Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • یورپ روس سے جنگ کرنے کےلیےتیار:سخت اقدامات،حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن

    یورپ روس سے جنگ کرنے کےلیےتیار:سخت اقدامات،حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن

    پیرس : یورپ روس سے جنگ کرنے کےلیےتیار:سخت اقدامات،حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن،اطلاعات کے مطابق یورپی یونین نے روسی صدراور وزیرخارجہ کے اثاثے منجمد کرنے پر اتفاق کرلیا

    روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت مختلف شہروں میں جنگی طیاروں کے حملے، ٹینکوں کی گولا باری کا سلسلہ جاری ہے۔خبرایجنسی کے مطابق امریکا، برطانیہ اور یورپ نے روس پر مالی پابندیاں عائد کردی ہیں لیکن اب یورپی یونین نے روسی صدر اور وزیر خارجہ پر پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق یورپی یونین نے ولادیمیر پیوٹن اور وزیرخارجہ سرگئی لاوروف کے اثاثے منجمد کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یورپ میں پیوٹن اورلاوروف سے وابستہ اثاثے منجمد کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    اس حوالے سے لٹویا کے وزیر خارجہ کا کہنا تھاکہ یورپی یونین روس پر پابندیوں کا ایک اور منصوبہ تیار کر رہا ہے اور جلد ہی اس کا اعلان کیا جائے گا۔

    اب جب روس نے یوکرین پر حملہ کردیا تو یوکرین کے آس پاس موجود ممالک میں بھی عدم تحفظ کی لہر دوڑ گئی۔ان ہی میں ایک ملک فن لینڈ بھی ہے جو شمالی یورپ کا ملک ہے جو یورپی یونین کا بھی حصہ ہے اور اس کی سرحدیں، روس، ناروے اور سوئیڈن کے ساتھ ملتی ہیں۔

    یوکرین پر حملے کے بعد فن لینڈ کی خاتون وزیراعظم سنا مارین نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ان کے ملک کی سلامتی پر بات آئی تو وہ بھی مغربی دفاعی اتحاد نیٹو میں شمولیت کیلئے تیار ہیں۔

    پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سنا مارین نے کہا کہ اگر قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں فن لینڈ نیٹو کی رکنیت کیلئے درخواست دینے کو تیار ہے۔

    فن لینڈ کی وزیراعظم کے اس بیان پر روس نے سخت ردعمل دیا ہے کیوں کہ اس کی سرحد فن لینڈ کے ساتھ ملتی ہے اور وہ نیٹو کی وسعت کیخلاف ہے اور اسے اپنی قومی سلامتی کیخلاف قرار دیتا ہے۔

    روسی وزارت خارجہ نے فن لینڈ کی وزیراعظم کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے تڑی لگائی ہے کہ فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت کے سنگین عسکری اور سیاسی نتائج ہوں گے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہم فن لینڈ کی حکومت کے عسکری طورپر غیر جانب دار رہنے کی پالیسی کا احترام کرتے ہیں اور اسے شمالی یورپ میں استحکام اور سلامتی کو برقرار رکھنے میں ایک ایک عنصر بھی سمجھتے ہیں البتہ فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت کے سنگین عسکری اور سیاسی نتائج ہوں گے۔‘

  • روس اور بیلاروس کے خلاف طبل جنگ بج گیا

    روس اور بیلاروس کے خلاف طبل جنگ بج گیا

    لندن : روس اور بیلاروس کے خلاف طبل جنگ بج گیا،اطلاعات کے مطابق کھیلوں کی دنیا کی سب سے بڑی تنظیم انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے روس اور بیلاروس میں ہونے والے تمام کھیلوں کی سرگرمیاں معطل کرنے کا حکم دے ہے۔

    بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے کل جمعہ کو دنیا بھر کے ممالک کی کھیلوں کی فیڈریشنز پر زور دیا کہ وہ روس اور بیلاروس میں منعقد ہونے والے تمام ایونٹس کو منسوخ یا منتقل کریں، اور ممالک کے جھنڈوں اور قومی ترانے کا استعمال بند کریں۔

    انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی جانب سے یہ درخواست چیمپیئنز لیگ کے فائنل کو سینٹ پیٹرزبرگ سے پیرس کے مضافاتی علاقے میں منتقل کرنے اور اسکیئنگ اور فارمولا ون کی گورننگ باڈی کے روس سے آنے والی ریسوں کو معطل کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔

    والی بال اور شوٹنگ دونوں کی عالمی چیمپئن شپ روس میں ہونے والی ہے۔ ماسکو میں 24 مارچ کو پولینڈ کے خلاف ورلڈ کپ کوالیفائنگ پلے آف میچ بھی شیڈول ہے۔

    آئی او سی نے کہا ہے کہ اسپورٹس کی گورننگ باڈیز کو روسی اور بیلاروس کی حکومتوں کی طرف سے اولمپک معاہدے کی خلاف ورزی کو مدنظر رکھنا چاہیے اور کھلاڑیوں کی حفاظت اور حفاظت کو مکمل ترجیح دینی چاہیے۔

  • یوکرین پرروسی حملہ:برطانیہ کا سخت ردعمل:     مانچسٹریونائیٹڈ نے روسی ایئرلائن سےمعاہدہ منسوخ کردیا

    یوکرین پرروسی حملہ:برطانیہ کا سخت ردعمل: مانچسٹریونائیٹڈ نے روسی ایئرلائن سےمعاہدہ منسوخ کردیا

    لندن :یوکرین پرروسی حملہ:برطانیہ کا سخت ردعمل:مانچسٹریونائیٹڈ نے روسی ایئرلائن سےمعاہدہ منسوخ کردیا،اطلاعات کے مطابق یوکرین پر روس کے حملےکے خلاف برطانیہ کی طرف سے سخت ردعمل آرہا ہے اور پابندیوں‌کے ساتھ ساتھ اب ماضی میں کئے گئے معاہدے بھی منسوخ کیے جارہے ہیں‌، اس سلسلے میں‌ مانچسٹر یونائیٹڈ نے روسی ایئر لائن ایروفلوٹ کے ساتھ 40 ملین پاؤنڈ کے بڑے اسپانسر شپ معاہدے کو منسوخ کر دیا ہے۔

    مانچسٹر یونائیٹڈ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام یوکرین پر روس کے حملے کے جواب میں ہے اور منگل کو ٹائٹن ایئرویز کے ساتھ یونائیٹڈ کے میڈرڈ کے لیے پرواز کے بعد سامنے آیا ہے۔

    مانچسٹر یونائیٹڈ کے ایک ترجمان نے کہا: ‘یوکرین میں ہونے والے واقعات کی روشنی میں، ہم نے ایروفلوٹ کے اسپانسرشپ کے حقوق واپس لے لیے ہیں۔’ہم دنیا بھر میں اپنےچاہنے والوں‌ کے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں اور متاثرہ افراد سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔’

    مانچسٹر یونائیٹڈ کا کہنا ہے کہ اس ٹیم کا ایک دیرینہ تجارتی معاہدہ تھا جس نے پہلی بار 2013 میں روسی کمپنی سے رابطہ کیا تھا لیکن اب اس نے تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔

    ایروفلوٹ کے ساتھ یونائیٹڈ کے معاہدے کی تجدید 2017 میں £40 ملین میں ہوئی تھی اور اس کی میعاد 2023 میں ختم ہونے والی تھی۔ ایروفلوٹ کی قومی ایئر لائن ہے اور 52 ممالک میں 146 مقامات پر پرواز کرتی ہے۔

    یونائیٹڈ ستاروں کو پوری دنیا میں اڑانے کے علاوہ، ایروفلوٹ نے کلب کو سفری اور لاجسٹک مشورے بھی فراہم کیے لیکن یونائیٹڈ اب ایک نئے فلائٹ پارٹنر کے لیے مارکیٹ میں ہے، جس پر قطر ایئرویز زیر غور ہے۔یونائیٹڈ نے ایروفلوٹ کے ساتھ اپنی نو سالہ رفاقت سے مجموعی طور پر £100m کے علاقے میں سرمایہ کاری کی۔

    مانچسٹر یونائیٹڈ نے پہلے روسی سرکاری ایئرلائن ایروفلوٹ کے ساتھ اپنی پرواز کا تبادلہ کیا تھا اور اب یوکرین پر حملے کی روشنی میں اپنا سپانسرشپ معاہدہ منسوخ کر دیا ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ یوکرین پر روسی حملے کے بعد یونائیٹڈ کے حصص کی قیمت گر گئی اور یہ قیاس کیا گیا کہ یہ ایروفلوٹ کے ساتھ ان کی وابستگی کی وجہ سے گرا ہے۔جمعرات تک، دو ہفتوں میں حصص کی قیمت $14.08 فی حصص سے گر کر $13.10 ہوگئی، جو کہ سات فیصد کی کمی ہے۔

  • چل کہیں کی جھوٹی”اپوزیشن”:وزارت اعلیٰ کی کوئی بات ہی نہیں کی پھربدنام کیوں کرتی ہے:پاکستان مسلم لیگ

    چل کہیں کی جھوٹی”اپوزیشن”:وزارت اعلیٰ کی کوئی بات ہی نہیں کی پھربدنام کیوں کرتی ہے:پاکستان مسلم لیگ

    لاہور:چل کہیں کی جھوٹی”اپوزیشن”:پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی کوئی بات ہی نہیں کی پھربدنام کیوں کرتی ہے:اطلاعات کےمطابق پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم (ق) نے اپوزیشن سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے حصول کی تردید کردی ہے اور کہا ہےکہ اپوزیشن نے جھوٹ بول کراپنی روایت قائم رکھی ہے

    اس حوالےسے ترجمان مسلم لیگ (ق) کے مطابق اپوزیشن سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے حصول کیلئے کوئی بات نہیں کی۔پھرہمارے بارے میں پراپیگنڈہ کیوں کیا جارہا ہے

    ترجمان کا کہنا تھاکہ مرکز میں عدم اعتماد کی حمایت کا کوئی فیصلہ نہیں کیا جبکہ پارٹی نے تمام فیصلوں کا اختیار چوہدری پرویزالٰہی کو دے دیا ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل خبر سامنے آئی تھی کہ مسلم لیگ (ق) نے اپوزیشن سے پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ مانگ لی ہے۔ کے مطابق پیپلز پارٹی اور (ق) لیگ کی اعلیٰ قیادت کے درمیان رابطہ ہوا جس میں چوہدری برادران نے سابق صدر آصف زرداری کو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ (ق) لیگ نے اپوزیشن سے پنجاب میں وزارتِ اعلیٰ مانگی ہے اور لیگی قیادت کا دو ٹوک مؤقف ہےکہ اس سے کم پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق وزارتِ اعلیٰ ملنے کی صورت میں (ق) لیگ نے پنجاب اور مرکز میں ان ہاؤس تبدیلی کی کامیابی کی ضمانت دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    واضح رہے کہ اپوزیشن کی جانب سے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کیلئے حکومتی اتحادی جماعتوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے،

  • پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی،اپنے ہی ہیں:شیخ رشید احمد

    پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی،اپنے ہی ہیں:شیخ رشید احمد

    لاہور: پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی،اپنے ہی ہیں:اطلاعات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ کے معاملے پر وفاق اورپنجاب نے مشترکہ کوارڈینیشن کمیٹی قائم کرنے اور پُرامن لانگ مارچ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    مشترکہ کوآرڈینیشن کمیٹی کے قیام کا فیصلہ وزیرداخلہ شیخ رشید احمد اور وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا۔ کمیٹی میں وفاقی وزرارت داخلہ، صوبائی وزارت داخلہ کے حکام شامل ہوں گے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے صوبائی انتظامیہ کو لانگ مارچ کے بارے میں گورنس گائیڈلائنز جاری کر دیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کے لانگ مارچ کے روٹ، راستوں میں پڑاو کے مقامات پر سیکورٹی سخت ہو گی، امن وامان کے قیام کے لئے ضروری اقدامات انتظامیہ کی ذمہ داری ہو گی اور پرامن لانگ مارچ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں کی جائے گی۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کو لانگ مارچ کی متوقع تعداد کے بارے میں رپورٹس پیش کر دی گئی۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ چھ سے دس ہزار کے قریب افراد لانگ مارچ میں شامل ہوسکتےہیں۔

    ذرائع کے مطابق لانگ مارچ کو سیاسی طورپر پرامن انداز سے ہینڈل کیاجائے گا، پرامن لانگ مارچ کے حوالےسے کسی قسم کاانتظامی ہتھکنڈا استمعال نہیں کیاجائے گا۔

  • دنیا کی تیسری ایٹمی قوت یوکرین کی ایٹمی قوت ختم کرنے      میں یوکرین کی کیاغلطی تھی؟کس نےدیا دھوکہ:رپورٹ

    دنیا کی تیسری ایٹمی قوت یوکرین کی ایٹمی قوت ختم کرنے میں یوکرین کی کیاغلطی تھی؟کس نےدیا دھوکہ:رپورٹ

    کیف : دنیا کی تیسری ایٹمی طاقت تھے،دوستوں نے مروا دیا:یوکرینی وزیراعظم کا اظہار افسوس بار بار تڑپانے لگا ، یوکرین 30 سال قبل اپنی ایٹمی قوت سے دستبرداری کو اب یاد کر رہا ہے، یوکرین نے مغرب اور روس کی بات مان کر اگر یہ عمل نہ کیا ہوتا تو آج روس اسے اس طرح دھمکا نہیں سکتا تھا۔

    یوکرین کے وزیراعظم نے کہا کہ تین دہائیوں قبل یوکرین نے مغرب اور روس کے درمیان تخفیف اسلحہ کے مذاکرات کے نتیجے میں اور روس کی جانب سے سلامتی کی گارنٹی کے بدلے میں اپنے پاس موجود جوہری ہتھیاروں کو تلف کردیا تھا۔انہوں نے کہا کہ آج ان ضمانتوں کی حیثیت ان کاغذ کے ٹکڑوں جتنی بھی نہیں جن پر انہیں تحریر کیا گیا تھا۔

    اسی سابقہ تجربے کے پیش نظر انہوں نے اپنے لوگوں اور دنیا کو خبردار کیا کہ یوکرین کو دوبارہ ایسا بڑا معاہدہ کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے، جس کا روس دوبارہ احترام نہیں کرے گا۔اس کی بجائے انہوں نے تجویز کیا کہ یوکرین کا نیٹو میں شامل ہونا اس کی حقیقی سلامتی کی ضمانت ہوگی۔

    نتیجتاً آج روس یوکرین پر حملہ آور ہے اور یوکرینی صدر ساری یورپی دنیا میں پاگلوں کی طرح مدد کی بھیک مانگتا پھر رہا ہے. مگر کوئی یوکرین کی مدد کو نہیں آیا.

    خیال رہےکہ یوکرین 1991 تک سوویت یونین کا حصہ تھا اور سوویت یونین سے علیحدگی کے وقت یوکرین کے پاس بڑی تعداد میں جوہری ہتھیار موجود تھے جو کہ تعداد کے لحاظ سے دنیا بھر میں اس وقت تیسرے نمبر پر تھے، یہ ہتھیار سوویت یونین کی جانب سے وہاں چھوڑے گئے تھے تاہم آزادی کے بعد یوکرین نے خود کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنےکا بڑا فیصلہ کیا۔

    دستاویزات کے مطابق 1991 میں سوویت یونین سے یوکرین کی آزادی کے وقت، یوکرین کے پاس دنیا کا تیسرا سب سے بڑا جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ تھا، جس میں ایک اندازے کے مطابق 1,900 اسٹریٹجک وار ہیڈز، 176 بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBMs) اور 44 اسٹریٹجک بمبار شامل تھے۔ 1996 تک، یوکرین نے اقتصادی امداد اور سلامتی کی یقین دہانیوں کے بدلے اپنے تمام جوہری وار ہیڈز روس کو واپس کر دیے تھے، اور دسمبر 1994 میں، یوکرین 1968 کے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کا ایک غیر جوہری ہتھیار رکھنے والا ریاستی فریق بن گیا۔ یوکرین میں آخری اسٹریٹجک نیوکلیئر ڈیلیوری گاڑی کو 1991 کے اسٹریٹجک آرمز ریڈکشن ٹریٹی (START) کے تحت 2001 میں ختم کردیا گیا تھا۔ یوکرین سے ہتھیاروں اور جوہری بنیادی ڈھانچے کو ہٹانے کے لیے 1992 میں لزبن پروٹوکول کے ساتھ شروع ہونے والے سیاسی تدبیروں اور سفارتی کاموں کے برسوں لگے۔

    جزوی طور پر بین الاقوامی شناخت حاصل کرنے کی کوشش میں، یوکرین کی آزادی سے پہلے کی تحریک نے NPT میں غیر جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست کے طور پر شامل ہونے کی کوششوں کی حمایت کی۔ 16 جولائی 1990 کو اپنی خودمختاری کے اعلان کے ساتھ، یوکرین نے "جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری کا فیصلہ کیا

    سوویت یونین کی تحلیل کے ساتھ، آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ نے 30 دسمبر 1991 کو منسک معاہدے پر دستخط کیے، اس بات پر اتفاق کیا کہ روسی حکومت کو تمام جوہری ہتھیاروں کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔ تاہم، جب تک یہ ہتھیار بیلاروس، یوکرین اور قازقستان میں موجود ہیں، ان ممالک کی حکومتوں کو ان کے استعمال کو ویٹو کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ اسلحے کو ختم کرنے کا ہدف 1994 کے آخر تک مقرر کیا گیا تھا۔

    یوکرین نے 23 مئی 1992 کو لزبن پروٹوکول پر دستخط کیے تھے۔ پروٹوکول میں بیلاروس، قازقستان اور یوکرین کے جوہری ہتھیار روس کو واپس کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ تمام ریاستوں کو START اور NPT میں شامل ہونا تھا۔ تاہم، یوکرین کے اندر، START کی توثیق، NPT میں شمولیت، یا مجموعی طور پر جوہری تخفیف کی طرف بہت کم پیش رفت ہوئی۔ پروٹوکول کا تقاضا تھا کہ یوکرین جلد سے جلد NPT پر عمل کرے، لیکن اس نے ملک کو اس پر عمل کرنے کے لیے سات سال تک کا وقت دیا۔

    1992 کے اواخر تک، یوکرین کی پارلیمنٹ زیادہ جوہری حامی خیالات کا اظہار کر رہی تھی۔ کچھ کا خیال تھا کہ یوکرین کم از کم عارضی جوہری ہتھیاروں کا حقدار ہے۔ شاید امید کے ساتھ، امریکی حکومت نے یوکرین کو تباہی کے لیے 175 ملین ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا۔ اس کے بجائے، یوکرین کی حکومت نے جوہری قوتوں کے انتظامی انتظام پر عمل درآمد شروع کر دیا اور وار ہیڈز کی ملکیت کا دعویٰ کیا۔

    اپریل 1993 کے آخر میں، 162 یوکرائنی سیاست دانوں نے START کی توثیق کے لیے 13 پیشگی شرائط شامل کرنے کے لیے ایک بیان پر دستخط کیے، جس سے توثیق کے عمل میں مایوسی ہوئی۔ پیشگی شرائط کے لیے روس اور امریکہ کی جانب سے سیکورٹی کی یقین دہانی، سیکورٹی کے لیے غیر ملکی امداد اور جوہری مواد کے لیے معاوضہ درکار تھا۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ یوکرین اپنی ڈیلیوری گاڑیوں کا صرف 36 فیصد اور اپنے وار ہیڈز کا 42 فیصد ختم کر دے گا، باقی یوکرین کے کنٹرول میں چھوڑ دے گا۔ روس اور امریکہ نے ان مطالبات کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن یوکرین اس سے باز نہیں آیا۔ مئی 1993 میں، امریکہ نے کہا کہ اگر یوکرین START کی توثیق کرتا ہے، تو واشنگٹن مزید مالی امداد فراہم کرے گا۔ اس کے بعد یوکرین، روس اور امریکہ کے درمیان یوکرائنی جوہری تخفیف کے مستقبل پر بات چیت شروع ہوئی۔

    1993 میسنڈرا ایکارڈز

    یوکرائنی اور روسی حکام نے جوہری ہتھیاروں کو ختم کرنے کے پروٹوکول، طریقہ کار اور معاوضے کی شرائط سمیت معاہدوں کے ایک سیٹ پر پہنچے۔ تاہم، دونوں فریق حتمی دستاویز پر متفق نہیں ہو سکے، اور سربراہی اجلاس بالآخر ناکام ہو گیا۔

    1994 سہ فریقی بیان

    میسنڈرا ایکارڈز نے بالآخر کامیاب سہ فریقی مذاکرات کا مرحلہ طے کیا۔ جیسا کہ امریکہ نے روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کی، تینوں ممالک نے 14 جنوری 1994 کو سہ فریقی بیان پر دستخط کیے۔ یوکرین نے امریکہ اور روس کی طرف سے اقتصادی مدد اور سلامتی کی یقین دہانیوں کے بدلے میں مکمل تخفیف اسلحہ، بشمول تزویراتی ہتھیاروں کا عہد کیا۔ یوکرین نے اپنے جوہری وار ہیڈز روس کو منتقل کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور میزائلوں، بمباروں اور جوہری انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے میں امریکی مدد قبول کی۔ یوکرین کے وار ہیڈز کو روس میں ختم کر دیا جائے گا، اور یوکرین کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تجارتی قیمت کا معاوضہ ملے گا۔ یوکرین نے 3 فروری 1994 کو اپنی ابتدائی شرائط کو منسوخ کرتے ہوئے START کی توثیق کی، لیکن وہ مزید حفاظتی یقین دہانیوں کے بغیر NPT میں شامل نہیں ہوگا۔

    1994 سیکورٹی کی یقین دہانیوں پر بوڈاپیسٹ میمورنڈم

    یوکرین کے ساتھ سلامتی کے وعدوں کو مستحکم کرنے کے لیے، امریکہ، روس، اور برطانیہ نے 5 دسمبر 1994 کو بڈاپسٹ میمورنڈم آن سیکیورٹی ایشورنس پر دستخط کیے تھے۔ ہیلسنکی معاہدے کے اصولوں کے مطابق ایک سیاسی معاہدہ، یادداشت میں سلامتی کی یقین دہانیاں شامل تھیں۔ یوکرین کی سرزمین یا سیاسی آزادی کے خلاف دھمکی یا طاقت کا استعمال۔ ممالک نے یوکرین کی خودمختاری اور موجودہ سرحدوں کا احترام کرنے کا وعدہ کیا۔ بیلاروس اور قازقستان کے لیے بھی متوازی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ اس کے جواب میں، یوکرین نے 5 دسمبر 1994 کو ایک غیر جوہری ہتھیاروں والی ریاست کے طور پر NPT سے باضابطہ طور پر الحاق کیا تھا۔ اس اقدام نے START کی توثیق کی حتمی شرط کو پورا کیا، اور اسی دن، پانچ START ریاستوں کے فریقین نے توثیق کے آلات کا تبادلہ کیا، معاہدے کو نافذ کرنا۔

    روس اور امریکہ کا 2009 کا مشترکہ اعلامیہ

    روس اور امریکہ نے 2009 میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ 1994 کے بوڈاپیسٹ میمورنڈم میں کی گئی سیکورٹی کی یقین دہانیاں 2009 میں START کی میعاد ختم ہونے کے بعد بھی درست رہیں گی۔

    یاد رہے کہ 1986 میں یوکرین کے شہر چرنوبل کے جوہری پاور پلانٹ میں دھماکےکے بعد سے وہاں کے رہائشی محفوظ مقامات پر نقل مکانی کرگئے تھے اور 4000 مربع کلومیٹر کا علاقہ اب بھی خالی پڑا ہے، یوکرین کی حکومت کا کہنا ہےکہ چرنوبل کے اس متروک علاقے میں لوگ آئندہ 24 ہزار سال تک آباد نہیں ہو سکیں گے۔

    دھماکے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے اور وہاں مسلسل 10 دن تک آگ لگی رہی، تابکار دھوئیں کی گرد کے بادل ہوا کے ذریعے پورے مشرقی یورپ میں پھیل گئے تھے، اس دوران امدادی سرگرمیاں سرانجام دینے والے 134 کارکنوں میں تابکاری سے متعلق بیماری تشخیص ہوئی تھی جن میں سے 28 کارکنوں کی موت اس واقعے کے چند ماہ کے اندر ہی واقع ہو گئی جب کہ مزید 19افراد بھی بعد ازاں چل بسے

  • یکم مارچ سے پھر پیٹرول مہنگا ہونے کا امکان

    یکم مارچ سے پھر پیٹرول مہنگا ہونے کا امکان

    اسلام آباد:یکم مارچ سے پھر پیٹرول مہنگا ہونے کا امکان،اطلاعات کے مطابق چیئرمین اوگرا مسرورخان نے یکم مارچ سے پھر پٹرول مہنگا ہونے کا عندیہ دے دیا۔

    ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں گیس سکیموں پر کام نہ ہونے پر ن لیگی ممبران نے شدید برہمی کس اظہارکیا۔

    سیکرٹری پٹرولیم ڈویژن نے کہا کہ گیس سکیموں پر عائد پابندی کو ہٹانے پر غور کیا جارہا ہے، آنے والے ہفتوں میں ایل این جی کی قلت سے متعلق سوال کے جواب میں سیکرٹری پٹرولیم نے بتایا کہ ہمارے دو ایل این جی کارگوزمنسوخ ہوئے تھے جن میں سے ایک کارگو کا بندوبست کرلیا گیا لیکن اس کا ٹینڈر مہنگا ملا ہے۔

    چیئرمین اوگرا مسرورخان نے یکم مارچ سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ بارہ ہفتوں میں تیل کی جو قیمت بڑھی ہے اس کی نظیر نہیں ملتی۔ ڈالرکے مقابلے میں روپے کی قدر بھی بہت کم ہوگئی۔ خزانے میں جو پیسے آنے ہیں وہ کمپرومائز ہورہے ہیں۔ قیمتیں بڑھیں گی اسکا بوجھ عوام پرپڑے گا۔

    چئیرمین اوگرا کا کہنا تھا کہ حکومت 14 روپے پٹرولیم لیوی وصول کررہی جبکہ جی ایس ٹی صفر ہے۔ خزانے میں جو پیسے آنے ہیں وہ کمپرومائز ہورہے ہیں ۔عالمی سطح پر جیسی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اس کا بوجھ عوام پر پڑے گا۔ تیل قیمتوں کا فارمولا تبدیل نہیں ہوا وہ پرانا ہی ہے۔

  • یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کا تیسرا کانووکیشن:گورنرپنجاب مہمان خصوصی

    یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کا تیسرا کانووکیشن:گورنرپنجاب مہمان خصوصی

    لاہور: یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کا تیسرا کانووکیشن:گورنرپنجاب مہمان خصوصی ،اطلاعات کے مطابق صوبائی وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشد کی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے تیسرے کانووکیشن2022 میں بطور گیسٹ آف آنرشرکت اس کے علاوہ گورنرپنجاب چوہدری محمد سرور کی بھی کانووکیشن میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی

    کانووکیشن میں سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈہیلتھ کئیراینڈمیڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹراحمدجاویدقاضی،چیئرمین بورڈآف گورنرزجسٹس(ر)تصدق جیلانی،سینیٹراعجاز چوہدری، وائس چانسلرکنگ ایڈورڑمیڈیکل یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹرخالدمسعودگوندل، وائس چانسلرفاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹرعامرزمان خان، پرنسپل امیرالدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار الفرید وطلباء طالبات اور والدین کی کثیرتعدادنے شرکت کی۔

    گورنرپنجاب چوہدری محمد سروراور وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹرجاوید اکرم کی جانب سے صحت کے شعبہ میں تاریخی اقدامات اٹھانے پر وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدکی کاوشوں کوخراج تحسین پیش کیاگیا، کانووکیشن کاباقاعدہ آغازتلاوت قرآن پاک اور قومی ترانہ سے کیاگیا،گورنرپنجاب چوہدری محمد سرور،وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشداور وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرجاوید اکرم نے نمایاں کارکردگی کے حامل طلباء و طالبات اور ان کے والدین کو مبارکباد پیش کی۔

    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشد نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہاآج تما م گریجوایٹس،والدین اور اساتذہ کو کامیابی پر مبارکباد دیتی ہوں،بچوں کی کامیابی میں اساتذہ کے علاوہ والدین بھی برابرکے خراج تحسین کے حق دارہوتے ہیں،یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسزنے طب کی دنیامیں تحقیق کے حوالہ سے اہم کرداراداکیاہے،کسی بھی یونیورسٹی کا بنیادی کام تحقیق ہوتاہے،

    فیٹل میڈیسن میں سپیشلائزیشن کیلئے لندن میں اساتذہ سے بہت سیکھا،اس وقت پنجاب میں تھیلیسمیاء کا دنیاکاسب سے بڑا پروینشن پروگرام چلارہے ہیں اور کسی بھی بیماری کی تشخیص اور علاج میں اعدادوشمارکی بڑی اہمیت ہوتی ہے، پاکستان میں کوروناکا مقابلہ این سی اوسی کے قیام کے بغیر شایدناممکن تھا،ساری دنیااس وقت کوروناکا مقابلہ کرنے پر پاکستان کی تعریف کررہی ہے،

    آج پاکستان کوروناکامقابلہ کرنے کے حوالہ سے نمایاں ممالک کی فہرست میں کھڑاہے،یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسزکی منظوری موجودہ حکومت کی کامیابی ہے۔برصغیرمیں یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسزاپنی نوعیت کی منفرد یونیورسٹی ہوگی ہماری حکومت نے پنجاب کی یونیورسٹیزکو مضبوط کیاہے، آج کے نوجوان ہمارافخراوراثا ثہ ہیں۔تحریک انصاف کی حکومت قوم کا پیسہ قوم پر لگارہی ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان پاکستان کے عام آدمی کا معیارزندگی بلندکرنے کیلئے کام کررہے ہیںنیا پاکستان قومی صحت کارڈ،احساس کارڈاورکسان کارڈ بھی وزیراعظم کی جانب سے عام آدمی کی زندگی بہترکرنے کیلئے اہم قدم ہے،پنجاب میں 23نئے سرکاری ہسپتال بنائے جارہے ہیں،پنجاب میں 23نئے ہسپتالوں میں سے آٹھ مدراینڈچائلڈ ہسپتال شامل ہیں نیاپاکستان قومی صحت کارڈ عام آدمی کیلئے تھنڈی ہواکا تازہ جھونکاہے۔ماں اور بچہ کی صحت کی بہترسہولیات فراہم کرناوزیراعظم عمران خان کا ویژن تھا۔گنگارام ہسپتال میں 600بستروں پرمشتمل مدراینڈچائلڈ بلاک بنارہے ہیں گنگارام ہسپتال میں مدراینڈچائلڈبلاک اپنی نوعیت کا منفردہسپتال ہوگا گنگارام ہسپتال کے مدراینڈچائلڈ بلاک میں یوروگائیناکولوجی اور آنکولوجی سمیت تمام سپرسپشلٹیزکے شعبہ جات ہونگے،

    گنگارام ہسپتال میں مدراینڈچائلڈ بلاک ٹیسٹنگ بی بے کی سہولت دینے والاملک کا پہلاہسپتال ہوگا گنگارام ہسپتال کے مدراینڈچائلڈ بلاک کو19ماہ کے قلیل ترین عرصہ کے دوران مکمل کیاجارہاہے گنگارام ہسپتال میں مدراینڈچائلڈبلاک کو انشاء اللہ جون کے مہینے میں فعال کردیں گے گنگارام ہسپتال کا مدراینڈچائلڈ بلاک ایک ریفرل ہسپتال ہوگا،ماضی کی کسی حکومت نے عوام کو صحت کی بہترسہولیات فراہم کرنے کا سوچانہیں،وزیراعظم عمران خان نے حلف اٹھانے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں ماں اور بچہ کی صحت کی بہترسہولیات فراہم کرنے پرزوردیاتھا

    حکومت نیاپاکستان قومی صحت کارڈکے ذریعے عوام کو صحت کی مفت سہولیات فراہم کرنے کیلئے اگلے تین سال میں 400ارب روپے خرچ کررہی ہے 31مارچ2022تک پنجاب کے تمام3کروڑسے زائدخاندانوں کو نیاپاکستان قومی صحت کارڈ فراہم کردیاجائے گا،پنجاب میں نیاپاکستان قومی صحت کارڈ کیلئے 700سے زائدہسپتالوں کو ام پینل کرچکے ہیں،وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق پاکستان کو ریاست مدینہ بنارہے ہیں،گزشتہ حکومت محکمہ صحت کو50فیصدخالی اسامیوں کے ساتھ چلارہی تھی،

    محکمہ صحت میں ابھی تک 48000ڈاکٹرز،نرسزاور پیرامیڈیکل سٹاف کی بھرتی کرچکے ہیں محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرنے مزید15000نوکریوں کا اشتہاردیاہے محکمہ سپیشلائزڈہیلتھ کئیراینڈمیڈیکل ایجوکیشن نے مزید4000نوکریوں کا اشتہاردیاہے انشاء اللہ محکمہ صحت میں ایک لاکھ نوکریاں دیں گے ہماری حکومت نے نرسزکی750مزیدسیٹوں میں اضافہ کیاہے پنجاب کے تمام نرسنگ سکولوں کو اپ گریڈکردیاگیاہے۔کانووکیشن کے آخرمیں گورنرپنجاب چوہدری محمد سروراور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشدکو یادگاری شیلڈپیش کی۔

  • نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا آفات سے نمٹنے کے حوالہ سے اجلاس

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا آفات سے نمٹنے کے حوالہ سے اجلاس

    اسلام آباد:نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے )کی جانب سے اسلام آباد میں آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کے حوالے سے اہم اجلاس چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

    جمعرات کو اجلاس میں این ڈی ایم اے کے افسران کے علاوہ تمام صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے ڈائریکٹر جنرلز بشمول گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز، محکمہ موسمیات پاکستان، ریسکیو 1122، چیئرمین فیڈرل فلڈ کمیشن، ڈی سی اسلام آباد کے علاوہ نمائندہ ایم او ڈائریکٹوریٹ نے شرکت کی۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے نے اس موقع پر شرکاء سے اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان کو درپیش مختلف آفات اور ان کے خطرات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے مؤ ثر منصوبوں کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس کے دوران باہمی ہم آہنگی عوامی آگاہی مہم ، مختلف مراحل/درجوں پر مشتمل فرضی مشقوں اور میڈیا کے اہم کردار کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔

    اجلاس کے دوران زلزلہ اور سیلاب جیسی قدرتی آفات اور ان کے خطرات سے نمٹنے کے حوالے سے بھی تفصیلی بات چیت کی گئی۔ شرکاء نے قدرتی آفات اور ان کے خطرات کو سامنے رکھتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان سے نمٹنے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے نے اجلاس کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ وفاق نے ہمیشہ صوبائی و ضلعی اداروں کو ہر قسم کی مدد فراہم کی اور مستقبل میں بھی کرتا رہے گا۔ اس حوالے سے فالو اپ /اگلی جائزہ میٹنگ مارچ2022 کے آخری ہفتے میں منعقد کی جائے گی۔

  • امریکہ کی طرف سے نیشنل بینک آف پاکستان کو 55 ملین ڈالرجرمانہ

    امریکہ کی طرف سے نیشنل بینک آف پاکستان کو 55 ملین ڈالرجرمانہ

    نیویارک :امریکہ کی طرف سے نیشنل بینک آف پاکستان کو 55 ملین ڈالرجرمانہ ،اطلاعات کے مطابق نیشنل بینک آف پاکستان نے نیویارک اور وفاقی حکام کو 55 ملین ڈالر سے زائد جرمانے ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

    کراچی میں نیشنل بینک آف پاکستان کی ایک برانچ کو منی لانڈرنگ میں ناکامی پر یہ جرمانہ کیا گیا ہے ، امریکہ کے فیڈرل ریزو بورڈ اور نیویارک سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ آف فنانشنل سروسز نے نیشنل بینک آف پاکستان کو منی لانڈرنگ کی روک تھام کے ضوابط کی خلاف ورزیوں پر کل 55 ملین ڈالر کا جرمانہ کر دیا

    فیڈریل ریسزرو بورڈ کی جانب سے اعلامیہ میں کہا گیا کہ نیشنل بینک آف پاکستان امریکہ میں فارن بینک پر آپریٹ کررہا تھا، اینٹی منی لانڈرنگ کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کیا گیا بورڈ فرم نیشنل بینک آف پاکستان سے اینٹی منی لانڈرنگ پروگرام کو بہتر بنانے کا بھی مطالبہ کرے گا امریکی حکام نے مبینہ اینٹی منی لانڈرنگ کی خلاف ورزی پر بینک سے اینٹی منی لانڈرنگ قوانین پرعمل کا تحریری پلان بھی مانگ لیا ہے

    دوسری طرف امریکہ نے ایران کے گیس پائپ لائن پر امریکہ نے پابندی عائد کردی ہے ، یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ امریکہ کی ان پابندیوں کے نتیجے میں پاکستان بھی براہ راست متاثر ہوگا ،یہ بھی یاد رہےکہ نیشنل بینک کو جرمانہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا بلکہ 2021 کے آخری ایام میں بھی جرمانہ کیا گیا تھا جس میں‌ اسٹیٹ بینک نے نیشنل بینک آف پاکستان پر 28 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

    اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نیشنل بینک آف پاکستان پر 28 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کردیا گیا ہے۔ اعلامیئے میں بتایا گیا ہے کہ نیشنل بینک پر جرمانہ کسٹمرز کی شناخت، اینٹی منی لانڈرنگ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی، فارن ایکس چینج، اثاثوں کے معیار اور عمومی بینکنگ آپریشنز میں قواعد و ضوابط پر عمل نہ کرنے پر عائد کیے گئے۔

    اسٹیٹ بینک کے اعلامیئے میں بتایا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک نے نیشنل بینک کو برانچوں میں اندرونی سطح پر انکوائری کرنے اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی میں ملوث افسران کی خلاف کارروائی کا بھی حکم دے دیا۔ اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ جولائی تا ستمبر 2021 کے دوران 4 بینکوں پر 47 کروڑ روپے سے زائد کے جرمانے عائد کیے گئے۔

    ن لیگی رہنما پرویز رشید کا کہنا تھا کہ نیشنل بینک آف پاکستان ،منی لانڈرنگ کا جُرم 550 ملین ڈالر کا جُرمانہ،برابر قسط کے جس کے لۓ IMF کی غلامی قبول ۔ نیب کے مقدمے سازوں اور میڈیا کے الزام تراشوں کی ہتھکڑیاں اور قینچیاں اُسی طرح کب حرکت میں آئیں گی جس طرح وہ سالوں سے بغیر کچھ ثابت کیے جمہوری سیاستدانوں پر وار کرتی ہیں۔

    ن لیگی رہنما عابد شیر علی کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نہ نکل پانے کے لیے ساڑھے تین سال سے سخت کوشش جاری ہے۔ ثمر بھی مل گیا۔ اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کی خلاف ورزی پر امریکہ میں نیشنل بینک ساڑھے 5 کروڑ ڈالر جرمانہ دے گا۔ قومی خزانہ جس بے دردی سے لٹایا جارہا ہے اس کے بعد معاشی بہتری کی توقع فضول ہے۔