Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • عمران خان عوامی لیڈر:پاکستان ہی نہیں بلکہ خطے کی ضرورت ہے:عدم اعتماد میں اللہ خیرکریں گے:اسد عمر

    عمران خان عوامی لیڈر:پاکستان ہی نہیں بلکہ خطے کی ضرورت ہے:عدم اعتماد میں اللہ خیرکریں گے:اسد عمر

    لاہور:عمران خان عوامی لیڈر:پاکستان ہی خطے کی ضرورت ہے:عدم اعتماد میں اللہ خیرکریں گے:،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان عوامی لیڈر ہیں ، الیکشن میں جانے سے نہیں گھبرائیں گے،

    انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ہمارے اتحادیوں بارے دعویٰ کر رہی ہے، آج صرف 86 ممبران نے تحریک عدم اعتماد پر دستخط کیے، ظاہرہے اپوزیشن کے پاس نمبرز پورے نہیں ہیں، اپوزیشن کے پاس آج تک نمبرز پورے نہیں ہیں، پریس کانفرنس میں بیٹھنے والے ایک دوسرے کوچورڈاکوکہتے تھے۔ پاکستان کے عوام یہ تماشا دیکھ رہے ہیں۔

    پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے 172 نمبرز پورے کرنے ہیں، اگران کے پاس واضح اکثریت ہوتی تو آج ہی 172 ارکان سے دستخط کرا لیتے۔ قومی اسمبلی کے اندر ہماری کل تعداد 179 ہے، یہ تعداد سپیکر اور اتحادیوں کو ملا کر ہے، پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ کے حوالے سے دعوے درست نہیں ہیں، ہمیں پتا ہے کون کہاں کھڑا ہے، اگراپوزیشن کے دعوؤں کو دیکھا جائے تو 90 سے 95 فیصد تو عمران کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    اسد عمر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کبھی جہانگیرترین کے خلاف بات نہیں کی، ترین نے بھی کبھی عمران خان کے خلاف بات نہیں کی، جہانگیرترین کوبالکل تحفظات ہیں جس طریقے سے ان کے کیسزکوہینڈل کیا گیا،ترین کے خیال میں ان کے کیسزمیں انصاف نہیں برتا گیا۔ جس دن عدم اعتماد کی ووٹنگ ہو گی نظرآجائے گا یہ لوگ کدھرکھڑے ہیں۔ وہی ہوگا جو منظور خدا ہو گا۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان عوامی لیڈرالیکشن میں جانے سے نہیں گھبرائیں گے، اس وقت اپوزیشن کے دعوے پرالیکشن کرانے کی کوئی منطق نہیں بنتی۔ اسمبلی میں عمران خان کے ووٹ کی وجہ سے پہنچا ہوں، عمران خان سے بڑی قربت ہے، ہر ایم این ایز، ایم پی ایز مجھ سے رابطے میں ہوتے ہیں، ایسا نہیں ہے سارے لوگ عثمان بزدارکے خلاف ہیں، چیف منسٹرکے اوپنین پول کے مطابق عثمان بزدار چاروں صوبوں میں نمبرون یا نمبر ٹو ہوتے ہیں، کچھ لوگ عثمان بزداربارے تحفظات بھی کرتے ہیں۔

  • بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا خفیہ اطلاعات پر آپریشن،7دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا خفیہ اطلاعات پر آپریشن،7دہشت گرد ہلاک

    راولپنڈی:بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا خفیہ اطلاعات پر آپریشن،7دہشت گرد ہلاک ،اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں امن دشمنوں کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے 7 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے تربت میں دہشتگردوں کے ٹھکانے کی موجودگی پر خفیہ معلومات پر آپریشن کیا، یہ آپریشن صوبے میں امن کے بیرونی سپانسر شدہ دشمنوں کو پکڑنے کے لیے کیا گیا۔

    بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے علاقے میں کلیئرنس آپریشن شروع کیا تو دہشتگردوں نے اپنے کیمپ سے فرار ہونے کی کوشش اور اس دوران سکیورٹی فورسز کا دہشتگردوں کے ساتھ اندھا دھند فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے میں 7 دہشتگرد مارے گئے، مارے جانے والوں میں کمانڈر حاصل ڈوڈ اور واشدل شامل ہیں۔ یہ دہشت گرد مکران ڈویژن میں حالیہ فائرنگ اور سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھے۔بیان کے مطابق آپریشن کے دوران اسلحہ اور گولہ بارود کا ایک بڑا ذخیرہ بھی برآمد کر لیا جو دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال کرنا تھا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملک میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والوں کے خاتمے کے لیے آپریشن جاری رہے گا اور انہیں بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  • یوکرینی صدر بھی اپنی قوم کے کپتان ثابت ہوئے:تمام پراپیگنڈے دم توڑگئے

    یوکرینی صدر بھی اپنی قوم کے کپتان ثابت ہوئے:تمام پراپیگنڈے دم توڑگئے

    کیف:یوکرینی صدر بھی اپنی قوم کے کپتان ثابت ہوئے:تمام پراپیگنڈے دم توڑگئے ،اطلاعات کے مطابق یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ وہ دارالحکومت کیف سے باہر نہیں گئے، اور اپنے دفتر میں موجود ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق ایک ویڈیو بیان میں صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ میں نہ تو خوف زدہ ہیں اور نہ کسی کو خوف زدہ کر رہا ہوں، میں کیف میں ہی رہوں گا۔یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر ان کے سرکاری اکاؤنٹس پر جاری ہوئی، اور چند ہی گھنٹوں میں وائرل ہوئی، اس میں وہ اپنی قیام گاہ کے بارے میں انکشاف کرتے نظر آتے ہیں۔

    اس سے قبل کئی افواہوں اور رپورٹوں میں کہا جا رہا تھا کہ یوکرینی صدر دارالحکومت کیف سے باہر جا چکے ہیں، تاہم زیلنسکی نے کہا میں یہاں شارع بینکوفا میں ہوں جہاں صدارتی دفتر ہے، اور میں روپوش نہیں اور نہ کسی سے خوف زدہ ہوں۔

    زیلنسکی نے روسی فوج پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے انسانی گزر گاہوں کے ذریعے یوکرینی شہریوں کے انخلا کو ناکام بنایا، یہ انخلا دو طرفہ بات چیت کے بعد طے ہوا تھا، زیلنسکی نے سوال کیا کہ کیا انسانی گزر گاہوں کے حوالے سے سمجھوتے پر عمل درامد ہوا؟ نہیں، اس کے بدلے روسی ٹینکوں، میزائل لانچروں اور روسی بارودی سرنگیں مسلط کی گئیں۔

  • روس کے خلاف بغاوت :یوکرین کیلیے خزانے کے منہ کھول دیے گئے

    روس کے خلاف بغاوت :یوکرین کیلیے خزانے کے منہ کھول دیے گئے

    خارکیف :روس کے خلاف بغاوت :یوکرین کیلیے خزانے کے منہ کھول دیے ،اطلاعات کے مطاابق روس کے خلاف لڑائی کی وجہ سے روس مخالف قوتوں کی طرف سے خزانوں کے منہ کھول دیئے گئے ہیں‌، روس سے جنگ میں تباہی پر ورلڈبینک نے یوکرین کے لیے بڑا امدادی پیکیج منظور کر لیا۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹر نے یوکرین کے لیے 489 ملین ڈالرز کا سپورٹ پیکیج منظور کیا ہے۔پیکیج میں یوکرین کے لیے 350 ملین کا ضمنی قرض اور 139 ملین ڈالرز گانٹیز شامل ہے۔ پیکیج کا مقصد روس سے جنگ میں تباہ کاریوں پر یوکرین کی امداد کرنا ہے۔

    اس حوالے سے عالمی بینک کا کہنا ہے کہ سپورٹ پیکیج سے یوکرین کے لوگوں کو خدمات فراہم کرنے کا موقع ملے گا۔

    واضح رہے کہ ایک جانب عالمی برداری روس پر پابندیاں عائد کر رہی ہے تو دوسری جانب امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین سمیت کئی ممالک یوکرین کی مکمل سپورٹ کر رہے ہیں۔امریکا کے صدر جو بائیڈن نے یوکرین کے لیے 350 ملین ڈالرز فوجی امادا کی منطوری دے دی ہے.

    صدر جو بائیڈن نے محکمہ خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ یوکرین کو امریکی اسٹاک سے 350 ملین ڈالر مالیت کے اضافی ہتھیار فراہم کیے جائیں کیوں کہ یوکرین روسی حملے کو پسپا کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

    دیگر ممالک نے بھی یوکرین کو فوجی سامان دینے کا وعدہ کیا ہے کیوں کہ یوکرین کی روسی فوج کے خلاف لڑ رہی ہے۔ بیلجیم نے 2,000 مشین گن اور 3,800 ٹن ایندھن دینے کا وعدہ کیا ہے۔

    فرانس نے روس کے حملے کے خلاف یوکرین کو دفاعی فوجی ساز و سامان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فرانسیسی فوج کے ترجمان نے ہفتے کے روز کہا کہ جارحانہ ہتھیار بھیجنے کا معاملہ ابھی زیر غور ہے۔

  • عمران خان کےخلاف عدم اعتماد:اپوزیشن کوپہلا بڑاجھٹکا لگ بھی گیا

    عمران خان کےخلاف عدم اعتماد:اپوزیشن کوپہلا بڑاجھٹکا لگ بھی گیا

    لاہور:عمران خان کےخلاف عدم اعتماد:اپوزیشن کوپہلا بڑاجھٹکا لگ بھی گیا:،اطلاعات کے مطابق ملک میں جاری سیاسی صورتحال کے پیش نظر پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ملاقات ہوئی جس میں تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر بات چیت ہوئی۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد کے بعد 11 جماعتی پی ڈی ایم اتحاد کی طرف سے اب بندے پورے کرنے کا سلسلہ جاری ہے

    اسی تناظر میں پاکستان ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچے جہاں پر دونوں کی ملاقات ہوئی۔

    باغی ٹی وی کو ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اس ملاقات میں چوہدری شجاعت حسین نے مولانا فضل الرحمن کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ حضرت جی چوہدری جس کے ساتھ وعدہ کرتے ہیں اس کو نبھاتے بھی ہیں ، ہم عمران خان کے اتحادی ہیں اور اتحادی رہیں گے ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس موقع پر فضل الرحمن نے چوہدری شجاعت کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا چکمہ دینے کی بھی کوشش کی تو چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ وہ ہمارا اور ہمارے اتحادیوں کا معاملہ ہے

    اس موقع پر یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ فضل الرحمن نے چوہدری شجاعت حسین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ اگرہماری حمایت کرتے ہیں تو ہم عمران خان کو ہٹاسکتے ہیں ،

    ادھر اس حوالے سے یہ بھی کہا جارہاہے کہ فضل الرحمن کے ان جملوں سے دعووں کی قلعی کھل کرسامنے آگئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اپوزیشن کو حکومتی اتحاد کے 25 ارکان کی خاموش حمایت حاصل ہے ،سوشل میڈیا پراس حوالے سے یہ خیالات پیش کیے جارہے ہیں کہ اگراپوزیشن کے پاس 25 ارکان ہیں تو پھرپاکستان مسلم لیگ کی بار بار کیوں منتیں کی جارہی ہیں ،اس سے معلوم ہوتا ہے اپوزیشن حقائق کو صیح بیان نہیں کررہی

    قبل ازیں متحدہ اپوزیشن کے قائدین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کیخلاف پر امید ہیں عدم اعتماد کامیاب ہو گی، 172 ارکان سے زیادہ ووٹ لیں گے۔

    اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری، پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف نے کہا کہ کل پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام(ف) اور مسلم لیگ(ن) اور ہمارے ساتھ منسلک اتحادی پارٹیوں کی طرف سے ہم نے مل کر مشاورت کی اور ہم نے فیصلہ کیا کہ آج ہم تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں جمع کروائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم اس بات کو خفیہ رکھا تھا اور اس کی سب نے پاسداری کی، آج تمام جماعتوں نے ریکویزیشن اور تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے اپنے اراکین سے دستخط لیے اور آج ہم نے اس کو جمع کرا دیا ہے۔

    ان کا کہناتھا کہ پونے چار سال بعد اس تحریک عدم اعتماد کی ضرورت اس لیے پڑی کیونکہ اس سلیکٹڈ حکومت اور وزیراعظم نے جو کچھ اس ملک کے ساتھ معاشی، سماجی، معاشرتی حوالے سے کردیا ہے اس کی نظیر پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔

  • رانا شمیم کے کارہائےنمایاں:نیب میں پیش کردیئےگئے:پیش کرنے والے بھی گھرکے بھیدی نکلے

    رانا شمیم کے کارہائےنمایاں:نیب میں پیش کردیئےگئے:پیش کرنے والے بھی گھرکے بھیدی نکلے

    اسلام آباد:رانا شمیم کے کارہائےنمایاں:نیب میں پیش کردیئےگئے:پیش کرنے والے بھی اپنے ہی نکلے،اطلاعات کے مطابق عدلیہ پر حملہ کرنے والی اہم شخصیت جن کو اہل پاکستان رانا شمیم کے نام سے جانتے ہیں اس وقت ان کے کارہائے نمایاں کے حوالے سے ایک کیس نیب کے سپرد کردیا گیا ہے جس میں‌ کہا گیا ہے کہ انہوں نے جس صفائی سے 60 کروڑ روپے کے ساتھ کھلوآڑ کیا ہے اس سے پہلے شاید کوئی ایسے عہدے پر بیٹھا افسر نہ کرسکا

    ادھر اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہواہے کہ نیب میں‌ یہ درخواست فروری کے تیسرے ہفتے دائر کی گئی تھی لیکن اس کو میڈیا پرآنے سے روکنے کے لیے ن لیگ کے کچھ بڑوں کی کوششیں کارگر ہوئیں اور انہوں نے اس کرپشن سکینڈل کو میڈیا پرآنے سے روکا رکھا تاہم باغی ٹی وی کو یہ دستایزات مل چکی ہیں‌

    رانا شمیم کہ جن کو نوازشریف کی خصوصی شفقت حاصل تھی اور اسی شفقت کی وجہ سے نوازشریف نے رانا شمیم کو چیف جسٹس گلگت بلتستان لگا کرعدلیہ کے ذریعے اپنی سیاست کو تقویت دینے کی کوشش کی

     

    ان دستایزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ رانا شمیم نے شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی لا کالج کے سربراہ کی حیثیت سے جہاں ماہانہ لاکھوں روے تنخواہ اور لاکھوں ہی مراعات کے ذریعے حاصل کئے اس کے علاوہ بھی مال بنانے میں کامیاب رہے ، دستاویزات میں کہا گیا ہےکہ رانا شمیم نے شہید ذوالفقار علی بھٹو لا کالج کراچی میں‌ جس طرح لوٹ مار کا بازار گرم رکھا اس کی مثال پاکستان میں اس سے قبل کسی تعلیمی ادارے میں نہیں ملتی

     

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”470929″ /]

    اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ رانا شمیم نے بیرون ممالک بھی جائیدادیں بنا رکھی ہیں ، ان میں ملائیشیا کا نام بھی سامنے آیا ہے ، اس کے ساتھ ساتھ رانا شمیم نے کیٹل فارمز اور دیگر جائدادیں بھی بنا رکھی ہیں

    نیب سے درخواست کی گئی ہے کہ رانا شمیم کے خلاف کارروائی کی جائے اور ان سے لوٹی گئی دولت کا حساب مانگا جائے

    یاد رہے کہ اس سے پہلے اس حوالے سے بہت اہم انکشافات ہوچکے ہیں جن کے مطابق سابق چیف جج گلگت بلتستان و سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثارکےخلاف بیان حلفی دینے والے جسٹس ریٹائرڈ ڈاکٹر رانامحمد شمیم کراچی میں دو سال قبل2 ستمبر 2019ءسے شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لا کے وائس چانسلر تعینات ہیں۔ یونیورسٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ ڈاکٹر رانا محمد شمیم، صدر، وزیراعظم اور سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز سے زیادہ تنخواہ وصول کررہے ہیں جو تقریباً 30 لاکھ روپے ماہانہ ہے۔

    یونیورسٹی ذرائع کا کہناہے کہ وائس چانسلرکی دیگر مراعات کو اگر شامل کرلیا جائے تو یہ رقم ماہانہ 50 لاکھ روپے تک پہنچ جاتی ہے۔ یونیورسٹی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لا کا مین کیمپس کراچی میں واقع ہے اور تدریسی عمل کراچی میں جاری ہے مگر شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاکراچی کے وائس چانسلر جسٹس ریٹائرڈ ڈاکٹر رانا محمد شمیم گزشتہ20ماہ کے دوران ایک ماہ سے بھی کم عرصہ دفتر میں حاضر رہے ہیں۔ یونیورسٹی ذرائع کا کہناہے کہ وائس چانسلر نے اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ ہاﺅس نمبر390، اسٹریٹ نمبر75،E- 11/3میں ایک دفتر قائم کیا ہوا ہے جس کا وہ کرایہ نہیں لیتے۔ اس دفتر کےلئے یونیورسٹی کا ایک ڈرائیور، باورچی، مالی اور ایک افسر ( کیئر ٹیکر) تعینات ہے جبکہ وائس چانسلرکےلئے کراچی کے علاقے کلفٹن میں ایک لگژری فلیٹ کرائے پر لیا گیا ہے جس کا کرایہ تقریباً ایک لاکھ روپے ماہانہ ہے جبکہ یہاں پر بھی عملہ موجود ہے۔

    یونیورسٹی ذرائع کاکہناہے کہ یونیورسٹی کے اہم امور آن لائن نمٹائے جارہے ہیں۔ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق سندھ حکومت کے زیرانتظام چلنے والی شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لا کراچی میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں سامنے آچکی ہے جس کی وجہ سے یونیورسٹی کا خزانہ تقریباً خالی ہو چکاہے۔ یونیورسٹی میں وزٹینگ فیکلٹی کے نام پر اقربا پروری کا مظاہرہ کرتے ہوئے متعدد افراد کو نوازا جاچکاہے۔ یاد رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی منظوری کے بعد جسٹس ریٹائرڈ ڈاکٹر رانا محمد شمیم کو مورخہ2ستمبر2019 کو محکمہ بورڈز اینڈ نیورسٹیز نے شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لا ( زابل) کراچی کا وائس چانسلر تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لا(زابل) میں وائس چانسلرکی اسامی کےلئے تین نام فائنل کئے گئے تھے جن میں دوسرا نام سابق جج حسن فیروز کا تھا جبکہ تیسرا نام پروفیسر ڈاکٹر رخسار احمد کا تھا۔

    باوثوق ذرائع کا کہناہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی اہم ترین شخصیت کی کہنے پر انکا نام وائس چانسلر کےلئے فائنل کیا گیا۔ یونیورسٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی سے طویل عرصے غائب رہنے کی وجہ سے یونیورسٹی کے انتظامی معاملات شدید متاثر ہورہے ہیں

  • عدم اعتماد: اپوزیشن کے8اراکین نےعمران خان کوووٹ دینے کا وعدہ کرلیا:مزید آرہے ہیں :گورنرسندھ

    عدم اعتماد: اپوزیشن کے8اراکین نےعمران خان کوووٹ دینے کا وعدہ کرلیا:مزید آرہے ہیں :گورنرسندھ

    اسلام آباد:عدم اعتماد: اپوزیشن کے8اراکین نےپاکستان کوووٹ دینے کا وعدہ کرلیا:مزید آرہے ہیں :گورنرسندھ نے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا اعلان کرتے ہوئے بڑا پیغام جاری کیا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی صورتحال اور تحریک عدم اعتماد کے آنے کے بعد اپوزیشن کے 8 اراکین نے حکومت کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق اپوزیشن کے 8 اراکین نے وفاقی وزراء سے ملاقاتیں کی، 6 اراکین اسمبلی نے گزشتہ روز وزراء سے ملاقات کی جبکہ 2 اراکین اسمبلی کی آج وفاقی وزراء سے ملاقات ہوئی ہے۔

    اس حوالے سے ذرائع نے مزید بتایا کہ اپوزیشن کے اراکین نے ملاقات میں عدم اعتماد تحریک میں حزب اختلاف کا ساتھ نہ دینے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن کے 10 سے 15 ارکان وزیراعظم کو ووٹ دیں گے، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف ناکامی کی طرح اس بار بھی پی ڈی ایم کو منہ کی کھانا پڑے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے ناراض ارکان سے رابطوں کا ٹاسک دیا ہے، علیم خان سمیت پارٹی کے اہم رہنماؤں سے مثبت گفتگو ہوئی ہے۔

    خیال رہے کہ اپوزیشن نے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے لئے ریکوزیشن جمع کرادی ہے۔

    بیرونی قوتیں پاکستان میں سیاست سیاست کھیل رہی ہیں:میرا ووٹ پاکستان کے لیےہے:جےیوآئی ایم این اے کے ممبر قومی اسمبلی نے حقائق سے پردہ اٹھا کرپاکستان کے خلاف عالمی سازشوں کو بے نقاب کردیا ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جمعیت علماے اسلام کے ایک ایم این اے نے انکشاف کیا ہے کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہے۔

    ذرائع کے مطابق جے یو آئی کے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک رکن قومی اسمبلی نے حکومت کو اپنی حمایت کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ ایم این نے کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہے، ایسی کسی تحریک کا حصہ نہیں بن سکتا جو بیرونی ہاتھوں میں کھیلے۔

    واضح رہے کہ ملکی سیاست میں اس وقت ایک ہلچل مچی ہوئی ہے، اپوزیشن نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرا دی ہے، جس پر 100 سے زائد ارکان کے دستخط موجود ہیں۔

    دوسری طرف حکومت پُر اعتماد نظر آ رہی ہے، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے 8 ایم این ایز نے حکومت کو ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے، 2 اپوزیشن رہنماؤں نے منسٹر انکلیو میں وفاقی وزرا سے کچھ دیر قبل اہم ملاقات بھی کی۔

    ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے اپوزیشن کے مزید ارکان سے بھی رابطے جاری ہیں۔

  • بیرونی قوتیں پاکستان میں‌ عدم اعتماد کروارہی ہیں‌:مگرمیراووٹ پاکستان کےلیےہے:اہم شخصیت کا اعلان

    بیرونی قوتیں پاکستان میں‌ عدم اعتماد کروارہی ہیں‌:مگرمیراووٹ پاکستان کےلیےہے:اہم شخصیت کا اعلان

    اسلام آباد: بیرونی قوتیں پاکستان میں سیاست سیاست کھیل رہی ہیں:میرا ووٹ پاکستان کے لیےہے:جےیوآئی ایم این اے کے ممبر قومی اسمبلی نے حقائق سے پردہ اٹھا کرپاکستان کے خلاف عالمی سازشوں کو بے نقاب کردیا ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جمعیت علماے اسلام کے ایک ایم این اے نے انکشاف کیا ہے کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہے۔

    ذرائع کے مطابق جے یو آئی کے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک رکن قومی اسمبلی نے حکومت کو اپنی حمایت کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ ایم این نے کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہے، ایسی کسی تحریک کا حصہ نہیں بن سکتا جو بیرونی ہاتھوں میں کھیلے۔

    واضح رہے کہ ملکی سیاست میں اس وقت ایک ہلچل مچی ہوئی ہے، اپوزیشن نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرا دی ہے، جس پر 100 سے زائد ارکان کے دستخط موجود ہیں۔

    دوسری طرف حکومت پُر اعتماد نظر آ رہی ہے، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے 8 ایم این ایز نے حکومت کو ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے، 2 اپوزیشن رہنماؤں نے منسٹر انکلیو میں وفاقی وزرا سے کچھ دیر قبل اہم ملاقات بھی کی۔

    ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے اپوزیشن کے مزید ارکان سے بھی رابطے جاری ہیں۔

  • راولپنڈی: پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ ڈراہوگیا

    راولپنڈی: پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ ڈراہوگیا

    راولپنڈی :راولپنڈی: پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ ڈراہوگیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ ڈرا پر ختم ہو گیا اور پاکستانی اوپنرز نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے دوسری اننگز میں سنچریاں اسکور کیں۔

    راولپنڈی میں کھیلا گیا سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ بلے بازوں کے لیے بہترین بیٹنگ پریکٹس ثابت ہوا اور دونوں ٹیموں کے بلے بازوں نے رنز کے انبار لگا دیے۔میچ کے پانچویں اور آخری دن آسٹریلیا نے اپنی پہلی نامکمل اننگز 449 رنز 7کھلاڑی آؤٹ سے دوبارہ شروع کی تو 3.1 اوورز میں صرف 10 رنز کے اضافے سے بقیہ تینوں وکٹیں بھی گنوا بیٹھی۔

     

    آسٹریلیا کی پوری ٹیم پہلی اننگز میں 459رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی اور پاکستان نے پہلی اننگز میں 17رنز کی معمولی برتری حاصل کی۔پاکستان کے لیفٹ آرم اسپنر نعمان علی نے کیریئر کی بہترین باؤلنگ کرواتے ہوئے 6 وکٹیں حاصل کیں، انہوں نے 8 ٹیسٹ میچز میں تیسری بار 5 وکٹیں حاصل کی ہیں۔

    پاکستانی اوپنرز امام الحق اور عبداللہ شفیق نے پہلی اننگز کی طرح دوسری اننگز کا آغاز بھی پراعتماد انداز میں کیا اور کھانے کے وقفے تک کوئی وکٹ نہ گرنے دی۔دونوں نے بہترین بیٹنگ جاری رکھتے ہوئے سنچری شراکت قائم کرتے ہوئے نصف سنچریوں تک بھی رسائی حاصل کی۔

    میچ یقینی طور پر ڈرا کی جانب جاتا دیکھ کر آسٹریلیا نے بھی اپنے مرکزی فاسٹ باؤلرز کو تھکانا مناسب نہ سمجھا اور پارٹ ٹائم باؤلرز کو گیند تھما کر اوورز پورے کرنے کی پالیسی اپنائی۔

     

     

    پاکستانی اوپنرز نے بھی ناتجربہ کار اور کمزور باؤلنگ کو تختہ مشق بناتے ہوئے رنز کے ڈھیر لگا دیے اور دونوں نے اپنی اپنی سنچریاں اسکور کیں۔عبداللہ نے کیریئر میں پہلی مرتبہ سنچری اسکور کی جبکہ امام الحق نے پہلی اننگز کی طرح دوسری اننگز میں بھی سنچری کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔

    دونوں اوپنرز نے اسکور 252 تک پہنچایا تھا کہ دونوں کپتانوں نے امپائرز سے مشاورت کے بعد میچ کے خاتمے پر اتفاق کیا۔پاکستان کی جانب سے عبداللہ نے 136 اور امام نے 111 رنز کی اننگز کھیلی۔دونوں اننگز میں سنچریاں اسکور کرنے پر امام الحق کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

    دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ 12 مارچ سے کراچی میں کھیلا جائے گا جبکہ لاہور کا قذافی اسٹیڈیم میں 21مارچ سے تیسرے ٹیسٹ میچ کی میزبانی کرے گا۔

  • لاہورمجرموں کی آماجگاہ بن گیا:سنگین نوعیت کے جرائم کے اعداد و شمار

    لاہورمجرموں کی آماجگاہ بن گیا:سنگین نوعیت کے جرائم کے اعداد و شمار

    لاہور:پنجاب کے دارلحکومت لاہور میں سنگین نوعیت کے جرائم کے اعداد و شمار سامنے آگئے۔ ذرائع کےمطابق تین دنوں کے اندر لاہور میں 763 جرائم ہوئے جن میں سے زیادہ ترڈاکہ زنی اور لوٹ مار کے ہیں‌

    ریکارڈ کے مطابق دکانوں پر گن پوائنٹ پر ڈکیتیاں اور لاکھوں روپے لوٹ لیے گئے۔پولیس ریکارڈ کے مطابق اسٹریٹ کرائم کی 554 وارداتیں، موبائل فونز، نقدی گن پوائنٹ پر چھین لی گئی۔ جس میں بڑے پیمانے پر مالی نقصان کی بھی اطلاعات ہیں

    ریکارڈ کے مطابق شہر میں نقب زنی کے 5 واقعات رپورٹ ہوئے، چور قیمتی اشیاء لے اڑے۔پولیس ریکارڈ کے مطابق 70 موٹر سائیکلیں گن پوائنٹ پر چھینی گئیں، 42 چوری ہوگئیں۔اس کے ساتھ ساتھ 22 کاریں‌ بھی چوری ہوگئی ہیں‌

    ادھر ذرائع کے مطابق ان دنوں میں‌ بچے سمیت تین خواتین سے زیادتی بھی کی گئی ہے ،

    سال 2021 میں جرائم کی شرح میں 57 فیصد اضافے کے ساتھ لاہور شہر میں جرائم کے اعداد و شمار 2 لاکھ سے تجاوز کر گئے جبکہ حالیہ گزشتہ برسوں میں لاہور میں درج جرائم کی اوسط ایک لاکھ 25 ہزار رہی۔

    ذرائع کے مطابق پولیس حکام جرائم کی اس بڑی تعداد کی وجہ مقدمات کے مفت اندراج کی پالیسی کو قرار دیتے ہیں جبکہ سماجی سائنسدان اسے مہنگائی اور غربت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں جس نے لوگوں کو بے روزگار کر دیا ہے۔

    اس کے علاوہ لاہور پولیس کے اعلیٰ عہدوں پر متواتر اور قبل از وقت تبادلے اور تعیناتیاں، بالخصوص آپریشنز ونگ کے سربراہ کی تبدیلی بھی جرائم کی شرح میں اضافے کا باعث بنی۔

    اعداد و شمار کے مطابق سال 2020 میں صوبائی دارالحکومت کے 84 تھانوں میں ایک لاکھ 33 ہزار 222 مقدمات درج کیے گئے جو سال 2021 میں 2 لاکھ 3 ہزار 452 تک پہنچ گئے، اس کے علاوہ سال 2020 کے دوران 427 اور 2021 میں 432 افراد ہلاک ہوئے۔

    تاہم 2021 میں اغوا برائے تاوان کے واقعات کم واقعات ہوئے جن کی تعداد 9 تھی جبکہ 2020 میں ان کیسز کی تعداد 13 تھی۔

    قتل کے ساتھ ڈکیتی حکومت کے لیے باعث تشویش رہی کیونکہ 2021 میں مبینہ طور پر مزاحمت پر 30 شہریوں کو قتل کیا گیا جبکہ 2020 میں اس حوالے سے رپورٹ ہونے والے قتل کی تعداد 25 تھی۔شہر میں گزشتہ برس 108 ڈکیتی کی وارداتیں رپورٹ ہوئیں جبکہ 2020 میں ان کی تعداد 13 تھی۔

    پولیس ڈکیتیوں کی لہر کو روکنے میں ناکام دکھائی دی کیوں کہ سال 2020 میں ڈکیتی کے 3 ہزار 360 مقدمات درج کیے گئے اور 2021 میں یہ تعداد بڑھ کر9 ہزار 308 ہوگئی جو 5 پزار 948 کا واضھ فرق ظاہر کرتی ہے۔

    اسی طرح چوری کے واقعات بھی 2020 کے 92 سے بڑھ کر سال 2021 میں 199 ہو گئے، 2020 میں 19 کاریں چھینی گئی تھیں جبکہ 2021 میں ایسی 20 وارداتیں ہوئیں۔شہر کے ڈویژنز کے حساب سے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سٹی، صدر اور کینٹ جرائم کے چارٹ میں سرفہرست رہے۔سٹی ڈویژن میں سال 2020 میں جرائم کے 28 ہزار 246 مقدمات درج ہوئے تھے جو 2021 میں بڑھ کر 43 ہزار 807 ہوگئے۔

    اسی طرح صدر ڈویژن میں 2020 میں 28 ہزار 52 کیسز تھے جو اگلے سال بڑھ کر 40 ہزار 803 ہوگئے۔کینٹ ڈویژن جرائم کا تیسرا سب سے بڑا ہاٹ سپاٹ تھا جہاں 2020 میں 23 ہزار 222 مقدمات درج ہوئے جو 2021 میں بڑھ کر 40 ہزار 174 ہوگئے۔