Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • متنازعہ عدالتی فیصلہ ؛ حمزہ شہباز شریف کا بیان سامنے آ گیا

    متنازعہ عدالتی فیصلہ ؛ حمزہ شہباز شریف کا بیان سامنے آ گیا

    حمزہ شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بیان میں کہا کہ ایک متنازعہ فیصلے کے ذریعے عوام کے ووٹوں سے منتخب حکومت کو گھر بھیجا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : حمزہ شہباز شریف نے کہا کہ کیا اسمبلی کی حیثیت ایک ربر اسٹیمپ کی رہ گئی ہے؟ پچھلے چار ماہ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں تماشہ لگا ہوا ہےعوام دیکھ رہی ہے کہ تحریک انصاف کو آئین سے کھلواڑ کرنے کی کھلی چھٹی دی جاتی ہے۔

    حمزہ شہباز نے کہا کہ دوسری طرف ایک آئینی اور قانونی طریقہ کار کو ردی کی ٹوکریوں میں پھینک دیا جاتا ہے ہماری تاریخ ایسے سیاہ فیصلوں سے بھری پڑی ہے ہماری فل کورٹ کی استدعا کو بھی نامنظور کر کے انصاف کا قتل کیا گیا میری سیاست عہدوں کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے ہے۔

    انہوں نے کہا کہ غیر آئینی اقدامات کے ذریعے پہلے دن سے ہمیں جائز حق حکمرانی سے محروم رکھنے کی کوشش کی گئی تمام مشکلات کے باوجود آٹے پر سبسڈی ، مفت ادویات اور روشن گھرانا مفت بجلی جیسے پروگرامز سے عوام کو ریلیف دینے کے مشن سے پیچھے نہیں ہٹا۔

    حمزہ شہباز نے کہا کہ سدا بادشاہی اللہ تعالی کی ہے، نہ کسی کی ہار ہمیشہ کی ہے نہ کسی جیت کو دوام حاصل ہے مشن پاکستان کو بچانا ہے اور میں اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔

    حمزہ شہبازشریف نےکہا کہ جسٹس منیر اور مولوی مشتاق کی بدروحیں آج بھی عوام کی امنگوں پر ڈاکے ڈال رہی ہیں،بھٹو کو پھانسی دینے والے ججوں نے بعد میں پچھتاوے کا اظہار کیا لیکن ملک کو ہونے والےنقصان کی تلافی نہ ہوسکی۔

  • ڈیفالٹ کا خطرہ اور اس سے بچنے کے اقدامات — نعمان سلطان

    ڈیفالٹ کا خطرہ اور اس سے بچنے کے اقدامات — نعمان سلطان

    ملک کی خراب معاشی صورتحال کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے. خراب معاشی صورتحال کی سب سے بڑی وجہ ڈالر کی اونچی پرواز ہے روزانہ کی بنیاد پر ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے اور اسی طرح اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے.

    ماہرین یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر صورتحال اسی طرح چلتی رہی تو خدانخواستہ ملک کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے. آسان ترین الفاظ میں ملک کی امپورٹ ایکسپورٹ میں عدم توازن کی وجہ سے ڈیفالٹ کا خطرہ پیدا ہوتا ہے.

    یعنی فرض کریں آپ کے ذرائع آمدنی (ایکسپورٹ) سے آپ پچاس(50)روپے کماتے ہیں اور آپ کے خرچے(امپورٹ) ستر(70) روپے ہیں تو آمدنی اور خرچ میں بیس(20) روپے کا فرق ہے.اب اس فرق کو دور کرنے کے لئے یا تو آپ کو اپنی آمدنی بڑھانی پڑے گی یا اپنے خرچے کم کرنے ہوں گے اگر آپ یہ دونوں کام نہیں کرتے تو پھر آپ کو مجبوراً قرضے لے کر یہ فرق پورا کرنا پڑے گا.

    اب مسئلہ یہ ہے کہ قرض کوئی اللہ واسطے تو دیتا نہیں ہے تو وہ آپ کو بیس(20) روپے قرض سود پر دے گا اور سود بھی آپ کی طلب اور مجبوری کے مطابق زیادہ سے زیادہ لے گا. تو آپ اپنے خرچے کم نہ کرنے اور ذرائع آمدنی نہ بڑھانے کا خمیازہ ہر مہینے کا خسارہ بیس(20) کے بجائے پچیس (25) روپے ہر مہینے بھگتیں گے.

    یہ اضافی پیسے آپ اپنی آمدن میں سے ہی دیں گے اس لئے آپ کی آمدن اور خرچ میں فرق بڑھتا جائے گا یہاں تک کہ آپ اتنے مقروض ہو جاؤ گے کہ قرض کی قسط بھی مزید قرض لے کر ادا کرو گے اور یہاں سے قرض دینے والا اپنی مرضی کی شرائط پر آپ کو قرض دے گا اور لازمی بات ہے کہ وہ شرائط قرض دینے والے کے مفاد میں ہوں گی

    اور جب ایک وقت ایسا آئے گا کہ آپ کے پاس قرض کی ادائیگی کے لئے کچھ بھی موجود نہ رہے تو آپ ہاتھ کھڑے کر دیں گے یعنی یہ تسلیم کر لیں گے کہ میں کنگال ہو گیا ہوں یا ڈیفالٹ کر گیا ہوں اور قرض دینے والا آپ کی گروی رکھی تمام اشیاء اور اثاثے ضبط کر لے گا اس وقت یہی صورت حال وطن عزیز کی بن رہی ہے ہم بھی تیزی سے اس طرف بڑھ رہے ہیں جہاں ہمارا ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ موجود ہے.

    اس خطرے کی بڑی وجہ ملک میں جاری سیاسی افراتفری اور اس کے نتیجے میں روزانہ بڑھنے والی ڈالر کی قیمت اور اس قیمت کے بڑھنے کی وجہ سے خودبخود قرضے اور اس کے سود میں ہونے والا اضافہ ہے. اس وقت ہماری معیشت آئی ایم ایف سے ملنے والے قرضے کی محتاج ہے آئی ایم ایف نے قرضے کی شرائط طے کرنے کے لئے ایک مضبوط سیاسی حکومت سے مذاکرات کی شرط اور عرب ممالک سے ملنے والے قرض سے مشروط کر دی ہے.

    یعنی اس وقت ہم ایک چکر میں پھنس گئے ہیں اور اس چکر سے نکلنے کا راستہ سب سے پہلے ملک میں سیاسی استحکام پیدا کر کے ملنے والا ہے. ایک مستحکم سیاسی حکومت کی وجہ سے ملک میں پھیلی غیر یقینی کی صورتحال ختم ہو جائے گی جسکی وجہ سے ڈالر کی مصنوعی طور پر بڑھی قیمت کم ہو کر مستحکم ہو جائے گی جس کا اثر ہمارے قرضے اس کے سود اور مہنگائی پر بھی پڑے گا اس کے علاوہ ہمیں مزید قرضہ بھی ملے گا جس سے وقتی طور پر معیشت کا پہیہ چلانے میں مدد ملے گی.

    اس کے بعد ہماری پہلی ترجیح آمدن اور خرچے میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے توازن پیدا کرنا ہے ہمیں اپنے ایکسپورٹ بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کرنی ہے کیونکہ اس کے بغیر ہماری آمدن نہیں بڑھ سکتی ہمیں تھوڑا عرصہ امپورٹڈ اشیاء کا استعمال کم سے کم کر کے اور حکومتی سطح پر ہر ممکن سادگی اپنا کر اور تمام سرکاری یا سیاسی افراد کی تنخواہوں کے علاوہ مفت سہولیات ختم کر کے عوام کو ڈیفالٹ کے خطرے سے بچنے کے لئے اپنی نیک نیتی کا عملی ثبوت فراہم کرنا ہے اور یقین کریں کہ اگر ہم آج ڈیفالٹ کے خطرے سے بچنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر خلوص نیت سے ترجیحی بنیادوں پر کام شروع کریں تو عنقریب دنیا میں ہماری کوششوں کی دوسرے ملکوں کو مثالیں دی جائیں گی.

  • ہنڈائی کمپنی نے اپنی کاروں کی قیمتیں 830,010 روپے تک بڑھا دیں

    ہنڈائی کمپنی نے اپنی کاروں کی قیمتیں 830,010 روپے تک بڑھا دیں

    کراچی :ہنڈائی نے اپنی کاروں کی قیمتیں 830,010 روپے تک بڑھا دی ہیں۔اطلاعات کے مطابق کار ساز کمپنی نے ایلینٹرا 1.6 کی قیمت 4.341 ملین روپے سے بڑھا کر 5.099 ملین روپے کر دی۔ اس نے ایلینٹرا 2.0 کی قیمت 500,510 روپے کے اضافے کے بعد 5.499 ملین روپے تک بڑھا دی۔

    کمپنی کا سوناٹا 2.0 830,010 روپے سے 7.899 ملین روپے مہنگا ہو گیا۔ اس نے سوناٹا 2.5 کی قیمت 7.927 ملین روپے سے بڑھا کر 8.499 ملین روپے کردی، جو کہ 571,510 روپے کا فرق ہے۔

    ٹویوٹا اور ہنڈئی نے گاڑیوں کی پروڈکشن روک دی…. جانیے کس ملک میں

    آٹو تجزیہ کار ارسلان حنیف نے کہا کہ آٹوموبائل اسمبلرز روپے کی قدر میں کمی کے مطابق گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کر رہے ہیں کیونکہ قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہ ہونے سے ان کی آمدنی پر منفی اثر پڑے گا۔

    پچھلے ہفتے ہیونڈائی نشاط نے Tucson FWD اور Tucson AWD گاڑیوں کی قیمتوں میں 1.1 ملین روپے کا اضافہ کیا۔

    ٹویوٹا موٹرز نے ٹیسلا کا مقابلہ کرنے کیلئے کونسی ٹیکنالوجی متعارف کروائی ؟

    کمپنی ڈیلرشپ اور جے ایس کی تحقیق کے مطابق، کمپنی نے Tucson FWD کی قیمت کو 6.899 ملین روپے اور Tucson AWD کی قیمت کو 7.399 ملین روپے تک بڑھا دیا۔ روپے کی قدر میں کمی سے آٹو اسمبلرز سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں کیونکہ زیادہ تر آٹو پارٹس درآمد کیے جاتے ہیں۔

    ٹویوٹاانڈس نےپاکستان میں پیداواربندکرنےکا فیصلہ کرلیا

    ادھر دوسری طرف پاکستان میں گاڑیوں کے عالمی برانڈ ٹویوٹاانڈس نے پیداواربندکرنےکا فیصلہ کرلیا ہے ، اس حوالے سے پاکستان کے سنیئر تجزیہ نگارمبشرلقمان جو کہ معاشی اور اقتصادی صورت حال سے بخوبی واقف رہتے ہیں ، انہوں نے اہل وطن کوباخبررکھتے ہوئے کہاہے کہ ٹویوٹا انڈس جلد ہی اپنی پیداوار بند کردے گی۔

     

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ ٹویوٹا انڈس موٹرز کےاندرونی ذرائع نے اس صورت حال سے آگاہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس وقت معاشی گرداب میں پھنس جانے کی وجہ سے سرمایہ کار بھی پریشان ہیں، مبشرلقمان نے ٹویوٹا انڈس موٹرز کے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس کوئی زرمبادلہ نہیں ہے اور اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ وہ مدد نہیں کر سکتے۔

    ٹویوٹا انڈس کی طرف سے یہ بھی فیصلہ متوقع ہے کہ اسٹیٹ بینک کی طرف سے انکار کے بعد جلد ہی انہیں ان کاروں کے لیے تمام ایڈوانسز واپس کرنا ہوں گے جو ان کے پاس ہیں اور اگر یہ حالت برقرار رہی تو تمام پروڈکشن بند کر دی جائے گی۔

     

     

    مبشرلقمان نے اس حوالے سے معاشی صورت حال پر دکھ کااظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ بہت سے درآمد کنندگان کو سنگین مسائل کا سامنا ہے کیونکہ بینک ان کے لیے L/Cs نہیں کھول رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بینک 260 روپے فی ڈالر چاہتے ہیں کیونکہ پاکستانی روپے کا اتار چڑھاؤ نہیں رک رہا ہے۔ مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ صورت حال اس قدر خراب ہوگئی ہےکہ ملک میں کاروبار ٹھپ ہونے والے ہیں کیونکہ ہم درآمدات پر منحصر معیشت ہیں۔

     

     

  • یو ایس ایڈ، پاکستان میں ویکسی نیشن کیلئے20ملین ڈالرفراہم کریگا،عبدالقادر پٹیل

    یو ایس ایڈ، پاکستان میں ویکسی نیشن کیلئے20ملین ڈالرفراہم کریگا،عبدالقادر پٹیل

    وفاقی وزیر برائے قومی صحت عبدالقادر پٹیل نےکہا ہے کہ یو ایس ایڈ نے پاکستان میں ویکسی نیشن کیلئے اضافی طور پر 20ملین ڈالر کی فراہمی کا وعدہ کیا ہے،امریکی سنٹر فار ڈیزیز کنٹرول بھی پاکستان میں بیماریوں کے ڈیٹا سینٹر کی مضبوطی کیلئے ادارہ صحت کی معاونت کرے گا ۔

    ادویات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ

    وزارت صحت سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کااظہارانہوں نے امریکامیں پاکستان اور امریکا کے درمیان ہیلتھ ڈائیلاگ کے موقع پر کیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور امریکا نے صحت کے شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وبائی امراض اور صحت کے تحفظ کےچیلنج سے نمٹنے کیلئے پاک امریکا اشتراک کار بہت اہم ہے۔امریکی فوڈ اینڈڈرگ ایڈمنسٹریشن اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے درمیان تعاون مستحکم کرنے کافیصلہ کیاہے۔

     

    پاکستان جیسے زرعی ملک میں گزشتہ حکومت میں غذائی بحران آئے۔ وزیر اعظم

     

    وفاقی وزیر نے کہاکہ یو ایس ایڈ نے پاکستان میں ویکسی نیشن کیلئے اضافی طور پر 20ملین ڈالر کی فراہمی کا وعدہ کیاہے،پاکستان اور امریکا حفاظتی ٹیکہ جات ،غذائیت ،زچہ بچہ کی صحت، نوزائیدہ بچوں کی زندگیاں بچانے اور سرحد پار صحت کے تحفظ بارے تعاون میں پیش رفت کریں گے، دونوں ممالک نے پاکستان میں بیماریوں پر قابو پانے کیلئے سینٹر کی تشکیلِ و ترقی کیلئے مشترکہ کوششیں شروع کر دی ہیں۔

     

    درآمدی شعبے کے لیے گیس کے نرخوں میں 82فیصد تک اضافہ

     

    عبدالقادر پٹیل نے کہاکہ امریکی سنٹر فار ڈیزیز کنٹرول پاکستان میں بیماریوں کے ڈیٹا سینٹر کی مضبوطی کیلئے ادارہ صحت کی مدد کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ ۔19 کی وبا کے دوران پاک امریکا تعاون سے صحت کے شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون کا پتہ چلتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ صحت کے شعبے میں پاک امریکا تعاون ،بیماریوں اور وبا کے خلاف ڈھال سے قیمتی انسانی جانیں بچائی جاسکتی ہیں،بیماریوں کی کوئی سرحد نہ ہونے سے وبا کسی خاص ملک کیلئے نہیں بلکہ پورے خطے کیلئے چیلنج ہو گی۔وزیر صحت نے کہا کہ پولیو کے خاتمے میں کامیابی کیلئے ماں اور بچے کی غذائیت بہت اہم ہے، پاکستان عالمی صحت کے تحفظ بارے ایجنڈے کے تحت اپنی بارڈر ہیلتھ ایجنسی کو مضبوط کر رہا ہے۔

    انہوں نے کہاکہ طرفین نے معلومات، طبی مہارت اور امراض پر قابو پانے کیلئے بہترین عملی اقدامات کے تبادلے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ امریکا نے پاکستان کی کورونا وبا پر کامیابی پانے کے لیے کوششوں کو سراہا اور اس حوالے سے قریبی اشتراک کار جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان صحت بارے آئندہ مذاکرات پاکستان میں ہوں گے ۔ عبدالقادر پٹیل نے امریکا کی جانب سے ویکسین کی چھ کروڑ پندرہ لاکھ خوراکیں اوربچوں کیلئے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ویکسین کی خوراکوں کی فراہمی پر شکریہ ادا کیا۔ وفاقی وزیر نے امریکا میں پاکستان کے سفیر مسعود خان کے تعاون کو بھی سراہا۔

  • نیوم سٹی:دوسال تک اس عالمی شہر کی پبلسٹی شروع کردی جائے گی:سعود ی عرب

    نیوم سٹی:دوسال تک اس عالمی شہر کی پبلسٹی شروع کردی جائے گی:سعود ی عرب

    نیوم:نیوم سٹی:دو سال تک اس کی پبلسٹی شروع کردی جائے گی:اس سلسلے میں خوشخبری سناتے ہوئے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اعلان کیا کہ نیوم کاروباری زون 2024 تک پبلکلی لسٹڈ ہو گا۔اورمعاشی سرگرمیاں شروع کردی جائیں گی

    سعودی حکام کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان نے منگل کو کہا کہ نیوم، جس کی تعمیر شروع ہوگئی ہے، سعودی سٹاک مارکیٹ کی قدر میں ایک کھرب ریال (266 ارب ڈالر) شامل کرے گا۔

    ولی عہد نے اس امر کا اظہار صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں اس وقت کیا جب ‘دا لائن’ سٹی کے ڈیزائن کا اعلان کر رہے تھے۔ اس پراجیکٹ پر 500 ارب ڈالر کی لاگت آئے گی۔

    ولی عہد نے کہا ‘ نیوم سٹی کے حوالے سے پیش رفت پر مبنی منصوبوں کی وجہ سے سعودی سٹاک ایکسچینج مارکیٹ میں ابتدائی طور پر کم از کم 320 ارب ڈالر کا اضافہ ہو گا جبکہ مجموعی طور پر 1،3 ٹریلین ڈالر تک جائے گی۔ جو کہ پانچ ٹریلینز سعودی ریال کے برابر ہو گی۔

    انہوں نے ‘دا لائن ‘ کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ‘دا لائن ‘ کے تحت 2030 تک 320 ارب ڈالر تک سٹاک مارکیٹ جائے گی اور سعودی حکومت کی یہ سپورٹ 53 ارب ڈالر سے 80 ارب ڈالر تک جائے گی۔ سعودی حکومت مختلف فنڈز سے یہ سپورٹ دے گی جو حتمی طور پر 133 ارب ڈالر تک جائے گی۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب کا پبلک انویسٹمنٹ فنڈ، ایک خود مختار ویلتھ فنڈ ہے ۔ نیوم سٹی میں سرمایہ کاری کے حوالے سے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی سٹریٹجک اہمیت ہے۔

    نیوم کا ایریا اے 26500 مربعہ کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ یہ ہائی ٹیک نوعیت کا ایک ساحلی شہر ہو گا، جس کے ساتھ متعدد زون ہوں گے۔ ان ایریاز میں صنعتی اور لاجسٹک ایریا ہو گا، جسے 2025 تک مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔

    سعودی عرب میں ولی عہد کے وژن 2030 کے تحت نیوم کی تعمیر کا آغاز 2017 میں ہوا تھا۔ یہ شہر مملکت میں تجارت اور سیاحت کے حوالے سے فلیگ شپ کی حیثیت کا حامل ہو گا۔

    ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ‘ دا لائن سٹی نیوم میں مستقبل میں نوے لاکھ شہریوں کو رہائش فراہم کر سکے گا۔’

    اس شہر کے ڈیزائن میں انسانی آبادی کو اولیں ترجیح کے طور ماحول دوست ماحول فراہم کیا جائے گا۔ اس لیے اس شہر کے ارد گرد بھی قدرتی ماحول کو برقرار رکھنے کی کوشش ہو گی۔

     

  • شہبازشریف سے شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات،مکمل تعاون کی یقین دہانی

    شہبازشریف سے شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات،مکمل تعاون کی یقین دہانی

    وزیراعظم محمد شہبازشریف سے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سیکرٹری جنرل ژانگ منگ نے آج لاہور میں ملاقات کی۔ وزیر اعظم نے سیکرٹری جنرل کو اہم ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور انہیں ان کی سرپرستی میں تنظیم کے مقاصد اور ان مقاصد کی تکمیل میں پاکستان کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ وزیراعظم نے ایس سی او چارٹر اور شنگھائی اسپرٹ کے اصولوں کے لیے پاکستان کے مضبوط عزم کا اعادہ بھی کیا۔

    وزیر اعظم نے ایندھن اور اشیائے خوردونوش کی بلند قیمتوں اور اس کے نتیجے میں غذائی عدم تحفظ کے ساتھ ساتھ شنگھائی تعاون تنظیم کے ممبران سمیت بڑی تعداد میں ممالک کے لیے معاشی اور مالی مشکلات سے ظاہر ہونے والے موجودہ عالمی چیلنجوں پر روشنی ڈالی۔

    وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایس سی او کے تمام ارکان امن کے قیام اور بین الاقوامی یکجہتی اور تعاون کو بڑھانے کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے جامع ترقیاتی ایجنڈے کو سراہتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ SCO کا بنیادی مقصد SCO خطے کی ترقی اور خوشحالی ہے .

    وزیراعظم نے پاکستان کی ترجیحات اور قومی ترقی کے اہداف کے ساتھ ساتھ شنگھائی تعاون تنظیم کے فریم ورک میں دلچسپی کے اہم شعبوں بشمول تجارت اور معیشت , رابطہ اور نقل و حمل؛ غربت کے خاتمے؛ توانائی زراعت اور خوراک کی حفاظت؛ موسمیاتی تبدیلی؛ سیکورٹی؛ انفارمیشن ٹیکنالوجی؛ ڈیجیٹلائزیشن؛ اور ثقافتی روابط کی اہمیت پر روشنی ڈالی .

    وزیر اعظم نے انٹرا ایس سی او تجارت کے ساتھ ساتھ ترقیاتی اقدامات کو فروغ دینے کے لیے مناسب فنڈنگ ​​میکانزم تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن روابط کو بڑھانے پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کنیکٹیویٹی ایجنڈے کی اہمیت پر زور دیا اور اس سلسلے میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ سی پیک ایک مفید ماڈل کے طور پر کام کر سکتا ہے۔

    وزیر اعظم نے متعدد مخصوص علاقائی اور عالمی سلامتی کے امور کے ساتھ ساتھ خطے اور اس سے باہر استحکام کو فروغ دینے میں ایس سی او کے کردار پر بھی اپنے نقطہ نظر کا اظہار کیا۔ اس تناظر میں، انہوں نے SCO-RATS کے کام کو بھی سراہا جہاں پاکستان، دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ سیکورٹی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ سیکرٹری جنرل نے ازبکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اور سربراہان مملکت کے اجلاس سے قبل اپنے دورے کا اہتمام کرنے پر حکومت پاکستان اور قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ سیکرٹری جنرل نے تمام شعبوں میں شنگھائی تعاون تنظیم کے کام اور سرگرمیوں میں پاکستان کی تعمیری شراکت کی تعریف کی اور مستقبل میں ایس سی او کی ترجیحات اور کوششوں کے حوالے سے فراہم کردہ رہنمائی پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔

    سیکرٹری جنرل نے ستمبر 2022 میں سمرقند میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے وزیر اعظم کو دی گئی دعوت پر روشنی ڈالی۔ SCO ایک 8 رکنی بین علاقائی کثیر الجہتی تنظیم ہے، جس کی بنیاد "شنگھائی اسپرٹ” پر ہے جس کا مطلب باہمی اعتماد اور احترام، مساوات، متنوع تہذیبوں کے احترام اور مشترکہ ترقی کا حصول ہے۔ اپنے قیام کے بعد سے دو دہائیوں میں، SCO ایک بڑا بین الاقوامی پلیٹ فارم بن گیا ہے جو عالمی جی ڈی پی میں 23 فیصد حصہ کے ساتھ دنیا کی 41 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل کے چار روزہ دورے نے اعلیٰ سطح پر مشاورت اور تنظیم سے پاکستان کی توقعات کو سمجھنے کا ایک اہم موقع فراہم کیا ہے۔

  • آرمی چیف کی زیر صدارت 249 ویں کور کمانڈرز کانفرنس تقریب کا انعقاد

    249ویں کور کمانڈرز کانفرنس آج جی ایچ کیو میں منعقد ہوئی۔

    باغی ٹی وی : آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے صدارت کی، فورم نے سرحدی اور داخلی سلامتی پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے سیکورٹی صورتحال کا جامع جائزہ لیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کامیاب انسداد دہشت گردی آپریشنز کی تعریف کی اور سرحدوں کی حفاظت اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے افسران اور جوانوں کی عظیم قربانیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے ملک میں سیلاب اور شدید بارشوں سے متاثرہ لوگوں کے چیلنجوں کو کم کرنے کے لئے امدادی کارروائیوں میں تشکیلات کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فورم نے ریسکیو/بحالی کی سرگرمیوں میں سول انتظامیہ کو مکمل تعاون فراہم کرنے کے مسلح افواج کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • گورنر اسٹیٹ بینک کی تعیناتی کیلئے نام وزیراعظم سیکرٹریٹ کو ارسال

    گورنر اسٹیٹ بینک کی تعیناتی کیلئے نام وزیراعظم سیکرٹریٹ کو ارسال

    گورنر اسٹیٹ بینک کی تعیناتی کے لیے 6 نام وزیراعظم سیکرٹریٹ کو بھجوا دیئے گئے۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کےمطابق وزارت خزانہ نےگورنر اسٹیٹ بینک کی تعیناتی کےلیے 6 نام وزیراعظم سیکرٹریٹ کوبھجوائے ہیں وزیرا عظم سیکرٹریٹ کو بھیجے گئے ناموں میں سابق صدر نیشنل بینک ڈاکٹر سعید احمد، عاصم معراج حسین، قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک مرتضیٰ سید، ایم ڈی پنجاب بینک ظفر مسعود کے نام شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک محمد جمیل اور سابق گورنر اسٹیٹ بینک محمد اشرف خان کا نام بھی گورنر اسٹیٹ بینک کے لیے شامل ہے۔

    ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ منگل کو ہونے والے اجلاس میں کسی گورنر اسٹیٹ بینک کے لیے ایک نام کی منظوری دے گی۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایک سابق گورنر کے مطابق کیبنٹ ڈویژن اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نئے گورنر کی تقرری دو ایک روز میں کابینہ کے ارکان میں سرکولیٹ کرے گی۔

    وزارت خزانہ کی خواہش ہے کہ کسی ماہر اقتصادیات کو گورنر اسٹیٹ بینک لگانا چاہئے تاکہ وہ آئی ایم ایف کے موجودہ پروگرام کو بخیرو خوبی مکمل کرائے‘ ویسے بھی ملک و قوم کو سنگین اقتصادی چیلنجوں کا سامنا ہے-

    جبکہ دوسری طرف اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ میں آئی ایم ایف کے دباؤ پر پی ٹی آئی حکومت نے جو ترامیم کی ہیں اُن کے نتیجے میں گورنر اسٹیٹ بینک آل پاورفل بنا دیا گیا ہے اور وہ وفاقی حکومت کا مرہون منت نہیں ہے‘ اپنے تمام فیصلے حکومتی ہدایت کی بجائے آئی ایم ایف کے اصولوں پر کرے گا پی ٹی آئی نے گورنر اسٹیٹ بینک کے عہدے کی معیاد آئی ایم ایف کے کہنے پر تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی ہے۔

  • حکومت کو حکومت کرنے دی جائے:مولانا فضل الرحمان

    حکومت کو حکومت کرنے دی جائے:مولانا فضل الرحمان

    اسلام آباد:سربراہ جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ حکومت کو حکومت کرنے دی جائے۔اداروں کی سیاست میں مداخلت سے ریاست کمزور ہورہی ہے

    اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عدالت کو بڑے فورم پر فیصلہ کرنے کی درخواست کررہے ہیں، ہم عدالتوں سے فیصلوں کا اختیار نہیں چھین رہے۔ پی ڈی ایم و جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہم دستور کی بقا کے لیے ہر جدوجہد کریں گے۔

    سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات:پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے اہم فیصلے کرلیے

    تفصیلات کے مطابق جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فوری درخواست اور فوری سماعت احساس دلا رہی ہے کہ عدالت یا دباو یا اپنی دلچپسی سے سب کر رہی ہے، جے یو آئی اس مقدمے میں فریق بننے کا اعلان کرتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دستور کی بقا کے لیے ہم ہر جدوجہد کریں گے، نئی نئی باتیں عدالتی ماحول سے عام آدمی کے کانوں میں پڑتی ہیں، پارٹی لیڈر ہی آخری فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے، پوری دنیا میں وزیر اعظم یا پارٹی صدر ہی آخری فیصلہ کرتا ہے، آج نئی بحث چھیڑ دی گئی ہے کہ پارلیمانی پارٹی لیڈر ہی سب کچھ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بعض اوقات پارٹی سربراہ ایوان سے باہر ہوتا ہے مگر نگرانی وہی کرتا ہے، تین یا پانچ رکنی بنچ قابل قبول نہیں ہو گا، عمران خان بیانیہ جھوٹا ہے۔

    عمران خان کے پریشر گروپوں کے ذریعہ اداروں کو ڈرانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔خ

    جے یو آئی کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بات کی سمجھ ججوں کو نہیں آرہی، فل کورٹ اس کیس کو سنیں، تین یا پانچ نہیں فل کورٹ چاہیے، ریاست کمزور ہو رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اپنے اداروں کی سیاست میں مداخلت سے ریاست کمزور ہو رہی ہے، حکومت کو حکومت کرنے دیں، ہم نے مشکل چیلنج قبول کیا ہے، اگر ابہام رہے گا تو کچھ بھی درست کام نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ادارے کو ایک پارٹی کے لئے کچھ لوگ استعمال کرتے ہیں۔

  • سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات:پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے اہم فیصلے کرلیے

    سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات:پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے اہم فیصلے کرلیے

    اسلام آباد:سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات:پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی بھی سرگرم دکھائی دیتی ہے ، یہی وجہ ہےکہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات پر مشاورت کے معاملے پر چیئرمین عمران خان کے زیر صدارت تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب اسمبلی کی صورتحال اور آئندہ کی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا، اجلاس میں شاہ محمود قریشی، اسد عمر، فواد چودھری، شیریں مزاری، فرخ حبیب، شہباز گل، علی زیدی، عامر کیانی اور دیگر رہنما بھی شریک ہوئے۔

    اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب اور عدالتی امور پر غور کیا گیا، اجلاس میں آئندہ کی سیاسی حکمت عملی اور لائحہ عمل پر مشاورت کی گئی، سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے موخر ہونے سے متعلق بھی امور پر بات چیت کی گئی۔

    پنجاب کی صوبائی کابینہ کی حلف برداری آج ہونے کا امکان

    اس موقع پر عمران خان نے کہا کہ شریف، زرداری گٹھ جوڑ نے ملکی معیشت کو تباہ کر دیا ہے، پنجاب میں جو کچھ ہوا انکی سیاست عیاں ہوگئی ہے، قوم ملکر انکی ان سازشوں کا ناکام بنائے گی۔

    دوسری طرف حکومتی اتحادی جماعتوں نے ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس کی سماعت کے لئے فل کورٹ تشکیل دینے کے لئے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    ہم نہ سافٹ اور نہ ہارڈ مداخلت تسلیم کرتے ہیں،فضل الرحمان

    حکومتی اتحادی اور پی ڈی ایم کی جماعتوں نے مشترکہ فیصلہ کیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس میں فل کورٹ تشکیل دینے کے لئے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی جائے گی۔

    اتحادی جماعتوں کے قائدین کل صبح مشترکہ پریس کانفرنس میں اہم اعلان کریں گے، او پریس کانفرنس کے بعد وکلاء کے ہمراہ مشترکہ طور پر سپریم کورٹ جائیں گے، جہاں سپریم کورٹ بارکی نظرثانی ودیگردرخواستوں کی ایک ساتھ سماعت کی استدعا کی جائے گی۔

    پرویز الہیٰ کی درخواست،سپریم کورٹ کا تحریری حکم جاری