Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پاکستان میں کورونا سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی مثبت کیسز کی شرح 1.28 فیصد

    پاکستان میں کورونا سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی مثبت کیسز کی شرح 1.28 فیصد

    پاکستان میں عالمی وبا کورونا وائرس کے کیسز میں واضح کمی آگئی ہے، 2 سال بعد پہلی بار ملک میں 24 گھنٹے میں کورونا سے کسی شخص کا انتقال نہیں ہوا۔

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے جاری کئے گئے تازہ اعداو شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کے 34 ہزار 476 ٹیسٹ کیے گئے جس میں مزید 443 مثبت کیسز سامنے آئے ہیں-

    رپورٹس کے مطابق 24 گھنٹوں میں کورونا سے کسی شخص کا انتقال نہیں ہوا جبکہ ملک میں کورونا کیسز کی شرح 1.28 فیصد رہ گئی ہے۔

    دوسری جانب چین میں کورونا بے قابو ہوگیا جس کے باعث دنیا بھر میں پھر نئی لہر کا خطرہ منڈلانے لگا ہےبین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق چین میں کورونا کے نئے کیسز کی شرح 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    این سی اوسی کا ملک بھرمیں کورونا سے متعلق تمام پابندیاں ختم کرنے کا اعلان

    چین میں کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد اسرائیل میں بھی کورونا کی نئی قسم سامنے آگئی ہے جس کے بعد امریکا اور یورپ پر بھی کورونا کی نئی لہر کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔

    چین میں کورونا کی صورت حال بے قابو ہو گئی ہےاور کورونا پابندیوں سے تقریباً 3 کروڑ افراد متاثر ہیں۔چین کو فروری 2020 کے بعد سے اب تک کورونا کی بدترین صورتحال کا سامنا ہے، یہاں چند دنوں سے روزانہ 3 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔

    چین کے علاوہ ہانگ کانگ، جنوبی کوریا سمیت افریقی اور یورپی ممالک میں بھی کورونا کے کیسز بڑھنے لگے ہیں۔

    کورونا کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بتائی جانیوالی تعداد سے تین گنا زائد ہے

  • ملک بھر میں یوم پاکستان آج ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے،اسلام آباد میں مسلح افواج کی پریڈ جاری

    ملک بھر میں یوم پاکستان آج ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے،اسلام آباد میں مسلح افواج کی پریڈ جاری

    ملک بھر میں آج یوم پاکستان ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے،یوم پاکستان کے موقع پر آج ملک بھر میں عام تعطیل ہے-

    باغی ٹی وی :وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے شکر پڑیاں پریڈ گراؤنڈ میں یومِ پاکستان کی مرکزی تقریب منعقد کی گئی، جس میں صدرِ مملکت، وزیرِ اعظم عمران خان، پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ شریک ہوئے-

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ندیم رضا، نیول چیف ایڈمرل اجمل خان نیازی،وزیرِ دفاع پرویز خٹک اور ایئر مارشل ظہیر احمد بابر بھی یومِ پاکستان کی مرکزی تقریب میں شامل ہوئے او آئی سی کے وزرائے خارجہ کو بھی یومِ پاکستان پریڈ میں خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔

    صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی آمد پر خصوصی بگل بجایا گیا، اس کے بعد قومی ترانہ پڑھا گیا جس کے احترام میں تقریب کے تمام شرکاء کھڑے ہو گئے۔
    https://twitter.com/AyeshaMalickPTI/status/1506496852606259203?s=20&t=qUUkcFzKkJjsp1qAp19uPQ
    قومی ترانے کے بعد تلاوتِ قرآن پاک ترجمے کے ساتھ پریڈ گراؤنڈ کی فضاؤں میں گونجنے لگی صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے خصوصی جیپ میں سوار ہو کر مسلح افواج کا معائنہ کیا۔


    ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں پاک فضائیہ نے سلامی پیش کی جدید ترین جے 10 سی جنگی طیاروں نے فلائی پاسٹ کیا، شاندار فضائی مظاہرے میں جے ایف 17 تھنڈر، ایف 16 اور دیگر جنگی طیارے شامل رہے۔

    صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ باہمی اتحاد اور تعاون سے تمام چیلنجز کا مقابلہ کیا جائے گا پاکستان تمام ممالک کے ساتھ امن چاہتا ہے، ہم نے آزادی کے تحفظ کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں ہم نے اندرونی اور بیرونی سازشوں پر کامیابی حاصل کی اور کرتے رہیں گے ہم نے علمائے کرام کے ساتھ مل کر کورونا وائرس کی وباء کا مقابلہ کیا ہمارے سب ادارے جمہوریت کے استحکام اور قانون کی بالا دستی چاہتے ہیں۔

    اس سال یومِ پاکستان کی مرکزی پریڈ کی تھیم ’شاد رہے پاکستان‘ رکھی گئی، یہ دعائیہ تھیم قومی ترانے کے حصے ’مرکزِ یقین شاد باد‘ سے لی گئی پریڈ میں تینوں مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دستوں نے حصہ لیا۔

    پریڈ میں آرمرڈ کور، آرٹلری اور ایئر ڈیفنس انجینئرز کے دستے دشمن پر ہیبت طاری کرنے والے سامانِ حرب کے ساتھ حصہ لیا، ایس ایس جی کے کمانڈوزنے فری فال کا مظاہرہ کیا-

    میزائل، یو اے وی پاکستان کے ناقابل تسخیر دفاع کی علامت کے طور پر پریڈ کا حصہ بنے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ثقافتی فلوٹس نے بھی تقریب کو چار چاند لگایا او آئی سی کے فلوٹ کو یومِ پاکستان کی پریڈ میں خصوصی طور پر شامل کیا گیا –

    یومِ پاکستان کے موقع پر پر سربراہِ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے اپنا پیغام جاری کیا ہے۔

    اپنے پیغام میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا کہنا ہے کہ 23 مارچ پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ہے23 مارچ کو مسلمانانِ برصغیر نے پہلی بار باضابطہ علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا یومِ پاکستان آباؤ اجداد کی آزادی کے لیے قربانی اور طویل جدوجہد کی علامت ہے اس سال یومِ پاکستان خصوصی اہمیت کا حامل ہے، قوم پریڈ کے موقع پر جے 10 سی جہاز کا مظاہرہ دیکھے گی۔

    سربراہِ پاک فضائیہ نے یہ بھی بتایا کہ جے 10 سی طیارے حال ہی میں پاک فضائیہ کا حصہ بنے ہیں، جو ہماری جدت پر مبنی پالیسی کا شاہکار ہیں۔

    آج دن کا آغاز توپوں کی سلامی سے ہوا، جبکہ نماز فجر کے بعد ملک کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کیلئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں پاکستان میں بسنے والی اقلیتیں بھی یوم پاکستان بھرپورطریقے سے منا رہی ہیں، گرجا گھروں، مندروں اورگوردواروں میں بھی ملکی سلامتی اور امن و امان کے لیے خصوصی دعائیں کی جا رہی ہیں۔

    تمام سرکاری و نجی عمارتوں پر قومی پرچم لہرائے گئے ہیں، پاک فوج کی طرف سے وفاقی دارالحکومت میں 31جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں 21،21توپوں کی سلامی دی گئی۔

    یومِ پاکستان پر مسلح افواج کی پریڈ کی اہم تقریب آج اسلام آباد میں ہوئی،جس میں صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، مسلح افواج کے سربراہان اور دیگر اہم سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات اور غیر ملکی مہمانوں نے شرکت کی پریڈ میں تینوں مسلح افواج کے دستوں نے حصہ لیا پریڈ میں آرمرڈ کور، آرٹلری اور ایئر ڈیفنس انجینیرز کے دستے دشمن پر ہیبت طاری کرنے والے سامانِ حرب کے ساتھ حصہ لیں گے اور ایس ایس جی کے کمانڈوز فری فال کا مظاہرہ کیا۔

    کراچی میں قائد اعظم جبکہ لاہورمیں مزاراقبال پرگارڈزکی تبدیلی کی پروقارتقریب منعقد ہوئی، جہاں پر پر ستلج رینجرز کی جگہ پاک فضائیہ کا چاک و چوبند دستہ اعزازی گارڈز کے فرائض سنبھالے جس میں مہمان خصوصی ایئر وائس مارشل زبیر حسن خان ایئر آفیسر کمانڈنگ پی اے ایف ایئرمین اکیڈمی کورنگی کریک نے شرکت کی، مہمان خصوصی ایئر وائس مارشل زبیر حسن خان نے مزار اقبال پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔

    واضح رہے کہ 23 مارچ 1940 کو آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں منظور کی گئی جلاس کے دوران شیر بنگال مولوی فضل الحق نے قرارداد پیش کی قرارداد کی یاد میں منایا جاتا ہے جس کی روشنی میں برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لئے ایک علیحدہ وطن کا خواب شرمندہ تعبیر کیا یہ قرارداد لاہور منٹو پارک میں میں پیش کی گئی جہاں اس کی یادگار کے طور پر مینار پاکستان تعمیر کیا گیا منٹوپارک کے مقام پرآج گریٹراقبال پارک موجود ہے۔

    قرارداد کا اردو ترجمہ مولانا ظفر علی خان نے کیا۔ اس کی تائید میں خان اورنگ زیب خان، حاجی عبداللہ ہارون، یگم مولانا محمد علی جوہر، آئی آئی چندریگر، مولانا عبدالحامد بدایونی اور دوسرے مسلم اکابرین نے تقاریر کیں تقاریر کے بعد مسلمانوں کےلیےعلیحدہ وطن کی قرارداد منظور کرلی گئی جسے قرارداد لاہور کا نام دیا گیا۔ بیگم محمد علی جوہر نے تقریر میں قرارداد کوپہلی بارقرارداد پاکستان کہا۔

    قرارداد میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان کےوہ علاقے جو مسلم اکثریتی اورجغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہیں ان کی حد بندی ایسے کی جائے کہ وہ خود مختارآزادمسلم ریاستوں کی شکل اختیار کرلیں۔

    قرارداد کے مطابق جن علاقوں میں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں انہیں آئین کے تحت مذہبی، قافتی، سیاسی، اقتصادی، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کے تحفظ کی ضمانت دی جائے کیونکہ ہندوستان کا موجودہ آئین مسلمانوں کے حقوق پورے نہیں کرتا قرارداد پاکستان کے 7 برس بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان کرہ ارض پر وجود میں آیا اور پوری آب و تاب کے ساتھ چمکا۔

    وزیراعظم عمران خان نے یوم پاکستان کی مناسبت سے جاری اپنے پیغام میں کہا کہ 23 مارچ تخلیق پاکستان کے حقیقی مقاصد انصاف اور مساوات پر کاربند رہنے کے ہمارے عزم کی تجدید کا دن ہے، آج ہم بابائے قوم اور تحریک آزادی کے ان تمام رہنماؤں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے بے مثال قربانیوں کے ذریعے قوم کو متحد کرنے کی جدوجہد کی۔

    عمران خان نے کہا کہ نوجوانوں کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان ایک طویل جمہوری جدوجہد سے معرض وجود میں آیا اور اب اس کے استحکام اور ترقی کی کلید سخت محنت ، دیانتداری اور اخلاقیات میں مضمر ہے، یہ دن مناتے ہوئے ہمیں قائد اعظم محمد علی جناح کے دیئے ہوئے سنہری اصولوں ایمان ، اتحاد اورتنظیم پر کاربند رہنے کی ضرورت ہے، ہمیں خود کو ریاست مدینہ کی طرز پر ملک کو ایک حقیقی فلاحی ریاست بنانے کیلئے وقف کرنا چاہیے۔

    وزیراعظم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مجھ سمیت تمام پاکستانیوں کو ملک کے عظیم بانیان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے یوم پاکستان کی مناسبت سے جاری اپنے پیغام میں کہا کہ یوم ِ پاکستان برصغیر کی تاریخ میں کئی حوالوں سے اہم دن ہے، 1940ء میں اس دن مسلمانوں نے ’’جداگانہ انتخاب‘‘ کی بجائے ’’علیحدہ ریاست‘‘ کا مطالبہ کیا۔

    ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ’اس دن مسلمانوں نے انگریزوں پر واضح کر دیا کہ کانگریس مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی جماعت نہیں، اس دن مسلمانوں نے واضح کیا کہ برصغیر کی تقسیم میں مزید تاخیر نہیں کی جا سکتی، ہمارا فرض ہے کہ ہم قوم کیلئے بروقت اور دانشمندانہ سیاسی فیصلے لینے والے بانیوں کو خراج عقیدت پیش کریں۔

    صدر مملکت نے کہا کہ ’وقت نے مسلمانوں کے علیحدہ وطن کے مطالبے کو سیاسی طور پر درست ثابت کیا ہے، جموں و کشمیر، بھارت میں مسلمانوں کی صورت حال واضح ثبوت ہیں کہ متحدہ ہندوستان میں ہندو اکثریت کے رحم و کرم پر مسلمانوں کا کیا حشر ہوتا، ہمیں مختلف قومیتوں اور اقلیتوں کو ایک قوم میں یکجا کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش تمام چیلنجز پر اجتماعی کوششوں سے قابو پایا جا سکتا ہے، وہ دن دور نہیں جب پاکستان ایک معاشی طور پر مضبوط اور خوش حال ملک بن جائے گا، ہمیں اپنے آباؤ اجداد کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے مل کر قومی اتحاد اور سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

  • ڈاکوں شہریوں کو مار رہے ہیں:انتقام جمہوری لوگوں سے لیا جارہا ہے:حلیم عادل شیخ

    ڈاکوں شہریوں کو مار رہے ہیں:انتقام جمہوری لوگوں سے لیا جارہا ہے:حلیم عادل شیخ

    کراچی : ڈاکوں شہریوں کو مار رہے ہیں کوئی پکڑنے والے نہیں:انتقام جمہوری لوگوں سے لیا جارہا ہے:حلیم عادل شیخ نے ایم پی اے سیعد آفریدی اور شاہنواز جدون کے اوپر دہشتگردی کے مقدمات کے حوالے سے کہا ہے کہ رمیش کمار کے گھر کے باہر احتجاج کیا گیا تو ہمارے کارکنوں کے اوپر کیس دائر کیے گئے

    حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ہم سب ایم پی ایز آئی جی آفیس کے سامنے گئے تھے ہم نے غلط سیکشن ختم کرنے کا التجا کی،پولیس منشیات فروشی کرتی ہے، ہمارے کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ آپ نے سندھ کے عوام کا کندھا شرم سے جھکا دیا ہے

    حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ آپ لوگوں نے سندھ ہائوس کو بروکری کے لیے استعمال کیا دھندا کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ الحمدللہ وہاں تو گیم اوور ہوچکی ہے ٹائے ٹائے فش ہوچکی ہے،ہمارے ورکر ہماری جن ہے، ورکر ہماری شان ہے، ان کا کہنا تھا کہ انشاء اللہ پولیس کے کمداروں کو نمٹے گے، ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ ہائوس میں جس طرح بیٹھ کر عدم اعتماد کا اعلان کرنا ضمیر کو بھیجنا ہے

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف رکن اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار کے گھر کے باہر احتجاج کے معاملے پر مقامی عدالت نے پی ٹی آئی کے 2 ایم پی ایز کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرلی جبکہ تین کارکنوں کو جیل بھیج دیا۔

    کراچی کی مقامی عدالت میں اراکین سندھ اسمبلی شاہنواز جدون اور سعید آفریدی وکلا کے ہمراہ پہنچے، عدالت نے پی ٹی آئی کے دو ایم پی ایز کی 29 مارچ تک ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی، سعید آفریدی، شاہنواز جدون کو 50 ہزار کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔

    پولیس نے پی ٹی آئی کے گرفتا ر 3 کارکنوں کو بھی عدالت میں پیش کیا، پی ٹی آئی وکلا نے کہا عدالت ملزمان کو فوری رہا کرے، ملزمان نے کوئی جرم نہیں کیا، صرف احتجاج کا حق استعمال کیا۔

    عدالت نے ملزموں کی فوری رہائی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے تین کارکنوں کو جیل بھیج دیا، درخواست ضمانت پر 25 مارچ کیلئے نوٹس جاری کر دیئے، ملزمان فیاض، ناصر اور نعمان نے رمیش کمار کے گھر کے باہر احتجاج کیا تھا، یکجہتی کیلئے حلیم عادل شیخ اور دیگر بھی سٹی کورٹ پہنچے۔

  • شہبازشریف قول وفعل کے کتنےپکے؟:شہبازشریف کے ماضی نے مستقبل پراعتراضات لگادیئے

    شہبازشریف قول وفعل کے کتنےپکے؟:شہبازشریف کے ماضی نے مستقبل پراعتراضات لگادیئے

    اسلام آباد:شہبازشریف قول وفعل کے کتنے پکے ہیں:ماضی کی سیاست مستقبل کے بیانیے میں کتنی ہم آہنگی؟حقائق بول اُٹھے،اطلاعات کے مطابق اس وقت پاکستان کی سیاست میں تضادات کے حوالے سے بڑی دلچسپ چیزیں سامنے آرہی ہیں ، کہیں پی ٹی آئی کے سابقہ بیانیئے اور موجودہ پالیسی میں فرق ہے تو کہیں ن لیگ کی قیادت کے قول وفعل میں بہت بڑا تضاد پایا جارہا ہے ،

    اس حوالے سے ویسے تو بہت سے حقائق ہیں لیکن فی الوقت ان دنوں پاکستان میں ضمیرفروشی کی منڈیاں‌ لگی ہوئی ہیں اور خریدوفروخت کرنے والے بروکرز اپنے ہی دعووں کی نفی کررہے ہیں ، مریم نواز، نوازشریف اور پوری ن لیگ اس بات پرچیخیں مار مار کرکہہ رہی تھی کہ سینیٹ انتخابات میں ضمیرخریدے گئے اور پھر اس کی آڑ میں ن لیگ کی قیادت نے ضمیرفروشوں پرغصہ نکالنے کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے افراد اور اداروں پر نکالا جن کا اس سے دور تک کا بھی تعلق نہیں تھا

    ایسے ہی ن لیگ کے صدر شہبازشریف نے ریمارکس دیئے تھے جو تاریخ کا حصہ بن گئے لیکن شہبازشریف اپنے ہی الفاظ اور کردار کی نفی کرتے ہوئے ان دنوں ضمیرفروشی کوحلال سمجھ رہے ہیں اور اس کی آڑ میں بائیس کروڑ پاکستانیوں کےلیے پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں‌ ،

    شہبازشریف اس وقت ضمیرفروشوں کو مجاہد قراردے رہے ہیں جبکہ ماضی میں شہبازشریف انہی ضمیرفروشوں کوسب سے بڑے مجرم قرار دے رہے تھے

    اس وقت جب چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف نےاسے جمہوریت کا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ کہ ضمیر فروشی ہوئی ہےاور میں ضمیر فروشی پر لعنت بھیجتا ہوں ۔

     

    جادو چل گیا ، جمہوریت کو نقصان پہنچا، ضمیر فروشی ہوئی، شہباز شریف

     

    پارلیمنٹ ہاؤس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں شہبازشریف کا کہنا تھا کہ جادو تو چلا ہے، ضمیر فروشی ہوئی ہے۔صحافی کے سوال پر کہ کون سا جادو چلا ہے ؟ شہباز شریف نے جواب دیا کہ آپ کو پتہ ہے کہ امیر ترین جو ہیں وہ حرکت میں آئے ہیں اور ضمیر فروشی ہوئی۔

    اس وقت دوسروں کو الزام تراشی دینے والے شہبازشریف آج نہ تو اپنے بڑے بھائی کی مذمت کررہے ہیں اور نہ ہی آصف علی زرداری کی جن کا پیٹ پھاڑنے کے لیے شہبازشریف نے اپنی مہم پراربوں روپے اڑا دیئے تھے

    اس وقت اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے شہباز شریف نےکہا تھا کہ 14 ارکان کم ہوئے ہیں، ہمارے 64 ارکان تحریک کے حق میں کھڑے ہوئے تھے، آج جو ہوا اس سے جمہوریت کو نقصان پہنچا۔

    لیکن بڑے افسوس کے ساتھ وہی شہبازشریف آج ضمیرفروشی کو حلال سمجھ رہے ہیں اور آنے والی نسلوں کوایک غلط روش پر لگا رہے ہیں اور ساتھ ہی اس غلط روش کی ترویج واشاعت کے لیے میڈیا کا بھرپوراستعمال کررہےہیں

  • جناب وزیراعظم:آپ 2ارب مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن:سعودی وزیرخارجہ کا وزاعظم  کوخراج تحیسن

    جناب وزیراعظم:آپ 2ارب مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن:سعودی وزیرخارجہ کا وزاعظم کوخراج تحیسن

    اسلام آباد:جناب وزیراعظم:آپ 2ارب مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن:سعودی وزیرخارجہ کا وزاعظم کوخراج تحیسن ،اطلاعات کے مطابق آج وزیراعظم عمران خان سے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود نے ملاقات کی اور آو آئی سی کے پلیٹ فارم سے جس طرح عالم اسلام ،ختم نبوت،دین اسلام کا دفاع، فلسطین ، کشمیراور دیگربین الاقوامی مسائل کے حل کے لیے کوششوں پر خراج تحسین پیش کیا ہے ،

    ذرائع کے مطابق اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان سے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود نے ملاقات کی، ملاقات میں علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں افغانستان اور بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال زیر بحث آئی۔

    ملاقات کے دوران وزیراعظم نے حرمین شریفین کے متولی شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے تہنیتی پیغام پہنچایا۔

    اکتوبر 2021 میں اپنے دورہ سعودی عرب کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم نے تازہ ترین پیش رفت کا جائزہ لیا وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کی اہمیت پر زور دیا

    عمران خان نے اسلامی تعاون کی تنظیم کو اسلامی دنیا کے مقاصد کے لیے اہم پلیٹ فارم میں آگے بڑھانے کے لیے مملکت کے قائدانہ کردار کو سراہا اور امت کو درپیش بے شمار چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے،اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے لیے او آئی سی کے رکن ممالک کے اجتماعی اقدام کی اہمیت پر زور دیا

    انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے منصفانہ کاز کے لیے مملکت کی مستقل حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا، شہزادہ فرحان نے اسلام آباد میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کے کامیاب انعقاد پر وزیراعظم کو مبارکباد دی۔

    وزیراعظم نے پاک سعودی تعلقات کی خصوصی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات قریبی برادرانہ تعلقات، تاریخی روابط اور مجموعی سطح پر تعاون پر مبنی ہیں۔

     

    آپ پاکستان نہیں عالم اسلام کے لیڈر ہیں ، امہ مسلمہ آپ کے ساتھ کھڑی ہے ، عراقی وزیرخارجہ
    دوسری طرف وزیراعظم عمران خان سے عراقی وزیر خارجہ نے ملاقات کی، ملاقات کے دوران وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور دوستانہ تعلقات کا ذکر کیا۔

    وزیراعظم نے عراق کے ساتھ پاکستان کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کی جڑیں مشترکہ عقائد، مشترکہ اقدار اور ثقافتی وابستگیوں میں گہرے ہیں۔

    عمران خان نے عراق کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عراقی حکومت کی کامیابیوں کا اعتراف کیا۔

     

    جناب وزیراعظم صاحب:حکومت چین اور چینی قوم آپ کے ویژن سے بہت متاثر ہیں :چینی وزیرخارجہ کی وزیراعظم سے ملاقات پرگفتگو
    وزیراعظم عمران خان سے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کی ملاقات ہوئی ہے، ملاقات کے دوران وزیراعظم نے چینی طیارے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

    اسلامی تعاون تنظیم کے وزراء خارجہ کونسل کے 48 ویں اجلاس میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورہ پر آئے ہوئے چینی وزیر خارجہ نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے وانگ یی کا پاکستان میں گرمجوشی سے خیرمقدم کیا اور گزشتہ روز ہونے والے چینی طیارے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دُکھ کا اظہار کیا۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاک چین دوطرفہ تعلقات کی رفتار اور بدلتے علاقائی، بین الاقوامی منظر نامے پر تبادلہ خیال کیا۔

    دونوں رہنماؤں نے یوکرین کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، پائیدار مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کی ضرورت کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اس کے غیر ذمہ دارانہ رویے کے بارے میں بتایا۔

    عمران خان نے بھارت کی طرف سے پاکستان کی حدود میں میزائل کے نام نہاد "حادثاتی” میزائل کے بارے میں چینی وزیر خارجہ کو بھی آگاہ کیا اور پاکستان کی طرف سے مشترکہ تحقیقات کے مطالبے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا جائے کہ ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو۔

    انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک کو افغانستان میں امن و استحکام کو فروغ دینے اور وہاں انسانی بحران کو روکنے کے لیے گہرے تعلقات کو جاری رکھنا چاہیے ۔

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا دوسرا مرحلہ صنعتی ترقی، زراعت اور معلومات جیسے شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کے ساتھ اقتصادی ترقی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو تقویت دے گا۔

  • چین نے کیسے عروج پایا،مسلم دنیا بالخصوص پاکستان کوکیا کرناچاہیے؟ویبنار میں گفتگو

    چین نے کیسے عروج پایا،مسلم دنیا بالخصوص پاکستان کوکیا کرناچاہیے؟ویبنار میں گفتگو

    اسلام آباد : اسلام آباد میں ہونے والی او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس کے موقع پر، جس میں چین کے وزیر خارجہ وانگ یی، اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک، پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ (پی سی آئی) کی کلیدی تقریر کے ساتھ ایک تاریخی دورہ کیا۔ ایک خصوصی ویبنار کا انعقاد کیا جس میں OIC میں چین کی شمولیت کا خیرمقدم کیا گیا اور اس بات پر تبادلہ خیال کیا گیا،اس موقع پر کہ چینی نظام نے غربت کے خاتمے سے لے کر گڈ گورننس تک اپنے لوگوں کے لیے کس طرح ڈیلیور کیا ہے۔ ‘فرینڈز آف سلک روڈ’ کے بینر تلے منعقد ہونے والا ویبنار جس کا موضوع تھا ‘

    ذرائع کے مطابق پورے عمل کی عوامی جمہوریت: چینی نظام کو سمجھنا’، پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید کے افتتاحی کلمات کے ساتھ شروع ہوا۔ اور سینیٹ کی دفاعی کمیٹی، جس میں انہوں نے "تاریخی پہلے” کے طور پر او آئی سی میں چین کی شمولیت کا خیرمقدم کیا، جہاں مسلم دنیا میں چین کا داخلہ امریکہ کے اخراج کے ساتھ موافق ہے، جنوب مغربی ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے امریکی چھانٹی کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔

    سینیٹر مشاہد حسین سید نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قریبی ہم آہنگی کا بھی خیرمقدم کیا، جس سے او آئی سی میں چین کو دعوت دی گئی، جو چین کے دیرینہ تعلقات اور مسلم دنیا کی حمایت کا اعتراف تھا، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سعودی عرب قریبی تعاون کی یاد تازہ کرتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ رشتہ جس نے 1974 میں لاہور میں پاکستان میں پہلی کامیاب OIC سربراہی کانفرنس کو قابل بنایا۔

    سینیٹر مشاہد حسین نے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کے تناظر میں کہا کہ چین مسلم دنیا میں ایک کلیدی کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے اور پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے اس کردار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کی ملکی اور غیر ملکی پالیسیوں میں تزویراتی تبدیلی، خاص طور پر سعودی معاشرے، معیشت، ثقافت میں کھلے پن اور مذہبی انتہا پسندی کو روکنے اور خواتین کے حقوق کے فروغ کی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری کی تعریف کی۔ ترکی سینیٹر مشاہد حسین نے پاکستان، چین اور سعودی عرب کے درمیان ایک ’’اسٹرٹیجک تکون‘‘ کے ابھرتے ہوئے دیکھا جو مسلم دنیا میں اتحاد، اقتصادی ترقی اور روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں تزویراتی تبدیلی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان (ایم بی ایس) کی روشن خیال قیادت کی وجہ سے ہوئی ہے اور اب سعودی عرب اور چین کے درمیان امریکی ڈالر کے بجائے چینی کرنسی RMB میں تیل فروخت کرنے پر بات چیت بھی ہو رہی ہے۔ جبکہ 2022 کے موسم گرما میں صدر شی جن پنگ کا سعودی عرب کا دورہ کرنے کا امکان ہے اور سعودی ولی عہد ایم بی ایس کا پاکستان کا دورہ کرنے کا امکان ہے۔

    چین میں جمہوریت کے معاملے کے حوالے سے سینیٹر مشاہد حسین سید نے دو سروے کا حوالہ دیا جو امریکہ میں کرائے گئے تھے، ایک ہارورڈ یونیورسٹی نے جولائی 2020 میں اور دوسرا ایک امریکی عالمی پی آر کنسلٹنسی ایڈل مین ٹرسٹ بیرومیٹر کی طرف سے جنوری 2022 میں کیا گیا تھا۔ جس میں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ‘چینی حکومت پچھلی 2 دہائیوں کے دوران کسی بھی وقت کے مقابلے میں زیادہ مقبول تھی’، جو کہ چینی عوام میں ان کی حکومت سے 80 فیصد سے زیادہ اطمینان کی سطح کو ظاہر کرتی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ عوام کے اس اعلیٰ اطمینان کی وجہ اچھی حکمرانی اور بہتر معیار زندگی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی نظام کی ساکھ کا ایک اہم جزو عوامی توقعات پر پورا اترنے کی صلاحیت ہے، جو چین نے کی تھی۔

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئےچین میں 6 سال خدمات انجام دینے والے سابق سفیر مسعود خالد نے کہا کہ چین نے عالمی بہترین طرز عمل اپناتے ہوئے قانون پر مبنی ریاستی طرز حکمرانی کا اپنا ماڈل تیار کیا ہے جس میں جمہوریت خوشحالی اور مشاورتی عمل پر مشتمل ہے۔ . انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پنگ بدستور مقبول ہیں کیونکہ چینی عوام کی زندگیوں میں روزانہ کی بنیاد پر بہتری لائی جا رہی ہے۔ انہوں نے چین اور امریکہ کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

    صدر شی جن پنگ اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا پر کتابیں لکھنے والے سلطان حالی نے عوام پر مبنی ترقی کے ذریعے چین کی غیر معمولی تبدیلی کا حوالہ دیا جس نے لاکھوں چینیوں کی زندگیوں کو تبدیل کر دیا ہے، خاص طور پر 800 ملین چینی لوگوں کو غربت سے نکالا ہے۔ 3 دہائیوں سے زیادہ. انہوں نے مزید کہا کہ یہ نظام چین کے مطابق ہے

    کیتھ بینیٹ، جو لندن میں مقیم ‘فرینڈز آف سوشلسٹ چائنا’ کے شریک ایڈیٹر ہیں، نے کہا کہ چینی نظام ایک جامع، غیر مخالف جمہوری اخلاقیات کے ساتھ، ہزار سالہ چینی دانشمندی، ہم آہنگی اور اتفاق رائے پر مبنی ہے۔ چین میں کل وقتی سیاست دان نہیں ہے یہاں تک کہ صفائی کے کارکن اور بس ڈرائیور بھی پارلیمنٹ کے رکن بن سکتے ہیں۔

    ایک پاکستانی صحافی اور محقق محترمہ زون احمد خان، جو اب بیجنگ میں سنٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن میں ریسرچ فیلو ہیں، نے کہا کہ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانا اور ان کی سماجی آزادی چین کی کامیابی کی کہانی کا ایک اہم جزو ہے جس نے چین کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ اتنے کم وقت میں اتنا. انہوں نے سی پی سی کی طاقت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘پارٹی چین میں عام لوگوں کو ہیرو بناتی ہے’۔

    لاہور سے تعلق رکھنے والے سماجی سائنسدان اور پروگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن کے صدر رضا نعیم نے چینی سیاسی نظام کی مختلف جہتوں پر توجہ مرکوز کی، جس میں چین کے عوام کے لیے جمہوری جوابدہی اور ڈیلیوری کا مظاہرہ کیا گیا، خاص طور پر کورونا وائرس وبائی مرض کا تجربہ جہاں چین نے ‘ سب سے پہلے لوگ. انہوں نے چینی عوام کی لچک کو سراہتے ہوئے کہا کہ 21ویں صدی اقتصادی اور سیاسی شعبوں میں چین کے عروج سے تشکیل پائے گی۔

  • امریکہ خون خرابےمیں‌ڈوب گیا:فائرنگ سے 70 افراد ہلاک و زخمی

    امریکہ خون خرابےمیں‌ڈوب گیا:فائرنگ سے 70 افراد ہلاک و زخمی

    واشنگٹن :امریکہ خون خرابےمیں‌ڈوب گیا:فائرنگ سے 70 افراد ہلاک و زخمی ،اطلاعات کے مطابق گزشتہ 2 روز کے دوران امریکہ میں ہونے والی فائرنگ کی واردات میں میں 70 افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔

    امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق، گزشتہ 2 روز کے دوران امریکہ کے مختلف علاقوں من جملہ ورجینیا، ہیوسٹن، آرکانزاس اور ٹیکساس میں ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک اور 65 زخمی ہوئے۔

    امریکہ میں فائرنگ کی واردات میں سالانہ کئی ہزار افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

    اسلحے کی خرید و فروخت اور کھلے عام لے کر پھرنے کی آزادی کو امریکہ میں فائرنگ کے ہلاکت خیز واردات میں اضافہ کی اہم وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ امریکہ کے قانون ساز ادارے طاقتور اسلحہ لابی کے اثر و رسوخ کی وجہ سے تاحال، گن کنٹرول قوانین وضع کرنے سے قاصر رہے ہیں۔

    امریکہ کی آبادی دنیا کے 5 فیصد کے برابر ہے تاہم اس ملک میں مسلح حملوں کے ذریعے اجتماعی قتل کا ارتکاب کرنے والوں کا تناسب دنیا میں 31 فیصد ہے۔

    ادھر ایک اور حادثے میں ناروے کی وزارت دفاع نے اتوار کو بتایا کہ ناروے میں نیٹو کی مشقوں کے دوران گر کر تباہ ہونے والے چار امریکی میرینز کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

    ناروے کے سی کنگ ریسکیو ہیلی کاپٹر نے لاشیں شمالی ناروے میں بوڈو کے جنوب میں جائے حادثہ پر پائی جہاں جمعہ کی شام امریکی میرین کور سے تعلق رکھنے والا ان کا V-22B آسپری طیارہ لاپتہ ہو گیا تھا۔

    وزارت نے کہا کہ لاشوں کو امریکہ لے جانے سے پہلے بوڈو لایا جائے گا۔

    اس نے مزید کہا کہ طیارہ بوڈ کے بالکل جنوب میں ایک تربیتی مشن کے دوران نیچے گرا جس میں نیٹو اور شراکت دار ممالک کے 30,000 فوجی شامل تھے۔

    طیارے کے پہاڑ سے ٹکرانے کے پہلے اشارے کے درمیان حادثے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    پولیس کے سرکردہ تفتیش کار کرسٹیان وکران کارلسن نے کہا کہ خراب موسم کی وجہ سے تلاش اور بچاؤ آپریشن نازک تھا — "لیکن انہوں نے لاشیں نکالیں، جو کہ بنیادی ترجیح تھی”۔

    NRK ٹیلی ویژن نے بتایا کہ طیارے کا بلیک باکس برآمد کر لیا گیا ہے۔

    1 اپریل تک جاری رہنے والی مشقوں میں تقریباً 200 طیارے اور 50 کے قریب بحری جہاز حصہ لے رہے ہیں۔

    وزارت نے کہا کہ مرنے والے میرینز تھے جنہیں 2nd میرین ایئر کرافٹ ونگ، II میرین ایکسپیڈیشنری فورس کو تفویض کیا گیا تھا اور عملے کے علاوہ کوئی اور سوار نہیں تھا۔

    ناروے کے دفاعی سربراہ جنرل ایرک کرسٹوفرسن نے متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت کی جبکہ وزارت نے کہا کہ خراب موسم کے باوجود مشق جاری رہے گی۔

    کولڈ رسپانس 2022 کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ نیٹو کی باہمی دفاعی شق کو متحرک ہونے کی صورت میں ناروے اپنی سرزمین پر اتحادیوں کی کمک کا انتظام کیسے کرے گا۔
    ماسکو کے یوکرین پر حملے کے بعد روس اور نیٹو کے درمیان تناؤ بڑھ گیا تھا، لیکن مشقوں کی منصوبہ بندی 24 فروری کو شروع ہونے والے حملے سے بہت پہلے کی گئی تھی۔

  • معروف موسیقار نثار بزمی کی 15 ویں برسی

    معروف موسیقار نثار بزمی کی 15 ویں برسی

    معروف موسیقار نثار بزمی کو دنیا سے رخصت ہوئے 15 برس بیت گئے-

    باغی ٹی وی : نثار بزمی 1924 میں بمبئی کے نزدیک خاندیش کے قصبے میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ نثار بزمی شروع سے ہی مشہور بھارتی موسیقار امان علی خان سے متاثر تھے تاہم انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز ریڈیو ڈرامے ‘‘نادر شاہ درانی’’ کی موسیقی ترتیب دینے سے کیا –

    اداکار محمد علی کو دنیا سے رخصت ہوئے 16برس بیت گئے

    بطور موسیقار ان کی پہلی فلم ’’جمنا پار‘‘ تھی جو 1946 میں ریلیز ہوئی، جس کے بعد ان کی موسیقی ہر فلمساز کی ضرورت بن گئی انھوں نے تقریبا 40 بھارتی فلموں میں موسیقی کی ترتیب کی۔ ممبئی میں ان کا ستارہ اس قدر عروج پر تھا کہ لکشمی کانت پیارے لال جیسے موسیقار اْن کی معاونت میں کام کر چْکے تھے لیکن پاکستان فلم انڈسٹری کے معمار فضل احمد فضلی کے بلاوے پر انہوں نے بھارت چھوڑ کر پاکستان میں سکونت اختیار کرلی۔

    پاکستان میں قدم جمانا بھی کوئی آسان کام نہ تھا کیونکہ یہاں کے فلمی فلک پر بھی اْس وقت موسیقی کے کئی آفتاب اور مہتاب روشن تھے تو اس وقت پاکستان کی فلمی موسیقی میں خورشید انور اور رشید عطرے جیسے موسیقار چھائے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ بابا چشتی، فیروز نظامی، روبن گھوش، سہیل رانا اور حسن لطیف بھی اپنے فن کا جوہر دکھا رہے تھے۔

    عظیم انقلابی شاعر حبیب جالب کی 29 ویں برسی

    ان کی بطور موسیقار پاکستان میں پہلی فلم ’’ایسا بھی ہوتا ہے‘‘ تھی جس میں ان کے گیت’’محبت میں تیرے سرکی قسم ایسا بھی ہوتا ہے‘‘ پر احمد رشدی اور میڈم نور جہاں نے اپنی مدھر آوازوں کے جادو جگائےجس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑکرنہیں دیکھا ’صاعقہ‘ ، ’انجمن‘ ، ’میری زندگی ہے نغمہ‘، ’خاک اور خون‘ اور ’ہم ایک ہیں‘ جیسی فلموں کی موسیقی تخلیق کی۔

    1966 میں انھوں نے ’’لاکھوں میں ایک‘‘ کی موسیقی مرتب کی تو پاکستان کی فلمی دنیا میں موسیقی سے تعلق رکھنے والے ہر شخص پر یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ بمبئی کا یہ موسیقار محض تفریحاً یہاں نہیں آیا بلکہ ایک واضح مقصد کے ساتھ یہاں مستقل قیام کا ارادہ رکھتا ہے جب کہ نثار بزمی کو ان کی فنی خدمات کے باعث پرائیڈ آف پرفارمنس سمیت کئی دیگر ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

    ثانیہ کوعدنان صدیقی کیساتھ کام کرتے دیکھنا کبھی نہیں چاہوں گا ، شعیب ملک

    نثاربزمی کو نیم کلاسیکی دھنوں سے لے کر فوک اور پاپ میوزک کی دھڑکتی پھڑکتی کمپوزیشن تک ہر طرح کی بندشوں میں کمال حاصل تھا اسی لئے محمد رفیع، احمد رشدی، مہدی حسن اور نور جہاں جیسے منجھے ہوئے گلوکاروں کے ساتھ ساتھ انھوں نے رونا لیلٰی اور اخلاق احمد جیسی آوازوں کو بھی نکھرنے اور سنورنے کا موقع دیا۔ عظیم موسیقار 22 مارچ 2007 کو اس دارفانی سے کوچ کر گئے لیکن ان کی تخلیق کردہ موسیقی آج بھی کروڑوں لوگوں کو مسحورکردیتی ہے۔

    بھارتی فلم "کشمیرفائلز” کو سنسر کرنا نیوزی لینڈ کے باشندوں کی آزادی پر حملہ ہوگا،سابق…

  • نواز شریف کےحوالے سے’’ایک روپیہ‘‘ کی کرپشن کا ثبوت نہیں ملا،سربراہ براڈ شیٹ نے معافی مانگ لی

    نواز شریف کےحوالے سے’’ایک روپیہ‘‘ کی کرپشن کا ثبوت نہیں ملا،سربراہ براڈ شیٹ نے معافی مانگ لی

    براڈ شیٹ کے سربراہ کاوے موسوی نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف لگائے گئے الزامات سے دستبردار ہوتے ہوئے معافی مانگ لی۔

    باغی ٹی وی : جنگ اخبار کے مطابق انٹرویو میں براڈ شیٹ کے سی ای او کاوے موسوی نے کہا کہ وہ دو دہائیوں تک احتساب کے نام پر نوازشریف کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کا حصہ بننے پر شرمندہ ہیں۔

    جب جہازبھربھرکے لائے جا رہے تھےتوضمیرکی آوازکہاں تھی؟ مولانا فضل الرحمان

    انہوں نے کہا کہ وہ ریکارڈ کی درستگی کے لئے معافی چاہتے ہیں کیونکہ دودہائیوں سے جاری براڈ شیٹ کی فرانزک تحقیقات کے دوران نواز شریف یا ان کی فیملی کے حوالے سے ’’ایک روپیہ‘‘ کی کرپشن کا ثبوت نہیں ملا۔

    گزشتہ برس کاوے موسوی حکومت پاکستان کے خلاف 30ملین ڈالر کا کیس اس وقت جیتا جب ہائی کورٹ کی مصالحتی عدالت کے جج سر انتھونی نے کاوے موسوی کے حق میں فیصلہ دیا تھا اس کیس پر پاکستان کے 65ملین ڈالر سے زائد کے اخراجات اٹھے تھے۔

    براڈ شیٹ نے 1999ء میں پرویز مشرف حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا تاکہ نواز شریف، بے نظیر بھٹو اور سول و فوجی پس منظر رکھنے والے سیکڑوں پاکستانیوں کی طرف سے مبینہ طور پر لوٹی گئی رقم کا پتہ چلا یا جا سکے۔

    مسئلہ فلسطین کے حل تک اسلامی ممالک اسرائیل سے تعلقات قائم نہ کریں، سراج الحق

    کاوے موسوی نے کہاکہ براڈ شیٹ کی تحقیقات کے نتیجہ میں سابق وزیراعظم نواز شریف یاان کے خاندان کے کسی بھی فرد سے متعلق بدعنوانی، چوری شدہ ، چھپی ہوئی یا ایسی دولت جس کے ذرائع کے متعلق نہ بتایا جاسکے، ایسی دولت کا ایک روپیہ بھی نہیں ملا۔ انہوں نے کہاکہ لوٹی ہوئی دولت تو بہت ملی، لیکن میں تقریباً 21سالہ تحقیقات کے بعد کہہ سکتا ہوں کہ اگر کوئی شخص میرے دعوے کے خلاف بات کرتا ہے تو وہ جھوٹ بول رہا ہے۔

    کاوے موسوی جنہوں نے قومی احتساب بیورو( نیب) کے ساتھ بڑے پیمانے پرڈیل کی میں محسوس کرتا ہوں کہ ہم بھی نیب نامی کریمنل آرگنائزیشن کی غلط بیانی کا شکار تھے ہماری نیت صاف تھی لندن میں ٹریبونل میں معاملے کے اختتام تک ہمیں جو بھی معلومات ملیں ہم نے انہیں نیب تک پہنچایا لیکن انہوں نے کوئی دلچسپی نہیں لی۔ ان کا کہنا تھاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ نیب نے سیاسی بنیادوں پر نواز شریف کے خلا ف مقدمات بنائے اور یہ بھی وجہ ہے کہ وہ آج نواز شریف سے معافی کے طلب گار ہیں-

  • اسلامو فوبیا کے خلاف پاکستان مسلمان ممالک کی آواز بنا،سعودی وزیر خارجہ

    اسلامو فوبیا کے خلاف پاکستان مسلمان ممالک کی آواز بنا،سعودی وزیر خارجہ

    اسلام آباد میں اوآئی سی وزرائےخارجہ کونسل کا2روزہ 48واں اجلاس شروع ہو گیا ہے-

    باغی ٹی وی :سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے او آئی سی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامو فوبیا کے خلاف اقوام متحدہ میں پاکستان کا کردار قابل تعریف ہے اسلامو فوبیا کے خلاف پاکستان مسلمان ممالک کی آواز بنا اور اسلامو فوبیا کے خلاف 15 مارچ عالمی دن قرار دینا بہترین کامیابی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں معاون ثابت ہو گاعالمی قرار دادوں کے مطابق فلسطین کا مسئلہ حل ہونا چاہیے اور ٹرسٹ فنڈ کے ذریعے نقل مکانی کرنے والوں کی مدد کی جائے گی مسئلہ کشمیر فریقین کے درمیان حل طلب معاملہ ہے اور ہم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں جبکہ مذاکرات سے معاملہ حل ہونا چاہیے۔

    قبل ازیں سيكرٹرى جنرل اسلامی تعاون تنظیم حسين ابراہيم طحہٰ نے اوآئی سی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں جار ی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سب کو کردار ادا کرناہوگا-

    سيكرٹرى جنرل اسلامی تعاون تنظیم حسين ابراہيم طحہٰ نے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر حل طلب معاملہ ہے جس کا حل ضروری ہے،بھارت نے کشمیرکی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی ،بھارت نے کشمیرکی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدام پر تشویش ہےکشمیریوں کویواین قراردادوں کےمطابق حق خودارادیت دیاجائے-

    انہوں نے کہا کہ فلسطین سے متعلق اسرائیل کی پالیسی پر تشویش ہے فلسطینیوں کو بنیادی حقوق سے محروم نہ کیاجائے فلسطین میں اسرائیل جارحیت قابل مذمت ہے خطے میں امن اور استحکام کے خواہاں ہیں مسلمان ممالک کو او آئی سی کی سپورٹ کی ضرورت ہے،افغانستان پر اوآئی سی اجلاس کامیاب رہا افغانستان میں امن ،بحالی اور معاشی استحکام مغرب کے لیے بھی اہم ہے-

    اوآئی سی سیکریٹری جنرل ابراہیم حسین نے کہا تھا کہ یمن مسئلے کا پائیدار حل ہونا چاہیے یمن میں خونریزی فوری بند ہونی چاہیے اسلاموفوبیا کے خلاف حکمت عملی وضع کی جائے،مالیاتی بحران سے نمٹنے کےلیے سب کو مل کر آگے جانا ہوگا روس یوکرین جنگ سے خطے میں جاری صورتحال پر منفی اثر ہوا ،روس یوکرین کے درمیان موثر اوربامعنی مذاکرات کی ضرورت ہے بھارت کی طرف سے کشمیرکی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدام پر تشویش ہے-

    دریں اثنا وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اوآئی سی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اوآئی سی 2 ارب مسلمانوں کی مشترکہ آوازہے افغانستان میں جاری صورتحال دنیا کے سامنے ہے، افغانستان میں نئی حکومت ،انسانی بحران اور افغانوں کی مدد چیلنج رہا، او آئی سی کے ذریعے دنیا کی توجہ افغانستان کی جانب مبذول کرانا چاہتےہیں۔

    اسلامو فوبیا کے خلاف اقوام متحدہ میں پیشر فت خوش آئند ہے ،پاکستان نےاسلام وفوبیا کے خلاف قرارداد کیلئےکردارادا کیا، یواین نے ہماری آوازپر 15مارچ کواسلاموفوبیا سےمتعلق عالمی دن مقررکیا، پاکستان نے دنیا میں ہر فورم پر اسلامو فوبیا کے خلاف آواز اٹھائی، ہم نے خطے میں امن کی بات کی اور استحکام کے لیے اقدامات کرتے رہےہیں، پاکستان او آئی سی کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔

    پاکستان نے اکنامک ڈپلومیسی کوفروغ دیا، افغانستان کو دہائیوں چیلنجز اور مشکلات کا سامنا رہا، پاکستان نے افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی مقرر کیا، پاکستان نےافغانستان سے متعلق اوآئی سی خصوصی اجلاس کی میزبانی کی،افغانستان میں انسانی بحران سے بچنے کیلئے ٹرسٹ فنڈ قائم کیاگیا-

    انہوں نے کہا کہ آج مسلمان ممالک میں بیرونی مداخلت جاری ہے، فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں دیا جا رہا، مسلم ممالک کومشرق وسطیٰ میں تنازعات کا سامنا ہے،تنازعات کے باعث ترقی کاعمل متاثرہوتا ہے، دنیا میں تنازعات کا بڑاحصہ مسلم ممالک میں ہے، تنازعات کے خاتمے کیلئے امہ کے درمیان تعاون،روابط کافروغ ضروری ہے۔

    شاہ محمود نے کہا کہ فلسطین کےمسلمانوں کوان کاحق نہیں دیا جارہا، مقبوضہ کشمیراورفلسطین گزشتہ 7 دہائیوں سے قبضے کا شکارہیں، بطوررکن ملک پاکستان مسلم ممالک کےدرمیان رواداری کوفروغ دےگا، اوآئی سی مسلم امہ کےدرمیان اتحاد اوریکجہتی کیلئے کام کررہی ہے، مشرق اورمغرب کےدرمیان کشیدگی سےعالمی امن کوخطرہ ہے، دنیا میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم سے غربت میں اضافہ ہورہا ہے۔

    پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیرمیں خونریزی جاری ہے، آرایس ایس نظریےسے متاثربھارتی حکومت کشمیرمیں ظلم ڈھارہی ہے، کشمیری حق خودارادیت کی جنگ لڑرہےہیں افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان سمیت دہشت گردگروپوں کے خلا ف موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے-

    قبل ازیں پارلیمنٹ ہاؤ س میں میڈیا سے گفتگو کے دوران شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اوآئی سی کی تاریخ میں پہلی بار چین کے وزیرخارجہ آئے ہیں، چین کے ساتھ تعلقات ڈگمگانے کی قیاس آرائیوں پرپانی پھرگیا ہے، چین کا پیغام ہے کہ پاکستان تم تنہا نہیں ہو، کل بھی پاکستان کے ساتھ تھے آج بھی ہیں۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کچھ لوگ ایک رنگ دیتے ہیں، چین کے وزیرخارجہ کی موجودگی سے ان کے رنگ میں بھنگ پڑ گیا ہے، چین مسلم ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کوبڑھانا چاہتا ہے، آج پاکستان کےلیے اہم دن ہے، پاکستان نے دسمبر کے اجلاس میں افغانستان کے مسئلے پر دنیا کی توجہ مرکوزکرائی، اوآئی سی اجلاس میں ہمارا ارادہ کشمیر میں مظالم کواجاگرکرنا ہے، پاکستان کا وزیراعظم اور وزیرخارجہ کشمیرکا علم بلند کرے گا، واضح پیغام دیں گے کشمیریوں ہم تمہارے ساتھ ہیں،ہم بھولے نہیں۔

    وزیرخارجہ نے بلاول بھٹو کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا تھا کہ اپنے بیان پر نظرثانی کر کے انہوں نے بھی اوآئی سی کا خیر مقدم کیا ہے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے بعد اوآئی سی بڑا فورم ہوسکتا ہے، اگرہم تقسیم ہوگئے تو دو ارب مسلمان مایوس ہوں گے، اگر اہم متحد ہوگئے تو 15 مارچ کو اسلامو فوبیا کی قرارداد کی طرح بہت سی کامیابیاں ملیں گی، ہماری تو تحریک بھی انصاف کی ہے، ہم انصاف کو اجاگر کریں گے۔

    انہوں نے بتایا کہ بھارت نے کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کے لیے پوری کوشش کی، بھارتی سفارتکار دن رات اسی کام میں لگے رہے، بھارتی سفارتکار بھی رکاوٹیں ڈالتے رہے، کچھ ہمارے لوگ بھی معصومیت میں ان کے جال میں آگئے، میں اپنے لوگوں کی نیت پرشک نہیں کروں گا،کہا گیا نہیں ہونے دیں گے، دھرنا دیں گے، یہ عزت پاکستان کی ہے، حکومت وقت کی نہیں ہے، آج جو لوگ آئے ہیں پاکستان کےلیے آئے ہیں، حکومتیں آتی جاتی رہتیں ہیں، بھارتی عزائم کے باوجود اوآئی سی کانفرنس بھرپورطریقے سے ہورہی ہے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان اوآئی سی اجلاس کےلیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ چکے ہیں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود ،فلسطین،موریطانیہ ،ترکی کے وزرائےخارجہ پارلیمنٹ ہاوس میں پہنچ چکے ہیں-

    چین کے اسٹیٹ کونسلر ،وزیر خارجہ وانگ ای وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چینی ہم منصب کا خیر مقدم کیا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چینی ہم منصب میں تہنیتی جملوں کا تبادلہ کیا-

    کویت اورتیونس اوربنگلادیش کے وزرائے خارجہ،قازقستان کےنائب وزیراعظم اوآئی سی بھی اجلاس کا حصہ ہیں سیکریٹری جنرل اوآئی سی کانفرنس بھی کانفرنس کا حصہ ہیں-

    عراقی نائب وزیراعظم،صدراسلامی ترقیاتی بینک بھی کانفرنس میں شریک ہوئے ہیں گیانا کےوزیرخزانہ وفدسمیت او آئی سی کانفرنس میں شرکت کے لئے پہنچ گئے ہیں وزیراعظم عمران خان اوآئی سی اجلاس سے کچھ دیربعد خطاب کریں گے-

    وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی ہال میں مسلم دنیا کے وزرائے خارجہ اور وفود موجود ہیں حکومت کو 3ماہ میں دوسری بار اہم کانفرنس کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا-

    اپوزیشن رہنما شہباز شریف نے کہا کہ او آئی سی کانفرنس ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دنیا بڑی تبدیلیوں سے گزر رہی ہےنئی حقیقتوں نے گلوبل آرڈر کو تبدیل کر دیا، غیر یقینی کی صورت حال ہےامید ہے کانفرنس سے مسلم امہ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی نئی راہیں کھیلیں گی-

    اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کی کونسل (سی ایف ایم) کا 48 واں اجلاس (آج) بروز منگل 22 مارچ سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شروع ہو گیا ہے جس میں مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز اور ابھرتے ہوئے مواقع پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    پاکستان کی پارلیمنٹ کی عمارت میں ہونے والے دو روزہ اجلاس کا موضوع ’اتحاد، انصاف اور ترقی کے لیے شراکت داری‘ ہے اسلامی تعاون تنظیم کے رکن اور مبصر ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ سطح کے وفود اجلاس میں موجود ہوں گے اور 23 مارچ کی یوم پاکستان پریڈ میں اعزازی مہمان کی حیثیت سے بھی شرکت کر رہے ہیں-

    اجلاس میں تمام57 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ،مبصرین اور مہمانوں کی آمد جاری ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان آج افتتاحی سیشن سے کچھ دیر بعد خطاب بھی کریں گے پاکستانی دارالحکومت میں منعقدہ اجلاس میں کشمیر، فلسطین، اسلام فوبیا، اُمّہ کے اتحاد سمیت مختلف مسائل و معاملات پر ایک سو چالیس قراردادیں پیش کی جائیں گی۔

    صدر پاکستان وزرائے خارجہ اور مندوبین کے اعزاز میں عشائیہ دیں گےجبکہ سعودی وزیر خارجہ اجلاس کی صدارت باقاعدہ پاکستان کے حوالے کریں گے، اجلاس میں ورکنگ گروپس کے بند کمرہ اجلاس ہوں گے، مختلف کلسٹرز قراردادوں کا جائزہ لیں گے۔

    اس کے علاوہ کشمیر پر او آئی سی رابطہ گروپ کا اجلاس ہو گا، جس میں کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی مذمت کی جائے گی اور یکم اگست 2019کے یکطرفہ بھارتی اقدام کو سختی سے مسترد کیا جائے گا کانفرنس میں افغانستان کی شرکت کا خصوصی بندوبست کیا گیا ہے، افغانستان کے حوالے سے گزشتہ خصوصی اجلاس کے فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔

    اجلاس میں چین، برطانیہ، کینیڈا، جرمنی، آسٹریلیا سمیت کئی اہم ممالک کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے، او آئی سی وزرائے خارجہ اور دیگر کو 23مارچ کی یوم پاکستان پریڈ بھی دکھائی جائے گی۔

    اجلاس کے اوپننگ اور کلو زنگ سیشن اوپن ہوں گے، 23 مار چ کو کانفرنس کے اختتام پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین براہیم طحٰہ کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس کریں گے اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود،سيكرٹرى جنرل اسلامی تعاون تنظیم حسين ابراہيم طحہٰ اور صدر اسلامى بینک سمیت کئی دیگر رہنما اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

    دوسری جانب گزشتہ روز اسلام آباد ٹریفک پولیس نے اوآئی سی کانفرنس کے لیے ٹریفک پلان جاری کیا جس کے مطابق 21 تا24 مارچ ریڈزون عام ٹریفک کے لیے مکمل بندہوگا۔

    گزشتہ روز آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھاکہ او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس افغانستان کی سنگین انسانی صورت حال سے نمٹنے کا تاریخی موقع ہوگا، اجلاس میں خطےکو درپیش چیلنجز سے نمٹےکے لیے مشترکہ حکمت عملی کی راہ بھی ہموار ہوگی۔

    بروز پیر 21 مارچ کو پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے میں او آئی سی کے اجلاس میں شرکت کرنے والے وزرائے خارجہ اور وفود کو خوش آمدید کہا۔

    کانفرنس میں شرکت کرنے والے مبصرین، شراکت داروں اور تمام وزرائے خارجہ اور وفود کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ اتحاد، انصاف اور ترقی کے موضوع کے تحت او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں تفصیلی بات چیت ہوگی۔ آپ کی موجودگی پاکستانی شہریوں کے لیے باعث فخر ہے۔‘

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کا 48 واں اجلاس تاریخی نوعیت کا ہے۔ مسلسل دوسری بار او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کی میزبانی پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔ او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے او آئی سی وزرائے خارجہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کا 48 واں اجلاس امت مسلمہ کے لیے اہم ہے۔ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام انہوں نے کہا کہ ’پوری اپوزیشن بالعموم اور مسلم لیگ (ن) بالخصوص عالم اسلام کے تمام بھائیوں اور بہنوں کو خوش آمدید کہتی ہے، وہ ہمارے معزز مہمان ہیں۔‘