Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • مولانا عبدالواسع کی سربراہی میں آل پاکستان مائنز اینڈ منرلز ایسوسی ایشن کے وفد کی وزیراعظم سےملاقات

    مولانا عبدالواسع کی سربراہی میں آل پاکستان مائنز اینڈ منرلز ایسوسی ایشن کے وفد کی وزیراعظم سےملاقات

    اسلام آباد:وزیر اعظم شہباز شریف سے وزیربراۓ ہاؤسنگ اینڈ ورکس مولانا عبدالواسع کی سربراہی میں آل پاکستان مائنز اینڈ منرلز ایسوسی ایشن کے وفد نےملاقات کی ہے اورملاقات میں ملکی سطح پر اعلی کوالٹی کا کوئلہ، لوہا اور دیگر قیمتی معدنیات کی تلاش اور نکاسی کے نظام کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مختلف تجاویز زیر بحث آئیں۔

    وزیر اعظم نے اس مقصد کے حصول کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ہدایت کی، تاکہ بجلی کی پیداوار اور دیگر صنعتوں میں استعمال ہونے والے خام مال کا زیادہ سے زیادہ حصہ مقامی سطح پر پیدا کر کے ملک کا قیمتی زر مبادلہ بچایا جا سکے۔

    وزیر اعظم نے اس سلسلے میں تھر اور لاکھڑا میں موجود کوئلے کے ساتھ ساتھ میانوالی اور چنیوٹ میں دریافت شدہ لوہے کے ذخائر سے بھرپور استفادہ کرنے کی ہدایت کی۔

    وزیر اعظم نے ملک میں مائننگ سیکٹر کی ترقی کے لیے عملی تجاویز مرتب کر کے جلد از جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی، اور اس مقصد کے لیے وزارت خزانہ، وزارت توانائی، وزارت پٹرولیم، وزارت صنعت و پیداوار، فیڈرل بورڈ آف ریوینیو اور دیگر متعلقہ حکام کی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایات جاری کیں۔

    علاوہ ازیں وزیر اعظم نے تمام وفاقی وزارتوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مائننگ سیکٹر سمیت تمام شعبوں کے لیے اعلی تعلیم یافتہ ماہرین کی تلاش کے لیے وزیر مملکت براۓ پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی بنانے کا بھی حکم دیا۔

    ملاقات میں وزیر توانائی انجینئیرخرم دستگیر، وزیر اعظم کے مشیر احد چیمہ، وزیر مملکت براۓ پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک ، وزیر مملکت براۓ خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا ، چیرمین فیڈرل بورڈ آف ریوینیو عاصم احمد اور دیگراعلی سرکاری حکام نے شرکت کی،

    ادھر اج اس سے پہلے وزیر اعظم شہباز شریف سے شیخ عبدالعزیزحماد الجومعہ کی سربراہی میں کے-الیکٹرک کے وفد نے ملاقات کی ہے اورکے الیکٹرک کودرپیش مسائل اورترجیحات پرسیرحاصل گفتگو کی ہے

    ملاقات میں وزیر اعظم کو کے-الیکٹرک کے NEPRA سے متعلق دیرینہ حل طلب مسائل سے آگاہ کیا گیا، جن کے حل نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف کے-الیکٹریک اور حکومت پاکستان کا بھاری مالی نقصان ہو رہا ہے، بلکہ کراچی کے صارفین کو بجلی کی ارزاں نرخوں پر ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے۔

    وزیر اعظم نے اس سنگین لاپرواہی اور کاہلی پر گہرے دکھ کا اظہار کیا، اور اگلے 3 ماہ میں ان مسائل کا تمام فریقین کے لیے قابل قبول حل تلاش کرنے کے لیے شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں متعلقہ حکام کی کمیٹی بنانے کی ہدایت کی۔

    ملاقات میں رکن قومی اسمبلی شاہد خاقان عباسی، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، وزیر اعظم کے مشیر احد چیمہ، وزیر مملکت براۓ پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک، وزیر مملکت براۓ خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی

    ادھرکراچی والوں کے لئے بری خبر ہے کہ کے الیکٹرک نے بجلی 11 روپے 34 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست دیدی۔کے الیکٹرک کی جانب سے ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کرنے کی درخواست دائر کی ،نیپرا فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے بارے میں 4جولائی کو درخواست کی سماعت کریگا۔

    نیپرا درخواست کی سماعت کے بعد فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا حتمی فیصلہ کرے گا، اگر نیپرا کے الیکٹرک کی درخواست منظور کرلیتا ہے تو کراچی کے عوام کو 22ارب 65کروڑ روپےکا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

  • چین کو عالمی صنعتی چین سے باہر رکھنے کی کوشش امریکہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی:عالمی میڈیا

    چین کو عالمی صنعتی چین سے باہر رکھنے کی کوشش امریکہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی:عالمی میڈیا

    ایک طرف امریکہ چین پراقتصادی پابندیاں عائد کررہا ہے تو دوسری طرف امریکہ نے نام نہاد ویغور جبری مشقت کی روک تھام کے ایکٹ کے تحت، سنکیانگ سے ہر قسم کی مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ امریکہ کا یہ اقدام مارکیٹ اکانومی کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ امریکہ چین سے تجارتی امور میں “ڈیکپلنگ” چاہتا ہے، سنکیانگ اور یہاں تک کہ پورے چین کو عالمی صنعتی چین سے باہر کرنا چاہتا ہے، تاکہ چین کو کنٹرول کرنے کے لیے نام نہاد سنکیانگ کا استعمال کیا جا سکے۔

    ایک جرمن میڈیا نے تبصرہ کیا کہ امریکی سنکیانگ ایکٹ سے چینی صنعت پر تو زیادہ اثر نہیں پڑے گا مگر امریکی صنعت متاثر ہو گی۔ کچھ تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی کہ امریکی سیاست دانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ایکٹ عالمی صنعتی چین کی “ڈی-امریکنائزیشن” کی علامت بن جائے گا، جس کی منظوری خود امریکہ دے رہا ہے۔

    آج عالمگیریت کے دور میں، سنکیانگ کی مصنوعات اور خام مال دنیا کے کئی حصوں کو برآمد کیا جاتا ہے ، جو عالمی صنعتی چین کا احاطہ کرتے ہیں۔ سنکیانگ کے ویغور کارکن بھی بڑے پیمانے پر کاروباری اداروں کے پیداواری عمل میں شامل ہیں اور بہتر زندگی کے لیے کوشاں ہیں۔ امریکہ نے سنکیانگ کی مصنوعات کو خارج کرنے کی کوشش میں نام نہاد “جبری مشقت” کا جھوٹ گھڑا ہے جبکہ درحقیقت وہ خود کو عالمی منڈی سے الگ تھلگ کر رہا ہے۔

    تاریخی طور پر، امریکہ معاشی عالمگیریت کا بنیادی آغاز کنندہ اور اسے فروغ دینے والا رہا ہے، اور سب سے زیادہ فائدہ بھی امریکہ نے ہی اٹھایا ہے۔ تاہم اب کچھ امریکی سیاست دان معاشی عالمگیریت کے عمل کو منقطع کرتے ہوئے اسے تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ وقت ثابت کرے گا کہ دوسروں کا راستہ روکنے کی کوشش بلا آخر اپنا راستہ روکنے کے مترادف ہو گی ۔

  • معروف ترک عالم دین کا انتقال، عمران خان اورمولانا فضل الرحمان کا دکھ کا اظہار

    معروف ترک عالم دین کا انتقال، عمران خان اورمولانا فضل الرحمان کا دکھ کا اظہار

    لاہور: سابق وزیراعظم عمران خان اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے ترکیہ کے عالم دین شیخ محمود آفندی کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین نے لکھا کہ ترکیہ کے معروف عالم دین شیخ محمود آفندی کے انتقال کے بارے میں جان کرنہایت افسردہ ہوں۔

     

    عمران خان نے لکھا کہ انہوں نے نہایت کٹھن حالات میں دین و سنت کا احیاء کیا اور ترکی سمیت دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کو متاثر کیا۔ ان کا وصال امت کیلئے ایک عظیم نقصان ہے۔

     

     

    اُدھر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے لکھا کہ شیخ محمود آفندی کی وفات حسرت آیات ترکی کے لئے بالخصوص اور عالم اسلام کے لئے بالعموم نا قابل تلافی نقصان ہے، ترکی میں سلسلہ نقشبندیہ کے روح رواں تھے ۔ وہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد ترکی میں علوم اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کی علامت تھے ۔

     

    اس سے پہلے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی نے علامہ محمود آفندی رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال پراظہار تعزیت کرتےہوئے کہا ہے کہ موصوف عالم اسلام کی ایک بڑی شخصیت تھے

    تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ نے اپنے پیغام میں کہا ہےکہ پاکستانی قوم کی جانب سے اپنے ترک بھائیوں سے بالخصوص شیخ محمود آفندی سے وابستہ بھائیوں سے اظہار تعزیت کرتا ہوں، ان کا کہنا تھا کہ حضرت شیخ محمود آفندی رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ملت اسلامیہ کا عظیم نقصان ہے

    دوجسم یک جان ترکی اورپاکستان،تحریک خلافت سے لے کرقیام پاکستان تک،ترکی اورپاکستان

    علامہ سعد رضوی نے کہا ہےکہ شیخ محمود آفندی علیہ الرحمہ کے انتقال کی خبر سن کر پاکستان کے اہل علم طبقات میں سوگ کا سماں ہے، فضیلۃ الشیخ حضرت محمود آفندی عظیم عاشق رسول تھے، باعمل عالم دین تھے، بہترین پیر طریقت تھے،

    ان کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان سے وابستہ ہر عالم دین، استاد، مدرس، شیخ طریقت، اراکین اسمبلی، ذمہ داران کارکنان شیخ محمود آفندی کے لیے خوب خوب ایصال ثواب کا اہتمام کریں،

    عالم اسلام کے عظیم مصلح، صوفی مزاج اسلامی داعی اور متحرک رہنما شیخ محمود آفندی قضائے الٰہی سے وفات پاگئے ہیں اور ان کی وفات پرتعزیت کا سلسلہ جاری ہے ،

    محمود افندی (محمود استی عثمان اوغلو) 1929 میں ترکی کے صوبے ترابزون کے اوف نامی گاؤں کے ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے، جو کہ موجودہ ترک صدر اردگان کی جائے پیدائش "ریزے” سے متصل شہر ہے۔دینی ماحول میں پرورش ہوئی.. کم عمری میں قرآن مجید حفظ کر لیا.. شیخ تسبیحی زادہ سے نحو صرف اور دیگر علوم عربیہ کو حاصل کیا. پھر شیخ محمد راشد عاشق کوتلو آفندی کی خدمت میں رہ کر ان سے قراءت اور علوم قرآن کی تعلیم حاصل کی، بعدازاں شیخ محمود آفندی نے شیخ دورسون فوزی آفندی (مدرس مدرسہ سلیمانیہ )، سے دینیات، تفسیر، حدیث، ، فقہ اور اس کے ماخذ، علم کلام اور بلاغت اور دیگر قانونی علوم کی تعلیم حاصل کی۔ مذکورہ اساتذہ سے انھوں نے علوم عقلیہ ونقلیہ میں اجازت حاصل کی اس وقت وہ 16 سال کی عمر میں تھے۔

    شخ محمود آفندی نے روحانی سلسلہ نقشبندیہ کمشنماونیہ کی اجازت اپنے شیخ احمد آفندی مابسیونی سے حاصل کی ، یہاں تک اللہ تعالیٰ کی توفیق آپ کی زندگی میں ایک نیا موڑ آیا. فوجی خدمات انجام دینے کا وقت آپ کے لیے میسر ہوا، یہاں ایک نئے شیخ کے ساتھ اپنی عملی زندگی کو پروان چڑھا نے کا موقع ملا. ملٹری سروس کا مرحلہ ان کی زندگی کا ایک روشن صفحہ اور عملی زندگی کا ایک نیا باب تھا جس میں ان کی ملاقات ان کے شیخ اور مرشد علی حیدر اخسخوی سے ہوئی۔ان سے آپ نے بہت کچھ سیکھا اور ان علوم ومعارف اور روحانی کمالات حاصل کیے۔

    شیخ محمود آفندی نے لوگوں کی نماز کی امامت کی اور اپنے گاؤں کی مسجد میں طلباء کو پڑھایا۔انھوں نے سال میں 3ہفتے ترکی کے اطراف کا دعوتی و تبلیغی سفر کے لیے وقف کررکھا تھا ۔انھوں نے جرمنی اور امریکہ سمیت کئی ممالک کے دعوتی اور تعلیمی دورے کیے، پھر 1954 میں استنبول میں اسماعیل آغا مسجد کے امام مقرر ہوئے۔ 1996 میں ریٹائر ہونے تک وہیں رہے، اور وہ استنبول میں درس و تبلیغ کرتے رہے اور بہت سے طلباء اور مسترشدین کو اپنی طرف متوجہ کرتے رہے، بلکہ سچ یہ ہے کہ کہ لوگوں کی بڑی تعداد خود آپ کی طرف کشاں کشاں چلی آتی تھی۔

    نتیجتاً ایک عظیم فکری وعملی منہج قائم کرنے میں وہ کامیاب رہے، جس کی بنیاد دعوت الی اللہ ، احیاء سنت اور ریاستی حکام سمیت معاشرے کے تمام طبقات کی حق کی طرف رہنمائی تھی ، انھوں نے ایسا اسلوب پیش کیا جس میں حق اور باطل میں واضح فرق قائم ہوجائے۔

    استنبول میں 12 ستمبر 1980 کو پیش آنے والی دوسری بغاوت سے پہلے، اور اسّی کی دہائی کے اوائل میں ملک میں پیدا شدہ انتشار کے دوران دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان شیخ آفندی مضبوطی کے ساتھ یہ آواز بلند کر رہے تھے کہ ہماراقومی وملی فریضہ یہ ہے کہ ہم نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور ہمارا فرض لوگوں کو زندگی بخشنا ہے، انہیں مارنا نہیں۔

    شیخ آفندی کی فوج اور سیکولرازم کے ساتھ جد وجہد کی روشن تاریخ ہے۔ ترک عوام پر ان کے بہت زیادہ اثر و رسوخ کی وجہ سے، انہیں فوجی جرنیلوں اور ریپبلکنز (ریپبلکن پیپلز پارٹی) نے ہراساں کیا، خاص طور پر 1960 کی بغاوت اور ملک میں ہنگامی حالت میں داخل ہونے کے بعد،… فوجی انتظامیہ نے انہیں جلاوطنی کی سزا میں انھیں ترکی کے وسط میں واقع اسکی شہر بھیجنے کا فیصلہ کیا ، لیکن اس فیصلے پر عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی نہیں. کئی آپ کے جاں نثار اس راہ میں ڈٹ گئے. اس وقت استنبول کے مفتی صلاح الدین قیا ان دفاع کرنے والوں میں سب سے آگے تھے ۔

    1982 میں، محمود آفندی پراسکودر خطہ کے مفتی شیخ حسن علی اونال کے قتل میں ملوث ہونے کا بے بنیاد الزام لگایا گیا. ڈھائی سال کے بعد عدالت نے انہیں اس الزام سے بری کر دیا۔ 1985 میں انہیں ریاستی سلامتی کی عدالت میں ماخوذ کیا گیا کیونکہ ان پر الزام تھا کہ ان کی تقریر وبیان ملکی سلامتی اور سیکولر شناخت کے لیے خطرہ ہے لیکن عدالت نے اس معاملے میں بھی ان کی بے گناہی کا فیصلہ سنایا۔

    2007 میں استنبول کے Çavuşpaşa محلے میں شیخ محمود آفندی کی نئی رہائش گاہ کے قریب ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی جہاں قریب کے اسپتال میں وہ زیر علاج تھے ،اس طور پر انھیں قتل کرنے کی کوشش کی گئی ، لیکن جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ” کے مصداق انھیں کوئی چوٹ نہیں آئی۔

    ان کے اثر و رسوخ کا دائرہ کافی وسیع اور اس کے پیروکاروں کی تعدادکثیر ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عربی حروف میں پڑھنے لکھنے والے خال خال ہی نظر آتے تھے اور 40 سے 50 سال کا عرصہ ایسا بھی گذرا کہ قرآن پڑھنے والے کم ہی نظر آتے تھے.عربی میں اذان تک پر پابندی تھی .. لیکن شیخ کی کوششوں سے مختصر عرصہ میں ہزاروں کی تعداد میں حفاظ قرآن کریم تیار ہوئے ۔ اور دسیوں ہزار طلباء و طالبات کو اسلامی نہج پر تربیت دی گئی اور شیخ پوری دنیا میں لاکھوں لوگوں میں اسلامی بیداری پیدا کرنے کا ذریعہ بنے ۔(بعض معلومات الجزیرہ نیٹ ورک کے صحافی احمد درویش کی تحریر سے مستفاد ہیں.)

    جدید ترکی، اور معاشرہ کی اصلاح میں آفندی رحمۃ اللہ علیہ کا بڑا اہم رول رہا ہے، ایسے وقت میں جبکہ ترکی دہریت کی دہلیز پار کرچکا تھا، اسلامی شعائر کو پامال کیا جارہا تھا؛ تب :مردے از غیب بیرون آید؛ کے مطابق اس مردِ مصلح نے توحید واصلاح بلکہ اعلاء کلمۃ اللہ کا آوازہ بلند کیا. اسی وجہ سے انھیں بعض اہل علم ترکی کا مجدد بھی کہتے ہیں۔

    ترکی زبان میں آپ کی زبردست تفسير روح الفرقان عظیم علمی کارنامہ ہے۔ 2010 میں، 42 ممالک کے 350 اسکالرز ممتاز ماہر تعلیم کی موجودگی میں شیخ محمود آفندی نقشبندی کو انسانیت کی خدمت کے لیے بین الاقوامی سمپوزیم ایوارڈ سے نوازنے کا فیصلہ کیا گیا یہ ایوارڈ پیش کرنے کی تقریب میں شرکت کے لیے ہزاروں اسکالرز استنبول پہنچے۔ اکتوبر کو استنبول میں ان کے لیے ایک اعزازی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ 24، 2010، اور انہیں امام محمد بن قاسم النانوتوی ایوارڈ پیش کیاگیا. جو اسلامی دعوت کے میدان میں اپنا اثر چھوڑنے والی شخصیات کو دیا جانے والا ایوارڈ ہے۔یہ ایوارڈ بانی دارالعلوم دیوبند حجۃ الاسلام مولانا امام قاسم نانوتوی سے منسوب ہے ۔

    اس طور پر اس عظیم شخصیت کا عملی دارالعلوم دیوبند سے رشتہ بھی قائم ہوجاتا ہے.. روحانی وعلمی رشتہ تو پہلے سے قائم تھا۔نومبر 2018ترکی، استنبول کے سفر میں راقم السطور بندہ خالد نیموی کی خواہش تھی کہ حضرت والا سے ملاقات و زیارت کا شرف حاصل کر لیں، لیکن ان ایام میں شیخ علاج و معالجہ کی سخت نگہداشت کے مراحل سے گذر رہے تھے، جس کی وجہ سے ہم ان کی ملاقات کے شرف سے محروم رہے ۔یہاں تک کہ ان کی وفات کی خبر صاعقہ بن کر گری۔

  • ابوظہبی:ایمازون نے سب سے بڑا ڈیلوری اسٹیشن کھولنے کا اعلان کردیا

    ابوظہبی:ایمازون نے سب سے بڑا ڈیلوری اسٹیشن کھولنے کا اعلان کردیا

    ابوظہبی:ایمازون نے سب سے بڑا ڈیلوری اسٹیشن کھولنے کا اعلان کردیا،اطلاعات کے مطابق دنیا کے بڑے معاشی کاروباری ادارے ایمیزون نے جمعرات کو ابوظہبی میں اس جولائی میں ہونے والے پرائم ڈے ایونٹ کے لیے وقت کے ساتھ اپنے سب سے بڑے ڈیلیوری اسٹیشن کو کھولنے کا اعلان کیا ہے ۔

    عرب میڈیا کا کہنا ہےکہ 4,700 مربع میٹر کا جدید ترین ڈیلیوری سٹیشن ملک کا دوسرا سب سے بڑا ہے اور شہر بھر کے صارفین کو ایک ہی دن اور ایک دن کی ڈیلیوری فراہم کرتا ہے،صرف مقامی ہی نہیں بلکہ قریبی مضافاتی بیرونی علاقوں جیسے کہ السمھا، الشوامیخ، یاس اور سعدیات جزائر، بنی یاس اور الوتبہ کے شہریوں کو بھی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے

    نیا ڈیلیوری اسٹیشن سینکڑوں مکمل اور جز وقتی ملازمین کے لیے ہر قسم کے تجربے، تعلیم، پس منظر اور مہارتوں کے ساتھ ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا کررہا ہے ۔ ڈیلیوری سٹیشن ایسوسی ایٹس سے لے کر آپریشنز، ہیلتھ اینڈ سیفٹی، سپلائی چین ٹکنالوجی، اور تجزیات میں عہدوں تک، تمام ملازمین ایسے تربیتی پروگراموں کے لیے اہل ہیں جو مستقبل کا سامنا کرنے والے ای کامرس سیکٹر میں UAE کی صلاحیتوں کو نکھاریں گے۔ یہ اسٹیشن ملک میں ڈیلیوری سروس پارٹنرز کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔

    نئی سہولت کا آغاز گزشتہ سال نومبر میں ابوظہبی انویسٹمنٹ آفس (ADIO) کے ساتھ ایمازون کے اعلان کے بعد کیا گیا ہے، جس میں خطے میں اس کے سب سے زیادہ تکنیکی طور پر جدید ترین فلفلمنٹ سینٹر کے افتتاح کی تفصیل دی گئی ہے جو 2023 میں دارالحکومت میں ایک نئے دور کا آغازکرے گا۔ نیا فلفلمنٹ سینٹر اور ڈیلیوری اسٹیشن ابوظہبی کے جدید منصوبوں کے مطابق امارات میں جدت اور ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانے کے لیے ایمیزون کے عزم کو تقویت دیتا ہے۔

    ایمیزون مڈل ایسٹ اینڈ نارتھ افریقہ (MENA) کے نائب صدر، رونالڈو موچور نے کہا: "ایمیزون اپنے صارفین کی جانب سے ایسی خدمات پیش کرنے کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہے۔ ہمیں ابوظہبی انوسٹمنٹ آفس جیسے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر فخر ہے، جو ابوظہبی میں کاروبار اور ہنر کو ڈیجیٹل اکانومی میں بہتر بنانے کے قابل بنانے کے لیے جدید اور صحیح وسائل اور لاجسٹکس فراہم کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں‌۔ صارفین کو مصنوعات کو تیزی سے اور زیادہ آسانی سے فراہمی کے لیے وسیع ای کامرس ایکو سسٹم کو بااختیار بنا کر، ہم بالآخر تمام صارفین کے لیے خریداری کے تجربے کو بہتر بنا رہے ہیں۔”

    ADIO کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل انجینئر عبداللہ عبدالعزیز الشامسی نے کہا: "ایمازون اور ADIO کے درمیان شراکت داری ابوظہبی میں کاروبار کرنے میں آسانی اور امارات میں دستیاب طویل مدتی ترقی کے مواقع کی عکاسی کرتی ہے۔ Amazon اختراع میں پائیدار سرمایہ کاری کے لیے ہمارے وژن کی حمایت کرتا ہے اور خطے میں جدید ترین لاجسٹک ٹیکنالوجیز لا رہا ہے۔ ایمیزون کے نئے ڈیلیوری اسٹیشن اور 2023 میں منصوبہ تکمیلی مرکز کا افتتاح ابوظہبی کو ای کامرس اور لاجسٹکس کے ایک بڑے عالمی مرکز کے طور پر قائم کرے گا۔

    اس نئے منصوبے کی حوصلہ افزائی کے لیے ابوظہبی کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے، ڈیلیوری اسٹیشن ایمازون کی عالمی لاجسٹکس ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے کام کرتا ہے جو کمپنی کی 20 سال کی آپریشنل مہارت پر بنائی گئی ہیں۔ ایمیزون کا نیا ڈیلیوری اسٹیشن اسی دن اور ایک دن کی ترسیل کے اختیارات کے ذریعے اپنے صارفین کے لیے قابل اعتماد اور آسان ڈیلیوری کا تجربہ فراہم کرنے میں کمپنی کی مدد کرے گا۔

    ایمازون کے آپریشنز کے ڈائریکٹر پرشانت سرن کہتے ہیں کہ : "ابوظہبی کے نئے حالات کے مطابق ماحولیاتی نظام کے اندر بنایا گیا، ہمارا نیا ڈیلیوری اسٹیشن دارالحکومت میں لاجسٹکس اور سپلائی چین کے شعبے میں عالمی معیار کی آخری ٹکنالوجی لاتا ہے۔ اس سہولت پر ملازمتوں کی حد شہر کے ٹیلنٹ پول کو پروان چڑھانے اور انہیں ڈیجیٹل مستقبل کے لیے تیار کرنے میں مدد کرے گی جس کی طرف ابوظہبی آگے بڑھ رہا ہے۔

    ایمیزون کے 2040 تک پورے کاروبار میں خالص صفر کاربن ہونے کے عزم کے حصے کے طور پر، عمارت کو توانائی کی بچت کو اولین ترجیح کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ حرارت، وینٹیلیشن اور ایئر کنڈیشنگ کو ایک ڈیجیٹل بلڈنگ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے جو توانائی کے غیر ضروری استعمال کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ کام کرنے کے آرام دہ ماحول کو یقینی بناتا ہے۔ آج، متحدہ عرب امارات میں ایمیزون نیٹ ورک دو تکمیلی مراکز، تین ترتیب کے مراکز، آٹھ ڈیلیوری اسٹیشنز اور ڈیلیوری سروس پارٹنرز کے نیٹ ورک پر مشتمل ہے۔

  • پہلے ریاست بعد میں سیاست۔  وزیراعظم شہباز شریف

    پہلے ریاست بعد میں سیاست۔ وزیراعظم شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف کا مسلم لیگ ن کے سینیٹرز سے خطاب میں کہنا تھا کہ: سیاست بعد میں کرتے رہیں گے لیکن پہلے ریاست کو بچائیں گے کیونکہ ریاست بچتی ہے تو سیاست بھی بچ جائے گی.

    وزیر اعظم نے بتایا: آئی ایم ایف سے تقریبا شرائط طے ہوگئی ہیں اور اگر کوئی اور شرط نہ لگی تو یہ معاملہ طے ہونے جارہا ہے۔ اور اگر پچھلی حکومت آئی ایم ایف کی اس وقت تمام شرائط نہ مانتی تو آج ہم اتنے مجبور اور مشکل وقت میں نہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ : آئی ایم ایف کو اب ہم پر اعتماد نہ تھا انہوں نے کہا کہ آپ بھی تو اسی پاکستان کی حکومت ہیں۔

    وزیراعظم نے مسلم لیگ ن کے سینیٹرز کو اعتماد میں لیتے ہوئے بتایا کہ : پہلے ہمارا ارادہ تھا کہ انتخابی اصلاحات کرکے الیکشن میں چلیں جائیں چاہے وہ الیکٹرولر اصلاحات ہیں یا پھر جو بھی دوسری ہیں لیکن اتحادیوں نے پھر مشورہ دیاکہ نہیں ہمیں یہ مدت پوری کرنی چاہئے اور دن رات محنت کرکے ملک و قوم کے مستقبل کی بہتری کیلئے کام کرنا ہے باقی نتائج اللہ تعالی کی زات پر چھوڑنے ہیں۔
    لیکن اس کے لیئے شرط یہ ہے کہ دیانتداری کے ساتھ محنت کرنی ہے لہذا انتخابات میں نہ جانے کا سب سے پہلا مرحلہ توسیاسی تھا اوردوسرا مرحلہ جوبہت اہم تھا وہ یہ کہ سابقہ حکومت نے جو آئی ایم ایف کے ساتھ شرائط پر رضامندی کی تھی کہ جوعالمی منڈی میں قیمتیں ہوں گی وہی لاگو کریں گے لیکن انہوں نے انکار کے بجائے دستخط کردیئے۔ لیکن پھر ان شرائط کی ایک ایک کرکے دھجیاں اڑا دیں۔

    وزیراعظم کے مطابق: آئی ایم کے معاہدے کے نتیجے میں راتوں رات مہنگائی نہیں آجائے گی لہذا ہمیں اپنا مالیاتی نظام مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے اور ہمیں اسلامی ممالک سے تجارت کے ذریعے بھی مدد مل سکتی ہے لیکن یہ ہماری اور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ شبانہ روز محنت کرکے اپنی خواہشات کو قربان کردیں، اور انشاءاللہ ہم ہمت کرکے وہ فیصلے کریں گےجس سے ملک خوشحالی کی جانب گامزن ہوگا پر اس میں ابھی مشکلات آنی ہیں اورہمیں اپنی ذات سے ہٹ کر سخت فیصلےبھی کرنے ہوں گے۔

    مزید کہا: ماضی کی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ پٹرولیم لیوی تیس روپے بڑھانے کا معاہدہ کیا، عمران خان کی حکومت نے اربوں روپے کی سبسڈی دے کر خزانہ خالی کردیا اور کارٹلز کو فائدہ پہنچایا۔

    شہباز شریف نے کہا: ان کو اتنے سال غریب یاد نہیں آئے اور نہ ہی ان کے دل میں کوئی غریب عوام کیلئے ہمدردی تھی لیکن اچانک مارچ میں جب ان کوپتہ چل گیا کہ شکست ان کا مقدر ہے تو عمران خان نے جاتے جاتے یکدم پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کردیں تاکہ نئی حکومت کیلئے سرنگ بچھا سکیں اور یہ فیصلہ کابینہ میں لائے بغیر کیا گیا تھا.

    وزیراعظم نے سینیٹرز کومزید بتایا: چین نے ہمیں دو اشاریہ تین ارب ڈالربھیجے وہ قرض ہے لیکن دوست ملک چین نے مشکل وقت میں ہماری مدد کی اور ساتھ ہی کہا میں ہمیشہ قطر، چین، یواےای سمیت مختلف ممالک جنہوں نے ہمیشہ مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا کا ذکر کرتا ہوں.

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ: چین کے وزیراعظم سے میں نے کہا سی پیک کودوبارہ بحال کرنا ہےتو انہوں نے کہا ہم تیار ہیں ایم ایل ون کو سپورٹ کریں گے۔ لہذا تمام تر الزام تراشی کے باوجود چین کے وزیراعظم نےکہا پاکستان کے ساتھ ہیں۔

    وزیراعظم کا چین کو سراہاتے ہوئے کہنا تھاکہ: چین نےکئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ میں سی پیک کے تحت ہمیں بجلی کے پلانٹ مہیا کئے لیکن پچھلی حکومت نےالزام لگایا کہ اس میں کرپشن ہوئی ہےلہذا آپ سوچیں اس پر چین پرکیا گزری ہوگی لیکن چین کے وزیراعظم نے مجھے ایک لفظ کا بھی گِلہ شکوہ نہیں کیا اور دوبارہ کام کرنےپر رضامندی ظاہر کی۔

  • یوکرین جنگ،آفات اورغلط حکمت عملی:ڈر ہے کہ کہیں دنیا بھوک سے ہی نہ مرجائے:عالمی ادارے

    یوکرین جنگ،آفات اورغلط حکمت عملی:ڈر ہے کہ کہیں دنیا بھوک سے ہی نہ مرجائے:عالمی ادارے

    نیویارک:چند دن پہلےاقوام متحدہ کی 2 فوڈ ایجنسیوں فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) اور ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے پوری دنیا میں خوراک کے متعدد بحرانوں کے بارے میں سخت انتباہ جاری کیا تھا

    ذرائع کے مطابق اس حوالےسے ‘ہنگر ہاٹ اسپاٹس: شدید غذائی عدم تحفظ پر ایف اے او-ڈبلیو ایف پی کے ابتدائی انتباہات’ کے عنوان سے اپنی مشترکہ رپورٹ میں فوڈ ایجنسیوں نے غذائی بحران سے شدید متاثرہ علاقوں کی مدد کے لیے فوری انسانی بنیادوں پر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا جہاں اگلے چند ماہ میں صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

    رپورٹ میں ایتھوپیا، نائیجیریا، جنوبی سوڈان، یمن، افغانستان اور صومالیہ کو سنگین صورتحال کا سامنا کرنے والے ممالک میں شمار کیا گیا، اس میں کہا گیا ہے کہ ان ممالک میں تقریباً ساڑھے 7 لاکھ افراد کو بھوک اور اموات کا سامنا ہے۔

    جبکہ دوسری طرف یوکرین کی صورتحال نے دنیا کی زندگی اور بھی مشکل میں ڈال دی ، اس وقت ایک ہنگامی صورت حال کا سامنا ہے اور وہ صورتحال غذائی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یوکرین جنگ کی وجہ سر اٹھانے والا غذائی بحران لاکھوں جانیں نگل سکتا ہے۔گلوبل فنڈز ٹو فائٹ ایڈز، ٹی بی اینڈ ملیریا کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پیٹر سینڈز کا جی 20 وزرائے صحت کے اجلاس کے موقع پر ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ صحت کے بحران کا آغاز ہو چکا ہے مگر یہ کسی نئے جرثومے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے ہے کہ لوگ خوراک کی کمی کے باعث بیماریوں کا زیادہ شکار ہوں گے۔ متعدی امراض، خوراک کی کمی اور توانائی کے بحران کے مجموعی اثرات کے باعث لاکھوں اموات معمول کی اموات کے علاوہ ہیں۔

     

    پیٹر سینڈز کا یہ بھی کہنا تھا کہ عالمی حکومتوں کو چاہیے کہ خوراک کے بحران کے اثرات کو کم سے کم رکھنے کے لیے صحت کی سہولتوں پر توجہ دیں، خصوصاً کم آمدنی والے افراد کے لیے، ایسے افراد کو طبی مسائل کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ بنیادی صحت خصوصاً دیہات کے نظامِ صحت پر توجہ مرکوز کی جائے۔ ہسپتال بھی اہمیت کے حامل ہیں تاہم جب اس قسم کے چیلنج کا سامنا ہو تو بنیادی صحت کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔

    پیٹر سینڈز کا یہ بھی کہنا تھا کہ کورونا کے خلاف جدوجہد کے دوران وہ وسائل بھی صرف ہو گئے جو تپ دق سے بچانے کے لیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرض کے باعث 2020ء میں 15 لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 2020ء میں دیکھا گیا کہ عالمی سطح پر 15 لاکھ افراد نے ٹی بی کا کم علاج کرایا جس کا مطلب ہے کہ ہزاروں لوگ نہ صرف مریں گے بلکہ دوسروں کو بھی متاثر کریں گے۔

    مغرب اور یوکرین روس پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ یوکرین سے اجناس کی برآمد روکنے کے لیے رکاوٹیں ڈال رہا ہے جس سے عالمی سطح پر قحط کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں جبکہ روس کا کہنا ہے کہ مغربی پابندیوں کی وجہ سے اجناس کی برآمد میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

    اسی لاکھ کم سن بچے موت کے خطرے کا شکار

    پانچ برس تک کی عمر کے قریب 80 لاکھ بچے غذا کی قلت کے سبب موت کے خطرے سے دو چار ہیں۔ یہ بات بچوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے کہی ہے۔ سب سے زیادہ خطرے کا شکار ان 15 ممالک کے بچے ہیں جہاں اس وقت خوراک کی قلت ہے۔ ان میں افغانستان، یمن، ایتھوپیا اور ہیٹی بھی شامل ہیں۔ یونیسف کے مطابق موت کے خطرے سے دوچار ایسے بچوں کی تعداد ہر منٹ بڑھ رہی ہے۔ اس بگڑتی صورتحال کی ایک وجہ روس کے یوکرین پر حملے کے سبب عالمی سطح پر اشیائے خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی ہیں۔

     

  • مارچ میں شدید گرمی اور جون میں کم درجہ حرارت موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں،ماہرین

    مارچ میں شدید گرمی اور جون میں کم درجہ حرارت موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں،ماہرین

    پاکستان میں عموماً گرم ترین مہینےجون میں گرتے ہوئے درجہ حرارت کے ساتھ ساتھ شمالی علاقوں میں برفباری بھی ہورہی ہے۔ ماہرین نے مارچ میں شدید گرمی اور جون میں کم درجہ حرارت کو موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ قراردیا ہے-

    باغی ٹی وی : بی بی سی اردو کے مطابق محکمہ ماحولیات پاکستان کےسابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر قمر الزمان نے برفباری کو موسمی تبدیلی اور انتہائی شدید موسمی صورتحال قرار دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ سب ثابت کر رہا ہے کہ پاکستان اس وقت شدید موسمی تبدیلیوں کی زد میں آ چکا ہے۔

    ملک میں موسم کی صورتحال

    محکمہ موسمیات سندھ کے ماہر ڈاکٹر سردار سرفراز نے کہا ہے کہ پاکستان میں مغربی اور بحیرہ عرب سے اٹھنے والا سلسلہ بہت شدید تھا مغربی ہواؤں کے بہت زیادہ اثرات مرتب ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے درجہ حرارت بھی گرا ہے اس درجہ حرارت کے اثرات جب سطح سمندر سے 8 ہزار میڑ سے اوپر والے علاقے پر پڑے تو کم ہوتے ہوئے درجہ حرارت نے بارش کو برف باری میں تبدیل کر دیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں ان بارشوں نے موسم کی شدت کو کم کیا ہے اورپانی کی کمی کا مسئلہ حل کیا ہے وہیں ان موسمیاتی تبدیلوں کے باعث کئی مسائل جنم لے سکتے ہیں اگر معمول کا گرم موسم نہیں ہوگا تو گرمیوں کے موسم میں ہونے والی فصلوں اور پھلوں کو نقصان پہنچے گا۔ اسی طرح انسانی صحت کے بھی کئی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

    انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں کمی

    واضح رہےکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں جون کے مہینے میں ہونے والی برفباری کے باعث گلگت بلتستان اور صوبہ خیبر پختونخوا کی سرحد پر واقع بابو سر ٹاپ کا راستہ ایک روز بند رہا۔بابو سرٹاپ کا درجہ حرارت منفی 4 ریکارڈ کیا گیا ہے چلاس کے قریب گیٹی داس میں بھی گزشتہ 2 روز سےشدید برفباری کاسلسلہ جاری ہے جس کے باعث لوگ گھروں میں محصور ہو گئے ہیں۔ ایسی ہی اطلاعات وادی نیلم سے بھی موصول ہوئی ہیں۔ اسی طرح خیبرپختونخوا میں کچھ مقامات پر بھی برفباری ہوئی ہے۔

    کے الیکٹرک کی بجلی 11 روپے 34 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست

  • ترکی اورسعودی عرب نے پُرانی تلخیوں کوبھلاتے ہوئےنئے دورکا آغازکردیا

    ترکی اورسعودی عرب نے پُرانی تلخیوں کوبھلاتے ہوئےنئے دورکا آغازکردیا

    استنبول:ترکی اورسعودی عرب نے پُرانی تلخیوں کوبھلاتے ہوئےنئے دورکا آغازکردیا،اطلاعات کےمطابق ترکی دورے پرگئے ہوئے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان دونوں ملکوں نے صحافی جمال خاشقجی کی قتل سے پیدا ہونے والی پرانی تلخیوں کو بھلا کر "باہمی تعاون کا ایک نیا دور” شروع کرنے کا عہد کیا۔اور یہ بھی عہد کیاکہ دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ ملکر باہمی معاملات کوحل کریں گے

    مشن کشمیر،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرکی ترکی،سعودی عرب اورروسی ہم منصبوں سے الگ الگ

    اس حوالے سے عالمی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ استنبول میں سعودی سفارت خانے میں سن 2018 میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد ولی عہد محمد بن سلمان کا ترکی کا یہ پہلا دورہ تھا جس میں محمد بن سلمان نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھ تقریباً دو گھنٹے تک بات چیت کی۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ہونے والے اہم گفتگو کے بعد ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے،”باہمی تعلقات بشمول سیاسی، اقتصادی، فوجی، سکیورٹی اور ثقافتی تعلقات میں تعاون کا ایک نیا دور شروع کرنے کے مستحکم عزم کا عہد کیا گیا۔”

    مشترکہ اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ دونوں ملکوں نے تجارت کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے نیز مختلف شعبوں میں شراکت داری کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں ملکوں نے کہا کہ اگلے دس برسوں کو تعاون کے ایک نئے دور کے طور پر لیا جائے گا۔اس مشترکہ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماوں نے علاقائی اورعالمی مسائل کے حوالے سے اہم مسائل پر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے دو طرفہ تبادلہ خیال کو فعال بنانے سے بھی اتفاق کیا تاکہ "خطے میں سلامتی اور استحکام کی حمایت کی جاسکے اور تمام مسائل کے سیاسی حل میں مدد مل سکے۔”

    یاد رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنے سہ ملکی دورے کے آخری مرحلے پر بدھ کے روز ترکی پہنچے تھے۔ اس سے قبل وہ مصر اور اردن بھی گئے تھے۔ انقرہ پہنچنے پر ان کا شاندار روایتی استقبال کیا گیا۔ وہ اپنا دورہ مکمل کرکے وطن واپس لوٹ آئے ہیں۔ محمد بن سلمان نے ان تینوں ملکوں کا دورہ ایسے وقت کیا جب امریکی صدر جو بائیڈن اگلے ماہ سعودی عرب آنے والے ہیں۔

    سعودی عرب اور ترکی ایک ہونے جارہے ، اہل اسلام کے لیے خوشی کی خبر

    ترکی اور سعودی عرب کے تعلقات میں کشیدگی تقریباً دس برس قبل اس وقت شروع ہوئی تھی جب مصر میں عبدالفتح السیسی سن 2013 میں اخوان المسلمون کے رہنما محمد مرسی کی حکومت کو برطرف کرکے خود صدر بن گئے تھے۔ ترکی نے عبد الفتح السیسی کواس وقت صدر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

    گستاخانہ خاکے، فرانس کے خلاف ردعمل میں سعودی عرب کی پاکستان اور ترکی کے موقف کی

    رجب طیب ایردوآن نے سعودی عرب سےاپنےتعلقات کو ایک بار پھر بحال کرنےکا فیصلہ کیا ہے کیوں کہ اس وقت ترکی کو شدید اقتصادی مسائل کا سامناہےجبکہ اس کی تجارت میں سعودی عرب کا ایک بڑاحصہ ہے۔ایردوآن نے رواں برس اپریل کے اواخر میں سعودی عرب کا دورہ بھی کیا تھا۔ اس دوران ولی عہد محمد بن سلمان کےساتھ ان کےمعانقے کی تصویر وائرل ہوگئی تھی۔

    یوریشیا گروپ کی مشرق وسطیٰ ریسرچ ٹیم کےسربراہ ایہم کامل کا کہنا ہےکہ بائیڈن کےسعودی عرب کےدورے سے قبل ولی عہد کا تین ملکوں کایہ دورہ ریاض کے”علاقائی کردار کومستحکم کرنے اورمفاہمت کی کوششوں کو توسیع کرنے”کا حصہ ہے۔

     

    انہوں نے کہا کہ اس سے مصر اور ترکی کے درمیان ثالثی کرنے میں بھی مدد ملے گی جو سابق صدر مرسی کی معزولی کے بعد سے تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

  • دعازہرا کیس:  نکاح جائزہے، بچی سے زبردستی نہیں کرسکتے۔ سپریم کورٹ

    دعازہرا کیس: نکاح جائزہے، بچی سے زبردستی نہیں کرسکتے۔ سپریم کورٹ

    دعازہرا کیس عدالت عظمی میں زیرسماعت تھا جس پر عدالت نے ان کے والد کو مناسب فورم سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ نکاح قانونی طور پر جائز ہے لہذا بچی کےساتھ زبردستی نہیں کرسکتے۔

    سپریم کورٹ میں موجود ذرائع کے مطابق جج نے ریمارکس دیئے کہ: ہم بھی والدین ہیں اور والد کا دکھ سمجھ سکتے ہیں لیکن دعا زہرا اپنے بیانات ریکارڈ کروا چکی ہیں۔ لہذا اب آپ یہ  الزام نہیں لگا سکتے کہ میری بیٹی پر کسی نے کوئی زبردستی کی ہے اور کسی انہیں اغوا کیا کیا تھا۔
    عدالت نے کہا: آپ اور آپ کی بیگم چاہیں تو آرام سے اپنی بیٹی سے مل سکتے ہیں بھلے آپ جتنے گھنٹے ان سے ملنا چاہیں۔ لیکن اب آپ کا اغوا والا اعتراض ختم ہوچکا کیونکہ بچی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے اور اس کی بھی خواہشات ہیں۔ لہذا آپ ہم سے یہ نہ چاہیں کہ عدالت اس شادی کا تعین کرے کہ یہ ٹھیک ہے یا نہیں؟
    جسٹس سجاد علی شاہ نے دعا زہرا کیس کی سماعت کے دوران ان کے والد کو کہا: جب دو عدالتوں میں بیانات بھی ہوگئے ہیں تو پھر آپ کو کیا مسئلہ ہے حتکہ آپ کی بیٹی نے آپ سے ملاقات کرنے کے بعد بھی یہی کہا کہ مجھے شوہر کے ساتھ جانا ہے تو یہ ان کا حق ہے لہذا اب آپ کیا چاہتے یا کہتے ہیں؟

    واضح رہے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے دعا زہرا کے والد مہدی کاظمی کے وکیل کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل کی واپسی کی استدعا پر درخواست خارج کرتے ہوئے جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کیا باتیں چل رہی ہیں، کہ آپ کا مسلک اور ان کا مسلک اور ہے، ملاقات کے بعد بھی بچی نہ مانی تو کیا کر لیں گے۔
    مہدی رضا نے عدالت کو کہا ہمارے ہاں ولی کے بغیر شادی نہیں ہوتی ، چاہے بچی کی چاہت ہو لہذا میں چاہتا ہوں کہ بچی میرے حوالے کی جائے. اس پر عدالت نے انکار کرتے ہوئے انکی درخواست خارج کردی.

  • ہم نے بجٹ میں ٹیکس نہیں بڑھایا اور عالمی سطح پر تیل سستا ہوا تو کریں گے. وزیرخزانہ

    ہم نے بجٹ میں ٹیکس نہیں بڑھایا اور عالمی سطح پر تیل سستا ہوا تو کریں گے. وزیرخزانہ

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے دعوی کیا کہ موجودہ حکومت نے بجٹ میں کوئی ٹیکس نہیں بڑھایا ہے اور ناہی غریب افراد پر ٹیکس کا بوجھ ڈالا ہے جبکہ کاروباری طبقہ جیسے شوگر ملز وغیرہ پر ٹیکس بڑھایا ہے. جس سے امیروں پر ٹیکس لگارہے ہیں.

    وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ : میں نے پہلے دن سے کہا تھاکہ پیٹرول کی قیمت بڑھانا ضروری ہے، اور ایسے فیصلے کرنا وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے لیے بہت مشکل تھے، لیکن ہم ایک ایک چیز کی قیمت کے ذمے دار ہیں چاہے ہماری غلطی ہو یا نہ ہو لہذا اب ہماری ذمہ داری ہےکہ ملک کو ڈیفالٹ سے بچائیں، اور ہم نے اللہ کے کرم سےپاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے عمران حکومت کو زمہ دار ٹہراتے ہوئے کہا: پاکستان کو دیوالیہ ہونے کی نہج پر چھوڑ نے میں پچھلی حکومت کا کردار ہے۔

    مفتاح کے مطابق: دو سوار ب کا خسارہ ملا لیکن ہم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھاکر پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچالیا۔
    وزیرخزانہ نے سابق وزیراعظم عمران خان سے پوچھا کہ : وہ پاکستان کو سری لنکا کیوں بنانے جارہے تھے؟

    انہوں نے کہا: ہم ساری ساری رات بیٹھ کر آئی ایم ایف سے بات کرتے ہیں اسی وجہ سے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ: اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی آئی تو ہم بھی ضرور پٹرولیم کی قیمتوں میں کمی کریں گے.