Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پاکستان کسی جنگ میں حصہ دار نہیں ہوگا:بھارت ہمیں چیک نہ کرے:ہمارا ردعمل سخت ہوگا: سیکرٹری خارجہ

    پاکستان کسی جنگ میں حصہ دار نہیں ہوگا:بھارت ہمیں چیک نہ کرے:ہمارا ردعمل سخت ہوگا: سیکرٹری خارجہ

    ںاسلام آباد :پاکستان کسی جنگ میں حصہ دار نہیں ہوگا:بھارت ہمیں چیک نہ کرے:ہمارا ردعمل سخت ہوگا: اطلاعات کے مطابق سیکرٹری خارجہ سہیل محمود نے کہا ہے کہ ہم دنیا کو پیغام دے چکے ہیں کہ پاکستان امن میں ضرور حصے دار ہوگا لیکن کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔

    سینیٹر شیری رحمان کے زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکرٹری خارجہ نے کمیٹی کو بریفنگ پیش کی۔

    بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کے دورہ روس کی منصوبہ بندی دو سالوں سے ہورہی تھی جس کے حوالے سے باتیں ہورہی ہیں۔

     

     

    انہوں نے بتایا کہ کے روسی صدر کے ساتھ وزیر اعظم کی ملاقات ساڑھے تین گھنٹے کی تھی جس میں اسلامو فوبیا سمیت توانائی کا معاملہ بات چیت اہم ایجنڈا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ فروری کے وسط سے یوکرین اور روس کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا جس کے متعلق وزیراعظم نے اس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا تھا۔

    انہوں نے بتایا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دو سی ون تھرٹی امدادی جہاز یوکرین روانہ ہوئے ہیں جس پر یوکرین کے سفیر نے اس پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا جو گزشتہ رات وہاں موجود تھے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ یوکرین سے اب تک 1558 افراد کو نکالا گیا ہے لیکن اس وقت 15 سے 20 افراد یوکرین میں ہیں جن میں سے کچھ جیل میں ہیں۔

    سیکرٹری خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے یورپی یونین کے سفیروں کی پریس ریلیز پر جواب دیتے ہوئے انہیں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے درست نہیں کیا ہے اور دنیا کو بتا دیا ہے کہ پاکستان کسی جنگ میں حصہ دار نہیں ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل روس پاکستان کے مؤقف کو ویٹو کردیتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ یوکرین روس تنازعہ کے بعد دنیا افغانستان کے بحران کو بھول گئی ہے، افغانستان میں شدید ترین انسانی بحران اب بھی موجود ہے۔

    انہوں نے بھارتی میزائل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی فائیو کے نمائندوں کو اس معاملہ پر بلا کر ان کو بریفنگ دی گئی ہے جبکہ بھارت سمیت دنیا بھر کے دفاعی ماہرین نے بھی اس سوال اٹھایا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ ہم نے بھارت سے پوچھا کہ روزمرہ کی مینٹیننس کے دوران یہ ہوا یا پھر بھارت کا اس پر کنٹرول نہیں ہے؟ اس معاملے پر بھارت کی نیت کیا تھی اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

    دوسری جانب بھارتی میزائل کے پاکستانی حدود میں گرنے کے معاملے پر شیری رحمان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے میزائل غلطی سے نہیں بلکہ ٹرائل کے تحت چلایا گیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان اس طرح کا واقعہ بڑی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے، یہ سنجیدہ معاملہ ہے اور اس طرح کی غلطی بھارت جان بوجھ کر دوبارہ کرسکتا ہے۔

  • روسی صدر پیوٹن عالمی سلامتی کیلئے خطرہ:برطانیہ

    روسی صدر پیوٹن عالمی سلامتی کیلئے خطرہ:برطانیہ

    لندن :روسی صدر پیوٹن عالمی سلامتی کیلئے خطرہ:برطانیہ ،اطلاعات کے مطابق برطانیہ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو عالمی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا۔

    برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق برطانوی خارجہ سیکریٹری نے وزیر اعظم بورس جانسن کے خلیج کے دورے کا ذکر کرتے ہوےکہا ہے کہ یہ بالکل درست ہے کہ برطانیہ روس کے لیے تیل اور گیس کے متبادل ذرائع کی طرف دیکھ رہا ہے۔

    خارجہ سیکریٹری نے کہا کہ ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین پر حملے میں یورپی سیکیورٹی کو توڑا اور خوفناک طاقت کا استعمال کیا۔ پیوٹن جس طریقے سے اپنے جنگی مشن کو فنڈز فراہم کرتے ہیں وہ تیل اور گیس کی آمدنی کے ذریعے ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یقیناً میں یہ نہیں کہہ رہی ہوں کہ ہم سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات کی ہر ایک پالیسی سے متفق ہیں لیکن ان سے عالمی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    خارجہ سیکریٹری نے کہا کہ ہمیں دوسرے ممالک کو بھی برطانیہ کے دائرہ اثر میں لانے اور روس سے دور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں پیوٹن کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا، وہ حقیقی خطرہ ہے جس کا دنیا کو سامنا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں مستقبل کے بارے میں پیشگوئیاں نہیں کر سکتی لیکن جو ہم جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ پیوٹن کے منصوبے، منصوبوں کے مطابق نہیں چل رہے ہیں۔

    خارجہ سیکریٹری نے مزید کہا کہ پیوٹن پیش رفت نہیں کر رہے ہیں جس کی انہیں امید تھی اور اس کے نتیجے میں وہ زیادہ سے زیادہ انتہائی تکنیکوںاور ہتھیاروں کا سہارا لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ صدر ولادیمیر زیلنسکی کو تمام تعاون فراہم کرے گا۔

  • پاکستان عالمی امن و سلامتی کےلیے کوشاں رہے گا:آرمی چیف

    پاکستان عالمی امن و سلامتی کےلیے کوشاں رہے گا:آرمی چیف

    راولپنڈی :پاکستان عالمی امن و سلامتی کےلیے کوشاں رہے گا:اطلاعات کے مطابق آج نائیجیریا کے وزیر دفاع میجر جنرل بشیر صالحی مگاشی نے آج جی ایچ کیو میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔

    پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دو طرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاک فوج کے سربراہ اس موقع پرکہا کہ پاکستان نائیجیریا کو افریقی براعظم میں ایک اہم ملک کے طور پر دیکھتا ہے اور ہم علاقائی امن کے لیے نائیجیریا کے کردار کو سراہتے ہیں۔

    نائیجیریا کے وزیر دفاع میجر جنرل بشیر صالحی مگاشی نے علاقائی استحکام میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا

  • میانمار کی فوج جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی ہے : جواب دینا ہوگا : اقوام متحدہ

    میانمار کی فوج جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی ہے : جواب دینا ہوگا : اقوام متحدہ

    جنیوا:اقوام متحدہ نے میانمار میں گزشتہ برس فوجی بغاوت کے بعد انسانی حقوق کے حوالے سے پہلی جامع رپورٹ شائع کی ہے۔ فوجی بغاوت کے بعد میانمار میں انسانی زندگی کی شرمناک توہین اور انسانیت کے خلاف جرائم کے واضح شواہد ملے ہیں۔

    اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق میشیل بیچلیٹ نے منگل کے روز پیش کردہ رپورٹ میں کہا کہ گزشتہ برس کی فوجی بغاوت کے بعد سے میانمار میں فوج انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیو ں میں مصروف ہے۔ ان میں سے بعض جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہیں۔

    انہوں نے رپورٹ سے متعلق ایک بیان میں کہا کہ بہت سے لوگوں کو سر میں گولیاں ماری گئیں، زندہ جلا کرمار ڈالا گیا، کسی الزام کے بغیر گرفتار کیا گیا، اذیتیں دی گئیں یا انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے اس کے خلاف ”بامعنی کارروائی” کرنے کی اپیل کی۔

    بیچلیٹ نے کہا، "میانمار کے عوام کے ساتھ جس طرح کی زیادتی کی جارہی ہے اور بین الاقوامی قانون کی جس بڑے پیمانے پر اور کھلے عام خلاف ورزی کی جارہی ہے وہ ایک ٹھوس، متحد اور سخت بین الاقوامی کارروائی کا متقاضی ہے۔” میانمار آرمی کا کہنا ہے کہ امن اور سکیورٹی کو یقینی بنانا اس کی ذمہ داری ہے۔

    اس نے کسی بھی طرح کی زیادتی سے انکار کیا اور "دہشت گردوں” کو بدامنی پھیلانے کے لیے مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ فروری 2021 میں آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت کو برطرف کرنے کے بعد سے فوج اب تک اقتدار کو مستحکم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ فوجی بغاوت کے بعد سے فوج کی مخالفت کا سلسلہ جاری ہے۔ عوامی مظاہروں کو کچلنے کے لیے فوج کی طرف سے پرتشدد کارروائیوں کے بعد مغربی ملکوں نے فوج پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ متاثرین کے ساتھ بات چیت نیز عینی شاہدین کے بیانات پر مبنی ہے۔

    اس میں تصاویر اور مصدقہ ملٹی میڈیا فائلز اور اوپن سورس سے دستیاب اطلاعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ فوج کو ملک کے دیہی علاقوں میں برطرف حکومت سے وابستہ ملیشیا کی جانب سے مسلسل مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میانمار کی فوج نے سگینگ خطے میں بڑے پیمانے پر قتل عام کیا۔

    ہلا ک ہونے والے بہت سے لوگوں کے ہاتھ اور پاوں بندھے ہوئے ملے تھے۔ رپورٹ کے مطابق کایاہ ریاست میں عورتوں اور بچوں کی جلی ہوئی لاشیں پائی گئیں۔ ان میں سے بعض کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ انہوں نے بچنے کی کوشش کی تھی لیکن زندہ جلا دیے گئے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گرفتار شدگان کو پوچھ گچھ کے دوران اذیتیں دی گئیں، انہیں چھت سے الٹا لٹکایا گیا، بجلی کے جھٹکے دیے گئے، منشیات کے انجکشن دیے گئے اور ریپ سمیت جنسی زیادتی کا شکار بنایا گیا۔ اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن کی ترجمان روینا شمداسانی نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، "ہمیں گزشتہ برس ایک پیٹرن کا پتہ چلا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ سب کچھ منصوبہ بند، منظم اور مربوط حملے تھے۔

    اس بات کے واضح اشارے موجود ہیں کہ یہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہیں۔” خیال رہے کہ گزشتہ برس میانمار آرمی نے اقوام متحدہ اور اس کے آزاد ماہرین کی سرزنش کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ غیرمعتبر اطلاعات اور مخالف گروپوں کے بیانات پر انحصار کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے کم از کم 1600 لوگوں کو ہلاک کردیا جب کہ 12500 سے زائد قید میں ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق کم از کم 440000 افراد بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ ایک کروڑ 40لاکھ کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ لیکن فوج نے نئے اور سابقہ ضرورت مند علاقوں تک رسائی بڑی حد تک روک رکھی ہے۔ سن 2021 میں فوجی بغاوت سے پہلے بھی میانمار میں انسانی حقوق کا ریکارڈ اچھا نہیں رہا ہے۔

    ملک کی روہنگیا مسلم اقلیت کی ایک بڑی آبادی کو سن 2017 میں ملک چھوڑنے کے لیے مجبور ہونا پڑا تھا۔ اس وقت آنگ سان سوچی کی حکومت تھی۔ ان کی حکومت میں فوج نے روہنگیا مسلمانوں کے متعدد گاوں جلا دیے اور شہریوں کو ہلاک کردیا۔

    اقوام متحدہ نے میانمار فوج کی اس کارروائی کو "نسلی تطہیر کی مثال” قرار دیا تھا۔

  • مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کا قتل عام جاری:عالمی برادری پرخاموشی طاری

    مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کا قتل عام جاری:عالمی برادری پرخاموشی طاری

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کا قتل عام جاری:عالمی برادری پرخاموشی طاری،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران آج سرینگر میں 4 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی فوجیوں نے نوجوانوں کو سرینگر کے علاقہ نوگام میں محاصرے اورتلاشی کی ایک کارروائی کے دوران شہید کیا۔ فوجیوں نے علاقے کے تمام داخلی اور خارجہ مقامات کی ناکہ بندی کردی اور لوگوں کو گھروںسے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی ۔

    آخری اطلاعات ملنے تک علاقے میں فوجی کارروائی جاری تھی ۔ ریلوے حکام نے بانہال سے بارہمولہ تک ریل سروس کو معطل کردیا ہے ادھر ذرائع کے مطابق کپواڑہ میں بھی ایک کشمیری نوجوان کو شہید کردیا گیا ہے

    آزاد جموںوکشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہاہے کہ عالمی برداری کو بھارتی حکومت کی جارحیت اور اسکے جنگی جنون کے رویے کا نوٹس لینا چاہیے جو جنوب ایشیائی خطے کے امن واستحکام کے لئے سنگین خطرہ ہے۔

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق آج مظفر آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بھارت اپنی فوجی طاقت کا استعمال کرکے کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد کو دبانے پر تلا ہوا ہے۔

    انہوں نے کہاکہ آزادجموں وکشمیر کی حکومت نے جو تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ ہے ،ایک جامع حکمت عملی تیار کی ہے تاکہ دنیا کی توجہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی طرف مبذول کرائی جائے۔

  • ایم کیوایم کے لوگ نہیں جانتے پیپلزپارٹی نےسندھ میں ان کیساتھ کیا سلوک کیا؟ قریشی

    ایم کیوایم کے لوگ نہیں جانتے پیپلزپارٹی نےسندھ میں ان کیساتھ کیا سلوک کیا؟ قریشی

    ایم کیوایم کے لوگ نہیں جانتے پیپلزپارٹی نےسندھ میں ان کیساتھ کیا سلوک کیا؟ قریشی
    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے سیاسی صورتحال کے حوالے سے کہا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے، نمبرز کے حوالے سے کیے جانے والے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں،

    مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھاکہ اگر ایسا ہوتا تو انہیں اتنی تگ و دو کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی،ہمارا اتحادیوں کے ساتھ ساڑھے تین سال کا تعلق اور رابطہ ہے، ہم ملک کو سنوارنے کیلئے مشترکہ کاوش میں شامل رہے ہیں، اتحادیوں کیساتھ ہمارے رابطوں میں ایک تسلسل ہے جبکہ اپوزیشن ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتی آئی ہے،جب خلیج زیادہ بڑی ہو تو زور بھی زیادہ لگانا پڑتا ہے،آج اگر نون لیگ، ق لیگ کو آفرز دے رہی ہے تو کیا ق لیگ کے دوست نہیں جانتے کہ 2018 کے الیکشنز میں انہوں نے ق لیگ کے راستے میں کتنے کانٹے بچھائے؟ کیا ایم کیو ایم کے لوگ نہیں جانتے کہ پیپلز پارٹی نے سندھ میں ان کیساتھ کیا سلوک کیا؟پیپلزپارٹی کی جانب سے لائے گئے بلدیاتی قانون کے خلاف وہ سراپا احتجاج تھے اور ہم ان کے ساتھ ہمکلام تھے کیا وہ سلوک انہیں یاد نہیں ہو گا؟

    مخدوم شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ کیا وہ نہیں جانتے کہ پیپلزپارٹی نے پچھلے پندرہ سالہ اقتدار میں حیدرآباد اور کراچی میں ان کے ووٹرز کیساتھ کیا سلوک روا رکھا؟، وقتی ملاقاتوں کی بنیاد پر صورتحال کا درست تجزیہ نہیں کیا جاسکتا، جب ہم صورتحال کو تسلسل کے زاویے سے دیکھتے ہیں تو اطمینان ہوتا ہے،

    قبل ازیں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نےاسلاموفوبیا سے نمٹنے کے عالمی دن کے حوالے سے کہا ہے کہ آج میں پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا، وزیر اعظم کی ہدایت پر میں نے اس معاملے کو نیامے میں منعقد ہونیوالے، او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے سنتالیسویں اجلاس میں اٹھایا نیامے میں ہونیوالے اجلاس میں زمین ہموار ہوئی اور ہم نے امہ کو اس مسئلے پر یکجا کیا اور اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف متفقہ قرارداد منظور ہوئی،اس کے بعد اقوام متحدہ میں قرارداد پاکستان نے پیش کی ہم نے کہا کہ نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں گستاخی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، نفرت انگیز بیانیے کو لگام دینی چاہیے، الحمدللہ دنیا نے ہمارے موقف کو تسلیم کیا ہے اور ہماری تجویز پر یہ فیصلہ ہوا ہے کہ ہر سال پندرہ مارچ کے دن کو اسلاموفوبیا کے تدارک کے عالمی دن کے طور پر منایا جائے گا اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان کو اسلاموفوبیا کے خلاف ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے،میں اس کامیابی پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، مخدوم شاہ محمود قریشی

    پارلیمنٹ لاجز کے کمروں میں کیا کرتے ہو،مجھے سب پتہ ہے، مولانا فضل الرحمان

    عمران خان نے رابطہ کیا تو مولانا کیا ردعمل دیں گے؟ مولانا فضل الرحمان کا تہلکہ خیز انٹرویو

    اسلام آباد کا سیاسی موسم مسلسل گرم ہو رہا ہے، گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ سیاسی پارٹیاں بھی متحرک ہو رہی ہیں تحریک عدم اعتماد جمع ہو چکی، قومی اسمبلی کا اجلاس 21 مارچ کو ہو گا، 28 کو عدم اعتماد پر ووٹنگ ہو گی، 172 اراکین حکومت و اپوزیشن دونوں کو چاہئے، جس کو 172 مل گئے وہ کامیاب ٹھہرے گا تا ہم اس سے قبل حکومت و اپوزیشن دونوں نے ڈی چوک پر میلہ لگانے کا اعلان کیا ہے، تحریک انصاف نے 27 مارچ کو ڈی چوک پر جلسے کا اعلان کیا تو مولانا فضل الرحمان نے 25 مارچ کو ڈی چوک پر جلسے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ ہم کب تک بیٹھیں گے یہ فیصلہ اسی روز ہو گا

    اپوزیشن جماعتوں کے قائدین،رہنماؤں کی ملاقاتیں جاری ہیں، ایک دوسرے کو یقین دہانیاں کروائی جا رہی ہیں حکومتی اتحادی بھی متحرک ہیں کبھی حکومت والوں سے مل لیتے ہیں تو چند لمحوں بعد اپوزیشن کے پاس پہنچے ہوتے ہیں،عجیب سی کیفیت ہے، کون کس کے ساتھ ہے کچھ واضح نہیں ہو رہا،

    چودھری شجاعت حسین نے وزیراعظم کومشیروں سے خبردار کر دیا

    حکومت اپنے اتحادیوں کو اپوزیشن کیمپ کی طرف نہ دھکیلے،پرویز الہیٰ

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    شیخ رشید یاد کرو وہ وقت…مونس الہیٰ نے کھری کھری سنا دیں

    پارٹی سے بیوفائی کرنیوالوں کو غدارلکھ کر پوسٹرز لگائیں گے،شہباز گل

    عمران خان لوگوں کی بجائے اپنے ایم این ایز کو اکٹھا کریں،خواجہ سعد رفیق کا چیلنج

    تحریک عدم اعتماد،اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم،ملاقاتیں جاری

    واقعی عمران خان گھبرا گئے؟ کابینہ اجلاس چوتھے ہفتے بھی التوا کا شکار

    تمام اختیارات وزیراعظم کو دے دیئے گئے،شیخ رشید کا دعویٰ

    عمران خان نےدیرکردی،نسلی دوست ساتھ کھڑاہوتاہے،شیخ رشید کا چودھری برادران کو پیغام

    تحریک عدم اعتماد کے بعد ہمارے کچھ لوگوں کو نیب کے نوٹس ملے ہیں،شاہد خاقان عباسی

    حیرت ہے اپوزیشن کے مقابلے میں حکومت بھی جلسے کرنے لگ گئی،چودھری شجاعت

    صرف عدم اعتماد نہیں ان کا 2023 کا الیکشن بھی گیا،وزیراعظم

    شیخ رشید نے مولانا فضل الرحمان کی گرفتاری کا عندیہ دے دیا

    مونس الہیٰ کے مطالبے پر پرویز خٹک بھی میدان میں آ گئے

  • ملک بھر میں کورونا سے 4 افراد جاں بحق ،مثبت کیسز کی شرح 1.42 فیصد

    ملک بھر میں کورونا سے 4 افراد جاں بحق ،مثبت کیسز کی شرح 1.42 فیصد

    عالمی وبا کورونا وائرس سے مزید 4 افراد جاں بحق ہو گئے-

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 34 ہزار698کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید 493 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 15 لاکھ 20 ہزار120 جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 30 ہزار 317 ہو گئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 1.42 فیصد رہی۔

    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 5 لاکھ 72 ہزار555، خیبر پختونخوا میں 2 لاکھ 18 ہزار 357، پنجاب میں 5 لاکھ 4ہزار 45، اسلام آباد میں ایک لاکھ 34 ہزار 878، بلوچستان میں 35 ہزار447، آزاد کشمیر میں 43 ہزار 190اور گلگت بلتستان میں 11 ہزار 648 ہو گئی ہے۔

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 13 ہزار 540 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 8 ہزار 91، خیبر پختونخوا 6 ہزار 306، اسلام آباد ایک ہزار 21، گلگت بلتستان میں 191، بلوچستان میں 378 اور آزاد کشمیر میں 790 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    کورونا کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بتائی جانیوالی تعداد سے تین گنا زائد ہے

  • آخرچوہدری برادران وزارت اعلیٰ پربضد کیوں؟شہبازشریف کی نااہلی کےبعد پرویزالٰہی لیگیوں کوکنٹرول کریں گے؟

    آخرچوہدری برادران وزارت اعلیٰ پربضد کیوں؟شہبازشریف کی نااہلی کےبعد پرویزالٰہی لیگیوں کوکنٹرول کریں گے؟

    لاہور:آخرچوہدری برادران وزارت اعلیٰ پربضد کیوں؟شہبازشریف کی نااہلی کےبعد چوہدری پرویزالٰہی لیگیوں کوکنغٹرول کریں گے؟اطلاعات کے مطابق اس وقت کچھ ایسی خبروں نے سیاسی ماحول کو اچانک بہت زیادہ گرم اور ساتھ محتاط کردیا ہے جب کچھ ایسی خبریں گردش کرنے لگی ہیں‌ کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے پیچھے بڑی گیم ہے اور یہ گیم ڈیزائن کی گئی ہے جس کا مقصد شہبازشریف کی یقینی نااہلی کے بعد کے معاملات پر قابو پانے اور ن لیگ کے ارکان اسمبلی کواس صورت حال کے بعد کسی چھتری تلے جمع رکھنے سے متعلق ہے ، سب سے بڑا مقصد چوہدری پرویز الٰہی کی قیادت میں مسلم لیگی ارکان اسمبلی کو اکٹھا کرکے شریف برادران کی گرفت کو کمزورکرنا ہے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس بات کے قوی امکان ہیں کہ آنے والے چند دنوں میں شہبازشریف کے خلاف مضبوط شواہد کی بنا پر کیس کا فیصلہ آجائے تو اس صورت میں شہبازشریف کی نااہلی یقینی ہے اور اس طرح اگر چوہدری پرویزالٰہی اب وزیراعلیٰ بن جاتے ہیں تو چوہدری ن لیگ کی بڑی تعداد کو اپنے قریب کرنے میں کامیاب رہیں گے اور یوں ن لیگ کی گرفت ڈھیلی پڑ جائے گی ،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چوہدری برادران سے بڑی تعداد میں ن لیگی ارکان اسمبلی کے خفیہ رابطے ہیں اور یہ رابطے بعض جگہ پر براہ راست ہیں اور بعض اوقات بالواسطہ سارے معاملات طئے ہورہے ہیں‌

    ذرائع کے مطابق اس وقت 35 سے 38 ارکان اسمبلی کے چوہدری پرویز الٰہی سے رابطے میں ہیں ، اور اگر چوہدری پرویزالٰہی وزیراعلیٰ پنجاب بنتے ہیں تو ان ن لیگیوں کا اگلہ مسکن ق لیگ ہوسکتا ہے ، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقائق سامنے آئے ہیں کہ چوہدری برادران ایک کامیاب سیاست کھیل رہےہیں اور اس کھیل میں کامیابی کی صورت میں چوہدری برادران کواپنے ساتھیوں کی حمایت بھی حاصل ہے جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ ساتھیوں کے مشورے کے بعد ہی چوہدری برادران پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر بضد ہیں ،

    ادھر یہ بھی دعوے کیا جارہے ہیں ن لیگ کواس قسم کے کھیل سے متعلق پہلے ہے کچھ شکوک وشہبات تھے تاہم ن لیگ کی قیادت پر منحصر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتی ہے ، کیا وہ وزارت اعلیٰ دے کرن لیگی ارکان اسمبلی کو ق لیگ میں جانے کا سبب بنتا ہے یا پھریہ فیصلہ دور رہنے کا سبب بنتا ہے تاہم یہ طئے ہے کہ چوہدری برادران کی اس تگ و دو کے پیچھے ایک طئے شدہ پروگرام ہے ، شاید یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی قیادت چوہدری برادران کے کسی بھی فیصلے پرمداخلت یا مخالفت نہیں کررہی ہے

  • بلوچستان عوامی پارٹی کا خیبرپختونخوا حکومت سےاتحاد ختم کرنے کا اعلان

    بلوچستان عوامی پارٹی کا خیبرپختونخوا حکومت سےاتحاد ختم کرنے کا اعلان

    اسلام آباد :بلوچستان عوامی پارٹی کا خیبرپختونخوا حکومت سے اتحاد ختم کرنے کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈربلاول آفریدی نے خیبرپختونخوا حکومت سے اتحاد ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ضم اضلاع کے منتخب نمائندوں کے اجلاس میں وزیراعلی نے ہمیں مدعو نہیں کیا۔

    بلوچستان عوامی پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر بلاول آفریدی نے اعلان کیا کہ ہم عدم اعتماد میں حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے اور اس حوالے سے باپ کی سینئر لیڈرشپ کے ساتھ رابطے میں ہیں ، جلد قومی اسمبلی ، سینٹ اور بلوچستان میں بھی حکومت کے ساتھ اتحاد ختم کریں گے۔

     

     

    بلاول آفریدی کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ مسلسل نا انصافی کی جا رہی ہے اور فنڈز پی ٹی آئی ارکان کو دیے جا رہے ہیں ، ہم اپوزیشن بینچوں پر بیٹھ کر اپنا احتجاج رکارڈ کرائیں گے۔

    خیال رہے گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ لاجز میں بلوچستان عوامی پارٹی کی قیادت سے ملاقات کی جس میں بلوچستان عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر خالد مگسی نے وزیراعظم عمران خان کو تصادم کی طرف نہ جانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ہماری جماعت کی مشاورت ابھی جاری ہے اور اس حوالے سے ہم جلد کوئی فیصلہ کرلیں گے۔

    واضح رہے خیبر پختونخوا اسمبلی میں بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین کی تعداد 4 ہے۔

  • ‏خان صاحب نے سب کے ساتھ ہاتھ کیا ہے،کس کو کچھ دیا نہیں،پرویز الٰہی

    ‏خان صاحب نے سب کے ساتھ ہاتھ کیا ہے،کس کو کچھ دیا نہیں،پرویز الٰہی

    لاہور: وزیراعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد کے بعد سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے اور اسی تناظر میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی کے سپیکر چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ اتحادیوں کا 100فیصد جھکاؤ اپوزیشن کی طرف ہے۔

    پنجاب اسمبلی کے سپیکر نے نجی ٹی وی سے اتحادیوں کے جھکاؤ سے متعلق بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان 100 فیصد مشکل میں ہیں، اتحادیوں کا 100فیصد جھکاؤ اپوزیشن کی طرف ہے، جھکاؤ کو ریورس کرنا عمران خان کی ذمہ داری ہے۔ خان صاحب نے سب کے ساتھ ہاتھ کیا ہے، کسی کو کچھ دیا نہیں، وزیراعلیٰ بنا تو تمام مسائل حل کر دوں گا۔اتحادیوں سے کیے گئے تمام وعدے پورے کریں گے، بڑے سرپرائز آنے والے ہیں، آصف زرداری کا دعویٰ درست، اپوزیشن کے پاس 172 سے زیادہ ووٹ ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کو کچے اور پکے کا پتہ نہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل مونس الٰہی سے کہا تھا پاکستان تحریک انصاف میں اپنی پارٹی میں ضم کر لو، یہ والی آفر بی اے پی پارٹی کو بھی کی گئی، یہ ناسمجھی والی سوچ ہے، مہنگائی، ساڑھے تین سال کی پرفارمنس کی وجہ سے حالات ان کے خراب ہوئے، چھوٹے ہسپتالوں میں مک مکا ہو رہا ہے، صحت کارڈ کا آڈٹ تو کرائیں پہلے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ حکومت میں عقل و دانش کا 100 فیصد فقدان نظر آرہا ہے، حکومت کے علاوہ تمام جماعتوں نے ہمیں پیشکش کی، حکومت کے گھبراہٹ کے فیصلے سامنے آ رہے ہیں، بس ایک ہی شخص گھبرایا ہوا پھر رہا ہے،پہلے حکومت اور پھر اپوزیشن جلسوں کے اعلان منسوخ کرے۔

    چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ تنہا نہیں سب اکٹھے فیصلے کرینگے، ہمارا فیصلہ ایم کیو ایم کی وجہ سے رکا ہوا ہے، ایم کیو ایم کے پیپلز پارٹی کے ساتھ مسائل ہیں، کل کی ملاقات میں آصف زرداری نے ایم کیو ایم کے 70 فیصد معاملات حل کردیئے ہیں، آصف زرداری اپوزیشن کے ضامن بنے ہوئے ہیں، لیگی صدر شہباز شریف کے ساتھ ملاقات جلد ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ اپوزیشن خان کوہٹانے کے لیے متحد ہے، یہ جو بھاگ دوڑ کر رہے ہیں یہ حکومت کے لیے پریشانی کی نشانی ہے، حکومت کو اپنے لوگوں سے خطرہ ہے، جہانگیر ترین گروپ عثمان بزدار کو ہٹا کر دم لے گا، ان کے ایڈوائزر تباہی پھیر رہے ہیں، شیخ رشید نے دل میں کیا گلا رکھا ہے پتا نہیں،وزیر داخلہ کے پاس تجربہ ہے ان کو خان صاحب کوسمجھانا چاہیے، جن کے پاس ایک ووٹ ان کے پاس وزیراعظم جا رہے ہیں، وفد بھیجنے کا وقت گزر گیا، ن لیگ سے سیاسی اور نظریاتی اختلاف ہے۔

    مسلم لیگ ق کے مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ جو بھی ہمیں وزارت اعلیٰ پنجاب کی پیشکش کرے گا ہم اس کا ساتھ دینگے۔ ذرائع نے بتایا کہ ق لیگ کی ن لیگ سے بھی بات چیت جاری ہے ن لیگ سے سیاسی اور نظریاتی اختلاف ہے تاہم خواہش ہے کہ معاملات طے ہوں۔ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت کے ساتھ معاملات طے ہوتے ہیں تو یہ بھی اچھی بات ہے لیکن اسمبلیوں کی مدت پوری ہونی چاہیے۔

    ق لیگ کا کہنا ہے کہ صرف وزارت اعلیٰ پنجاب ہی نہیں ہمارا موقف موجودہ اسمبلیوں کی مدت پوری کرنا بھی ہے اور معاملات طے کرنے کیلیے اسے ہمارے اس موقف کی حمایت کرنا ہوگیذرائع کا کہنا ہے کہ ق لیگ چاہتی ہے کہ جس سے جو بھی کمٹمنٹ کی جائے اس پر فوری عمل ہونا چاہیے اور اسمبلیوں کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے۔

    واضح رہے کہ ق لیگ کے ذرائع کے حوالے سے یہ خبر اس وقت آئی ہے جب ن لیگ کی جانب سے حمزہ شہباز کو اگلا وزیراعلیٰ پنجاب بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    حمزہ شہباز کے ترجمان عمران گورایا نے صحافی سے گفتگو کے دوران بتایا تھا کہ اگلے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز ہونگے۔اسی حوالے سے حمزہ شہباز نے ترین گروپ کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی تھی جس میں عثمان بزدار کو ہٹانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔