Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پاکستان میں مشرق ڈیجیٹل بینک کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا

    پاکستان میں مشرق ڈیجیٹل بینک کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا

    متحدہ عرب امارات میں مشرق ڈیجیٹل بینک کا اکاؤنٹ رکھنے والے پاکستانی ،پاکستان میں مشرق ڈیجیٹل بینک میں اکاؤنٹ کھول کر مفت ترسیلات زر اپنے گھروں کو بھیچ سکیں گے۔

    پاکستان میں مشرق ڈیجیٹل بینک (mashreq digital bank) کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا، افتتاحی تقریب میں وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، مشرق گروپ کے چیئرمین عبدالعزیز الغریر، گروپ کے چیف ایگزیکٹو افسر احمد عبدالال اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے رہنما شریک ہوئے۔

    پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ظفر مسعود نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عبدالعزیز الغریر کی وژنری قیادت نے خطے کی بینکنگ کو نئی جہت دی ہے اور مشرق ڈیجیٹل بینک ملکی معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا،سینئر وائس چیئرمین پی بی اے یوسف حسین نے کہا کہ اسٹیٹ بینک ڈیجیٹل سہولیات فراہم کر رہا ہے اور الغریر گروپ کے منصوبے پاکستان میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں گے۔

    خصوصی افراد کو ڈرائیونگ کی تربیت اور لائسنس دینےکی ہدایت پر عملدرآمد شروع

    مشرق پاکستان کے سی ای او ہمایوں سجاد نے کہا کہ بینک کا ہدف ہے کہ یہ دنیا کے بہترین بینکوں میں شامل ہو، جب کہ یو اے ای میں مقیم پاکستانی اب آسانی سے اپنے ملک میں اکاؤنٹ کھول سکیں گے اور مفت ترسیلات بھجوا سکیں گے،گروپ سی ای او احمد عبدالال نے کہا کہ مشرق بینک اپنے صارفین کو ریئل ٹائم ڈیجیٹل تجربہ فراہم کرے گا اور پاکستان میں ڈیجیٹل انکلوژن کے سفر کو آگے بڑھائے گا۔

    اس موقع پر گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان میں فنانشل انکلوژن کو 2028 تک 67 فیصد تک لے جایا جائے گا، ڈیجیٹل بینکنگ لائسنس کے لیے 40 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 5 بینکوں کو اجازت دی گئی ہے اور ان میں مشرق بینک نے لانچنگ کر دی ہے،وزیرِ مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ مشرق بینک پاکستان میں 450 افراد کو روزگار فراہم کرے گا، جن میں 45 فیصد خواتین شامل ہیں۔

  • سعودی عرب کے بعد بڑے ممالک پاکستان سے اہم معاہدے کر سکتے ہیں

    سعودی عرب کے بعد بڑے ممالک پاکستان سے اہم معاہدے کر سکتے ہیں

    پاکستان اور سعودی عرب کے مابین اہم دفاعی معاہدہ عالمی اور قومی میڈیا پر زیر بحث ہے ۔

    معاہدے کے تحت پاکستان اور سعودی عرب بیرونی جارح کے خلاف ایک صف میں کھڑے ہوں گے، ایک کی سالمیت پر حملہ دوسرے کی سالمیت پر حملہ تصور ہوگا،معاہدے نے نہ صرف دونوں اسلامی برادر ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے کہ بلکہ خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی سیاسی اور دفاعی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے،اسی ضمن میں سوشل میڈیا پر بحث چل پڑی ہے کہ خطے کے دو بڑے ممالک ممکنہ طور پر پاکستان کے ساتھ اسی نوعیت کے اہم معاہدے کرنے جار ہے ہیں،دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان ممالک میں متحدہ عرب امارات اور قطر شامل ہیں۔

    https://x.com/TheDailyCPEC/status/1968549759762726982

    واضح رہے کہ وسطی ایشیائی اور عرب ریاستیں کا دفاع علاقائی اور عالمی طاقتوں سے مظبوط دفاعی تعاون سے جڑا ہے اور پاکستان نہ صرف اس خطے کی اہم دفاعی طاقت ہے بلکہ اسلامی دنیا کی واحد نوکلیئر پاور بھی ہےدوسری جانب پاکستان نے امسال مئی میں بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر خطے اپنی دفاعی برتری کا ٹھوس ثبوت بھی پیش کیا ہے۔

    سعودی عرب کے بعد کونسے بڑے ممالک پاکستان سے اہم معاہدے کر سکتے ہیں؟

    بھارت کا پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے پر ردِعمل جاری

    پاکستان اور سعودی عرب امن و سلامتی کے قیام کے لیے پرعزم ہیں،سعودی وزیرِ دفاع

  • پاکستان اور سعودی عرب امن و سلامتی کے قیام کے لیے پرعزم ہیں،سعودی وزیرِ دفاع

    پاکستان اور سعودی عرب امن و سلامتی کے قیام کے لیے پرعزم ہیں،سعودی وزیرِ دفاع

    سعودی وزیرِ دفاع خالد بن سلمان نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ طے ہونے کے بعد ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔

    سعودی وزیرِ دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان ہمیشہ کے لیے کسی بھی جارح کے خلاف متحد رہیں گے،دونوں برادر ممالک امن و سلامتی کے قیام کے لیے پرعزم ہیں اور ہر قسم کی جارحیت کا مل کر مقابلہ کریں گے۔

    واضح رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ’اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے‘ (SMDA) معاہدے پر دستخط کیے تھےاس معاہدے کی شقوں کے تحت کسی بھی ملک پر بیرونی مسلح حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، معاہدے پر دستخط دونوں ممالک کے گہرے دوطرفہ تعلقات اور سکیورٹی تعاون کی توثیق کرتے ہیں،وزیراعظم اور سعودی ولی عہد نے معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد ایک دوسرے کو گلے لگایا تھا اس موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔ پاکستان نے سعودی عرب کی ہر ممکن حفاظت کا عزم ظاہر کیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کا سرکاری دورہ مکمل کر کے لندن روانہ

    عمران خان کی ویڈیو لنک پیشی ،سخت ایس او پیز جاری

    پاک-سعودیہ معاہدے سے دہائیوں پرانی سیکیورٹی پارٹنرشپ بہت مضبوط ہوگی، روئٹرز

  • وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کا سرکاری دورہ مکمل کر کے لندن روانہ

    وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کا سرکاری دورہ مکمل کر کے لندن روانہ

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب کا سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد ریاض سے لندن روانہ ہوگئے۔

    ایئرپورٹ پر ریاض کے نائب گورنر عزت مآب محمد بن عبدالرحمٰن بن عبدالعزیز نے وزیراعظم کو رخصت کیا,وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی دعوت پر یہ دورہ کیا دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے مختلف پہلوؤں اور باہمی تعاون کے فروغ پر بات چیت کی گئی۔

    وزیراعظم نے سعودی عرب میں تاریخی استقبال پر سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ دعا ہے پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’ریاض کے سرکاری دورے پر عزیز بھائی، سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے دیے گئے پُرخلوص اور شاندار استقبال نے میرے دل کو چھو لیا،شاہی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی جانب سے میرے طیارے کو دیے گئے غیر معمولی حصار سے لے کر سعودی مسلح افواج کے دستے کی باوقار سلامی تک، یہ استقبالیہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان محبت اور باہمی احترام کا رشتہ کتنا گہرا اور دیرپا ہے‘۔

    انہوں نے کہا کہ آج ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ میری نہایت دوستانہ اور جامع گفتگو ہوئی جس میں خطے کے چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دو طرفہ تعاون کو بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا،میں دل سے ولی عہد کی اس بصیرت اور قیادت کو سراہتا ہوں جو وہ مسلم دنیا کو فراہم کر رہے ہیں، دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے، میں ولی عہد کی مستقل حمایت اور پاکستان و سعودی عرب کے درمیان سرمایہ کاری، تجارت اور کاروباری تعلقات کو وسعت دینے میں ان کی گہری دلچسپی کو بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں،میری دعا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے اور نئی بلندیوں کو چھوئے، ان شااللہ!۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک تاریخی دفاعی معاہدہ طے پایا ہے،پاکستان اور سعودی عرب نے کے درمیان ہونے والے اس اہم ’تزویراتی باہمی دفاعی معاہدہ‘ کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سلامتی تعاون کو مزید گہرا کرنا اور کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مشترکہ موقف اختیار کرنا ہےاس معاہدے کی رو سے اگر کسی نے ایک ملک پر حملہ کیا تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

    عمران خان کی ویڈیو لنک پیشی ،سخت ایس او پیز جاری

    معاہدے میں فوجی شراکت، دفاعی صلاحیتوں کی ترقی اور ممکنہ دشمنوں کے خلاف مشترکہ ردعمل جیسے نکات شامل ہیں،یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، خصوصاً قطر پر اسرائیلی فضائی حملوں اور فلسطین کی صورتحال کے بعد۔

    بھارت نے اس معاہدے پر محتاط ردعمل دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ علاقائی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم اس نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ سعودی عرب کے ساتھ اس کے تعلقات میں تبدیلی نہیں لائے گاپاکستان نے اس معاہدے کو دیرینہ دفاعی شراکت داری کی توسیع قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کسی خاص واقعے کا فوری ردعمل نہیں بلکہ ایک پالیسی فریم ورک ہے۔

    پاک-سعودیہ معاہدے سے دہائیوں پرانی سیکیورٹی پارٹنرشپ بہت مضبوط ہوگی، روئٹرز

    دوسری جانب سعودی عرب نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو بھی برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے تاکہ علاقائی توازن قائم رکھا جا سکے،مجموعی طور پر یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو ایک نئی جہت دے رہا ہے بلکہ خطے کی سیاست اور طاقت کے توازن پر بھی گہرے اثرات ڈالنے کا امکان ہے۔

  • پاک-سعودیہ معاہدے سے دہائیوں پرانی سیکیورٹی پارٹنرشپ بہت مضبوط ہوگی، روئٹرز

    پاک-سعودیہ معاہدے سے دہائیوں پرانی سیکیورٹی پارٹنرشپ بہت مضبوط ہوگی، روئٹرز

    خبر ایجنسی روئٹرز نے پاکستان اور سعودی عرب معاہدہ پر تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس معاہدے سے دہائیوں پرانی سیکیورٹی پارٹنرشپ بہت مضبوط ہوگی۔

    روئٹرز نے لکھا کہ یہ معاہدہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب خلیجی عرب ریاستیں امریکا کی سیکورٹی گارنٹی کی قابلِ اعتباریت پر شک کر رہی ہیں، خاص طور پر قطر پر اسرائیل کے حالیہ حملے کے بعد یہ خدشات مزید بڑھ گئے ہیں،سعودی حکام نے بتایا کہ یہ معاہدہ سالوں کی بات چیت کا نتیجہ ہے اور یہ کسی مخصوص ملک یا واقعے کے ردعمل میں نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے تعاون کو باقاعدہ شکل دینے کا اظہار ہے۔

    اس معاہدے کے تحت کسی بھی ملک کی طرف سے سعودی عرب یا پاکستان پر حملہ دونوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اس معاہدے پر دستخط کے بعد ایک دوسرے کو گلے لگایاتقریب میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے جو ملک کی سب سے طاقتور شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔

    سکھر بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب،گھروں میں پانی داخل،فصلیں تباہ

    سعودی حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کا جوہری ہتھیاروں کا تحفظ شامل ہے اور یہ معاہدہ دفاع کے تمام پہلوؤں کو شامل کرتا ہے تاہم سعودی عرب نے بھارت کے ساتھ اپنے مضبوط تعلقات کو بھی برقرار رکھنے کا عندیہ دیا، جس سے خطے کی پیچیدہ سیاسی صورتحال میں توازن قائم رکھنے کی کوشش کی جارہی ہےیہ معاہدہ خطے میں جاری تناؤ اور جنگ بندی کی کوششوں کے درمیان ایک اہم سنگ میل ہے، اور اس کا اثر خلیجی خطے کی سکیورٹی اور عالمی سطح پر سیاسی توازن پر گہرا پڑنے کی توقع ہے۔

    ارض حرمین شریفین کا دفاع، پاکستان علما کونسل کا کل بطور یوم تشکر و دعا منانے کا اعلان

  • پاکستان اور آئی اے ای اے کے درمیان جوہری تعاون بڑھانے کا معاہدہ

    پاکستان اور آئی اے ای اے کے درمیان جوہری تعاون بڑھانے کا معاہدہ

    پاکستان اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے درمیان 2026 تا 2031 کے لیے پانچواں کنٹری پروگرام فریم ورک طے پا گیا۔

    معاہدے پر دستخط آسٹریلیا کے دارالحکومت ویانا میں جاری آئی اے ای اے جنرل کانفرنس کے موقع پر کیے گئے۔پاکستان کی جانب سے چیئرمین پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن ڈاکٹر راجا علی رضا انور اور آئی اے ای اے کے محکمہ تکنیکی تعاون کے سربراہ ہوا لیو نے فریم ورک پر دستخط کیے۔رپورٹ کے مطابق یہ فریم ورک پاکستان کی قومی ترجیحات کا خاکہ پیش کرتا ہے، جن کے تحت جوہری سائنس و ٹیکنالوجی کو براہ راست سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ کئی دہائیوں پر محیط تعاون کا تسلسل ہے اور پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے، بین الاقوامی وعدوں اور پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) سے ہم آہنگ ہے۔

    اس میں تین تکنیکی تعاون کے ادوار شامل ہیں، جن کے اہم شعبے خوراک اور زراعت،انسانی صحت و غذائیت،ماحولیاتی تبدیلی اور آبی وسائل کا انتظام،جوہری توانائی،تابکاری اور جوہری تحفظ اور پاکستان کا عزم ہیں.چیئرمین پی اے ای سی ڈاکٹر راجا علی رضا انور نے اس موقع پر کہا کہ یہ فریم ورک پاکستان کے پرامن مقاصد کے لیے جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی کے عزم کا اعادہ ہے۔

    صائم ایوب صفر پر آؤٹ، شاہد آفریدی کا ریکارڈ برابر

    کشمیری حریت رہنما پروفیسر عبدالغنی بھٹ مرحوم کی زندگی پر ایک نظر

    چیئرمین پی ٹی اے کی برطرفی کے خلاف اپیل، کل سماعت ہوگی

    دورہ چین، صدر زرداری کا اُرومچی پہنچنے پر شاندار استقبال

  • پاکستان اور فلسطین کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کا اہم معاہدہ

    پاکستان اور فلسطین کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کا اہم معاہدہ

    اسلام آباد: پاکستان اور فلسطین کے درمیان صحت کے میدان میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

    اس مفاہمتی یادداشت پر پاکستان کی جانب سے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال جبکہ فلسطین کی جانب سے پاکستان میں تعینات فلسطینی سفیر نے دستخط کیے،تقریب میں وفاقی سیکرٹری صحت حامد یعقوب، ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ اور ڈی جی ہیلتھ بھی شریک تھے۔

    وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس موقع پر کہا کہ معاہدے پر مؤثر عمل درآمد کے لیے آئندہ 30 روز میں ’’پاکستان،فلسطین ہیلتھ ورکنگ گروپ‘‘ قائم کیا جائے گا، جو اس تعاون کو عملی شکل دینے کے لیے رہنمائی فراہم کرے گا،معاہدے کے تحت جدید طبی شعبہ جات میں استعداد کار بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

    آئی ایم ایف وفد کے دورہ پاکستان سے قبل شرائط پر کام جاری

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ،دونوں ممالک انٹروینشنل کارڈیالوجی، آرگن ٹرانسپلانٹ، آرتھوپیڈک سرجری، اینڈوسکوپک الٹراساؤنڈ، برن اینڈ پلاسٹک سرجری جیسے اہم شعبوں میں مل کر کام کریں گے اس کے علاوہ متعدی امراض، آنکھوں کے امراض اور دواسازی کے شعبے میں بھی تعاون کو فروغ دیا جائے گامشترکہ تحقیق کے مواقع تلاش کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی تاکہ صحت عامہ کے مسائل کا بہتر حل نکالا جا سکے۔

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اس معاہدے کا مقصد دونوں برادر ممالک کے عوام کے لیے بہتر صحت کی سہولیات کو یقینی بنانا ہےپاکستانی عوام کے دل فلسطین کے ساتھ دھڑکتے ہیں، ہم ان کی فلاح کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    فلسطین کے سفیر نے وزیر صحت اور پاکستانی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور پاکستان دونوں برادر ممالک ہیں اور وہ اپنے عوام کی صحت کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔

    اداکارہ سارہ عمیر نے شوہر سے طلاق کی تصدیق کردی

  • آئی ایم ایف وفد کے دورہ پاکستان سے قبل  شرائط  پر کام جاری

    آئی ایم ایف وفد کے دورہ پاکستان سے قبل شرائط پر کام جاری

    آئی ایم ایف مشن کے دورہ پاکستان سے قبل حکومت نے آئی ایم ایف کی 51 شرائط پوری کردیں اور بعض پر کام جاری ہے جب کہ پوری نہ ہونے والی شرائط کے سلسلے میں آئی ایم ایف سے پیشگی اجازت لی گئی ہے۔

    دستاویزات کے مطابق ششماہی بنیاد پر گیس ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی شرط پر عمل کیا جا چکا ہے، نئی ٹیکس چھوٹ یا استثنیٰ نہ دینے کی شرط بھی پوری کردی گئی ہے، آئی ایم ایف کی اجازت سے چینی کی سرکاری درآمد پرٹیکس چھوٹ دی گئی، بجٹ 26-2025 آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق پاس کیا گیا جب کہ بجٹ سے ہٹ کر اخراجات کی پارلیمنٹ سے منظوری کی شرط بھی پوری کی گئی ہے۔

    دستاویزات میں بتایا گیا ہےکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان فسکل پیکٹ کی شرط پر عمل کیا گیا، ڈسکوز اور جینکوز کی نجکاری کے لیے پالیسی اقدامات پر کام جاری ہے، 2035 تک خصوصی اقتصادی زونز پر مراعات ختم کرنے کی شرط پر عمل کیا گیا، سرکاری اداروں میں حکومتی عمل دخل میں کمی کی شرط میں پیشرفت ہوئی ،زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی کے لیے قانون سازی کی شرط پر عمل درآمد ہوگیا ہے، اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں کمپلائنس رسک مینجمنٹ سسٹم نافذ کیا گیا ہے، ہائی لیول پبلک آفیشلز کے اثاثوں کی ڈکلیئریشن سے متعلق قانون سازی میں پیشرفت ہوئی، انٹربینک اور اوپن مارکیٹ ریٹ کے درمیان 1.25 فیصد ایوریج پریمیئمم پر بھی عمل درآمد کیا گیا ہے-

    اداکارہ سارہ عمیر نے شوہر سے طلاق کی تصدیق کردی

    جبکہ،گورننس اینڈ کرپشن اسیسمنٹ رپورٹ کی اشاعت سمیت بعض شرائط پوری نہ ہوئیں، آئی ایم ایف نے پہلےجولائی اور پھر اگست 2025 کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی، گورننس اینڈ کرپشن اسیسمنٹ پر ایکشن پلان کی شرط پوری نہ ہونے پر آئی ایم ایف کا سخت رد عمل متوقع ہےصوبائی حکومتیں 1.2 ٹریلین کیش سرپلس کا ہدف پورا کرنے میں ناکام رہیں، ایف بی آر گزشتہ مالی سال 12.3 ٹریلین روپے کا ٹیکس ہدف پورا نہ کر سکا، ایف بی آر تاجر دوست اسکیم کے تحت 50 ارب روپے ٹیکس جمع کرنے میں بھی ناکام رہا جب کہ 10 حکومتی ملکیتی اداروں کے قوانین میں ترمیم کا ہدف بھی پورا نہ ہوسکا۔

    شادی والے دن لاپتا ہونے والے نوجوان کا بیان سامنے آگیا

  • پاکستان نے بھارت کے گمراہ کن پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا، عطا اللہ تارڑ

    پاکستان نے بھارت کے گمراہ کن پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا، عطا اللہ تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے لیے نہیں بلکہ دنیا کو محفوظ بنانے کے لیے ہے۔

    انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے گمراہ کن پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا، بھارت کی بلاجواز جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، جس پر بھارت نے جنگ بندی کی درخواست کی۔

    انہوں نے کہا کہ چار روزہ جنگ میں پاکستان نے فتوحات کی ایک نئی داستان رقم کی ہے مودی حکومت اور ہندوتوا نظریے کو عبرتناک شکست ہوئی بھارت ایک غاصب اور جارح ملک ہے جو مظلوم بننے کی کوشش کر رہا ہے پہلگام جیسے واقعات کی حقیقت دنیا کے سامنے آشکار ہو چکی ہےن پہلگام واقعے کے حوالے سے پاکستان نے آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں پائیدار امن کے لیے ہمیشہ اپنا موثر کردار ادا کیا ہے۔ ہماری دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دنیا کو محفوظ بنانے کے لیے ہے۔ بین الاقوامی اصولوں سے روگردانی کرنے والا بھارت مظلومیت کا ڈھونگ نہیں رچا سکتا۔

    عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ بھارت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اب کھیلوں کے میدان تک پہنچ چکا ہے عسکری میدان میں شکست کے بعد بھارت اب کھیل کے میدان میں اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے،پاکستان پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے، پاکستان نے خطے میں امن و استحکام کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ہے پاکستان کے لوگ اس تہذیب کا حصہ ہیں جہاں روایات کو اہمیت دی جاتی ہے،مقبوضہ کشمیر کے عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گےہم مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل چاہتے ہیں۔ پاکستان خطے میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

  • کھلاڑیوں کے پاکستانی ٹیم سے ہاتھ نہ ملانے کا تنازع، بھارتی بورڈ عہدیدارکا انوکھا جواز

    کھلاڑیوں کے پاکستانی ٹیم سے ہاتھ نہ ملانے کا تنازع، بھارتی بورڈ عہدیدارکا انوکھا جواز

    اتوار 14 ستمبر کو دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایشیا کپ کا اہم میچ کھیلا گیا جس میں بھارتی ٹیم نے اسپورٹس مین اسپرٹ کو مکمل طور پر نظر انداز کرڈالا،اب اس تنازع پر بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے سینئر عہدیدار نے بیان جاری کیاہے-

    بی سی سی آئی کے سینئر عہدیدار نے کہا کہ اس قسم کا کوئی قانون نہیں جو کھلاڑیوں کو زبردستی مخالف ٹیم سے ہاتھ ملانے پر مجبور کرے،دیکھیے اگر آپ کھیل کے قوانین کے حساب سے دیکھیں تو اس میں ایسا کچھ نہیں ہے کہ اپوزیشن سے ہاتھ ملانا ضروری ہے یہ ایک جذبہ خیر سگالی اور ایک طرح کا کنونشن ہے، قانون نہیں، جس پر دنیا بھر میں کھیلوں کے میدان میں عمل کیا جاتا ہے،اگر اس قسم کا کوئی قانون ہے ہی نہیں تو بھارت کرکٹ ٹیم کسی ایسی اپوزیشن سے ہاتھ ملانے کی پابند نہیں ہے جس کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہونے کی تاریخ رہی ہو۔

    بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام مسائل پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں، اسحاق ڈار

    واضح،رہےکہ،پاکستان کے خلاف اس میچ میں بھارت کو 7 وکٹوں سے کامیابی حاصل ہوئی لیکن بھارتی کپتان سوریا کمار نے ٹاس کے موقع پر پاکستان کے کپتان سے ہاتھ نہ ملایا جب کہ بھارتی ٹیم نے میچ ختم ہونے کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں سے روایت کے مطابق ہاتھ نہ ملایا،اس سے قبل چند روز پہلے دبئی اسٹیڈیم میں بھارتی کپتان سوریا کمار یادو نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی سے ہاتھ ملایا تھا جس پر بھارت میں انہیں کڑی تنقید اور سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔

    تقریروں سے آگے بڑھ کر واضح روڈ میپ دینا ہوگا،اسحاق ڈار