Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پاکستان میں عدم اعتماد دنیا اس کو عدم استحکام کی صورت میں دیکھتی ہے:عدنان عامر کا تجزیہ

    پاکستان میں عدم اعتماد دنیا اس کو عدم استحکام کی صورت میں دیکھتی ہے:عدنان عامر کا تجزیہ

    کراچی :پاکستان میں عدم اعتماد دنیا اس کو عدم استحکام کی صورت میں دیکھتی ہے:اطلاعات کے مطابق پاکستان کے حوالے سے جہاں غیرملکی ماہرین کے حقائق کا جائزہ لیا جائے تو حقائق کچھ اور ہیں اور اگرپاکستان بیسڈ ماہرین کے خیالات کا جائزہ لیا جائے توصورت حال کچھ اور دکھائی دیتی ہے ، پاکستان میں عدم اعتماد کو چین اور دیگر ممالک عدم استحکام سے منسوب کرتے ہیں

    شاید یہی وجہ ہے کہ کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہےکہ اس موقع پر چین ضرور پریشان ہورہا ہوگا ،کیوںکہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور وزیر اعظم عمران خان کی زیر قیادت حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کیے جانے کے ساتھ کچھ لوگوں‌ کا خیال ہے کہ عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو نگران سیٹ اپ میں ن لیگ کے ہاتھ میں عارضی حکومت آسکتی ہے

    ان کا خیال ہے کہ مارچ کے آغاز سے ہی مسلم لیگ (ن) سمیت اپوزیشن جماعتیں خان حکومت کو گرانے کے لیے تحریک عدم اعتماد کی تیاری کر رہی تھیں، جسے ہمسائیہ ممالک اچھا شگون نہیں کرتے اور اسے پاکستان کے لیے نقصان دہ قراردیتے ہیں‌۔ اب، پاکستان کی قومی اسمبلی — پارلیمنٹ کا ایوان زیریں — 27 مارچ کو اس تحریک پر ووٹنگ کرنے والی ہے۔ اگر تحریک 342 میں سے کم از کم 172 ووٹ حاصل کرتی ہے، تو خان ​​کو وزیر اعظم کے عہدے سے سبکدوش ہونا پڑے گا۔

    انتخابی مہم میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ خان کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ ووٹ کے دن اسلام آباد میں ایک بڑی ریلی نکالے گی،دوسری طرف اپوزیش نے پہلے ہی اسلام آباد میں سیاسی دنگل کرنے کا منصوبہ بہت عرصہ پہلے کا بنا رکھا ہے

    پاکستانی حکومت کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نکی ایشیا کو بتایا کہ چین نے موجودہ سیاسی بحران میں انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی اپنائی ہے۔ ” اگر عمران خان تحریک عدم اعتماد سے بچ جاتے ہیں،تو چین ب ان کے ساتھ کام کرے گا

    چین پاکستان اقتصادی راہداری – بیجنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا 50 بلین ڈالر کا پاکستانی حصہ – موجودہ حکومت کے دور میں اچھی ترقی نہیں کر سکا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں نئی ​​حکومت سی پیک میں نئی ​​جان ڈالنے میں کامیاب ہوگی۔

    اسلام آباد میں قائداعظم یونیورسٹی کے سکول آف پولیٹکس اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اشتیاق احمد کا اپنا ذاتی خیال ہے کہ بیجنگ پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے 2018 سے سی پیک منصوبوں کی رفتار سست کرنے پر ناراض ہے۔

    احمد نے اپنے اس تجزیے کے ذریعے کچھ برین واشنگ اور موبلائزیشن کا کارڈ کھیلتے ہوئے کہا کہ اگر خان کی حکومت گرتی ہے تو چین اور پاکستان کے درمیان اعتماد کا مستقل خسارہ ختم ہو جائے گا، اور نواز شریف کے چھوٹے بھائی اور مسلم لیگ (ن) کے موجودہ صدر شہباز شریف کے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کا امکان چین کو خوش کر دے گا۔

    احمد نے ایک خلاف حقیقت اور چین کی پالیسی کے خلاف بات لکھتے ہوئے کرپشن کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگرچہ موجودہ حکومت کا انسداد بدعنوانی پر زور بیجنگ کے لیے تشویش کا باعث ہے، سی پیک کے حوالے سے اس کی اپنی ترجیح کو دیکھتے ہوئے، چین میں یہ خدشات بھی ہیں کہ خان حکومت نے چینی منصوبوں اور چینی منصوبوں کے لیے سیکورٹی کے خطرات کو خاطر خواہ طور پر حل نہیں کیا ہے

    پاکستان کی سرگودھا یونیورسٹی میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف چائنا سٹڈیز کے ڈائریکٹر فضل رحمان کا اس معاملے پر مختلف موقف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین کا واضح انتخاب یہ ہوگا کہ وہ موجودہ حکومت کو اپنی روٹین کی مدت پوری کرنے دے اور انتخابات کے ذریعے تبدیلی لائیں جو صرف ایک سال باقی ہیں۔

    رحمٰن نے نکی کو بتایا کہ تحریک عدم اعتماد جیسے اقدام سے "ایک ایسے وقت میں جب ملک معاشی پریشانیوں پر قابو پانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، تحریک اور سیاسی عدم استحکام کے موروثی خطرات ہیں۔”

    Kugelman اتفاق کرتا ہے. انہوں نے کہا، "چین کے لیے، اہم تشویش یہ ہے کہ اگر حکومت میں تبدیلی آتی ہے تو اگلی قیادت کیسی نظر آتی ہے، اور اگر نئی حکومت کی طرف منتقلی کا طویل عمل ہوتا ہے تو غیر یقینی صورتحال اور اتار چڑھاؤ کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا۔ "چین کی سب سے بڑی امید یہ ہے کہ سیاسی بحران قابو سے باہر نہ ہو جائے۔”

  • تحریک عدم اعتماد : قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو بلانے کا امکان:عمران خان کوکامیابی کایقین

    تحریک عدم اعتماد : قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو بلانے کا امکان:عمران خان کوکامیابی کایقین

    اسلام آباد: تحریک عدم اعتماد : قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو بلانے کا امکان،اطلاعات کے مطابق متحدہ اپوزیشن کے رہنماؤں کی طرف سے او آئی سی اجلاس سے متعلق سخت پیغام کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی کا اجلاس 21 مارچ کے بجائے 25 مارچ کو بلانے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ متحدہ اپوزیشن نے پیر کو تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی میں پیش نہ کرنے پر ایوان میں ہی دھرنا دینے اور او آئی سی اجلاس روکنے کی دھمکی دی تھی۔ وزرا نے بلاول کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور شاہ محمود نے امید ظاہر کی کہ بلاول بھارتی آلہ کار بن کر او آئی سی اجلاس کو سبوتاژ نہیں کریں گے جبکہ شیخ رشید نے بلاول کو چیلنج کیا کہ اگر ہمت ہے تو کانفرنس روک کر دکھائیں۔

    ذرائع کے مطابق حکومت نے قومی اسمبلی کا اجلاس 21 مارچ کے بجائے 25 مارچ کو بلانے کا امکان ہے، او آئی سی اجلاس کے باعث اسمبلی سیکریٹریٹ کا چارج وزارت خارجہ کے پاس ہے۔

    پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ریکوزیشن کے 14 دن کے اندر اجلاس بلانا لازم ہے، اجلاس کا ہونا لازم نہیں۔گزشتہ روز وزیراعظم نے سیاسی کمیٹی اجلاس میں بھی قومی اسمبلی اجلاس سے متعلق مشاورت کی تھی۔

    اُدھر وزیراعظم عمران خان نے سیاسی کمیٹی کا اجلاس اتوار کو ایک بار پھر طلب کرلیا، بنی گالہ میں ہونے والے اجلاس میں پی ٹی آئی کی سینئر قیادت شریک ہوگی، جس میں اتحادیوں اور ناراض اراکین سے رابطوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    ادھر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کو یقین دہانی کروا دی گئی ہے کہ جیت ان کی ہوگی اور تمام اراکین پارٹی ان کےساتھ وفا کریں گے اور اس سلسلے میں ایک اہم شخصیت نے اپنا فن دکھانا شروع کردیا ہے

    واضح رہے کہ 8 مارچ کو اپوزیشن ارکان نے اسپیکر آفس میں وزیراعظم کیخلاف تحریک جمع کرائی ہے۔ تحریک قومی اسمبلی کی کل رکنیت کی اکثریت سے منظور ہو جانے پر وزیر اعظم اپنے عہدے پر فائز نہیں رہ سکیں گے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 172 ووٹ درکار ہیں۔

    متحدہ اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لیے اتحادی جماعتوں کے ممبران اسمبلی کونشانے پر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر اپوزیشن حکومتی اتحادیوں جماعتوں کے 10 ارکان لینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو تحریک کامیاب ہو جائے گی۔

    قومی اسمبلی میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کو اتحادیوں سمیت 178 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ ان اراکین میں پاکستان تحریک انصاف کے 155 اراکین، ایم کیو ایم کے 7، بی اے پی کے 5، مسلم لیگ ق کے بھی 5 اراکین، جی ڈی اے کے 3 اور عوامی مسلم لیگ کے ایک رکن حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔

    حزب اختلاف کے کل اراکین کی تعداد 162 ہے۔ ان میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے 84، پاکستان پیپلز پارٹی کے 57 اراکین، متحدہ مجلس عمل کے 15، بی این پی کے 4 جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کا ایک رکن شامل ہے۔ اس کے علاوہ 2 آزاد اراکین بھی اس اتحاد کا حصہ ہیں۔

  • ڈاکٹر رمیش کمار سے لائیو ٹی وی پروگرام میں بدزبانی پیمرا نے نوٹس لے لیا

    ڈاکٹر رمیش کمار سے لائیو ٹی وی پروگرام میں بدزبانی پیمرا نے نوٹس لے لیا

    اسلام آباد:ڈاکٹر رمیش کمار سے لائیو ٹی وی پروگرام میں بدزبانی پیمرا نے نوٹس لے لیا ،اطلاعات کے مطابق اقلیتی ایم این اے ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کو لائیو ٹی وی شو کے دوران بدزبانی اور نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر قانون کے کٹہرے میں لانے کا فیصلہ کرلیا ہے، تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر رمیش کمار نے اپنے وکیل ایڈوکیٹ ثاقب جیلانی کے توسط سے شہباز گل کے خلاف دس کروڑ روپے کا ہتک عزت کا دعویٰ دائر کردیا ہے، لیگل نوٹس کے متن کے مطابق شہباز گل کو پندرہ دن کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے پروگرام سمیت دیگر میڈیا پلیٹ فارمز میں اپنا معافی نامہ شائع کرائے اور دس کروڑ روپے کا ہرجانہ ادا کرے بصورت دیگر ڈیفیمیشن آرڈیننس کے سیکشن 8 کے تحت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”474497″ /]

    مزید برآں شہباز گل کے ایماء پر پی ٹی آئی کارکنوں کی طرف سے ڈاکٹر رمیش کمار اور اہل خانہ کو واٹس ایپ پر قتل کی دھمکیوں اور ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے، اس حوالے سے ڈاکٹر رمیش کمار نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اور ڈی جی سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے کے نام اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ شہباز گل نے ٹی وی پروگرام کے دوران بدزبانی اور بدکلامی کرتے ہوئے ان پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگائے ہیں، شہباز گل کے ایماء پر پی ٹی آئی کارکنوں کی طرف سے انہیں اور انکی فیملی کو قتل کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، ڈاکٹر رمیش نے پانچ سو سے زائد نازیبا واٹس ایپ پیغامات کے اسکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے ایف آئی اے سے گھناؤنے جرم میں ملوث عناصر کے خلاف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے تحت کڑی کاروائی کرنے کی استدعا کی ہے۔

     

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”474498″ /]

    مزید برآں پیمرا نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام آن فرنٹ ود کامران شاہد کے دوران ڈاکٹر رمیش کمار کو ناحق تضحیک کا نشانہ بنانے کے خلاف دنیا نیوز کے سربراہ کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا، پیمرا کے مطابق ٹی وی اینکر کامران شاہد کی کارکردگی تسلی بخش نہیں تھی جبکہ لائیو ٹی وی شو کے دوران وقفے کا میکانزم بھی نہیں اپنایا گیا، ٹی وی چینل پر قابل اعتراض کلمات کا نشر ہونا پیمرا آرڈیننس کے سیکشن 20 سمیت سپریم کورٹ کے سوموٹو کیس نمبر 28/2018 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

    پیمرا نے شو کاز نوٹس میں دنیا نیوز کے سربراہ کو 28 مارچ کو تحریری جواب کے ساتھ پیمرا ہیڈکوارٹرز طلب کرلیا۔ ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے نامعلوم مقام سے اپنے جاری کردہ بیان میں بتایا کہ انہوں نے پارلیمنٹ لاجز میں اپنی فیملی کو ہراساں کیے جانے کے بعد سندھ ہاؤس منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تھا،تاہم سندھ ہاؤس پر حملے کے بعد انہیں اور انکی فیملی کو سیکیورٹی کے سخت خدشات لاحق ہوگئے ہیں، انہوں نے تھانہ سیکرٹریٹ میں تحریری درخواست میں آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی سے اپنی اور اہل خانہ کی فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کی درخواست کی ہے۔

  • تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا ہے،مہنگائی بھی بڑھی ہے:مفتاح اسماعیل

    تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا ہے،مہنگائی بھی بڑھی ہے:مفتاح اسماعیل

    کراچی :تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا ہے،مہنگائی بھی بڑھی ہے:اطلاعات کے مطابق مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ تجارتی خسارہ پچھلے سال کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ ہے۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج معیشت کے حوالے سے بات کرونگا، وزیراعظم اور اسد عمر نے آج معیشت کے حوالے سے ٹوئٹ کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ آج ان کو معیشت یاد آگئی، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عدم اعتماد کامیاب ہے، یہ وہ وزیراعظم ہے جس نے کہا تھا کہ میرے خلاف کوئی ہاتھ کھڑا کرے گا توخوش ہونگا، آج یہ ان ہی لوگوں پر پتھراؤ کررہے ہیں۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پچھلے سے پچھلے مہینے 260 ڈالر کا خسارہ ہوا، فروری میں 50 کروڑ ڈالر کا خسارہ ہوا، امپورٹ بڑھنے کی باتیں ہورہی ہیں، امپورٹ 48 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے جبکہ پچھلے سال کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ امپورٹ ہوئی ہے۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ ایکسپورٹ 20 بلین ڈالر کی ہوئیں جو پچھلے مہینے سے 20 فیصد زیادہ ہیں، 27 سو کروڑ ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا، یہ تجارتی خسارہ پچھلے سال کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ ہے، آٹھ مہینوں میں ابسیلوٹ اماؤنٹ میں 12 سو کروڑ ڈالر کا خسارہ ہوا ہے۔

  • مبشرلقمان کے خلاف عظمیٰ گل کی درخواست مسترد:عدالت نے سنیئرصحافی پرالزامات بھی مسترد کردیئے

    مبشرلقمان کے خلاف عظمیٰ گل کی درخواست مسترد:عدالت نے سنیئرصحافی پرالزامات بھی مسترد کردیئے

    راولپنڈی :مبشرلقمان کے خلاف عظمیٰ گل کی درخواست مسترد:عدالت نے سنیئرصحافی پرالزامات بھی مسترد کردیئے،اطلاعات کے مطابق واران ٹورز کی چیئر پرسن عظمیٰ گل کی طرف سے سنیئر صحافی پرلگائے گئے الزامات راولپنڈی کی ایک عدالت نے نہ صرف مسترد کردئیے ہیں بلکہ عظمیٰ گل کی درخواست خارج کرتےہوئے اسے بے بنیاد قراردیا ہے

    ذرائع کے مطابق راولپہنڈی کی ایک عدالت اس کیس کا فیصلہ سنایا،ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل ماجوکے نے اس کیس کا فیصلہ سنایا،عدالت نے عظمیٰ گل اور اس کے شوہر کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو انتقامی رویہ قراردیا

    عدالت نے ہتک عزت کے الزام کے اس کیس میں ہرجانے کا دعویٰ بھی مسترد کردیا ہے
    یاد رہے کہ عظمیٰ‌ گل نےمعروف اینکر پرسن مبشر لقمان کواپنے متعلق پروگرام کرنے پر لیگل نوٹس بھجوا یا تھا . عظمی گل نے اپنے شوہر ونگ کمانڈر ریٹائرڈ یوسف گل کی جانب سے مجموعی طور پر ایک ارب روپے کی مالیت کے لیگل نوٹس بھجوائے تھے. انہیں پچاس پچاس کروڑ‌کے الگ الگ نوٹس بھجوائے گئے تھے

     

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”474427″ /]

    واضح رہے کہ چند روز قبل سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے جنرل ریٹائرڈ حمید گل مرحوم کی ایک جائداد جو کہ بس اڈا ہے اس پر پروگرام کیاتھا .اس بس سٹینڈ پر جنرل حمید گل کےبیٹے عبداللہ گل اور بیٹی عظمیٰ گل کے درمیان تنازعہ چل رہا ہے .حکومت نے اس اڈے کو خالی کرا کر اسے قرنطینہ سینٹرز بنا دیا تھا . جس پر عظمیٰ گل نے سٹے آرڈر لے رکھا تھا .

    حکومتی اہلکاروں نے زبردستی یہ اڈا خالی کرا کے اس پر قرنطینہ سینٹر بنایا . اس جائیداد پر پروگرام کرنے پر عظمیٰ گل نے مبشر لقمان پر یہ الزام لگایا کہ اس میں‌حقائق کے خلاف اور من گھڑت باتیں کی ہیں. اور حتک عزت کا دعویٰ کرتے ہوئے ان کے خلاف لیگل نوٹس بھیجا  .

    یاد رہے کہ سینیئر صحافی مبشرلقمان نے اس کیس کے حوالے سے کافی تحقیق کے بعد کہا تھا کہ عظمیٰ گل کے شوہر یوسف صاحب جو جنرل حمید گل کے داماد اور ائیرفورس میں ہوتے تھے وہ ایک زمانے میں نواز شریف کے آئی ڈی سی بھی تھے ایک اے ڈی سی کیپٹن صفدر تھے اور دوسرے ایئر فورس کی طرف سے یوسف صاحب ۔پھر کسی وجہ سے یوسف نے ائیرفورس چھوڑ دیں یا ان سے ایئر فورس چھڑوا دی گئی

    مبشرلقمان نے اس وقت پروگرام میں حقائق پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ میاں صاحب نے خوش ہو کر راولپنڈی کا جنرل بس اسٹینڈ ان کو غیرمعینہ مدت کے لیے لیز پر دے دیا ، مبشرلقمان نے یہ بھی کہا تھا کہ ظاہر ہیں نوازشریف بادشاہ سلامت تھے جو دل کرتا تھا وہی کرتے تھے اس زمین پر ایک بس سروس شروع کی گئی قرضے بھی لیے گئے لیکن 2005 میں وہ بس سروس بند ہو گئی لیکن لیس پر 35 کنال اراضی لی گئی تھی وہاں پر قبضہ نہیں چھوڑا گیا بس سروس بند ہونے کے بعد وہاں غیر قانونی طور پر پٹرول پمپ اور جیولری شاپ پر دفاتر کھول دیے گئے سینئر صحافی افتخار احمد جیو پروگرام جواب دے کیا کرتے تھے اپنے پروگرام میں انہوں نے جنرل حمیدگل سے واران بس سروس کے بارے میں پوچھا جنرل حمید گل نے کہا کہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ویسے بھی جو کام کرنے لے کر سود پر کیا جائے میں اسے پسند نہیں کرتا مجھ سے اس بارے میں بات نہ کریں ۔

    مبشرلقمان کہتے ہیں اب ہوا کچھ یوں کہ غیرقانونی کام زمین پر ہو رہے تھے کرونا وائرس پھیلنے کے بعد راولپنڈی میں حکومت کو کر قرنطینہ سینٹر بنانے کے لیے جگہ درکار تھی حکومت نے عازمین کو خالی کرانے کا فیصلہ کیا اس دوران حمیدگل کی بیٹی نے کوئی اسٹے آرڈر لے رکھا تھا لیکن قانونی طور پر یہ زمین حکومت کی ملکیت ہے جب یہاں بس سروس نہیں چل رہی تھی دوسرے کام ہو رہے تھے تو وہ غلط تھا اب یہ لوگ جنرل حمید گل کا نام استعمال کر رہے تھے

    مبشرلقمان نے کہا تھا کہ دکھ اس بات کا ہے کہ داماد اور بیٹی نے جنرل حمید گل کا نام لے لیا حالانکہ جنرل حمید گل نے کبھی کسی کی زمینوں پر قبضہ نہیں کیا تھا باعزت طریقے سے زندگی گزاری ان کے مخالفین بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں ۔

    مبشر لقمان نے یہ بھی انکشاف کیاتھا کہ جو صاحب کو یاد کرنا چاہیے جب نوازشریف نے زمین دی تھی اگر ان کی کیپٹن صفدر سے دوستی تھی اور آپ کی بیگم بھی مریم نواز کی اسسٹنٹ بن جانے کی وجہ سے دوستی تھی آپ کے خاندان کی نواز شریف سے کافی پربت رہی ہے اگر اس وجہ سے عمران خان کو برا کہہ رہے ہیں تو اور بات ہے ورنہ آپ کو مرحومین کا نام استعمال نہیں کرنا چاہیے مبشر لقمان اس وقت کہا تھا کہ کہا میرے لحاظ سے تو حکومت کو چاہیے کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرے اور اتنے سال جو انہوں نے سرکاری زمین غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھیں اور کام کرتے رہے اس پر ٹیکس بھی لینا چاہیے

    اس پروگرام کے پیش ہونے کے بعد عظمٰی گل نے سنیئر صحافی کے خلاف ہتک عزت کا کیس دائر کیا تھا جسے آج عدالت نے مسترد کرتے ہوئے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا ہے

    ادھر اس کیس میں‌کامیابی پر مبشرلقمان کے چاہنے والوں کی طرف سے مبارکباد کا سلسلہ جاری ہے

  • ناراض پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں گے:ان شااللہ تعالیٰ :وزیراعظم عمران خان نے سب کوبلا لیا

    ناراض پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں گے:ان شااللہ تعالیٰ :وزیراعظم عمران خان نے سب کوبلا لیا

    راولپنڈی: ناراض پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں گے:ان شااللہ تعالیٰ :وزیراعظم عمران خان نے سب کوبلا لیا ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے سلسلے میں سندھ ہاؤس میں موجود زیادہ پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں گے۔

    ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ رنگ روڈ لندن کی ایم 25 کی طرح ہے، نالہ لئی کا پراجیکٹ اگلے تین ہفتے میں لانچ کریں گے، راولپنڈی شہر پھیل گیا پلاننگ نہیں ہوئی، راولپنڈی کوماڈرن سٹی بنائیں گے، نالہ لئی کے ساتھ ہم نے ایک نیا پنڈی بنانا ہے۔ آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، شہرپھیلتے جا رہے ہیں، پچھلے سال چاربڑی فصلوں کی ریکارڈ پیداوار ہوئی، کسانوں کوپہلی دفعہ پوری قیمت ملی اور ان کی پیداواربڑھی، ہم نے اپنی زرعی زمینوں کوبھی بچانا ہے۔

    تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ خریدوفروخت کی سیاست پر کسی کو شرم نہیں آرہی، اس کوجمہوریت نہیں کہتے، سب کچھ کھلے عام ہورہا ہے، برطانیہ میں کوئی سیاست دان تصوربھی نہیں کرسکتا پیسے لیکر پارٹی بدل لے، اگر کوئی برطانیہ میں پیسے لے بھی لے تو اسے معاشرہ برداشت نہیں کرے گا، عوام کے خوف کی وجہ سے برطانیہ کا سیاست دان سندھ ہاؤس والی حرکت نہیں کرسکتا، ہمارے کارکن جذبات میں آکرایسا کیا، کارکنوں سے کہتا ہوں پرامن احتجاج آپ کا حق ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ضمیر خریدنے کے لیے چوری کے پیسوں کی منڈی لگی ہوئی ہے، سندھ کی عوام کا چوری کے پیسے کو استعمال کیا جا رہا ہے، سندھ ہاؤس میں کونسا ایسا کام ہو رہا تھا اس وجہ سے سندھ پولیس کو بلایا گیا، اگرہمارے لوگ تنگ ہیں تو ان کو چھپانے کی کیا ضرورت تھی؟ خریدوفروخت پوری قوم کے سامنے ہو رہی ہے، پاکستان کے لوگوں نے اس طرح کی سیاست کودیکھ لیا، خریدوفروخت کی سیاست کی وجہ سے پاکستان پیچھے چلا گیا۔

  • حکومت کےکسی اتحادی کونئی حکومت میں کوئی عہدہ نہ دیا جائے:یہ لوگ قابل اعتبارنہیں‌:نوازشریف کی ہدایت

    حکومت کےکسی اتحادی کونئی حکومت میں کوئی عہدہ نہ دیا جائے:یہ لوگ قابل اعتبارنہیں‌:نوازشریف کی ہدایت

    لندن:لاہور::حکومت کے کسی اتحادی کونئی حکومت میں کوئی عہدہ نہ دیا جائے:یہ لوگ قابل اعتبارنہیں‌:نوازشریف کی ہدایت،پاکستان کے ایک بڑے نام معروف صحافی جن کی خبرکوہرکوئی مصدقہ اور معتبر جانتا ہے کا کہنا ہےکہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کرنے والی سب سے بڑی جماعت ن لیگ لندن کے سربراہ نوازشریف نے ایسی بات کہہ دی ہے کہ اس کے بعد ضمیرفروشوں کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے

    سینیئر صحافی عارف حمید بھٹی نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لانے والی سب سے بڑی جماعت کو اپنے ساتھیوں‌ پر اعتماد نہیں ، خصوصا ان پر جواپنی عزت ، شہرت اور اپنی نسلوں کا مستقبل نوازشریف کی خاطرقربان کرچکے ہیں

    عارف حمید بھٹی کہتے ہیں کہ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ نوازشریف نے مریم نواز کو ہدایت کی ہے کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد میں ساتھ دینے والے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کو کسی قسم کا عہدہ نہ دیا جائے کیوں کہ وہ قابل اعتبار نہیں ہیں جو عمران خان کو دھوکہ دے سکتے ہیں وہ ہمیں بھینقصان پہنچا سکتے ہیں‌

     

     

    عارف حمید بھٹی نے انکشاف کیا ہےکہ نوازشریف کی طرف سے یہ رویہ پہلی مرتبہ نہیں اپنایا بلکہ نوازشریف اپنے ساتھیوں پر بھی اعتبار نہیں کرتے ،

    عدم اعتماد میں کامیابی کی صورت میں نئی بننے والی حکومت میں عمران خان کے ساتھ اختلاف کرنے والوں کوعہدے نہ دینے کے نوازشریف کے حکم کے بعد سوشل میڈیا پرضمیرفروش ارکان اسمبلی کے خلاف ایک نیا محاذ کھل گیا ہے ،اہل پاکستان کا کہنا ہے کہ اپنے بے ضمیر ہونے کی قدرنوازشریف کے بیان سے تلاش کریں‌ کہ جس نے ایک ٹشوکی طرح استعمال کرکے پھراسے پھینکنے کا حکم دیا ہے

    یاد رہے کہ نوازشریف کی طرف سے یہ بھی حکم دیاگیا ہے کہ چوہدری برادران پربھی اعتبار نہ کرنا یہ بھی کسی سے وفا نہیں‌ کرتے اور یہ اپنے مفاد کی خاطر ن لیگ کو پھرسبق سکھا سکتے ہیں

    دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کے بارے میں یہ اطلاعات ہیں کہ پارٹی رہنماوں‌ نے ان سے درخواست کی ہے کہ منحرف ہونے والے پی ٹی آئی ممبران سے درگزر کریں وہ اپوزیش کے ہاتھوں ڈی ٹریک ہوگئے ہیں اور اگر وہ اپنے گھرکو لوٹ آتے ہیں تو ان کو باور نہ کرانا یہی ایک بہادر انسان کی خوبی ہے

  • ثانیہ کوعدنان صدیقی کیساتھ کام کرتے دیکھنا کبھی نہیں چاہوں گا ، شعیب ملک

    ثانیہ کوعدنان صدیقی کیساتھ کام کرتے دیکھنا کبھی نہیں چاہوں گا ، شعیب ملک

    قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک کا کہنا ہے کہ وہ اپنی اہلیہ ثانیہ مرزا کو اداکار عدنان صدیقی کے ساتھ کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے-

    باغی ٹی وی : قومی کرکٹرشعیب ملک حال ہی میں اپنی اہلیہ ثانیہ مرزا کے ہمراہ ’’دی کپل شو‘‘ میں شریک ہوئے جہاں انہوں نے میزبان اوراداکار آغاعلی اور ان کی اہلیہ اداکارہ و میزبان حنا الطاف کی جانب سے پوچھے جانے والے سوالوں کے دلچسپ جوابات دئیے۔

    اداکار محمد علی کو دنیا سے رخصت ہوئے 16برس بیت گئے

    شو کے دوران آغا علی نے شعیب ملک سے ان کی پسندیدہ ہیروئن کے بارے میں پوچھا توکرکٹر نے کہا کہ بالی ووڈ میں انہیں کرینہ کپور پسند ہیں، جبکہ پاکستانی اداکاراؤں میں انہیں بہت ساری اداکارائیں پسند ہیں، تاہم ہانیہ عامر ان میں سب سے زیادہ پسندیدہ ہیں-

    انہوں نے مزید کہا کہ اگر انہیں کبھی کام کرنے کا موقع ملا تو وہ ہانیہ عامر کے ساتھ نہیں بلکہ اداکارہ اشنا شاہ کے ساتھ کام کرنا چاہیں گے کیونکہ اشنا شاہ ان کی بہت اچھی دوست ہیں۔

    احد رضا میرجلد نیٹ فلیکس کی ویب سیریز میں دکھائی دیں گے

    ایک سوال کے جواب میں شعیب ملک نے کہا کہ میں کبھی بھی ثانیہ مرزا کو اداکار عدنان صدیقی کے ساتھ کام کرتا ہوا نہیں دیکھنا چاہوں گا حالانکہ عدنان کے ساتھ میری بہت اچھی دوستی ہے اور وہ بہت اچھے اداکار بھی ہیں لیکن میں پھر بھی چاہوں گا کہ ثانیہ ان کے ساتھ کام نہ کرے۔

    ثانیہ مرزا نے حیران ہوتے ہوئے کہا کہ میں جاننا چاہتی ہوں کہ آخر شعیب ملک کیوں مجھے ان کے ساتھ کام کرتا نہیں دیکھنا چاہیں گے ثانیہ کی اس بات پر شعیب ملک نے کہا میں تمہیں بعد میں بتاؤں گا۔

    تاہم شعیب ملک نے کہ وہ ثانیہ مرزا کو ہمایوں سعید کے ساتھ اداکاری کرتے ہوئے دیکھنا چاہیں گے-

  • ‏تحریک انصاف نے 14 منحرف اراکین قومی اسمبلی کو نوٹسز جاری کر دیئے

    ‏تحریک انصاف نے 14 منحرف اراکین قومی اسمبلی کو نوٹسز جاری کر دیئے

    ‏تحریک انصاف نے 14 منحرف اراکین قومی اسمبلی کو نوٹسز جاری کر دیئے

    باغی ٹی وی : تحریک انصاف نے منحرف اراکین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پارٹی چیئرمین عمران خان کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کردی نوٹس نور عالم خان ، افضل ڈاھانڈ لاشیر وسیر ، راجہ ریاض، احمد حسین ڈیہڑ ، قاسم نون، غفارر وٹو ، عامر طلال گوپانگ،باسط سلطان ،وجیہہ قمر ، رمیش کمار ، نزہٹ پٹھان اور ریاض مزاری کو جاری کیے گئے۔

    الیکشن کمیشن نے وزیراعظم عمران خان کو دوبارہ طلب کرلیا

    نوٹس میں منحرف ارکان سے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ دینےکے عمل کی وضاحت طلب کی گئی ہے اراکین 26 مارچ دن 2 بجے سے پہلے پارٹی چیئرمین کے سامنے پیش ہونے کے پابند ہیں۔

    ارکان کو 7 روز کے اندر معافی مانگ کر غیر مشروط طور پر پارٹی میں واپس آنے کی مہلت دی گئی ہے۔ اگر 7 روز تک جواب نہ ملا تو ارکان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    شوکاز نوٹسز پر پارٹی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے دستخط کیے ہیں۔

    تحریک انصاف کی ناراض اراکین کو منانے کے لیے کوششیں تیز

    وزیراطلاعات فواد چودھری کا کہنا ہے کہ کسی کو دھوکہ دیناغیر مناسب ہے منحرف اراکین کے خلاف عوام میں غم وغصہ پایاجاتاہے جو ارکان وزیراعظم کو ووٹ نہیں دینا چاہتے وہ استعفٰی دیں وزیر اعظم عمران خان کسی سے بھی بلیک میل نہیں ہوں گے۔ یہ لوگ پہلےعمران خان کےنام پرووٹ لیتےہیں،پھرلوٹےبن جاتےہیں۔

    فواد چودھری نے کہا کہ تلخیاں بڑھ گئی ہیں ،کم کرنے کی ضرورت ہے۔توبہ کے دروازے کھلے ہیں، اراکین نظر ثانی کرسکتے ہیں۔بعض منحرف اراکین کےرشتہ دارفون کررہےہیں کہ انہیں چھڑوایا جائے۔

    وفاقی وزیر نے مزید کہا کی سندھ ہاؤس میں جو ہوا اچھا نہیں ہوا۔ہم اپنا جلسہ کریں گے اپوزیشن اپنا جلسہ کرے۔

    پی ڈی ایم قیادت کاصدر مملکت کے خلاف مواخذہ کی تحریک پیش کرنے کا فیصلہ

  • وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری محمد اعظم خان کی عالمی بینک میں تعیناتی:آخرمعاملہ کیا ہے؟حقائق سامنےآگئے

    وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری محمد اعظم خان کی عالمی بینک میں تعیناتی:آخرمعاملہ کیا ہے؟حقائق سامنےآگئے

    اسلام آ باد:وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری محمد اعظم خان کی عالمی بینک میں تعیناتی:آخرمعاملہ کیا ہے؟حقائق آگئے،اطلاعات کے مطابق پچھلے کئی دنوں‌ سے وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری محمد اعظم خان کی عالمی بینک میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعیناتی میں راز کیا ہے اور اس کے فوائد کون اٹھائے گا،

    اس حوالے سے بہت سی قیاس آرائیاں ہورہی تھیں‌ کہ اعظم خان نے وزیراعظم کا ساتھ چھوڑ دیا ہے تو کوئی کہہ رہا تھا کہ اعظم خان ہاتھ کرگئے،

    اس ساری گفتگو کے درمیان میں ایک چیز پوشیدہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اعظم خان کواس عہدے پر لانے کے لیے اسٹیٹ بینک کا کوئی نہ کوئی کردار ضرور ہے ، اس حوالے سے سینیئر صحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ کسی کو کسی کی ترقی ،پروموشن اور کامیابی پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے لیکن سوال یہ ہےکہ ایک فرد کی خاطرآخرپاکستان کوورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے ہاں گروی کیوں رکھا گیا ہے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ انداز اچھا نہیں کہ لوگ کھائیں‌ پاکستان کا اور گیت گائیں اغیار کے

    ان کا کہنا تھا کہ دُکھ ہوتا ہےکہ بڑے بڑے افسران اپنے مستقبل کی خاطرپاکستان کا مستقبل تاریک کرنے کی کوشش کرتے ہیں جوکہ اچھا شگون نہیں

     

     

    ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ ایک فرد کی خاطرملک کے بڑے ادارے اسٹیٹ بینک کوقربان کردیاگیا ہے جس کی قیمت قوم چکائے گی

    یاد رہے کہ چند دن پہلے وزیر اعظم کے سیکرٹری محمد اعظم خان کو عالمی بینک میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات کرنے کی منظوری دی گئی تھی ، ذ رائع کے مطا بق وزیر اعظم عمران خان نے تعیناتی کی سمری کی منظوری دی . رپورٹ کے مطابق وزارت اقتصادی امور نے سمری وزیر اعظم کو بھجوائی تھی .

     

     

    اعظم خان اگست2018 سے سیکریٹری ٹو وزیر اعظم کے طور پر کام کررہے ہیں . اس وقت نوید کامران بلوچ عالمی بینک میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات ہیں . نوید کامران بلوچ کا بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعیناتی کا نوٹیفکیشن5اکتوبر2020کو جاری ہواتھا .

     

     

    بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعیناتی کا اطلاق 25دسمبر 2020 سے کیا گیا تھا . نوید کامران بلوچ کو31اکتوبر 2022 تک ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات کیا گیا تھا . اعظم خان یکم نومبر 2022سے بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر عالمی بینک زمہ داریاں سنبھالیں گے . اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے حکام نے بتایا کہ ابھی تک سمری نو ٹیفیکیشن کیلئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو موصول نہیں ہوئی .