Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • دنیا ہنگامہ خیزی اور تبدیلی کے نئے دور میں داخل ہو رہی ہے: چین

    دنیا ہنگامہ خیزی اور تبدیلی کے نئے دور میں داخل ہو رہی ہے: چین

    بیجنگ :چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے بیجنگ میں “شنگھائی تعاون تنظیم: تاریخ، موجودہ صورتحال اور امکانات” گول میز کانفرنس میں بذریعہ ویڈیو شرکت کی اور تقریر کی۔جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق وانگ ای نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا ہنگامہ خیزی اور تبدیلی کے نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔چین شنگھائی اسپرٹ کو بھرپور طریقے سے فروغ دینے اور مشترکہ مستقبل کے ساتھ شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او) کی قریبی برادری کی تعمیر کو فروغ دینے کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

    تنظیم کی ترقی کے بارے میں وانگ ای نے یہ تجاویز پیش کیں کہ تنظیم کے اتحاد اور تعاون کو مضبوط کریں، خطرات اور چیلنجوں سے نمٹیں، ایک مضبوط حفاظتی باڑ بنائیں، لوگوں کی فلاح و بہبود کو بہتر بنائیں ،باہمی فائدہ مند تعاون کو آگے بڑھائیں، بہتر زندگی کے لیے خطے کے لوگوں کی امنگوں کا مؤثر طریقے سے جواب دیں اور انصاف کو برقرار رکھیں اور عالمی طرز حکمرانی کو بہتر بنائیں۔

    چینی وزارت دفاع کے ترجمان ٹین کھہ فی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ حال ہی میں، ریاستی کونسلر اور وزیر دفاع وی فنگ حہ نے شنگری لا ڈائیلاگ کے دوران امریکی وزیر دفاع لوئیڈ آسٹن کے ساتھ بات چیت کی۔

    جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق دونوں فریقوں کا خیال ہے کہ دونوں فوجوں کو دونوں سربراہان مملکت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے پر عمل درآمد کرنا چاہیے،

    اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک مواصلات کو برقرار رکھنا چاہیے، دونوں فریقوں کے درمیان اسٹریٹجک باہمی اعتماد کو بڑھانا چاہیے، اور تنازعات اور اختلافات کا انتظام کرنا چاہیے۔ اس وقت دونوں فوجوں کے درمیان تعلقات ایک اہم موڑ پر ہیں، ہم امریکی فریق پر زور دیتے ہیں کہ وہ سرد جنگ کی زیرو سم ذہنیت کو ترک کرے، اور دونوں فوجوں کے تعلقات کی صحت مند اور مستحکم ترقی کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چاؤ لی جیان نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری میں پن بجلی کے پہلے منصوبے کو مکمل طور پر کمرشل آپریشن میں ڈال دیا گیا ہے۔ترجمان کا کہنا تھاکہ اس سلسلے میں کام جاری ہے تاکہ توانائی بحران پرجلد سے جلد قابوپالیا جائے

    جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق تر جمان نے رسمی پریس کانفرنس میں کہا کہ اس سے نہ صرف پاکستان میں بجلی کی کمی کے مسئلے کو مؤثر طریقے سے حل کیا جائے گا بلکہ پاکستان کے توانائی کے ڈھانچے کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

    پاکستان میں توانائی کی تعمیر اور اقتصادی و سماجی ترقی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ یہ منصوبہ عالمی کاربن نیوٹرل اہداف کے حصول میں بھی مدد دے گا اور عالمی موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے نیا کردار ادا کرے گا۔

  • حلقہ بندیاں اور انتخابی اصلاحات: ایم کیو ایم نے سپریم کورٹ میں اپیل کردی

    حلقہ بندیاں اور انتخابی اصلاحات: ایم کیو ایم نے سپریم کورٹ میں اپیل کردی

    کراچی :حلقہ بندیاں اور انتخابی اصلاحات: ایم کیو ایم کی سپریم کورٹ میں اپیل،اطلاعات کے مطابق ایم کیوایم نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتےہوئے استدعا کی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے دوسرےمرحلے کے انعقاد پر حکم امتناع جاری کیا جائے

    ایم کیو ایم پاکستان نے حلقہ بندیوں اور انتخابی اصلاحات سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں باقاعدہ اپیل دائر کردی ہے۔سندھ ہائی کورٹ نے 24 جون کو حلقہ بندیوں اور انتخابی اصلاحات کی بنیاد پر بلدیاتی انتخابات ملتوی کرانے کے لئے ایم کیوایم کی درخواست مسترد کردی تھی۔سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ایم کیو ایم پاکستان نے سپریم کورٹ میں باقاعدہ اپیل دائر کردی ہے۔

    ایم کیوایم کےکنوینر خالد مقبول و دیگر کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں سرکاری مشينری استعمال ہوئی، بیلٹ بکس چھین کر نامعلوم مقام پر لے جاکر جعلی ووٹ ڈالےگئے، دھاندلی میں انتظامیہ،پولیس اور الیکشن کمیشن کاعملہ بھی ملوث تھا۔

    درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سندھ میں انتخابی اصلاحات کے بغیر شفاف الیکشن ممکن نہیں، اس لئے بلدیاتی انتخابات کے دوسرےمرحلے کے انعقاد پر حکم امتناع جاری کیا جائے۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے سندھ میں بلدیاتی انتخابات مں پیپلز پارٹی نے سندھ میں چار ڈویژنز کے 14 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔

    شہری علاقوں کی میونسپل کمیٹیوں میں اب تک کل 354 میں سے 309 نشستوں کے نتائج سامنے آچکے ہیں جن میں پیپلز پارٹی 244 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی ہے۔پیپلز پارٹی کے بعد جی ڈی اے 22، آزاد امیدوار 20، پاکستان تحریک انصاف 14 ، جے یو آئی ف 7 جب کہ دیگر جماعتوں نے 2 نشستیں جیتیں۔

  • یورپ میں اقتصاد مندی 2023 تک جاری رہ سکتی ہے:امریکی انسٹی ٹیوٹ

    یورپ میں اقتصاد مندی 2023 تک جاری رہ سکتی ہے:امریکی انسٹی ٹیوٹ

    واشنگٹن:یورپ میں اقتصاد مندی 2023 تک جاری رہ سکتی ہے،اطلاعات کے مطابق امریکہ کے ایک فائننشیئل انسٹی ٹیوٹ نے پیشگوئی کی ہے کہ یورپ میں افراط زر اور اقتصادی مندی دوہزار تیئس تک جاری رہ سکتی ہے،رشا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق شہر نیویارک کے مورگن اسٹینلی فائننشیئل انسٹی ٹیوٹ نے اپنی رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ یورپی ممالک، رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں روس سے انرجی مصنوعات کی درآمدات میں کمی کی بنا پر کساد بازاری کا شکار ہوں گے۔

    مورگن اسٹینلی فائننشیئل انسٹی ٹیوٹ کی پیشگوئی کے مطابق ایسا نظر آتا ہے کہ افراط زر اور اقتصادی مندی دوہزار تیئس تک جاری رہے گی اور اس کی ایک وجہ بیرونی سرمایہ کاری میں کمی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ روس کی قدرتی گیس اور انرجی کی سیکورٹی کی ضمانت نہ ہونے کے باعث اکثر یورپی ممالک کا اقتصاد ناقابل پیشگوئی ہو گیا ہے۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ اقتصادی مندی کے باوجود یورپ کا سینٹرل بینک شرح سود میں اضافہ کر کے اسے دسمبر کے مہینے تک اعشاریہ سات پانچ فیصد کر سکتا ہے۔

    روس کے خلاف مغربی ممالک کے اقدامات ایسی حالت میں ہیں کہ مغرب کو ان تمام اقدامات کے باوجود یہ وہم ہے کہ اقتصادی شعبے بالخصوص تیل اور گیس کے شعبوں میں روس پر پابندی بڑھنے سے یورپ کے اقتصادی حالات اور انرجی کی عالمی منڈی پہلے سے زیادہ درہم برہم ہو سکتی ہے۔ یورپی ممالک کی روس مخالف پالیسیاں جاری رہنے سے یورپ کی داخلی سیکورٹی کو بھی خطرات کا سامنا ہے۔

  • تحفہ کو عزت سمجھ کر رکھا جاتا مگر عمران نے اس عزت کو بیچ دیا

    تحفہ کو عزت سمجھ کر رکھا جاتا مگر عمران نے اس عزت کو بیچ دیا

    گزشتہ دنوں سرکاری تحقیقات میں معلوم ہوا تھا کہ سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے مزید تین گھڑیاں جن کی مالیت 154 ملین بنتی ہے بھی بطور وزیر اعظم بیچی تھیں اور یہ گھڑیاں انہیں بیرون ممالک سے تحفوں میں ملی تھیں۔
    گھڑیاں بیچنے کا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پرایک طرف عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تو دوسری طرف ان کا دفاع کرنے والے بھی کم نہیں ہیں تاہم واضح رہے توشہ خانہ میں مقرر کردہ رقم دے کر کوئی چیز خرید کر بیچنا قانونی طور پر ناجائز نہیں ہے البتہ بعض لوگ اسے غیر اخلاقی حرکت ضرور سمجھتے ہیں اور وہ اس کی دلیل  یہ دیتے ہیں کہ خیر سگالی کیلئے دیئے گئے تحفہ کو بیچنا ایک غیر سنجیدہ اور غیر اخلاقی حرکت ہے لیکن عمران خان کے حامی کہتے ہیں کہ جنہوں نے پورا ملک لوٹا وہ بڑے چور ہیں یا جس نے ناجائز کام کئے بغیر اپنے تحفے بیچے؟

    دی نیوز تحقیقاتی صحافی عمر چیمہ عمران خان کے گھڑیاں بیچنے کے عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: "‏ایک شخص نے گھڑیاں بیچ دیں اور اسکے حواری کہتے ہیں کہ اسے پیسے کا لالچ نہیں تو پھر کیا یہ عادتاً سب کچھ کیا ہے؟”

    سید طہ عارف نے عمر چیمہ کو ردعمل دیتے ہوئے کہا: ‏وہ شخص گھڑیاں بیچ کر بھی ٣۔۵ سالہ حکومت میں اپنی جائیداد میں اضافے کی بجائے کمی کے ساتھ گیا۔

    مزید کہتے ہیں کہ: "لالچ پیسہ جمع کرنے کیلئے ہوتی ہے نہ کہ عوام پر خرچ کرنے کیلئے۔ ہاں جی، عادتا” کیا، کیونکہ عمران خان کو  قوم کا درد محسوس کرنے کی عادت ہے”

    فخر درانی ایک سوال پر اپنی بات کا اختتام کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: عمران خان کے نام پر گھڑی بیچنےکی رسید، زرا سوچیں اس لمحے کو جس وقت اس گھڑی کے بارے ایک ملک کا وزیراعظم کسی دوکاندارسے کہے میں نے تحفے والی یہ گھڑی بیچنی ہے آپ خریدیں گے؟ ایک عام آدمی کو بھی کوئی تحفہ ملےتو وہ اسےعزت سمجھ کر کبھی بیچنے کا نہیں سوچتا لیکن اتنے بڑےعہدے پر رہ کر کوئی ایسا کیسےکرسکتا ہے؟


    ایک سید نامی صارف نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ: بھوک سب کچھ کروا دیتی ہے یا پھرقرض اتارنے کے لئے سب کچھ داؤ پر لگا دیا جاتاہے.
    انہوں نے مزید کہا کہ: عمران خان نے مُلک کا قرض تو نہیں اُتارا بس مانیکا کا قرض اتارنے کے چکر میں حکومت اور اپنی عزت داؤ پر لگا دی.

  • پولیس سیکیورٹی پلان کو ہرلحاظ سے ٹھوس اورغیرمعمولی بنانا ہے:آئی جی سندھ

    پولیس سیکیورٹی پلان کو ہرلحاظ سے ٹھوس اورغیرمعمولی بنانا ہے:آئی جی سندھ

    کراچی :آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ پولیس سیکیورٹی پلان کو ہر لحاظ سے ٹھوس اور غیرمعمولی بنانا ہے۔تفصیلات کے مطابق چائنا قونصل جنرل کی 13 رکنی وفد کے ساتھ آئی جی سندھ نے ملاقات کی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق آج قونصل جنرل چائنا Li Bijian نے 13 رکنی وفد کے ساتھ آئی جی سندھ غلام نبی میمن سے سنٹرل پولیس آفس کراچی میں ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور سمیت صوبہ سندھ میں جاری مختلف ترقیاتی پروجیکٹس،سی پیک روٹ سے وابستہ چائنیز باشندگان ماہرین اور دیگر اسٹاف کے حفاظتی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    آئی جی سندھ نے قونصل جنرل چائنا کی سنٹرل پولیس آمد پر انکا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس امن وامان کی صورتحال پر مکمل کنٹرول اور عوام کے جان ومال کے تحفظ جیسی ذمہ داریوں میں ناصرف ہمہ وقت مستعد اور الرٹ ہے بلکہ سیکیورٹی حکمت عملی اور لائحہ عمل میں وقتاً فوقتاً مشاورت اور تجاویز کے عمل پر بھی فوکس رکھے ہوئے ہے جسکا مقصد پولیس سیکیورٹی پلان کو ہر لحاظ سے ٹھوس اور غیرمعمولی بنانا ہے۔

    ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی نے وفد کو کراچی یونیورسٹی دہشت گردانہ حملے کے کیس پر بریفنگ دی اور ابتک کی پیش رفت سے آگاہ کیا جبکہ ڈی آئی جی ایس پی یو/سی پیک نے چائنا پاکستان اقتصادی راہداری پر سیکیورٹی کے جملہ امورسے بھی تفصیلی آگاہی دی۔اس موقع پر قونصل جنرل چائنا نے صوبے میں جاری سیکیورٹی کے مجموعی اقدامات پر حکومت چائنا کی جانب سے سندھ پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چائنا کا سندھ پولیس کے ساتھ تعاون جاری رہیگا۔

    ملاقات کے موقع پر ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی،ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرزسندھ،ڈی آئی جی ایس پی یو/سی پیک،ڈی آئی جی آئی ٹی،ڈی آئی جی سی آئی اے،ایس پی فارنرز سیکیورٹی سیل کے علاوہ اے آئی جی آپریشنز سندھ اور اے آئی جی ایڈمن سی پی او اور سی ٹی ڈی کے افسران بھی موجود تھے۔

  • پی سی بی نےسینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان کردیا

    پی سی بی نےسینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان کردیا

    لاہور:پی سی بی نےسینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان کردیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ ( پی سی بی) نے سینٹرل کنٹریکٹ 23-2022 کا اعلان کر دیا جس کا اطلاق یکم جولائی سے ہو گا۔

    پی سی بی کے نئے سینٹرل کنٹریکٹ میں مجموعی طور پر 33 کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے جبکہ کپتان سمیت 5 کھلاڑیوں کو ریڈ اور وائٹ بال دونوں فارمیٹ کے کنٹریکٹ مل گئے ہیں۔

    10 کھلاڑیوں کو صرف ریڈ بال کنٹریکٹ دیا گیا ہے اور 11 کھلاڑیوں کو صرف وائٹ بال کنٹریکٹ ملا ہے۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی والے 7 کھلاڑی ایمرجنگ کیٹگری کا حصہ ہیں جبکہ اظہر علی ریڈ بال کنٹریکٹ کی اے اور فواد عالم بی کٹیگری میں شامل ہیں۔

    چیف سلیکٹر محمد وسیم نے کہا کہ سینٹرل کنٹریکٹس میں 12 ماہ کی کارکردگی کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ بابر اعظم، محمد رضوان اور شاہین شاہ آفریدی ریڈ اینڈ وائٹ دونوں کی اے کیٹیگری میں شامل ہیں اور اکٹھے کنٹریکٹس سے چند کھلاڑیوں کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ ریڈ اور وائٹ بال میں فارمیٹ کو ترجیح دی جائے گی۔

    اظہر علی ریڈ بال کنٹریکٹ کی اے اور فواد عالم بی کٹیگری میں شامل ہیں۔ عبداللہ شفیق، نسیم شاہ اور نعمان علی ریڈ بال کی سی کٹیگری کا حصہ ہیں جبکہ ڈی کٹیگری میں عابد علی، سرفراز احمد، سعود شکیل، شان مسعود اور یاسر شاہ شامل ہیں۔

    فخر زمان اور شاداب خان وائیٹ بال کنٹریکٹ کی کٹیگری اے میں شامل ہیں اور حارث رؤف بی اور محمد نواز کٹیگری سی کا حصہ ہیں۔ آصف علی، حیدر علی، خوشدل شاہ، محمد وسیم جونیئر کٹیگری ڈی میں شامل ہیں اور شاہنواز دھانی، زاہد محمود اور عثمان قادر بھی کٹیگری ڈی میں شامل ہیں۔علی عثمان، حسیب اللہ، کامران غلام، محمد حارث، محمد حریرہ، قاسم اکرم اور سلمان علی آغا ایمرجنگ کنٹریکٹ کا حصہ ہوں گے۔

  • ایران اور قطر کے وزراء خارجہ کے درمیان بات چیت:سعودی عرب بھی متحرک

    ایران اور قطر کے وزراء خارجہ کے درمیان بات چیت:سعودی عرب بھی متحرک

    دوحہ:ایران اور قطر کے وزراء خارجہ کے درمیان بات چیت:سعودی عرب بھی متحرک ،اطلاعات ہیں کہ دوحہ مذاکرات اصل میں سعودی عرب کی خواہش کے مطابق ہورہےہیں اوراس کا مقصد ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالات کومعمول پرلانا ہے ، ادھر اس سلسلے میں یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اسلامی جمہوریہ ایران اور ان کے قطری ہم منصب نے ہونے والی ٹیلی فونی گفتگو کے دوران دوحہ مذاکرات سمیت باہمی اور علاقائی مسائل پر بات چیت کی۔

    قطر کے محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ ملک کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ "محمد بن عبدالرحمن آل ثانی” اور وزیر خارجہ ایران "حسین امیر عبداللہیان” نے گزشتہ شب ٹیلی فونی گفتگو کے دوران باہمی اور علاقائی مسائل سمیت ایران جوہری مذاکرات پر بات چیت کی۔ یہ ٹیلی فونی گفتگو ایسے وقت ہوئی ہے کہ جب دوحہ میں پابندیوں کے خاتمے اور ایٹمی معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کا نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

    ایران کے نائب وزیر خارجہ علی باقری کنی نے بدھ کی صبح کو قطر کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے ایک ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی تبدیلیوں پر گفتگو کی۔

    علی باقری کنی نے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو تہران-دوحہ کے درمیان تعلقات کے لیے ایک قیمتی سرمایہ قرار دیا گیا ہے کہ ان کا ملک قطر سے تعاون کے لیے پُرعزم ہے۔

    دریں اثناء قطری وزیر خارجہ نے ایرانی صدر اور امیر دونوں ممالک کے درمیان متعدد دوروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کے باہمی تعلقات کو بڑھانے میں ایران اور قطر کے صوبے پختہ عزم کا اظہار کیا۔

    ایران کے اعلی مذاکرات کار نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر قطر کی تعمیر کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ میں رضامندی کی منسوخی پر بات چیت کی میزبانی اور بات چیت کے فروغ کے لیے قطر کی نیک نیتی ظاہر کرتی ہے۔

  • پاکستان کی جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کیلئے 20 رکنی  ٹیم کا اعلان

    پاکستان کی جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کیلئے 20 رکنی ٹیم کا اعلان

    پاکستان کی جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کےلیے20رکنی ٹیم کا اعلان کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی : پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر محمد وسیم نے 20 رکنی ٹیم کا اعلان کیا انہوں نے بتایا کہ بابر اعظم کپتان اور محمد رضوان نائب کپتان ہوں گے شاہین شاہ آفریدی ریڈ اینڈ وائٹ دونوں کی اے کیٹیگری میں شامل ہیں اور اکٹھے کنٹریکٹس سے چند کھلاڑیوں کو اہمیت نہیں دی جاتی ریڈ اور وائٹ بال میں فارمیٹ کو ترجیح دی جائے گی۔

    ٹی ٹوئنٹی میچز کی میزبانی لاہور اور کراچی کو ملنے کا امکان:ذرائع

    انہوں نے کہا کہ فاسٹ باؤلر محمد عباس ٹیم میں جگہ نہ بنا سکے جبکہ حارث سہیل اور شان مسعود کو جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز سے ڈراپ کیاگیا ہےامام الحق ابھی ریڈ بال کرکٹ کےلیے تیار نہیں ہیں ریڈبال اوروائٹ بال دونوں فارمیٹ کوترجیح دی گئی ہےسینٹرل کنٹریکٹس میں 12 ماہ کی کارکردگی کو مدنظر رکھا گیا ہے ہمارا کیلنڈر مصروف جا رہا ہے اور دو الگ کنٹریکٹس ہوں گے۔ ریڈ بال اسکواڈ اور وائٹ الگ الگ ہو گا۔


    چیف سلیکٹر نے کہا کہ ریڈ اور وائٹ بال کیٹگری میں مجموعی طور پر 33 کھلاڑی شامل ہیں۔ کپتان سمیت 5 کھلاڑیوں کو ریڈ اور وائٹ بال کنٹریکٹ مل گئے ہیں 10 کھلاڑیوں کو ریڈ بال کنٹریکٹ دیا گیا ہے اور 11 کھلاڑیوں کو وائٹ بال کنٹریکٹ ملا ہے۔

    ون ڈے باؤلنگ رینکنگ میں شاہین شاہ آفریدی کی ایک درجہ ترقی

    انہوں نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی والے 7 کھلاڑی ایمرجنگ کیٹگری کا حصہ ہیں جبکہ اظہر علی ریڈ بال کنٹریکٹ کی اے اور فواد عالم بی کٹیگری میں شامل ہیں ،عبداللہ شفیق، نسیم شاہ اور نعمان علی ریڈ بال کی سی کٹیگری کا حصہ ہیں –

    چیف سیلیکٹر نے کہا کہ ڈی کٹیگری میں عابد علی، سرفراز احمد، سعود شکیل، شان مسعود اور یاسر شاہ شامل ہیں فخر زمان اور شاداب خان وائیٹ بال کنٹریکٹ کی کٹیگری اے میں شامل ہیں اور حارث رؤف بی اور محمد نواز کٹیگری سی کا حصہ ہیں۔

    محمدوسیم نے کہا کہ آصف علی، حیدر علی، خوشدل شاہ، محمد وسیم جونیئر، شاہنواز دھانی، زاہد محمود اور عثمان قادر کٹیگری ڈی میں شامل ہیں۔علی عثمان، حسیب اللہ،کامران غلام،محمد حارث ،محمد حریرہ، قاسم اکرم اور سلمان علی آغا ایمرجنگ کنٹریکٹ کا حصہ ہوں گے۔

    سہ فریقی ٹی ٹونٹی سیریز کے شیڈول کا اعلان

  • پاکستان کے نامورمصور "صادقین” کا یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے

    پاکستان کے نامورمصور "صادقین” کا یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے

    پاکستان کے نامور مصور "صادقین” کا یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی : صادقین کا پورا نام سید صادقین حسین نقوی تھا . خطاطی ان کا خاندانی فن تھا، سادات امروہہ کے جس گھرانے میں انہوں نے 30 جون 1930ء کوآنکھ کھولی وہ فنِ خطاطی کےحوالےسے پہچانا جاتا تھاصادقین کی ابتدائی تعلیم امروہہ میں ہی ہوئی، پھرآگرہ یونیورسٹی سے بی اے کیا اور جب ہندوستان کی تقسیم عمل میں آئی تو وہ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی آگئے۔

    طالب علمی کے زمانے ہی سے صادقین گھروں کی دیواروں پر نقاشی، تصویر کشی اور خطاطی کیا کرتے تھے۔ چوبیس برس کی عمر میں صادقین کے فن پاروں کی پہلی نمائش کوئٹہ میں ہوئی۔ 1960ء میں صادقین کی فنی صلاحیتوں کے اعتراف میں انہیں تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔ اکتیس برس کی عمر میں صادقین کو فرانس کے اعلیٰ سول اعزاز کا حقدار قراردیا گیا۔

    صادقین کی وجہ شہرت فن مصوری کے کسی ایک شعبے میں کمال دکھانے کے باعث نہیں تھی بلکہ انہوں نے مصوری کے کئی شعبوں میں ایسے کمالات دکھائے ہیں کہ اب شاید ہی کوئی ان کی جگہ اس قدر ہمہ جہت انداز میں اپنا فن پیش کرسکے۔ صادقین نے سینکڑوں فن پارے تخلیق کیے اور ان میں سے زیادہ تر اپنے مداحوں کو بطور تحفہ عنایت کردیے۔ صادقین کی تخلیقات کی مشرق وسطیٰ، امریکا اور یورپ میں کامیاب نمائشیں ہوئیں۔

    1970ء میں انہوں نے سورۂ رحمن کی آیات کو انتہائی دلکش انداز میں پینٹ کیا اور مصورانہ خطاطی کے ایک نئے دبستان کی بنیاد ڈالی۔

    صادقین کے دوستوں کا کہنا تھا کہ اکثر فنکاروں کی طرح صادقین کی شخصیت میں یکسر مختلف اور متضاد رنگ موجود تھے۔ اٹھائیس فروری 2002ء کو موہٹّا پیلس میوزیم، کراچی میں ڈان میڈیا گروپ کے سربراہ حمید ہارون کے زیرانتظام صادقین کے فن پاروں کی نمائش منعقد کی گئی تھی، جس میں صادقین کے دو سو سے زائد نایاب شاہکار پیش کیے گئے۔

    اس نمائش کے ذریعے صادقین کے اندر چھپا وہ ہمہ جہت فنکار سامنے آسکا جو شاید فوجی آمر ضیاءالحق کی اسلامائزیشن کے نام پر فنون لطیفہ کو تباہ کرنے کی پالیسی کی بناء پر محض خطاطی کے دامن میں پناہ لینے پر مجبور ہوگیا تھا۔ مذکورہ نمائش کے منتظمین نے بطور خاص یہ کوشش کی تھی کہ عام لوگ چونکہ صادقین کو صرف اسلامی خطاطی کے حوالے سے جانتے ہیں، اس لیے خطاطی کے فن پاروں کے بجائے صادقین کے فن کے اس شاندار رُخ کو عام لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے جو کہیں چھُپ گیا ہے۔ دو ہفتے جاری رہنے والی اس نمائش کو چھیاسی ہزار افراد نے دیکھا، جو صادقین کی مقبولیت کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔

    خود صادقین بھی خطاطی سے کہیں زیادہ مصوری کی دیگر جہتوں میں کیے گئے کام کو اہمیت دیتے تھے۔ ایک مرتبہ صادقین سے کسی نے پوچھا کہ کیا قرآنی آیات کی خطاطی کی وجہ سے انہیں اسلامی مصور کہا جا سکتا ہے؟ صادقین نے اختلاف کرتے ہوئے جواب دیا تھا کہ میرا اصل فن مصوری یعنی تصویریں بنانا ہے اور میری خطاطی بھی میری مصوری کے ہی زیرِ اثر ہے۔

    صادقین انڈیا گئے تو انہوں نے ایک بڑا عرصہ دہلی میں گزارا۔ ہندوستانی حکومت نے انہیں مکمل پروٹوکول کے ساتھ ان کے آبائی شہر امروہہ لے جانے کا اہتمام کیا۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے پورا شہر ہی ان کے استقبال کے لیے اُمڈ آیا ہو۔ انہیں ہاتھی پر بٹھا کر جلوس کی شکل میں ان کے آبائی گھر لے جایا گیا۔ اُس وقت کی ہندوستانی وزیرِاعظم اندرا گاندھی کی طرف سے اس گھر کی چابیاں بطورِ تحفہ پیش کی گئیں۔

    صادقین نے چابیاں یہ کہتے ہوئے واپس کر دیں کہ ‘میں اس گھر کو امروہہ کے باسیوں کی نذر کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ یہاں ایک کتب خانہ قائم کریں گے۔’

    صادقین اپنے فن پاروں میں میورالز کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ میورالز بناتے ہوئے انہیں کچھ ایسا محسوس ہوا کرتا کہ وہ ان مناظرمیں اور ان لوگوں میں جن کی وہ تصویریں بنا رہے ہوتے ، گویا وہ ان کے چاروں اور زندہ ہیں اور وہ ان میں سانس لے رہے ہیں۔

    صادقین نے اپنا پہلا میورل کراچی ایئر پورٹ پر بنایا، کراچی میں جناح ہسپتال اور منگلا ڈیم کے علاوہ سینڑل ایکسائز لینڈ، کمشنر کلب اور سروسز کلب کی دیواروں پر موجود شاہکار صادقین کی تخلیقات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ 1961ء میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کراچی کی لائبریری میں وقت کے خزانے کے نام سے شاندار میورل تخلیق کیا، اس عظیم الشان فن پارے میں انہوں نے سقراط سے لے کر آئن اسٹائن تک ہر عہد کے علمی اور سائنسی ارتقائی ادوار کو اس قدر مہارت اور خوبصورتی سے پیش کیا ہے کہ دیکھنے والا مبہوت ہوکر رہ جاتا ہے۔

    غالب کی صدسالہ برسی کے موقع پر 1969ء میں صادقین نے کلام غالب پر پچاس وسیع وعریض اللسٹریشنز تیار کیں۔

    صادقین کو کئی ملکی غیر ملکی ایوارڈز، انعامات اور اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کے شاہکار ‘The Last Supper’ نے سب سے زیادہ شہرت حاصل کی۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان، منگلا ڈیم پاور ہاؤس، لاہور میوزیم، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی، بنارس ہندو یونیورسٹی، جیولوجیکل انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا، فریئر ہال کراچی، ابو ظہبی پاور ہاؤس اور پنجاب یونیورسٹی جیسی اہم عمارتوں کے علاوہ بالخصوص پیرس کے مشہور زمانہ شانزے لیزے میں صادقین کے منقش فن پارے آنے والی نسلوں کو صادقین کی فنی عظمت کی یاد دلاتے رہیں گے۔

    بھرپور ستائش ملنے کے باوجود صادقین دنیا کی بھیڑ میں گم ہونے کے بجائے اپنے فن کی دنیا میں ہی رات دن مگن رہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے دنیا اس جوہر نایاب کو صحیح معنوں میں پہچان نہ سکی، وہ جانتے تھے کہ وہ دنیا کو کیا دے رہے ہیں، لیکن ان کے ہم وطنوں کی بڑی تعداد ان کی صلاحیتوں سے بے خبر رہی۔

    شاید بہت کم لوگوں کو یہ علم ہو کہ صادقین بہت اچھے شاعر بھی تھے، ان کی رباعیات بھی اسی قدر کمال کی ہیں جس قدر کہ ان کی مصوری کے شاہکار کمال کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کی رباعیات پر مشتمل دو کتابیں ‘رباعیاتِ صادقین خطّاط’ اور ‘رباعیاتِ صادقین نقّاش’ شائع ہوچکی ہیں۔

    صادقین کا انتقال 10 فروری 1987ء کو کراچی میں ہوا۔ انہیں سخی حسن قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا، لیکن ان کا فن انہیں ہمیشہ زندہ رکھے گا۔

  • چین پاکستان کی خوشحالی کیلئے حمایت جاری رکھے گا.  ترجمان زاؤ لیجیان

    چین پاکستان کی خوشحالی کیلئے حمایت جاری رکھے گا. ترجمان زاؤ لیجیان

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان زاؤ لیجیان نے کہا ہے کہ چین پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان زاؤ لیجیان نے کا کہنا ہے کہ چین پاکستان کی معاشی ترقی، لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور مالی استحکام کوبرقرار رکھنے کے لیے پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔

    انھوں نے انٹرنیشنل پریس سینٹر (آئی پی سی) میں معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ چین اور پاکستان سدا بہار سٹرٹیجک شراکت دار ہیں ، چین نے معاشی ترقی، لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ہمیشہ پاکستان کی مدد کی ہے۔ چین دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات استوار کرنے کیلیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ پاکستانی حکومت اور چینی سفارتخانہ چینی اداروں کے تحفظ کے حوالے سے قریبی رابطے اور ہم آہنگی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان حکومت نے سی پیک اور بین الحکومتی تعاون کے منصوبوں میں شامل چینی اہلکاروں کے تحفظ کیلیے ایک خصوصی سیکیورٹی فورس قائم کی اور پاکستان میں چینی عہدیداروں کی حفاظت بھی