Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پاکستان نے افغانستان کے زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی سامان کی دوسری کھیپ روانہ کردی

    پاکستان نے افغانستان کے زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی سامان کی دوسری کھیپ روانہ کردی

    اسلام آباد: وفاقی وزیر سیفران محمد طلحہ محمود نے حکومت پاکستان کی جانب سے افغانستان کے زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی سامان کی دوسری کھیپ افغان ناظم الامور سردار محمد شکیب کے حوالے کی. تقریب آج نور خان بیس راولپنڈی میں منعقدہ ہوئی. اس موقع پر چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز بھی موجود تھے. اسکے علاوہ پاکستانی وزارت خارجہ اور افغان ایمبیسی کے حکام نے بھی شرکت کی۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی دوسری امدادی کھیپ میں فیملی خیمے اور اشیائے خوردونوش شامل ہیں، جسے پی اے ایف C130 ایئر کرافٹ کے ذریعے روانہ کیا گیا ہے۔

    دوران تقریب افغانستان میں زلزلے کے دوران قمیتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے، وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے اس مشکل گھڑی میں افغانستان حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور وزارت خارجہ، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور دیگر ادارے امدادی سامان کی فراہمی کے لیے افغان حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔ .

    افغان ناظم الامور نے زلزلہ زدگان کے لیے فوری طور پر امداد بھجوانے پر پاکستانی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

    یاد رہے وزیر اعظم پاکستان کی ہدایت پر این ڈی ایم اے نے افغانستان میں زلزلہ متاثرین کے لئے امدادی سامان کی پہلی کھیپ 23 جون 2022 کو بذریعہ روڈ بجھوا دی تھی ۔

    ادھرافغانستان میں زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں جہاں کم از کم ایک ہزار اموات ہوئی ہیں تاہم افغان طالبان کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق افغان طالبان کی فوج کے ترجمان محمد اسماعیل معاویہ کا کہنا ہے کہ ’ریسکیو آپریشن ختم ہو گیا ہے۔ کوئی بھی ملبے تلے نہیں دبا ہوا۔‘ جبکہ قدرتی آفات سے نمٹنے کی وزارت کے ترجمان محمد نسیم حقانی نے کہا ہے کہ بڑے ضلعوں میں ریسکیو آپریشن ختم ہوگیا ہے تاہم دوردراز علاقوں میں جاری ہے۔

    اقوام متحدہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ طالبان کی وزارت دفاع کے مطابق 90 فیصد سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن مکمل ہوگیا ہے۔

    ادھر پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان، خاص کر خوراک اور ادویات، پہنچانے کا عمل جاری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے ہیلی کاپٹر، ایمبولینس اور ریسکیو ٹیمیں متاثرین کی مدد کر رہی ہیں۔‘

  • روس پر پابندیوں سے پاکستان سمیت کئی ممالک متاثر ہوں گے:دفتر خارجہ

    روس پر پابندیوں سے پاکستان سمیت کئی ممالک متاثر ہوں گے:دفتر خارجہ

    اسلام آباد: دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ روس پر پابندیوں سے پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک متاثر ہوں گے۔اطلاعات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے ہفتہ وار میڈیا بریفننگ دیتے ہوئے کہاکہ ہم بھارت سے زیر التوا مسائل کے حل کے لیے بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات چاہتے ہیں،ماحول کو سازگار بنانا بھارت کی ذمہ داری ہے،بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیوں کی حمایت کرتا رہا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر افغان بھائیوں کے لیے امداد فراہم کی گئی، زلزلہ سے نقصان پر دلی تعزیت کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے فرینڈز آف گروپ کے اجلاس میں ڈس انفارمیشن کے مقابلے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور منظم حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔

     

     

    ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ کینیڈین پارلیمان میں پاکستان کے اندرونی معاملات سے متعلق دیے گئے بے بنیاد اور غلط ریمارکس پر کینیڈین ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر دولت مشترکہ کے سربراہان حکومت کے 26 ویں اجلاس میں پاکستان کے وفد کی قیادت کرنے کے لیے کیگالی روانڈا کے سرکاری دورے پر ہیں، جنہوں نے گزشتہ روز کامن ویلتھ کے وزرائے خارجہ امور کے اجلاس میں شرکت کی، وزیر مملکت اجلاس اور دو طرفہ ملاقاتوں میں پاکستان کا نقطہ نظر پیش کریں گی۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ گزشتہ ہفتے برلن میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے اپنے اجلاس میں پاکستان کے 2018 اور 2021 کے ایکشن پلان کی تکمیل کو تسلیم کیا جس میں 34 آئٹمز شامل ہیں، گرے لسٹ سے نکلنے کے آخری قدم کے طور پر پاکستان کے آن سائٹ دورے کی اجازت بھی دی ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کیا ہے اور پاکستان کی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ٹیم کی محنت اور کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے عمل کے جلد اختتام کی امید ظاہر کی۔

    ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی برادری کے ساتھ ملکر 18 اور 19 جون کو نفرت انگیز تقاریر کے انسداد کے عالمی دن اور تنازعات میں جنسی تشدد کے خاتمے کا عالمی دن منایا ، پناہ گزینوں کا عالمی دن 20 جون 2022 کو منایا گیا، اس دن کو مناتے ہوئے ہم نے پوری دنیا کے مہاجرین کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا۔

  • چین نے پاکستان کو دو ارب 30 کروڑ ڈالر قرضہ دے دیا

    چین نے پاکستان کو دو ارب 30 کروڑ ڈالر قرضہ دے دیا

    چین نے پاکستان کو دو ارب 30 کروڑ ڈالر قرضہ دے دیا، وزیر خزانہ نے رقم اسٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ میں منتقل ہونے کی تصدیق کردی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اپنے ٹویٹ میں اس حوالے سے اعلان کیا ہے کہ چینی کنسورشیم کی جانب سے پاکستان کو قرض کی مد میں دو ارب 30 کروڑ ڈالر موصول ہوگئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ رقم اسٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوگئی ہے جس کے بعد ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگیا ہے۔

    واضح رہے کہ چینی بینکوں کے کنسورشیئم کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت پاکستان کو یہ رقم ملی ہے۔ توقع ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری سے روپے کی قدر بھی مستحکم ہوجائے گی.علاوہ ازیں اگلے چند روز میں آئی ایم ایف کے ساتھ اگر اسٹاف سطح کا معاہدہ طے پاجاتا ہے تو اس کے بعد عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اسلامک ترقیاتی بینک کی جانب سے پاکستان کو فنانسنگ ملنا شروع ہوجائے گی۔

    اس طرح آئی ایم ایف پروگرام ٹریک پر آنے کے بعد پاکستان کو ڈونر اداروں اور ممالک سے دس سے بارہ ارب ڈالر کی فنانسنگ پاکستان کو ملنے کی توقع ہے جس سے اقتصادی صورتحال میں بہتری کے امکانات ہیں علاوہ ازیں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا بھی رجحان اگر برقرار رہتا ہے تو اس سے بھی صورتحال بہتر ہوگی۔

    چین کا افغانستان میں زلزلہ متاثرین کے لیے اضافی امداد کا اعلان

    قبل ازیں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پاکستان اب ڈیفالٹ نہیں بہتری کی جانب جائے گا، ملک کو ڈیفالٹ سے بچا لیا۔

    سپیکرراجہ پرویزاشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے بجٹ بحث سمیٹتے ہوئے کہا ہے کہ تمام بجٹ کی کاروائی بہت خوش اسلوبی سے ہوئی ہمیں ارکان نے بہت اچھے مشورے دیئے گئے ہیں، بیشتر سفارشات کو شامل کر رہے ہیں، اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کی طرف سے گندم و کپاس اور نوجوانوں کی طرف توجہ دلائی گئی، ہم نے کھل بنولہ پر ٹیکس ہٹا دیا ہے، زرعی آلات ٹریکٹر وغیرہ پر سبسڈی دے کر کسانوں کی مدد کی۔

    انہوں نے کہا کہ 10 لاکھ لوگوں کو 2،2 ہزارروپے دینے کیلئے رجسٹر کر لیا، 80 لاکھ لوگوں کو 2،2 ہزار روپے دیئے ہیں، رواں مالی سال 5300 ارب روپے کا خسارہ ہوا، پونے 4 سال میں 71 سال کے برابر قرض لیا گیا، رواں مالی سال کرنٹ اکاونٹ خسارہ 17 ارب ڈالر تک ہوگا۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ خسارہ پورا کرنے کیلئے ہمیں پوری دنیا سے پیسے مانگنا پڑتے ہیں، وزیراعظم کے بیٹوں کی کمپنیوں پر بھی زیادہ ٹیکس عائد کیا، میری اپنی کمپنی آئندہ مالی سال 20 کروڑ روپے زیادہ ٹیکس دے گی۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ خسارے کا ہدف 3990 مگر 5310 ارب کا خسارہ ہوا ہے، جی ڈی پی کا خسارہ 9.5 فیصد رہا، عمران خان تو ملک کو دیوالیہ کی طرف لے گئے تھے، ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے، اب ایٹمی ملک دیوالیہ نہیں ترقی کی طرف جائے گا، چالیس ارب روپے میں پوری حکومت چلتی ہے، عمران خان پیٹرولیم پر 120 ارب روپے کی سبسڈی دے دی۔

  • منشیات کا مقدمہ: سرچ وارنٹ کے بغیر بھی گرفتاری کی جاسکتی ہے. سپریم کورٹ

    منشیات کا مقدمہ: سرچ وارنٹ کے بغیر بھی گرفتاری کی جاسکتی ہے. سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ منشیات کے مقدمے میں سرچ وارنٹ کے بغیر گرفتاری کی جاسکتی ہے۔
    تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے انسداد منشیات کے پی ایکٹ 2019 کی شق 27 کی تشریح کردی، جسٹس یحییٰ آفریدی نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا۔

    ملزم سید زوالفقار علی شاہ نے ضمانت بعد گرفتاری کیلئے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا، عدالت نے کہا ملزم کو چرس فروخت کے الزام پہ گرفتار کیا گیا، ملزم نے اپنے دفاع میں انسداد منشیات ایکٹ کی شق 27 کا حوالہ دیا، ملزم نے اپنے دفاع میں موقف اختیار کیا کہ شق 27 کے تحت منشیات کے مقدمے میں سپیشل جج سے سرچ وارنٹ کے بغیر گرفتاری نہیں ہوسکتی۔

    سپریم کورٹ نے کہا منشیات مقدمات میں ملزم کے غائب ہو جانے کے خدشہ کے پیش نظر پولیس کو رسمی کارروائی میں نہ پڑنے کے عدالتی نظائر موجود ہیں، سرچ وارنٹ کے بغیر گرفتاری کی دلیل پر ٹرائل روکا جاسکتا ہے نہ سزا ختم کی جاسکتی ہے، سرچ وارنٹ کے بغیر گرفتاری کے سبب کسی ملزم کو بری نہیں کیا جاسکتا۔

    عدالت نے سید ذوالفقار علی شاہ کی ضمانت کی درخواست خارج کردی۔

  • عمران اقتدار سے اترتے ہی ذہنی توازن کھو بیٹھا ہے۔ سابق ڈی جی رانجھا

    عمران اقتدار سے اترتے ہی ذہنی توازن کھو بیٹھا ہے۔ سابق ڈی جی رانجھا

    سابق ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب برگیڈیئر (ر) مظفر رانجھا نے سابق وزیر اعظم عمران کے الزامات کے جواب میں کہا ہے کہ: یہ شخص جب سے اقتدار سے اترا ہے اس کا ذہنی توازن خراب ہوگیا ہے اور اگر عمران جھوٹے الزامات سے باز نہ آئے تو اسے عدالت لے کر جاؤں گا.

    سابق ڈی جی نے ایک نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ: عمران خان صرف اور صرف الزامات لگاتا ہے لہزا اگر انہوں نے جھوٹے الزمات لگانا بند نہ کئے تو ان کیخلاف قانونی کاروائی کروں گا. اور عمران خان کو کبھی فوج کو متنازعہ بنانے کی اجازت بھی نہیں دوں گا. لہذا عمران خان اب بھول جائیں میں اپنی ذاتی قربانی دے سکتا ہوں لیکن کسی صورت ادارے کو متنازعہ بنانے نہیں دوں گا اور یہ میرے ساتھ جس فورم پر چاہے بیٹھ جائے اگر اسے جھوٹا ثابت نہ کیا تو جو سزا دی جائے اسکے لئے تیار ہونگا.

    برگیڈیئر رانجھا نے کہا کہ: میں عمران خان کو چیلنج کرتا ہوں کہ ان کی چار سال حکومت رہی لیکن انہوں نے میرے خلاف ٹھوس ثبوت کی بنیاد پر کاروائی کیوں نہ کی۔

    رانجھا کے مطابق: اس سے قبل 4 مئی کو انٹرویو دیا کہ اس معاملے پر کمیشن بنائیں اور کمیشن بنانے سے پہلے ایک بیان حلفی بنائیں گے جو بھی ذمہ دار ہوگا وہ بڑی سزا کے لئے تیار ہوگا اور میرے انٹرویو پر جب میڈیا نے ان سے پوچھا تو اس جھوٹے شخص نے کہا کہ یہ میرا سیاسی بیان ہے .

    ان کا مزید کہنا تھا: میرے الزام کی طرح انہوں نے صحافی نجم سیٹھی پر بھی الزام لگایا تھا. رانجھا نے دعوی کیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے بارے میں مجھے بہت کچھ پتا ہے لیکن اگر وہ باز نہ آئے تو ناصرف عدالت جاؤں گا بلکہ ذرائع ابلاغ کو بھی ان کی ساری کرتوت بتا دیں گے.

    واضح رہے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں رجیم چینگ سیمینار سے خطاب کے دوران تحریک انضاف کے چیئرمین عمران خان نے الزام لگاتے ہوئے ایک بار پھر دعوی کیا تھا کہ مسلم لیگ ن کو 2013 میں اقتدار میں لانے کیلئے برگیڈیئرمظفر رانجھا نے ساری انجینرنگ کی تھی۔

  • بڑی صنعتوں پر دس فیصد ٹیکس لگے گا. وزیر اعظم

    بڑی صنعتوں پر دس فیصد ٹیکس لگے گا. وزیر اعظم

    اسلام آبا د میں وزیراعظم شہباز ریف نے معاشی ٹیم کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے بجٹ سے متعلق بتایا کہ ہم نے اہم فیصلے کیے ہیں، اور اس میں اتحادیوں سے مشاورت کرکے بڑے جرات مندانہ فیصلے کیے۔لہذا ان فیصلوں سے شارٹ ٹرم میں مشکلات آئیں گی لیکن ہم ان مشکلات سے نکل آئیں گے.

    وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ : یہ پہلا بجٹ ہے جس میں ہم نے معاشی وژن دیا ہے لیکن قوم کو کوئی سبزباغ نہیں دکھاؤں گا کیونکہ مہنگائی کا طوفان سر پر اور اس کوکم کرنے کے لیے جان لگا کر اقدامات کریں گے جس سے مہنگائی کوکنٹرول کرلیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا: ہم بڑی صنعتوں پر سپر ٹیکس لگا رہے ہیں تاکہ عام آدمی کوٹیکس سے بچایا جاسکے۔ بڑی صنعتوں میں سیمنٹ، اسٹیل، شوگرانڈسٹری، ،آئل اینڈگیس، ایل این جی ٹرمینل، فرٹیلائزر، بینکنگ، ٹیکسٹائل، آٹوموبل، کیمیکل، بیوریجز اور سگریٹ انڈسٹری پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگے گا۔
    ان کا مزید کہنا تھاکہ: سالانہ 15کروڑ روپے سے زائدکمانے والےکی آمدن پرایک فیصد، 20 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن پر2 فیصد، 25 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن پر3 فیصد اور 30 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن پر4 فیصد ٹیکس لگایا جائے گا۔

    شہباز شریف نے دعوی کیا کہ: ہمارا یہ پہلا بجٹ ہے جس کا مقصد پاکستان کی عوام کو غیر معمولی سختیوں سے بچانا ہے، ہم نے جو اقدامات کیے ہیں ان کا مقصد غریبوں کے کندھوں سے بوجھ کو کم کرنا ہے اور ایسے طبقات جو یہ بوجھ برداشت کر سکتے ہیں ان سے مدد لینا ہے۔
    انہوں امرا طبقے کو یاد دلایا کہ تاریخ گواہ ہے ہر چیلنج اور مشکل میں ہمیشہ غریبوں نے قربانی دی ہے، لیکن آج صاحبِ حیثیت افراد کو اپنا حق ادا کرنا چاہئے۔

    وزیراعظم نے خبردار کیا کہ: ٹیکس کی کلیکشن کے لیے تمام ڈیجیٹل ٹولز لز کو بروئے کار لائیں گے، عام شہری کو ٹیکس کے بوجھ سے بچانے کے لیے ٹیکس جمع کیا جائے گا اور ٹیکس کے پیسے عوام پر استعمال کریں گے، اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو ہمیں قرض لینا پڑے گا۔

    A Pakistani stockbroker reacts as monitor share prices during a trading session at the Pakistan Stock Exchange (PSX) in Karachi on December 3, 2018. (Photo by RIZWAN TABASSUM / AFP)

    ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق: وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بڑی صنعتوں پر سپر ٹیکس کے نفاذ کے اعلان کے فوری بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حصص کی فروخت کا شدید دباؤ دیکھنے میں آیا اور کے ایس ای 100 انڈیکس 2 ہزار پوائنٹس گر گیا۔
    کاروبار کے آغاز کے بعد 2 گھنٹے تک مارکیٹ ہموار رہی تاہم 11 بج کر 40 منٹ پر شدید مندی دیکھی گئی اور کے ایس ای 100انڈیکس ایک ہزار 598 پوائنٹس کم ہو کر 41 ہزار 100 کی سطح پر گر گیا۔ دوپہر 12 بجے تک 100 انڈیکس 2 ہزار 53 پوائنٹس یا 4.8 فیصد تک کم ہوگیا تھا۔

  • اقوام متحدہ فیک نیوز کیخلاف ٹاسک فورس بنائے۔ وزیرخارجہ بلاول بھٹوزرداری

    اقوام متحدہ فیک نیوز کیخلاف ٹاسک فورس بنائے۔ وزیرخارجہ بلاول بھٹوزرداری

    گروپ آف فرینڈز کے ایک ورچوئل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے مطالبہ کیا کہ وہ فیک نیوز کی سرکوبی کیلئے انٹرایجنسی ٹاسک فورس بنائے۔ تاکہ جعلی خبروں اور غلط معلومات کاخاتمہ ہوسکے۔

    ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق : وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ حکومتوں اور ان کے متعلقہ اداروں کی غلط معلومات کا سراغ لگانے، تجزیہ کرنے اور اسے بے نقاب کرنے کا نظام بنائیں جس میں قومی اور بین الاقوامی محققین اور ان اداروں کو مالی اور تکنیکی مدد فراہم کی جائے جو غلط معلومات کا سراغ لگانے میں معاون ثابت ہوں۔
    وزیرخارجہ نے مزید کہاکہ: اقوام متحدہ کا محکمہ اطلاعات اس سلسلے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اور اس اقدام سے جھوٹی خبروں کا سدباب کرنا ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

    وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ: انسانی حقوق ، مختلف کمیونٹیز اور ریاستوں کے درمیان آپسی تعلقات پر غلط معلومات کے منفی اثرات کو کم کرنے کیلئے بھی یہ ضروری ہے ہم سب مل کر فیک نیوز کا جڑ سے خاتمہ کریں تاکہ ریاستوں اور کمیونٹیز کے درمیان کسی بھی پید ا ہونے والی غلط فہمی کو روکا جاسکے۔

  • سینیٹرز ولید اقبال، اعظم سواتی، اعجاز چوہدری اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے کیسز: رپورٹ طلب

    سینیٹرز ولید اقبال، اعظم سواتی، اعجاز چوہدری اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے کیسز: رپورٹ طلب

    اسلام آباد: ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوُس میں منعقد ہوا-قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے حقیقی آزادی مارچ کے دوران امن امان قائم کرنے والی ایجنسیوں اور انتظامیہ کی جانب سے لانگ مارچ شرکاء پر آنسو گیس، کیمیکل گیس کی شیلنگ اور پی ٹی آئی لیڈر شپ پر پولیس کی کریک ڈاؤن سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں اور عام عوام پر ایف آئی آر کا اندراج، غیر قانونی پکڑ دھکڑ، چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے گزشتہ اجلاس میں بھی حقیقی آزادی مارچ کے شرکاء پر بے تحاشہ شیلنگ اور رکاؤٹوں کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا تھا۔ متعدد سینیٹرز نے کمیٹی اجلاس میں شرکت کر کے نا صرف روداد بیان کی تھی بلکہ ویڈیو لنک کے ذریعے بھی مسائل بارے آگاہ کیا تھا۔ قائمہ کمیٹی حالات واقعات کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی اجازت سے تمام صوبوں کا دورہ کر کے حتمی رپورٹ تیار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کے حوالے سے ٹویٹ اور سوشل میڈیا پر ریٹائرڈ آرمی افسران کی کینیڈا میں شہریت کے حوالے سے غلط خبریں گردش کر رہی ہیں جن کا اس کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔کمیٹی یہ معاملہ نہ ہی کبھی زیر بحث لایا گیا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی رپورٹ بنائی گئی ہے۔

    ویڈیو لنک کے ذریعے سابق صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ25ماڑچ کو لاہور سے ا حتجاج کے لئے نکلی تھی تو میری گاڑی پر ڈنڈے برسائے گئے ہمیں زدوکوب کیا گیا ہمیں گرفتار کر کے تھانہ لے جایا گیا ابھی تک ہماری ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ احتجاج میں شرکاء کی گاڑیوں کو بھی توڑا پھوڑا گیا۔ سنیٹر ولید اقبال نے بتایا کہ جیو فینسنگ کے ذریعہ سے ایک لسٹ بھی شیئر ہوئی جس میں میرا نام تھا۔رات کے بارہ بجے مجھے لاہور گھر سے فون آیا کہ پولیس کی ایک نفری نے ہمارے گھر پر دھاوا بول دیا ہے اور پولیس وین کے ذریعے ہمارے گیٹ کو توڑا گیا۔ میں اپنے والدین کے گھر رہتا ہوں میرے گھر کے گیٹ پر میرے والد اور والدہ کا نام بھی لکھا ہے۔ اہلکار دیوار پھلانگ کر گھر داخل ہو ئے۔ میرے بارے پوچھا گیا کہ ولید اقبال کدھر ہے پھر کک کے ذریعہ دروازے پیٹے گئے۔ دو دن بعد ڈی آئی جی صاحب سے ہمارے گھر آئے اور آئی جی پنجاب کی جانب سے معذرت کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو واضح معلوم تھا کہ میں اسلام آباد میں ہوں پھر بھی میرے گھر والوں کو شدید حراساں کی گیا۔ جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے کہا کہ شاعر مشرق کے بیٹے کے گھر پر اسطرح دھاوا بولنا انتہائی شرم ناک ہے۔قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ حقیقی آزادی مارچ کے شرکاء کے حوالے سے جو واقعات ہوئے ہیں اُن کے دو پہلو ہیں۔ اُن پر نہ صرف بے تحاشہ شیلنگ، رکاوٹیں اور مسائل پیدا کئے گئے بلکہ انہیں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں اور کچھ کے خلاف دہشت گردی کی دفعات بھی لگائی گئیں ہیں۔ ان کو علیحدہ علیحدہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کو سخت حراساں کی گیا۔

    سینیٹر اعجاز چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے کمیٹی کو بتایا کہ انہیں پولیس نے گرفتار کیا اور مختلف تھانوں میں رکھا اور کسٹڈی کے دوران اُن پر ایف آئی آر درج کی گئیں۔میرے فون کی لوکیشن موجود ہے میرے گھر کو توڑا گیا اور میرے اُوپر دہشت گردی کی دفعات لگائی گئیں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ سینیٹرز ولید اقبال، اعظم سواتی، اعجاز چوہدری اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے کیسز کے حوالے سے متعلقہ ادارے 15دن کے اندر رپورٹ تیار کر کے کمیٹی کو فراہم کریں۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ ویڈیو لنک کے ذریعے کمیٹی کا اجلاس کرنے کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ آئندہ اجلاس میں متعلقہ ادارے اور متاثرین شرکت کر کے معاملات کا جائزہ لیں۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں صوبہ پنجاب کے حوالے سے ان معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا اور متعلقہ اداروں سے جو تفصیلات اور رپورٹس طلب کی گئیں ہیں وہ بروقت فراہم کی جائیں۔

    سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے عمران ریاض نے کمیٹی کو بتایا کہ پنجاب پولیس نے ایک ڈاکو کو اُن کے گھر کے قریب لا کر جعلی مقابلے میں ہلاک کر دیا اور اس کے گھر کے پاس فائرنگ بھی کرتے رہے۔میں نے خود پولیس سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ پولیس مقابلہ ہوا ہے جس میں ایک ڈاکو ہلاک ہوا ہے اورڈاکو موٹر سائیکل پر آئے تھے رات تین بجے کا وقت تھا اُس ڈاکو کا زمین پر پڑا خون گرم جبکہ اُس موٹر سائیکل کا سائلنسر بلکل ٹھنڈا تھا اس جعلی مقابلے کی انکوائری ہونی چاہئے۔ مجھے اور میرے گھر والوں کو حراساں کیا جا رہا ہے مجھے کہا جا رہا ہے کہ لاہور سے شفٹ ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ میرے گھر کے آس پاس پانچ پولیس ناکے لگا کر مجھ سے ملنے آنے والوں کو شدید تنگ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف صحافیوں پر دو درجن کے قریب ایف آئی آرز درج کی گئیں ہیں جن میں سیکشن 505لگائی گئی ہے جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی اجازت کے بغیر نہیں لگائی جا سکتی اور اُن علاقوں سے بھی ایف آئی آر درج کی گئیں ہیں جہاں انٹرنیٹ کا نام و نشان بھی نہیں ہے۔ سینیٹر رانا مقبول احمدنے کہا کہ جعلی مقابلے اور عمران ریاض کو حراساں کرنے کے معاملے کی انکوائری ہونی چاہئے۔ جو پولیس اہلکار ملوث ہیں انکے خلاف کاروائی ہونی چاہیے۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ کچھ معروف صحافیوں کو جان بوجھ کر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اُن کو کام سے روکنے کیلئے ایسے ہتھ کنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں جس کی ہم بھر پور مذمت کرتے ہیں۔

    صوبائی ممبرا سمبلی حلیم عادل نے کہا کہ آزدی مارچ کرنا ہر ایک کاآئینی حق ہے مگر آزادی مارچ کرنے والے پارلیمنٹرین اور عوام پر دہشت گردی کی دفعات لگانا انتہائی افسوسناک ہے پولیس کی ستم ظریفی سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہا میں ایک ٹی وی پروگرام میں تھا اُس وقت بھی میرے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز نے کہا کہ کراچی یونیورسٹی کے طلبعلم جو صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں اُن کے اغوا پر اہل خانہ نے احتجاج کیا تو خواتین کے ساتھ انتہائی نا مناسب سلو ک کیا گیا۔ قائمہ کمیٹی نے معاملے کی رپورٹ متعلقہ حکام سے طلب کر لی۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سندھ میں آزادی مارچ کے حوالے سے 225ایف آئی آر درج ہوئی اور چار سے پانچ ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعات لگائی گئی ہیں اور زیادہ تر پکڑے گئے لوگوں کو آزاد کر دیا گیا تھا۔ اے آئی جی سندھ نے کہا کہ جو بچے اغوا ہوئے تھے اُن کے لواحقین نے سی ایم ہاؤس اور عدالت کی طرف احتجاج کرنے کی دھمکی دی تو پولیس نے اعلیٰ حکام کو بتائے بغیر ایکشن لیا اُن کے خلاف انکوائری چل رہی ہے۔ سندھ ہوم ڈپارٹمنٹ سے بھی انکوائری ہو رہی ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما صداقت عباسی نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد میں جتنا نقصان ہوا پولیس کے ایکشن کے ری ایکشن میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جب عدالت نے اجازت دے دی تھی تو پولیس نے کس کے حکم سے عوام پر آنسو گیس کی بارش کی۔ پارلیمنٹرین پر لاٹھی چارج کیا گیا۔پولیس نے قانون سے بالا تر ہو کر کام کیا اس کی انکوائری ہونی چاہئے۔ سینیٹر فلک ناز چترالی نے کہا کہ 25 مئی کو اسلام آباد مقبوضہ کشمیر کا منظر پیش کر رہا تھا۔ وہ پولیس کی آنسو گیس سے میں بے ہوش گئی تھی۔میرا دس سال کا بچہ گھر پر اکیلا تھا مگر مجھے پارلیمنٹ جانے کی اجازت نہیں دی گئی ساری رات سڑک پر گزاری۔ میرا بچہ ٹراما میں ہے ابھی تک وہ نارمل نہیں ہوا۔ اسلام آباد پولیس نے بہت زیادہ شیلنگ کی تھی اور خود درختوں کو آگ لگائی جس کی ویڈیوز موجود ہیں۔ سینیٹر سیمی ازدی نے کہا کہ آگ لگانے والے بندے کو ہمارے لوگوں نے پکڑا بھی تھا جو پٹرول چھڑک کر آگ لگا رہا تھا۔ آر پی او روالپنڈی نے بتایا پنڈی ریجن میں کوئی پبلک پراپرٹی کا نقصان نہیں ہوا اورجن لوگوں کوپکڑا گیا تھا انہیں چھوڑ دیا گیا۔آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ ہم سب کو قانون کے مطابق کام کرنا چاہئے آزادی مارچ کے حوالے سے معاملہ عدالت میں ہے اور جن لوگوں نے قانون کے خلاف کام کیا ہے اُن کے خلاف شفاف انکوائری کرائی جائے گی۔
    سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے ڈی چوک اور نادرا چوک اسلام آباد کو بلا جواز بند کر کے سرکاری ملازمین اور عام عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا گیا ہے عوام کو ریلیف دینا چاہئے سیکورٹی کی وجہ بتا کر آئے دن سڑکیں بلاک کرنا مناسب نہیں۔ قائمہ کمیٹی نے فوری طور پر ڈی چوک اور نادرا چوک کو کھولنے کی ہدایت کر دی۔ سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ ملک میں جو مہنگائی کا طوفان آیا ہے اس کی بدولت پورے ملک اور خاص طور پر وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں چوری ڈکیتی کے واقعات میں ہوش ربا اضافہ ہو چکا ہے۔ اسلام آباد پولیس مختلف علاقوں میں نہ صرف اپنی نفری میں اضافہ کرے بلکہ پولیس گشت میں بھی اضافہ کر کے ان مسائل کے تدارک کرے۔

    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں قائد حز ب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم، سینیٹرز ثمنیہ ممتاز زہری، رانا مقبول احمد، شہادت اعوان، فوزیہ ارشد، سرفراز احمد بگٹی، دلاور خان، شبلی فراز، ولید اقبال، فلک ناز، سیمی ازدی کے علاوہ اسپیشل سیکرٹری داخلہ، اسپیشل سیکرٹری ہوم سندھ، اسپیشل سیکرٹری ہوم پنجاب، ڈی سی اسلام آباد، آر پی او راولپنڈی، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ایڈیشنل کمشنر اسلام آباد اور آن لائن پر سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد، صوبائی ممبر اسمبلی حلیم عادل، ایس پی لاہور، اے آئی جی میر پور اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ *

    "معیشت کی حالت اور سالانہ بجٹ” کے موضوع پر سینیٹ اراکین کا سیمینار،اطلاعات کے مطابق سینیٹ آف پاکستان اور یورپی یونین کے فنڈڈ پروجیکٹ "مستحکم پاکستان” نے مشترکہ طور پر "معیشت کی حالت اور سالانہ بجٹ” کے موضوع پر سینیٹ کے اراکین کے لیے ایک سیمینار آج پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد کیا۔ مالیاتی اور اقتصادی ماہرین نے سینیٹرز کو این ایف سی کے تحت وسائل کی تقسیم، قرضوں کے انتظام کے مسائل اور رکاوٹوں، پاکستان کی معیشت کو درپیش اہم اقتصادی چیلنجوں، وفاقی بجٹ میں آئینی شقوں اور مالیاتی نگرانی کے حوالے سے پالیسی سفارشات کے بارے میں بریفنگ دی۔

    سینیٹرز نے پاکستان کی مجموعی اقتصادی صورتحال اور مالیاتی بحران پر قابو پانے کے لیے بجٹ تجاویز کے متعلق اپنے سوالات پیش کیے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے سیمینار کو انتہائی اہم سرگرمی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مالیاتی حالات اور قرضوں کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

    مرزا محمد آفریدی نے کہا کہ "ہمیں چھوٹے کاروباروں کو سپورٹ کرنا چاہیے۔ میکرو اور مائیکرو اکنامک عوامل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ قوم کی تعمیر کیسے کی جائے۔ سینیٹ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا”.

    سیمینار میں سینیٹرز، ہدایت اللہ خان، دوست محمد خان، دنیش کمار، عمر فاروق، ولید اقبال، افنان اللہ خان، سید صابر شاہ، بہرامند خان تنگی، محمد عبدالقادر، فدا محمد، سیکرٹری سینیٹ، قاسم صمد خان اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر PIPS نے شرکت کی۔

  • یکم جولائی سے مرحلہ وار بجلی کا ایک یونٹ 24.82 روپے کا ہوجائے گا، ذرائع پاور ڈویژن

    یکم جولائی سے مرحلہ وار بجلی کا ایک یونٹ 24.82 روپے کا ہوجائے گا، ذرائع پاور ڈویژن

    اسلام آباد:یکم جولائی سے مرحلہ وار بجلی کا ایک یونٹ 24.82 روپے کا ہوجائے گا،پاکستان پاورڈویژن کی طرف سے یہ پیغام جاری کیا گیا ہے کہ اگلے مہینے یعنی یکم جولائی سے ملک بھر میں بجلی کی قیمتیں بڑھ جائیں گی، بجلی کی فی یونٹ بنیادی قیمت میں اضافہ کردیا جائے گا۔

    ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق یکم جولائی سے فی یونٹ بجلی 3 روپے 50 پیسے مہنگی ہو جائے گی، یکم جولائی سےبجلی کاایک یونٹ 16.91روپے سے بڑھ کر 20.41روپے ہوجائے گا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم اگست سے فی یونٹ بجلی مزید ساڑھے 3 روپے مہنگی ہوجائے گی، یکم اگست سےبجلی کا بنیادی ٹیرف بڑھ کر 23.91 روپے فی یونٹ ہوجائے گا۔

    ذرائع کے مطابق یکم اکتوبر 2022 سے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں مزید 91پیسے فی یونٹ اضافہ کیا جائے گا اور یکم اکتوبر سے بجلی کا فی یونٹ بڑھ کر24روپے82 پیسے ہو جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ماہانہ 200 یونٹ یا اس سےکم بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر اس اضافے کا اطلاق نہیں ہوگا۔

    ادھرکراچی والوں کیلئے بجلی 11 روپے 34 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں دائر کردی گئی۔کے الیکٹرک نے مئی کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کرنے کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو دے دی۔

    نیپرا کے الیکٹرک کی درخواست پر سماعت 4 جولائی کو کرے گا، منظوری کی صورت میں کراچی کے عوام پر 22 ارب 65 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

  • پاکستان کی عسکری قیادت کے خلاف رکن پارلیمنٹ کے بیان پر کینیڈین ہائی کشمنر کی دفتر خارجہ طلبی

    پاکستان کی عسکری قیادت کے خلاف رکن پارلیمنٹ کے بیان پر کینیڈین ہائی کشمنر کی دفتر خارجہ طلبی

    اسلام آباد:عسکری قیادت کے خلاف رکن پارلیمنٹ کے بیان پر کینیڈین ہائی کشمنر کی دفتر خارجہ طلبی ،اطلاعات کےمطابق ‏کینیڈین رکن پارلیمنٹ کے پاک فوج کی قیادت سے متعلق ‘غیر ذمہ دارانہ ریمارکس’ پر پاکستان نے سخت احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ اس قسم کا رویہ ناقابل برداشت ہے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کے دفتر خارجہ نے کینیڈین رکن پارلیمنٹ ٹام کیچ کے پاکستان اور عسکری قیادت کے خلاف مضحکہ بیان پر کینیڈین ہائی کمشنر کو طلب کر کے شدید احتجاج کیا ہے۔پاکستان نے اس بیان پر وضاحت بھی مانگی ہے

    میڈیا ذرائع کےمطابق کینیڈین رکن پارلیمنٹ کی جانب سے پاکستان اور عسکری قیادت کے خلاف مضحکہ خیز و غیر ذمہ دارانہ بیان دینے پر اسلام آباد میں تعینات کینیڈا کے ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق کینیڈین ہائی کمشنر کو احتجاجی مراسلہ بھی دیا گیا اور واضح کیا گیا کہ مذکورہ بیان سفارتی آداب و تعلقات کے خلاف ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سفارت کار کو آگاہ کیا گیا کہ کینیڈا کے رکن پارلیمنٹ ٹام کیچ کا پاکستان کے خلاف حالیہ بیان سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی اور انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے ایک کینیڈین رکن پارلیمنٹ نے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ کےخلاف بہت غلط ریمارکس دیئے تھے جس کے بعد پاکستان نے سخت احتجاج کا فیصلہ کیا ہے