گا اپنے ذہن سے غلامی کا پردہ ہٹانا پڑے گا، پھر جا کہ قائم رہے گا پاکستان زندہ باد پاکستان پایندہ باد.

    اس ملک کو نوجوان نسل کی ضرورت ہے ہمیں جسمانی آزادی تو ہے مگر ذہنی نہیں ہمیں اپنا ایک مقصد لے کے چلنا پڑے گا حق کے ساتھ کھڑے ہونگے تو ہمارا مستقبل اور آنے والی نسلوں کا مستقبل سنبھل جائے گا خدا کے لیے اس عظیم وطن عزیز کو اس موڑ نا جانے دیں جہاں سے واپس آنا نا ممکن ہو یہ ملک ایک امانت ہے ان شہیدوں کی جنہوں نے اپنا خون دے کر اس کو پاکستان کا نام دیا چلیں ایک قوم بن کر ۔۔۔پاکستان کی خاطر!

  • اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں؟؟؟ — نعمان سلطان

    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں؟؟؟ — نعمان سلطان

    ہم پاکستانی بھی عجیب لوگ ہیں. رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے فیوض و برکات سمیٹنے کے لئے ماہ مقدس میں پکے مسلمان بن جاتے ہیں اور رب کو عبادات کے ذریعے منانے کی اور اپنے گناہ بخشوانے کی کوشش کرتے ہیں. ربیع الاول میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اتنا ڈوب جاتے ہیں کہ در و دیوار، گلی محلوں بازاروں کو سجا کر اور ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محفلیں سجا اور لوگوں میں نیاز تقسیم کر کے اپنی عقیدت و محبت کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں.

    محرم میں غم حسین رضی اللہ عنہ میں اتنے سوگوار ہوتے ہیں کہ ان دنوں میں خوشیوں کی تقریبات کو ملتوی کر دیتے ہیں لوگ محبت حسین رضی اللہ عنہ میں اور قاتلین کربلا سے نفرت میں مجالس منعقد کرتے ہیں نوحے و مرثیے پڑھے جاتے ہیں.ماتمی جلوس نکال کر اور سینہ کوبی کر کے یزیدی لشکر کی مذمت کی جاتی ہے مظلوم کربلا کے سوگ میں کالے کپڑے پہن کر اپنے غم کا اظہار کیا جاتا ہے.

    محرم میں پانی کی سبیلیں لگا کر اور لنگر حسینی رضی اللہ عنہ تقسیم کر کے قاتلین کربلا کے اس عمل سے اپنی نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے جب انہوں نے کربلا کے مسافروں پر کھانا اور پانی بند کیا.

    اسی طرح اگست کے مہینے میں قومی یکجہتی کے اظہار کے لئے اور ایک الگ وطن حاصل کرنے کی خوشی میں گھروں پر اور عمارتوں پر قومی پرچم لہرائے جاتے ہیں. گلی محلوں میں ملی نغموں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں گھروں کو جھنڈیوں سے سجایا جاتا ہے عمارتوں پر لائٹنگ کی جاتی ہیں اور ریلیاں نکال کر اپنی خوشی کا عملی نمونہ پیش کیا جاتا ہے.

    لیکن ہوتا کیا ہے ہماری عبادات صرف رمضان المبارک، عشق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح اظہار صرف ربیع الاول میں، مظلوم کربلا سے اظہار یکجہتی صرف محرم میں اور حب الوطنی کے جذبات صرف اگست میں بیدار ہوتے ہیں. کیا ان مہینوں کے علاوہ ہم مسلمان، عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم، عاشق حسین رضی اللہ عنہ اور محب وطن نہیں ہیں.

    آئیں ہم آج کے بعد مخصوص مہینے کے لئے نہیں بلکہ پوری زندگی کے لئے مسلمان اور محب وطن بن جائیں اگست کا مہینہ ہے تو ہم اپنی ابتدا اسی مہینے سے کرتے ہیں ہم اپنی خود احتسابی کرتے ہیں کیا یہ ملک کسی مخصوص فرقے کے لئے حاصل کیا گیا یا مسلمانوں کے لئے، اگر مسلمانوں کے لئے حاصل کیا گیا تو ہم نے دیگر فرقوں کے مسلمانوں کے لئے اس ملک کو جہنم کیوں بنا دیا.

    قائد اعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم مسلمانوں کے لئے اس علیحدہ خطے کا مطالبہ کرتے ہیں جہاں وہ اپنے مذہب کے مطابق آزادی سےزندگی گزار سکیں لیکن افسوس آج ہم اپنے قائد کے فرمان کو بھول کر سیاسی، نسلی، لسانی تعصبات کا شکار ہو گئے فرقہ بندیوں میں پڑ گئے جس قوم نے مضبوط ہو کر دیگر مظلوم مسلمان اقوام کی مدد کرنی تھی وہ آج خود مدد کے لئے غیر مسلم حکومتوں کی طرف دیکھ رہی ہے.

    اس سب کی وجہ صرف فرقہ واریت اور عدم برداشت ہے ہم جب تک فرقہ واریت سے پاک رہے ہماری ترقی کی رفتار قابل رشک تھی دنیا کی دیگر اقوام ہمیں رشک سے دیکھتی تھیں لیکن پھر ہم نے آپس کی محبت ختم کر دی اور اپنا اتحاد ختم کر کے ٹکڑوں میں بٹ گئے آج یہ حالت ہے کہ ہم نے جن سے آزادی حاصل کی اب انہی کے ملک میں جانا اور وہاں اپنے خاندان سمیت مستقل رہائش اختیار کرنا ہماری زندگی کی سب سے بڑی خواہش ہے.

    ہم زبان سے تو کہتے ہیں کہ اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ایک ہیں لیکن ہم عملی طور پر اس پرچم کے سائے تلے ایک نہیں ہیں. ہمیں ایک ہونے کے لئے اپنے دلوں میں سے ہر قسم کے تعصبات کو ختم کرنا ہوگا. ہمیں ایک دوسرے کی نیک نیتی پر یقین کرنا ہو گا ہمیں اس طرح آپس میں متحد ہونا پڑے گا جیسے 1947 میں تمام مسلمان قائد اعظم کی قیادت میں فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر متحد تھے.

    بڑے بڑے علماء کرام نے اس حقیقت کو تسلیم کر کے کہ حقیقی آزادی قائد اعظم کی قیادت میں ملے گی آپ کو اپنا راہنما تسلیم کیا اور مساجد اور ممبر رسول سے لوگوں کو آپ کی قیادت پر متفق کیا. اسی جذبے کی ہمیں آج ضرورت ہے تاکہ ہم دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ سکیں کہ "اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں”

  • مسلم لیگ ق کاچوہدری شجاعت حسین کو پارٹی صدارت سے ہٹانےکا فیصلہ:طارق بشیرچیمہ کی بھی چھٹی

    مسلم لیگ ق کاچوہدری شجاعت حسین کو پارٹی صدارت سے ہٹانےکا فیصلہ:طارق بشیرچیمہ کی بھی چھٹی

    پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا ہنگامی اجلا س پاکستان مسلم لیگ کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے 40ممبران کی درخواست پر مسلم لیگ ہاؤس پنجاب لاہور میں سینئر رہنما و ممبرسینٹرل ورکنگ کمیٹی سینیٹر کامل علی آغا کی زیر صدارت منعقد ہوا

    اجلاس میں سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے ممبران کی متفقہ منظوری کے بعد مرکزی صدر پاکستان مسلم لیگ چوہدری شجاعت حسین اور مرکزی سیکرٹری جنرل طارق بشیر چیمہ کی فی الفور ان کے عہدوں سے فارغ کردیا گیا اور پاکستان مسلم لیگ کے آئین کے آرٹیکل 118/119کے تحت مرکزی صدر اور مرکزی سیکرٹری جنرل کی خالی نشستوں پر10یوم کے اندر انتخابات کروانے کیلئے کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی الیکشن کمیشن کے چیئرمین سینئر ایڈووکیٹ جہانگیر اے جھوجھا ہونگے جبکہ دیگر ممبران میں امتیاز رانجھا،خدیجہ عمر فاروقی،اشتیاق گوہر ایڈووکیٹ، چوہدری عبدالرزاق کمبوہ ایڈووکیٹ مقررکیے گئے ہیں۔

    دونوں عہدوں پر 10دن تک انتخابات تک مرکزی صدر اور سیکرٹری جنرل کے اختیارات مرکزی چیئرمین الیکشن کمیشن پاکستان مسلم لیگ جہانگیر اے جھوجھا ایڈوکیٹ کے سپر د کردیئے گئے۔ مرکزی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کی طرف سے سپیکر پنجاب اسمبلی کی خالی نشست پر ہونے والے انتخابات کیلئے تحریک انصاف کے امیدوار سبطین خان کی حمایت کا اعلان بھی کردیا گیا اور پاکستان مسلم لیگ کے تمام اراکین اسمبلی کو انہیں ووٹ دینے کی ہدایات بھی جاری کردی گئیں۔اجلاس میں متفقہ طور پر منظور ہونے والی قراردادیں درج ذیل ہیں۔

    قرارداد نمبر1(تنویر اعظم چیمہ ایڈووکیٹ مرکزی ممبر سینٹرل ورکنگ کمیٹی پاکستان مسلم لیگ)

    سنٹرل ورکنگ کمیٹی پاکستان مسلم لیگ کا آج کا یہ اجلاس صدر پاکستان مسلم لیگ جناب چوہدری شجاعت حسین صاحب کی گزشتہ لمبے عرصے سے خرابی صحت کی وجہ سے فیصلوں کی استعداد ختم ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔آج کا یہ اجلاس صدر محترم کی طرف سے اپنے بھائی اور صوبائی صدر پاکستان مسلم لیگ پنجاب جناب چوہدری پرویز الہٰی صاحب کی نامزدگی بطور وزیراعلیٰ پنجاب حمایت اور تائید کرنے کے بعد چوہدری طارق بشیر چیمہ سیکرٹری جنرل پاکستان مسلم لیگ اور ا پنے بیٹے چوہدری سالک حسین کی سازش کا شکا ر ہوکر ایک خط کے ذریعے اپنی پارٹی کے ممبران صوبائی اسمبلی کو مخالف امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالنے کی ہدایت جاری کردی۔جس کا اختیار آئین پاکستان کے تحت ان کو حاصل نہ تھا۔جس کی وجہ سے پارٹی کی بہت بدنامی ہوئی اور پارٹی کو نقصان پہنچا ہے۔

    یہ کہ اس فیصلہ سے چوہدری شجاعت حسین کی مسلسل بیماری کی وجہ سے ذہنی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اس ذہنی کیفیت میں پارٹی کی صدارت کرنے کی صلاحیت کھوچکے ہیں۔اس لیے پارٹی کو مکمل تباہی سے بچانے کے لئے ضروری ہوگیا ہے کہ انہیں پاکستان مسلم لیگ کی صدارت سے فی الفور الگ کردیا جائے اور سیکرٹری جنرل چوہدری طارق بشیر چیمہ کو بھی پارٹی مفادات کے خلاف مسلسل اقدامات اٹھانے پر سیکرٹری جنرل کے عہدے سے الگ کردیا جائے۔

    یہ کہ آج کے بعد دونوں اصحاب صدر پاکستان مسلم لیگ چوہدری شجاعت حسین اور سیکرٹری جنرل پاکستان مسلم لیگ چوہدری طارق بشیر چیمہ کو ان کے عہدوں سے فارغ کیا جاتا ہے اورآج کے بعد وہ اپنے اختیارات بطور صدر اور سیکرٹری جنرل استعمال نہ کریں۔ سینٹرل ورکنگ کمیٹی سے گذارش کرتا ہے کہ ان کی جگہ فوری الیکشن کروانے کیلئے ایک قرارداد کے ذریعے پارٹی آئین کے آرٹیکل 118/119کے تحت الیکشن کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے

    قرارداد نمبر 2(میاں محمد منیر مرکزی ممبر سینٹرل ورکنگ کمیٹی پاکستان مسلم لیگ)

    آج کا سینٹر ل ورکنگ کیمٹی پاکستان مسلم لیگ کا یہ اجلاس مرکزی صدر پاکستان مسلم لیگ اور سیکرٹری جنرل کی نشستیں خالی ہونے پر بقیہ مدت کے لئے الیکشن کا اعلان کرتا ہے اور اس سلسلہ میں الیکشن کروانے کیلئے زیر آرٹیکل 118/119آئین پاکستان مسلم لیگ مندرجہ ذیل پانچ سینئر اراکین پاکستان مسلم لیگ پر مشتعمل الیکشن کمیشن کا تقرر عمل میں لایا جاتا ہے۔جہانگیر اے جھوجھہ ایڈووکیٹ چیئرمین الیکشن کمیشن پاکستان مسلم لیگ ممبران میں امتیاز رانجھا،خدیجہ عمر فاروقی،اشتیاق احمد گوہر ایڈووکیٹ،چوہدری عبدالرزاق کمبوہ ایڈووکیٹ،

    قرارداد نمبر 3(خدیجہ عمر فاروقی ایم پی اے،مرکزی ممبر سینٹرل ورکنگ کمیٹی پاکستان مسلم لیگ)

    سینٹر ل ورکنگ کیمٹی پاکستان مسلم لیگ کا آج کا یہ اجلاس فیصلہ کرتا ہے کہ آج سے الیکشن کی تکمیل تک جہانگیر اے جھوجھہ سینئر ایڈووکیٹ چیئرمین الیکشن کمیشن پاکستان مسلم لیگ آئین پاکستان مسلم لیگ کے تحت الیکشن کی تکمیل تک صدر اور سیکرٹری جنرل کے تمام تنظیمی اور انتظامی اختیارات استعمال کریں اور وہ تمام انتظامی اور تنظیمی اختیارات استعمال کرتے ہوئے دس(10)دن کے نوٹس پر الیکشن کیلئے جنرل کونسل کا خصوصی اجلاس طلب فرما کر جنرل کونسل سے سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے فیصلوں کی منظوری لے کر اسی اجلاس میں الیکشن کا انعقاد یقینی بنائیں۔

    قرارداد نمبر 4(وقاص حسن موکل مرکزی ممبر سینٹرل ورکنگ کمیٹی پاکستان مسلم لیگ)

    سینٹرل ورکنگ کمیٹی پاکستان مسلم لیگ کا آج کا یہ اجلاس فیصلہ کرتا ہے کہ صوبائی اسمبلی پنجاب میں سپیکرپنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی کے بطور وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہونے کے بعد سپیکر کی نشست خالی ہونے پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار محمد سبطین خان کی حمایت کا اعلان کرتا ہے اور تمام ممبران صوبائی اسمبلی پاکستان مسلم لیگ کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ سپیکر کے لیے الیکشن میں جناب محمد سبطین خان کے حق میں ووٹ ڈالیں۔

    قرار داد نمبر5جاوید اقبال گورائیہ مرکزی ممبر سینٹرل ورکنگ کمیٹی پاکستان مسلم لیگ)

    پاکستان مسلم لیگ کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا آج کا یہ اجلاس چوہدری پرویز الہٰی صدر پاکستان مسلم لیگ پنجاب اور وزیراعلیٰ پنجاب کو ان کی پارٹی اور ملک کیلئے قابل ذکر خدما ت ادا کرنے پربھر پور خراج تحسین پیش کرتا ہے اور خواہش کا اظہار کرتا ہے کہ آئندہ بھی وہ پہلے سے بڑھ کر فلاحی اور رفاہی منصوبے بنا کر عوامی خدمت کے لیے ریکارڈ قائم کرینگے اور پارٹی کی عوام میں مزید عزت کا باعث بنیں گے

    واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے دوران چوہدری شجاعت حسین کی جانب سے حکومتی اتحاد کی حمایت اور ڈپٹی اسپیکر کو لکھے گئے خط کے معاملے پر ق لیگ کے سربراہان میں اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے۔

    چوہدری پرویز الٰہی اور مونس الٰہی پاکستان تحریک انصاف کے حامی ہیں جبکہ چوہدری شجاعت حسین اور ان کے بیٹے سالک حسین مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سمیت پی ڈی ایم اتحاد کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    سینیٹر کامل آغا کا کہنا تھا کہ پارٹی کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی نے 10 روز میں انٹرا پارٹی الیکشن کی بھی تجویز دی ہے اور اجلاس میں 5 رکنی پارٹی الیکشن کمیشن کا تقرر کیا گیا ہے۔ انٹرا پارٹی الیکشن کیلئے سینئر ایڈووکیٹ جہانگیر اے جوجہ کو چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ 10 روز میں پارٹی جنرل کونسل اجلاس بلایا جائے گا۔ اجلاس میں اسپیکر پنجاب اسمبلی کیلیے سبطین خان کے نام کی منظوری دی گئی اور ق لیگ ممبران پنجاب اسمبلی کو ہدایت دی کہ وہ سبطین خان کو ووٹ دیں۔

  • پاکستان اور چین بہترین دوست اور آئرن برادرز ہیں ،وزیراعظم

    پاکستان اور چین بہترین دوست اور آئرن برادرز ہیں ،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہبازشریف سے پاکستان میں عوامی جمہوریہ چین کے سفیرجناب نونگ رونگ نے آج اسلام آباد میں ملاقات کی.

    پاکستان اور چین کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں اور تعاون کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نے 16 مئی 2022 کو چینی ہم منصب عزت ماب Li Keqiang کے ساتھ ٹیلی فون کال میں اپنی جامع بات چیت کا حوالہ دیا اور پاکستان -چائنہ آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو مزید گہرا اور مضبوط بنانےکے عزم کا اظہار کیا .

    وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور چین بہترین دوست، مضبوط ترین شراکت دار اور آئرن برادرز ہیں۔ دونوں ممالک ہر چیلنج میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے اور بنیادی دلچسپی کے اہم امور پر تعاون کو فروغ دیا ۔ انہوں نے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور ترقی کے لیے چین کی حمایت کو سراہا، جس میں ابھرتے ہوئے اقتصادی چیلنجوں اور عالمی سپلائی چینز اور اشیاء میں اتار چڑھاؤ سے پیدا ہونے والے مسائل نمٹنے کے لیے تعاون شامل ہے۔

    وزیر اعظم نے اس عزم کا اظھار کیا کہ انکی حکومت سی پیک منصوبوں کی تیز رفتار اور اعلیٰ معیار تکمیل کے لیے بھرپور کوشش کرے گی ۔ انہوں نے پاکستان کے ترقیاتی منصوبوں میں ML-1 اور کراچی سرکلر ریلوے جیسے اہم منصوبوں کی اہمیت پر زور دیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ سی پیک جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی کے آئندہ 11ویں اجلاس میں ان منصوبوں کو حتمی شکل دے دی جائے گی ۔ خصوصی اقتصادی زونز کی جلد تکمیل کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے ملک کی صنعتی ترقی میں چینی اداروں کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا۔

    وزیر اعظم نے 2021 میں پاکستان کی 3.6 بلین امریکی ڈالر کی ریکارڈ برآمدات کا حوالہ دیا . مزید براں وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ چین کو پاکستانی برآمدات کے لیے مارکیٹ تک رسائی میں اضافہ سے پاک چین آزاد تجارتی معاہدے کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے میں مدد ملے گی۔ملاقات میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، وزیر مملکت خارجہ امور حنا ربانی کھر، وزیر اعظم کے معاونین خصوصی طارق فاطمی، ظفر اللہ محمود اورجہانزیب خان نے بھی شرکت کی .

    کراچی دھماکا، خاتون خود کش بمبار نے کیا، کالعدم تنظیم نے ذمہ داری قبول کر لی

    چینی باشندوں کی جان لینے والوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکائیں گے،

    کراچی یونیورسٹی میں ایک خاتون کا خودکش حملہ:کئی سوالات چھوڑگیا،

    پاکستان میں تعینات چینی ناظم الامور مس پینگ چَن شِیؤکی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ سے ملاقات ہ

    کراچی کی مچھر کالونی کی سن لی گئی،سی پیک سے متعلق سست روی کا تاثر غلط ہے،خالد منصور

  • پاکستان میں ٹیکس کا کلچر موجود نہیں ہے:عائشہ غوث پاشا

    پاکستان میں ٹیکس کا کلچر موجود نہیں ہے:عائشہ غوث پاشا

    اسلام آباد: پاکستان میں ٹیکس کا کلچر موجود نہیں ہے، عائشہ غوث پاشا نے ایک بارپھر ٹیکس اصطلاحات کا مطالبہ کردیا ،تفصیلات کے مطابق وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے چھوٹے ریٹیلر اور کاروبار پر سیلز کے ذریعے ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔

    فکسڈ سیلز ٹیکس مسترد، تاجروں کا بجلی کے بل جمع نہ کرانے کا اعلان

    عاشئہ غوث پاشا نے کہا کہ انکم ٹیکس لگانے کا طریقہ ایک ہی ہونا چاہیے ہر کوئی جس کی تنخواہ مقرر کردہ حد سے زیادہ ہے وہ ریٹرن جمع کرائیں۔

    عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھا کہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں، پاکستان میں ٹیکس کا کلچر موجود نہیں ہے اس لئے ہم ٹیکس نیٹ بڑھانا چاہ رہے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم نے پینشن بھی بڑھائی ہے، فیٹف اور آئی ایم ایف پروگرام ہے ہم خود چاہتے ہیں کہ ملک میں ڈالر آئیں۔

    سپرٹیکس 15 کروڑ سے زائد کی سالانہ آمدنی پر لگے گا. ایف بی آر

    وزیر مملکت خزانہ نے کہا کہ اس وقت عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، یوکرائن کی جنگ اور بحران کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم نے اپنے بجٹ خسارے کو کم کرنے کی کوشش کی ہے، ہم سے 70 سے 80 فیصد براہ راست ٹیکس لگائے ہیں جبکہ ہم نے مہنگائی سے بچنے کے لئے ان ڈائریکٹ ٹیکس نہیں لگائے۔

    بجلی کے بلوں میں اضافی ٹیکس کا نفاذ، تاجروں نے 5دن کا الٹی میٹم دیدیا

    وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا کا مزید کہنا تھا کہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں، وزیراعظم بی آئی ایس پی کے تحت ڈیزل پیٹرول سکیم بھی لائے۔

  • مشترکہ مفادات پر تعلقات کو بڑھانے کیلئے پر امید ہیں:آرمی چیف

    مشترکہ مفادات پر تعلقات کو بڑھانے کیلئے پر امید ہیں:آرمی چیف

    راولپنڈی :آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پولینڈ کے ساتھ مشترکہ مفادات پر تعلقات کو بڑھانے کے لیے پر امید ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے پاکستان میں جمہوریہ پولینڈ کے سفیر ہز ایکسیلینسی مسٹر میکیج پسارسکی نے آج جی ایچ کیو میں ملاقات کی۔

    ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ اور دفاعی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان پولینڈ کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ہم مشترکہ مفادات کی بنیاد پر باہمی فائدہ مند کثیر ڈومین تعلقات کو بڑھانے کے لیے پر امید ہیں۔آرمی چیف اور پولش سفیر نے دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کی خواہش کا اعادہ کیا۔

    معزز مہمان نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔

  • اسحاق ڈار نے وطن واپسی ملتوی کردی

    اسحاق ڈار نے وطن واپسی ملتوی کردی

    لاہور:سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وطن واپسی ملتوی کردی ہے۔یاد رہے کہ سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جولائی کے آخری ہفتے میں وطن واپس آنے کا اعلان کیا تھا۔

    قانونی مشیروں نے اسحاق ڈار کو سپریم کورٹ میں پٹیشن کا فیصلہ آنے تک لندن میں قیام بڑھانے کا مشورہ دے دیا ہے۔اسحاق ڈار کی جانب سے غیر قانونی طور پر اشتہاری قرار دئیے جانے والے فیصلے کی پٹیشن سپریم کورٹ میں زیرِسماعت ہے۔

    اگلے چند دنوں میں پاکستان واپس جاؤں گا:اسحاق ڈار کی تصدیق

    اس سے قبل اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ پاکستان جانےکےحوالےسےپروگرام منسوخ نہیں ہوا اورپاکستان روانگی کا شیڈول جولائی کے آخر میں ہے۔ذرائع کا پہلے بھی کہنا تھا کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی وطن واپسی میں قانونی پیچیدگیاں ہیں۔

    سابق وزیراعظم نوازشریف نے حکومتی عہدے داروں کو قانون پیچیدگیاں اور اسحاق ڈار کے لئے حالت ساز گار بنانے کی ہدایات کی تھی۔

    ضروری تھا کہ شہباز شریف لندن آکر مشورہ کریں،اسحاق ڈار

    پچھلے ماہ اسحاق ڈار نے بتایا تھا کہ نواز شریف کی ہدایت اور رضامندی پر پاکستان واپس جارہا ہوں، ڈاکٹرز نے بھی سفر کی اجازت دیدی ہے۔

    واضح رہے کہ 2017 سے لندن میں مقیم اسحٰق ڈار نے پاکستان واپسی کی تصدیق کرتے ہوئے گزشتہ ماہ اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ جولائی میں پاکستان واپس جائیں گے۔

    سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو پاسپورٹ جاری

    مسلم لیگ ن کے مرکزی نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے سحاق ڈار وطن واپسی پر لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسحاق ڈار کی وطن واپسی کا فیصلہ پارٹی سطح پر نہیں ہوا، وطن واپسی سے متعلق اسحاق ڈار کا اپنا فیصلہ ہے وہ جب بھی وطن واپسی کا فیصلہ کریں یہ ان کا فیصلہ ہوگا۔