Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • فلسطینیوں سےشادیاں پرشہریت کاقانون دوبارہ متعارف:      اسرائیل کی شرارتیں اورسازشیں کھل کرسامنےآگئیں

    فلسطینیوں سےشادیاں پرشہریت کاقانون دوبارہ متعارف: اسرائیل کی شرارتیں اورسازشیں کھل کرسامنےآگئیں

    تل ابیب:فلسطینیوں سے شادیاں پرشہریت کا قانون دوبارہ متعارف:اسرائیل کی شرارتیں اورسازشیں کھل کرسامنے آگئیں ،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی پارلیمان نے اکثریتی رائے سے جمعرات دس مارچ کو رات گئے ماضی کے جس متنازعہ لیکن عارضی طور پر متعارف کرائے گئے قانون کی بحالی کا فیصلہ کیا، وہ پہلی مرتبہ 2003ء میں نافذ کیا گیا تھا۔ اس قانون کے نفاذ کی مدت میں گزشتہ برسوں کے دوران بار بار توسیع کی جاتی رہی تھی۔

    ‘شہریت اور اسرائیل میں داخلے کا قانون‘ کے تحت اسرائیلی شہریوں سے شادیاں کرنے والے غزہ پٹی اور دریائے اردن کے مغربی کنارے کے فلسطینی علاقوں کے مرد اور خواتین نہ تو اسرائیلی شہریت حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں اسرائیل میں رہائش کے حقوق دیے جا سکتے ہیں۔ یہ قانون ‘نسل پرستانہ‘ ہے یہ قانون پہلی مرتبہ اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی احتجاجی تحریک انتفادہ کے دور میں منظور کیا گیا تھا۔

    اسرائیل کا موقف ہے کہ اسے اس قانون کی اپنی سلامتی کے لیے ضرورت ہے۔ اس کے برعکس ناقدین کا الزام ہے کہ اس قانون کا نفاذ اسرائیل کا ایک ‘نسل پرستانہ‘ اقدام ہے، جس کا مقصد ملک میں یہودی اکثریت کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔ ایک دوسری بات یہ کہ اس قانون کا اطلاق صرف فلسطینیوں پر ہوتا ہے اور مغربی کنارے کے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں رہنے والے یہودی آباد کاروں پر نہیں کیونکہ ان کے پاس ویسٹ بینک میں رہتے ہوئے بھی اسرائیلی شہریت ہوتی ہے۔

    کنیسیٹ کہلانے والی پارلیمان نے گزشتہ برس موسم گرما میں بھی اس قانون کو بحال کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم تب اسے مخلوط حکومت میں شامل بائیں بازو کے اور عرب ارکان پارلیمان کی حمایت حاصل نہ ہو سکی تھی۔ حکومت میں شامل عرب جماعت نے اب بھی حمایت نہ کی سابق وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی قیادت میں ملکی اپوزیشن نے بھی اس متنازعہ قانون کی بحالی کی اصولی حمایت تو کی، تاہم حکومت کو شرمندگی سے بچانے کے لیے رائے شماری کے دوران اس قانون کے حق میں ووٹ نہ دیا۔

    یوں اپوزیشن کی بالواسطہ حمایت کے ساتھ حکومت اس قانون کو منظور کرانے میں کامیاب ہو گئی، حالانکہ بائیں بازو کی جماعت میریٹس اور اسرائیلی عربوں کی جماعت متحدہ عرب لسٹ نے بھی اس قانون کی حمایت نہیں کی تھی۔ یونائیٹڈ عرب لسٹ نامی جماعت نے گزشتہ برس اس وقت تاریخ رقم کر دی تھی، جب یہ پارٹی موجودہ مخلوط حکومت میں شامل ہو گئی تھی۔ یہودی اکثریت کا تسلسل یقینی بنانے کی کوشش کا اعتراف اسرائیل کی کٹر قوم پسند خاتون وزیر داخلہ گزشتہ کئی مہینوں کے دوران اس متنازعہ قانون کی بحالی کی مہم چلاتی رہی تھیں۔

  • ہمارامستقبل بچالیں:یوکرین سے واپس آنے والے طلبا کا پاکستان کے بڑوں کوخط

    ہمارامستقبل بچالیں:یوکرین سے واپس آنے والے طلبا کا پاکستان کے بڑوں کوخط

    اسلام آباد:آپ سے ایک عرض ہے:یوکرین سے واپس آنے والے طلبا کا پاکستان کے بڑوں کوخط،اطلاعات کے مطابق یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کے نتیجے میں تعلیم سے محروم ہونے والے طلبا نے اپنا مستقبل بچانے کے لیے پاکستان کے بڑوں کو خط لکھا ہے

    ذرائع کے مطابق یوکرین سے واپس آنے والے طلبا کی طرف سے یہ خط وزیراعظم عمران خان ، آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ ، چیف جسٹس آف پاکستان سمت ملک کی دیگرمقتدرشخصیات کو لکھا گیاہے

     

     

    اس خط میں کہا گیاہےکہ پاکستانی طلبا جو کہ یوکرین میں زیرتعلیم تھے،یہ پاکستانی طلبا جن کے والدین نے اپنی جمع پونجی سے اپنے بچوں‌کوتعلیم حاصل کنرے کے لیے بھیجا،والدین نے اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردیالیکن افسوس کے ساتھ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کی وجہ سے حالات بہت خراب ہیں اور سیکڑوں کی تعداد میں پاکستانی طلبا یوکرین سے واپس آگئے ہیں

     

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”472263″ /]

    ان طالعلموں کی طرف سے خط میں عرض کیا گیا ہے کہ حکومت پاکستان اپنے ان بچوں کی بقیہ تعلیم وتربیت کا انتظام کرے اور ان کا مستقبل بچا لے

    ان پاکستانی طلبا نے خط میں درخواست کی ہے کہ یوکرین سے واپس آنے والے پاکستانی طلبا کو پاکستانی یونیورسٹیز میں داخلہ دے کر انکی باقی تعلیم مکمل کرنے میں تعاون کریں اور اپنا بھرپورکرداربھی ادا کریں

    پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق یوکرین میں مقیم پاکستانی طلبہ کی تعداد قریب تین ہزار تھی جبکہ پاکستانی برادری سمیت شہریوں کی کل تعداد قریب سات ہزار تھی۔

    یعنی یوکرین میں کچھ تو خاص تھا کہ پاکستانی طلبا بہتر تعلیم کے لیے اس ملک کی طرف بھی رُخ کر رہے تھے۔ان میں سے اکثر پاکستانی طالب علم پاکستان واپس آچکے ہیں اور جو پیچھے رہ گئے ہیں ان کی پاکستان واپسی کے لیے حکومت کوشاں ہیں

  • لوئر دیر جلسہ: وزیر اعظم سمیت 10 افراد 14 مارچ کو الیکشن کمیشن طلب:پیغام پہنچ گیا

    لوئر دیر جلسہ: وزیر اعظم سمیت 10 افراد 14 مارچ کو الیکشن کمیشن طلب:پیغام پہنچ گیا

    دیر:لوئر دیر جلسہ: وزیر اعظم سمیت 10 افراد 14 مارچ کو الیکشن کمیشن طلب:پیغام پہنچ گیا،اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن نے لوئر دیر میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا جلسہ کرنے پر وزیر اعظم عمران خان، وزیر اعلیٰ، گورنر اور وفاقی وزراء کو 14 مارچ کو طلب کرلیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزیر اعظم عمران خان، گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان خان، وزیر اعلیٰ محمود خان، وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت 10 افراد کو نوٹسز جاری کردئیے ہیں۔

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”472247″ /]

     

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹسز کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کو 14 مارچ صبح ساڑھے 10بجے، وفاقی وزیر ترقی اسد عمر کو 11بجے، صوبائی وزیر زکوة و عشر انور زیب خان کو صبح ساڑھے 11بجے، رکن صوبائی اسمبلی لیاقت خان کو 12بجے، وزیر اعلیٰ کے معاون شفیع اللہ کو ساڑھے 12بجے، وزیر اعلیٰ محمود خان کو دوپہر ایک بجے، وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کو دو بجے، وزیر دفاع پرویز خٹک کو اڑھائی بجے، گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان کو تین بجے اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو سہہ پہر ساڑھے تین بجے طلب کیا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے 18 اضلاع میں جاری بلدیاتی الیکشن کیلئے طے قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ عوامی نمائندے خود یا پھر اپنے نمائندہ کے ذریعے حاضری یقینی بنا کر اپنا تحریری جواب جمع کرائیں۔

  • جب بھی زندگی میں مسائل کا سامنا ہوتا ہے تو میں اللہ سے رجوع کرلیتی ہوں،سارہ لورین

    جب بھی زندگی میں مسائل کا سامنا ہوتا ہے تو میں اللہ سے رجوع کرلیتی ہوں،سارہ لورین

    پاکستانی اداکارہ سارہ لورین کا کہنا ہے کہ جب بھی مجھے زندگی میں مسائل کا سامنا ہوتا ہے تو میں اللہ سے رجوع کرلیتی ہوں-

    باغی ٹی وی :حلا ہی میں دیئے گئے ایک انٹرویو میں سارہ لورین نے انکشاف کیا کہ میں دو سالوں سے شدید ڈپریشن میں مبتلا تھی، دراصل جو کچھ میری زندگی میں ہورہا تھا وہ سمجھ سے بالاتر تھا گزشتہ دو، تین سالوں سے وہ کسی قسم کا کام نہیں کررہی ہیں-

    اداکارہ نے کہا کہ تھوڑے ہی عرصے میں میرے ساتھ کافی کچھ ہوا، میں نے نام تبدیل کرلیا، پھر میں بالی وڈ چلی گئی، فلموں میں بھی کام کرلیا، ایسا لگ رہا تھا میرے پاس سب کچھ ہے اور پھر مجھے اس کی عادت ہوگئی لیکن چیزیں ہمیشہ ایک سی نہیں رہتیں۔

    یاد رہے کہ سارہ لورین کو ان کے مداح مونا لیزا کے نام سے جانتے تھے البتہ بالی وڈ میں جانے کے لیے اداکارہ کو اپنا نام تبدیل کرنا پڑا تھا، سارہ کا خیال تھا کہ لوگ اطالوی آرٹسٹ کی مونا لیزا کے نام سے مشہور پینٹنگ کی وجہ سے مستقبل میں ان کا مذاق اڑائیں گے لہٰذا انہوں نے اپنا نام تبدیل کردیا۔

    سارہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی فلمیں بنائی جارہی ہیں لیکن بالی وڈ سے یہاں آنا اور پھر اتنی بڑی تبدیلی نے مجھے پریشان کردیا جس کی وجہ سے دو سال کام نہیں کیا، میری حالت ایسی ہوگئی تھی کہ میں کیمرے کا سامنا نہیں کر پاتی تھی۔

    اداکارہ نے ڈپریشن سے متعلق بتایا کہ آدھے لوگوں کو پتا نہیں ہے لیکن میں نماز پڑھتی ہوں اور اعتکاف میں بھی بیٹھتی ہوں، لوگ سمجھتے ہیں میں عیسائی ہوں اور میں ان باتوں پر مسکراتی رہتی ہوں لیکن حقیقت یہ نہیں ہے میں 12 سال کی عمر سے اعتکاف میں بیٹھ رہی ہوں، جب بھی مجھے زندگی میں مسائل کا سامنا ہوتا ہے تو میں اللہ سے رجوع کرلیتی ہوں، یہ پہلی بار اس وقت ہوا تھا جب میرے والد کا انتقال ہوا۔

    سارہ نے بتایا کہ جب میں بھارت سے پاکستان لوٹی تو اس وقت کافی پریشان تھی، سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرنا چاہیے، چیزیں تبدیل ہوچکی تھیں، اس وقت بھی میں 6 سے 7 دن کے لیے اعتکاف میں بیٹھی جس کے بعد میری زندگی خود بخود بہتر ہوتی چلی گئی۔

    قبل ازیں ایک انٹرویو کے دوران اداکارہ نے بتایا تھا کہ ان کا نام کافی سوچ بچار اور کنسلٹنٹ کے مشورے سے سارہ لورین رکھا گیا لیکن وہ اپنے نام سے کچھ زیادہ خوش نہیں تھیں مجھے یہ نام پسند نہیں تھا اور ابھی تک لوگوں کو اس نام کے بارے میں پتہ بھی نہیں تھا لیکن ایک واقعہ ایسا ہوا جس نے مجھے میرے نام سے محبت کروادی۔

    سوشل میڈیا صارفین کا کپل شرما شو کے بائیکاٹ کا مطالبہ

    اداکارہ نے مذکورہ واقعے کو بالی وڈ کا یادگار لمحہ قرار دیا اور کہا کہ سارہ لورین کے لیے اللہ تعالیٰ نے سلمان خان کا انتخاب کیا جو کہ خوشگوار لمحہ تھا ۔

    انہوں نے بتایا کہ ہم ایک ایوارڈز کی تقریب میں تھے جہاں دیگر معروف اداکار بھی تھے اور پوری دنیا کے سامنے جس نے مجھے اس نام سے پکار کر اسٹیج پر بلایا وہ سلمان خان تھے، جب انہوں نے میرا نام پکارا تو مجھے اس نام سے محبت ہوگئی اس کے بعد میں نے اپنے نام کو تسلیم کرنا شروع کیا اور کہا اب سب مجھے اس نام سے بلا سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ سارہ لورین نے بالی وڈ میں 2010 میں پوجا بھٹ کی فلم ‘کجرارے’ سے فلمی کیرئیر کا آغاز کیا تھا جس میں ان کے ساتھ ہمیش ریشمیا نے مرکزی کردار نبھایا تھا، بعد ازاں انہوں نے برکھا اور مرڈر تھری جیسی فلموں میں کام کیا اس کے علاوہ سارہ لورین کے پاکستانی ڈراموں میں شہ بانو، رابعہ زندہ رہے گی، انوکھی، کاجل اور مہربانو شامل ہیں۔

    نعمان اعجاز اور صبا قمر کی ویب سیریز’مسٹر اینڈ مسز شمیم‘ ریلیز

  • بات چیت سیاستدانوں سے ہوتی ہے گالیاں دینے والوں سے نہیں،مریم اورنگزیب فواد چودھری پر برس پڑیں

    بات چیت سیاستدانوں سے ہوتی ہے گالیاں دینے والوں سے نہیں،مریم اورنگزیب فواد چودھری پر برس پڑیں

    اسلام آباد:وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت اوراپوزیشن میں اتنی تقسیم نہ ہو کہ گفتگو ہی مشکل ہوجائے۔

    باغی ٹی وی : فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ اپوزیشن کی بغیر سوچے سمجھے عدم اعتماد کی تحریک نے سیاست میں تلخیاں ہیدا کر دیں جمہوریت اتنی انتہائی تقسیم کا نظام نہیں ہے۔

    آئی ایم ایف نے ایمنسٹی اسکیم، غیرا ہدافی سبسڈیز پر سوالات اٹھا دیئے

    فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ جمہوریت میں کم از کم اتفاق رائے پر نظام استوار ہوتا ہے میں سمجھتا ہوں اتنی تقسیم نہ ہو کہ کسی بھی سبب گفتگو ہی مشکل ہو جائے لڑنا مشکل نہیں بعد میں صلح مشکل ہوتی ہے-


    دوسری جانب وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری کے بیان پرردعمل دیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ(ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ بات چیت سیاستدانوں سے ہوتی ہے گالیاں دینے والوں، غنڈوں اوربدمعاشوں سے نہیں۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان نے سیاست کودشمنی میں بدلا اورجس نے معاشرے میں تقسیم ، انتشاراور فساد پیدا کیا اس کا نام عمران خان ہے۔

    مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ سیاست میں گند اور غلاظت عمران صاحب نے ڈالا ہوا ہے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اس گندگی اور غلاظت کو صاف کرکے معاشرے میں پھیلے تعفن اور گھٹن کو ختم کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفین کوگالی اوردھمکیاں دی گئیں بے بنیاد الزامات لگائے گئے اوربہنوں بیٹیوں کوجیلوں میں ڈالا گیا اس سب کے بعد بات چیت کے لیکچر دینے والے فواد چوہدری نے کیا عوام کوپاگل سمجھ رکھا ہے۔

    عثمان بزدار سے ن لیگی اراکین اسمبلی ملنے لگے

  • ریاست مدینہ کا نام لیکر اس قدر جھوٹ عمران خان ہی بول سکتا ہے۔ سلیم صافی

    ریاست مدینہ کا نام لیکر اس قدر جھوٹ عمران خان ہی بول سکتا ہے۔ سلیم صافی

    اسلام آباد:عمران خان کا ڈرون حملوں کے خلاف بیان جھوٹ ہے:سلیم صافی بھی عمران خان کے بیانات پربیان دینے میں کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے ،اطلاعات ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے ڈرون حملوں سے متعلق بیان پرمعروف صحافی سلیم صافی نے ٹویٹ کراپنا موقف پیش کردیا ہے

     

    سلیم صافی کہتے ہیں کہ اکتوبر2001 میں مشرف نےامریکہ کواڈے اورراستہ دیا۔عمران خان 2002 کےانتخابات تک انکےساتھ تھے۔امریکہ سےاتحاد کےخلاف پہلےدن سے احتجاج ایم ایم اےنےکیا۔

    سلیم صافی نے مزید کہا کہ ڈرون حملوں کےخلاف پہلاجلوس اے این پی نے چکدرہ سے باجوڑ تک نکالاتھا۔ ریاست مدینہ کا نام لے کر اس قدر جھوٹ صرف عمران خان ہی بول سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان پاکستان میں ڈرون حملوں کے حوالے سے پچھلے کئی سالوں سے یہ موقف اپنا رہے تھے کہ پاکستان پرڈرون حملے پاکستان کی غیرت پرحملے ہیں اور بند ہونے چاہیں ، ان کی گفتگواکثر وبیشتر اسی موضوع پرہورہی ہے ، جس کے جواب میں سلیم صافی نے اپوزیشن سے عمران خان کے سوالات کا جواب دیا ہے

     

     

    یہ بھی یاد رہے کہ ایم ایم اے نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کا بھرپور ساتھ دیا تھا اور ایک طرف اقتدار کے مزے لیئے تھے

    یاد رہے کہ وفاقی وزیرفرخ حبیب نے پاکستان میں ہونے والے ڈرون حملوں کے بارے میں ایک ٹویٹ کی تھی جس میں نوازشریف اور زرداری کے دورحکومت میں ہونے والے ڈرون حملوں کی تعداد بتائی گئی ہے

  • حامد میر:خیرآپ کے مقدرمیں ہی نہیں:آپ وہ ہیں کہ جس کی شرسے لوگ ڈرکراس کی عزت کرتے ہیں:کنول شوزیب

    حامد میر:خیرآپ کے مقدرمیں ہی نہیں:آپ وہ ہیں کہ جس کی شرسے لوگ ڈرکراس کی عزت کرتے ہیں:کنول شوزیب

    لاہور:حامد میر:خیرآپ کے مقدرمیں ہی نہیں:آپ وہ ہیں کہ جس کی شرسے لوگ ڈرکراس کی عزت کرتے ہیں : شوزیب:خیرآپ کے مقدرمیں ہی نہیں:ایم این اے کنول شوزیب نے حامد میر کی شرارتوں سے تنگ آکران شرانگیزیوں سے محفوظ رہنے کے لیے ایسی بات کہہ دی کہ اب حامد میر کے پاس سوائے معافی کے کوئی راستہ ہی نہیں بچا

    اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا سمیت دیگرچینلزپرپی ٹی آئی ایم این اے کنول شوزیب کے خلاف جاری مہم کے پیچھے سازش کرنے والوں کا پتہ لگ چکا ہے اور اب تو وہ چہرے کھل کرسامنے آگئے ہیں کہ جن کے بارے میں ہرزبان سے یہ الفاظ سننے کو مل رہے ہیں کہ یہ وہ شخص ہے کہ لوگ اس کی شر سے بچنے کےلیے اس کوسلام کرتے ہیں

     

    اس حوالے سے پی ٹی آئی کی خاتون ایم این اے کنول شوزیب بڑے دکھ کے ساتھ کہتی ہیں کہ حامد میراگرآپ کے اندر انسانیت نام کی کوئی چیز ہوتی تو آپ پہلے الزامات کی تحقیق ضرور کرتے لیکن افسوس کہ آپ کے مقدر میں خیر نہیں ہے

    کنول شوزیب کہتی ہیں کہ آپ پولیس لیکر میرے گھر تشریف لے آتے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا ؟ ان محترمہ کو سمجھائیں کہ اگر کوئ انٹرویو نہ دینا چاہے اور کہے کہ آپ نے جتنا انٹرویو کیا ہے یہ ڈلیٹ کر دئیں میں آپکے چینل کو انٹرویو نہیں دینا چاہتی اور آپ کہیں کہ نہیں ہم چلائیں گے تو؟

     

    آگے چل کر وہ شرپسندی سے تنگ آکر مزید کہتی ہیں کہ :شکر ہے کی میں میل MNA نہیں ورنہ کوئ بعید نہیں کہ یہ محترمہ مجھ پر کوئ اور الزام بھی لگا جاتیں انکو پیش کی گئ چائے ابھی تک پڑی ہے اب ان پر ہتک عزت کا رقبہ کرواؤں گی تو پھر آزادی صحافت پر حملہ ہو جائے گا اور میڈیا پر قدغن کا ڈرامہ بھی کوئی جج صاحب سے پوچھ کر بتائے کہ میں کیا کروں

     

    کنول شوزیب اپنے خلاف لگنے والے الزامات سے تنگ آکر مزید لکھتی ہیں کہ "آپ نے بغیر تحقیق کئے یہ الزام لگا دیا کہ آپکے گینگ کی رکن بتول راجپوت جنکو گھٹیا صحافت کیوجہ سے پہلے بھی چینلز نے نکال دیا تھا انھیں میں نے حبس بے جا میں رکھا اس کو آزادی صحافت کہیں گے؟ نوبت یہ ہے کہ اب آپ لوگوں کو گھروں میں گھس کر بلیک میل کریں گے اغوا کا الزام لگا دیں گے؟

    یاد رہے کہ متنازعہ اینکرحامد میرنے بھی ٹویٹ کے ذریعے الزام لگایا تھا کہ خاتون اینکر بتول راجپوت کو پی ٹی آئی کی ایم این اے کنول شوزیب نے انٹرویو کے بعد یرغمال بنا لیا اور کہا کہ انٹرویو ڈیلیٹ کرو

    جس کے جواب میں‌ مجبور ہوکر کنول شوزیب نے اپنی مظلومانہ درخواست عرض گزار کی ہے

  • بھارت کا کیسا دفاعی نظام ہے جسے اپنے میزائلز پر کنٹرول ہی نہیں؟وفاقی وزیرکا بھارت سے سوال

    بھارت کا کیسا دفاعی نظام ہے جسے اپنے میزائلز پر کنٹرول ہی نہیں؟وفاقی وزیرکا بھارت سے سوال

    لاہور:بھارت کا کیسا دفاعی نظام ہے جسے اپنے میزائلز پر کنٹرول ہی نہیں؟وفاقی وزیرکا بھارت سے سوال ،اطلاعات کے مطابق فرخ حبیب نے کہا ہے کہ بھارت کا کیسا دفاعی نظام ہے جسے اپنے میزائلز پر کنٹرول ہی نہیں؟

    وزیر مملکت فرخ حبیب نے ٹوئٹر پر جاری ایک پیغام میں کہا ہے کہ دنیا کو نوٹس لینا چاہیے کہ کیا بھارت کے دفاعی نظام میں اتنی سکت ہے کہ اس قسم کے اور ایٹمی میزائلز کو بھی سنبھال سکے؟انہوں نے کہا کہ ان کے دفاعی نظام کی کمزوریاں خطے کے امن کے لیے بھی خطرہ بن گئی ہیں۔

    واضح رہے کہ بھارت نے 9 مارچ کو پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے کا اعتراف کرلیا ۔

    بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بھارتی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ 9 مارچ 2022 کو معمول کی دیکھ بھال کے دوران تکنیکی خرابی کی وجہ سے ایک میزائل حادثاتی طور پر فائر ہوا۔

    بھارتی وزارت دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا ہے اور ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم دیا ہے۔

    بھارتی وزارت دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ معلوم ہوا ہے کہ میزائل پاکستان کے ایک علاقے میں گرا۔واقعہ انتہائی افسوسناک ہے تاہم اچھی بات یہ ہے کہ حادثے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    پنجاب کے ضلع خانیوال کی تحصیل میاں چنوں میں گرنے والا میزائل بھارت کا تھا جس کی تصدیق بھارتی وزارت دفاع نے کر دی ہے۔

    بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق بھارتی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 9 مارچ 2022 کو معمول کی دیکھ بھال کے دوران ایک تکنیکی خرابی کی وجہ سے میزائل حادثاتی طور پر فائر ہوا۔ بھارتی حکومت نے سنجیدگی سے غور کیا ہے اور اعلیٰ سطحی کورٹ آف انکوائری کا حکم دیا ہے۔

    بھارتی وزارت دفاع کے مطابق ہمیں پتہ چلا ہے میزائل پاکستان کی حدود میں گرا، گوکہ واقعہ افسوسناک ہے لیکن ہمیں اس بات پر اطمینان ہے اس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    دوسری طرف یہ بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ 3 دن کے بعد اب ہندوستانی وزارت دفاع نے کہا کہ ایک میزائل غلطی سے داغا گیا ، دفاع سے متعلق لوگوں کا کہنا ہے کہ یا تو یہ جان بوجھ کر پاکستانی ریاست کی تیاری اور ردعمل کو جانچنے کے لیے فائر کیا گیا تھا۔یا پھراصل میں تکنیکی خرابی تھی۔

    یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اگر یہ کسی جنونی انتہا پسند ہندو کی سازش ہے تو یہ پھر بھی ہوسکتی ہے

    یہ بھی کہا جارہا ہے کہ انتہاپسندوں کی جانب سے ایٹمی صلاحیت کے حامل (کینسٹرائزڈ) میزائل فائر کرنے کا امکان اب ایک سنگین خطرہ ہے۔ جوہری کمانڈ/کنٹرول پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے اور جوہری جنگ شروع کر سکتا ہے۔

  • مہنگائی نےعوام کا جینا مشکل کردیا ہے:حکومت مہنگائی کم کرنےکی کوشش کرے :چئیرمین عوام تحفظ موومنٹ

    مہنگائی نےعوام کا جینا مشکل کردیا ہے:حکومت مہنگائی کم کرنےکی کوشش کرے :چئیرمین عوام تحفظ موومنٹ

    لاہور:مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کردیا ہے:حکومت مہنگائی کم کرنےکی کوشش کرے :چئیرمین عوام تحفظ موومنٹ ڈاکٹر نوید الہی نے پارٹی اجلاس میں ممبرشپ مہم کا آغاز کیا اور کہا مہنگائی عروج پر ہے مگر حکمران سیاسی جوڑ توڑ اور اقتدار بچانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ ان کی تمام تر توجہ ڈولتے سنگھاسن کو سنبھالنے میں ہے لیکن ڈوبتے لوگوں کی پرواہ نہیں۔ گھی اور چکن کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے نے لوگوں کو بوکھلا دیا ہے۔ دالوں اور دوائیوں کے نرخ لوگوں کے سینوں پہ مونگ دل رہی ہیں۔ بجلی اور گیس کے بلوں اور پٹرول کے خونچکاں خرچوں نے عوام کو بے حال اور بد حال کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن بھی عوام کے مسائل پہ تو شاید ہی اکھٹی ہوئی ہو مگر حکومت کے حصول کی جنگ کے لئیے یکجا ہو گئی ہے۔ کراچی سے پروفیسر سلمان ڈی محمد نے کیا اور ممبر شپ مہم اور عوام کے لئی پارٹی کی کوششوں کو سراہا۔ شرکا نےتمام اپوزیشن پارٹیوں کے سربراہان سے پر زور اپیل کی کہ غریب، کم آمدنی والوں اور تنخواہ دار طبقے، کسانوں اور مزدوروں کے لئیے جو آواز عوام تحفظ موومنٹ نے اٹھائی ہے اس میں بھرپور ساتھ دیں۔ اس طرح ہم آواز ہونے سے پسے ہوئے لوگوں کو امید ہو گی کہ انکی بھی اس نظام میں شرکت اور شراکت ہے۔ یہ موقع ہے سیاسی پارٹیوں کے لئیے کہ عوام کو یقین دلا سکیں کہ وہ موجودہ نا اہل اور بے حس حکومت کی نالائقی اور سنگدلی کو کبھی نہیں دہرائیں گے۔

    چئیرمین عوام تحفظ موومنٹ نے توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ متوسط طبقہ، جو کہ ملک کی اکثریت ہے، کی نمائندگی صفر ہے۔ یہی طبقہ عوام کے مسائل کو سمجھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔لہٰزا اسکو امورِ حکومت سے دور رکھا جاتا ہے۔ یہ لوگ روایتی اور ناکارہ لیڈرشپ کا توڑ ہیں۔ ان کا آگے آنا ضروری ہے۔ عوام تحفظ موومنٹ کا عزم ہے کہ پاکستان میں ایسا نظام وضع کیا جائے گا جس میں حکومت فیصلے عوام کی مرضی اور خواہشات کے مطابق شفاف طریقے سے کرے۔

    عوام سے کچھ چھپایا نہ جائے۔ وہ فیصلہ سازی میں شرکت اور شراکت کے حقدار ہیں۔ انکی زندگیوں پہ اثر انداز ہونے والے فیصلے چند مالدار اربابِ حکومت بند کمروں میں بیٹھ کر کر دیں، یہ نامنظور ہے۔اسمبلیوں میں بیٹھے نمائندے پارٹی مالکان کی آواز پہ ہی لبیک کہ سکتے ہیں۔ انکی اپنی کوئی آواز اور اختیار نہیں۔ جب تک اسمبلیاں پارٹی مالکان کے تسلط سے واگزار نہیں ہوتیں عوام کو اپنے تحفظ کے لئیے خود آواز اٹھانا پڑے گی۔ عوام تحفظ موومنٹ اس ضمن میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔ ساتھ ہی ساتھ منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کی سر کوبی کریں گے۔ ان کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔

  • پارلیمنٹ لاجزتنازعہ:شیخ رشید سے بدلہ لے لیاگیا:مقدمے کے لیے درخواست دائر

    پارلیمنٹ لاجزتنازعہ:شیخ رشید سے بدلہ لے لیاگیا:مقدمے کے لیے درخواست دائر

    پارلیمنٹ لاجزتنازعہ:شیخ رشید سے بدلہ لے لیاگیا:مقدمے کے لیے درخواست دائر:اطلاعات کے مطابق کل رات جے یو آئی ف کے سبربراہ کی ملیشیا شدت پسند تنظیم انصارالاسلام کی طرف سے پارلیمنٹ لاجز میں داخلے کا مسئلہ نئی شکل اختیارکرگیا ،یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ کل تنظیم کے کارکنوں کے ساتھ پولیس کے رویے کا بدلہ شیخ رشید سے لینے کے لیے ایک درخواست دائرکردی گئی ہے

    ادھراس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ تنظیم کے چند کارکنان نے شیخ رشید کے خلاف ایک درخواست دائر کی ہے جس میں ایک بڑا ہی عجیب مطالبہ کیا گیا ہے

     

    اطلاعات کے مطابق اسلام آباد کے ‏تھانہ آبپارہ اسلام آباد میں پگڑی (سنت رسول)کی توہین اور پارلیمنٹ لاجز میں غیر قانونی آپریشن کے خلاف وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید سیکرٹری داخلہ سمیت ذمہ داران کے خلاف 295,505 سمیت متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کے لئے درخواست دائر کی گئی ہے

    یاد رہے کہ کل اسلام آباد میں پارلیمنٹ لاجز میں جے یو آئی ف کے سربراہ فضل الرحمن کی ذاتی ملیشیا شدت پسند تنظیم انصارالاسلام نےپارلیمنٹ لاجز میں داخل ہوگئی تھی اور تنظیم کا کہنا تھا کہ وہ ارکان کی حفاظت کےلیے بھیجےگئے ہیں ،

    اس دوران تنظیم کے کارکنان اور پولیس کے درمیان محاذ آرائی بھی ہوئی تھی اور اس محاذ آرائی کوروکنے کے لیے وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید نے پولیس کو ہدایت کی تھی کہ تنظیم کے ڈنڈا برداروں کو پارلیمنٹ لاجز سے نکلنے کی درخواست کی جائے

    اس دوران جب پولیس کی طرف سے بار بار پارلیمنٹ لاجز کو چھوڑنے اور خالی کرنے کی درخواست کام نہ آئی تو پولیس نے زبردستی تنظیم کے ورکروں کو وہاں سےنکالا جس کے دوران پولیس اور تظیم کے اراکین کے درمیان چھیڑ خانی بھی ہوئی ،

    شیخ رشید اور دیگرحکام کے خلاف درخواست میں اس وقت ہونے والے جھگڑے کو بنیاد بنا کر مقدمہ دائر کرنے کی درخواست کی گئی ہے