Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • کورونا وبا: مزید 28 افراد جاں بحق، مثبت کیسز کی شرح 9.68 فیصد

    کورونا وبا: مزید 28 افراد جاں بحق، مثبت کیسز کی شرح 9.68 فیصد

    پاکستان میں عالمی وبا کورونا کے باعث گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 28 افراد جاں بحق ہو گئے-

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 63 ہزار 413 کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید 6 ہزار 137 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    ڈریپ نے گھر پر کورونا ٹیسٹ کی اجازت دے دی،نوٹیفیکیشن جاری

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک بھر میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 14 لاکھ 54 ہزار 800 جبکہ جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 29 ہزار 448 ہو گئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 9.68 فیصد پر پہنچ گئی۔

    اس کے علاوہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 16347 افراد کورونا سے صحتیاب بھی ہوئے جس کے بعد ملک میں وبا سے شفایاب ہونے والے افراد کی تعداد 13 لاکھ 33 ہزار 732 ہو گئی ہے۔

    کورونا کے باعث بند سرحدیں جلد کھول دی جائیں گی: وزیر اعظم نے خوشخری سنا دی

    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 5 لاکھ 49 ہزار 872، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 710 ہزار 200، پنجاب میں 4 لاکھ 87 ہزار 407، اسلام آباد میں ایک لاکھ 30 ہزار 872 بلوچستان میں 34 ہزار 711، آزاد کشمیر میں 40 ہزار 355 اور گلگت بلتستان میں 10 ہزار 873 ہو گئی ہے۔

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 13 ہزار 230 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 7 ہزار 878، خیبر پختونخوا 6 ہزار 37، اسلام آباد 985، گلگت بلتستان 189، بلوچستان میں 368 اور آزاد کشمیر میں 761 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    چینی سائنسدانوں نے کورونا کی سب سے جان لیوا قسم”نیو کوو”سے خبرادار کر…

    دوسری جانب سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے نجی اسپتالوں اور لیبارٹریوں میں کورونا ٹیسٹ کی قیمت کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں باضابطہ حکم نامہ جاری کردیا گیا ہے۔

    سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن (ایس ایچ سی سی) کی جانب سے کراچی کے تمام نجی اسپتالوں اور لیبارٹریز کے لیے کورونا ٹیسٹ کے نئے نرخ مقرر کردیے ہیں، سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے شہر کے تمام نجی اسپتالوں اور لیبارٹریز کو کو ہدایت دی گئی ہے کہ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے جانب سے جاری کردہ نرخ کی نئی قیمت پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اس سے قبل سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے اسپتالوں اور لیبارٹیریز کے منتظمین سے ملاقات کی تھی۔

    اومی کرون کورونا کا آخری ویریئنٹ نہیں،مزید نئی نئی شکلیں سامنے آئیں گی،اقوام…

    نوٹیفکیشن کے مطابق کورونا ٹیسٹ کی قیمت ساڑھے 6 ہزار روپے کے بجائے ساڑھے 4 ہزار روپے مقرر کردی گئی ہے، گھر سے سیمیل لینے کی صورت میں 7 ہزار 500 کے بجائے 4 ہزار 800 روپے کی قیمت وصول کی جائے گی ، ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ کیے جانے پر 3 ہزار اور 1500 روپے کے بجائے 1200 روپے وصول کیے جائیں گے نرخ نامے کی نئی فہرست پر عملدرآمد کیلیے کمیشن کے افسران نجی اسپتالوں اور لیبارٹریوں کا دورہ کریں گے۔

    کورونا اور نزلے پر قابو پانے کے لئے کیپسول تیار

  • بھارتی رہنماؤں کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکومت پر تنقید

    بھارتی رہنماؤں کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکومت پر تنقید

    بھارتی رہنماؤں کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکومت پر تنقید کی گئی ہے

    بی جے پی حکومت نے پالیسیوں پر تنقید کرنے والے افراد کو گرفتار کرنے کا سلسلہ جاری کر رکھا ہے غیر قانونی اقدام پر بھارتی رہنماؤں کی جانب سے بی جے پی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، سپریا سَلی ممبر لوک سبھا کے مطابق حکومتی بلوں میں کشمیر کو شامل نہ کرنا متعصبانہ رویہ ہے کانگریس ممبر ششی تھرور کا کہنا ہے کہ بھارتی کالے قانون نے بھارتی جمہوریت کو بے نقاب کر دیا ہے، نیشنل کانگریس کے لیڈر مصطفیٰ کمال نے بھارت کے اس اقدام کو آئین کی نفی قرار دیا کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے کشمیر کی حقیقی صورتحال پر سوال اُٹھائے ہیں پریانکا گاندھی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کو آئین اور جمہوریت کے منافی قرار دیا

    نوبل انعام یافتہ امریتہ سین نے کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تنقید کی اور کہا کہ تمام انسانوں کے حقوق کو برقرار رکھا جائے مجھے نہیں لگتا کہ جمہوریت کے بغیر بھی کشمیر کی کوئی قرار داد ہو گی ، بھارتی سکالر ننوت چڈھا بہیرا کا کہنا تھا کہ بھارت میں جمہوری اُصولوں کو ختم کیا جا رہا ہے،زیادہ پریشان کُن بات ہے کہ کسی بھی دوسری ریاست کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے ؟،فیڈرلزم کے حق میں بہت کم لوگ ہیں، جو بھارت کی جمہوریت کیلئے خطرہ ہے،

    قبل ازیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان جموں و کشمیر پر اپنے اصولی موقف پر قائم ہے اور قوم حق خود ارادیت کی منصفانہ جدوجہد میں کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ 5 فروری یوم یکجہتیِ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کے متعلق حتمی فیصلہ صرف کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق ہوگا، کشمیری عوام کی خواہشات اور متعلقہ قراردادوں کے مطابق تنازع کا حل پاکستان کا حتمی مقصد ہے۔

    ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ جموں و کشمیر سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر سب سے پرانے مسائل میں سے ایک ہے، بھارتی ہٹ دھرمی، انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے تنازع حل نہ ہو سکا کشمیری عوام گزشتہ 7 دہائی سے مشکل حالات، دہشت اور ظلم کے خلاف برسرِپیکار ہیں جبکہ بھارت کشمیرمیں غیر انسانی حربے، سفاکانہ قوانین اور ریاستی دہشت گردی کا استعمال کر رہا ہے۔

    صدرمملکت نے کشمیریوں کو خودارادیت کے جائز حق کے لیے بے مثال عزم پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام جبر، ناجائز قبضے کے خلاف جرات مندانہ جدوجہد میں ضرور سرخرو ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت حراستی تشدد، پیلٹ گنوں کے استعمال اور گھروں کو مسمار کرنے میں ملوث ہے، 9 لاکھ سے زائد قابض بھارتی افواج نے مقبوضہ کشمیر کو ایک بڑی جیل میں بدل دیا ہے اور آر ایس ایس اور بی جے پی کی کشمیریوں کی تحریکِ آزادی کو کنٹرول کرنے کی کوشش ناکام رہی ہے۔


    دوسری جانب یکجہتیِ کشمیر کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ متحد ہے اور حق خود ارادیت کے لیے ان کی جائز جدوجہد کے لیے پرعزم ہے۔ مودی کے جبر اور تشدد کی فاشسٹ پالیسیاں کشمیر میں کشمیریوں کی مزاحمت کے جذبے کو کچلنے میں ناکام رہی ہیں-

    انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے جس میں انسانیت کے خلاف جرائم، جنگی جرائم اور نسل کشی کی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ جبری آبادیاتی تبدیلی کا خطرہ بھی شامل ہے۔ یہ سب جنیوا کنونشنز کی سراسر خلاف ورزی ہیں۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ کشمیر میں غیر جانبدارانہ رائے شماری کو یقینی بنانا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ دنیا کو جموں و کشمیر کے لوگوں کی حالت زار اور بھارتی ریاست کے ظالمانہ فوجی قبضے سے خود کو آزاد کرانے کی ان کی ناقابل تردید خواہش کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیامیں امن و ترقی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا 5اگست 2019 کے غیرقانونی بھارتی اقدامات یواین قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں عالمی برادری بھارت کو انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر جوابدہی کے کٹہرے میں کھڑا کرے،آج کشمیری شہداکو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں،فلسطین اورکشمیر تنازعات اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور عالمی برادری کے لیے چیلنج ہیں تنازعات کے حل تک اقوام متحدہ کے قیام کے بنیادی مقاصد پورے نہیں ہوں گے اقوام متحدہ کو اپنی ساکھ کی بحالی کے لیے کشمیر اور فلسطین تنازعات کا منصفانہ حل یقینی بنانا ہوگا،

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کا مشن تھا،حقِ خود ارادیت کے لیے جاری جدوجہد کو پیپلزپارٹی کی حمایت حاصل رہے گیمسئلہ کشمیر تقسیمِ برصغیر کا نامکمل ایجنڈا اور عالمی ضمیر پر بوجھ ہے، بھارت کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے میں ناکام ہوا ہے، عالمی برادری کو اپنی ذمیداریاں نبھانا ہوں گی،اگر پیپلزپارٹی کی حکومت ہوتی، تو مودی کے دانت کھٹے کر دیئے ہوتے،

    وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ حقِ خودارادیت اہلِ کشمیر کا بنیادی حق ہے،پاکستان پورے عزم و استقلال سے کشمیر کاز کے ساتھ کھڑا ہے، مودی کی ہندوتوا سرکار جذبہ حریت دبانے کیلئے جبر و بربریت میں شدت لائی، کشمیر پر دائمی قبضے کی مودی کی کوشش نے کشمیریوں کی مزاحمت میں نئی روح پھونکی ، اقوام عالم مقبوضہ وادی میں بھارتی وحشت و بربریت کے تدارک کیلئے اقدام کریں،

    ‏اسلام آباد میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے ریلی نکالی گئی.ریلی کی قیادت صدر مملکت عارف علوی نے کی،ریلی میں وفاقی وزرااوردیگر حکا م بھی شریک‏ تھے ریلی میں اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ شریک‏ تھے ریلی میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کےلیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی ،چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کے ہمراہ ریلی میں شرکت کی، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ پاکستان کا بچہ بچہ کشمیر بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حصول تک پوری قوم کشمیروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ 5اگست 2019کا بھارتی غیر قانونی اقدام جمہوریت کے منہ پر کالا نشان بن گیا ہے۔ نریندرمودی کو 5اگست 2019کے مقبوضہ کشمیر کے لئے غیر قانونی اقدام کو واپس لینا ہو گا۔ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہو گا۔ پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے۔ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر سب سے پرانا مسئلہ ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اقوام عالم کو اقدامات اٹھانے ہونگے۔بھارت نے 5اگست 2019کے بعد مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین پامالیوں کی مثا لیں قائم کی۔ کشمیری نوجوانوں، عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو قید و بند کیا گیا۔ کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے کیلئے نریندر مودی نے ہر اوچھے ہتھکنڈا استعمال کیا۔ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو گا۔ کشمیر پاکستان کا حصہ اور شہ رگ ہے۔ بھارت کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا استعمال بند کرے۔ کشمیر ی عوام کی جرات مندانہ جدوجہد آزادی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔وہ دن دور نہیں جب کشمیر پاکستان کا حصہ ہو گا۔

  • :5 فروری: پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں منایا جائے گا

    :5 فروری: پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں منایا جائے گا

    آج ایک مرتبہ پھر ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے۔ آج پھر سیمینارز، کانفرنسیں، ریلیاں اوراحتجاجی مظاہرے ہوں گے۔ کئی کلو میٹر کی ہاتھوں کی زنجیریں بنیں گی۔ چوکوں اور چوراہوں پر بھارتی مظالم کے خلاف جلسے اور جلوس ہوں گے ۔

    تفصیلات کے مطابق آج 5 فروری پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج کشمیریوں سے یک جہتی کے لیے یوم یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں منایا جائے گا
    اس دن کو منانے کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یک جہتی کرنا اور یہ باور کرانا ہے کہ کشمیر پاکستانی کی شہ رگ ہے۔

    ہر سال 5 فروری کو یوم یک جہتی کشمیر منایا جاتا ہے تاہم رواں سال اس کی اہمیت بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور لاک ڈاؤن کے نفاذ کی وجہ سے بڑھ گئی ہے، واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو اس کی خصوصی حیثیت سے محروم کردیا تھا

    مقبوضہ جموں و کشمیر کو تقسیم کرتے ہوئے اسے 2 وفاقی اکائیوں میں تبدیل کردیا تھا جس کا اطلاق گزشتہ سال 31 اکتوبر سے ہوگیا تھا، ساتھ ہی بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے مکمل لاک ڈاؤن کردیا تھا جو 5 اگست سے اب تک جاری ہے جبکہ وہاں کے عوام کو مواصلاتی نظام کی بندش کا بھی سامنا ہے جس کی وجہ سے معاشی بحران پیدا ہوگیا ہے اور شہری اپنے اہلخانہ سے رابطہ قائم کرنے سے محروم ہوگئے ہیں، تاہم گزشتہ ماہ خطے میں محدود موبائل ڈیٹا اور انٹرنیٹ سروس کو عارضی طور پر بحال کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود عوام کو مشکلات ہیں۔

    آج یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پاکستان بھر میں عام تعطیل ہے

    یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ملک کئمے مختلف شہروں میں ریلیوں، جلسوں، سیمینارز اور دیگر تقاریب کا انعقاد کیا جارہا ہے جبکہ بھارتی مظالم کے خلاف

    اج پانچ فروری2022 کو 32 واں یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے اور اکتیس برس گزرنے کے بعد آج تحریک آزادی کشمیر ایک فیصلہ کن اور انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ آج پورے ملک میں سرکاری طور پر تعطیل منائی جا رہی ہے۔ایک طرف ہم کشمیر کو اپنی شہہ رگ قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف کشمیر میں جاری بدترین کرفیو اور لاک ڈائون ہے اور ہماری شہہ رگ ہمارے روایتی اور ازلی دشمن کے پنجوں میں جکڑی ہوئی ہے اور ہم صرف احتجاجی مظاہرے اور سیمیناز منعقد کر کے سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا قومی فریضہ انجام دے دیا ہے۔

    سوال یہ ہے کہ کیا یہ انصاف ہے کہ ایک طرف صرف قرار دادیں منظور کی جائیں اور دوسری طرف روزانہ سرکٹوائے جائیں؟ ایک طرف مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکرات پر زور دیا جاتا ہے، تو دوسری طرف کشمیری کئی برسوں سے بھارتی محاصرے اور خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔یقیناً پاکستان کی 22 کروڑ عوام کی موجودگی میں کشمیر کا کوئی سودا نہیں ہو سکتا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایک دن کویکجہتی کشمیر سے منسوب کر کے ہم نے اپنا فرض ادا کر دیتے ہیں؟کیا یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ نہیں ہے؟ اس پر سوچنا ہو گا، کیونکہ آج پھر پانچ فروری ہے۔ آج کا دن بھی گزر جائے گا، لیکن انتظار اس دن کا ہے ،جب کشمیریوں کو آزادی ملے گی اور کشمیرمیں جاری ظلم کا خاتمہ ہو گا۔

  • وزیراعظم عمران خان کی کامیاب بریفنگ:پہلی ملاقات میں چینی کمپنیوں کیساتھ اربوں ڈالرز کے معاہدے

    وزیراعظم عمران خان کی کامیاب بریفنگ:پہلی ملاقات میں چینی کمپنیوں کیساتھ اربوں ڈالرز کے معاہدے

    بیجنگ:وزیراعظم عمران خان کی کامیاب بریفنگ:پہلی ملاقات میں چینی کمپنیوں کیساتھ اربوں ڈالرز کے معاہدے ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین کے دوران چینی کمپنیوں کے ساتھ اربوں ڈالرز کے معاہدے طے پا گئے۔اور یہ سارے معاہدے پہلی ملاقات میں طئے پاگئے ابھی دو دن باقی ہیں‌، امید ہے کہ اور بھی معاہدے کرنے میں کامیاب ہوں گے

    گوادر میں سٹیل ری سائیکلنگ کے لیے ساڑھے 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ طے پایا، زرعی ٹیکنالوجی ٹرانسفر کرنے کے لیے چائنا مشنری انجینئرنگ کارپوریشن ایک سنٹر قائم کرے گی۔ سی ایم ای سی نے کراچی میں 2 لاکھ میٹرک ٹن ایل این جی اسٹوریج میں بھی دلچسپی دکھائی۔

    50 ملین ڈالر زرعی ٹیکنالوجی اور 500 ملین ڈالرز ایل این جی سٹوریج پر سرمایہ کاری ہو گی۔ چین کی ایک اور کمپنی نے فوجی فرٹیلائزر کے ساتھ متعدد ایم او یوز پر دستخط کردیے۔ رائل گروپ بفلو فارم کے قیام کے لیے 50 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ رائل گروپ دودھ کی پراسسنگ میں بھی 30 ملین ڈالر سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے۔ چیلنج فیشن نے 250 ملین ڈالر کی لاگت سے فری اکنامک زون کے لیے مزید 100 ایکڑ زمین خرید لی۔ اس سرمایہ کاری سے برآمدات میں سالانہ 400 ملین اضافہ ہوگا اور 20 ہزار نوکریاں پیدا ہونگی۔

    سی آر بی سی کراچی پورٹ ٹرسٹ کی شراکت سے ساڑھے 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ دونوں گروپوں کے اشتراک سے کراچی کوسٹل ڈویلپمنٹ زون قائم کیا جائے گا۔ نیو سوفٹ میڈیکل سسٹم میڈیکل کے میدان میں مصنوعی ذہانت پر 30 ملین ڈالر سرمایہ کاری کرے گا۔ نیو سوفٹ مزید 170 ملین ڈالر کی لاگت سے مختلف منصوبوں پر کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    ہنان سن واک کنسٹرکشن گروپ 2 ارب ڈالر کی لاگت سے 1 لاکھ کلومیٹر لمبی فائبر آپٹکس کیبل بچھائے گا، گلوبل سیمی کنڈکٹر گروپ 40 ملین ڈالر کی لاگت سے سکلز ڈویلپمنٹ سنٹر قائم کرے گا، اس سرمایہ کاری سے ایک لاکھ سے زائد نوکری کے مواقع میسر آئیں گے۔

  • مولانا فضل الرحمن کل کیا کریں گے:ترجمان نے تفصیلات جاری کردیں

    مولانا فضل الرحمن کل کیا کریں گے:ترجمان نے تفصیلات جاری کردیں

    بنوں :مولانا فضل الرحمن کل کیا کریں گے:ترجمان نے تفصیلات جاری کردیں،اطلاعات کے مطابق اس سال مولانا فضل الرحمن کی طرف سے سی پیک اور 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے شیڈول جاری کردیا گیا ہے

    ترجمان جےیوآئی اسلم غوری کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جےیوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان 5 فروری کو دن 10 بجے ابپارہ چوک میں خطاب کریں گے،مولانا فضل الرحمان آبپارہ میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کریں گے، مولانا فضل الرحمان آبپارہ سے قافلہ کی قیادت کرتے ہوئے ڈی آئی خان کیلئے روانہ ہوں گے ،

    ترجمان جےیوآئی اسلم غوری کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان موٹروے پر ہکلہ کے مقام پر سی پیک کا عوامی افتتاح کریں گے ،مولانا فضل الرحمان دن 12 بجے ہکلہ میں کارکنان سے خطاب کریں گے،پشاور، اٹک، ٹیکسلا، صوابی کے قافلے ہکلہ سے مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں ڈی آئی خان روانہ ہوں گے ،مولانا فضل الرحمان کا پنڈی گھیپ، عیسی خیل، میانوالی، لکی مروت، بنوں کے کارکنان کنڈل کے مقام پر سی پیک پر استقبال ہوگا،مولانا فضل الرحمان ڈی آئی خان پہنچ کر یارک کے مقام پر جلسہ عام سے خطاب کریں گے،

  • عمران خان چین میں سفارتکاری میں مصروف:پیچھے سے شہبازشریف کی دعوت پر بلاول بھٹونے ہاں کردی

    عمران خان چین میں سفارتکاری میں مصروف:پیچھے سے شہبازشریف کی دعوت پر بلاول بھٹونے ہاں کردی

    لاہور:عمران خان چین میں سفارتکاری میں مصروف:شہبازشریف کی دعوت پر بلاول بھٹونے ہاں کردی،اطلاعات کے مطابق ایک طرف وزیراعظم پاکستان عمران خان چین میں موجود ہیں اور وہاں وہ عالمی رہنماوں سمیت چینی کی قیادت سے اہم معاملات کے سلسلے میں موجود ہیں پیچھے سے بلاول بھٹو نے شہبازشریف کی طرف سے ظہرانے کی دعوت قبول کرکے حکومت کے خلاف مشترکہ گٹھ جوڑ کی طرف قدم بڑھا دیا ہے

    اطلاعات ہیں‌ کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی جانب سے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے اعزاز میں کل ظہرانہ دیا جائے گا۔

    شہباز شریف نے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو ٹیلی فون کیا۔ ٹیلیفونک گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

    شہباز شریف نے بلاول کو کل ظہرانے کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی۔ بلاول کل لاہور میں شہباز شریف کی رہائش گاہ پر ظہرانے میں شرکت کریں گے۔

    دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ ظہرانے میں آصف زرداری، مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت دونوں پارٹیوں کے دیگر رہنما بھی شرکت کریں گے۔ذرائع کے مطابق نواز شریف کی ہدایت پرشہبازشریف پیپلز پارٹی کی قیادت سےملاقات کریں گے۔

  • پاکستان کو1 ارب 5 کروڑ ڈالر موصول ہوگئے

    پاکستان کو1 ارب 5 کروڑ ڈالر موصول ہوگئے

    اسلام آباد:پاکستان کو عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے 1 ارب 5 کروڑ ڈالر موصول ہوگئے۔

    آئی ایم ایف کی تمام شرائط ماننے کے بعد آخر کار پاکستان کو 1 ارب 5 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی چھٹی قسط موصول ہوگئی، چھٹی قسط کو حاصل کرنے کے لیے پاکستان نے نہ صرف منی بجٹ پیش کیا ساتھ ہی مرکزی بینک کے خودمختاری کا بل بھی پارلیمنٹ سے منظور کرایا گیا۔

    1 ارب ڈالر ملنے کے بعد اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 16 ارب 72 کروڑ ڈالر ہوگئے۔ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں مزید کمی کا امکان ہے۔

    اسی حوالے سے کل انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لئے پروگرام کی چھٹی قسط کی منظوری دے دی تھی ۔

    آئی ایم ایف کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے لکھا تھا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے پروگرام کی چھٹی قسط کی منظوری دے دی ہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے بھی کہا تھا کہ الحمدللّٰہ آئی ایم ایف بورڈ نے پاکستان کا چھٹا نظرثانی بورڈ مکمل کر لیا ہے اور پاکستان کو 1 ارب ڈالر کی قسط کے اجراء کا فیصلہ کیا ہے۔

    فواد چودھری نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ اس فیصلے سے معیشت کے استحکام اور اصلاحات کے عمل میں مدد ملے گی ۔

  • بھارت کاجارحانہ رویہ علاقائی امن کےلیےخطرہ ہے: وزیراعظم کی چین میں پالیسی سازوں سےگفتگو

    بھارت کاجارحانہ رویہ علاقائی امن کےلیےخطرہ ہے: وزیراعظم کی چین میں پالیسی سازوں سےگفتگو

    بیجنگ: بھارت کا جارحانہ رویہ علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے: وزیراعظم عمران خان کی چین میں پالیسی سازوں سے گفتگو ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بھارت کا جارحانہ رویہ علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے، موجودہ بھارتی رجیم خطے کے دیرپا عدم استحکام کا سبب بن رہی ہے۔

    وزیر اعظم نے چینی معروف تھنک ٹینکس، یونیورسٹیوں اور پاکستان اسٹڈی سینٹرز کے سربراہان اور نمائندوں سے ملاقات کی، اور پاک چین تعلقات کی اہمیت اور علاقائی استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع پر چین کی غیر متزلزل حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا۔

    ملاقات میں علاقائی استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنانے میں پاک چین تعلقات کی اہمیت پر بھی بات چیت کی گئی۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت کے جارحانہ رویے اور ہندوتوا نظریہ علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں، موجودہ بھارتی رجیم خطے کے دیرپا عدم استحکام کا سبب بن رہی ہے، مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارت کے مسلسل مظالم جاری ہیں، دنیا کو کشمیریوں کے خلاف بھارت کے جاری ظلم پر توجہ دینی چاہیے۔

    وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کو خطے کی ترقی کیلئے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک کا پہلا مرحلہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور رابطے پر مرکوز تھا، اگلے مرحلے میں صنعت کاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تعاون اور زرعی تبدیلی پر توجہ دی جائے گی، پاکستان سرمایہ کاری کے لیے زبردست مراعاتی پیشکش فراہم کر رہا ہے، بے شمار عالمی چیلنجوں کے پیش نظر دنیا ایک اور سرد جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی، پاکستان کا نظریہ ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں تصادم کے بجائے تعاون ہونا چاہیے، پاکستان نے ماضی میں بھی پل کا کردار ادا کیا تھا اور دوبارہ ایسا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    قومی سلامتی کی پالیسی کا بھی ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ میری حکومت نے اقتصادی سلامتی کو بنیادی اہمیت دی ہے، یہ وژن روابط اور ترقیاتی شراکت داری پر مبنی ہے جس کے لیے پاک چین شراکت داری ناگزیر ہے۔

    امن، ترقی کے لیے پاکستان اور چین کی افغانستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے میں تعاون پاکستان اور چین کے باہمی مفاد میں ہے، عالمی برادری افغانیوں کو اس مشکل وقت میں تنہا نہ چھوڑے۔

  • بھارت مکاری کا شہنشاہ:چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی: یوکرین پرامریکہ کا مخالف

    بھارت مکاری کا شہنشاہ:چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی: یوکرین پرامریکہ کا مخالف

    لاہور:بھارت مکاری کا شہنشاہ:مفاد پرمبنی پالیسیاں:چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی:یوکرین پرامریکہ کا مخالف، بھارت نے اپنی پالیسی کو مفاد پرستی کا محور بنا لیا ہے اور ملکوں کو کرنا بھی ایسے ہی چاہیے لیکن بھارت نے جو خارجہ پالیسی اب اپنائی ہےوہ بھارت مخالف ملکوں کے لیے ایک مثال ہے ،

    جیسے جیسے یوکرین کا بحران بڑھ رہا ہے، کچھ عرصہ پہلے تک، یہ زیادہ تر عمل میں غائب تھا۔ لیکن منگل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) میں اس بارے میں ووٹنگ ہوئی کہ آیا اس بحران پر بات کرنے کے لیے اجلاس منعقد کیا جائے، نئی دہلی کا جھکاؤ ماسکو کی طرف دیکھا گیا۔

    جب کہ روس اور چین نے متوقع طور پر کوئی ووٹ نہیں ڈالا، ہندوستان (کینیا اور گیبون کے ساتھ) نے پرہیز کرتے ہوئے اجلاس کے لیے امریکی قیادت کے دباؤ کی حمایت نہیں کی۔ چونکہ اجلاس کی منظوری کے لیے 15 رکنی کونسل میں نو مثبت ووٹوں کی ضرورت تھی، لہٰذا ہندوستان کی عدم شرکت کا واضح مطلب روس کے ساتھ کھڑا ہونا تھا ، بھارت نے امریکی خواہش پر پانی پھیر دیا ۔

    یہ ایک فیصلہ ہے جس نے امریکہ جہاں اوقات بتادی ہے وہاں امریکہ کو اپنی خارجہ پالیسی بدلنے کے لیے کچھ اشارے بھی دیئے ہیں

    ویسے بھی ابھی ہندوستان نے یو این ایس سی میں ایک غیر مستقل رکن کے طور پر ابھی دو سال کا سفر شروع کیا ہے ، جہاں اس سے بڑے پیمانے پر توقع کی جارہی تھی کہ وہ امریکی قیادت والے اتحاد کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور چین کا مقابلہ کرے گا۔ لیکن معاملات بالکل مختلف نکلے ہیں۔ تازہ ترین یو این ایس سی ووٹنگ ایک دوسرے کی ایڑیوں پر، موسمیاتی تحفظ پر، جس میں ہندوستان نے کھل کر روس کے ساتھ اور امریکہ کے خلاف ووٹ دیا۔ اس بحث کے دوران، نئی دہلی، ماسکو، اور بیجنگ نے حکمت عملی پر قریبی تعاون کیا، جس میں ایک متبادل قرارداد پیش کرنا بھی شامل ہے جس نے امریکی زیرقیادت ایک کے بنیادی احاطے کو چیلنج کیا۔

    واشنگٹن میں اسٹیبلشمنٹ پر مبنی تجزیہ کاروں نے امریکہ اور ہندوستان کے تعلقات کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ہے۔ واشنگٹن کا سخت حریف ماسکو نئی دہلی کا پرانا ساتھی اور دوست بھی ہے، جس کا دفاع اور توانائی کی تجارت اور سرمایہ کاری میں گہرا باہمی انحصار اور مشترکہ مفادات ہیں۔تازہ ہندوستانی فیصلے نے پرانے رشتوں کو ایک بار پھر تازہ کردیا ہے

    روس اور ہندوستان کے درمیان قربت میں اضافے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ولادیمیر پیوٹن کے حالیہ دورہ نئی دہلی کے دوران ان کا کھلے عام استقبال کیا گیا اور امریکی دباؤ کے باوجود اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ روسی رہنما کے دورے کو ترجیح دیتے ہوئے، بھارت نے اپنے متعلقہ وزرائے خارجہ اور دفاع کے درمیان امریکہ اور بھارت کے اہم مذاکرات کو بھی روک دیا۔

    روس کی طرف سے گرم جوشی جوشی کا مثبت جواب دیتے ہوئے ہندوستان بھی آگے بڑھا اور 2017 کے CAATSA قانون کے تحت امریکی حکام کی طرف سے پابندیوں کی پردہ پوشی کی دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، جدید ترین S-400 فضائی دفاعی نظام کی روس سے ترسیل لی۔

    یہ بھی امریکہ کے لیے بڑی حیرانی کی بات ہےکہ بھارت یعنی ہدوستان کے لیے امریکہ ایک نرم گوشہ رکھتا ہے لیکن وہی بھارت دوسری طرف امریکی مخالف اتحاد کے ساتھ محبت کے رشتے بھی قائم کرتا ہے، جوبائیڈن انتظآمیہ بھی بہت بڑی مشکل میں جہاں بھارتی نژاد نائب صدر کملا ہارس کو بھی پریشانی کا سامنا ہے کہ بھارت امریکہ کی پیشکش سے کیوں دور ہوتا ہے

    بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صرف یوکرین کا بحران ہی امریکہ اور بھارت کے اتحاد کی نئی حدود متعین کرنا کا اشارہ ہے۔ جب واشنگٹن، کینبرا، اور لندن نے واضح طور پر فوجی معاہدے AUKUS کے قیام کا اعلان کیا، ہندوستان نے اس اقدام سے خود کو تیزی سے دور کر لیا۔ بھارت اور چین کے درمیان کشیدگی بدستور بڑھ رہی ہے، جیسا کہ حال ہی میں اولمپکس پر ان کے جھگڑے سے ظاہر ہوتا ہے۔ دو طرفہ ترتیبات میں چین پر سخت تنقید کرتے ہوئے، نئی دہلی نے تاہم ساتھ ہی ساتھ کواڈ کے چین مخالف دباؤ کو بھی محدود کر دیا ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ معاہدہ کسی چیز کے لیے ہے نہ کہ کسی کے خلاف ہے ، اس کا مطلب واضح ہے کہ بھارت کی نظرین چین پر نہیں بلکہ پاکستان کو خطرہ سمجھ رہا ہے

  • جامع مسجد سرینگرپابندسلاسل:میرواعظ کی نظربندی کو ڈھائی سال مکمل:عالمی برادری خاموش

    جامع مسجد سرینگرپابندسلاسل:میرواعظ کی نظربندی کو ڈھائی سال مکمل:عالمی برادری خاموش

    سرینگر :جامع مسجد سرینگرپابندسلاسل :مسلسل 27جمعہ بھی نہ ہوسکا ،میرواعظ کی نظربندی کو ڈھائی سال مکمل:عالمی برادری خاموش ،اطلاعات کے مطابق جامع مسجد سرینگر کے منبرو محراب مسلسل 27ویں جمعہ کو بھی خامو ش، میرواعظ کی نظربندی کو ڈھائی سال مکمل،اغیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض انتظامیہ نے تاریخی جامع مسجد سرینگر میں ایک با ر پھر لوگوں کو مسلسل 27ویں مرتبہ بھی نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی ۔

    انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے ایک بیان میں افسوس ظاہر کیا ہے کہ اسلامی دعوت و تبلیغ کا سر چشمہ تاریخی اور مرکزی جامع مسجد سرینگر کا منبر و محراب بدستور خاموش ہے جبکہ انجمن کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کی گھر میں مسلسل غیر قانونی نظر بندی کوآج ڈھائی سال مکمل ہوگئے ہیں۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق5اگست 2019سے مسلسل گھر میں نظر بند ہیں اور قابض انتظامیہ نے میر واعظ کی تمام سیاسی اور سماجی سرگرمیوں پر بھی قدغن عائد کر رکھی ہے ۔ انجمن کے مطابق قابض انتظامیہ کی طر ف سے جامع مسجد میں مسلسل نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکنے سے کشمیریوں کے مذہبی جذبات مجروح ہورہے ہیں اور یہ مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے ۔

    انجمن نے کہا کہ جامع مسجد میں نماز جمعہ کی اجازت نہ دینے اور میر واعظ کی مسلسل غیر قانونی نظربندی سے قابض انتظامیہ کی متعصبانہ ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے، جو انسانیت اور انصاف سے عاری ہیں۔بیان میں کشمیری عوام اور مذہبی تنظیموں سے پر اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس سلسلے میں قابض انتظامیہ پر دبائو ڈالیں تاکہ جامع مسجد میں ایک بار پھر قال اللہ وقال الرسول ۖ کی ایمان افروز صدائیں بلند ہو سکیں۔

    ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنماء آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے بڈگام میں نماز جمعہ کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ مسجد سرینگر میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر مسلسل قدغن کی شدید مذمت کی ہے ۔انہوں نے کہاکہ جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر قدغن کشمیری مسلمانوں کیلئے انتہائی تکلیف دہ اور باعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہاکہ آمریت کے طولانی دور میں بھی یہ دینی مرکز اتنی مدت تک کبھی مقفل نہیں رہا ۔