Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • یوکرین پرروسی حملہ:پولینڈ کے بارڈر پرپھنسے ہوئے پاکستانی طلبا مدد کیلیئےحکومت پاکستان کوپکارنے لگے

    یوکرین پرروسی حملہ:پولینڈ کے بارڈر پرپھنسے ہوئے پاکستانی طلبا مدد کیلیئےحکومت پاکستان کوپکارنے لگے

    پولینڈ: پولینڈ کے بارڈر پرپھنسے ہوئے 50 پاکستانی طلبا مدد کیلیئے آوازیں پاکستان تک پہنچ گئی ہیں اور اب تو ان طالبعلموں کی بے بسی کے آنسووں نے ان کے والدین بہن بھائیوں اور دیگرچاہنے والوں کو غمگین کردیا ہے ، اس حوالے سے پولینڈ کے بارڈر سے ایک پیغام بھی پاکستان بھیجا گیا ہے

    اس حوالے سے وائس میسج کے ذریعے ملنے والے پیغام میں ایک طالب علم حکومت پاکستان سے درخواست کررہا ہے کہ ہم 50 کےقریب پاکستانی طالب علم پھنسے ہوئے ہیں اور ان کو وہاں سے نکالنے اور محفوظ مقامات تک پہنچانے کے لیے کوئی مدد نہیں کررہا،طالب علم جلدی میں پریشانی کے عالم میں پیغام دیتےہوئے اپنا نام تو نہ بتا سکا لیکن یہ ضرور بتاگیا کہ اگر کوئی مدد کو نہ پہنچا تو حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں‌

     

    اس طالب علم کا کہنا ہے کہ پولینڈ کے بارڈر پردرجہ حرارت کافی گرچکا ہے اور سخت ترین سردی میں ایک طرف یوکرین پرروسی حملے ہورہےہیں اور دوسری طرف ہمیں وہاں‌سے کسی محفوظ مقام پرجانے نہیں دیا جارہا

    حکومت پاکستان کےنام اپنی دہائی میں طالب کا کہنا ہے کہ ہم بے بس پھر رہےہیں پاکستانی سفارتخانہ کا عملہ ابھی تک ہماری مدد کو نہیں پہنچ سکا ، طالب علم کا یہ بھی کہنا دوطالبعلموں کی حالت بھی خراب ہے اور اگر یہی کیفیت رہی تو اور بھی طالب علم ساتھیوں کی حالت بگڑنے کا اندیشہ ہے ، اس لیے جتنی جلدی ممکن ہوسکے پاکستانی طالب علموں کو وہاں سے محفوظ مقامات پر پہنچانے کے اقدامات کیے جائے تاکہ ان کی زندگیاں بچ سکیں ورنہ جنگ توہمارے قریب سے قریب تر آرہی ہے

  • ‏پاکستان کےبھارت کیخلاف آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے3سال مکمل

    ‏پاکستان کےبھارت کیخلاف آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے3سال مکمل

    اسلام آباد :پاک فضائیہ کا 27 فروری 2019 کا ” آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ” بھارتی ایئر فورس کے دو طیاروں کو مار گرانے اور ایک پائلٹ کی گرفتاری کے تین سال گزرنے کے بعد بھی بھارتی ایئر فورس کے لئے مسلسل ہزیمت اور عبرت کا باعث ہے جس نے نہ صرف پاک فضائیہ کی بھارتی ائیر فورس پر فضائی برتری کو ثابت کیا بلکہ اس کارروائی کے دوران ایٹمی اسلحہ سے لیس بھارت کی فوجی کمزوریاں بھی بری طرح بے نقاب ہوئیں۔

    ۔بھارت کی جانب سے 14 فروری 2019 کو پلوامہ میں ایک جھوٹے فلیگ آپریشن کے بعد پاکستان کے اندر حملہ کرنے کی ناکام کوشش نے پاک فضائیہ کی فوجی اور تکنیکی برتری قائم کی اور ہندوستانی فوجی طاقت کے بت کو پاش پاش کر دیا۔14 فروری 2019 کو ایک نوجوان کشمیری لڑکے نے کشمیریوں پر بھارتی ظلم و ستم سے تنگ آکر بارود سے بھری گاڑی پلوامہ میں بھارتی پیرا ملٹری پولیس کی 78 بسوں کے قافلے پر چڑھا دی جس میں سی آر پی ایف کے 40 اہلکار ہلاک ہوگئے۔ حملے کے چند لمحوں بعد ہی بھارتی میڈیا اور حکومت نے کسی بھی قسم کی تحقیقات شروع ہونے سے پہلے ہی پاکستان پر الزام لگا دیا۔

    وزیر اعظم عمران خان نے دہلی کی جانب سے قابل عمل ثبوت فراہم کرنے کی شرط پر اس واقعے کی تحقیقات کرانے کا وعدہ کیا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر حملہ کیا گیا تو پاکستان جوابی کارروائی کرے گا۔

    اس کے باوجود بھارت نے سرحد پار سے پاکستانی حدود میں ایک خیالی دہشت گردی کے تربیتی کیمپ پر فضائی حملہ کرنے کا انتخاب کیا۔بھارتی فوج کے سرحد پار ہدف پر حملہ کرنے اور خبر لیک ہونے کے امکانات کو کم کرنے کے لیے بھارتی حکام نے بالاکوٹ پر حملے کو آپریشن بندرکا نام دیا۔

    لفظ “بندر” کا انتخاب اس لیے کیا گیا کہ ہندو مذہب میں بندروں کو ایک مقدس مقام حاصل ہے اور یہ ہندو مذہب کے مذہبی افسانوں میں ایک کہانی کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں ہنومان، ایک دیوتا جو بندر سے مشابہت ظاہر کرتا ہے ۔ خفیہ طور پر لنکا میں داخل ہوا اور اسے زمین پر جلا دیا۔ 26 فروری 2019 کوبھارتی فضائیہ نے بالاکوٹ کے قریب پاکستان کے اندر حملہ کیا، جس میں ایک دینی مدرسے کو نشانہ بنایا گیا جسے ہندوستان نے عسکریت پسندوں کے کیمپ کے طور پر پیش کیا اور 300 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا لیکن دعووں کی تصدیق کے لیے کوئی ثبوت فراہم نہیں کئے ۔

    اس آپریشن کو ایئر بورن ارلی وارننگ سسٹم کی مدد حاصل تھی۔ وہ بموں پر سمیلیٹر اور پری فیڈ کوآرڈینیٹس پر مشق کرنے کے باوجود اپنے پے لوڈ کو ہدف پر پہنچانے میں ناکام رہے۔ہندوستان ٹائمز کے مطابق 26 فروری 2019 کو صبح 3.45 بجے اس وقت کے بھارتی ایئر چیف بی ایس دھنوا نے ایک محفوظ فکسڈ لائن نیٹ ورک پر قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کو ٹیلی فون کیا اور کہا بندر مارا گی۔

    لیکن دن کے اختتام پر، حقیقت نے ثابت کیا کہ اس نے صرف انہیں بندر بنایا ہے۔فضائی حملہ کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے دو ٹوک موقف اختیار کیا کہ بھارت نے بلاجواز جارحیت کا ارتکاب کیا ہے جس کا پاکستان اپنی مرضی کے وقت اور جگہ پر جواب دے گا، مسلح افواج اور پاکستانی عوام ہر طرح کے حالات کے لیے تیار رہیں۔

    بھارتی فضائیہ نے ایک پہاڑی کے قریب اپنا پے لوڈ پھینکا جس میں ایک کوا ہلاک ہوا اور پائن کے قیمتی درختوں کو نقصان پہنچا جس کے بارے میں وزیراعظم عمران خان نے بار ہا کہا کہ انہیں اس سے دکھ پہنچا ہے کیونکہ یہ درخت ان کے دل کے بہت قریب تھے ۔

    بالاکوٹ میں بھارتی فضائیہ کے حملے کی ناکام کوشش کے بعد جلی ہوئی زمین اور درختوں سے متاثر ہونے والی جگہ کا ملٹری اتاشی اور غیر ملکی میڈیا نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور مقامی گائوں کے بچوں کے قریبی مدرسے میں بھی گئے جو کہ خوش قسمت تھے کہ بھارتی لاپرواہی سے بچ گئے۔

    بھارت نے دعویٰٰ کیا کہ اس کی فضائیہ 300 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے جبکہ پاکستان اور کئی بین الاقوامی مبصرین نے اس دعوے کی نفی کی ہے کیونکہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور بم واضح طور پر ہدف سے دور گرے تھے جو درحقیقت دہشت گردوں کا کیمپ نہیں تھا بلکہ گائوں کے بچوں کے لیے ایک عام دینی مدرسہ تھا۔لندن میں مقیم جینز انفارمیشن گروپ کے تجزیہ کار راہول بیدی نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ پاکستان کسی عسکریت پسند گروپ کی طرح پراکسی کے ذریعے نہیں بلکہ روایتی طور پر رد عمل ظاہرکرنے کا پابند ہے ۔

    وہ کہاں اور کب رد عمل کا اظہار کرتے ہیں جو صرف پاکستانی جانتے ہیں۔اخبار نے کہا کہ کہ اس موسم بہار میں بھارت میں انتخابات کے دوران اوربھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو دوبارہ انتخابی معرکے کا سامنا ہے، ووٹرز نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف کشمیر کے حملے کا جواب طاقت سے دے۔ بیدی نے کہا انہوں نے جو مارا وہ ابھی قیاس آرائیاں ہیں۔

    یہ کسی بھی چیز سے زیادہ سیاسی علامت ہے۔ بھارتی وزیراعظم مودی کو انتخابات سے پہلے ہندوستان کی طرف سے کچھ قابلِ عمل اقدام دکھانا تھا۔بیدی نے کہا کہ انہوں نے جو مارا وہ ابھی قیاس آرائیاں ہیں۔

    یہ کسی بھی چیز سے زیادہ سیاسی علامت ہے۔بھارتی وزیراعظم مودی کو انتخابات سے پہلے ہندوستان کی طرف سے کچھ قابلِ عمل اقدام دکھانا تھا۔ پاکستان ایئر فورس نے 27 فروری 2019 کو جوابی حملہ شروع کیا جس کا مقصد بنیادی طور پر پاکستان کے عزم کا مظاہرہ کرنا تھا۔ زمین پر جانی نقصان سے بچنے کے لیے احتیاط سے فضائی حملہ کیا گیا ۔

    مختصر فضائی تصادم کے دوران پاک فضائیہ نے بھارتی ایئرفورس کے دو طیاروں کو مار گرایا اور ایک پائلٹ کو گرفتار کر لیا۔ایس یو 30کا ملبہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں گرا اور اس کا پائلٹ ہلاک ہو گیا، جبکہ میگ21 کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن ورتھمان جن کا طیارہ پاکستان کی حدود میں گرا زندہ پکڑ لیا گیا۔

    بڑے دشمن کے خلاف آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ میں پاک فضائیہ کی کامیابی کو اب ہر سال سرپرائز ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔کئی گھنٹوں بعد پریشان بھارتی ایئر فورس نے سپائیڈر ایئر ڈیفنس سسٹم والے اپنے ہی ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر کو مار گرایا جس میں بھارتی ایئرفورس کے چھ اہلکار اور ایک شہری ہلاک ہو گیا۔

    ہندوستان نے دعوی کیا کہ اس کے ایک مگ 21 نے پاکستان کے ایف16 طیارے کو مار گرایا تھا جس کی تردید بھی بااثر فارن پالیسی میگزین نے امریکی محکمہ دفاع (ڈی او ڈی )کے عہدیداروں کے انٹرویوز کی بنیاد پر کی تھی جنہوں نے تصدیق کی تھی کہ کوئی ایف16 لاپتہ نہیں ہوا تھا۔

    میگزین کے مطابق، پاکستان نے اس واقعے کے بعد امریکہ کو اپنے ایف-16 طیاروں کی جسمانی طور پر گنتی کرنے کے لیے مدعو کیا ،جیسا کہ اینڈ یوزر معاہدے کے حصے کے طور پرجب کہ غیر ملکی فوجیوں کی فروخت کے معاہدے کو حتمی شکل دینے پر دستخط کیے گئے۔

    ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ تنازعہ کی وجہ سے کچھ طیارے فوری طور پر معائنہ کے لیے دستیاب نہیں تھے، اس لیے امریکی اہلکاروں کو تمام جیٹ طیاروں کا حساب دینے میں چند ہفتے لگے۔

    لیکن اب گنتی مکمل ہو چکی ہے اور تمام طیارے موجود تھے اور ان کا حساب لیا گیا تھا، اہلکار نے کہا۔جہاں ایک طرف بھارت کی جانب سے نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا تھا اور اسے نئی اقدار قرار دیا جا رہا تھا، لیکن دوسری طرف بھارت کی سینئر قیادت نے ناکامی کا ذمہ دار رافیل جیسے طیارے کی عدم دستیابی کو قرار دیا جس کے مطابق ان کے نزدیک بالاکوٹ حملے کا نتیجہ بدل جاتا۔یہاں تک کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی ایئر فورس کی ناکامی کا اعتراف کیا اور انڈیا ٹوڈے پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پورا ہندوستان کہہ رہا ہے کہ اگر ہمارے پاس رافیل ہوتا تو نتیجہ کچھ اور ہوتا۔

    پاکستان کے ردعمل کا مقصد جنگ کو روکنا اور نیوکلیئر ڈیٹرنس قائم کرنا تھا، جس کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت کشیدگی کی شدت کو مزید نہ بڑھا سکا اور پیچھے ہٹ گیا۔ اس تصادم نے پاک فضائیہ کی بھارتی فضائیہ پر فضائی برتری ثابت کر دی بلکہ دو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس طاقتوں کے درمیان روایتی تذویراتی توازن کو بھی بحال کیا۔27 فروری کو پاک فوج کے میڈیا ونگ نے کہا کہ پاکستان ایئر فورس نے ایل او سی پر چھ اہداف کو نشانہ بنایا۔

    میجر جنرل عبدالغفور نے اسے کسی فوجی ہدف پر حملہ نہ کرنے اور کسی بھی قسم کے نقصان سے بچنے کا ایک شعوری فیصلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر منتخب کیے گئے اہداف میں سے ایک ملٹری ایڈمنسٹریٹو کمپلیکس تھا، تاہم پی اے ایف کمانڈ نے اسے نشانہ بنانے کا فیصلہ نہیں کیا۔ہمارے اہداف میں کامیابی کے نتیجہ میں کوئی انسانی زندگی متاثر نہیں ہوئی۔

    ہم نے اپنی حدود میں رہ کر چھ اہداف کولاک کیا اور ہم نے حملہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ حملوںکا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ ہمارے پاس جواب دینے کی صلاحیت اور ارادہ ہے، لیکن ہم نے سوچ سمجھ کرکشیدگی کے راستے سے گریز کیا۔پاکستان جنگ پر زور نہیں دے رہا۔ ہم نے اپنے اہداف کو کھلی فضا میں رکھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم آسانی سے اصل اہداف حاصل کر سکتے تھے لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا۔

    ایک دن بعد وزیراعظم عمران خان نے 28 فروری 2019 کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ میں کل اعلان کرتا ہوں کہ امن کی ہماری خواہش اور مذاکرات کے لیے پہلے قدم کے طور پر پاکستان ہماری تحویل میں موجود بھارتی فضائیہ کے افسر کو کل رہا کرے گا۔

    ان کے اس فیصلے کو سرکردہ عالمی رہنماں نے امن کی خواہش قرار دیا۔ونگ کمانڈر ابھی نندن کے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا جنیوا کنونشن کے مطابق، نیا لباس اورچائے کا مشہور کپ فراہم کیا گیا، جس پر انہوں نے تبصرہ کیا تھا،چائے لاجواب تھی۔ انہیں یکم مارچ 2019 کو واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کیا گیا۔

    دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس مختلف ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تیار کیے گئے معتبر روایتی ردعمل ہیں – جسے ‘Quid Pro۔ Quo Plus’ کی پالیسی کے نام سے جانا جاتا ہے، جس نے نہ صرف پاکستان کی جوہری ڈیٹرنس کی ساکھ کو تقویت دی ہے بلکہ روایتی ڈیٹرنس پر اعتماد بحال کرنے میں بھی مدد کی ہے۔

    فروری 2019 میں پاک فضائیہ کے ہاتھوں ذلت کا سامنا کرنے کے بعدبھارت نے یہ سمجھے بغیر کہ یہ دراصل مشین کے پیچھے آدمی ہے اور اس کے مضبوط اعصاب اہم ہیں۔ ایک بار پھرہتھیاروں اور گولہ بارود کی خریداری کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، تاہم ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے بہترین خلاصہ پیش کیا ۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے انہیں ایک خون آلود ناک دیا اور یہ اب بھی انہیں تکلیف دے رہا ہے۔

  • ہمسائیہ ممالک سُن لیں اگرنیٹومیں شامل ہوئےتووہ حشر    کروں گاکہ نسلیں یادرکھیں گی:پوتن کی ایک بارپھردھمکی

    ہمسائیہ ممالک سُن لیں اگرنیٹومیں شامل ہوئےتووہ حشر کروں گاکہ نسلیں یادرکھیں گی:پوتن کی ایک بارپھردھمکی

    ماسکو: ہمسائیہ ممالک سُن لیں اگرنیٹومیں شامل ہوئے تو وہ حشرکروں گا کہ نسلیں یاد رکھیں گی:پوتن کی ایک بارپھردھمکی ،اطلاعات کے مطابق یوکرین پر سوار روس نے اب اپنے دیگر پڑوسی ممالک کو صاف صاف لفظوں میں دھمکی دیدی ہے کہ اگر نیٹو کی جانب رکنیت کے لیے نظر اٹھا کر دیکھا تو سنگین فوجی اور سیاسی نتائج بھگتنے کے لیے تیارت ہوجائیں ۔ابھی یوکرین کی جنگ جاری ہے اور دنیا روس کے سامنے بے بس ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ یوکرین کا ساتھ دینے کے بجائے ملک کی راجدھانی کیف سے انخلا کا مشورہ دے رہا ہے۔ اسی دوران اب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے قریبی ہمسایہ ممالک سویڈن اور فن لینڈ کو دھمکی دی ہے کہ اگر وہ نیٹو میں شامل ہوتے ہیں تو انہیں ‘فوجی نتائج’ بھگتنا پڑیں گے۔

    یہ اس وقت ہوا جب یوکرین پر روس کا حملہ آج خاص طور پر دارالحکومت کیف میں ایک رات کی لڑائی کے بعد شدت اختیار کر گیا۔پوتن نے یوکرین سے آگے یورپ پر غلبہ حاصل کرنے کے اپنے منصوبہ کو بالکل واضح کردیا ہے۔۔

    سویڈن اور فن لینڈ روس کے دو قریب ترین ممالک ہیں۔خارجہ امور کی ترجمان ماریا زاخارووا نے ایک نیوز بریفنگ کے دوران کہا، ‘فن لینڈ اور سویڈن کو اپنی سلامتی کی بنیاد دوسرے ممالک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے پر نہیں رکھنی چاہیے اور نیٹو میں ان کے الحاق کے نقصان دہ نتائج ہو سکتے ہیں اور انہیں کچھ فوجی اور سیاسی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔’

    وزارت خارجہ نے بعد میں ٹویٹر پر اس دھمکی کا اعادہ کیا۔محکمے نے لکھا، ‘ہم شمالی یورپ میں سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے فوجی عدم اتحاد کی پالیسی کے لیے فن لینڈ کی حکومت کے عزم کو ایک اہم عنصر سمجھتے ہیں۔’ ‘فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت کے سنگین عسکری اور سیاسی اثرات ہوں گے۔’

    ولادیمیر پوتن کے بارے میں بڑے پیمانے پر خیال کیا جاتا ہے کہ یوکرین پر مغربی ممالک کی جانب سے نیٹو میں شامل ہونے کے خیال کے بعد یوکرین پر حملہ کیا گیا تھا، اس خدشے کے پیش نظر کہ اس کی دہلیز پر امریکی فوج کی موجودگی ختم ہو سکتی ہے۔سویڈن یا فن لینڈ کا ایسا ہی اقدام ممکنہ طور پر اسی طرح کے غصے کو بھڑکا سکتا ہے۔

    پوتن کے خارجہ امور کے ترجمان نے کہاہے کہ ‘فن لینڈ اور سویڈن کو اپنی سلامتی کی بنیاد دوسرے ممالک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے پر نہیں رکھنی چاہیے۔ یوکرائنی رہنما نیٹو میں شامل ہونا چاہتے ہیں لیکن روس اس اقدام کی سخت مخالفت کرتا رہا ہے۔نیٹو اور صدر جو بائیڈن دونوں نے کہا تھا کہ اگر کریملن نے حملہ کیا تو امریکہ 30 رکنی اتحاد کا بھرپور دفاع کرے گا۔

    بائیڈن نے جمعے کی صبح نیٹو کے ساتھی ارکان کے ساتھ عملی طور پر ملاقات کی تاکہ مشرقی اتحادیوں کو یقین دلایا جا سکے کہ ان کی حفاظت کی جائے گی کیونکہ روسی فوجی کیف میں داخل ہونے کے لیے تیار ہیں۔ مگر اب روس کی پیشقدمی کیف تک پہنچ چکی ہے اور امریکہ زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کرسکا ہے۔

    زیلنسکی نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر تنقید کی تھی کہ وہ اپنے ملک کو تنہا لڑنے کے لیے چھوڑ رہے ہیں۔’ہمارے ساتھ لڑنے کو کون تیار ہے؟ میں کسی کو نہیں دیکھ رہا ہوں،‘‘ انہوں نے جمعرات کی رات کہاتھا کہ ‘یوکرین کو نیٹو کی رکنیت کی ضمانت کون دینے کو تیار ہے؟ ہر کوئی خوفزدہ ہے۔

  • یوکرین میں‌ پاکستانی سفارتخانے کی بمباری کے دوران پاکستانیوں کے لیے خدمات کےتفصیلات آگئیں

    یوکرین میں‌ پاکستانی سفارتخانے کی بمباری کے دوران پاکستانیوں کے لیے خدمات کےتفصیلات آگئیں

    کیف:یوکرین میں‌ پاکستانی سفارتخانے کی بمباری کے دوران پاکستانیوں کے لیے خدمات کےتفصیلات آگئیں ،اطلاعات کے مطابق یوکرین میں پاکستانی سفارتخانے کے عملے کی جنگ اور بمباری کے دوران خدمات نے بہت حوصلہ دیا ہے ، ادھر اس حوالے سے پاکستانی سفارتخانہ یوکرین کی جانب سے جاری خدمات کے حوالے سے مزید تفصیلات جاری کردی گئی ہیں‌

    یوکرین سے آمدہ اطلاعات کے مطابق سفارتخانے کے عملے کے 21 اہل خانہ سمیت 62 افراد کو پہلے ہی نکال لیا گیا ہے۔59 لوگ (یوکرین-پولینڈ بارڈر)کراسنگ پر ہیں جبکہ 79 لوگ اب سرحدوں کی طرف بڑھ رہے ہیں یعنی 67 طلباء یوکرین-پولینڈ کی سرحد کی طرف اور سفارت خانے کے عملے کے 12 افراد یوکرین-رومانیہ سرحد کی طرف جارہے ہیں‌

    کھرکیو سے 104 طلباء ٹرین میں دوپہر کو پہنچ رہے ہیں۔20 طلباء کو کیف سے ایمبیسی کی طرف سے ترتیب دی گئی بس سے نکالا جا رہا ہے۔

    ادھر اسی حوالے سے پاکستان میں یوکرین کے سفیر نے سیکریٹری خارجہ سے ملاقات، پاکستانیوں کے انخلا پر تبادلہ خیال کیا ہے

    پاکستان میں یوکرین کے سفیر کی سیکریٹری خارجہ سے ملاقات ہوئی جس میں یوکرین میں موجود پاکستانیوں کے کے تحفظ اور انخلا پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ترجمان دفترخارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ میں لکھا کہ پاکستان میں یوکرین کے سفیر مارکیان چیوجک کی سیکریٹری خارجہ سہیل محمود سے ملاقات ہوئی۔

    ترجمان دفترخارجہ کے مطابق سیکریٹری خارجہ نے موجودہ صورتحال میں پاکستان کے مؤقف کا اظہار کیا، تناؤ میں کمی، بات چیت اور سفارت کاری سے مسئلے کی حل کی اہمیت پر زور دیا۔
    عاصم افتخار احمد کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران یوکرین میں موجود پاکستانیوں کی سلامتی اور تحفظ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ ملاقات میں یوکرین میں موجود پاکستانیوں کے تحفظ اور انخلا کے انتظامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

  • یوکرین پر حملہ ،روس کی اپنی  سلامتی پرحملہ:کیسے؟حقائق سامنے آگئے

    یوکرین پر حملہ ،روس کی اپنی سلامتی پرحملہ:کیسے؟حقائق سامنے آگئے

    کیف :یوکرین پر حملہ ،روس کی اپنی سلامتی پرحملہ:کیسے؟حقائق سامنے آگئے ،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے خود پر حملے کے بعد روس کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ اسے عالمی ادائیگیوں کے مرکزی نظام سے الگ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    سوسائٹی فار ورلڈ وائیڈ انٹربینک فنانشل ٹیلی کمیونیکیشن (SWIFT) نیٹ ورک سے روس کو نکالنے سے روس کی دنیا کے بیشتر ممالک کے ساتھ تجارت کرنے کی صلاحیت ختم ہو سکتی ہے اور اس کی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔لیکن جمعرات کو، امریکہ اور یورپی یونین نے اس امکان پر نظرثانی کے دروازے کو کھلا چھوڑتے ہوئے روس کو SWIFT سے الگ نہ کرنے کا انتخاب کیا۔

    SWIFT کیا ہے؟

    SWIFT ایک ایسا نیٹ ورک ہے جسے بینک رقم کی منتقلی اور دیگر لین دین کے حوالے سے محفوظ پیغامات بھیجنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔تقریباً 200 ممالک میں 11 ہزار سے زیادہ مالیاتی ادارے SWIFT استعمال کرتے ہیں، جو اسے بین الاقوامی مالیاتی منتقلی کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی بناتا ہے۔

    SWIFT کام کیسے کرتا ہے؟

    SWIFT کے پاس انٹرنیشنل بینکنگ نمبرز اور بینکوں کے شناختی کوڈز ریکارڈ کرنے کی اجازت ہے۔یہ دنیا بھر سے 11 ہزار سے زائد مالیاتی اداروں کو آپس میں جوڑتا ہے اور سالانہ 5 بلین سے زاید مالیاتی پیغامات نشر کرتا ہے۔کلائنٹس جب کوئی ٹرانزیکشنز کرتے ہیں تو یہ انہیں بینکوں سے جوڑتا ہے۔اگر دو ادارے آپس میں پارٹنرز نہیں تو سوئفٹ ثالثی ادارہ بن کر ان دونوں کے درمیان رابطہ کراتا ہے۔یہ خود کو ایک قابل اعتماد اور محفوظ سسٹم ہونے کا دعویٰ کرتا ہے جو بینکنگ پارٹنز کے درمیان ٹرانزیکشن کرتا ہے۔

    SWIFT کا مالک کون ہے؟

    SWIFT بیلجیئم قانون کے تحت قائم کی گئی ایک کوآپریٹو کمپنی ہے۔ اس کی ویب سائٹ پر موجود تفصیلات میں کہا گیا ہے کہ “یہ اپنے شیئر ہولڈرز (مالی اداروں) کی ملکیت ہے جو اسے کنٹرول کرتے ہیں اور دنیا بھر سے تقریباً 3,500 فرموں کی نمائندگی کرتے ہیں”۔

    SWIFT اور روس کے درمیان کیا تعلق ہے؟

    روسی نیشنل سوئفٹ ایسوسی ایشن کے مطابق، روس میں امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ صارفین ہیں، تقریباً 300 روسی مالیاتی ادارے اس نظام سے وابستہ ہیں۔روس کے نصف سے زیادہ مالیاتی ادارے SWIFT کے رکن ہیں۔

    ہانگ کانگ میں نیٹیکسس میں ایشیا پیسیفک کی چیف اکانومسٹ، ایلیسیا گارسیا ہیریرو نے کہا کہ روس پر SWIFT کے حوالے سے پابندی لگانا ملک کے لیے ایک سنگین دھچکا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ “یہ ایک بڑی بات ہے کیونکہ اس کے بنا کوئی قرض یا تجارتی مالیاتی ادائیگی نہیں کی جاسکتی۔”گارسیا ہیریرو کا کہنا ہے کہ یہ روس سے یورپی یونین کی گیس کی درآمد کو روکنے سے بڑا ہے۔

    روس کا ردعمل

    فیڈریشن کونسل کے نائب سپیکر نکولے زووراولیو نے جنوری میں تسلیم کیا کہ نیٹ ورک سے ملک کا اخراج ایک امکان ہے۔

    SWIFT ایک سیٹلمنٹ سسٹم ہے، یہ ایک سروس ہے۔ اس لیے اگر روس کا SWIFT سے رابطہ منقطع ہو جاتا ہے، تو ہم غیر ملکی کرنسی حاصل نہیں کریں گے۔ لیکن خریدار، یورپی ممالک، سب سے پہلے ہماری اشیاء تیل، گیس، دھاتیں اور ان کی درآمدات کے دیگر اہم اجزاء حاصل نہیں کر پائیں گے۔

    زوراولیو نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اگرچہ SWIFT آسان ہے، لیکن یہ رقم کی منتقلی کا واحد طریقہ نہیں ہے، اور کسی ملک کو معطل کرنے جیسے فیصلے کے لیے اراکین کے درمیان اتفاق رائے کی ضرورت ہوگی۔زوراولیو نے مزید کہا کہ SWIFT ایک یورپی کمپنی ہے، ایک ایسوسی ایشن جس میں بہت سے ممالک شامل ہیں۔

    کیا روس کی SWIFT سے معطلی اس کے لیے واقعی خطرہ ہے؟

    برسلز میں قائم Bruegel تھنک ٹینک کے ڈائریکٹر گنٹرم وولف نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس حکمت عملی سے ہونے والے فائدے اور نقصانات قابل بحث ہیں۔عملی طور پر SWIFT سے ہٹائے جانے کا مطلب یہ ہوگا کہ روسی بینک اسے غیر ملکی مالیاتی اداروں کے ساتھ ادائیگی کرنے یا وصول کرنے کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔

    مغربی ممالک نے 2014 میں کریمیا کے الحاق کے بعد روس کو SWIFT سے خارج کرنے کی دھمکی دی تھی۔لیکن ورس جیسی بڑی معیشت جو تیل اور گیس کا ایک اہم برآمد کنندہ بھی ہے کو چھوڑنے سے دیگر ممالک کو بھی اہم نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    نیدرلینڈز کے وزیر اعظم مارک روٹے نے جمعرات کو اعتراف کیا کہ یورپی یونین کے کچھ ممالک کے لیے پابندی “حساس” ہے کیونکہ اس کا “خود پر بہت زیادہ اثر” پڑے گا۔

    وولف نے کہا کہ “عملی طور پر یہ ایک حقیقی سر درد ہو گا۔” اس کا اثر خاص طور پر یورپی ممالک کے لیے بہت اچھا ہوگا جو روس کے ساتھ اہم تجارت کرتے ہیں، جو براعظم کی قدرتی گیس کا 41 فیصد فراہم کرتا ہے۔ہیریرو نے کہا کہ روس کو چھوڑنا “بانڈ ہولڈرز، یورپی یونین کے بینکوں اور توانائی کے درآمد کنندگان کے لیے” مہنگا پڑے گا۔

    اس طرح کی پابندی ماسکو کو چین، یا دیگر ممالک کے ساتھ، مالیاتی نظام پر ممکنہ طور پر امریکی غلبہ کو کم کرنے کے ساتھ، متبادل منتقلی کے نظام کی ترقی کو تیز کرنے کی ترغیب دے سکتی ہے۔

  • نیٹ فلیکس کا پاکستانی ویب سیریز بنانے کا عندیہ

    نیٹ فلیکس کا پاکستانی ویب سیریز بنانے کا عندیہ

    دنیا کی سب سے بڑی اسٹریمنگ ویب سائٹ ’نیٹ فلیکس‘ نے پاکستان میں سروس کے آغاز کے 6 سال بعد پہلی اوریجنل ویب سیریز بنانے کا عندیہ دے دیا۔

    باغی ٹی وی : ’نیٹ فلیکس‘ نے پاکستان میں 2016 کے آخر میں سروس کا آغاز کیا تھا اور اب تک اس پر متعدد پاکستانی فلمیں اور ڈرامیں بھی ریلیز کی جا چکی ہیں پاکستان میں اسٹریمنگ ویب سائٹس کی مقبولیت میں گزشتہ چند سال کے دوران اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اسی رجحان کو دیکھتے ہوئے اب ’نیٹ فلیکس‘ نے پہلی پاکستانی اوریجنل ویب سیریز بنانے کا عندیہ دے دیا۔

    "دی کراؤن”کی شوٹنگ کے دوران لاکھوں ڈالرزکے نوادرات چوری ہونے کا انکشاف


    صحافی حسن کاظمی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ ’نیٹ فلیکس‘ نے پہلی پاکستانی ویب سیریز بنانے کی منظوری دے دی ہے ممکنہ طور پر ویب سیریز تین سیزنز پر مشتمل ہوگی اور ہر سیزن میں 13 قسطیں ہوں گی پاکستان کی پہلی اوریجنل ویب سیریز کے لیے نیٹ فلیکس نے بہت بڑا بجٹ بھی منظور کیا ہے۔

    تاہم انہوں نے ویب سیریز سے متعلق مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا-

    ثنا خان نے شرعی ملبوسات کا برانڈ لانچ کرلیا


    ان کی ٹوئٹ پر متعدد افراد نے کمنٹس کرتے ہوئے خبر کو پاکستانی شوبز انڈسٹری کے لیے بہترین قرار دیا اور پوچھا کہ خبر کے ذرائع کیا ہیں؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ وہ جلد اس حوالے سے مکمل وضاحت دیں گے۔


    کمنٹس کے دوران انہوں نے اس سوال پر بھی وضاحت کی کہ ویب سیریز کی کہانی عمیرہ احمد نہیں لکھیں گی اور نہ ہی وہ شاہد حامد کے ناول سے ماخوذ ہوگی۔

    فیروزخان کی اداکاری کے ساتھ میرا موازنہ کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے،ہارون…


    حسن کاظمی نے بتایا کہ مذکورہ ویب سیریز ترکش سیریز کا پاکستانی ورژن بھی نہیں ہو گی-


    خیال کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں اس متعلق مزید وضاحت سامنے آئے گی۔

    گلوکارعلی نور نے جنسی ہراسانی کا الزام لگانے والی خاتون صحافی سے معافی مانگ لی

  • چیچن کمانڈو دستے’’ہنٹرز‘یوکرینی صدرکی تلاش میں:زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے کوشاں؛مغرب پرخوف طاری

    چیچن کمانڈو دستے’’ہنٹرز‘یوکرینی صدرکی تلاش میں:زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے کوشاں؛مغرب پرخوف طاری

    کیف: چیچن کمانڈو دستے’’ہنٹرز‘ یوکرینی صدرکی تلاش میں:زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے کوشاں ،اطلاعات کے مطابق چیچن اسپیشل فورسز کے ‘ہنٹرز’ کو یوکرین میں کیف کے اہلکاروں کو حراست میں لینے یا قتل کرنے کے لیے اتارا گیا ہے جنہیں ‘تاش کے پتے’ دیے جاتے ہیں جن میں ان کے اہداف کی تصاویر ہوتی ہیں۔

    چیچن اسپیشل فورسز کے ‘ہنٹرز ‘ کے ایک دستے کو یوکرین کے مخصوص اہلکاروں کو حراست میں لینے یا قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس بارے میں پہلے ہی یوکرین کے صدر خدشہ ظاہر کرچکے ہیں کہ روس انہیں خاندان سمیت ختم کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان تصاویر کے ساتھ یوکرین کی جنگ میں ایک نیا رخ سامنے آگیا ہے۔ روس اور چیچین حکومت میں تال میل ہے۔

     

    خطرناک قاتل دستے کی تصویر یوکرین کے جنگل میں اس وقت دکھائی گئی جب وہ ممکنہ لڑائی سے قبل یہ دستہ با جماعت نماز ادا کررہا تھا۔ یہ قدم چیچین رہنما اور پوتن کے قریبی اتحادی 45 سالہ رمضان قادروف کے یوکرین میں اپنی افواج کا دورہ کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    ۔ 44 سالہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جمعرات کو کہا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ کیف میں روسی اسپیشل فورسز ان کا مارنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو کی جانب سے یوکرائنی حکومت کے سینیئر اہلکاروں کے لیے جاری کی گئی ‘کِل لسٹ’ میں ان کا خاندان دوسرا ہدف تھا۔

     

     

    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ فہرست میں روسی تحقیقاتی کمیٹی کے ‘جرائم’ کے مشتبہ اہلکاروں اور سیکیورٹی افسران کی ہے۔یہ اس وقت سامنے آیا جب یوکرین کے صدر نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے دارالحکومت میں روسی قاتلوں کے لیے ‘ٹارگٹ نمبر ایک’ ہیں، جب کہ ان کا خاندان پوتن کے ہٹ مینوں کے لیے ‘نمبر دو’ ہے۔

    دوسری طرف اسی حوالے سے روس کی نیم خود مختار ریاست چیچنیا کے سربراہ رمضان قادریوف نے روس پر یوکرین کی کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہےکہ 12 ہزار چیچن یوکرین کے محاذ پر جاکر لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

     

    روسی سرکاری میڈیا کے مطابق چیچنا کے دارالحکومت گروزنی میں 12 ہزار کے قریب چیچن فورسز کے اہلکار اور رضاکار روسی حکومت کے اقدام کی حمایت میں جمع ہوئے اور روسی فوج سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیچنیا کے سربراہ رمضان قادریوف نےکہا کہ 12 ہزار چیچن اپنے ملک اور عوام کی حفاظت کے لیے کسی بھی قسم کے آپریشن میں حصہ لینے کو تیار ہیں

    ان کا کہنا تھاکہ میں یوکرینی صدر کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ سپریم لیڈر پیوٹن کو فون کرکے معافی مانگیں اور یوکرین کو محفوظ بنائیں۔ان کا مزید کہنا تھاکہ یوکرینی صدر روس کی شرائط تسلیم کرلے، یہ ان کیلئے اچھا اقدام ہوگا۔

  • آسٹریلوی کرکٹ ٹیم آج رات پاکستان پہنچے گی

    آسٹریلوی کرکٹ ٹیم آج رات پاکستان پہنچے گی

    آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم چوبیس سال بعد آج رات کو خصوصی طیارے کے ذریعے پاکستان پہنچے گی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مہمان ٹیم کو سخت سیکیورٹی حصار میں ایئرپورٹ سے ہوٹل پہنچایا جائے گا ایک روز آئسولیشن میں گزارنے کے بعد کھلاڑی اتوار سے ٹریننگ کرسکیں گے-

    آسٹریلوی ٹورنگ پارٹی کے میڈیا مینجر پہلے سے ہی راولپنڈی میں موجود ہیں،میڈیا کو مہمان ٹیم کے آمد کور کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، دونوں کرکٹ بورڈ تصاویر اور ویڈیوز جاری کریں گے۔

    آسٹریلوی ٹیسٹ سائیڈ کے دورہ پاکستان کی مختصر تاریخ

    دوسری جانب قومی ٹیسٹ اسکواڈ کے ارکان کا آج آئسولیشن میں میں آخری روز ہے، اتوار کی صبح کھلاڑیوں کا پریکٹس سیشن شیڈول کیا گیا ہے۔

    کپتان بابر اعظم، سرفراز احمد اور نسیم شاہ بھی ٹریننگ کا حصہ ہوں گے، پاکستان اور آسٹریلیا کے کپتانوں کی پریس کانفرنس اور ٹرافی کی رونمائی کا شیڈول آج طے کرلیا جائے گا، پاکستان اور آسٹریلیا کا پہلا ٹیسٹ 4 مارچ سے کھیلا جانا ہے۔

    دوسری جانب ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے تمام ٹکٹس کو ڈیجیٹیلائزڈ کردیا، پی سی بی ٹکٹ فروخت کرنے والے ادارے بک می ڈاٹ پی کے، کی معاونت سے ٹکٹس میں جدت لائی ہے پی ایس ایل کے کامیاب تجربے کے بعد اب کاغذ پر ٹکٹوں کی پرنٹنگ ختم کرکے اسے موبائل پر منتقل کردیا گیا ہے۔

    اب ٹکٹس کی بکنگ کے بعد اس کا پرنٹ لینے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی۔ آن لائن رائج آسان طریقہ کار کے تحت ٹکٹ بک کروانے کے بعد کیو آر کوڈ موبائل اسکرین پر دکھانا کافی ہوگا، یعنی اب واٹس اپ کے ذریعے ہی ٹکٹس کی دستیابی یقینی بنادی گئی ہے۔

    پاکستانی ٹیم کےآسٹریلوی باؤلنگ کوچ شان ٹیٹ کے والد انتقال کر گئے

    آن لائن بکنگ کے ساتھ اب اعزازی پاسزیا ٹکٹس کی پرنٹنگ بھی نہیں ہوا کرے گی یہ کمپلیمنٹری ٹکٹس بھی موبائل پر منتقل کردئیے گئے ہیں تماشائیوں کو پرنٹ آؤٹ بھی ساتھ لانے کی اجازت تھی تاہم اب مزید آسانی پیدا کردی گئی ہےاب بس خریدے گئے یا مفت میں ملنے والے ٹکٹس کو موبائل اسکرین کے ذریعے ٹکٹس چیک کرنے والے عملے کو دکھاکر اسٹیڈیم میں داخل ہوا جاسکےگا۔

    واضح رہے کہ ٹی20 ورلڈکپ میں پاکستان کے بطور بیٹنگ کنسلٹنٹ فرائض سرانجام دینے والے آسٹریلیا کے سابق جارح مزاج اوپنر میتھیو ہیڈن انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کے باعث دورہ پاکستان سے دستبردار ہونے والے کینگروز کرکٹرز پر برس پڑے۔

    دورہ پاکستان: آسٹریلیا نے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کا اعلان کر دیا

    میتھیو ہیڈن نے اپنے بیان میں کہا کہ جب کھلاڑی اپنے ملک کے لیے کھیلنے کو ترجیح نہیں دیں گے تو اس سے ٹیم کا کلچر خراب ہو گا کسی بھی کرکٹر کے لیے سب سے بڑی بات اپنے ملک کی نمائندگی کرنا ہوتی ہے اور ملک کو ترجیح نہ دینا غلط کلچر کو پروان چڑھا رہا ہے جس پر تنقید کی جانی چاہیے۔

    میتھیو ہیڈن نے مزید کہا کہ گزشتہ برس آئی پی ایل کے باعث سے 7 آسٹریلوی کھلاڑی دورہ بنگلادیش اور ویسٹ انڈیز سے دستبردار ہو گئے تھے جبکہ دورہ پاکستان کے لیے بھی ڈیوڈ وارنر، پیٹ کمنز، مچل اسٹارک اور جوش ہیزل ووڈ وائٹ بال سیریز کے لیے منتخب نہیں ہوئےکوئی بھی کھلاڑی اپنی مرضی سے نہیں کھیل سکتا، کھلاڑی اگر آسٹریلیا کے لیے میسر نہ ہو تو اس سے سوال ہونا چاہیے یا کم از کم اس کھلاڑی کو تنخواہ نہیں ملنی۔

    آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے قومی اسکواڈ کا اعلان

  • پی ٹی آئی کا "سندھ حقوق مارچ” روانگی کے لئے تیار:عوام استقبال کرنے کے لیے تیار

    پی ٹی آئی کا "سندھ حقوق مارچ” روانگی کے لئے تیار:عوام استقبال کرنے کے لیے تیار

    گھوٹکی: پی ٹی آئی کا "سندھ حقوق مارچ” روانگی کے لئے تیار:،عوام استقبال کرنے کے لیے تیار،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ‘سندھ حقوق مارچ’ کا آغاز آج سے کیا جارہا ہے، مارچ کے لئے کارکنان میں زبردست جوش وخروش پایا جاتا ہے۔

    پی ٹی ائی سندھ کے ذرائع کے مطابق سندھ حقوق مارچ کا آغاز آج سندھ پنجاب سرحد ‘کموں شہید’ سے ہوگا، مارچ کی قیادت وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی اور علی زیدی کرینگے، گھوٹکی میں ہیلی پیڈ تیار کیا جاچکا ہے۔لوگوں میں بہت زیادہ خوشی پائی جارہی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پی پی کے ستائے لوگ پی ٹی آئی کے اس مارچ سے بڑے خوش دکھائی دیتے ہیں‌

     

    دوسری طرف اسی حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اوباڑو میں پی ٹی آئی رہنما عبدالرحمان چاچڑ کے انتقال پر تعزیت بھی کرینگے۔ادھر ذرائع کے مطابق مارچ کو خوش آمدید کہنے کے لئے شہر بھر میں جگہ جگہ استقبالیہ کیمپ لگائے جاچکے ہیں، کارکنان میں زبردست جوش وخروش پایا جاتا ہے اور کارکنان پارٹی ترانوں پر والہانہ رقص کررہے ہیں۔

    جہاں ایک طرف وائش چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی متحرک ہیں تو دوسری طرف وفاقی وزیر علی زیدی اور سینئر رہنما مبین جتوئی انصاف ہاؤس سکھر سے ریلی میں شریک ہونگے۔

     

     

    مارچ کے شرکا کا پہلا پڑاؤ سکھر’ انصاف ہاؤس’ ہوگا، جہاں ایک عظیم الشان جلسے کا انعقاد کیا جائے گا، جلسے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت پی ٹی آئی قیادت خطاب کرے گی، جلسے کی تمام تیاریاں مکمل کرلیں گئیں ہیں۔

    صدر پاکستان تحریک انصاف سندھ علی زیدی نے رات گئے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ سندھ کے عوام کے ساتھ رابطے کے لیے اسی کنٹینر پر نکل رہے ہیں جو 126دن کے دھرنے کے لیے استعمال کیا تھا، انشااللہ سندھ کے لوگوں کو زرداری مافیا سے آذاد کرائینگے۔

     

    وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی زيدی نے مارچ کے روٹ کے حوالے سے بتایا کہ سندھ حکومت کے خلاف 27 فروری کو گھوٹکی سے مارچ شروع کیا جائے گا، جو سکھر روانہ ہوگا، 27 فروری کو ہم شکارپور، کشمور اور جیکب آباد پہنچیں گے، 28 فروری کو قمبر شہداد کوٹ اور لاڑکانہ جائیں گے۔

     

    روٹ کے مطابق یکم مارچ کو پی ٹی آئی کا مارچ خیرپور، نوشہروفیروز اور نواب شاہ میں پڑاؤ ڈالے گا، جس کے بعد مارچ کی اگلی منزل 2 مارچ کو سانگھڑ اور میرپورخاص ہوگی۔سندھ حقوق مارچ 3 مارچ کو عمر کوٹ، تھر پارکر اور بدین پہنچے گا اور وہاں رات قیام کے بعد 4 مارچ کو ٹنڈو محمد جام ، ٹنڈو الہٰ یار اور مٹیاری جائے گا۔

    مارچ یہاں سے اپنی اگلی منزل حیدرآباد 5 مارچ کو پہنچے گا، چھ مارچ کو پی ٹی آئی کا مارچ اختتامی مراحلے میں داخل ہوتے ہوئے جامشورو اور وہاں سے واپس کراچی آئے گا۔

  • پاکستان کی درخواست قبول،پولینڈ نےبارڈرکراسنگ پوائنٹس       کھول دیے:مدد کونہ پہنچنےکاپراپیگنڈہ دم توڑگیا

    پاکستان کی درخواست قبول،پولینڈ نےبارڈرکراسنگ پوائنٹس کھول دیے:مدد کونہ پہنچنےکاپراپیگنڈہ دم توڑگیا

    اسلام آباد:پاکستان کی درخواست قبول، پولینڈ نے بارڈر کراسنگ پوائنٹس کھول دیے:مدد کونہ پہنچنے کا پراپیگنڈہ دم توڑ گیا ،اطلاعات کے مطابق روس اور یوکرین میں جاری جنگ کے باعث پاکستان کی درخواست پر پولینڈ نے پاکستانیوں کے لیے بارڈر کرانسنگ پوائنٹس کھول دیے۔

    یوکرین میں محصور پاکستانی طلبہ کو نکالنے کی کوششیں تیز ہوگئیں۔ پاکستانی سفارت خانے کی مدد سے 35 طلبہ پولینڈ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ خرکیف میں سفارت خانے میں موجود طلبہ کو ٹرین کے ذریعے پولینڈ بھیجا گیا ہے۔ خرکیف میں موجود مزید 65 پاکستانیوں کو کل پولینڈ بھیجا جائے گا۔

    پولینڈ نے ابتدا میں ایک کراسنگ پوائنٹ سے پیدل داخلے کی اجازت دی تھی تاہم اب پاکستان کی درخواست پر 8 بارڈر کراسنگ پوائنٹس کھول دیے گئے ہیں۔

    وزارت خارجہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ ملک کا سفارت خانہ 25 فروری 2022 سے ترنوپیل میں مکمل طور پر فعال ہے اور یوکرین میں موجود طلبہ کے انخلا کے لیے فوکل پرسن بھی مقرر کیے گئے ہیں۔

    ترنوپیل میں فوکل پرسن کی تفصیلات یہ ہیں: ڈاکٹر شہزاد نجم (موبائل فون نمبر+380632288874 +380979335992) ۔دارالحکومت کیف میں بھی سفارت خانے کے فوکل پرسن (موبائل فون نمبر +380681734727) پر پاکستانی طلبا کے لیے ہمہ وقت دستیاب ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرینیں کام کر رہی ہیں اور خارکیو سے لویو/ ترنوپیل تک ٹکٹ دستیاب ہیں۔ جن شہروں میں اس وقت پبلک ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں ہے وہاں تمام طلبہ کو بتایا گیا ہے کہ سفارت خانے نے متعلقہ اعزازی تعلیمی مشیر کو طلبا کو ترنوپیل لانے کا کام سونپا گیا ہے۔

    دوسری جانب قومی ایئر لائن کے سی ای او ارشد ملک اور یوکرین میں پاکستانی سفیر کے درمیان رابطہ ہوا جس میں یوکرین میں پھنسے پاکستانی شہریوں کی محفوظ مقام پر منتقلی اور وطن واپسی سے متعلق گفتگو کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق تمام پاکستانی طالب علم یوکرین کے شہر ٹرنوہل میں یکجا ہوں گے، ٹرنوہول میں سفارتخانہ زمینی راستے سے پولینڈ تمام طلبا کو منتقل کرے گا۔اس کے بعد پی آئی اے کا بوئنگ 777 طیارہ پولینڈ سے طلبہ کو وطن واپس پہنچائے گا۔

    سی ای او پی آئی اے ارشد ملک کا کہنا ہے کہ طلبہ کے پولینڈ پہنچتے ہی پرواز روانہ کردی جائے گی، ہم وطنوں کو واپس پہنچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔علاوہ ازیں پاکستانی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ پولینڈ نے کورونا پاندیاں معطل کردی ہیں، پاکستانی شہری 15 روز میں پولینڈ میں داخل ہوسکتے ہیں۔

    ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں یوکرین میں پھنسے پاکستانیوں کی مدد کو نہ پہنچنے کےحوالے سے بعض ریاست مخالف میڈیا چینلز کی خبریں دم توڑ گئی ہیں ، حکومت پاکستان مسلسل رابطے میں ہے اور تمام پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کے لیے کوشاں ہیں