Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • تحریک انصاف کی کابینہ کےوزرا کےاثاثوں میں غیر معمولی اضافہ

    تحریک انصاف کی کابینہ کےوزرا کےاثاثوں میں غیر معمولی اضافہ

    لاہور:تحریک انصاف کی کابینہ کےوزراءکےاثاثوں میں غیر معمولی اضافہ،اطلاعات کے مطابق سماء نیوز کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ 5 برسوں کے دوران سابق پی ٹی آئی حکومت کے ایک درجن وفاقی وزراء کے اثاثوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزرا کی مجموعی اثاثوں کی مالیت 2015 میں 2 ارب 15 کروڑ روپے تھی جو 2020 میں بڑھ کر ساڑھے 5 ارب روپے ہوگئی، اس طرح ان کے مجموعی اثاثوں کی مالیت میں 150 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    کن وزراء کے اثاثوں میں اضافہ ہوا؟
    سماء کے انویسٹی گیشن یونٹ کی تحقیق کے مطابق تحریک انصاف حکومت کے جن سابق وزرا کے اثاثوں میں دن دگنی رات چوگنی اضافہ ہوا ، ان میں شاہ محمود قریشی، شیخ رشید، اعظم سواتی، عمر ایوب، خسرو بختیار، شفقت محمود، زبیدہ جلال، فہمیدہ مرزا، طارق چیمہ، صاحبزادہ سلطان اور فیصل واوڈا شامل ہیں۔

    کس کے اثاثے کتنے بڑھے؟
    سماء نیوز کی تحقیق کے مطابق 5 برسوں کے دوران سابق وزیر تعلیم شفقت محمود کے اثاثوں میں 308 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    شیخ رشید کے اثاثوں میں 282 فیصد، شاہ محمود قریشی کے اثاثوں میں 241 فیصد، عمر ایوب کے اثاثوں میں 203 فیصد، اعظم سواتی کے اثاثوں میں 202 فیصد جب کہ خسرو بختیار اور فہمیدہ مرزا کے اثاثوں میں 157 فیصد اضافہ ہوا۔اسی طرح صاحبزادہ سلطان کے اثاثوں میں 80 فیصد، طارق چیمہ کے اثاثوں میں 50 فیصد اور فیصل واوڈا کے اثاثوں میں 25 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    سابق وزرا کا موقف
    سماء نیوز نے ان وزراء کے 2014 سے 2020 کے درمیان الیکشن کمیشن کو جمع کرائے گئے اثاثوں کی تفصیلات کا موزانہ کیا ہے۔ تمام وزراء نے سماء انویسٹی گیشن کے سربراہ کو اثاثوں میں اضافے کی تصدیق کی ہے۔
    پی ٹی آئی دور کے کچھ سابق وزراء کا دعوِی ہے کہ ان کے اثاثے نہیں بڑھے بلکہ ان اثاثوں کی مالیت میں اضافہ ہوا ہے۔

    تین سابق وزرا سے جواب طلبی
    تین سابق وفاقی وزرا نے تصدیق کی ہے کہ انہیں الیکشن کمیشن کی جانب سے اثاثوں کے معاملات پر نوٹس بھی ملے ہیں۔

    شاہ محمود قریشی
    سابق وزیر خارجہ اور پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور ان کی اہلیہ کے مجموعی اثاثے 2014 میں 7 کروڑ 20 لاکھ روپے تھے، جو 2020 میں بڑھ کر 24کروڑ70 لاکھ روپے ہوگئے۔شاہ محمود قریشی نے اثاثے بڑھنے کی وجہ اہلیہ کو 2015 میں سسرال سے جائیداد کا حصہ ملنا بتایا ہے۔شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ انہوں نے الیکشن کمیشن کو اثاثوں سے متعلق اعتراض کا جواب دے دیا ہے۔

    عمر ایوب
    پی ٹی آئی کے دور حکومت میں مختلف وزارتوں پر رہنے والے عمر ایوب خان اور ان کی اہلیہ مجموعی اثاثے 2014 میں 46کروڑروپے تھے جو 2020 میں بڑھ کر 1 ارب 40 کروڑ روپے ہوگئے۔عمر ایوب خان کا کہنا ہے کہ ان کے اثاثے بزنس شیئرز اور کاروباری کمپنی سے حصہ آنے کی وجہ سے بڑھے ہیں۔سابق وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ انہوں نے الیکشن کمیشن کو اثاثوں سے متعلق اعتراض پر جواب دے دیا ہے۔

    اعظم سواتی
    سال 2015میں اعظم سواتی اور ان کی اہلیہ کے مجموعی اثاثوں کی مالیت 82 کروڑ روپے تھی جو 2020 میں بڑھ کر 2 ارب 40 لاکھ روپے ہوگئی۔سابق وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ ان کا پاکستان میں کوئی کاروبار نہیں اور اثاثے بڑھنے کی وجہ بھی بیرون ملک کاروبار ہے۔اعظم سواتی نے کہا کہ اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانے پر غلط فہمی ہوئی تھی، اب وہ ٹھیک کرلی ہے۔

    خسرو بختیار
    سابق وفاقی وزیر خسرو بختیار اور ان کی اہلیہ کے 2014 میں مجموعی اثاثے 13 کروڑ روپے تھے جو 2020 میں بڑھ کر 24 کروڑ روپے ہوگئے۔خسرو بختیار کا کہنا ہے کہ ان کے اثاثے زرعی کاروبار میں وسعت، زمین بیچنے اور بچت کی وجہ سے بڑھے۔

    شیخ رشید
    سال 2014 میں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے مجموعی اثاثوں کی مالیت 3 کروڑ 94 لاکھ روپے تھی جو 2019 میں 14 کروڑ 92 لاکھ روپے ہوگئی۔شیخ رشید کا کہنا ہے کہ ان کا کوئی کاروبار نہیں نہ ہی اثاثے بڑھے ہیں۔ان کے اثاثے زمین بیچنے سے بڑھے ہیں، انہوں نے 10 کروڑ روپے پیشگی وصول کیے ہیں۔

    شفقت محمود
    شفقت محمود اور ان کی اہلیہ 2013 میں 3 کروڑ 70 لاکھ روپے مالیت کے اثاثوں کے مالک تھے، 2019 میں دونوں کے اثاثے 15 کروڑ 10 لاکھ روپے ہوگئے۔سابق وزیر تعلیم کا کہنا ہے کہ ان کے اثاثے نہیں بڑھے بلکہ اثاثوں کی موجودہ مالیت ظاہر کی کی گئی ہے۔

    فہمیدہ مرزا
    تحریک انصاف کی سندھ سے اتحادی جماعت گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس سے تعلق رکھنے والی فہمیدہ مرزا اور ان کے شوہر ذوالفقار مرزا کے مجموعی اثاثے 2013 میں 6 کروڑ 50 لاکھ روپے تھے جو کہ 2019 میں بڑھ کر 16 کروڑ 40 لاکھ روپے ہوگئے۔فہمیدہ مرزا کا کہنا ہے کہ ان کے اثاثے غیرمعمولی نہیں بڑھے، انہوں نے برطانیہ میں گھر پاکستان میں جائیداد فروخت کرکے لیا ہے، نیا اثاثہ ایف بی آر اور الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے گوشواروں میں بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

    زبیدہ جلال
    بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والی زبیدہ جلال اور ان کے شوہر کے 2017 میں مجموعی اثاثے میں 90 لاکھ روپے تھے، 2019 میں ان کے اثاثوں کی مالیت 11 کروڑ 60 لاکھ روپے ہوگئی۔زبیدہ جلال کا کہنا تھا کہ ان کے اثاثوں میں کوئی بڑا فرق نہیں آیا، کاروبار ان کے شوہر کا ہے، پہلے اثاثوں اور کاروبار کی مجموعی قیمت نہیں بتائی تھی، بزنس میں اونچ نیچ رہنا بھی اثاثوں میں کمی بیشی دکھاتا ہے۔

    فیصل واوڈا
    سال 2017 میں فیصل واوڈا اور ان کی اہلیہ کے مجموعی اثاثوں کی مالیت 50 کروڑ 70 لاکھ روپے تھی جو کہ 2019 میں 63 کروڑ روپے سے زائد ہوگئے۔فیصل ووڈا نے اپنے اثاثوں میں اضافے کے حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔

    صاحبزادہ محبوب سلطان
    سال 2018 میں صاحبزادہ محبوب سلطان اور ان کی بیگم کے مجموعی اثاثے 12 کروڑ 60 لاکھ روپے تھے جو 2019 میں بڑھ کر 22 کروڑ 72 لاکھ روپے ہوگئے۔محبوب سلطان نے بھی اپنی جائیدادوں میں اضافے کا کوئی جواب نہیں دیا۔

    طارق چیمہ
    سال 2014 میں طارق چیمہ اور ان کی بیگم کے مجموعی اثاثے 7 کروڑ 30 لاکھ روپے تھے جو کہ 2019 میں بڑھ کر 11 کروڑ 20 لاکھ روپے ہوگئے۔ادھر یہ بھی معلوم ہواہے کہ طارق چیمہ نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔

  • موسمیاتی تبدیلی اب  قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکی ہے:شیری رحمان

    موسمیاتی تبدیلی اب قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکی ہے:شیری رحمان

    اسلام آباد:موسمیاتی تبدیلی اب قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکی ہے:اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر شیری رحمان نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب پاکستان کے لیے قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔

    موسمیاتی تبدیلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کا بحران بہت حقیقی ہے۔

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی نا صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کی بقاء کا معاملہ بن چکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک بھر میں ہیٹ ویو کی لہر چل رہی ہے، آنے میں دنوں میں سندھ اور پنجاب میں ہیٹ ویو کی لہر شدید ہوگی اور یہ ایک قومی معاملہ ہے، ہمیں ملکر اسکا حل نکالنا ہے۔

     

     

    انہوں نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے معاملے پر کمیونٹیز اور لوگوں کو بھی طریقہ زندگی تبدیل کرنا ہوگا، میٹ ڈپارٹمنٹ کو چاہئے کہ معمول کے مطابق وزارت ماحولیاتی تبدیلی سے ساتھ مراسلے اور معلومات شیئر کریں۔

    اجلاس کے دوران کمیٹی نے متفقہ طور پر گلافس کے اوپر خصوصی کمیٹی قائم کرنے کی تجویز پیش کی جو کہ وفاق اور صوبائی متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ اور نظام قائم کرے گی اور اس نظام کےتحت شسپر گلشئیر جیسے واقعات سے بہتر طریقے سے نبرد آزما ہوا جا سکے گا۔

    کمیٹی کی سربراہی صوبائی چیف سیکریٹری کرینگے جبکہ وزارت موسمیاتی تبدیلی معاون کا کردار ادا کریگی ۔
    کمیٹی باقاعدہ طور پر مفصل انتظامات اور بروقت معلومات فراہم کرنے کی پابند ہو گی اور ضلعی انتظامیہ اور مقامی اداروں کو بہتر طریقے سے موبلائز کریگی۔

  • آذر بائیجان کے ساتھ اپنی سدا بہار دوستی پر فخر ہے:اسپیکر قومی اسمبلی

    آذر بائیجان کے ساتھ اپنی سدا بہار دوستی پر فخر ہے:اسپیکر قومی اسمبلی

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کو آذر بائیجان کے ساتھ اپنی سدا بہار دوستی پر فخر ہے۔

    تفصیلات کے مطابق راجہ پرویز اشرف سے پاکستان میں تعینات آذر بائیجان کے سفیر خضر فرہادوف کی ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

    اسپیکر راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ پاکستان آذر بائیجان کے ساتھ اپنے خوشگوار برادرنہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، پاکستان کو آذر بائیجان کے ساتھ اپنی سدا بہار دوستی پر فخر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی پارلیمانوں میں مسلسل روابط کے فروع سے پاکستان اور آذر بائیجان کے مابین تعلقات کو مزید تقویت ملے گی، پاکستان اپنے ہمسایہ اور خطہ میں تمام ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تمام تصفیہ طلب معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے، مسئلہ کشمیر پر آذر بائیجان کی جانب سے عالمی اور علاقائی فورمز پر پاکستان کے موقف کی حمایت کی پاکستان قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

    اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان میں معاشی اور سماجی شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں، باکو یونیورسٹی میں شعبہ اردو کا قیام قابلِ ستائش ہے۔

    انہوں نے کہا کہ باکو یونیورسٹی شعبہ اردو کے قیام سے دونوں ممالک کی نوجوان نسل کو ایک دوسرے کی زبان، ثقافت، اور کلچرل سے آراستہ ہونے کا موقع ملے گا، پاکستانی یونیورسٹیوں میں آزر بائیجانی زبان اور اس کے بارے میں اسٹڈیز کے لیے شعبہ جات کا قیام دونوں ممالک کے عوام کو مزید قریب لائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبہ میں وسیع تر مواقع موجود ہیں جن میں تعاون کو بڑھایا جا سکتا ہے، آذر بائیجان میں منعقد ہونے والی پائیکو کانفرنس میں پاکستانی وفد بھرپور شرکت کرے گا۔

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے مزید کہا کہ پائیکو تنظیم ممبر ممالک کو مزید قریب لانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    آذر بائیجان کے سفیر نے راجہ پرویز اشرف کو اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہونے پر مبارکباد دی، ان کا کہنا تھا کہ آذر بائیجان پاکستان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے مابین دوستی کا رشتہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہو رہا ہے، پاکستان اور اس کے پارلیمان کی نگورنو کارابخ کے معاملہ پر حمایت پر شکر گزار ہے۔

    سفیر آذر بائیجان نے کہا کہ آذر بائیجان مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کی تائید کرتا اور اس مسئلے پر اپنی حمایت جاری رکھے گا، پاکستان کو اپنا اسٹریٹیجک شراکت دار سمجھتے ہیں، مسلم اُمہ کو در پیش چیلنجز کے حل کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہاتا ہوں۔

  • عمران خان کی اداروں پر تنقید کے بعد ایک پاکستانی کے عمران خان سے سوالات

    عمران خان کی اداروں پر تنقید کے بعد ایک پاکستانی کے عمران خان سے سوالات

    عمران خان کی اداروں پر تنقید کے بعد ایک پاکستانی کے عمران خان سوے سوالات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عمران خان حکومت سے گئے تو انہوں نے اداروں پر تنقید شروع کر دی

    پہلے کہتے تھے کہ عدم اعتماد لاؤ شکر ادا کروں گا، پھر خط لے آئے، سازش، دھمکی کا نعرہ لگایا اور پھر اداروں پر تنقید شروع کر دی ،اب اس حوالہ ایک پاکستانی نے عمران خان سے چند سوالات کئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ اگر آپ کو پتہ تھا کہ اپوزیشن حکومت گرانا چاہتی ہے کیا تب آپ نے یہ اطلاع کسی ایجنسی کو دی تھی؟اگر اپوزیشن حکومت گرانا چاہتی تھی تو فوجی ادارے اس کو کیسے روکتے؟آپ نے کہا کہ افغانستان میں سول وار ہو سکتی ہے تب آپ نے جنرل فیض کو چیف رکھنے پر اصرار کیا لیکن کوئی سول وار نہیں ہوئی کیا آپ تسلیم کرتےہیں کہ یہ خدشہ غلط تھا؟

    باہر کی۔سازش کے حوالےسے ہمارے سفیر کے مراسلے کے علاوہ بھی کوئی ثبوت ہے؟ اگر ہاں تو وہ عوام یا کسی عدالت میں پیش کریں گے؟کیا آپ پاکستان میں امریکی سفیر کی نقل و حرکت کو بھی سازش کا حصہ سمجھتے ہیں؟اگر ہاں تو اس کے خلاف آپ نے کیا اقدام اٹھائے مراسلے کی تحقیقات کروا کے اندرونی معاونت فراہم کرنےوالوں کے خلاف مقدمات کیوں نہ قائم کیے گیے؟کیا قومی سلامتی کی کمیٹی کے اجلاس کے اعلامیے سے آپ متفق تھے؟ اگر ہاں تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ امریکی مداخلت محض اس افسر کی گفتگو تک ہی محدود تھی؟اس اعلامیہ میں تحریک عدم اعتماد روکنے کا فیصلہ کیوں نہیں کیا گیا اور صرف امریکی سفیر کو بلا کر احتجاج ریکارڈ کرانے کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟کیا مراسلے کےحوالے سے آپ نے کسی ایجنسی یا کسی تحقیقاتی کو کوئی احکامات جاری کیے تھے؟جب اپوزیشن کی طرف سے بیرونی امداد یعنی رقوم لینے سے واقف تھے آپ نیب آئی بی ایف آئی اے سے تحقیقات کروا کر شواہد کیوں نہ سامنے لائے اور مقدمات کیوں نہ بنائے؟چلیں خط کو دیر سے عوام کے سامنے لانے کی وجوہات ہوں گی لیکن اس کی تحقیقات کرانے میں کیا امر مانع تھا؟

    جب آپ نیوٹرل کہتے ہیں تو کیا اس سے آپ کی مراد پاک فوج ہوتی ہے؟اگر آپ کو دو تہائی اکثریت ملی تو کیا آپ آئین میں کوئی ایسی ترمیم کریں گے جس کے بعد فوج کسی بھی سیاسی کشمکش میں غیر سیاسی رہنے کے بجائے اس پارٹی کا ساتھ دے گی جو حق پر ہو؟آپ کے خیال میں فوج آپ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب ہونے سے روک سکتی تھی؟ اگر ہاں تو کیسے؟ آپ نے بارہا کہا کہ اداروں کو نیوٹرل رہنا چاہیے اپنے اس سابقہ موقف سے آپ نے یوٹرن کیوں لیا؟ کیا مفاد پرستوں اور لوٹوں کو پارٹی ٹکٹ دینا پاک فوج کی غلطی تھی؟ آپ سے سیاسی اختلاف رکھنے پر ایک شخص کو آپ کے ایک کارکن نے قتل کر دیا کیا آپ اس قاتل کی سزائے موت کا مطالبہ کریں گے؟آپ نے بارہا کہا کہ جنرل باجوہ جمہوری سوچ رکھتے ہیں اور سب سے نیوٹرل جرنیل ہیں آج آپ ان کے نیوٹرل ہونے پر کیوں معترض ہیں؟اس وقت پاک فوج کے خلاف پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی مہم پی ٹی آئی چلا رہی ہے اس مہم کی بنیاد کچھ افواہیں ہیں ان میں سے کسی ایک افواہ کی بھی آپ نے کوئی تردید کیوں نہیں کی؟

    ان مفاد پرستوں اور لوٹوں کے بک جانے یا منحرف ہو جانے میں فوج کا کیا قصور یے؟کیا امریکا کےحوالے سے آپ کی پالیسی پر فوج نے کبھی اعتراض کیا یا آپ کی کوئی حکم عدولی کی تھی؟پاک فوج نے پاکستان کے دفاع کے لیے جو کردار ادا کیاہے کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ اچھے سپہ سالاروں یا جرنیلوں کے بغیر ممکن تھا؟آپ تسلیم کرتے ہیں کہ فوج نے ملک کو جوڑ کر رکھا ہے آپ کے خیال میں کیا پی ٹی آئی کارکنوں کی موجودہ فوج مخالف مہم سے فوج کی اس خصوصیت کو نقصان پہنچے گا؟کیا سیاسی فوائد حاصل کرنے کیلئے فوج پر تنقید کرنا درست ہے؟وزارت خارجہ آپ کے ماتحت تھی جب سفیر کا مراسلہ آیا تب کم از کم ایک ماہ آپ حکومت میں رہے اس دوران وزارت خارجہ کو اس امریکی دھمکی یا سازش پر آپ نے کیا احکامات جاری کئے؟کیا یہ سچ ہے کہ آپ کی حکومت کو شدید معاشی بحران سے نکالنے کے لیے جنرل باجوہ اور اس کی ٹیم نے سعودی عرب متحدہ عرب امارات اور قطر سے مذاکرات بھی کیے؟کیا ریکوڈک اور ترکی کا جرمانہ معاف کروانے میں واقعی پاک فوج نے بنیادی کردار ادا کیاتھا؟کیا یہ سچ ہے کہ جنرل باجوہ نے تین سال تک دفاعی بجٹ میں اضافہ محض اس لیے نہیں لیا تاکہ آپ معشیت کو آسانی سے سنبھال سکیں؟

    کیاپاک فوج آپ کےہر فیصلے کے ساتھ کھڑی نہیں رہی جس کی وجہ سے "ایک پیج” کی اصطلاح عام ہوئی؟فوج واحد ادارہ ہے جس پر بے خوف آپ کوئی بھی الزام لگا دیا جاتا ہے وہاں سے جواب نہیں آتا اور عوام بھی یقین کر لیتی ہے نتیجے میں چورن بک جاتا ہے کیا کسی بھی سیاسی جماعت کا فوج کے حوالے سے یہ طرز عمل درست ہے؟عدلیہ نے آپ کے خلاف فیصلہ دیا اپوزیشن آپ کے خلاف عدالت میں گئی لیکن تنقید فوج پہ کیوں؟جنرل باجوہ کو جو ایکسٹینشن آپ نے دی تھی کیا وہ ان کی خواہش پر دی گئی تھی؟کیا جنرل باجوہ نے کبھی آپ سے ایکسٹینشن مانگی؟کیا آپ کےاتحادیوں کے جانےسے پہلے پاک فوج کی طرف سے یہ پیشکش کی گئی تھی کہ ہم۔ثالثی کرتے ہیں دونوں طرف سے آپ نئے الیکشنز کی طرف جائیں کیونکہ آپ کے جیتنے کا زیادہ امکان ہے اور یہ سیاسی بحران بھی ختم۔ہو جائے گا؟اگر تھی تو تب آپ نے وہ پیشکش قبول کیوں نہ کی جس کا مطالبہ آپ اب کر رہے ہیں؟آپ کہتے ہیں کہ یہ پارٹیاں فوج کے خلاف اس لیے ہیں کہ یہ لوٹ مار کرتی ہیں تو فوج کو پتہ چل جاتا ہے آپ کی سوشل میڈیا ٹیمیں کیوں فوج کے خلاف ہیں؟ تحفظ ناموس رسالت کے قانون پر پہلے ہی مغرب کو اعتراضات ہیں کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس حوالے سے شیریں مزاری کا اقوام متحدہ سے رجوع کرنا درست ہے؟

    عمران خان کا فوج میں تقیسم کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا 

    سپاہی کبھی غدار نہیں ہوتا،افواج اور قیادت کو نشانہ بنانے پر ریٹائرڈ فوجی برہم

    کس ویڈیو کی آمد ہے کہ بنی گالا کانپ رہا ہے،احمد جواد

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی کے پیچھے کرپشن اور فارن فنڈنگ کیس کا خوف ہے،آصف زرداری

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

    موجودہ سیاسی صورتحال میں فوج پر بلا وجہ الزامات،بلاوجہ منفی پروپیگنڈہ

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

  • بابری مسجد کے بعد گیان واپی مسجد ہندووں کے نشانےپر:عدالت نے سروے کا حکم دے دیا

    بابری مسجد کے بعد گیان واپی مسجد ہندووں کے نشانےپر:عدالت نے سروے کا حکم دے دیا

    اترپردیش :وارانسی کی ایک عدالت نے جمعرات کو گیانواپی مسجد کے سروے کو مکمل کرنے اور 17 مئی تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم اس عرضی کی سماعت کے ایک دن بعد آیا ہے جس میں عدالت کے مقرر کردہ ایڈوکیٹ کمشنر کو ہٹانے کی درخواست کی گئی تھی جس میں سروے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ .

    درخواست گزاروں کے وکیلوں میں سے ایک، سبھاش نندن چترویدی نے کہا، "عدالت نے مکمل سروے کرنے اور کیس کی اگلی سماعت کی تاریخ 17 مئی کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔” عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ بہانہ بنا کر سروے میں تاخیر نہ کرے۔

    عدالت نے کہا کہ پرسوں سروے شروع ہونے کا امکان ہے۔ عدالت نے پورے گیان واپی کمپلیکس کے سروے کا حکم دیا ہے۔ مسجد اور اس کے تہہ خانے کا سروے کیا جائے گا،‘‘ وکیل نے کہا۔

    چترویدی نے مزید کہا، "عدالت نے انجمن انتفاضہ مسجد کمیٹی کی درخواست کو مسترد کر دیا جس میں ایڈوکیٹ کمشنر اجے کمار کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔” عدالت نے ایک اور وکیل وشال کمار سنگھ کو ایڈوکیٹ کمشنر مقرر کیا ہے۔ اجے پرتاپ سنگھ کو اسسٹنٹ ایڈوکیٹ کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔

    عدالت نے حکم دیا کہ ایڈوکیٹ کمشنر اجے کمار مشرا اور خصوصی ایڈوکیٹ کمشنر وشال سنگھ مشترکہ طور پر کمشنر کی کارروائی کریں گے۔ مشرا کے غیر حاضر ہونے کی صورت میں وشال سنگھ سروے کرنے کی کارروائی کریں گے۔ اگر سنگھ غیر حاضر ہیں تو اجے مشرا کریں گے۔

    اس سروے میں ویڈیو گرافی اور ماں شرنگر گوری اسٹال اور ملحقہ گیانواپی مسجد کے احاطے کا معائنہ شامل ہے۔

    درخواست گزاروں کے وکیل نے کہا کہ سروے کے دوران تمام فریقین موجود ہوں گے۔ 26 اپریل کو وارانسی میں سول جج روی کمار دیواکر کی عدالت نے ایڈوکیٹ کمشنر کے ذریعہ ماں شرینگر گوری استھال کی ویڈیو گرافی کا حکم دیا تھا اور ان سے 10 مئی کو عدالت میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کو کہا تھا۔

    یاد رہے کہ عدالت میں دائر درخواست میں یہ مؤقف اپنایا گیا تھا کہ مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے سنہ 1664 میں ’لارڈ وشوشار‘ نامی قدیم مندر کو تباہ کر کہ یہاں مسجد قائم کی تھی۔درخواست کے مطابق تباہ شدہ مندر کے مواد سے مسجد تعمیر کی گئی تھی۔

    عدالتی حکم نامے میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل سے پانچ اراکین پر مشتمل کمیٹی بنانے کو کہا گیا ہے جو مسجد کی تعمیر کے حوالے سے حقائق کا پتا لگائے گی۔

    عدالت کے مطابق کمیٹی کی تشکیل میں ایسے ماہرین شامل کیے جائیں جو آرکیالوجی کی سائنس پر مکمل عبور رکھتے ہوں، جن میں سے دو کا تعلق اقلیتی جماعت سے ہو۔عدالت نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ڈائریکٹر سے یہ بھی کہا ہے کہ کمیٹی کے مبصر کے طور پر کسی نامی گرامی سکالر یا ماہر تعلیم کو نامزد کیا جائے۔

    عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ آرکیالوجیکل سروے کا بنیادی مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا متنازعہ مقام پر موجود ’مذہبی عمارت‘ کسی دوسری مذہبی عمارت کے اوپر قائم کی گئی تھی یا یہ کسی بھی قسم کی رد و بدل کا نتیجہ ہے۔

    کمیٹی اس بات کا بھی پتا لگائے گی کہ کیا مسجد سے پہلے اس مقام پر کوئی ہندو مندر قائم تھا جس کی جگہ پر بعد میں مسجد قائم کی گئی ہو۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن آر شمشاد کے مطابق سنہ 1991 میں بنائے گئے قانون کے تحت مقدمے پر سماعت نہیں کی جا سکتی، تاہم مقدمہ خارج کر دیا جائے۔

    آر شمشاد نے بتایا کہ مقدمہ خارج کرنے کی درخواست عدالت میں دائر کی گئی تھی، اب معاملہ الہ آباد کی ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے کہ مقدمے پر سماعت کی جا سکتی ہے یا نہیں۔آر شمشاد نے مزید کہا کہ جب معاملہ الہ آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے تو اس صورتحال میں وارانسی کی عدالت کا مقدمے پر فیصلہ سنا دینا جائز نہیں ہے۔

  • بھارت:زندگی سے تنگ مسلمان ماہی گیروں کی موت کے لیے درخواست

    بھارت:زندگی سے تنگ مسلمان ماہی گیروں کی موت کے لیے درخواست

    گجرات:بھارتی ریاست گجرات کی ہائیکورٹ میں حال ہی میں تقریباً 600 مسلمان ماہی گیروں کی جانب سے قتل رحم کی ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ زندہ رہنا نہیں چاہتے اس لیے اُنہیں مرنے کی اجازت دی جائے۔

    بھارتی ریاست گجرات کے مسلم ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ اُنہیں مذہبی امتیاز کے باعث اس قدر سیاسی ظلم و ستم کا سامنا ہے کہ اب وہ جینا ہی نہیں چاہتے۔ واضح رہے کہ ان مسلمانوں کا تعلق عدم تشدد کی سوچ کے علمبردار مہاتما گاندھی کے آبائی وطن سے ہے۔

    یہ درخواست پوربندر کے ساحلی علاقے گوساباڑا میں رہنے والے سو مسلم ماہی گیروں کے خاندانوں کی نمائندگی کرنے والے مسلم فشرمین سوسائٹی کے سربراہ اللہ رکھا اسلام نے دائر کی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق گزشتہ ہفتے گجرات ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ مقامی حکومت مسلم کمیونٹی کو کوئی سہولیات فراہم نہیں کرتی جنہیں کام کرنے اور کچھ کمانے کی اجازت نہیں ہے۔ مسلم ماہی گیر خاندانوں کی معاشی صورتحال انتہائی حد تک خراب ہوچکی ہے۔ مسلم ماہی گیروں نے ریاستی وزیراعلیٰ اور گورنر تک بھی اپنی شکایت پہنچائی ہے تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود کسی نے بھی ان کی فریاد نہیں سنی۔

    اسماعیل بھائی کا الزام ہے کہ حکام مذہب کی بنیاد پر ان ماہی گیروں کے خاندانوں کو ہراساں کر رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہندو ماہی گیروں کو تمام سہولیات باقاعدگی سے فراہم کی جاتی ہیں لیکن لائسنس ہونے کے باوجود مسلم ماہی گیروں کو کام کرنے کی اجازت تک نہیں۔

    درخواست گزار کے وکیل دھرمیش گورجر نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ 2016ء سے گوساباڑی بندرگاہ میں کشتیوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد ہے اور مسلم ماہی گیروں کو لائسنس ہونے کے باوجود کام کرنے نہیں دیا جا رہا ہے۔

  • یوکرین جنگ کےباعث 48لاکھ یوکرینی ملازمتوں سےمحروم ہوچکے

    یوکرین جنگ کےباعث 48لاکھ یوکرینی ملازمتوں سےمحروم ہوچکے

    ماسکو:یوکرین جنگ کے باعث 48 لاکھ یوکرینی ملازمتوں سے محروم ہوچکے ،اطلاعات کے مطابق روس کی جانب سے رواں برس 24 فروری کو يوکرين پر کیے گئے فوجی آپریشن نے یوکرین کی معیشت کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ روسی فوجی آپریشن کی شروعات سے لے کر اب تک 48 لاکھ یوکرینی شہریوں کی ملازمتيں ختم ہو چکی ہيں۔

    یہ تعداد يوکرين ميں کل ملازمتوں کا تيس فيصد ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی یوکرین میں 48 لاکھ افراد کے بے روزگار ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    ملازمتوں اور کارکنان کے حوالے سے کام کرنے والی عالمی تنظیم انٹرنيشنل ليبر آرگنائزيشن (آئی ايل او) نے يوکرين ميں جنگ کے اثرات پر پہلی مرتبہ باقاعدہ رپورٹ جاری کی ہے۔

    انٹرنيشنل ليبر آرگنائزيشن کا یوکرین جنگ کے بارے ميں کہنا ہے کہ اقتصادی رکاوٹوں اور بڑے پيمانے پر لوگوں کے بے گھر ہونے اور پناہ گزين بننے سے روزگار کی مارکیٹس اور خاندانوں کی مجموعی آمدن بری طرح متاثر ہو رہی ہيں۔

    آئی ایل او کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق اب تک 50 لاکھ سے زائد یوکرینی خواتین، بچے، بوڑھے اور مرد پڑوسی اور دیگر ممالک میں پناہ لے چکے ہیں جن میں سے تقریباً 27 لاکھ کے قریب وہ جواں عمر افراد ہیں جو ملازمت کرنے والے ہیں۔ اِن میں سے 43.5 فيصد یعنی تقریباً 12 لاکھ افراد جنگ کے باعث اپنی ملازمتوں سے محروم ہو چکے ہیں۔

    انٹرنيشنل ليبر آرگنائزيشن کی اس رپورٹ کے مطابق اگر یوکرین میں جاری جنگ فوری طور پر رک جاتی ہے تو 34 لاکھ ملازمتيں واپس بحال ہو سکتی ہيں جس سے بے روزگاری کی مجموعی شرح 8.9 فيصد ہو گی۔ دوسری جانب اگر جنگ جاری رہتی ہے تو 70 لاکھ تک ملازمتيں ختم ہونے کا امکان ہے جس سے یوکرین میں بے روزگاری کی شرح 43.5 فيصد تک کی خطرناک سطح پر پہنچ سکتی ہے۔

  • بھارت:تاج محل کے پیچھے پڑے انتہاپسند بی جے پی رہنماؤں کا نیا دعوٰی

    بھارت:تاج محل کے پیچھے پڑے انتہاپسند بی جے پی رہنماؤں کا نیا دعوٰی

    نئی دہلی :تاج محل کےپیچھے پڑے انتہاپسند بی جے پی رہنماؤں کانیادعوٰی،اطلاعات کے مطابق بھارت کی انتہا پسند حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے جنونی رہنما جو عرصے سے تاج محل پر اپنی ملکیت جتانے کے دعوے کرتے رہے ہیں، اب اس زمین کا نیا وارث کھوج لائے ہیں۔

    بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکن پارلیمنٹ دیا کماری نے دعوٰی کیا ہے کہ جس زمین پر تاج محل تعمیر کیا گیا وہ اس سے قبل جے پور کے شاہی خاندان کی ملکیت تھی جو مغل بادشاہ شاہجہاں نے ان سے لے لی تھی اور اُن کے پاس اِس کے کاغذات موجود ہیں۔ دیا کماری خود بھی جے پور کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔

    خیال رہے کہ چند روز قبل ہی الہ آباد کی عدالت میں پٹیشن دائر کی گئی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تاج محل میں بنے 20 کمرے کھولے جائیں تاکہ اُن میں ہندو مورتیوں کی ممکنہ موجودگی کی جانچ کی جا سکے۔ یہ پٹیشن بھی بی جے پی کے ہی ایک ضلعی میڈیا انچارج راجنیش سنگھ کی جانب سے 4 مئی کو دائر کی گئی تھی۔

    بی جے پی رکن پارلیمنٹ دیا کماری نے راجنیش سنگھ کی پٹیشن کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاج محل کی تاریخ کے حوالے سے حقائق سامنے لائے جانے چاہئیں، عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ تاج محل کے بند کمروں میں کیا ہے۔

    دیا کماری نے کہا کہ کیس عدالت میں ہے، تاج محل کی زمین اُن کی ہے یا نہیں اِس بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتیں کیونکہ اُنہیں نہیں معلوم کہ اُس وقت کیا حالات تھے تاہم اگر عدالت چاہے تو وہ کاغذات دی سکتی ہیں۔

    دیا کماری یہ بھی کہتی ہیں کہ چونکہ اس وقت عدلیہ نہیں تھی، کوئی اپیل دائر نہیں کی جا سکتی تھی اس لیے اب ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد صورتحال واضح ہو سکتی ہے۔

  • پاکستان میں سری لنکا جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں،شیخ رشید

    پاکستان میں سری لنکا جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں،شیخ رشید

    وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ خاں نے شیخ رشید کو ترکی بہ ترکی جواب دیا ہے اور کہا ہے کہ ملک میں دوجھوٹے ہیں، ایک عمران خان اور دوسرا پنڈی کا شیطان آئی ایم ایف سے معاہدہ عمران خان نے کیا، اس کی مذمت کریں جس نے قوم کو اس حالت میں پہنچایا

    رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ڈالر کو بے لگام کرنے کا ذمہ دار عمران خان ہے چپڑاسی بنی گالہ میں سوتے باس کو جگا دیتا تو اسے ٹی وی سے ڈالر کی قیمت بڑھنے کا معلوم نہ ہوتا عمران خان کے ارسطو کو پکڑیں جو معیشت کو لفٹ پر اوپر لیجاتے لیجاتے موت کی دہلیز پر لے گیا عوام کو مہنگائی میں ڈبونے والا عمران خان ہے معیشت کے قاتل آج مظلوم بننے کا ناٹک کررہے ہیں صرف معیشت ہی نہیں جھوٹ کی سیاست کو بھی ٹھیک کریں گے

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ڈالر 200 روپے تک پہنچے گا تو پاکستان میں سری لنکا جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ الیکشن کے لیے یہ لوگ کیا اصلاحات چاہتے ہیں ؟ کیا یہ اصلاحات چاہتے ہیں کہ ایف آئی کے کیسز ختم ہو جائیں۔

    بحران زدہ سری لنکا نے قرض نادہندہ ہونے کا اعلان کر دیا

    انہوں نے کہا کہ یہ چاہتے ہیں کہ اوورسیز کو ووٹ کے حق سے محروم کیا جائے اور اگر اوورسیز پیسے بھیجنا بند کر دیں تو ملک ویسے ہی بند ہو جائے گا 31 مئی تک حالات کا فیصلہ ہو گا جبکہ عمران خان انتخابات کے علاوہ کوئی اور بات نہیں کریں گے۔

    قبل ازیں اپنے ایک بیان میں سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بیرونی سازش سے مسلط کرپٹ لوگوں کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے، یہ امپورٹڈ حکومت نامنظورہے، کل مردان جارہا ہوں ،باقی باتیں جلسے میں کروں گا۔

    سابق وزیراعظم عمران خان نے 13 مئی کو مردان جلسے کے حوالے سے پیغام میں کہا ہے کہ اہلِ مردان!ہمارا مقصد ایک ہے کہ ہم غیرت مند قوم ہیں۔ ایک بیرونی سازش کے نتیجے میں کرپٹ لوگوں کو ہم پر مسلط کیا گیا۔

    سری لنکا میں پر تشدد جھڑپیں: 5 ہلاک، 190 سے زائد زخمی، مستعفی وزیراعظم کا گھر نذر…

    ہم بیرونی سازش کے نتیجے میں خود پر مسلط ہونے والے کرپٹ لوگوں کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔یہ امپورٹڈ حکومت نامنظور ہے۔13 مئی کو شام بجے میں مردان آپ کے پاس آرہا ہوں۔مزید گفتگو انشاءاللہ 13 مئی کی شام کو مردان میں آپ لوگوں کے مابین پہنچ کر کروں گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کی قدر مزید کم ہو گئی تھی جس کے بعد انٹر بینک میں ڈالر 190 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 191.50 روپے کی سطح بھی عبور کر گیا تھا-

    انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں 1.34 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا جس سے ڈالر کی قدر 188 روپے سے بڑھ کر 190 روپے کی سطح پر آگئی تھی مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں 2 روپے کے اضافے سے ڈالر کی قیمت خرید 188.50 روپے سے بڑھ کر 191.50 روپے پر جاپہنچی۔

    عوامی دباؤ: سری لنکن وزیراعظم نے استعفیٰ دیدیا

  • آئین شکن عناصرسےقانون کےمطابق نمٹاجائیگا۔نوازشریف کی زیرصدارت فیصلہ

    آئین شکن عناصرسےقانون کےمطابق نمٹاجائیگا۔نوازشریف کی زیرصدارت فیصلہ

    لندن :آئین شکن عناصرسےقانون کےمطابق نمٹاجائیگا۔اس حوالے سے یہ فیصلہ میاں نوازشریف کی قیادت میں کیا گیا ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ قائد محمد نوازشریف کی زیرصدارت پارٹی قیادت کے اہم مشاورتی اجلاس کی پہلی نشست آج ہوئی

    ادھر اس حوالے سے موجودہ حکومت کو ورثے میں ملنے والے سنگین معاشی، آئینی اور انتظامی بحرانوں پرقائد محمد نوازشریف کوتفصیلی بریفنگ دی گئی،حکومتی ٹیم نے موجودہ معاشی حقائق سے قائد محمد نوازشریف کو آگاہ کیا

    حکومتی ٹیم نے بتایا کہ عوام کو مہنگائی کے اضافی مزید بوجھ سے بچانے کے لئے پٹرول کی قیمت میں اضافہ نہیں کیاگیا،توانائی کے شعبے میں سابق حکومت کے پیدا کردہ سنگین بحران، لوڈشیڈنگ، تیل اور ایل این جی نہ منگوانے کی تفصیلات بیان کی گئیں

    اجلاس نے مہنگائی، لوڈشیڈنگ سے عوام کو نجات دلانے اور ریلیف کی فراہمی سے متعلق مختلف سفارشات پر غور کیا،اجلاس نے حکومت آنے کے بعد سے اب تک کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا ،حکومتی ٹیم نے معاشی حقائق کی روشنی میں مستقبل کے اقدامات کے بارے میں اپنی آراءپیش کیں

    اجلاس نے ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی تفصیلی غوروخوض کیا ،اجلاس نے 3 اپریل سے اب تک آئین شکنی کےاقدامات کا جائزہ لیا،اجلاس میں اتفاق رائے پایاگیا کہ آئین شکن عناصر کو آئین اور قانون کے مطابق نمٹا جائے ،آئین شکن عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لئے مختلف تجاویز پر مشاورت ہوئی

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ قائد محمد نوازشریف کی زیرصدارت حتمی فیصلوں کے لئے کل پھر اجلاس ہوگا،کل کے اجلاس میں ملک اور عوام کو بحران سے نکالنے کے لئے حکمت عملی کی منظوری دی جائے گی ،ملک کو معاشی، آئینی بحرانوں سے نکالنے کے لئے کل حتمی فیصلوں کا اعلان ہوگا،تمام فیصلوں کا اعلان اتحادی جماعتوں کی تائید و حمایت سے کیا جائے گا