Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • عمران اقتدار سے اترتے ہی ذہنی توازن کھو بیٹھا ہے۔ سابق ڈی جی رانجھا

    عمران اقتدار سے اترتے ہی ذہنی توازن کھو بیٹھا ہے۔ سابق ڈی جی رانجھا

    سابق ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب برگیڈیئر (ر) مظفر رانجھا نے سابق وزیر اعظم عمران کے الزامات کے جواب میں کہا ہے کہ: یہ شخص جب سے اقتدار سے اترا ہے اس کا ذہنی توازن خراب ہوگیا ہے اور اگر عمران جھوٹے الزامات سے باز نہ آئے تو اسے عدالت لے کر جاؤں گا.

    سابق ڈی جی نے ایک نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ: عمران خان صرف اور صرف الزامات لگاتا ہے لہزا اگر انہوں نے جھوٹے الزمات لگانا بند نہ کئے تو ان کیخلاف قانونی کاروائی کروں گا. اور عمران خان کو کبھی فوج کو متنازعہ بنانے کی اجازت بھی نہیں دوں گا. لہذا عمران خان اب بھول جائیں میں اپنی ذاتی قربانی دے سکتا ہوں لیکن کسی صورت ادارے کو متنازعہ بنانے نہیں دوں گا اور یہ میرے ساتھ جس فورم پر چاہے بیٹھ جائے اگر اسے جھوٹا ثابت نہ کیا تو جو سزا دی جائے اسکے لئے تیار ہونگا.

    برگیڈیئر رانجھا نے کہا کہ: میں عمران خان کو چیلنج کرتا ہوں کہ ان کی چار سال حکومت رہی لیکن انہوں نے میرے خلاف ٹھوس ثبوت کی بنیاد پر کاروائی کیوں نہ کی۔

    رانجھا کے مطابق: اس سے قبل 4 مئی کو انٹرویو دیا کہ اس معاملے پر کمیشن بنائیں اور کمیشن بنانے سے پہلے ایک بیان حلفی بنائیں گے جو بھی ذمہ دار ہوگا وہ بڑی سزا کے لئے تیار ہوگا اور میرے انٹرویو پر جب میڈیا نے ان سے پوچھا تو اس جھوٹے شخص نے کہا کہ یہ میرا سیاسی بیان ہے .

    ان کا مزید کہنا تھا: میرے الزام کی طرح انہوں نے صحافی نجم سیٹھی پر بھی الزام لگایا تھا. رانجھا نے دعوی کیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے بارے میں مجھے بہت کچھ پتا ہے لیکن اگر وہ باز نہ آئے تو ناصرف عدالت جاؤں گا بلکہ ذرائع ابلاغ کو بھی ان کی ساری کرتوت بتا دیں گے.

    واضح رہے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں رجیم چینگ سیمینار سے خطاب کے دوران تحریک انضاف کے چیئرمین عمران خان نے الزام لگاتے ہوئے ایک بار پھر دعوی کیا تھا کہ مسلم لیگ ن کو 2013 میں اقتدار میں لانے کیلئے برگیڈیئرمظفر رانجھا نے ساری انجینرنگ کی تھی۔

  • بڑی صنعتوں پر دس فیصد ٹیکس لگے گا. وزیر اعظم

    بڑی صنعتوں پر دس فیصد ٹیکس لگے گا. وزیر اعظم

    اسلام آبا د میں وزیراعظم شہباز ریف نے معاشی ٹیم کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے بجٹ سے متعلق بتایا کہ ہم نے اہم فیصلے کیے ہیں، اور اس میں اتحادیوں سے مشاورت کرکے بڑے جرات مندانہ فیصلے کیے۔لہذا ان فیصلوں سے شارٹ ٹرم میں مشکلات آئیں گی لیکن ہم ان مشکلات سے نکل آئیں گے.

    وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ : یہ پہلا بجٹ ہے جس میں ہم نے معاشی وژن دیا ہے لیکن قوم کو کوئی سبزباغ نہیں دکھاؤں گا کیونکہ مہنگائی کا طوفان سر پر اور اس کوکم کرنے کے لیے جان لگا کر اقدامات کریں گے جس سے مہنگائی کوکنٹرول کرلیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا: ہم بڑی صنعتوں پر سپر ٹیکس لگا رہے ہیں تاکہ عام آدمی کوٹیکس سے بچایا جاسکے۔ بڑی صنعتوں میں سیمنٹ، اسٹیل، شوگرانڈسٹری، ،آئل اینڈگیس، ایل این جی ٹرمینل، فرٹیلائزر، بینکنگ، ٹیکسٹائل، آٹوموبل، کیمیکل، بیوریجز اور سگریٹ انڈسٹری پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگے گا۔
    ان کا مزید کہنا تھاکہ: سالانہ 15کروڑ روپے سے زائدکمانے والےکی آمدن پرایک فیصد، 20 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن پر2 فیصد، 25 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن پر3 فیصد اور 30 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن پر4 فیصد ٹیکس لگایا جائے گا۔

    شہباز شریف نے دعوی کیا کہ: ہمارا یہ پہلا بجٹ ہے جس کا مقصد پاکستان کی عوام کو غیر معمولی سختیوں سے بچانا ہے، ہم نے جو اقدامات کیے ہیں ان کا مقصد غریبوں کے کندھوں سے بوجھ کو کم کرنا ہے اور ایسے طبقات جو یہ بوجھ برداشت کر سکتے ہیں ان سے مدد لینا ہے۔
    انہوں امرا طبقے کو یاد دلایا کہ تاریخ گواہ ہے ہر چیلنج اور مشکل میں ہمیشہ غریبوں نے قربانی دی ہے، لیکن آج صاحبِ حیثیت افراد کو اپنا حق ادا کرنا چاہئے۔

    وزیراعظم نے خبردار کیا کہ: ٹیکس کی کلیکشن کے لیے تمام ڈیجیٹل ٹولز لز کو بروئے کار لائیں گے، عام شہری کو ٹیکس کے بوجھ سے بچانے کے لیے ٹیکس جمع کیا جائے گا اور ٹیکس کے پیسے عوام پر استعمال کریں گے، اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو ہمیں قرض لینا پڑے گا۔

    A Pakistani stockbroker reacts as monitor share prices during a trading session at the Pakistan Stock Exchange (PSX) in Karachi on December 3, 2018. (Photo by RIZWAN TABASSUM / AFP)

    ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق: وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بڑی صنعتوں پر سپر ٹیکس کے نفاذ کے اعلان کے فوری بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حصص کی فروخت کا شدید دباؤ دیکھنے میں آیا اور کے ایس ای 100 انڈیکس 2 ہزار پوائنٹس گر گیا۔
    کاروبار کے آغاز کے بعد 2 گھنٹے تک مارکیٹ ہموار رہی تاہم 11 بج کر 40 منٹ پر شدید مندی دیکھی گئی اور کے ایس ای 100انڈیکس ایک ہزار 598 پوائنٹس کم ہو کر 41 ہزار 100 کی سطح پر گر گیا۔ دوپہر 12 بجے تک 100 انڈیکس 2 ہزار 53 پوائنٹس یا 4.8 فیصد تک کم ہوگیا تھا۔

  • اقوام متحدہ فیک نیوز کیخلاف ٹاسک فورس بنائے۔ وزیرخارجہ بلاول بھٹوزرداری

    اقوام متحدہ فیک نیوز کیخلاف ٹاسک فورس بنائے۔ وزیرخارجہ بلاول بھٹوزرداری

    گروپ آف فرینڈز کے ایک ورچوئل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے مطالبہ کیا کہ وہ فیک نیوز کی سرکوبی کیلئے انٹرایجنسی ٹاسک فورس بنائے۔ تاکہ جعلی خبروں اور غلط معلومات کاخاتمہ ہوسکے۔

    ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق : وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ حکومتوں اور ان کے متعلقہ اداروں کی غلط معلومات کا سراغ لگانے، تجزیہ کرنے اور اسے بے نقاب کرنے کا نظام بنائیں جس میں قومی اور بین الاقوامی محققین اور ان اداروں کو مالی اور تکنیکی مدد فراہم کی جائے جو غلط معلومات کا سراغ لگانے میں معاون ثابت ہوں۔
    وزیرخارجہ نے مزید کہاکہ: اقوام متحدہ کا محکمہ اطلاعات اس سلسلے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اور اس اقدام سے جھوٹی خبروں کا سدباب کرنا ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

    وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ: انسانی حقوق ، مختلف کمیونٹیز اور ریاستوں کے درمیان آپسی تعلقات پر غلط معلومات کے منفی اثرات کو کم کرنے کیلئے بھی یہ ضروری ہے ہم سب مل کر فیک نیوز کا جڑ سے خاتمہ کریں تاکہ ریاستوں اور کمیونٹیز کے درمیان کسی بھی پید ا ہونے والی غلط فہمی کو روکا جاسکے۔

  • سینیٹرز ولید اقبال، اعظم سواتی، اعجاز چوہدری اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے کیسز: رپورٹ طلب

    سینیٹرز ولید اقبال، اعظم سواتی، اعجاز چوہدری اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے کیسز: رپورٹ طلب

    اسلام آباد: ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوُس میں منعقد ہوا-قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے حقیقی آزادی مارچ کے دوران امن امان قائم کرنے والی ایجنسیوں اور انتظامیہ کی جانب سے لانگ مارچ شرکاء پر آنسو گیس، کیمیکل گیس کی شیلنگ اور پی ٹی آئی لیڈر شپ پر پولیس کی کریک ڈاؤن سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں اور عام عوام پر ایف آئی آر کا اندراج، غیر قانونی پکڑ دھکڑ، چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے گزشتہ اجلاس میں بھی حقیقی آزادی مارچ کے شرکاء پر بے تحاشہ شیلنگ اور رکاؤٹوں کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا تھا۔ متعدد سینیٹرز نے کمیٹی اجلاس میں شرکت کر کے نا صرف روداد بیان کی تھی بلکہ ویڈیو لنک کے ذریعے بھی مسائل بارے آگاہ کیا تھا۔ قائمہ کمیٹی حالات واقعات کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی اجازت سے تمام صوبوں کا دورہ کر کے حتمی رپورٹ تیار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کے حوالے سے ٹویٹ اور سوشل میڈیا پر ریٹائرڈ آرمی افسران کی کینیڈا میں شہریت کے حوالے سے غلط خبریں گردش کر رہی ہیں جن کا اس کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔کمیٹی یہ معاملہ نہ ہی کبھی زیر بحث لایا گیا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی رپورٹ بنائی گئی ہے۔

    ویڈیو لنک کے ذریعے سابق صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ25ماڑچ کو لاہور سے ا حتجاج کے لئے نکلی تھی تو میری گاڑی پر ڈنڈے برسائے گئے ہمیں زدوکوب کیا گیا ہمیں گرفتار کر کے تھانہ لے جایا گیا ابھی تک ہماری ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ احتجاج میں شرکاء کی گاڑیوں کو بھی توڑا پھوڑا گیا۔ سنیٹر ولید اقبال نے بتایا کہ جیو فینسنگ کے ذریعہ سے ایک لسٹ بھی شیئر ہوئی جس میں میرا نام تھا۔رات کے بارہ بجے مجھے لاہور گھر سے فون آیا کہ پولیس کی ایک نفری نے ہمارے گھر پر دھاوا بول دیا ہے اور پولیس وین کے ذریعے ہمارے گیٹ کو توڑا گیا۔ میں اپنے والدین کے گھر رہتا ہوں میرے گھر کے گیٹ پر میرے والد اور والدہ کا نام بھی لکھا ہے۔ اہلکار دیوار پھلانگ کر گھر داخل ہو ئے۔ میرے بارے پوچھا گیا کہ ولید اقبال کدھر ہے پھر کک کے ذریعہ دروازے پیٹے گئے۔ دو دن بعد ڈی آئی جی صاحب سے ہمارے گھر آئے اور آئی جی پنجاب کی جانب سے معذرت کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو واضح معلوم تھا کہ میں اسلام آباد میں ہوں پھر بھی میرے گھر والوں کو شدید حراساں کی گیا۔ جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے کہا کہ شاعر مشرق کے بیٹے کے گھر پر اسطرح دھاوا بولنا انتہائی شرم ناک ہے۔قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ حقیقی آزادی مارچ کے شرکاء کے حوالے سے جو واقعات ہوئے ہیں اُن کے دو پہلو ہیں۔ اُن پر نہ صرف بے تحاشہ شیلنگ، رکاوٹیں اور مسائل پیدا کئے گئے بلکہ انہیں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں اور کچھ کے خلاف دہشت گردی کی دفعات بھی لگائی گئیں ہیں۔ ان کو علیحدہ علیحدہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کو سخت حراساں کی گیا۔

    سینیٹر اعجاز چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے کمیٹی کو بتایا کہ انہیں پولیس نے گرفتار کیا اور مختلف تھانوں میں رکھا اور کسٹڈی کے دوران اُن پر ایف آئی آر درج کی گئیں۔میرے فون کی لوکیشن موجود ہے میرے گھر کو توڑا گیا اور میرے اُوپر دہشت گردی کی دفعات لگائی گئیں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ سینیٹرز ولید اقبال، اعظم سواتی، اعجاز چوہدری اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے کیسز کے حوالے سے متعلقہ ادارے 15دن کے اندر رپورٹ تیار کر کے کمیٹی کو فراہم کریں۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ ویڈیو لنک کے ذریعے کمیٹی کا اجلاس کرنے کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ آئندہ اجلاس میں متعلقہ ادارے اور متاثرین شرکت کر کے معاملات کا جائزہ لیں۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں صوبہ پنجاب کے حوالے سے ان معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا اور متعلقہ اداروں سے جو تفصیلات اور رپورٹس طلب کی گئیں ہیں وہ بروقت فراہم کی جائیں۔

    سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے عمران ریاض نے کمیٹی کو بتایا کہ پنجاب پولیس نے ایک ڈاکو کو اُن کے گھر کے قریب لا کر جعلی مقابلے میں ہلاک کر دیا اور اس کے گھر کے پاس فائرنگ بھی کرتے رہے۔میں نے خود پولیس سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ پولیس مقابلہ ہوا ہے جس میں ایک ڈاکو ہلاک ہوا ہے اورڈاکو موٹر سائیکل پر آئے تھے رات تین بجے کا وقت تھا اُس ڈاکو کا زمین پر پڑا خون گرم جبکہ اُس موٹر سائیکل کا سائلنسر بلکل ٹھنڈا تھا اس جعلی مقابلے کی انکوائری ہونی چاہئے۔ مجھے اور میرے گھر والوں کو حراساں کیا جا رہا ہے مجھے کہا جا رہا ہے کہ لاہور سے شفٹ ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ میرے گھر کے آس پاس پانچ پولیس ناکے لگا کر مجھ سے ملنے آنے والوں کو شدید تنگ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف صحافیوں پر دو درجن کے قریب ایف آئی آرز درج کی گئیں ہیں جن میں سیکشن 505لگائی گئی ہے جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی اجازت کے بغیر نہیں لگائی جا سکتی اور اُن علاقوں سے بھی ایف آئی آر درج کی گئیں ہیں جہاں انٹرنیٹ کا نام و نشان بھی نہیں ہے۔ سینیٹر رانا مقبول احمدنے کہا کہ جعلی مقابلے اور عمران ریاض کو حراساں کرنے کے معاملے کی انکوائری ہونی چاہئے۔ جو پولیس اہلکار ملوث ہیں انکے خلاف کاروائی ہونی چاہیے۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ کچھ معروف صحافیوں کو جان بوجھ کر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اُن کو کام سے روکنے کیلئے ایسے ہتھ کنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں جس کی ہم بھر پور مذمت کرتے ہیں۔

    صوبائی ممبرا سمبلی حلیم عادل نے کہا کہ آزدی مارچ کرنا ہر ایک کاآئینی حق ہے مگر آزادی مارچ کرنے والے پارلیمنٹرین اور عوام پر دہشت گردی کی دفعات لگانا انتہائی افسوسناک ہے پولیس کی ستم ظریفی سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہا میں ایک ٹی وی پروگرام میں تھا اُس وقت بھی میرے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز نے کہا کہ کراچی یونیورسٹی کے طلبعلم جو صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں اُن کے اغوا پر اہل خانہ نے احتجاج کیا تو خواتین کے ساتھ انتہائی نا مناسب سلو ک کیا گیا۔ قائمہ کمیٹی نے معاملے کی رپورٹ متعلقہ حکام سے طلب کر لی۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سندھ میں آزادی مارچ کے حوالے سے 225ایف آئی آر درج ہوئی اور چار سے پانچ ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعات لگائی گئی ہیں اور زیادہ تر پکڑے گئے لوگوں کو آزاد کر دیا گیا تھا۔ اے آئی جی سندھ نے کہا کہ جو بچے اغوا ہوئے تھے اُن کے لواحقین نے سی ایم ہاؤس اور عدالت کی طرف احتجاج کرنے کی دھمکی دی تو پولیس نے اعلیٰ حکام کو بتائے بغیر ایکشن لیا اُن کے خلاف انکوائری چل رہی ہے۔ سندھ ہوم ڈپارٹمنٹ سے بھی انکوائری ہو رہی ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما صداقت عباسی نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد میں جتنا نقصان ہوا پولیس کے ایکشن کے ری ایکشن میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جب عدالت نے اجازت دے دی تھی تو پولیس نے کس کے حکم سے عوام پر آنسو گیس کی بارش کی۔ پارلیمنٹرین پر لاٹھی چارج کیا گیا۔پولیس نے قانون سے بالا تر ہو کر کام کیا اس کی انکوائری ہونی چاہئے۔ سینیٹر فلک ناز چترالی نے کہا کہ 25 مئی کو اسلام آباد مقبوضہ کشمیر کا منظر پیش کر رہا تھا۔ وہ پولیس کی آنسو گیس سے میں بے ہوش گئی تھی۔میرا دس سال کا بچہ گھر پر اکیلا تھا مگر مجھے پارلیمنٹ جانے کی اجازت نہیں دی گئی ساری رات سڑک پر گزاری۔ میرا بچہ ٹراما میں ہے ابھی تک وہ نارمل نہیں ہوا۔ اسلام آباد پولیس نے بہت زیادہ شیلنگ کی تھی اور خود درختوں کو آگ لگائی جس کی ویڈیوز موجود ہیں۔ سینیٹر سیمی ازدی نے کہا کہ آگ لگانے والے بندے کو ہمارے لوگوں نے پکڑا بھی تھا جو پٹرول چھڑک کر آگ لگا رہا تھا۔ آر پی او روالپنڈی نے بتایا پنڈی ریجن میں کوئی پبلک پراپرٹی کا نقصان نہیں ہوا اورجن لوگوں کوپکڑا گیا تھا انہیں چھوڑ دیا گیا۔آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ ہم سب کو قانون کے مطابق کام کرنا چاہئے آزادی مارچ کے حوالے سے معاملہ عدالت میں ہے اور جن لوگوں نے قانون کے خلاف کام کیا ہے اُن کے خلاف شفاف انکوائری کرائی جائے گی۔
    سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے ڈی چوک اور نادرا چوک اسلام آباد کو بلا جواز بند کر کے سرکاری ملازمین اور عام عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا گیا ہے عوام کو ریلیف دینا چاہئے سیکورٹی کی وجہ بتا کر آئے دن سڑکیں بلاک کرنا مناسب نہیں۔ قائمہ کمیٹی نے فوری طور پر ڈی چوک اور نادرا چوک کو کھولنے کی ہدایت کر دی۔ سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ ملک میں جو مہنگائی کا طوفان آیا ہے اس کی بدولت پورے ملک اور خاص طور پر وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں چوری ڈکیتی کے واقعات میں ہوش ربا اضافہ ہو چکا ہے۔ اسلام آباد پولیس مختلف علاقوں میں نہ صرف اپنی نفری میں اضافہ کرے بلکہ پولیس گشت میں بھی اضافہ کر کے ان مسائل کے تدارک کرے۔

    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں قائد حز ب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم، سینیٹرز ثمنیہ ممتاز زہری، رانا مقبول احمد، شہادت اعوان، فوزیہ ارشد، سرفراز احمد بگٹی، دلاور خان، شبلی فراز، ولید اقبال، فلک ناز، سیمی ازدی کے علاوہ اسپیشل سیکرٹری داخلہ، اسپیشل سیکرٹری ہوم سندھ، اسپیشل سیکرٹری ہوم پنجاب، ڈی سی اسلام آباد، آر پی او راولپنڈی، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ایڈیشنل کمشنر اسلام آباد اور آن لائن پر سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد، صوبائی ممبر اسمبلی حلیم عادل، ایس پی لاہور، اے آئی جی میر پور اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ *

    "معیشت کی حالت اور سالانہ بجٹ” کے موضوع پر سینیٹ اراکین کا سیمینار،اطلاعات کے مطابق سینیٹ آف پاکستان اور یورپی یونین کے فنڈڈ پروجیکٹ "مستحکم پاکستان” نے مشترکہ طور پر "معیشت کی حالت اور سالانہ بجٹ” کے موضوع پر سینیٹ کے اراکین کے لیے ایک سیمینار آج پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد کیا۔ مالیاتی اور اقتصادی ماہرین نے سینیٹرز کو این ایف سی کے تحت وسائل کی تقسیم، قرضوں کے انتظام کے مسائل اور رکاوٹوں، پاکستان کی معیشت کو درپیش اہم اقتصادی چیلنجوں، وفاقی بجٹ میں آئینی شقوں اور مالیاتی نگرانی کے حوالے سے پالیسی سفارشات کے بارے میں بریفنگ دی۔

    سینیٹرز نے پاکستان کی مجموعی اقتصادی صورتحال اور مالیاتی بحران پر قابو پانے کے لیے بجٹ تجاویز کے متعلق اپنے سوالات پیش کیے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے سیمینار کو انتہائی اہم سرگرمی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مالیاتی حالات اور قرضوں کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

    مرزا محمد آفریدی نے کہا کہ "ہمیں چھوٹے کاروباروں کو سپورٹ کرنا چاہیے۔ میکرو اور مائیکرو اکنامک عوامل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ قوم کی تعمیر کیسے کی جائے۔ سینیٹ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا”.

    سیمینار میں سینیٹرز، ہدایت اللہ خان، دوست محمد خان، دنیش کمار، عمر فاروق، ولید اقبال، افنان اللہ خان، سید صابر شاہ، بہرامند خان تنگی، محمد عبدالقادر، فدا محمد، سیکرٹری سینیٹ، قاسم صمد خان اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر PIPS نے شرکت کی۔

  • یکم جولائی سے مرحلہ وار بجلی کا ایک یونٹ 24.82 روپے کا ہوجائے گا، ذرائع پاور ڈویژن

    یکم جولائی سے مرحلہ وار بجلی کا ایک یونٹ 24.82 روپے کا ہوجائے گا، ذرائع پاور ڈویژن

    اسلام آباد:یکم جولائی سے مرحلہ وار بجلی کا ایک یونٹ 24.82 روپے کا ہوجائے گا،پاکستان پاورڈویژن کی طرف سے یہ پیغام جاری کیا گیا ہے کہ اگلے مہینے یعنی یکم جولائی سے ملک بھر میں بجلی کی قیمتیں بڑھ جائیں گی، بجلی کی فی یونٹ بنیادی قیمت میں اضافہ کردیا جائے گا۔

    ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق یکم جولائی سے فی یونٹ بجلی 3 روپے 50 پیسے مہنگی ہو جائے گی، یکم جولائی سےبجلی کاایک یونٹ 16.91روپے سے بڑھ کر 20.41روپے ہوجائے گا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم اگست سے فی یونٹ بجلی مزید ساڑھے 3 روپے مہنگی ہوجائے گی، یکم اگست سےبجلی کا بنیادی ٹیرف بڑھ کر 23.91 روپے فی یونٹ ہوجائے گا۔

    ذرائع کے مطابق یکم اکتوبر 2022 سے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں مزید 91پیسے فی یونٹ اضافہ کیا جائے گا اور یکم اکتوبر سے بجلی کا فی یونٹ بڑھ کر24روپے82 پیسے ہو جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ماہانہ 200 یونٹ یا اس سےکم بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر اس اضافے کا اطلاق نہیں ہوگا۔

    ادھرکراچی والوں کیلئے بجلی 11 روپے 34 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں دائر کردی گئی۔کے الیکٹرک نے مئی کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کرنے کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو دے دی۔

    نیپرا کے الیکٹرک کی درخواست پر سماعت 4 جولائی کو کرے گا، منظوری کی صورت میں کراچی کے عوام پر 22 ارب 65 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

  • پاکستان کی عسکری قیادت کے خلاف رکن پارلیمنٹ کے بیان پر کینیڈین ہائی کشمنر کی دفتر خارجہ طلبی

    پاکستان کی عسکری قیادت کے خلاف رکن پارلیمنٹ کے بیان پر کینیڈین ہائی کشمنر کی دفتر خارجہ طلبی

    اسلام آباد:عسکری قیادت کے خلاف رکن پارلیمنٹ کے بیان پر کینیڈین ہائی کشمنر کی دفتر خارجہ طلبی ،اطلاعات کےمطابق ‏کینیڈین رکن پارلیمنٹ کے پاک فوج کی قیادت سے متعلق ‘غیر ذمہ دارانہ ریمارکس’ پر پاکستان نے سخت احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ اس قسم کا رویہ ناقابل برداشت ہے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کے دفتر خارجہ نے کینیڈین رکن پارلیمنٹ ٹام کیچ کے پاکستان اور عسکری قیادت کے خلاف مضحکہ بیان پر کینیڈین ہائی کمشنر کو طلب کر کے شدید احتجاج کیا ہے۔پاکستان نے اس بیان پر وضاحت بھی مانگی ہے

    میڈیا ذرائع کےمطابق کینیڈین رکن پارلیمنٹ کی جانب سے پاکستان اور عسکری قیادت کے خلاف مضحکہ خیز و غیر ذمہ دارانہ بیان دینے پر اسلام آباد میں تعینات کینیڈا کے ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق کینیڈین ہائی کمشنر کو احتجاجی مراسلہ بھی دیا گیا اور واضح کیا گیا کہ مذکورہ بیان سفارتی آداب و تعلقات کے خلاف ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سفارت کار کو آگاہ کیا گیا کہ کینیڈا کے رکن پارلیمنٹ ٹام کیچ کا پاکستان کے خلاف حالیہ بیان سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی اور انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے ایک کینیڈین رکن پارلیمنٹ نے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ کےخلاف بہت غلط ریمارکس دیئے تھے جس کے بعد پاکستان نے سخت احتجاج کا فیصلہ کیا ہے

  • مولانا عبدالواسع کی سربراہی میں آل پاکستان مائنز اینڈ منرلز ایسوسی ایشن کے وفد کی وزیراعظم سےملاقات

    مولانا عبدالواسع کی سربراہی میں آل پاکستان مائنز اینڈ منرلز ایسوسی ایشن کے وفد کی وزیراعظم سےملاقات

    اسلام آباد:وزیر اعظم شہباز شریف سے وزیربراۓ ہاؤسنگ اینڈ ورکس مولانا عبدالواسع کی سربراہی میں آل پاکستان مائنز اینڈ منرلز ایسوسی ایشن کے وفد نےملاقات کی ہے اورملاقات میں ملکی سطح پر اعلی کوالٹی کا کوئلہ، لوہا اور دیگر قیمتی معدنیات کی تلاش اور نکاسی کے نظام کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مختلف تجاویز زیر بحث آئیں۔

    وزیر اعظم نے اس مقصد کے حصول کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ہدایت کی، تاکہ بجلی کی پیداوار اور دیگر صنعتوں میں استعمال ہونے والے خام مال کا زیادہ سے زیادہ حصہ مقامی سطح پر پیدا کر کے ملک کا قیمتی زر مبادلہ بچایا جا سکے۔

    وزیر اعظم نے اس سلسلے میں تھر اور لاکھڑا میں موجود کوئلے کے ساتھ ساتھ میانوالی اور چنیوٹ میں دریافت شدہ لوہے کے ذخائر سے بھرپور استفادہ کرنے کی ہدایت کی۔

    وزیر اعظم نے ملک میں مائننگ سیکٹر کی ترقی کے لیے عملی تجاویز مرتب کر کے جلد از جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی، اور اس مقصد کے لیے وزارت خزانہ، وزارت توانائی، وزارت پٹرولیم، وزارت صنعت و پیداوار، فیڈرل بورڈ آف ریوینیو اور دیگر متعلقہ حکام کی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایات جاری کیں۔

    علاوہ ازیں وزیر اعظم نے تمام وفاقی وزارتوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مائننگ سیکٹر سمیت تمام شعبوں کے لیے اعلی تعلیم یافتہ ماہرین کی تلاش کے لیے وزیر مملکت براۓ پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی بنانے کا بھی حکم دیا۔

    ملاقات میں وزیر توانائی انجینئیرخرم دستگیر، وزیر اعظم کے مشیر احد چیمہ، وزیر مملکت براۓ پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک ، وزیر مملکت براۓ خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا ، چیرمین فیڈرل بورڈ آف ریوینیو عاصم احمد اور دیگراعلی سرکاری حکام نے شرکت کی،

    ادھر اج اس سے پہلے وزیر اعظم شہباز شریف سے شیخ عبدالعزیزحماد الجومعہ کی سربراہی میں کے-الیکٹرک کے وفد نے ملاقات کی ہے اورکے الیکٹرک کودرپیش مسائل اورترجیحات پرسیرحاصل گفتگو کی ہے

    ملاقات میں وزیر اعظم کو کے-الیکٹرک کے NEPRA سے متعلق دیرینہ حل طلب مسائل سے آگاہ کیا گیا، جن کے حل نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف کے-الیکٹریک اور حکومت پاکستان کا بھاری مالی نقصان ہو رہا ہے، بلکہ کراچی کے صارفین کو بجلی کی ارزاں نرخوں پر ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے۔

    وزیر اعظم نے اس سنگین لاپرواہی اور کاہلی پر گہرے دکھ کا اظہار کیا، اور اگلے 3 ماہ میں ان مسائل کا تمام فریقین کے لیے قابل قبول حل تلاش کرنے کے لیے شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں متعلقہ حکام کی کمیٹی بنانے کی ہدایت کی۔

    ملاقات میں رکن قومی اسمبلی شاہد خاقان عباسی، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، وزیر اعظم کے مشیر احد چیمہ، وزیر مملکت براۓ پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک، وزیر مملکت براۓ خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی

    ادھرکراچی والوں کے لئے بری خبر ہے کہ کے الیکٹرک نے بجلی 11 روپے 34 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست دیدی۔کے الیکٹرک کی جانب سے ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کرنے کی درخواست دائر کی ،نیپرا فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے بارے میں 4جولائی کو درخواست کی سماعت کریگا۔

    نیپرا درخواست کی سماعت کے بعد فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا حتمی فیصلہ کرے گا، اگر نیپرا کے الیکٹرک کی درخواست منظور کرلیتا ہے تو کراچی کے عوام کو 22ارب 65کروڑ روپےکا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

  • چین کو عالمی صنعتی چین سے باہر رکھنے کی کوشش امریکہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی:عالمی میڈیا

    چین کو عالمی صنعتی چین سے باہر رکھنے کی کوشش امریکہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی:عالمی میڈیا

    ایک طرف امریکہ چین پراقتصادی پابندیاں عائد کررہا ہے تو دوسری طرف امریکہ نے نام نہاد ویغور جبری مشقت کی روک تھام کے ایکٹ کے تحت، سنکیانگ سے ہر قسم کی مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ امریکہ کا یہ اقدام مارکیٹ اکانومی کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ امریکہ چین سے تجارتی امور میں “ڈیکپلنگ” چاہتا ہے، سنکیانگ اور یہاں تک کہ پورے چین کو عالمی صنعتی چین سے باہر کرنا چاہتا ہے، تاکہ چین کو کنٹرول کرنے کے لیے نام نہاد سنکیانگ کا استعمال کیا جا سکے۔

    ایک جرمن میڈیا نے تبصرہ کیا کہ امریکی سنکیانگ ایکٹ سے چینی صنعت پر تو زیادہ اثر نہیں پڑے گا مگر امریکی صنعت متاثر ہو گی۔ کچھ تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی کہ امریکی سیاست دانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ایکٹ عالمی صنعتی چین کی “ڈی-امریکنائزیشن” کی علامت بن جائے گا، جس کی منظوری خود امریکہ دے رہا ہے۔

    آج عالمگیریت کے دور میں، سنکیانگ کی مصنوعات اور خام مال دنیا کے کئی حصوں کو برآمد کیا جاتا ہے ، جو عالمی صنعتی چین کا احاطہ کرتے ہیں۔ سنکیانگ کے ویغور کارکن بھی بڑے پیمانے پر کاروباری اداروں کے پیداواری عمل میں شامل ہیں اور بہتر زندگی کے لیے کوشاں ہیں۔ امریکہ نے سنکیانگ کی مصنوعات کو خارج کرنے کی کوشش میں نام نہاد “جبری مشقت” کا جھوٹ گھڑا ہے جبکہ درحقیقت وہ خود کو عالمی منڈی سے الگ تھلگ کر رہا ہے۔

    تاریخی طور پر، امریکہ معاشی عالمگیریت کا بنیادی آغاز کنندہ اور اسے فروغ دینے والا رہا ہے، اور سب سے زیادہ فائدہ بھی امریکہ نے ہی اٹھایا ہے۔ تاہم اب کچھ امریکی سیاست دان معاشی عالمگیریت کے عمل کو منقطع کرتے ہوئے اسے تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ وقت ثابت کرے گا کہ دوسروں کا راستہ روکنے کی کوشش بلا آخر اپنا راستہ روکنے کے مترادف ہو گی ۔

  • معروف ترک عالم دین کا انتقال، عمران خان اورمولانا فضل الرحمان کا دکھ کا اظہار

    معروف ترک عالم دین کا انتقال، عمران خان اورمولانا فضل الرحمان کا دکھ کا اظہار

    لاہور: سابق وزیراعظم عمران خان اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے ترکیہ کے عالم دین شیخ محمود آفندی کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین نے لکھا کہ ترکیہ کے معروف عالم دین شیخ محمود آفندی کے انتقال کے بارے میں جان کرنہایت افسردہ ہوں۔

     

    عمران خان نے لکھا کہ انہوں نے نہایت کٹھن حالات میں دین و سنت کا احیاء کیا اور ترکی سمیت دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کو متاثر کیا۔ ان کا وصال امت کیلئے ایک عظیم نقصان ہے۔

     

     

    اُدھر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے لکھا کہ شیخ محمود آفندی کی وفات حسرت آیات ترکی کے لئے بالخصوص اور عالم اسلام کے لئے بالعموم نا قابل تلافی نقصان ہے، ترکی میں سلسلہ نقشبندیہ کے روح رواں تھے ۔ وہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد ترکی میں علوم اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کی علامت تھے ۔

     

    اس سے پہلے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی نے علامہ محمود آفندی رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال پراظہار تعزیت کرتےہوئے کہا ہے کہ موصوف عالم اسلام کی ایک بڑی شخصیت تھے

    تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ نے اپنے پیغام میں کہا ہےکہ پاکستانی قوم کی جانب سے اپنے ترک بھائیوں سے بالخصوص شیخ محمود آفندی سے وابستہ بھائیوں سے اظہار تعزیت کرتا ہوں، ان کا کہنا تھا کہ حضرت شیخ محمود آفندی رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ملت اسلامیہ کا عظیم نقصان ہے

    دوجسم یک جان ترکی اورپاکستان،تحریک خلافت سے لے کرقیام پاکستان تک،ترکی اورپاکستان

    علامہ سعد رضوی نے کہا ہےکہ شیخ محمود آفندی علیہ الرحمہ کے انتقال کی خبر سن کر پاکستان کے اہل علم طبقات میں سوگ کا سماں ہے، فضیلۃ الشیخ حضرت محمود آفندی عظیم عاشق رسول تھے، باعمل عالم دین تھے، بہترین پیر طریقت تھے،

    ان کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان سے وابستہ ہر عالم دین، استاد، مدرس، شیخ طریقت، اراکین اسمبلی، ذمہ داران کارکنان شیخ محمود آفندی کے لیے خوب خوب ایصال ثواب کا اہتمام کریں،

    عالم اسلام کے عظیم مصلح، صوفی مزاج اسلامی داعی اور متحرک رہنما شیخ محمود آفندی قضائے الٰہی سے وفات پاگئے ہیں اور ان کی وفات پرتعزیت کا سلسلہ جاری ہے ،

    محمود افندی (محمود استی عثمان اوغلو) 1929 میں ترکی کے صوبے ترابزون کے اوف نامی گاؤں کے ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے، جو کہ موجودہ ترک صدر اردگان کی جائے پیدائش "ریزے” سے متصل شہر ہے۔دینی ماحول میں پرورش ہوئی.. کم عمری میں قرآن مجید حفظ کر لیا.. شیخ تسبیحی زادہ سے نحو صرف اور دیگر علوم عربیہ کو حاصل کیا. پھر شیخ محمد راشد عاشق کوتلو آفندی کی خدمت میں رہ کر ان سے قراءت اور علوم قرآن کی تعلیم حاصل کی، بعدازاں شیخ محمود آفندی نے شیخ دورسون فوزی آفندی (مدرس مدرسہ سلیمانیہ )، سے دینیات، تفسیر، حدیث، ، فقہ اور اس کے ماخذ، علم کلام اور بلاغت اور دیگر قانونی علوم کی تعلیم حاصل کی۔ مذکورہ اساتذہ سے انھوں نے علوم عقلیہ ونقلیہ میں اجازت حاصل کی اس وقت وہ 16 سال کی عمر میں تھے۔

    شخ محمود آفندی نے روحانی سلسلہ نقشبندیہ کمشنماونیہ کی اجازت اپنے شیخ احمد آفندی مابسیونی سے حاصل کی ، یہاں تک اللہ تعالیٰ کی توفیق آپ کی زندگی میں ایک نیا موڑ آیا. فوجی خدمات انجام دینے کا وقت آپ کے لیے میسر ہوا، یہاں ایک نئے شیخ کے ساتھ اپنی عملی زندگی کو پروان چڑھا نے کا موقع ملا. ملٹری سروس کا مرحلہ ان کی زندگی کا ایک روشن صفحہ اور عملی زندگی کا ایک نیا باب تھا جس میں ان کی ملاقات ان کے شیخ اور مرشد علی حیدر اخسخوی سے ہوئی۔ان سے آپ نے بہت کچھ سیکھا اور ان علوم ومعارف اور روحانی کمالات حاصل کیے۔

    شیخ محمود آفندی نے لوگوں کی نماز کی امامت کی اور اپنے گاؤں کی مسجد میں طلباء کو پڑھایا۔انھوں نے سال میں 3ہفتے ترکی کے اطراف کا دعوتی و تبلیغی سفر کے لیے وقف کررکھا تھا ۔انھوں نے جرمنی اور امریکہ سمیت کئی ممالک کے دعوتی اور تعلیمی دورے کیے، پھر 1954 میں استنبول میں اسماعیل آغا مسجد کے امام مقرر ہوئے۔ 1996 میں ریٹائر ہونے تک وہیں رہے، اور وہ استنبول میں درس و تبلیغ کرتے رہے اور بہت سے طلباء اور مسترشدین کو اپنی طرف متوجہ کرتے رہے، بلکہ سچ یہ ہے کہ کہ لوگوں کی بڑی تعداد خود آپ کی طرف کشاں کشاں چلی آتی تھی۔

    نتیجتاً ایک عظیم فکری وعملی منہج قائم کرنے میں وہ کامیاب رہے، جس کی بنیاد دعوت الی اللہ ، احیاء سنت اور ریاستی حکام سمیت معاشرے کے تمام طبقات کی حق کی طرف رہنمائی تھی ، انھوں نے ایسا اسلوب پیش کیا جس میں حق اور باطل میں واضح فرق قائم ہوجائے۔

    استنبول میں 12 ستمبر 1980 کو پیش آنے والی دوسری بغاوت سے پہلے، اور اسّی کی دہائی کے اوائل میں ملک میں پیدا شدہ انتشار کے دوران دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان شیخ آفندی مضبوطی کے ساتھ یہ آواز بلند کر رہے تھے کہ ہماراقومی وملی فریضہ یہ ہے کہ ہم نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور ہمارا فرض لوگوں کو زندگی بخشنا ہے، انہیں مارنا نہیں۔

    شیخ آفندی کی فوج اور سیکولرازم کے ساتھ جد وجہد کی روشن تاریخ ہے۔ ترک عوام پر ان کے بہت زیادہ اثر و رسوخ کی وجہ سے، انہیں فوجی جرنیلوں اور ریپبلکنز (ریپبلکن پیپلز پارٹی) نے ہراساں کیا، خاص طور پر 1960 کی بغاوت اور ملک میں ہنگامی حالت میں داخل ہونے کے بعد،… فوجی انتظامیہ نے انہیں جلاوطنی کی سزا میں انھیں ترکی کے وسط میں واقع اسکی شہر بھیجنے کا فیصلہ کیا ، لیکن اس فیصلے پر عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی نہیں. کئی آپ کے جاں نثار اس راہ میں ڈٹ گئے. اس وقت استنبول کے مفتی صلاح الدین قیا ان دفاع کرنے والوں میں سب سے آگے تھے ۔

    1982 میں، محمود آفندی پراسکودر خطہ کے مفتی شیخ حسن علی اونال کے قتل میں ملوث ہونے کا بے بنیاد الزام لگایا گیا. ڈھائی سال کے بعد عدالت نے انہیں اس الزام سے بری کر دیا۔ 1985 میں انہیں ریاستی سلامتی کی عدالت میں ماخوذ کیا گیا کیونکہ ان پر الزام تھا کہ ان کی تقریر وبیان ملکی سلامتی اور سیکولر شناخت کے لیے خطرہ ہے لیکن عدالت نے اس معاملے میں بھی ان کی بے گناہی کا فیصلہ سنایا۔

    2007 میں استنبول کے Çavuşpaşa محلے میں شیخ محمود آفندی کی نئی رہائش گاہ کے قریب ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی جہاں قریب کے اسپتال میں وہ زیر علاج تھے ،اس طور پر انھیں قتل کرنے کی کوشش کی گئی ، لیکن جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ” کے مصداق انھیں کوئی چوٹ نہیں آئی۔

    ان کے اثر و رسوخ کا دائرہ کافی وسیع اور اس کے پیروکاروں کی تعدادکثیر ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عربی حروف میں پڑھنے لکھنے والے خال خال ہی نظر آتے تھے اور 40 سے 50 سال کا عرصہ ایسا بھی گذرا کہ قرآن پڑھنے والے کم ہی نظر آتے تھے.عربی میں اذان تک پر پابندی تھی .. لیکن شیخ کی کوششوں سے مختصر عرصہ میں ہزاروں کی تعداد میں حفاظ قرآن کریم تیار ہوئے ۔ اور دسیوں ہزار طلباء و طالبات کو اسلامی نہج پر تربیت دی گئی اور شیخ پوری دنیا میں لاکھوں لوگوں میں اسلامی بیداری پیدا کرنے کا ذریعہ بنے ۔(بعض معلومات الجزیرہ نیٹ ورک کے صحافی احمد درویش کی تحریر سے مستفاد ہیں.)

    جدید ترکی، اور معاشرہ کی اصلاح میں آفندی رحمۃ اللہ علیہ کا بڑا اہم رول رہا ہے، ایسے وقت میں جبکہ ترکی دہریت کی دہلیز پار کرچکا تھا، اسلامی شعائر کو پامال کیا جارہا تھا؛ تب :مردے از غیب بیرون آید؛ کے مطابق اس مردِ مصلح نے توحید واصلاح بلکہ اعلاء کلمۃ اللہ کا آوازہ بلند کیا. اسی وجہ سے انھیں بعض اہل علم ترکی کا مجدد بھی کہتے ہیں۔

    ترکی زبان میں آپ کی زبردست تفسير روح الفرقان عظیم علمی کارنامہ ہے۔ 2010 میں، 42 ممالک کے 350 اسکالرز ممتاز ماہر تعلیم کی موجودگی میں شیخ محمود آفندی نقشبندی کو انسانیت کی خدمت کے لیے بین الاقوامی سمپوزیم ایوارڈ سے نوازنے کا فیصلہ کیا گیا یہ ایوارڈ پیش کرنے کی تقریب میں شرکت کے لیے ہزاروں اسکالرز استنبول پہنچے۔ اکتوبر کو استنبول میں ان کے لیے ایک اعزازی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ 24، 2010، اور انہیں امام محمد بن قاسم النانوتوی ایوارڈ پیش کیاگیا. جو اسلامی دعوت کے میدان میں اپنا اثر چھوڑنے والی شخصیات کو دیا جانے والا ایوارڈ ہے۔یہ ایوارڈ بانی دارالعلوم دیوبند حجۃ الاسلام مولانا امام قاسم نانوتوی سے منسوب ہے ۔

    اس طور پر اس عظیم شخصیت کا عملی دارالعلوم دیوبند سے رشتہ بھی قائم ہوجاتا ہے.. روحانی وعلمی رشتہ تو پہلے سے قائم تھا۔نومبر 2018ترکی، استنبول کے سفر میں راقم السطور بندہ خالد نیموی کی خواہش تھی کہ حضرت والا سے ملاقات و زیارت کا شرف حاصل کر لیں، لیکن ان ایام میں شیخ علاج و معالجہ کی سخت نگہداشت کے مراحل سے گذر رہے تھے، جس کی وجہ سے ہم ان کی ملاقات کے شرف سے محروم رہے ۔یہاں تک کہ ان کی وفات کی خبر صاعقہ بن کر گری۔

  • ابوظہبی:ایمازون نے سب سے بڑا ڈیلوری اسٹیشن کھولنے کا اعلان کردیا

    ابوظہبی:ایمازون نے سب سے بڑا ڈیلوری اسٹیشن کھولنے کا اعلان کردیا

    ابوظہبی:ایمازون نے سب سے بڑا ڈیلوری اسٹیشن کھولنے کا اعلان کردیا،اطلاعات کے مطابق دنیا کے بڑے معاشی کاروباری ادارے ایمیزون نے جمعرات کو ابوظہبی میں اس جولائی میں ہونے والے پرائم ڈے ایونٹ کے لیے وقت کے ساتھ اپنے سب سے بڑے ڈیلیوری اسٹیشن کو کھولنے کا اعلان کیا ہے ۔

    عرب میڈیا کا کہنا ہےکہ 4,700 مربع میٹر کا جدید ترین ڈیلیوری سٹیشن ملک کا دوسرا سب سے بڑا ہے اور شہر بھر کے صارفین کو ایک ہی دن اور ایک دن کی ڈیلیوری فراہم کرتا ہے،صرف مقامی ہی نہیں بلکہ قریبی مضافاتی بیرونی علاقوں جیسے کہ السمھا، الشوامیخ، یاس اور سعدیات جزائر، بنی یاس اور الوتبہ کے شہریوں کو بھی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے

    نیا ڈیلیوری اسٹیشن سینکڑوں مکمل اور جز وقتی ملازمین کے لیے ہر قسم کے تجربے، تعلیم، پس منظر اور مہارتوں کے ساتھ ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا کررہا ہے ۔ ڈیلیوری سٹیشن ایسوسی ایٹس سے لے کر آپریشنز، ہیلتھ اینڈ سیفٹی، سپلائی چین ٹکنالوجی، اور تجزیات میں عہدوں تک، تمام ملازمین ایسے تربیتی پروگراموں کے لیے اہل ہیں جو مستقبل کا سامنا کرنے والے ای کامرس سیکٹر میں UAE کی صلاحیتوں کو نکھاریں گے۔ یہ اسٹیشن ملک میں ڈیلیوری سروس پارٹنرز کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔

    نئی سہولت کا آغاز گزشتہ سال نومبر میں ابوظہبی انویسٹمنٹ آفس (ADIO) کے ساتھ ایمازون کے اعلان کے بعد کیا گیا ہے، جس میں خطے میں اس کے سب سے زیادہ تکنیکی طور پر جدید ترین فلفلمنٹ سینٹر کے افتتاح کی تفصیل دی گئی ہے جو 2023 میں دارالحکومت میں ایک نئے دور کا آغازکرے گا۔ نیا فلفلمنٹ سینٹر اور ڈیلیوری اسٹیشن ابوظہبی کے جدید منصوبوں کے مطابق امارات میں جدت اور ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانے کے لیے ایمیزون کے عزم کو تقویت دیتا ہے۔

    ایمیزون مڈل ایسٹ اینڈ نارتھ افریقہ (MENA) کے نائب صدر، رونالڈو موچور نے کہا: "ایمیزون اپنے صارفین کی جانب سے ایسی خدمات پیش کرنے کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہے۔ ہمیں ابوظہبی انوسٹمنٹ آفس جیسے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر فخر ہے، جو ابوظہبی میں کاروبار اور ہنر کو ڈیجیٹل اکانومی میں بہتر بنانے کے قابل بنانے کے لیے جدید اور صحیح وسائل اور لاجسٹکس فراہم کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں‌۔ صارفین کو مصنوعات کو تیزی سے اور زیادہ آسانی سے فراہمی کے لیے وسیع ای کامرس ایکو سسٹم کو بااختیار بنا کر، ہم بالآخر تمام صارفین کے لیے خریداری کے تجربے کو بہتر بنا رہے ہیں۔”

    ADIO کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل انجینئر عبداللہ عبدالعزیز الشامسی نے کہا: "ایمازون اور ADIO کے درمیان شراکت داری ابوظہبی میں کاروبار کرنے میں آسانی اور امارات میں دستیاب طویل مدتی ترقی کے مواقع کی عکاسی کرتی ہے۔ Amazon اختراع میں پائیدار سرمایہ کاری کے لیے ہمارے وژن کی حمایت کرتا ہے اور خطے میں جدید ترین لاجسٹک ٹیکنالوجیز لا رہا ہے۔ ایمیزون کے نئے ڈیلیوری اسٹیشن اور 2023 میں منصوبہ تکمیلی مرکز کا افتتاح ابوظہبی کو ای کامرس اور لاجسٹکس کے ایک بڑے عالمی مرکز کے طور پر قائم کرے گا۔

    اس نئے منصوبے کی حوصلہ افزائی کے لیے ابوظہبی کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے، ڈیلیوری اسٹیشن ایمازون کی عالمی لاجسٹکس ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے کام کرتا ہے جو کمپنی کی 20 سال کی آپریشنل مہارت پر بنائی گئی ہیں۔ ایمیزون کا نیا ڈیلیوری اسٹیشن اسی دن اور ایک دن کی ترسیل کے اختیارات کے ذریعے اپنے صارفین کے لیے قابل اعتماد اور آسان ڈیلیوری کا تجربہ فراہم کرنے میں کمپنی کی مدد کرے گا۔

    ایمازون کے آپریشنز کے ڈائریکٹر پرشانت سرن کہتے ہیں کہ : "ابوظہبی کے نئے حالات کے مطابق ماحولیاتی نظام کے اندر بنایا گیا، ہمارا نیا ڈیلیوری اسٹیشن دارالحکومت میں لاجسٹکس اور سپلائی چین کے شعبے میں عالمی معیار کی آخری ٹکنالوجی لاتا ہے۔ اس سہولت پر ملازمتوں کی حد شہر کے ٹیلنٹ پول کو پروان چڑھانے اور انہیں ڈیجیٹل مستقبل کے لیے تیار کرنے میں مدد کرے گی جس کی طرف ابوظہبی آگے بڑھ رہا ہے۔

    ایمیزون کے 2040 تک پورے کاروبار میں خالص صفر کاربن ہونے کے عزم کے حصے کے طور پر، عمارت کو توانائی کی بچت کو اولین ترجیح کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ حرارت، وینٹیلیشن اور ایئر کنڈیشنگ کو ایک ڈیجیٹل بلڈنگ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے جو توانائی کے غیر ضروری استعمال کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ کام کرنے کے آرام دہ ماحول کو یقینی بناتا ہے۔ آج، متحدہ عرب امارات میں ایمیزون نیٹ ورک دو تکمیلی مراکز، تین ترتیب کے مراکز، آٹھ ڈیلیوری اسٹیشنز اور ڈیلیوری سروس پارٹنرز کے نیٹ ورک پر مشتمل ہے۔