Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • لاہور:موسم گرما کی تعطیلات میں اضافہ کردیا گیا

    لاہور:موسم گرما کی تعطیلات میں اضافہ کردیا گیا

    لاہور:سخت گرمی ، حبس یا پھرانتظامی معاملات پنجاب صوبائی حکومت کی جانب سے حالیہ مون سون کے پیش نظر موسم گرما کی تعطیلات بڑھا دی گئی ہیں۔

    اس حوالے سے یونیورسٹی آف پنجاب کی جانب سے جاری نوٹی فیکیشن کے مطابق موسم گرما کی تعطیلات میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ چھٹیوں کو چودہ اگست تک بڑھایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل چھٹیاں 29 جولائی تک تھیں۔

     

     

    پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے دو ماہ قبل موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان کیا گیا تھا جوکہ 29 جولائی تک جاری رہنی تھی، تاہم اب پنجاب یونیورسٹی نے موسم گرما کی چھٹیوں میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

    پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری نوٹی فیکیشن کے مطابق یونیورسٹی 15 اگست سے دوبارہ کھلے گی۔

    دوسری جانب پنجاب میں مختلف پرائیوٹ اسکولز کی جانب سے بھی والدین کو چھٹیوں میں اضافے کے ایس ایم ایس کیے گئے ہیں۔

    یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صوبہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی اور نئی کابینہ کی تاحال تشکیل نہ ہونے کے باعث صوبائی وزیر تعلیم کا عہدہ خالی ہے۔

    دوسری طرف لاہور نے سکولوں کا 17 کروڑ روپے کا نان سیلری بجٹ روک لیا گیا،1 ہزار 119سکولوں کو آخری سہ ماہی کی قسط جاری نہ ہوسکی،سکولوں کو سہ ماہی قسط جاری نہ ہونے پر سکول سربراہان پریشان ہیں۔

    تفصیلات کےمطابق 1ہزار119 سکولوں کو آخری سہ ماہی کی قسط تاحال جاری نہ ہوسکی،سکولوں کو گزشتہ مالی سال میں اپریل ،مئی ،جون کے فنڈز تاحال نہ مل سکے۔ یکم اگست سے تعلیمی سرگرمیاں شروع ہونے سےقبل سکولوں کو فنڈز درکار ہیں۔بیشتر سکولوں کے پاس فنڈز دستیاب نہ ہونے کے باعث بجلی منقطع ہونے کا خدشہ ہے۔

    سکول سربراہان کےمطابق چھٹیاں ختم ہونے میں تین روز باقی ہیں۔انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سکولوں کو نان سیلری بجٹ کی آخری قسط فی الفور جاری کی جائے۔محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے فنڈز ملتے ہی سکولوں کو جاری کردیے جائیں گے۔

  • بلوچستان:30سالوں سے500 فیصد زائد بارشوں سے تباہی،ایمرجنسی نافذکردی گئی

    بلوچستان:30سالوں سے500 فیصد زائد بارشوں سے تباہی،ایمرجنسی نافذکردی گئی

    کوئٹہ :پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں حالیہ مون سون میں تیس سالوں سے پانچ سو فیصد زائد بارشوں سے 111 افراد جاں بحق، جب کہ مختلف حادثات میں ایک ہزار افراد زخمی اور 50 ہزار گھر متاثر ہوئے ہیں۔ضلع لسبیلہ میں سیکڑوں افراد ریلے میں پھنس گئے، صوبے بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

     

    چیف سیکریٹری بلوچستان، ڈی جی پی ڈی ایم اے اور این ایچ اے حکام نے مشترکا پریس کانفرنس میں بتایا کہ بلوچستان میں دس اضلاع زیادہ چودہ نارمل متاثر ہوئے ہیں، اس دوران بارشوں اور سیلاب سے 6070 گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے،جب کہ 6 ہزار کلو میٹر سڑکیں، 2 لاکھ ہیکٹر رقبے پر کھڑی فصلیں متاثر ہوئی ہے۔

     

    چیف سیکریٹری بلوچستان کے مطابق مختلف حادثات اور سیلاب بارشوں سے 17500 افراد کو ریسکیو کیا گیا، متاثرہ 16ہزار 87 گھروں کے لئے راشن اور 10ہزار سے زائد شیلٹر فراہم کئے گئے۔ تاہم خراب موسم کی وجہ سے فضائی ریلیف آپریشن جاری ہے۔ اس موقع پر صوبائی اور وفاق کی جانب سے متاثرین کیلئے 10،10 لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان بھی کیا گیا ۔

     

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے  نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے چیئرمین نے بتایا کہ حب میں نیا بائی پاس بنا رہے ہیں، ایم ایٹ پر کچھ جگہوں پر ٹریفک بحال کر دی گئی ہے، جب کہ سیلاب اور بارشوں سے متاثر ہونے والے پلوں کی مرمت بھی کردی گئی ہے، جس کے بعد لائٹ اور ہیوی ٹریفک رواں دواں ہے۔

    ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے ( PDMA) کے مطابق بلوچستان کے ضلع لسبیلہ ( Lasbela ) میں طوفانی بارش کے بعد سیکڑوں افراد سیلابی ریلے میں پھنس گئے ہیں، جب کہ اوڑکی اور دیگر مقامات سے سیلابی ریلے میں پھنسے 250 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔ فیصل پانیزئی کے مطابق ریسکیو کیے گیے افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ لسبیلہ کے دیگر علاقوں میں بھی متاثرین کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

     

     

    مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ مشکل کی اس گھڑی میں متاثرین کے ساتھ ہیں، صوبہ بھر میں شدید بارشوں سے وسیع پیمانے پر نقصانات ہوئے۔ موجودہ صورت حال کے تناظر میں لندن کا سرکاری دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

     

     

    مخدوم صورت حال کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے تمام سیاسی مصروفیات ترک کرتے ہوئے ضلع لسبیلہ کے دورے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ بلوچستان صوبے میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

     

     

    پی ڈی ایم کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان موسلا دھار بارشوں کے دوران جاں بحق افراد کی تعداد 106ہوگئی ہے، جب کہ مختلف حادثات میں 62 افراد زخمی بھی ہوئے۔ کوئٹہ میں مون سون بارشوں سے 6077 گھر منہدم جب کہ 712 مویشی سیلابی پانی کی نظر ہوگئے۔

    بارشوں سے کان مہترزئی خانوزئی کے متعدد دیہات زیر آب آگئے۔ ریسکیو ٹیموں کے مطابق ہنہ اوڑک میں چالیس خاندانوں کو محفوظ مقام پرمنتقل کر دیا گیا، کیچ، تربت، گوادر، پنجگور، لسبیلہ بھی بارشوں سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ضلع واشک میں کھڑی فصلوں اور سولر پینلز کو نقصان پہنچا ہے۔ شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث پانی مساجد سمیت گھروں میں داخل ہوگیا۔

    پشین میں جمعرات 28 جولائی کو بھی موسلا دھار بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، کلی تراٹہ اور نیو خان اسکیم میں گھروں کی دیواریں گرگئیں، جب کہ متاثرین کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اے اور حکومتی سطح پر امداد اور مدد کیلئے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

    پاک بحریہ کی جانب سے حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ریلیف آپریشن جاری ہے۔

    ترجمان پاک بحریہ کے مطابق پاک بحریہ ریلیف آپریشن کے دوران سول انتظامیہ کی مسلسل معاونت کررہا ہے۔

    زمینی راستہ منقطع ہونے کی وجہ سے پاک بحریہ کے ہیلی کاپٹرز نے بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے مختلف علاقوں میں راشن اور دیگر ضروری سامان پہنچایا گیا ہے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ پاک بحریہ مشکل کی اس گھڑی میں سیلاب زدہ علاقوں کے عوام کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔

    بیان کے مطابق بولان، لسبیلہ، اوتھل ،جھل مگسی اور غذر میں سیلاب کے دوران پھنسے 700 سے زائد خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے حب، لسبیلہ، اوتھل، زیروپوائنٹ، دیودر اور غذر جی بی میں فری میڈیکل کیمپ لگائے ہیں جہاں لوگوں کو طبی سہولیات اور مفت ادویات فراہم کی جارہی ہیں

    بیان کے مطابق لسبیلہ، اوتھل، جھل مگسی، خضدار اور دیگر متاثرہ علاقوں میں 7.5 ٹن غذائی اشیاء، پناہ گاہیں اور دیگر امدادی سامان فراہم کیا گیا ہے۔ امدادی سرگرمیوں اور سیلاب کی وجہ سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بلوچستان کے مختلف مقامات پر اسٹینڈ بائی ریسپانس ٹیمیں تعینات ہیں۔

  • گال ٹیسٹ میں پاکستان کو شکست، سیریز برابر

    گال ٹیسٹ میں پاکستان کو شکست، سیریز برابر

    کولمبو:گال ٹیسٹ میں پاکستان کو شکست، سیریز برابر،کولمبوسے اطلاعات کےمطابق پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ، کھیل کے میدان سے آنے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ گال ٹیسٹ میں سری لنکا نے پاکستان کو 246 رنز سے شکست دے کر دو میچوں کی سیریزایک ایک سے برابر کردی۔

    گال ٹیسٹ کے آخری دن جب کھیل کا آغاز ہوا تو پاکستان کو جیت کے لئے مزید 419 رنز جب کہ سری لنکا کو 9 وکٹیں درکار تھیں۔

    پاکستان نے 508 رنز کے ہدف کا تعاقب شروع کیا تو آخری روز اوپنر امام الحق 49 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے 37 رنز اسکور کئے۔

     

    فواد عالم ایک رن پر رن آؤٹ ہوئے جبکہ آغا سلمان صرف 4 رنز اسکور کرسکے۔لنچ پر کپتان بابر اعظم 76 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے۔

     

    لنچ کے بعد بابر اعظم 81، محمد نواز 12، یاسر شاہ 27 اور حسن علی 11 رنز بناسکے۔ نسیم شاہ 18 رنز پر آؤٹ ہوئے۔سری لنکا کی جانب سے پرابتھ جیاسوریا نے5 اوررمیش مینڈس نے 4 وکٹ حاصل کیے۔

     

     

     

     

     

    لنچ کے بعد پاکستان کو دو سیشنز میں 320 رنز درکار تھے جبکہ سری لنکا کو 5 وکٹ چاہیئے تھیں۔

     

    اس سےقبل سری لنکا کی ٹیم نے دوسری اننگز 360 رنز 8 کھلاڑی آؤٹ پر ڈیکلئیر کردی۔سری لنکا نے پہلی اننگز میں 378 رنز اسکورکئے تھے۔ پاکستان کی ٹیم 231 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی تھی۔

  • ‏عدالتی اصلاحات کے بغیر جمہوریت کا سفر نا مکمل ہوگا،ایک پاکستان میں 2 آئین نہیں چلیں گے۔ بلاول

    ‏عدالتی اصلاحات کے بغیر جمہوریت کا سفر نا مکمل ہوگا،ایک پاکستان میں 2 آئین نہیں چلیں گے۔ بلاول

    اسلام آباد:پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین اور وفاقی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ ایسے نہیں ہوسکتا ہمارے لیے ایک اورلاڈلے کے لیے دوسرا آئین ہو، ہمارا کام آئین بنانا اورعدلیہ کا کام تشریح کرنا ہے، خود ترمیم لانا نہیں، ایسا نہیں ہوسکتا تین جج آئین تبدیل کردیں۔ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنادی جائے جس میں ہم قانون سازی کریں گے، ہم فیصلہ کریں گے کتنے ججز کو بنچ میں بیٹھنا چاہیے، اگراسپیکرکی رولنگ پرفیصلہ سنانا چاہتے ہیں تو سو بسم اللہ مگر پورے ججز کو بٹھانا ہو گا۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خارجہ نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کا ایک ہی مطالبہ تھا، ہم کسی ادارے کو دباؤ میں ڈالنے کی کوشش نہیں کر رہے تھے، صرف یہ گزارش کی تھی فل کورٹ بیٹھ کر فیصلہ سنا دے، ہم نے کہا تھا فل کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہوا ہم مانیں گے، یہ مطالبہ صرف وزیراعلیٰ پنجاب کے معاملے پر نہیں تھا، ڈپٹی سپیکررولنگ کے حوالے سے ہمارا فل کورٹ کا مطالبہ تھا۔

    انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت نے آئین توڑا میرا تب بھی یہی مطالبہ تھا، آئین پاکستان کی تشکیل کے لیے 30 سال کا عرصہ لگا، شہید بے نظیربھٹونے آئین کی بحالی کے لیے جدوجہد کی، آئین میں ترمیم کے لیے دوتہائی اکثریت درکارہوتی ہے۔ صوبوں کوحقوق دینے کے لیے اٹھارویں ترمیم لائے، ہردن عوام کے مینڈیٹ اور جمہوریت پرحملے ہوتے رہے، عدلیہ بحالی تحریک، کراچی کے جیالوں کو گولیاں ماری گئیں، سابق چیف جسٹس افتخارچودھری ایسے فیصلے دیتے تھے جو آئین وقانون کے مطابق نہیں ہوتے تھے، ہم اپنا کام کرتے رہے اور جمہوریت کو بحال کیا، کبھی ٹماٹر، کبھی آلوؤں کی قیمت پر سوموٹولیتے تھے، ہم نے ملک اورقوم کے ساتھ جوڈیشل ریفارمز کا وعدہ کیا تھا۔ جوڈیشل ریفارمزیہ ہاؤس کرے گی۔

    پیپلز پارٹی کے چیئر مین کا کہنا تھا کہ مانتا ہوں دھمکی میں آکر19ویں ترمیم پاس کی، ہمیں آئین کوتبدیل نہیں کرنا چاہیے تھا، اس وقت کی اپوزیشن شائد اس قسم کی جوڈیشل ایکٹوزم سے خوش تھی، ٹوتھرٖڈ میجورٹی رکھنے والے وزیراعظم کو گھر بھیج دیا گیا، 2018ء کے الیکشن میں چند ججز کا رول تھا، صاف نظر آرہا تھا چند ججزالیکشن کمپین میں حصہ لے رہے تھے، ثاقب نثارہمارے خلاف الیکشن مہم چلارہا تھا، پولنگ والے دن فیصل صالح حیات الیکشن جیت رہا تھا، ثاقب نثارنے ری پولنگ کی مخالفت کی تھی، یہ جناب سپیکرمتنازع کردارہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ سلیکٹڈ نظام بٹھانے کے لیے کردار آئینی نہیں متنازع کردارادا کررہے تھے، ہم چاہتے ہیں وہ متنازع نہیں آئینی کردارادا کریں، اسٹیبلشمنٹ،عدلیہ کا کردارمتنازع نہیں ہونا چاہیے، یہی وجہ تھی ہم نے فل کورٹ کا مطالبہ کیا تھا، ایسے نہیں ہوسکتا ایک آئین نہیں، دوآئین اوردوپاکستان ہو، مجھے فرق نہیں پڑتا پرویزالہیٰ یا حمزہ شہبازوزیراعلیٰ پنجاب ہو، ایسے نہیں ہوسکتا ہمارے لیے ایک اورلاڈلے کے لیے دوسرا آئین ہو، ہمارا کام آئین بنانا اورعدلیہ کا کام تشریح کرنا ہے، خود ترمیم لانا نہیں، ایسا نہیں ہوسکتا کہ تین جج آئین تبدیل کردیں، جوڈیشل ریفارمزکرنے تک جمہوریت کا سفرنامکمل ہوگا۔

    اُنہوں نے مزید کہا کہ 2018ء کے انتخابات کے دوران ایسا لگتا تھا کہ کئی ججز انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں ، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار ہمارے خلاف مہم چلا رہے تھے، 2018 سے اپریل 2022 تک سلیکٹڈ حکومت کو بچانے کے لیے اداروں نے متنازعہ کردار ادا کیا، عدلیہ اور سٹیبلشمنٹ کا کردار غیر متنازعہ ہونا چاہیے، اسی لیے ہم نے فل کورٹ کا مطالبہ کیا تھا، ایسا نہیں ہو سکتا دو آئین پاکستان ہوں، ایک فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ کی ہدایات ضروری ہے، دوسرے فیصلے کے مطابق پارلیمانی پارٹی کی ہدایات ضروری ہیں، عدالتی اصلاحات کے بغیر جمہوریت کا سفر نا مکمل ہوگا، سپریم کورٹ کا مطلب صرف چیف جسٹس نہیں ہے، سپیکر صاحب میرا مطالبہ ہے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے، یہ ہم طے کریں گے پارلیمان سے متعلق کیسز میں کتنے ججز کو بیٹھنا چاہئیے، پارلیمان سے متعلق کیس میں تمام ججز کو بٹھا کر فیصلہ کرنا ہوگا۔

    وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنادی جائے جس میں ہم قانون سازی کریں گے، ہم فیصلہ کریں گے کتنے ججز کو بنچ میں بیٹھنا چاہیے، اگراسپیکرکی رولنگ پرفیصلہ سنانا چاہتے ہیں تو سو بسم اللہ مگر پورے ججز کو بٹھانا ہو گا، جناب سپیکر آپ قدم بڑھائیں، پیپلزپارٹی جوڈیشل ریفارمزکے لیے تیارہے، ایک رات کی نیوٹریلٹی سے 70سال کے گناہ معاف نہیں ہوسکتے، شہبازشریف کے پاس مسائل کوحل کرنے کے لیے جادوکا چراغ نہیں، عوام کوپتا ہے خان صاحب نے تاریخی قرض لیے، ماننے کوتیارنہیں عوام اس قسم کے لوگ کومعاف کرنے کو تیارہوں گے، ہم تگڑے، ڈٹ کراس مسئلے کوحل کرنا ہوگا، آئین شکنی، جمہوریت کے خلاف کام بنی گالہ سے ہویا کسی اورجگہ سے انصاف کرنا ہوگا، اگرہم یہ کام نہیں کرسکتے تو پھر اسمبلی کوتالا لگادیں ہم کیوں خوارہوتے ہیں، وقت آگیا ہے جمہوریت کا نعرہ نہیں قانون سازی کریں، پارلیمان میں وہ طاقت ہے ہر مسئلہ حل کرسکتے ہیں۔

    بلاول نے کہا کہ جناب سپیکر آج ہی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنائیں، سپریم کورٹ صرف چیف جسٹس نہیں تمام ججزپرمشتمل ہے، آئین سازی پارلیمنٹ کا اختیارہے۔

  • ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کااجلاس:ملک بھرمیں ہونےوالےجانی و مالی نقصان پراظہار افسوس

    ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کااجلاس:ملک بھرمیں ہونےوالےجانی و مالی نقصان پراظہار افسوس

    اسلام آباد:قومی اسمبلی کی ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں منعقد ہوا۔اجلاس میں حالیہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں ملک بھر میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا گیا،

    بلوچستان اور کراچی سمیت دیگر علاقوں میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے عوام سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں قومی اسمبلی کے رواں اجلاس کے ایجنڈے، دورانیے اور قانون سازی پر مشاورت کی گئی۔

    اس اہم اجلاس میں قومی اسمبلی کی 75 سالہ تقریبات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا ، اس حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ 75 سالہ تقریبات 11 اگست سے 14 اگست تک منائی جائیں گی۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس اہم اجلاس میں قومی اسمبلی کے رواں اجلاس کو بروز بدھ 3 اگست 2022 تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

    رواں اجلاس میں وقفہ سوالات، قانون سازی ، توجہ دلاو نوٹس اور عوامی اہمیت کے حامل موضوعات کو زیر بحث لائے جائے گا۔

    اجلاس میں وفاقی وزرا، مرتضیٰ جاوید عباسی، خالد حسین مگسی، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم درانی نے شرکت کی۔اجلاس میں تمام جماعتوں سے تعلق رکھنے والے بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے ممبران نے شرکت کی۔

  • وفاقی وزیرمحمد اسرار ترین کا نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (NRTC) ہری پور کا دورہ

    وفاقی وزیرمحمد اسرار ترین کا نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (NRTC) ہری پور کا دورہ

    اسلام آباد:وفاقی وزیرمحمد اسرار ترین کا نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (NRTC) ہری پور کا دورہ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار جناب محمد اسرار ترین نے نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (NRTC) ہری پور کا دورہ کیا۔

    نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (NRTC) ایک عالمی معیار کی انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (ICT) اور الیکٹرانک آلات بنانے والا اور عوامی اور نجی دونوں شعبوں میں حل فراہم کرنے والا ہے۔

    دورے کے دوران، NRTC کے منیجنگ ڈائریکٹر بریگیڈیئر محمد عاصم اسحاق نےنیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (NRTC) میں مقامی طور پر تیار کیے جانے والے بڑے مواصلاتی اور حفاظتی آلات کے بارے میں بتایا جو کہ پاکستان کی مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ بہت سے دوست ممالک کو برآمد کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کر رہے ہیں۔

    اس موقع پر وفاقی وزیر کو محفوظ اور سمارٹ سٹی منصوبوں کے لیے تیار کی جانے والی جدید ترین ٹیکنالوجیز کے بارے میں مزید بریفنگ دی گئی۔

    اس موقع پر وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار نے کمرشل اور ملٹری الیکٹرانک/مواصلاتی آلات کو معیاری بنانے کے لیے سٹیٹ آف دی آرٹ ٹیسٹنگ لیبز کا افتتاح کیا۔ وزیر نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا اور الیکٹرانک آلات کی مقامی تیاری کے لیے ٹیکنالوجی میں ترقی، اختراعات اور NRTC کی صلاحیتوں میں توسیع کے لیے NRTC انجینئرز کے کردار اور بھرپور کوششوں کی ستائش کی۔

    وفاقی وزیردفاعی پیدوار نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ دفاعی صنعتوں کا مقامی اور برآمدی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کم لاگت اور اعلیٰ ٹیکنالوجی کا سامان تیار کرنا فخر کی بات ہے۔

  • گال ٹیسٹ کا چوتھا روز:کم روشنی کے باعث کھیل روک دیا گیا

    گال ٹیسٹ کا چوتھا روز:کم روشنی کے باعث کھیل روک دیا گیا

    کولمبو: گال ٹیسٹ کا چوتھا روز:کم روشنی کے باعث کھیل روک دیا گیا ،کولمبو سے اطلاعات کے مطابق دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے دوسرے میچ میں سری لنکا کی جانب سے دیے گئے 508 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے ایک وکٹ کے نقصان پر 89 رنز بنا لیے۔

    چوتھےدن کا کھیل ختم ہوا تو پاکستان نے ایک وکٹ کے نقصان پر 89 رنز بنائے تھے، بابر اعظم 26 اور امام الحق 46 رنز بناکر کریز پر موجود تھے۔ پاکستان کو پانچویں اور آخری روز میچ جیتنے کیلئے مزید 419 رنز جبکہ سری لنکا کو 9 وکٹیں درکار ہوں گی۔

    پاکستان کی جانب سے دوسری اننگز کا آغاز عبد اللہ شفیق اور امام الحق نے کیا تاہم عبد اللہ شفیق 16 رنز بنا کر 42 کے مجموعے پر جے سوریا کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔

    پاکستان نے 28 اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 89 رنز بنائے تھے کہ خراب روشنی کے باعث کھیل روک دیا گیا اور پھر چوتھے دن کا کھیل ختم کردیا گیا، کھیل ختم ہوا تو امام الحق 46 اور بابر اعظم 26 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود تھے۔پاکستان کو سری لنکا کی جانب سے دیے گئے 508 رنز کے حصول کے لیے مزید 419 رنز درکار ہیں۔

    قبل ازیں سری لنکا نے دوسرے اور آخری ٹیسٹ کی دوسری اننگز 360 رنز 8 کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کر کے پاکستان کو جیت کے لیے 508 رنز کا پہاڑ جیسا دیا تھا۔

    گال ٹیسٹ کے چوتھے روز سری لنکا نے اپنی دوسری نامکمل اننگز 176 رنز 5 کھلاڑی آؤٹ پر شروع کی تو دمتھ کرونا رتنے 27 اور دننجیا ڈی سلوا 30 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود تھے۔

    دونوں بلے بازوں نے اپنی ٹیم کا اسکور آگے بڑھایا اور کرونا رتنے 61 رنز بنا کر نعمان علی کی گیند پر عبد اللہ شفیق کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے جبکہ ڈونتھ ویلا لگے 18 رنز بنا کر محمد نواز کاشکار بنے۔

    دوسری جانب ڈی سلوا نے شاندار بلے بازی کا سلسلہ جاری رکھا اور شاندار سنچری مکمل کی، ڈی سلوا 109 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے تو کپتان کرونا رتنے نے 360 رنز 8 کھلاڑی آؤٹ پر اننگز ڈکلیئر کردی اور پاکستان کو جیت کے لیے 508 رنز کا ہدف دے دیا۔

    یاد رہے کہ سری لنکا نے پہلی اننگز میں 378 رنز بنائےتھے جس کے جواب میں پاکستانی ٹیم پہلی اننگز میں 231 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی۔پاکستان کو دو میچز کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔

  • مستقل معاشی بحران جمہوریت کیلئے خطرہ :۔ تجزیہ:شہزاد قریشی

    مستقل معاشی بحران جمہوریت کیلئے خطرہ :۔ تجزیہ:شہزاد قریشی

    عدالتی فیصلے کے بعد ایک طبقہ اس صورتحال سے پریشان ہے اور دل برداشتہ ہے جبکہ دوسرا طبقہ اس کو آئین اور قانون کی فتح قرار دے رہا ہے ۔ تاہم تبصروں کا سلسلہ شروع ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ملک کا اقتدار اور سیاست اتنا پرکشش نہیں رہا جتنا سمجھا جا رہا ہے موجودہ معاشی صورت کے پیش نظر حالات کا ادراک رکھنے والا کوئی بھی ذی شعور انسان کانٹوں کا یہ تاج سر پر سجانا نہیں چاہے گا۔ عوام کا استحصال اور معاشی قتل ہو رہا ہے اور یہ معاشی قتل عمران خان کے دور حکومت سے شروع ہوا اور تادم تحریر شہباز حکومت میں بھی جاری ہے۔

    تاہم بے حسی حکومت کرنے والوں کی وطن عزیز میں بنیادی شرط ہے تاہم موجودہ حالات کے پیش نظر ملک کے مقتدر حلقوں کی کوشش ہے کوئی ایسا درمیانی راستہ نکالا جائے ملک میں رواداری ،سیاسی انتشار کا خاتمہ کیا جائے اور مصالحت کروائی جائے تاکہ ملکی معیشت مستحکم ہو۔ درمیانی راستہ تو ملک میں انتخابات ہیں کیا پی ڈی ایم اور شہبازشریف اس پر آمادہ ہونگے؟ تاہم کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان تصادم جتنی شدت اختیار کر گیا ہے درمیانی راستہ نکالنا اتنا آسان نہیں۔ تاہم موجودہ سیاسی کامیڈی سرکس سے بیزار عوام سیاست سے نالاں عوام اپنے بنیادی مسائل کے عذابوں میں مبتلا ہیں۔ ملک کے سیاستدانوں کو ایک بات یاد رکھنی چاہئے جب معیشت کا مستقل بحران شدت اختیار کرنے لگتا ہے تو جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے بنیادی مسائل سے دوچار عوام بھی کسی اور کا ساتھ دیتے ہیں۔ ملک کی تاریخ گواہ ہے جنرل ایوب سے لے کر پرویز مشرف تک کے اقتدار کو انہی سیاستدانوں نے سہارا دیا اور عوام نے بھی۔

    ملک میں آئین، قانون اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے ساتھ ساتھ جمہوریت مستحکم قرار دادیں پاس کرنے سے نہیں ہوتی۔ اس کے لئے جمہوری رویوں کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ موجودہ سیاسی انتشار سے ثابت ہوتا ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوںنے تاریخی سے سبق نہیں سیکھا۔ عمران خان سمیت ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو جمہوری رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ جمہوری رویوں کو فروغ دینے جمہوریت کو مستحکم کرنے ملک میں قانون، آئین پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا۔ ملک اور عوام کے مسائل کو حل کرنے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بقول ملک کے تین بار وزیراعظم نوازشریف کے ٹویٹ جو انہوں نے کیا کہ ملک کو تماشا بنا دیا گیا ہے خدارا اس ملک کو عالمی سطح پر تماشا نہ بنایا جائے۔

    وقت ہے، جمہوریت بچا لیں،تجزیہ ” شہزاد قریشی

  • گال ٹیسٹ: سری لنکا کے 508 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری

    گال ٹیسٹ: سری لنکا کے 508 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری

    گال:دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے دوسرے میچ میں سری لنکا کی جانب سے دیے گئے 508 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری ہے۔یہ ٹیسٹ پاکستان کے لیے بہت بھاری ہے اورپاکستان کے لیے اسکورز کا ایک پہاڑ سامنے ہے جو سرکرنا ہے

    پاکستان کی جانب سے اننگز کا آغاز عبد اللہ شفیق اور امام الحق نے کیا اور گرین کیپس نے بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے 34 رنز بنا لیے ہیں، عبد اللہ شفیق 14 اور امام الحق 19 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود ہیں۔

    قبل ازیں سری لنکا نے دوسرے اور آخری ٹیسٹ کی دوسری اننگز 360 رنز 8 کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کر کے پاکستان کو جیت کے لیے 508 رنز کا پہاڑ جیسا دیا تھا۔

    گال ٹیسٹ کے چوتھے روز سری لنکا نے اپنی دوسری نامکمل اننگز 176 رنز 5 کھلاڑی آؤٹ پر شروع کی تو دمتھ کرونا رتنے 27 اور دننجیا ڈی سلوا 30 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود تھے۔

    دونوں بلے بازوں نے اپنی ٹیم کا اسکور آگے بڑھایا اور کرونا رتنے 61 رنز بنا کر نعمان علی کی گیند پر عبد اللہ شفیق کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے جبکہ ڈونتھ ویلا لگے 18 رنز بنا کر محمد نواز کاشکار بنے۔

    دوسری جانب ڈی سلوا نے شاندار بلے بازی کا سلسلہ جاری رکھا اور شاندار سنچری مکمل کی، ڈی سلوا 109 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے تو کپتان کرونا رتنے نے 360 رنز 8 کھلاڑی آؤٹ پر اننگز ڈکلیئر کردی اور پاکستان کو جیت کے لیے 508 رنز کا ہدف دے دیا۔

    یاد رہے کہ سری لنکا نے پہلی اننگز میں 378 رنز بنائےتھے جس کے جواب میں پاکستانی ٹیم پہلی اننگز میں 231 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی۔

  • نیب نے وزیراعظم آفس سے بحریہ ٹاون اور این سی اے ڈیل کا ریکارڈ مانگ لیا

    نیب نے وزیراعظم آفس سے بحریہ ٹاون اور این سی اے ڈیل کا ریکارڈ مانگ لیا

    اسلام آباد:نیب نے عمران خان حکومت میں بیریسٹر شہزاد اکبر کی زیر قیادت قائم کردہ اثاثہ ریکوری یونٹ (اے آر یو) کیخلاف مالی فوائد کی خاطر اختیارات کے غلط استعمال اور برطانیہ سے موصول ہونے والی جرمانہ کی رقم کے معاملے میں اعتماد کو ٹھیس پہنچانے اور ریکارڈ کو غیر قانونی انداز سے سیل کرنے کے الزامات کے تحت تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ ادارے نے باضابطہ طور پر وزیراعظم آفس سے رجوع کر لیا ہے اور شہزاد اکبر کے دفتر سے تمام متعلقہ ریکارڈ کی نقول فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔

    قائم مقام چیئرمین اور ڈی جی نیب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش

    وزیراعظم آفس کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ’’نوٹ ٹوُ دی پرائم منسٹر‘‘ کی نقل فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے جو دسمبر 2019ء میں بھیجی گئی تھی جس میں دو پاکستانی شہریوں احمد اور مبشرا کے جرائم سے حاصل ہونے والی رقم سرنڈر کرکے برطانیہ سے پاکستان بھیجنے کی بات کی گئی تھی۔

    قائم مقام چیئرمین نیب نے مزید 5 ایڈیشنل ڈائریکٹرز اور ایک ڈپٹی ڈائریکٹر کے تبادلے

    نیب کی جانب سے جو تفصیلات مانگی گئی ہیں ان میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے ساتھ مذکورہ بالا دو پاکستانی شہریوں کے حوالے سے کی گئی مکمل خط و کتابت، ان افراد کے غیر قانونی انداز سے کمائی گئی رقم اور اس رقم کی پاکستان منتقلی کی تفصیلات شامل ہیں۔

    آفتاب سلطان کو چئیرمین نیب تعینات کرنے کی منظوری دے دی گئی

    ‏نیب نے وزیراعظم ٓشہباز شریف کے افس سے عمران خان حکومت کا بحریہ ٹاون اورنیشنل کرائم ایجنسی ڈیل کا ریکارڈ مانگ لیا