Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • ملک کے مختلف شہروں میں بارشوں کا سلسلہ مزید  جاری  رہے گا

    ملک کے مختلف شہروں میں بارشوں کا سلسلہ مزید جاری رہے گا

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں بارشوں کا سلسلہ مزید جاری رہے گا-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق خیبرپختونخوا، پنجاب، گلگت بلتستان ،آزادکشمیر، سندھ اور بلوچستان میں بارش کا امکان ہے اسلام آباد میں آندھی ، تیزہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش متوقع ہے اسلام آباد میں چند مقا مات پر ژالہ باری کا بھی امکان ہے –

    محکمہ موسمیات کے مطابق سبی ،کوہلو،زیارت،کوئٹہ،چمن،ہرنائی ،لورالائی، شیرانی اور موسیٰ خیل میں بارش متوقع ہے بارکھان ،ژوب ، قلات، خضدار اور لسبیلہ میں گرج چمک کے ساتھ بارش کاامکان ہے راولپنڈی، مری،گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، میانوالی اور سرگودھا میں بارش متوقع ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق خوشاب، بھکر، لیہ، ڈی جی خان، حافظ آباد، فیصل آباد اور منڈی بہاؤالدین میں بارش کاامکان ہے ننکانہ صا حب، ٹوبہ ٹیک سنگھ، مظفر گڑھ،راجن پور، خا نیوال اورچنیوٹ میں بارش متوقع ہے جھنگ، سیالکوٹ، نارووال، لاہور، شیخوپورہ، اوکاڑہ، قصور اورساہیوال میں بارش کاامکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق پاکپتن، بہاولنگر، ملتان ، رحیم یار خان ، بہا ولپور ، وہا ڑی اور لو د ھراں میں بارش کا امکان ہے سکھر، لاڑکانہ ، گھو ٹکی ، کشمور ، جیکب آباد ، میر پور خاص اور سانگھڑ میں بارش متوقع ہے ٹھٹھہ ، بدین ،حیدر آباد، جامشورو، بینظیر آباد، دادو میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے مالا کنڈ ، چترال، دیر، سوات، بونیر، شانگلہ، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور ہری پورمیں بارش متوقع ہے صوابی، پشاور، نوشہرہ، مردان، لو ئر دیر، چارسدہ، باجوڑاور مہمند میں بارش متوقع ہے خیبر، کرم، کوہاٹ، لکی مروت، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان میں موسلادھار بارش متوقع ہے کرک، ہنگو، وزیرستان میں تیز ہوا ؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے-

    دوسری جانب محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب نے آج کا ائیر کوالٹی انڈیکس جاری کردیا-

    محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب کے مطابق ٹاون ہال لاہور میں ائیر کوالٹی انڈیکس ریکارڈ کیا گیا،ٹاؤن شپ سیکٹرٹو میں ائیر کوالٹی انڈیکس91 ریکارڈ کیا گیا ،داروغہ والا انڈسٹریل ایریالاہور میں ائیر کوالٹی انڈیکس 155 ریکارڈ کیا گیا،نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں ائیر کوالٹی انڈیکس 122 ریکارڈ کیا گیا،تمام ڈیٹا 24 گھنٹے کی بنیادپر مرتب کیا گیا-

  • بے نظیر بھٹو کی 69 ویں سالگرہ: ان کا جرات مندانہ کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا

    بے نظیر بھٹو کی 69 ویں سالگرہ: ان کا جرات مندانہ کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا

    شہید بے نظیر بھٹو بانی پیپلزپارٹی اور نامورشخصیت ذولفقار علی بھٹو اور ایران کے بااثر اصفہانی خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون بیگم نصرت بھٹو کے گھر 21 جون 1953 کو پیدا ہوئی۔ بے نظیر نے سیاست میں قدم رکھا تو بے پناہ کامیابیاں سمیٹیں جس میں ان کی سب سے بڑی کامیابی مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیرعظم بننا تھا۔ آج 21 جون2022 کو انکی 69 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔

    اسلام آباد میں مقیم سینئر صحافی محمد نواز رضا نے باغی ٹی وی کو بتایا: بےنظیر ایک بہادر خاتون تھی جن کا کردار پاکستانی سیاست کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ آپ ان کی جرات کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ کارساز میں ان پر دھماکہ ہوا جس میں بیسیوں کارکنان شہید ہوگئے لیکن بی بی شہید واپس نہیں گئیں بلکہ یہ جانتے ہوئےبھی کہ انہیں قتل کردیا جائے گا مگر وہ پاکستان میں رہیں۔
    نواز رضا مزید بتاتے ہیں: کارساز کے بعد وہ لیاقت باغ آئیں جہاں وہ زندگی کی بازی ئیں لیکن انہوں نے سیاست میں تاریخ رقم کردی کہ ہمیشہ سیاست میں بہادر زندہ رہتے ہیں ناکہ وہ بزدل جو گھروں سے باہر ہی نہیں نکلتے ہیں اور ایسے لوگوں کا سیاست میں کوئی مقام نہیں ہوتا۔

    محمدنواز کے مطابق: بے نظیر بھٹو بہادری کا ایک استعارہ تھیں اور انہوں نےہمت کے ساتھ ناصرف اپنے سیاسی مخالفین بلکہ ان قوتوں کا بھی مقابلہ کیا جو انہیںپاکستانی سیاست اور ملک دونوں سے باہر کرنا چاہتے تھے۔ اگر بے نظیر زندہ رہتی تو تیسری بار بھی وزیراعظم پاکستان رہتی لیکن یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں۔

    نوجوان بلاگر : رجب علی فیصل نے باغی ٹی کو بتایاکہ: اس میں کوئی شک نہیں کہ بینظیر بھٹو ایک بہادر خاتون تھی لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ بی بی کے قتل کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت رہی مگر افسوس صد افسوس انکے اصل قاتل آج بھی آزاد ہیں۔

    رجب علی فیصل کہتے ہیں کہ: بے نظیر بھٹو کا مقدمہ لاوارثوں کی طرح لڑا گیا جس میں کوئی گواہ بھی پیش نہیں کئے گئے مثال کے طور پر امین فہیم اور ناہیدخان اس وقت بی بی کے ساتھ موجود تھے جب انہیں قتل کیا گیا لیکن بے نظیر کے خاندان کی طرف سے نہ کوئی صحیح پیروی کی گئی اور نہ ہی ان گواہوں کو پیش کیا گیا۔
    علی فیصل کے مطابق: بے نظیر کے قتل میں ٹھیک ویسا ہوا جیسا ذولفقار علی بھٹو کے قتل میں ہوا تھا۔ بھٹو کے قتل کے بعد بے نظیر نے نعرہ لگایا "جمہوریت بہترین انتقام ہے” لیکن ایسی جمہوریت کا اچار ڈالیں گے جس میں مجرمان کو بجائے پھانسی پر لٹکانے کےانہیں اقتدار کی خاطر معاف کردیا جائے۔

    رجب فیصل نے بنگلہ دیش کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ: بھلے ہمیں بنگلہ دیش سے سو اختلافات ہوں مگر یہ بات ماننی پڑے گی کہ شیخ حسینہ واجد نے اقتدار میں آنے کے فورا بعد اپنے باپ شیخ مجیب الرحمان کے قاتلوں کے خلاف مقدمات چلا کر انہیں پھانسیاں دلوئیں اور اگر دیکھیں تو ہم سے علیحدگی اختیار کرنے والا ملک آج ہم سے کتنا آگے ہے۔ نہ وہاں مذہبی شدت پسندی ہے اور ناہی دہشتگردی ہے۔ اور نہ کبھی کسی غیرسویلین کی یہ جرات ہوئی کہ وہ غیرآئینی طریقے سے وہاں کی حکومت خلاف کوئی ذرا برابر بھی حرکت کرسکے۔

    رجب علی فیصل کا خیال ہے کہ: جیسے بے نظیر نے اپنے والد کے قتل پر سمجھوتہ کیا اسی طرح انکے خاندان اور بالخصوص آصف علی زرداری نے بھی دانستہ نادانستہ بے نظیر کے قتل پرسمجھوتہ کیا اور اقتدار کو ترجیح دی۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج تک پاکستان میں غیرجمہوری قوتیں ملکی حکومتوں پر حاوی رہتی ہیں۔ تو جہاں بے نظیر کی بہت ساری خوبیاں ہیں وہی یہ بڑی بڑی خامیاں بھی ہیں لیکن ہمارے ہاں چونکہ غلطیوں کی نشاندہی ہی نہیں کی جاتی جسکے سبب آج تک پوری قوم کی آنکھوں پر پٹی پڑی ہوئی ہے لیکن تاریخ کبھی بھی چھپ نہیں سکتی اور ایک نہ ایک دن تاریخ اپنے آپ کو ضرور دہراتی ہے پھرسچ چاہے کتنا ہی کڑوا ہو سامنے آ ہی جاتا ہے۔

    آج نیوز کے گروپ چیف شہاب زبیری نے مرحومہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ پر انکی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ: وہ قوم کا فخر اور آئیکون تھیں۔ جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔


    ‏پیپلزپارٹی کے سوشل میڈیا سیل سے جاری ایک پیغام میں بینظیر بھٹو کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا گیا: "بینظیر بھٹو نے عوام کے حقوق کی بحالی، معاشی و اقتصادی ترقی، پاکستان میں جمہوریت کے قیام، جمہوری اداروں کی بحالی، عدلیہ کے استحکام، خواتین کی خودمختاری اور عوام کو بنیادی حقوق کی رسائی کیلئے انتھک جدوجہد کی۔‎”
    https://twitter.com/MediaCellPPP/status/1539095766240833538
    پیپلزپارٹی کی رہنماء سینیٹرسحر کامران نے اپنے ایک پیغام میں کہا: "بینظیر بھٹو ایک شخصیت کا نام نہیں، ایک نظریہ کا نام ہے، ایک نقطہ نظر کا نام ہے، ایک فکری سوچ کا نام ہے۔ شدت پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف آواز بلند کرنے والی بینظیر، کھیت میں کپاس چنتی عورت کی ترقی کی بات کرنے والی بینظیر اپنی سوچ اور فکر میں بھی بینظیر تھی‎۔”


    بینظیر بھٹوکے صاحبزادے اور وزیرجہ خارجہ بلاول بھٹو زداری نے اپنی والدہ کی سالگرہ پر ایک پیغام میں کہا کہ: بینظیر شہید نے تیس سال سے زائد جمہوریت کی بقاء، اور معیشت و غریبوں کی بہتری سمیت اسلام کے امن کے پیغام کیلئے جدوجہد کی جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

  • بھارت میں کرونا وائرس کے 12 ہزارسے زائد نئے کیس ریکارڈ، اموات کی تعداد 18 ہوگئی

    بھارت میں کرونا وائرس کے 12 ہزارسے زائد نئے کیس ریکارڈ، اموات کی تعداد 18 ہوگئی

    بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تقریبا 12 ہزار سے زائد نئے کیس ریکارڈ کئے گئے جبکہ اموات کی تعداد 18 سے بڑھ گئی ہے۔

    بھارت کے ادارہ مرکزی وزارت صحت کے مطابق: گزشتہ روز کے مقابلہ میں کرونا کیسزمیں معمولی کمی آئی ہے تاہم اتوار کو 12,899 نئے کیس ریکارڈ کئے گئے تھے ۔ جبکہ مثبت کیسز کی تعداد 4226 بڑھ کر 76,700 ہوگئی اور یوں یومیہ شرح 4.32 فیصد رہی ۔

    بھارتی چینل نیوز18 کے مطابق: ملک میں متحرک کیسزکی تعداد کل زیرو اشاریہ اٹھارہ فیصد ہے۔ تاہم پچھلے 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ متحرک معاملات 1161 کیرالہ میں بڑھے ہیں ۔ اس کے بعد مہاراشٹر میں 918، تمل ناڈو میں 449، دہلی میں 423 ایکٹیو کیس درج کئے گئے ہیں۔ میزورم واحد ریاست رہی جہاں ایکٹیو کیسز کم ہوئے ہیں ۔

    اگر یوں ریاستوں کے حساب سے دیکھیں تو اتوار کو دارالحکومت دہلی میں کورونا سے متاثرہ 1530 نئے مریض پائے گئے تھے اور تین اموات کی تصدیق ہوئی تھی ۔ انفیکشن کی شرح بڑھ کر 8.41 فیصد ہوگئی تھی ۔ یہ انفیکشن کی شرح 28 جنوری کے بعد سب سے زیادہ ہے۔”

    واضح رہے پاکستان میں تاحال کوئی بڑی سطح پر کرونا کیسز سامنے نہیں آئے البتہ راولپندی میں چند ایک کیس سامنے آئے تھے جو اب خطرے سے باہر ہیں.

  • کیا حامد میر ملک چھوڑ کر باہر جانے والے ہیں؟

    کیا حامد میر ملک چھوڑ کر باہر جانے والے ہیں؟

    سوشل میڈیا پر آئے روز آپ کو کچھ نہ کچھ ایسا دیکھنے کو ملتا ہے کہ جس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا ماسوائے فیک نیوز پھیلانے کے اسی طرح آج کل سینئر صحافی حامد میر سے متعلق جھوٹی خبر پھیلائی جارہی ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر کہیں باہر جارہے ہیں۔
    اسی فیک خبر کا سہارا لیتے ہوئے ایک خودساختہ ٹی وی اینکر حفصہ فیاض نے دعوی کیا کہ: اینکرپرسن سلیم صافی کا استعفی دینے کی اطلاعات ہیں جبکہ صحافی حامد میر کا ایک ماہ چھٹی لیکر باہر جانے کی بھی اطلاع ہے۔

    اس خاتون نے مزید دعوی کیا کہ: ایک معروف چینلز کے تین سینئر اینکرز بھی استعفی دے چکے اور کسی بیرون ملک چلے گئے۔

    اس خاتون کے دعوی کی تردید کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ: "عمران خان کے دور حکومت میں مجھ پر نو ماہ پابندی رہی لیکن میں پاکستان سے نہیں بھاگا تو اس دور میں کیوں بھاگوں گا؟ ہر دور میں مشکلات کا سامنا رہا ہے، آج کل بھی کچھ مشکلات ہیں لیکن میں چھٹی لیکر کہیں نہیں جا رہا ہوں۔”
    حامد میر نے مزید کہا کہ: عمران خان کے دور میں بھی کچھ سیاستدانوں کے انٹرویو سنسر کرائے جاتے تھے اس دور میں بھی کچھ شخصیات کے انٹرویو کرنا مشکل ہے مثال کے طور پر منظور پشتین کا انٹرویو نشر کرنا بہت مشکل ہے منظور پشتین پر وہی مقدمات ہیں جو عمران خان پر بھی ہیں لیکن ایک ٹی وی پر آ سکتا ہے دوسرا نہیں۔


    حامد میر کی تردید کے بعد شبیر جان نے انہیں لکھا کہ: عمران خان کے دور میں آپ پر پابندی جیو نے لگائی تھی ناکہ عمران خان نے اور اگر جیو نے نہیں لگائی تو پھر جنرل رانی نے لگائی ہوگی جس کا آپ نے اپنے بیان میں ذکر کیا تھا۔

    اسلام آباد کے صحافی سید عون شیرازی کہتے ہیں کہ: جس حامد میر کو میں جانتا ہوں اُسکا جینا مرنا اسی ملک میں ہے کیونکہ حامد میر جی دار آدمی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: حامد میر پر ہر دور میں الزامات لگائے جاتے ہیں اور انہیں سرخرو ہونےکی عادت ہے۔

  • پوری امید ہے کہ  ایک آدھ دن میں آئی ایم ایف پروگرام بحال ہو جائے گا،مفتاح اسماعیل

    پوری امید ہے کہ ایک آدھ دن میں آئی ایم ایف پروگرام بحال ہو جائے گا،مفتاح اسماعیل

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے دعویٰ کیا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا پروگرام ایک آدھ دن میں بحال ہوجائے گا۔

    باغی ٹی وی :صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ مجھے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کی پوری امید ہے، اگر صاحب ثروت لوگ ہیں تو ان پر ٹیکس لگے گا غریب طبقے کو ریلیف دیا جائے گا، آئی ایم ایف پروگرام کا تنخواہ بڑھانے سے کوئی تعلق نہیں ہےسالانہ 12 لاکھ روپے تک آمدن پر ٹیکس استثنیٰ برقرار رہے گا۔

    چند روز قبل اپنے بیان میں مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ خواہش ہے ملک میں کسی کو بھی 2 ہزار وظیفے کی ضرورت نہ پڑے۔

    انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں بجٹ پیش کیا گیا کیونکہ ماضی میں اتنا معاشی مشکل نہیں دیکھا جتنا آج دیکھ رہا ہوں۔ ایک ہزار 100 ارب روپے بجلی کی مد سبسڈی دی گئی اور 500 ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ دیا۔ 16 روپے فی یونٹ حکومت دے رہی ہے لیکن یہ بھی عوام کے ہی پیسے ہیں۔

    پاکستان کوپولیوسے پاک ملک دیکھناچاہتے ہیں،سلمان رفیق

    انہوں ںے کہا کہ رواں مالی سال شعبہ گیس میں 400 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی اور 30، 35 روپے بجلی کا یونٹ بنا رہے ہیں لیکن اگر باقی ممالک میں سستی گیس مل رہی ہے تو ہم مہنگی نہیں دے سکتے۔ ملک میں 200 ملین ڈالر کی گیس کا پتہ ہی نہیں کہاں گئی۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ملکی انتظامی امور ٹھیک کرنا ضروری ہے ورنہ یہ ملک چلانا مشکل ہے۔ 2 اعشاریہ 4 ارب کی گیس ہم ہوا میں اڑا دیتے ہیں۔ پاکستان باوقار اور نیوکلیئر پاور ملک ہے، اس لیے ہمیں معیشت سنبھالنا ہو گی۔

    دوسری جانب سلیم مانڈوی والا کی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا زیر صدارت اجلاس ہوا .کمیٹی اجلاس میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور سابق وزیر خزانہ شوکت ترین آمنے سامنے آئے دونوں کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا-

    اجلاس میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ فارما سیوٹیکل کے ریفنڈ آئندہ 4 روز سے ادا کرنے شروع کر دیں گے، 4دنوں میں ریفنڈ کی سلسلہ شروع نہ ہو سکا تو آئندہ 2ماہ میں پیسے کلئیر کر دیں گے،گزشتہ مالی سال14 سے15 کلو گرام سونا قانونی طریقے سے پاکستان آیا-

    انہوں نے بتایا کہ 80ٹن سونا ملک میں اسمگلنگ کے ذریعے آ رہا ہے، ایسے جیولرزبھی ہیں جن کی یومیہ کروڑ روپے سے زائد کی آمدن ہوتی ہے،جب دکاندار سے پوچھا تو کہا روزانہ چار ہزار کی سیل ہوتی ہے-

    ملک بھر کےمندر وں اور گورودواروں کی اصل حالت میں بحالی کا فیصلہ

    وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ خالی پلاٹ پر تعمیرات شروع کر دی جائیں تو کوئی ٹیکس نہیں لیں گے آپ پہلی اینٹ لگا دیں ٹیکس ختم کر دیا جائے گا،قبضہ ملنے اور تعمیرات شروع نہ کرنے پر ٹیکس لاگو ہوگا۔

    وزیر خزانہ نے خالی پلاٹ مخصوص مدت تک رکھنے کی اجازت دینے کی تجویز سے اتفاق کیا اور کہا کہ کمپنیاں سالانہ 30 کروڑ منافع پر 2 فیصد ٹیکس ادا کریں گی۔

    سینیٹ کمیٹی نے سفارش کی کہ 30 کروڑ پر ٹیکس کی بجائے 30 کروڑ سے زائد آمدن پر ٹیکس عائد کیا جائے اس پر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ بات تو ٹھیک ہے مگر کیا کریں پیسوں کی بہت ضرورت ہے۔

    اس پر سابق وزیر خزانہ شوکت ترین بولے کہ بات میں وزن ہے مفتاح صاحب کوئی اور جیب کاٹ لیں مفتاح اسماعیل نے جواب دیا بالکل ابھی تو اور بھی جیبیں کاٹنی ہیں۔

    خیبرپختونخوا سے آئے ینگ ٹیچرز نے بنی گالہ میں اسد عمر کی گاڑی روک لی

    اجلاس میں سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح 28 فیصد تک پہنچ چکی ہے،گریجوئیٹی اور پراویڈنٹ فنڈ پر ٹیکس نہ لگایا جائے،مہنگائی بہت جلد 35 فیصد ہو جائے گی،اوسط مہنگائی جلد نیچے نہیں آئے گی،ادویات سازی کرنے والی فیکٹری ہی جوس بنا رہی ہے،ادویات ساز میک اپ کا سامان بنارہے ہیں اور سیلز ٹیکس نہیں دیتے، اگر انہیں 17 کی بجائے کم سیلز ٹیکس لگائیں گے تو یہ ادا ہی نہیں کریں گے-

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پوری قوم کو فیٹف کی پیشرفت پر مبارکباد پیش کرتے ہیں یہ کسی ایک شخص کی نہیں مشترکہ کامیابی ہے ،کچھ چیزوں میں قومی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے،ہم نے آئین سے متصادم اشیاء پر اعتراض کیاتھا،اس پرپوری قوم کو کریڈیٹ دیتے ہیں ،یہ کسی ادارے ،افسر یا جماعت کا کریڈٹ نہیں-

  • پاکستان کوپولیوسے پاک ملک دیکھناچاہتے ہیں،سلمان رفیق

    پاکستان کوپولیوسے پاک ملک دیکھناچاہتے ہیں،سلمان رفیق

    صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق کی زیر صدارت محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرمیں اہم اجلاس منعقدہوا،اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری ٹیکنیکل ڈاکٹرعاصم الطاف، ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹرمختاراعوان،ڈپٹی سیکرٹری ورٹیکل پروگرامزسیدہ رملہ و دیگرافسران نے شرکت کی۔صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے اجلاس کے دوران صوبہ بھرمیں کورونااور پولیوکی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹرعاصم الطاف،ڈاکٹرمختاراعوان اور سیدہ رملہ نے اجلاس کے دوران صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق کو کورونااور پولیوسے متعلق اقدامات بارے بریفنگ دی۔

    صوبائی وزیرخواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ پنجاب میں کورونااور پولیوکی صورتحال کو مسلسل مانیٹرکیاجارہاہے۔ صوبہ بھرمیں اب تک 86فیصدآبادی کو کوروناسے بچاؤ کی مکمل ویکسین لگائی جاچکی ہے۔ پنجاب کی94فیصدآبادی کو کوروناسے بچاؤ کی کم ازکم ایک ڈوزلگائی جاچکی ہے۔ پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں کوروناسے بچاؤ کی ویکسین لگائی جارہی ہے۔ پنجاب کے 6اضلاع میں 27جون تا3جولائی تک معصوم بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

    خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ 27جون سے لاہور،فیصل آباد،راولپنڈی،لیہ،ڈیرہ غازی خان اور میانوالی کے اضلاع میں بچوں کو پولیوسے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے،انسدادپولیومہم کے دوران پنجاب کے 6اضلاع میں 45لاکھ بچوں کو پولیوسے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔انسدادپولیوکی آئندہ مہم کے دوران بچوں کو پولیوکے قطرے پلانے کا ہدف سوفیصد حاصل کیاجائے گا۔ کورونااورپولیوکے خاتمہ کیلئے تمام سٹیک ہولڈرزکومحنت کرناہوگی۔پاکستان کوپولیوسے پاک ملک دیکھناچاہتے ہیں۔انسدادپولیو مہم کے دوران پولیوٹیموں کو مکمل تحفظ دیاجائے گا۔

    علاوہ ازیں صوبائی وزیرخواجہ سلمان رفیق نے محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرمیں ہنگامی اجلاس طلب کرلیا۔اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری ٹیکنیکل ڈاکٹرعاصم الطاف،ڈائریکٹر سی ڈی سی ڈاکٹرشاہدحسین مگسی،ڈپٹی سیکرٹری ورٹیکل پروگرامزسیدہ رملہ اور پی آئی ٹی بی کے افسران نے شرکت کی۔ صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے اجلاس کے دوران صوبہ بھرمیں ڈینگی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹرعاصم الطاف اور پی آئی ٹی بی کے افسران نے صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق کو ڈینگی کی انسدادی سرگرمیوں کی تفصیلی رپورٹ پیش کردی۔

    اس موقع پر صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ڈینگی کے تدارک کیلئے تمام محکمہ جات کی کارکردگی کاجائزہ لیاجارہاہے۔ ڈینگی کی انسدادی سرگرمیوں سے متعلق بوگس رپورٹنگ پرسخت ایکشن لیاجائے گا۔ پنجاب میں ڈینگی کے تدارک کیلئے تمام تروسائل بروئے کارلائے جائیں۔ ڈینگی کی انسدادی سرگرمیوں میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ڈینگی کے تدارک کیلئے تمام محکمہ جات کو محنت کرنی ہوگی۔ڈینگی پرقابوپانا محکمہ صحت نہیں بلکہ تمام متعلقہ محکمہ جات کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

  • سابق ایس ایس پی راؤ انوار کو پروگرام میں بلانے پر سلیم صافی تنقید کی زد میں

    سابق ایس ایس پی راؤ انوار کو پروگرام میں بلانے پر سلیم صافی تنقید کی زد میں

    گزشتہ 18 جون کی شب معروف اینکرپرسن سلیم صافی نے سابق ایس ایس پی ملیر راؤانوار کو جیونیوز کے پروگرام جرگہ میں بلایا جس میں ان سے نقیب اللہ محسود کےقتل سمیت متعددپولیس مقابلوں پرسوالات کئے جس پر سابق ایس ایس پی نے اینکر کو جواب دیا کہ : ” میں پورے پاکستان کو چیلنج کرتاہوں کہ اگر کوکوئی نقیب اللہ ولد محمدخان کا شناختی کارڈ یا فارم (ب) لے آئے تو میں سزا کیلئے تیار ہوں۔

    ایک اور سوال کے جواب میں راؤانوار نے بتایا: "پولیس والے کاویسے بھی ففٹی فٹفی ہوتا ہے، ایک چور آتاہے اور ایک شریف آدمی اب پولیس والا چور کاساتھ دے تو شریف آدمی ناراض اور شریف آدمی کا ساتھ دو تو چور ناراض ہوجاتا ہے۔”

    قبائلی نوجوان نوید الحق اورکزئی نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے سوال کیا کہ: آخر سلیم صافی کو کیاضرورت ہے کہ ہزاروں لوگوں کے قاتلوں کو ہی اپنے پروگرام میں بلاتا ہے ؟ سلیم صافی نے سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو اپنے ٹی وی پروگرام میں بلاکر کوئی پہلی بار کسی قاتل کا انٹرویو نہیں کیا بلکہ اس سے پہلے بھی وہ ہزاروں لوگوں اور آرمی پبلک سکول کے معصوم بچوں پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے قاتل اور ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کا انٹرویو کرچکے ہیں۔

    نوید نے مزید کہا کہ : بطور ایک قبائلی پختون مجھے دکھ ہوا کہ ایک پختون صحافی ہونے کی حثیت سے سلیم صافی نے صرف نقیب اللہ محسود کے قاتل کا ہی نہیں بلکہ چار سو زائد بےگناہوں کے قاتل کا انٹرویو کیا۔ لہذا انہیں یہ ضرور بتانا چاہیے کہ وہ ہمیشہ قاتلوں کا انٹرویو ہی کیوں کرتے ہیں۔
    اس کے علاوہ یہ ذمہ دار ی میڈیا کے اداروں پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اس طرح کے متنازعہ اور مجرموں کی انٹرویو ز نشر نہ کرے ۔

    لیکن سلیم صافی نے اپنا موقف پیش کرتےہوئے کہاکہ:” کسی کا انٹرویو کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ آپ اس انسان کے ہمنوا بن گئے ہیں ۔ انہوں نے مثال دیتےہوئے بتایاکہ میں اپنے پروگرام میں شبلی فراز کو نہیں بلاتا تھا لیکن جب وہ حکومتی ترجمان بن گئے تو پھر ان کا موقف لینا میری مجبوری بن گیا اسی طرح اسامہ بن لادن نائن الیون کا ذمہ دار تھا مگر انکے انٹرویوز سی این این اور الجزیرہ پر نشر کئے جاتے تھے۔

    صحافی فیض اللہ لکھتے ہیں کہ: "راؤ انوار کا انٹرویو ہوسکتا ہے مگر اسکے خلاف پانچ برس سے احتجاج کرتے مظاہرین کو دس سیکنڈ کے لئیے دکھایا جاسکتا ہے نا ہی انکا ایک منٹ کا انٹرویو چل سکتا ہے اسے کہتے ہیں اظہار رائے کی آزادی کا شاندار نمونہ۔”


    ایک صارف شبانہ شوکت لکھتی ہے کہ: "کیا یہ ہمارا سب سے بڑا المیہ نہیں کہ راؤ انوار جیسے سرکاری قاتل ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر بھاشن دے رہے ہیں؟”


    اینکرپرسن سلیم صافی نے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے اپنے ایک پیغام میں لکھا کہ: میرے ساتھ انٹرویو میں سابق ایس ایس پی راو انوار نے جو دعوے کئے تھے، اسکےجواب میں ایم کیوایم پاکستان کے فاروق دادا مرحوم کی اہلیہ کا موقف ۔۔۔۔انٹرویو میں جن لوگوں کا ذکر ہوا ہے ان میں سے کوئی بھی اپنا موقف دینا چاہے تو میرے سوشل میڈیا پلیٹ فورم حاضر ہیں۔


    ایک ٹوئٹرصارف ذیشان ممتاز نے ناقدین کے جواب پرسلیم صافی کو کہا کہ:
    جس پلیٹ فارم میں قاتل کا انٹرویو کیا انصاف کا تقاضہ ہے اسی پلیٹ فارم پر ان کی دیگر جس پر قاتل نے الزام لگایا موقع دیں ورنہ یہ ڈھونگ نہ کریں اور مظلوموں پر نمک پاشی نہ کریں

  • عمران خان، ذوالفقار علی بھٹو بننے کی ناکام کوشش کررہے۔ سینیٹر سردار سلیم

    عمران خان، ذوالفقار علی بھٹو بننے کی ناکام کوشش کررہے۔ سینیٹر سردار سلیم

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان دراصل سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بننے کی ناکام کوشش کررہے ہیں کیونکہ ان میں اور قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہ کہناتھا پیپلزپارٹی کے بانی رہنماء اور سابق سینیٹر سردار سلیم کا جنہوں نے باغی ٹی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ: سابق وزیر اعظم عمران خان حمایت تو دور مخالفت کرنے کے بھی قابل نہیں ہے۔
    جب سردار سلیم سے باغی ٹی وی نے سوال کیا کہ عمران خان دعوی کرتے ہیں کہ جس طرح ذوالفقارعلی بھٹوکیخلاف امریکہ نے سازش کی تھی ٹھیک اسی طرح انکے خلاف بھی بیرونی سازش ہوئی ہےتواسکے جواب میں سردار سلیم نے کہاکہ: عمران خان نے کونسا ایسا کارنامہ سرانجام دیا ہےکہ ان کے خلاف امریکہ سازش کرتا؟

    سابق سینیٹر کے مطابق: جہاں تک بات ذوالفقار علی بھٹو کی ہے وہ تو پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی کوشش کررہے تھے اوردوسرا انہوں نے تیل پیدا کرنےوالےتمام مسلم ممالک کے حکمرانوں کو مشورہ دیا تھا کےوہ اپنے تیل کی پیداوار کم کردیں اور ان کے اس مشورہ پرعمل کے بعد امریکہ نے گھٹنے ٹیک دیئے تھے کیوں کہ تیل کی پیداوار کم ہونے سے ناصرف انہیں تیل مہنگا خریدنا پڑ رہا تھا بلکہ مقدار میں بھی کم مل رہا تھا۔ اورپھریہ کہ مسلم ممالک اپنا تیل مہنگے دام بیچ کر زیادہ سے زیادہ پیسہ کما رہے تھے جسکے سبب ان ممالک میں مالی خوشحالی آنا شروع ہوگئی۔

    فیٹف کی طرف سے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنےکےعندیہ پرسردارسلیم کا کہنا تھا کہ: "بہت سارے دانشور اس بات پر موثر ہیں کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے میں عمران خان کا زیادہ کردارہے کیونکہ اس نے 34 کی 34 شرائط کو پورا کیا تھا۔ لیکن میرے خیال میں تعصب کی نگاہ سے دیکھنے والوں کو یہ یاد نہیں کہ بات صرف شرائط پوری کرنے کی ہوتی تو پاکستان کوکب کا گرے لسٹ سے خارج کردیا گیاہوتا لیکن اصل معاملہ شرائط پوری کرنے کا نہیں تھا بلکہ امریکہ اوردوسرے یورپی ممالک جو اثررکھتے تھے پر بھارتی حکومت کا دباؤ تھا کہ پاکستان کو وائٹ لسٹ میں نہ ڈالا جائے اور پاکستان کے اس وقت کے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی میں اتنی اہلیت نہیں تھی کہ وہ چین کی بھرپورحمایت کے باوجود بھی امریکہ اوریورپی ممالک کو بھارتی دباؤ سے نکال کر پاکستان کے موقف کو تسلیم کرواتا ۔”
    سردارسلیم سمجھتے ہیں کہ: یہ کارنامہ بی بی شہید کے فرزند اور نوجوان وزیر خارجہ بلاول بھٹوزرداری اور وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے بڑے احسن طریقے سےکردکھایا۔ جسکے مثبت اثرات آنے والے دنوں میں نظر آئیں گے.

  • ‏جب تک شفاف الیکشن کا اعلان نہیں ہوتا ہمارا احتجاج جاری رہے گا:عمران خان

    ‏جب تک شفاف الیکشن کا اعلان نہیں ہوتا ہمارا احتجاج جاری رہے گا:عمران خان

    اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے ملک بھر میں مہنگائی کیخلاف احتجاج سے ویڈیو لنک پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ہر چیز کی قیمتوں میں ہوشربااضافہ کردیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‏جب تک شفاف الیکشن کا اعلان نہیں ہوتا ہمارا احتجاج جاری رہے گا

    انہوں نے کہا کہ ہم جب اقتدار میں آئے تو اس وقت ملک بہت مشکل میں تھا، یہ لوگ پاکستان کو خسارے میں چھوڑ کر گئے تھے۔ کورونا بحران کے دوران ہم نے معیشت کو تباہی سے بچایا جبکہ پی ٹی آئی حکومت نے غریب عوام کو صحت کارڈ بھی فراہم کیا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ جدوجہد ہماری بہتری کیلئے ہوتی ہے اور اپنےحقوق کیلئے باہرنکلنا جہاد ہے جبکہ پرامن احتجاج ہماراجمہوری حق ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیزل کی قیمت میں 120روپے اضافہ کیا گیا اور اب بجلی کا بل آئے تو سب کو لگ پتہ جائے گا کہ بم پھٹا ہے یا نہیں۔

    عمران خان کے قتل کی سپاری دے دی گئی، فیاض الحسن چوہان کا دعویٰ

    سابق وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈیزل مہنگا ہونے سے کسانوں کو بہت نقصان ہورہا ہے اور اگر کسان متاثر ہوگا تو فوڈ سیکیورٹی کا مسئلہ پیدا ہوگا۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے دور میں پیٹرول 12روپے بڑھا تو انہوں نے لانگ مارچ کیے، ہم نے پیٹرول کی قیمت 10روپے بڑھانے کی بجائےکم کرکے ریلیف دیا تھا لیکن موجودہ حکومت نے آتے ہی پیٹرول کی قیمت میں84روپے کا اضافہ کردیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت پاکستان کی معیشت تیزی سےنیچےجارہی ہے، کہا گیا آئی ایم ایف کی وجہ سے پیٹرول کی قیمتیں بڑھائی گئیں، ہم نےآئی ایم ایف سے معاہدہ کیا لیکن قوم کاخیال رکھا

    عمران خان نے اتوار رات 9 بجےاحتجاج کی کال دے دی

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں پتہ تھا کہ ان کے پاس قابلیت نہیں یہ صرف اپنےکیسز ختم کرنے کے لئے اقتدار میں آئے، امریکا سے سازش ہوئی اور یہاں میرجعفر اور میرصادق ساتھ مل گئے، میں نےکہا تھاکہ اگر سازش کے تحت حکومت کو گرادیا گیا توسنبھالا نہیں جائےگا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم نے اپنے دور میں اداروں کو آزادی سےکام کرنے دیا، خرم دستگیرنے ٹی وی پروگرام میں کہا کہ اگر عمران خان رہ جاتا تو انہوں نے ہمیں جیلوں میں ڈال دینا تھا، خرم دستگیرکی بات سے ثابت ہوگیا کہ یہ صرف این آراوٹو لینےحکومت میں آئے۔

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا کہ یہ امریکا کے غلام ہیں اس لیے روس سےسستاتیل نہیں خریدر ہے اور اگرآپ کو قوم کی فکر ہے توآپ کو 2ماہ ہوگئے روس سےسستا تیل کیوں نہیں خریدا؟انہوں نے یہ بھی کہا کہ فیٹف ایشو پر ہمارےدور میں بہت کام کیا گیا، جب ہم فیٹف قانون سازی کررہےتھےتویہ اس وقت نیب قانون میں ترمیم لانےکی کوشش کی کیونکہ جب یہ نیب قانون بنےگا تو کل ان کے1200ارب کے کرپشن کیسز ختم ہوجائیں گے۔

    عمران خان سے رابطےتیزہوگئے:بڑی بڑی شخصیات قافلے میں شامل ہونے کےلیےتیار

    عمران خان کا کہنا تھا کہ بلاول نےکہا بھارت سے اچھے تعلقات ہونے چاہئیں تو ہم نے بھی بھارت سے اچھےتعلقات بنانےکی کوشش کی، جب بھارت نےکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تو ہم نے ناطہ توڑدیا اور اب اگر آپ بھارت سے تعلقات بناتے ہیں تو یہ کشمیریوں سے غداری ہوگی ،پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ یہ سب ایک ایجنڈے کے تحت یہ کام کررہےہیں، جب تک صاف اور شفاف الیکشن کا اعلان نہیں ہوتا ہمارااحتجاج جاری رہےگا۔

  • ‏سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف اینٹی کرپشن میں مقدمات درج

    ‏سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف اینٹی کرپشن میں مقدمات درج

    لاہور:سرکاری زمین اپنے نام منتقل کروانے کا الزام،عثمان بزدار کے خلاف مقدمات درج،اطلاعات کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف سرکاری اراضی اپنے نام کروانے پر اینٹی کرپشن میں مقدمات درج کرلیے گئے ہیں جن میں اُن کے بھائیوں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

    اطلاع کے مطابق ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان کی انکوائری رپورٹ کی بنیاد پر عثمان بزدار کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مقدمات میں سرکاری زمین کو جعلسازی سے اپنے نام منتقل کروانے کی دفعات شامل ہیں جبکہ متن میں لکھا گیا ہے کہ سردار عثمان بزدار نے 900 کنال سرکاری زمین کی الاٹمنٹ کے بارے میں جعلی لیٹر تیار کروایا اور 1986 میں منتقلی ظاہر کر کے زمین ہتھیا لی۔

     

    ذرائع کے مطابق عثمان بزدار اور بھائیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے تونسہ میں کروڑوں روپے مالیت کی 900 کنال سرکاری زمین جعلی طور پر اپنے نام منتقل کروائی۔ ملزمان کے خلاف تھانہ اینٹی کرپشن ڈی جی خان میں مقدمات درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے رہنما عثمان بزدار نے بطور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب مراعات کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ۔سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے مراعات کے حصول کے لیے ملتان بنچ میں دائر پٹیشن پرنسپل سیٹ پر ٹرانسفر کرنے کی متفرق درخواست بھی دائر کی ہے۔عثمان بزدار کی جانب سے لاہور ہائی کورت میں درخواست سینئر قانون دان اظہر صدیق کی وساطت سے دائر کی گئی ہے ۔

    درخواست میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پنجاب منسٹرز مراعات ایکٹ کے تحت بطور سابق وزیر اعلیٰ مراعات سے محروم رکھا جا رہا ہے، 23 مئی سے قانون کے تحت بطور سابق وزیر اعلی حاصل مراعات نہیں دی جا رہیں، مراعات کے حصول کے لیے متعلقہ حکام کو تحریری طور پر گزارشات کیں مگر سنوائی نہیں ہوئی۔

    درخواست میں عدالت عالیہ سے اپیل کی گئی ہے کہ قانون کے تحت سابق وزیر اعلی پنجاب کو حاصل مراعات بھی دینے کا حکم دیا جائے۔سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ مراعات کے حصول کے لیے دائر درخواست کو پرنسپل نشست پر سنا جائے۔

     

     

    دائر کی گئی اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ درخواست میں فریق بنائے گئے چیف سیکرٹری پنجاب لاہور میں ہیں، اس لئے درخواست کو بھی پرنسپل سیٹ پر سنا جائے۔لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی درخواست پر اعتراض عائد کر دیا۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد امیر بھٹی کل سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی درخواست پر بطور اعتراض کیس کی سماعت کریں گے۔