Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • انسانی معاشرے میں طاقتور اور کمزور کے لیے قانون برابر ہوتا ہے،عمران خان

    انسانی معاشرے میں طاقتور اور کمزور کے لیے قانون برابر ہوتا ہے،عمران خان

    پشاور: پاکستان میں ہمارے اوپر امپورٹڈ حکومت مسلط کی گئی ہے، امپورٹڈ حکومت رہ جاتی ہے تو یقین سے کہتا ہوں ادارے تباہ ہوجائیں گے-

    باغی ٹی وی : چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے وکلا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنگل اور انسانی معاشرے کے قانون میں فرق ہوتاہے،جنگل کے قانون میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہوتی ہے،انسانی معاشرے میں طاقتور اور کمزور کے لیے قانون برابر ہوتا ہے-

    بھارت روس سے کتنا تیل لے رہا؟ تحریک انصاف کے پروپیگنڈے کی حقیقت سامنے آ گئی

    عمران خان نےکہا کہ پاکستان میں ہمارے اوپر امپورٹڈ حکومت مسلط کی گئی ہے امپورٹڈ حکومت رہ جاتی ہے تو یقین سے کہتا ہوں ادارے تباہ ہوجائیں گے،ان لوگوں نے اقتدار میں آکر ایف آئی اے میں افسران کےتبادلے کردیئے کرپشن کے کیسز میں ملوث باپ کو وزیراعظم اور بیٹے کو وزیراعلیٰ بنادیاگیا-

    نوازشریف حکومت کی مدت پوری کرنے پر مان گئے،قانون شکنی پر گرفتاریوں کا فیصلہ

    انہوں نےکہا کہ پرامن احتجاج ہمارا جمہوری حق ہے،حکومت احتجاج کو روکنے کیلئے تمام حربے استعمال کررہی ہے، ان لوگوں کے پاس واحد راستہ ہے کہ الیکشن کی تاریخ کا اعلان کریں،پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ عوام نے کرناہے،انسانی معاشرے میں طاقتور اور کمزور کیلئےقانون برابرہوتا ہے پاکستان کےاندورنی معاملات میں بھر پورمداخلت کی گئی-

    عمران خان کی پالیسیاں ناکام ، کارکردگی صفر تھی ،مولانا اکبر چترالی

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے، چاہتا ہوں 25 مئی کو وکلا ہمارے ساتھ آگے ہوں۔

    عثمان بزدار نے سیمنٹ فیکٹری کے 16 لائسنس بیچے،مفتاح اسماعیل کا دعویٰ

  • چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال دنیا کی 100 بااثرشخصیات میں شامل

    چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال دنیا کی 100 بااثرشخصیات میں شامل

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال دنیا کی 100 بااثرشخصیات میں شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی : امریکی جریدے ٹائم میگزین نے 5 سے زائد شعبوں سے تعلق رکھنے والے دنیا کے 100 بااثر ترین افراد کی فہرست جاری کر دی ہے۔

    چیف جسٹس آف پاکستان کا ٹائم میگزین میں تعارف اعتزاز احسن نے لکھا کہ ملک میں مالی اور معاشی بحران کے دوران سابق حکومت کے خاتمے اور نئی حکومت کی تشکیل میں بڑھتے سیاسی درجہ حرارت میں کمی میں نرم خو جسٹس عمر عطا بندیال نے اہم کردار ادا کیا۔

    کولمبیا اور کیمبرج سے تعلیم یافتہ قانون دان اپنی ذاتی دیانت داری کے لئے بڑے پیمانے پر قابل احترام سمجھے جاتے ہیں۔

    اپریل کے اوائل میں، بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کے وزیر اعظم خان کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم قرار دے دیا۔

    چیف جسٹس پاکستان کے فیصلوں کو تسلیم کرتے ہوئے اعتزازا حسن کا کہنا ہے کہ "جب دوسرے ادارے آنے والے انتخابات سے پہلے فائدے کی جنگ لڑ رہے ہیں، عدالت حتمی ثالث کے طور پر سامنے آئی۔”

    فہرست میں سیاست دانوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جن میں زیادہ سربراہان مملکت ہیں جیسے جوبائیڈن، شی جن پنگ، ولادیمیر پوٹن، وولودیمیر زیلنسکی اور احمد ابے شامل ہیں۔

    جسٹس عمر عطا بندیال 17 ستمبر 1958 کو لاہور میں پیدا ہوئے، انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کوہاٹ، راولپنڈی، پشاور، اور لاہور سے حاصل کی، جبکہ کولمبیا یونیورسٹی سے معیشت میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی بعد ازاں انہوں نے کیمبرج سے لا ٹرائپوس ڈگری حاصل کی اور لندن کے معروف لنکنز ان میں بطور برسٹر خدمات انجام دیں 1983 میں آپ بطور ایڈوکیٹ لاہور ہائی کورٹ کی فہرست میں شامل ہوئے اور کچھ سالوں بعد بطور ایڈوکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان خدمات انجام دیں۔

    لاہور میں اپنی پریکٹس کے دوراب جسٹس بندیال نے عموماً کمرشل بینکنگ، ٹیکس اینڈ پراپرٹی کے معلامات حل کیے، جسٹس 1993 کے بعد جسٹس عہدے پر فائز ہونے تک آپ نے بین الاقوامی تجارتی تنازعات کو بھی سنبھالا جسٹس عمر بندیال سپریم کورٹ اور لندن اور پیرس کی متعدد بین الاقوامی عدالتوں میں بطور ثالثی بھی پیش ہوچکے ہیں۔

    جسٹس عمر بندیال کو 4 دسمبر 2004 کو لاہور ہائی کورٹ کے جج طور پر مقرر کیا گیا تھا ان کا شمار ان ججوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نومبر 2007 کے پروویژنل کونسٹی ٹیوشن آرڈر (پی سی او) کے حلف لینے سے انکار کردیا تھا، اس وقت 3 نومبر 2007 کو جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی تھی تاہم عدالت کی بحالی کے سلسلے میں وکلا تحریک کے نتیجے میں انہیں جج کے عہدے پر بحال کردیا گیا تھا۔

    بعد ازاں جسٹس عمر بندیال نے دو سال کےلیے بطور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ خدمات انجام دیں جبکہ جون 2014 میں ان کا تقررسپریم کورٹ میں کردیا گیا اعلیٰ عدلیہ میں اپنے کریئر کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے سرکاری اور نجی قانون کے مسائل پر کئی اہم فیصلے سنائے، ان میں دیوانی اور تجارتی تنازعات، آئینی حقوق اور مفاد عامہ کے معاملات شامل ہیں۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے 1987 تک پنجاب یونیورسٹی لا کالج لاہور میں کنٹریکٹ لا اور ٹارٹس لا بھی پڑھایا اور لاہور ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے اس کی گریجویٹ اسٹڈیز کمیٹی کے رکن رہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کےنام سے فیک اکاؤنٹ بنا کر بالی ووڈ اداکارہ کی تعریف کرنے والا شخص گرفتار

    وزیراعظم شہباز شریف کےنام سے فیک اکاؤنٹ بنا کر بالی ووڈ اداکارہ کی تعریف کرنے والا شخص گرفتار

    ممبئی: بالی ووڈ کی معروف اداکارہ کنگنا رناوت کی جانب سے انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ایک اسٹوری سوشل میڈیا پر زیر گردش ہے-

    باغی ٹی وی : کنگنا رناوت کی جانب سے شئیر کی گئی اس اسٹوری میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے کئے گئے ایک پیغام کا اسکرین شاٹ شیئر کیا گیا ہے جو سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔

    اس پیغام میں وزیراعظم پاکستان شہبازشریف کی جانب سے بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت کی صلاحیتوں کو خاصا سراہا گیا ہے اور ان کی آنے والی فلم دھاکڑ میں ان کی بہترین کارکردگی کے لئے تعریف کی گئی ہے-

    اس اسٹوری نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کی کیا مشکل ملکی صورتحال سے نبردآزما وزیراعظم پاکستان کے پاس اتنی فرصت ہے وہ بھارتی اداکارہ کی پرفارمنس دیکھیں اورسوشل میڈیا پلیٹ فارم پر تعریف بھی کریں؟

    لیکن اداکارہ کی جانب سے شئیر کئے گئے اسکرین شارٹ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شہبازشریف کے نام سے اس مصدقہ اکاؤنٹ کا ہینڈل ‘رمیزراجہ لائیو’ لکھا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ایک فیک اکاؤنٹ ہے-


    تاہم ڈیجیٹل میڈیا کے لیے وزیراعظم کے فوکل پرسن ابوبکرعمرنے بھی ٹوئٹ کی جس میں انہوں نے مذکورہ اکاؤنٹ کے فیک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے وضاحت کی کہ کنگنا کے اسکرین شاٹ میں نظرآنے والا یہ جعلی اکاؤنٹ ہے نہ کہ اصلی۔


    تاہم وزیراعظم کے نام سے منسوب کیا جانے والا یہ جعلی اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا ہے جبکہ شہباز شریف کےفوکل پرسن ابوبکر نے اپنے حالیہ ٹوئٹ میں انکشاف کیا ہے کہ جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹ بنانے والے ’رمیز راجہ لائیو‘ نامی ٹوئٹر صارف کو ٹریس کر کے اسے گرفتار کر لیا گیا ہےاور اس کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا جاچکا ہے۔

  • عمران خان ڈر گئے ۔۔؟؟ ||  لانگ مارچ کا مستقبل کیا ؟ مبشر لقمان کا بڑا دعویٰ ؟

    عمران خان ڈر گئے ۔۔؟؟ || لانگ مارچ کا مستقبل کیا ؟ مبشر لقمان کا بڑا دعویٰ ؟

    لاہور:عمران خان ڈر گئے ۔۔؟؟ || لانگ مارچ کا مستقبل کیا ہوگا اس حوالے سے تجزیہ کرتے ہوئے سینیئرصحافی مبشرلقمان نے کہا ہے کہ وہ پچھلے کئی دنوں سے اس ملک میں صورت حال کو بڑی تیزی سے بدلتا ہوا دیکھ رہے ہیں،مبشرلقمان نے سابق وزیراعظم عمران خان کی طرف سے لانگ مارچ کے حوالے سے کچھ حقائق بیان کیے تو کچھ خدشات

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ آج عمران خان نے لانگ مارچ کا اعلان کرکے ملک میں ایک بے چینی کی کفیت پیدا کردی ہے، ان کایہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ اس لانگ مارچ سے وہ اپنے مطالبات منوا لیں گے تو شاید یہ ان کی بھول ہے، اب وہ ماضی کے دھرنے کی صورت حال نہیں ہے ، اب فضا ان کے خلاف ہے اور ان کے خلاف تیرہ جماعتی پی ڈی ایم اتحاد کی حکومت ہے

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ عمران خان کی طرف سے اعلان کے ساتھ حکومت نے بھی سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے ، مریم اورنگزیب نے کہا ہےکہ وہ خونی مارچ کو نہیں ہونے دیں گی ، رانا ثنااللہ بھی اپنے ارادوں سے اگاہ کرچکے ہیں

    مبشرلقمان کا کہنا ہےکہ اس موقت ملک ی صورت حال بڑی خراب ہے، معاشی دیوالیہ نکلا ہوا ہے اورعمران خان نے کہا ہےکہ وہ روس سے پٹرول اورگندم لے کرملک کی عوامکو ریلیف دینے کا سوچ رہے تھے کہ حکومت گرادی گئی ، امریکہ نے براہ راست سازش کرکے میری حکومت گرا کرملک 22 کروڑ عوام کی توہین کی ہے

     

    ان کا کہنا تھا کہ خان صاحب بتائیں کہ وہ انڈیا کی مثال دیتے ہیں انڈیا کے تو ریزور ہی بہت زیادہ ہیں اورہمارے پاس تو ریزور ہی نہیں تو کیسے ہم یہ کرسکتے تھے ، کیسےخام تیل کو ریفائن کرسکتے تھے ہمارے پاس تو ریفائنری ہے نہیں ،پھرروس سے معاہدے کرنے کے بعد پے منٹ کس طرح کرنی تھی جبکہ روس کے بینکوں پر پابندی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ایک بار پھراپنے موقف میں تبدیلی لے آئے ہیں‌

    مبشرلقمان نے کہا کہ عمران خان کا خیال ہے کہ وہ پشاور سے بہت بڑا جلوس لے کراسلام آباد آئیں گے ،ٹھیک ہے لیکن حکومت کس انداز سے سلوک کرتی ہے اس نے بھی منصوبہ بنا رکھا ، پھربنی گالہ اس دفعہ نہیں جاسکیں گے وہیں رکنا پڑے گا ،موسم بہتر رہے گا لیکن اگریہ مارچ طوالت اختیار کرگیا تو پھرستائیس مئی کے بعد توسخت گرمی ہے، پھرکیسے سامنا کرپائیں گے ، مبشرلقمان نے کہا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات ہورہے ہیں اور امید ہے کہ صورت حال بہتر ہوجائے گی

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اس مارچ کو کامیاب کرنے کے لیے فنڈریزنگ کی اپیل کی ہے اور یہ توممکن ہےکہ خان کے وفادار فنڈریزنگ تو ہر صورت کریں‌گے،الیکشن کمیشن کے ھوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر کے ساتھ ساتھ نیب کے چیئرمین کی تبدیلی اوراپنی مرضی کا بندہ لانےکےلیے کوشاں ہوں گے یہ بھی آسان نہیں ، اپنے دور میں‌تو الیکشن کمیشن کا عملہ ہی پورا نہیں کرسکے تو اب کیسے یہ کرلیں گے

    مبشرلقمان نے کہا کہ بس دعا ہےکہ اللہ تعالیٰ ہمیں کسی سانحے اور حادثےسے محفوظ رکھے اورپاکستان کو ازمائش سے نکالے ، ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کیا رنگ لاتا ہے ، اس کے بارے میں حتمی تو کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن یہ امکان ہےکہ یہ لانگ مارچ ناکام ہوجائے اور عمران خان کو ناکامی کا سامنا کرنے پڑے

  • پی کے8303حادثہ؛ انویسٹی گیشن بورڈ کاطیارہ حادثے سے متعلق عبوری بیان جاری

    پی کے8303حادثہ؛ انویسٹی گیشن بورڈ کاطیارہ حادثے سے متعلق عبوری بیان جاری

    کراچی:پی کے 8303حادثہ؛ انویسٹی گیشن بورڈ کاطیارہ حادثے سے متعلق عبوری بیان جاری ،اطلاعات کے مطابق شہر قائد میں ایئرپورٹ کے گرکرتباہ ہونے والے مسافر بردار طیارے کے حادثے کوآج دوسال مکمل ہوگئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 کے جہاز حادثے کا معاملے پر پاکستان ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ (اے اے آئی بی) نے طیارے حادثے سے متعلق عبوری بیان جاری کردیاہے۔بیان کے مطابق پی کے 8303 حادثے سے متعلق مزید شواہد اکھٹے کرنے کے لیے اے اے آئی بی کی ٹیم نے پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کراچی ولاہور دفاترکے دورے کیے۔

    عالمگیروبا کورونا کی وجہ سے جہازحادثے کی تحقیقات سے متعلق اے اے آئی بی ٹیم کا جنوری 2022 میں کیے جانے والا فرانس کا دورہ ملتوی ہوا۔ تاہم، تحقیقاتی ٹیم نے مارچ 2022 میں فرانس پہنچ کرفرانسیسی ماہرین کی ٹیم اورانجن بنانے والی کمپنی کے ماہرین کے ساتھ سیشن کیے۔

    فرانسیسی ماہرین کے ساتھ ہونے والے ان سیشنزمیں حتمی تحقیقات سے متعلق تبادلہ خیال کیاگیا۔ اے اے آئی بی نے فرانسیسی ماہرین سے ٹیکنیکل سیشنز میں پی آئی اے طیارہ حادثے سے متعلق مختلف پہلوؤں پرتفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    بیان میں بتایا گیا ہے کہ اے اے آئی بی ٹیم کی طرف سے کچھ اضافی معلومات اور انجینئرنگ سیمیولیشنزکی درخواست کی گئی تھی، جس میں سے زیادہ ترمعلومات موصول ہو چکی ہیں۔ فرانسیسی ماہرین کی طرف سے موصول ہونے والی تحقیقات کے نتائج اورسفارشات رپورٹس کے ساتھ جمع کی گئی اوراب ان معلومات کا تجزیہ جاری ہے۔

    اے اے آئی بی کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ پی آئی اے کی پروازپی کے 8303 حادثے کی تحقیقات کا حتمی مسودہ جلد ہی مکمل ہونے کا امکان ہے۔ حتمی رپورٹ جاری کرنے سے قبل جائزے کے لیے انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے رکن ممالک کے تحقیقاتی بورڈزکو بھیجی جائے گی۔جس کے بعد جہازحادثے کی حتمی رپورٹ کا مسودہ پبلک کرنے کے لیے حکومت پاکستان کو بھیج دیا جائے گا۔

    یاد رہےکہ 22 مئی 2020 کو پی آئی اے کی لاہورسے کراچی آنے والی پروازپی کے 8303 دوپہر2 بج کر 40 منٹ پرایئرپورٹ کے نزدیک رہائشی علاقے ماڈل کالونی میں گرکرتباہ ہوگئی تھی۔

    حادثے کا شکارہونےوالے ایئربس 320 کا رجسٹریشن نمبر AP-BLD تھا، جہاز پر عملے کے ارکان سیمت 99 افراد سوار تھے جن میں دو خوش نصیب افراد زندہ بچ گئے تھے جب کہ 97 افراد جان بحق ہوگئے تھے۔

  • "نگران حکومت کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل،مختصر کابینہ بنے گی:کامران خان کا دعویٰ

    "نگران حکومت کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل،مختصر کابینہ بنے گی:کامران خان کا دعویٰ

    کراچی:اینکر پرسن کامران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ نگران حکومت کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہیں، آئندہ ہفتہ تبدیلیوں کا ہوگا۔

    اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کامران خان نے کہا کہ جو پاکستانی ملک کے مستقبل کے حوالے سے فکر مند ہیں انہیں مزید انتظار نہیں کرنا ہوگا، آئندہ ہفتہ تبدیلیوں کا ہوگا اور جمود کا خاتمہ ہوگا، جن سخت فیصلوں کی پاکستان کو ضرورت ہے وہ ہوں گے، زرداری شہباز حکومت پہلے ہی ہاتھ کھڑے کر چکی ہے، ان کی حکومت کے 40روز ملک پر قیامت بن کر گزرے،

     

     

     

    سینیئرصحافی کامران خان کہتے ہیں کہ اس حکومت کی ساری کوشش یہ رہی کہ اس حکومت کے بڑوں کے خلاف نیب اور کرپشن کیسز ختم ہوجائیں لیکن سپریم کورٹ نے بروقت مداخلت کرکے مذموم کاوش ناکام بنادی، معیشت سدھارنے کیلئے جن اقدامات کی ضرورت تھی وہ نواز شریف نے مسترد کردیے۔

     

     

    انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کی تیاری آخری مراحل میں ہے ، عبدالحفیظ شیخ اور ڈاکٹر رضا باقر جیسے ماہرین پر مشتمل ایک مختصر کابینہ ہوگی جس کو فوج اور سپریم کورٹ کی مکمل حمایت حاصل ہوگی، نگران حکومت کو فوری طور پر سخت فیصلے کرنے ہوں گے، پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا جس سے مہنگائی بڑھے گی۔

     

     

    کامران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نگران حکومت کے قیام سے کچھ عرصے کیلئے سیاست میں دھماچوکڑی ختم ہوگی، معیشت درست ٹریک پر آجائے گی اور الیکشن پھر ہوتے رہیں گے ، ویسے بھی الیکشن نے کب پاکستانیوں کو سکون دیا ہے۔

  • ایشیا کپ کی میزبانی کے لیے سری لنکا کی حالت اچھی نہیں،صدر بنگلادیش کرکٹ بورڈ

    ایشیا کپ کی میزبانی کے لیے سری لنکا کی حالت اچھی نہیں،صدر بنگلادیش کرکٹ بورڈ

    ڈھاکہ :ایشیا کپ کی میزبانی کے لیے سری لنکا کی حالت اچھی نہیں،اطلاعات کے مطابق 2022 کا ایشیا کپ اگست میں سری لنکا میں ہونا ہے تاہم ملک میں سیاسی بحران اور عدم استحکام کی وجہ سے سری لنکا کو ہائی پروفائل ٹورنامنٹ کی میزبانی سے انکار کیے جانے کا امکان ہے۔

    تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے صدر نظم الحسن نے صورتحال پیدا ہونے پر ایشیا کپ کی میزبانی پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

    ایشیا کپ کی میزبانی کے ہنگامی منصوبے کے حصے کے طور پر تیاریوں کے بارے میں، نظم الحسن نے کہا کہ بنگلہ دیش میں مارکی ایونٹ کے انعقاد پر بات کرنے کا یہ صحیح وقت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ سری لنکا مشکل وقت سے گزر رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ان کے بورڈ کی حالت بھی اچھی نہیں ہے۔

    بی سی بی کے صدر نے کہا کہ وقت سب کچھ بتائے گا، مجھے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی)] کے صدر سے ملاقات کے لیے بھارت جانا تھا مجھے نہیں لگتا کہ اس کے بارے میں بات کرنے کا یہ صحیح وقت ہے لیکن اگر مقام تبدیل ہوتا ہے تو بنگلہ دیش پہلا انتخاب ہوگا۔

    واضح رہے کہ ایشیا کپ 27 اگست سے شروع ہونے والا ہے اور اس میں ٹورنامنٹ کے کوالیفائر کے بعد پانچ ٹیسٹ ٹیمیں شامل ہوں گی، مقام میں تبدیلی کی صورت میں شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

    ایشیا کپ کا 2022 ایڈیشن آسٹریلیا میں اکتوبر نومبر میں ہونے والے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ہوگا۔

    یاد رہے کہ ایشیا کپ کا آخری ایڈیشن 2018 میں ہوا تھا اور آئی سی سی 2019 ورلڈ کپ کی وجہ سے ون ڈے فارمیٹ میں تھا جو کہ انگلینڈ میں منعقد ہوا تھا۔پچھلے ایشیا کپ میں بھارت نے بنگلہ دیش کو سنسنی خیز مقابلے میں شکست دے کر ایشیا کپ جیتا تھا۔

  • عمران خان مکھیاں مارنے کے لیے اسلام آباد آئیں گے: فضل الرحمان

    عمران خان مکھیاں مارنے کے لیے اسلام آباد آئیں گے: فضل الرحمان

    پشاور:جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عمران خان کے لانگ مارچ کی اہمیت دو پیسے کی نہیں ، یہ مکھیاں مارنے کے لیے اسلام آباد آئیں گے۔

    پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ ملک دیوالیہ ہو نہیں رہا بلکہ ہوچکا ہے، عمران خان کے معاشی ماہرین نے کہا تھا ڈالر 200 تک جائے گا، یہ ان ہی کی پالیسیوں کا تسلسل ہے، مشکل وقت میں سیاستدانوں اور اداروں کو ایک صفحے پر ہونا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھاکہ عمران خان کے لانگ مارچ کی اہمیت دو پیسے کی نہیں ، یہ مکھیاں مارنے کے لیے اسلام آباد آئیں گے، کسی کا دماغ خراب ہے جو لانگ مارچ میں آئے گا؟ جو لانگ مارچ ہم نے کیے کسی کا باپ بھی ریکارڈ نہیں توڑ سکتا۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ سب سے بڑا چیلنج ہے ملک کو کیسے اٹھایا جائے؟ 4 سال کی خرابی چار دن میں پورا کرنے کی بات کی جا رہی ہے، ملک کو دوبارہ اٹھانا بہت بڑا چیلنج ہے، ہمیں عوامی سپورٹ چاہیے۔خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 25 مئی کو اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کردیا

  • اداروں کے خلاف تنقید ۔ایمان مزاری پر مقدمے کی درخواست

    اداروں کے خلاف تنقید ۔ایمان مزاری پر مقدمے کی درخواست

    کراچی :اداروں کے خلاف تنقید ۔ایمان مزاری پر مقدمے کی درخواست،اطلاعات کےمطابق سابق وفاقی وزیرشیریں مزاری کی گرفتاری پرسخت احتجاج اوراداروں کے خلافتنقید ،شہری نے مقدمے کی درخواست دے دی ،یہ درخواست کراچی میں دی گئی

    تفصیلات کے مطابق کراچی کے ایک رہایشی فرحان عباس نے پولیس اسٹیش میں درخواست جمع کرواتے ہوئے کہا ہے ہے ایمان مزاری نے قومی اداروں کےخلاف سخت تنقید کی ہے اوربرابھلا کہا ہے، فرحان عباس نے تیموریہ پولیس اسٹیشن میں درخواست جمع کرواتے ہوئے کہاہے کہ ایک جگہ سے گزررہے تھے کہ اس دوران اس نے ایک ٹی وی پرایمان مزاری کوملک کے مقتدر اداروں اور ان کے ذمہ دارون کے بارے میں سخت جملے کہے ہیں

     

     

    فرحان عباس نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ قومی اداروں اور ان کےذمہ داروں کے خلاف تنقید ان اداروں کی توہین اورشخصیات کی توہین ہے اس لیے ایمان مزاری کے خلاف کارروائی کرے قرار واقعی سزا دی جائے

    یاد رہے کہ اس سے پہلے اینکرعمران ریاض خان ارشد شریف، صابرشاکر اور سمیع ابراہیم پر مقدمات درج کرائےگئے۔

    ان مقدمات میں تعزیرات ِپاکستان کی دفعات 34، 131، 153 499اور 505شامل کی گئی ہیں، دونوں مقدمات میں شامل دفعات ملک مخالف مہم چلانے، اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی سمیت اس جیسے دیگرجرائم سے متعلق ہیں۔

    ۔ مندرجہ بالا دفعات کے تحت ارشد شریف اور صابر شاکر پر دادو، مٹیاری اور کوئٹہ میں بھی کئی مقدمات درج کیے گئے ہیں،

  • عمران خان نے اپنے دور اقتدار میں مخالفین کو دیوار سے لگایا: شہباز شریف

    عمران خان نے اپنے دور اقتدار میں مخالفین کو دیوار سے لگایا: شہباز شریف

    لاہور: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پی کے ایل آئی کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز کو بحال کر دیا، عمران خان کے پتھر دل کی وجہ سے ہسپتال کے3 سال ضائع ہوگئے، عمران خان نے اپنے دور اقتدار میں مخالفین کو دیوار سے لگایا، قوم ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والوں کو معاف نہیں کرے گی۔

    پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پی کے ایل آئی غریب کےعلاج کیلئے بنایا گیا تھا، گزشتہ سالوں میں ہسپتال کو نقصان پہنچایا گیا، 50 فیصد مریضوں کا مفت علاج ہوگا، بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین کو بحال کر دیا گیا ہے، نرسنگ یونیورسٹی کو ایک سال میں مکمل کیا جائے گا، ورلڈ کلاس نرسنگ یونیورسٹی بنائی جائے گی۔

    شہباز شریف نے مزید کہا کہ نیب الٹا ہوگیا، ایک دھیلے کی کرپشن نہیں نکال سکے، عمران خان نے اقتدار میں اپنے مخالفین کو دیوار سے لگایا، ایک ماہ میں میرا پی کے ایل آئی کا تیسرا دورہ ہے، ہسپتال کی اربوں روپے کی جدید ترین مشینری بند پڑی رہی، عمران خان نے عوام سے جھوٹے وعدے کیے، کسی کو ایک گھر اور نوکری نہیں ملی، عمران نیازی کو کردار کشی کے علاوہ فرصت نہیں تھی۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ رمضان میں سستا آٹا اور چینی فراہم کی گئی، نئے پاکستان کی بات کرنیوالے نے عوام کو ایک سبسڈی نہیں دی، عمران نیازی کو قوم معاف نہیں کرے گی، عمران خان نے سماج کو برباد کر دیا ہے، عمران خان نے جو پرسوں بات کی وہ زبان پر نہیں لا سکتا۔

    انہوں نے کہا کہ عمران نیازی دن رات نیب کے اوپر سوار رہتا تھا، عمران خان نے شہزاد اکبر کو ہدایات دیں کہ جیل میں مجھے زمین پر سلایا جائے، جمہوریت ہوگی اور ملک آگے چلے گا، 2018 میں میثاق معیشت کا کہا تھا جسے ٹھکرا دیا گیا، عمران خان معاشرے میں زہر گھول رہا ہے، پاکستان کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا، اس کے ذمہ دار عمران خان ہیں، عمران خان کو اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔