Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • ترین گروپ بھی تقسیم کچھ حکومت تو کچھ اپوزیشن کا ساتھ دینے کے خواہاں

    ترین گروپ بھی تقسیم کچھ حکومت تو کچھ اپوزیشن کا ساتھ دینے کے خواہاں

    لاہور:ترین گروپ بھی تقسیم کچھ حکومت تو کچھ اپوزیشن کا ساتھ دینے کے خواہاں ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف پیش کی جانے والی تحریک عدم اعتماد کے بعد ملکی سیاسی صورتحال میں ہلچل مچی ہوئی ہے اور دونوں جانب سے سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے، اسی تناظر میں ترین گروپ میں بھی تقسیم دکھائی دیتی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کچھ حکومت تو کچھ اپوزیشن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں

    ذرائع کے مطابق لاہور میں ترین گروپ کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا، اجلاس میں جہانگیرترین نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی، ترین گروپ نے جہانگیرترین کو موجودہ سیاسی صورتحال پر بریفنگ بھی دی جبکہ اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

    مشاورتی اجلاس میں حمزہ شہباز اور چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات کے بعد تمام تر معاملات کا جائزہ لیا گیا جبکہ ترین گروپ کی اکثریت نے اپوزیشن کا ساتھ دینے کی حمایت کی۔

    ذرائع کا مزید بتانا تھا کہ ترین گروپ نے اجلاس میں کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں حکومت کے ساتھ نہیں چل سکتے، مائنس بزدار اعلان پر قائم ہیں۔

    اجلاس میں ترین گروپ نے حتمی فیصلے کا اختیار جہانگیرترین کو دے دیا ہے۔

  • کپتان OIC کی تیاریوں میں مصروف ہے:بہت جلد اچھی خبر ملے گی:ان شااللہ کپتان ہی جیتے گا:شاہ محمود قریشی

    کپتان OIC کی تیاریوں میں مصروف ہے:بہت جلد اچھی خبر ملے گی:ان شااللہ کپتان ہی جیتے گا:شاہ محمود قریشی

    اسلام آباد :کپتان اوآئی سی کی تیاریوں میں مصروف ہے:بہت جلد اچھی خبردےگا:شاہ محمود قریشی کا اعلان سن کراپوزیشن حیران ، اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی،وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد حسین چوہدری اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کے ہمراہ پریس کانفرنس نے ایک بارپھرحکومت کوسنبھلتے ہوئے دکھایا ہے

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی کی میٹنگ ہوئی،اس اجلاس میں تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے مشاورت ہوئی، ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ ہوا ہے کہ ہم عدم اعتماد کی تحریک کا مقابلہ کریں گے اور انہیں انشاء اللہ شکست دیں گے،

    مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں اس ابہام کو دور کرنا چاہتا ہوں کہ ہم جمہوری لوگ ہیں، کسی طرح کی رکاوٹ کھڑی نہیں کریں گے،یہ بھی واضح کر دوں کہ سندھ میں گورنر راج کا نہ کوئی ارادہ تھا نہ ہے، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سعید غنی صاحب اور بلاول بیٹا بے جا پریشان نہ ہوں، ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے اتحادیوں کے بارے میں قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے اس موقع پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں تسلسل سے کہہ رہا ہوں کہ ہمارے اتحادی ہمیں نہیں چھوڑیں گے،میں چوہدری صاحبان کو اچھی طرح جانتا ہوں، وہ جذباتی نہیں سیاسی فیصلے کرتے ہیں، انہیں علم ہے کہ نون لیگ ان کیلئے کتنی گنجائش رکھتی ہے، مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 2018 میں ان کے راستے میں روڑے نون لیگ نے اٹکائے،

    وزیرخارجہ نے کہا کہ پنجاب میں اکثریت نون لیگ کی ہے وہ جب چاہیں کرسی کھینچ سکتے ہیں، سیاسی سوچ رکھنے والے جانتے ہیں کہ چوھدری صاحبان وضع دار لوگ ہیں کوئی غیر سیاسی فیصلہ نہیں کریں گے،کراچی میں پیپلز پارٹی نے جو ایم کیو ایم کے ساتھ سلوک کیا وہ سب کے علم میں ہے،ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم والے سیاسی لوگ ہیں وہ پچھلے چار سال میں ایم کیو ایم کےساتھ، پیپلز پارٹی کے سلوک کو نہیں بھولیں گے،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ جو سندھ ہاؤس میں ہیں سیاسی لوگ ہیں انہیں علم ہے کہ آئین اور قانون کا تقاضا کیا ہے، وہ بلے کے نشان پر جیت کر آئے ہیں وہ کسی مخالف کی گود میں نہیں بیٹھیں گے، نون لیگ نے ماضی میں کئی لوگوں سے ٹکٹوں کے وعدے کیے جو ایفا نہ ہوئے، مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہ ہمارے کولیگ ہیں ہم ان سے کہیں گے کہ وہ سیاسی حریفوں کی گود میں نہ بیٹھیں،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ میں ان سے کہوں گا کہ ٹھنڈے دل سے اس پر غور کریں، آج پولیٹیکل کمیٹی نے وزیر اعظم کی صدارت میں فیصلہ کیا ہے کہ اگر کوئی اس اپیل کے باوجود منحرف ہوتا ہے تو اسے شو کاز نوٹس جاری کیا جائے گا،میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف میں مائینس ون کی کوئی گنجائش نہیں ہے،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ماضی میں جب پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے ادوار میں مائنس ون کی بات کی گئی تو کیا نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے اس پر اتفاق کیا، آج شہباز شریف، نواز شریف کی جگہ نہیں لے سکتا،عمران خان بانی ہیں انہوں نے تحریک انصاف کا پودا لگایا ہے، ان کا کہنا تھا کہ آج الحمد للہ چار حکومتیں انہوں نے قائم کی ہیں،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سندھ میں بھی تبدیلی کی ہوا دیکھ کر آ رہا ہوں، اپوزیشن کو اس بات پر ضرور غور کرنا چاہیے کہ افغانستان کی صورتحال کیا ہے، مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہندوستان ابھی تک حادثاتی طور پر چلائے گئے میزائل کی کوئی توجیع نہیں دے سکا،ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کی صورتحال کے باعث معیشتیں شدید متاثر ہو رہی ہیں،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کیا اس صورت حال میں ملک عدم استحکام کا متحمل ہو سکتا ہے؟ میں آج اپنے دوستوں کو بھی کہوں گا کہ اپنی گفتگو میں پارلیمانی لہجہ استعمال کریں اور الفاظ کے چناؤ میں احتیاط کریں، آج پولیٹیکل کمیٹی کے اجلاس میں سب کی متفقہ رائے تھی کہ نہ ہمیں گورنر راج کی کوئی ضرورت ہے اور نہ ارادہ ہے، شاہ جی کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد کی تحریک ان کا آئینی حق ہے ہم مقابلہ کریں گے،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارا تصادم کا نہ ارادہ تھا نہ ہے نہ ہو گا،ابھی پیپلز پارٹی والے سرکاری وسائل پر مارچ لیکر اسلام آباد آئے ہم نے کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی،

  • اسلام آباد میں دفعہ 144:معاملات مزید بگڑنے لگے

    اسلام آباد میں دفعہ 144:معاملات مزید بگڑنے لگے

    اسلام آباد :اسلام آباد میں دفعہ 144:معاملات مزید بگڑنے لگے،اطلاعات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 کا دائرہ کار وسیع کردیا گیا۔ ریڈزون کے باہر ایک کلومیٹر تک کے رقبے کو بھی ریڈزون میں شامل کردیا گیا ضلعی انتظامیہ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ریڈزون میں ایمبیسی روڈ، ساؤتھ یونیورسٹی روڈ، خیابان اقبال،شاہراہ سہروردی، سیرینا چوک، ڈھوکری چوک، شامل ہیں۔ دیگر علاقوں میں مری روڈتھرڈ ایونیو، خیابان اقبال کا ساؤتھ ایریا، چائنہ ایمبیسی کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق سیکیورٹی فورسز کو ریڈزون میں ہمہ وقت ریڈالرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، ریڈزون کی خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، دفعہ 144 کو مزید دوماہ کیلئے لاگو کردیا گیا۔

    ادھر وزیرداخلہ شیخ رشید نے پی ٹی آئی کارکنوں کی سندھ ہاؤس میں داخلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعی افسوس ناک بات ہے، یہ پولیس کی کوتاہی ہے اور آئی جی سے کہا ہے کہ ان سب کوگرفتار کریں۔

    انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے کوتاہی اور غیرذمہ داری کی ہے، ان کے خلاف نوٹس لیں، ابھی تو 20 سے 25 دن ہیں، اگر ملک اسی طرح آگے چلتا رہا تو کل پرسوں او آئی سی ہے تو پتہ نہیں کیا ہوگا، یہ تو ملک انارکی کی طرف جا رہا ہے۔

    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ابھی تو ایک ہزار رینجرز اور طلب کیے اور ملک میں حالات اور زیادہ خراب ہوئے تو 10 سے 15 دن بعد 245 کے تحت فوج بھی طلب کرسکتے ہیں کیونکہ ملک کی سالمیت کا مسئلہ ہے۔

  • سندھ ہاؤس میں پی ٹی آئی کارکنان کا داخلہ افسوس ناک ہے، شیخ رشید

    سندھ ہاؤس میں پی ٹی آئی کارکنان کا داخلہ افسوس ناک ہے، شیخ رشید

    وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنان کے دروازہ توڑ کر سندھ ہاؤس اسلام آباد میں داخلے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئی جی کو سب کی گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔

    وزیرداخلہ شیخ رشید نے پی ٹی آئی کارکنوں کی سندھ ہاؤس میں داخلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعی افسوس ناک بات ہے، یہ پولیس کی کوتاہی ہے اور آئی جی سے کہا ہے کہ ان سب کوگرفتار کریں۔

    انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے کوتاہی اور غیرذمہ داری کی ہے، ان کے خلاف نوٹس لیں، ابھی تو 20 سے 25 دن ہیں، اگر ملک اسی طرح آگے چلتا رہا تو کل پرسوں او آئی سی ہے تو پتہ نہیں کیا ہوگا، یہ تو ملک انارکی کی طرف جا رہا ہے۔

    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ابھی تو ایک ہزار رینجرز اور طلب کیے اور ملک میں حالات اور زیادہ خراب ہوئے تو 10 سے 15 دن بعد 245 کے تحت فوج بھی طلب کرسکتے ہیں کیونکہ ملک کی سالمیت کا مسئلہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کشیدگی گلی محلے کی طرف جارہی ہے اور جب کشیدگی گلی محلے کی طرف جاتی ہے تو پھر کارروائی کرنی پڑتی ہے اور میں اس کی پرزور مذمت کرتا ہوں۔

    پی ٹی آئی کے دو اراکین اسمبلی کی قیادت میں کارکنوں کی سندھ ہاؤس آمد کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف انکوائری کر رہے ہیں کہ کیسے پہنچ گئے، یہ غلطی ہوگئی ہے، ان کو وہاں نہیں جانا چاہیے تھا۔

    ایک سوال پر کہ حکومت یا وزیراعظم کی جانب سے ان کی حوصلہ افزائی تو نہیں کی گئی، جس پر ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہوسکتا، میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ اس واقعے پر بہت دکھ ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، تین دفعہ آئی جی اور دو دفعہ سیکریٹری سے بات کی ہے کہ اتنے حساس مسئلے میں یہ ہونا ہے تو ابھی تو پھر 27 تاریخ کو عمران خان اور ان کا دونوں کا جلسہ ہے اور جب دونوں پہنچیں گے تو پھر بڑا کام خراب ہوگا۔

    اسلام آباد میں 27 مارچ کو حکومت اور اپوزیشن کے جلسے کی کال پر ان کا کہنا تھا کہ حکومت جلسے کی کامیابی کے لیے کوشش کر رہی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ دونوں جماعتیں الگ الگ جلسے کریں۔

    وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ میری خواہش ہے کہ دو الگ جگہوں پر جلسے ہوں لیکن دونوں جماعتیں بضد رہیں تو پھر اچھی بات نہیں ہوگی، میری پوری کوشش ہوگی کہ ایک پریڈ گراؤنڈ میں چلاجائے اور دوسرا ایکسپریس چوک میں چلاجائے تاکہ دونوں اپنے اپنے سیاسی شو کریں۔ان کا کہنا تھا کہ کیا ہوتا ہے ابھی بڑے دن باقی ہیں اور 25 کو صورت حال واضح کرنے کی پوزیشن میں ہوں گا۔

    اپوزیشن کے جلسے کے بارے میں وزیرداخلہ نے کہا کہ ابھی ڈی سی کو ان کی درخواست نہیں آئی ہے تاہم میں نے ڈی سی سے کہا ہے کہ دونوں پارٹیوں کو الگ الگ جگہ اور الگ راستوں سے اسلام آنے دیں۔

    ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اس بات پر متفق ہیں کہ دو مختلف جگہوں پر جلسے ہوں۔

  • ضمیربیچ کرسیاست چمکانے والوں کواس کی قیمت ادا کرنا ہوگی: سانس لینا مشکل کردیں گے:اہم شخصیت کا اعلان

    ضمیربیچ کرسیاست چمکانے والوں کواس کی قیمت ادا کرنا ہوگی: سانس لینا مشکل کردیں گے:اہم شخصیت کا اعلان

    اسلام آباد:ضمیرفروشوں کا سانس لینا مشکل کردیں گے:ضمیربیچ کرسیاست چمکانے والوں کواس کی قیمت ادا کرنا ہوگی:اہم شخصیت کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق سندھ ہاؤس اسلام آباد پر دھاوا بولنے والے پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی فہیم خان کا مؤقف سامنے آیا ہے۔

    پی ٹی آئی کےایم این اے فہیم خان نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ جب ہم نے دیکھا کہ ہمارے کارکنان سندھ ہاؤس آئےہیں تو ہم بھی آئے۔

    فہیم خان نے کہا کہ یہ ٹریلر ہے، فلم ابھی باقی ہے،ان لوگوں کو استعفیٰ دے کر دوبارہ الیکشن لڑنا چاہیے۔

    آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں نے سندھ ہاؤس پر دھاوا بولا۔ تحریک انصاف کے کارکنوں نے سندھ ہاؤس کے دروازے پر لاتیں مار کر توڑ ڈالا اور احاطے میں داخل ہوگئے۔

    تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عطا اللہ نیازی اور فہیم خان بھی کارکنان کے ساتھ موجود تھے۔ ان دونوں ارکان قومی اسمبلی کا تعلق کراچی سے ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی کے منحرف رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض نے دعویٰ کیا تھا کہ پی ٹی آئی کے 24 کےقریب ارکان قومی اسمبلی سندھ ہاؤس اسلام آباد میں موجود ہیں کیوں کہ وہ پارلیمنٹ لاجز میں خود کو محفوظ نہیں سمجھتے اور وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد میں ضمیر کے مطابق ووٹ ڈالنا چاہتے ہیں۔

    گزشتہ روز بھی فواد چوہدری نے سندھ ہاؤس اسلام آباد میں کارروائی کا عندیہ دیا تھا تاہم پیپلز پارٹی کی جانب سے اس پر شدید ردعمل ظاہر کیا گیا تھا۔

  • سندھ ہاؤس پر حملہ:لگ رہا کہ کچھ ہونے جارہاہے:بلاول اور آصف زرداری کی شدید الفاظ میں مذمت

    سندھ ہاؤس پر حملہ:لگ رہا کہ کچھ ہونے جارہاہے:بلاول اور آصف زرداری کی شدید الفاظ میں مذمت

    اسلام آباد:سندھ ہاؤس پر حملہ:لگ رہا کہ کچھ ہونے جارہاہے:بلاول اور آصف زرداری کی شدید الفاظ میں مذمت ،اطلاعات کے مطابق سندھ ہاؤس پر پی ٹی آئی کارکنوں کی طرف سے دھاوے بولے جانے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر آصف علی زرداری نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    اپنے ایک بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے سندھ ہاؤس پر حملے کو دہشت گردی پر مبنی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محلہ منظم منصوبہ بندی سے ہوا، حملہ دراصل سندھ پر حملے کے مترادف ہے۔ اس حملے سے معلوم ہوتا ہےکہ کچھ نہ کچھ ضرور ہونے جارہا ہے، درجنوں پولیس چوکیوں کو عبور کرکے حملہ آوروں کا ریڈ زون میں واقع سندھ ہاؤس پہنچنا سوالیہ نشان ہے، وفاق میں سندھ ہاؤس دراصل سندھ کی شناخت ہے، عمران خان نے سندھ پر لشکر کشی کرواکر اپنا اصل بغض ظاہر کردیا۔

    انہوں نے کہا کہ ہم قانون کو ہاتھ میں لینے والے لوگ نہیں تاہم ہم جانتے ہیں کہ سرکش عناصر سے کیسے نمٹا جاتا ہے۔ عوامی نمائندوں کی رہائش گاہ پر حملہ کرواکر عمران خان نے چادر اور چار دیواری کا تقدس بھی پامال کیا ہے۔ پارلیمان، پی ٹی وی اور پارلیمنٹ لاجز پر حملہ کرنے والوں نے سندھ ہاؤس پر حملہ کرکے اپنی فسطائیت کا اظہار کیا، عمران خان اپنی شکست دیکھ کر بوکھلا چکے، اوچھے ہتھکنڈوں سے 172 کی حمایت حاصل نہیں ہوسکتی۔

    سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ سندھ ہاؤس پر پی ٹی آئی کارکنان کے حملے کی مذمت کرتے ہیں، عمران خان کے پاس اگر نمبرز پورے ہوتے وہ پارلیمنٹ لاجز اور سندھ ہاؤس پر حملوں کے بجائے ایوان میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان نے سندھ ہاؤس پر نہیں بلکہ وفاق میں سندھ کی علامت پر حملہ کرواکر دراصل سندھ پر لشکر کشی کی کوشش کی، عمران خان نے آج پاکستان کے وفاقی تشخص کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے، یہ ناقابل برداشت ہے۔ پاکستان کے عوام دیکھ رہے ہیں کون جمہوری اقدار کا حامل ہے اور کون انتشار پھیلا کر ملک کو انارکی کی جانب دھکیلنا چاہتا ہے۔

  • چین میں کورونا پھر بے قابو:دنیا میں پھر نئی لہر کا خطرہ :ہرطرف خوف طاری

    چین میں کورونا پھر بے قابو:دنیا میں پھر نئی لہر کا خطرہ :ہرطرف خوف طاری

    بیجنگ :چین میں کورونا پھر بے قابو:دنیا میں پھر نئی لہر کا خطرہ :ہرطرف خوف طاری،اطلاعات کے مطابق چین میں کورونا بے قابو ہوگیا جس کے باعث دنیا بھر میں پھر نئی لہر کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق چین میں کورونا کے نئے کیسز کی شرح 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    چین میں کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد اسرائیل میں بھی کورونا کی نئی قسم سامنے آگئی ہے جس کے بعد امریکا اور یورپ پر بھی کورونا کی نئی لہر کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔

    چین میں کورونا کی صورت حال بے قابو ہو گئی ہےاور کورونا پابندیوں سے تقریباً 3 کروڑ افراد متاثر ہیں۔چین کو فروری 2020 کے بعد سے اب تک کورونا کی بدترین صورتحال کا سامنا ہے، یہاں چند دنوں سے روزانہ 3 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔

    چین کے علاوہ ہانگ کانگ، جنوبی کوریا سمیت افریقی اور یورپی ممالک میں بھی کورونا کے کیسز بڑھنے لگے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کی پورٹ کے مطابق چین اور جنوبی کوریا میں کورونا کے کیسز میں 25 فیصد اور اموات میں 27 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ افریقا میں بھی نئے کیسز میں 12 فیصد اور اموات میں 14 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ یورپ میں نئے کیسز میں 2 فیصد کا اضافہ ہوا ہے تاہم وہاں ہلاکتوں کی تعداد مستحکم ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آسٹریا، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، ہالینڈ اور برطانیہ میں کیسز بڑھنے لگے ہیں جس کے باعث یورپ میں کورونا کی ایک اور لہر کا امکان بڑھ گیا ہے۔

  • اگرعدم اعتماد کامیاب ہوگئی توزرداری،نوازاورفضل الرحمن    سب سےپہلےکیاکریں گے؟اندرکی باتیں باہرآنےلگیں

    اگرعدم اعتماد کامیاب ہوگئی توزرداری،نوازاورفضل الرحمن سب سےپہلےکیاکریں گے؟اندرکی باتیں باہرآنےلگیں

    لاہور:اگرعدم اعتماد کامیاب ہوگئی تونوازشریف،زرداری اورفضل الرحمن سب سے پہلے کیا کریں گے؟اندرکی باتیں باہرآنے لگیں،اطلاعات کے مطابق اس وقت پاکستان میں حکومت اور حکومت کے مخالفین کے درمیان سخت مقابلہ ہے اوروزیراعظم عمران خان کو ہٹانے کے لیے 11 جماعتی پی ڈی ایم اتحاد نے عدم اعتماد کی تحریک پیش کرکے حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں

    دوسری طرف اہم ذرائع کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ اپوزیشن اتحاد نے اپنا ہوم ورک مکمل کرلیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں اپوزیشن اتحاد حکومت میں‌آکرسب سے پہلے کیا فیصلے اور اقدامات کریں گے اس حوالے سے نوازشریف ، آصف علی زراری اور فضل الرحمن کے درمیان معاملات طئے ہوگئے ہیں‌

    اس حوالے سے یہ مصدقہ خبریں اپوزیشن اتحاد کے ذرائع سے ہی آنا شروع ہوگئی ہیں کہ نوازشریف ،آصف علی زرداری اور فضل الرحمن کے درمیان یہ طئے ہوا ہے کہ سب سے پہلے وزارت داخلہ میں‌ آپریشن کیا جائے گا اور اہم پوسٹوں پر موجود ایسے افراد کو ہٹایا جائے گا جوسیکورٹی ادارے کے بڑے قریب جانے جاتے ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ یہ ٹرائیکا اس حوالے سے بھی ہوم ورک مکمل کرچکا ہے اور وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے دوران جو افسران نوازشریف،آصف علی زرداری اور دیگراتحادیوں‌ کے بہت قریب جانے جاتے تھے اور یہ افراد اس دوران اہم راز کی باتیں بھی ان رہنماوں‌ تک پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیتے رہے ہیں ان کو اہم ذمہ داریاں دی جائیں گی

    اس کے ساتھ ساتھ ، ایف آئی اے ، آئی بی ، آئی جیز،ریونیوبورڈ ، ایف بی آر، ایل ڈی اے ،سی ڈی اے ،سٹیٹ بینک ، پی ٹی وی ، سیکورٹی ایکسچینج سمیت اہم سویلین اداروں کے سربراہان سمیت دیگرافسران کو ہٹا کران کی جگہ اپنے بندے لائیں جائیں گے اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس اہم موقع پر سدا بہارافسران نے رابطے بھی شروع کردہئے ہیں‌

    ادھر ذرائع کے مطابق یہ بھی معلوم ہوا ہے وزارت داخلہ کے بعد وزارت خارجہ میں افسران کو دربدرکرکے ان کی جگہ اپنے بندے لائے جائیں گے جو نوازشریف کے بہت قریب جانے جاتے ہیں اور اس حوالے سے خطے کے ہمسائیہ ممالک خصوصا بھارت اور ایران کے ساتھ بہترین تعلقات کے ماہر مانے جاتے ہیں‌،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے اس کے بعد جب بڑے بڑے اداروں کے سربراہان تبدیل کئے جائیں گےتوپھرقومی سلامتی کے مقتدر اداروں کے اندر موبلائزیشن شروع کی جائے گی اور ایسے افسران کی کی تلاش کی جائے گی جو اپنا مستقبل بہتر کرنے کی خواہش رکھتے ہوں اور پھران کوکسی مناسب حکمت عملی سے دیگر اعلیٰ افسران کی جگہ ری پلیس کیا جائے گا ، اس حوالے سے ن لیگی حلقوں‌ کے اندر کچھ ایسی باتیں ہورہی ہیں کہ انہیں اندر سے کچھ مہربانوں کی شفقت حاصل ہے ، اس گفتگو کے تناظرمیں یہ چیز سامنے آرہی ہے کہ اگلی آنے والی حکومت سب سے پہلے اپنے راستے میں حائل قانونی اور آئینی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے بہت کچھ سوچ چکی ہے

    ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اگرعدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو پھرالیکشن کمیشن کے چیف کی مدد سے آنے والے انتحابات میں بہت زیادہ اپنے مفادات کے تحت اقدامات کیے جائیں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آنے والی حکومت پچھلی حکومت کی الیکشن کے حوالے سے کی گئی قانونی ترجٰیحات کو تبدیل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کے بڑوں کی مدد سے ترمیم کریں‌

    ادھر اس حوالے سے اہم خبریہ بھی ہے کہ شہبازشریف ، نوازشریف ، حمزہ شہباز سمیت دیگرن لیگی رہنماوں کومعصوم عن الخطا قرار دیئے کے لیے احتساب عدالتوں پراثراندازہونے کی کامیاب کارروائی کی جائے گی جس کے لیے اہم ہوم ورک مکمل کرلیا ہے

    اس کےساتھ ساتھ آنے والی حکومت میڈیا کے ذریعے عوام الناس کے ردعمل کو کنٹرول کرنے کے لیے مریم نواز کی مشاورت سے ایک فریم ورک تیار کررہی ہے جس میں عمران خان کے خلاف عوامی ردعمل کوبرقرار رکھنے اور آنے والی حکومت سے توجہ ہٹانے کے لیے سوشل میڈیا ٹیموں کی سرپرستی بھی کی جائے گی

    گورنرز بھی تبدیل کیے جانے کا امکان ہے اور سب سے خطرناک تبدیلی یہ ہےکہ یہ ترائیکا پاکستان کی سلامتی کے اداروں میں ہونے والے تقرروتبادلے میں بھی خطرات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اثرانداز ہونے کی کوشش کرے گا اور یہ بات خفیہ نہیں رہی بلکہ اس حوالے سے ان رہنماوں کے اجلاسوں میں کھلے عام بات ہونا شروع ہوگئی ہے

  • محمد رضوان ہرفن مولا:ساتھی بھی خوش پاکستان بھی خوش

    محمد رضوان ہرفن مولا:ساتھی بھی خوش پاکستان بھی خوش

    لاہور:محمد رضوان ہرفن مولا:ساتھی بھی خوش پاکستان بھی خوش ،اطلاعات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ بیٹر محمد رضوان اپنی بیٹنگ کی وجہ سے تو دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں، اب وہ ساتھی کرکٹر شاہین شاہ کے لیے حجام بھی بن گئے ہیں۔

    قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر شاہین شاہ نے محمد رضوان سے بال کٹواتے ہوئے اپنی ویڈیو ٹوئٹر پر شیئر کی اور ساتھ لکھا کہ ایسا کچھ نہیں جو رضوان نہیں کرسکتا۔

    شاہین شاہ کی جانب سے جاری ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ کمال مہارت سے شاہین شاہ کے بالوں پر قینچی چلا رہے ہیں۔

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شاہین شاہ آفریدی ایک کرسی پر بیٹھے ہیں اور محمد رضوان ان کے بال کاٹ رہے ہیں

    فاسٹ بولر شاہین شاہ نے لکھا کہ کراچی ٹیسٹ میں شاندار سنچری اسکور کرنے والے اور میچ بچانے والے محمد رضوان کی صلاحیتوں کی کوئی حد نہیں۔

    شاہین شاہ نے کہا کہ نیا ہیئر کٹ دینے کا شکریہ سُپر مین، آپ نے یہ کر دکھایا۔شاہین شاہ کی اس ٹوئٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے فخر زمان نے بھی رضوان سے بکنگ کروالی۔

     

    فخر زمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرلکھا کہ ’یار لڑکے رضوان، میری بھی بُکنگ کرلو۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کراچی ٹیسٹ انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہونے کے بعد گزشتہ روز بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا تھا۔

    پہلی اننگز میں بری طرح ناکام ہونے کے بعد پاکستان ٹیم کے کپتان بابر اعظم، نائب کپتان محمد رضوان اور اوپنر عبداللہ شفیق نے دوسری اننگز میں شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیسٹ کو بچایا۔

  • وزیراعظم سے نائجیریا کے وزیر دفاع کی اہم ملاقات

    وزیراعظم سے نائجیریا کے وزیر دفاع کی اہم ملاقات

    اسلام آباد:وزیراعظم سے نائجیریا کے وزیر دفاع کی اہم ملاقات اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے نائجیریا کے وزیر دفاع کی ملاقات ہوئی ہے جس میں دوطرفہ تعلقات اور تجارت کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

    وزیر اعظم عمران خان سے آج دورہ پاکستان پر آئے جمہوریہ نائجیریا کے وزیر دفاع میجر جنرل (ریٹائرڈ) بشیر صالحی مگاشی کی ملاقات ہوئی ہے۔

    ملاقات کے دوران مشترکہ تاریخ، ثقافت اور اقدار کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے دوطرفہ تعلقات کے مضبوط مثبت انداز کو سراہا۔

    مارچ 2020 سے افریقہ میں اعلیٰ پوزیشن سنبھالنے پر نائجیریا کی معیشت کی تعریف کرتے ہوئے وزیراعظم نے دوطرفہ تجارتی اور کاروباری تعلقات کو مزید گہرا کرنے پر زور دیا۔

    وزیراعظم نے دفاع، سیکورٹی اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعاون کو سراہا۔

    یو این پیس کیپنگ آپریشنز کے زیراہتمام افریقہ میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی دیرینہ خدمات اور شراکت کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیراعظم نے ‘اینجیج افریقہ’ پالیسی کے اپنے وژن کا اظہار کیا جس کا مقصد براعظم کے ساتھ سفارتی نقش کو بڑھانا اور تجارتی اور سرمایہ کاری کی شراکت داری کو آگے بڑھانا ہے۔

    وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے 15 مارچ کو ’اسلامو فوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن‘ قرار دینے پر متفقہ طور پر تاریخی قرارداد کی منظوری کو سراہا۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ جنرل اسمبلی کی طرف سے یہ تسلیم کرنے سے نسل پرستی، امتیازی سلوک اور مسلمانوں کے خلاف تشدد کے عصری چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔