Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • حجاب تنازع: بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، پاکستان کی شدید مذمت

    حجاب تنازع: بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، پاکستان کی شدید مذمت

    اسلام آباد:حجاب تنازع: بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، پاکستان کی شدید مذمت ،اطلاعات کے مطابق پاکستان نے بھارت میں رہنے والے مسلمانوں پر مودی سرکار اور مودی سرکارکے حمایت یافتہ انتہا پسند ہندووں کی طرف سے مظالم کو ناقابل قبول اور ناقابل برداشت قرار دیا ،پاکستان نے حجاب تنازع پر بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستان نے بھارت کی ریاست کرناٹک میں مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کے اقدام کی مذمت کی ہے، ہندوستانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب کر کے مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کے اقدام کو قابل مذمت قرار دیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مذکورہ اقدام پر حکومت پاکستان کی شدید تشویش اور مذمت سے بھارتی ناظم الامور کو آگاہ کیا گیا، چارج ڈی افیئرز پر زور دیا گیا وہ بھارتی حکومت کو پاکستان کے تحفظات کے بارے میں آگاہ کریں، معاملہ خارجی اور اکثریتی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد غیر انسانی اور شیطانی کرنا ہے۔

    بیان کے مطابق بھارتی سفارت کار کو پاکستان کی گہری تشویش سے مزید آگاہ کیا گیا، فروری 2020ء میں دہلی کے ہولناک فسادات کے تقریباً دو سال گزر جانے کے بعد بھی مذہبی عدم برداشت ہے، منفی دقیانوسی تصورات، بدنامی اور امتیازی سلوک جاری ہے، بی جے پی قیادت کی خاموشی اور ہندتوا کے حامیوں کے خلاف قابل فہم کارروائی کی عدم موجودگی پر تشویش ہے، حال ہی میں اتراکھنڈ کے ہریدوار میں منعقدہ دھرم سنسد میں کھلے عام مسلمانوں کی نسل کشی کا مطالبہ کر رہے۔

  • ایبٹ آباد:ممبر ایاز کےبیٹوں کی غنڈا گردی کے ہرطرف چرچے

    ایبٹ آباد:ممبر ایاز کےبیٹوں کی غنڈا گردی کے ہرطرف چرچے

    ایبٹ آباد:ممبر ایاز کےبیٹوں کی غنڈا گردی کے ہرطرف چرچے ،اطلاعات کے مطابق کے پی کے بڑے مشہور شہر ایبٹ آباد میں ممبر ایاز کےبیٹوں کی غنڈا گردی بڑھتی جارہی ہے،اس غنڈہ گردی کے چرچے نے ہرسننے والے اور دیکھنے والے کو پریشان کردیا ہے ،یہ بھی کہا جارہا ہے کہ مقامی لوگ ان سے خوفزدہ ہیں

    اس حوالےسے ویسے تو کافی دنوں سے غنڈہ گردی کی اطلاعات موصول ہورہی تھی تاہم تازہ واقعہ آج ایک گاڑی جس میں عورتیں سوار تھیں اسکو اس گاڑی نمبر نے روکاجب ڈرائیور نےگاڑی روکی تو ڈرائیور کےسر پہ پستول رکھ کےگاڑی میں سوار عورتوں کو زبردستی گاڑی سےاتارا,عورتوں کےکپڑےپھاڑ دئیے

     

    https://twitter.com/Rehna_7/status/1491404875556868097?s=19

    دوسری طرف ایک خاتون جن کا نام ریحانہ جدون ہے وہ کہتی ہیں کہ لگتا ہےکہ شاید ایاز ممبر کے بیٹے قانون سے اتنا بالا تر ہیں جو ابھی تک گرفتار نہیں کئے جاسکے یہ مظلوم عورتیں انصاف مانگ رہی ہیں انکو انصاف ملنا چاہیے ایبٹ آباد میں عورتوں کے ساتھ ایسا سلوک ناقابل بر داشت ہے

    ایک صارف سیف جن کا نام ہے وہ کہتے ہیں‌کہ ہ ایبٹ آباد ہے کوئی نوگو ایرایا نہیں جہاں کسی کو گاڑی کھڑی کرنے پہ جانوروں کی طرح مارا پیٹا جائے۔

    دوسری طرف مقامی لوگوں کا کہنا ہےکہ انتظامیہ کو ان غنڈہ گردوں کے خلاف ایکشن لینا چاہیے اگرانتظامیہ نے ایکشن نہ لیا تو پھر عوامی احتجاج سامنے آئے گا پھرانتظامیہ کو بھی پتہ لگ جائے گا اس لیے جتنی جلدی ممکن ہوان کے خلاف ایکشن لیا جائے

  • حکومتی اتحادی کے طور پرعوام کی بھرپور خدمت کر رہے ہیں:یہی اتحاد ہی کامیاب رہے گا : پرویز الہیٰ

    حکومتی اتحادی کے طور پرعوام کی بھرپور خدمت کر رہے ہیں:یہی اتحاد ہی کامیاب رہے گا : پرویز الہیٰ

    لاہور:حکومتی اتحادی کے طور پرعوام کی بھرپور خدمت کر رہے ہیں:یہی اتحاد ہی کامیاب رہے گا :اطلاعات کے مطابق قائم مقام گورنر پنجاب چودھری پرویز الہیٰ نے کہا ہے کہ حکومت کے اتحادی پارٹنر کے طور پر ہم عوام کی بھرپور خدمت کر رہے ہیں۔

    چودھری پرویز الہیٰ سے جرمن سفیر برن ہارڈ سٹیفن نے اسمبلی میں ملاقات کی، ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ جرمن سفیر نے سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کی۔

    اس موقع پر چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ جرمنی پاکستان کا بہترین بزنس پارٹنر ہے، آٹوموبائل انڈسٹری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحت اور سماجی شعبوں کی بہتری کیلئے جرمنی کے تجربے اور مہارت سے استفادہ کرنا چاہیے۔

    قائم مقام گورنر پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ ای پارلیمنٹ کے قیام سے پیپر ورک ختم ہو گا اور اسمبلی زیادہ موثر انداز سے کام کر سکے گی ۔برن گارڈ سٹیفن نے دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر زور دیا اور مربوط اقدامات اٹھانے پر بھی اتفاق کیا ۔

    جرمن سفیر کا کہنا تھا کہ ای پارلیمنٹ کے قیام کے لئے جرمن حکومت نہ صرف ٹیکنیکل بلکہ مالی طور پر بھی پاکستان کی مدد کر رہی ہے۔

    ملاقات میں ایم این اے چودھری سالک حسین، سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی، ڈی پارلیمانی امور عنایت اللہ لک اور سیکرٹری کوآرڈینیشن رائے ممتاز حسین بابر بھی شریک ہوئے۔بعدازاں جرمن سفیر نے پنجاب اسمبلی کے ایوان کا دورہ بھی کیا۔

  • بھارتی اداکارائیں بھی مسکان کے ساتھ پیش آئےواقعہ پر     خاموش نہ رہ سکیں:انتہا پسند ہندووں کےرویوں کی مذمت

    بھارتی اداکارائیں بھی مسکان کے ساتھ پیش آئےواقعہ پر خاموش نہ رہ سکیں:انتہا پسند ہندووں کےرویوں کی مذمت

    ممبئی : بھارتی اداکارائیں بھی مسکان کے ساتھ پیش آئے واقعے پر خاموش نہ رہ سکیں،اطلاعات ہیں کہ حجاب کی آڑ میں مسلمان طالبات کی حمایت میں بھارتی معروف اداکارائیں بھی میدان میں آگئی ہیں ، بھارتی میڈیا ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں ہندو انتہاپسندوں کے جتھے کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہونیوالی بھارتی مسلم طالبہ کو سوشل میڈیا صارفین نے جہاں شیرنی قرار دیا وہیں طالبہ کے حق میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی آواز بلند کررہی ہیں۔

    بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ اب مسلم طالبہ مسکان کے ساتھ پیش آئے واقعے پر بھارتی اداکارائیں بھی خاموش نہ رہ سکیں۔اس حوالے سے بھارت کی معروف اور چوٹی کی اداکارہ پوجا بھٹ نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ہمیشہ کی طرح مردوں کے ایک گروپ نے عورت کو ڈرانے کی کوشش کی۔

     

    پوجا بھٹ نے اس واقعے کو انسانیت کے لیے خوفزدہ قرار دیا اور کہا کہ شالوں کو ہتھیار بنانا اپنی کمزوری کو ظلم کے ذریعے چھپانے کے مترادف ہے۔

     

    ایسے ہی بھارتی اداکارہ سوارا بھاسکر نے بھی اس واقعے کو بھارت کے لیے شرمناک قرار دیا۔

     

    واضح رہےکہ کرناٹک میں کالج آنے والی باحجاب مسلم طالبہ مسکان کو انتہا پسندوں نے ڈرایا دھمکایا لیکن طالبہ نے بھی ڈٹ کر ہراساں کرنے والوں کا مقابلہ کیا، انتہا پسندوں نے طالبہ کے سامنے جے شری رام کے نعرے لگائے جس کا جواب طالبہ نے ’اللہ اکبر‘ کے نعروں سے دیا۔

     

     

    اس سے پہلے آج اور کل مسکان کو خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ جاری و ساری ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہندو انتہاپسندوں کے جتھے کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہونیوالی طالبہ کو سوشل میڈیا صارفین نے شیرنی قرار دے دیا۔

    بھارتی ریاست کرناٹک میں زعفرانی رنگ کے مفلر پہنے انتہا پسندوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے بعد مسلمان طالبہ مسکان ٹوئٹر پر ٹرینڈ کررہی ہیں۔

    مسکان نامی بھارتی طالبہ ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ مسکان اور ہیش ٹیگ اللہ اکبر سے ٹرینڈ کررہی ہیں جس میں مختلف ٹوئٹس کے ذریعے سوشل میڈیا صارفین مسکان کے حق میں اور مسلم مخالف واقعات پر آواز بلند کررہے ہیں۔

    جہاں مسکان کو سوشل میڈیا صارفین شاندار خراج تحسین پیش کررہے ہیں وہیں پاکستان کی سیاسی شخصیات اور وزرا نے بھی ان کی دلیری کو سراہا۔

     

    وزیر مملکت زرتاج گل نے بھی ایک ایڈیٹ شدہ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہی وہ صورتحال ہے جس سے متعلق وزیراعظم عمران خان نے مغرب کو خبردار کیا تھا۔زرتاج گل نے اپنی ٹوئٹ میں بھارت کو اقلیتوں اور خواتین کے لیے انتہائی خطرناک ملک بھی قرار دیا۔

     

    https://twitter.com/AliHassan__92/status/1491231738118684675?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1491231738118684675%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.geo.tv%2Flatest%2F277069-

    علی حسن نامی صارف نے مسکان کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ 100 کے مقابلے میں ایک شیرنی، آپ کسی ہیرو سے بڑھ کر ہو۔

     

    https://twitter.com/SufianAyub3/status/1491265958568394755?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1491265958568394755%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.geo.tv%2Flatest%2F277069-

    ایک صارف نے مسکان اور باحجاب خواتین کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے لکھا کہ حجاب صرف ہماری مذہبی شناخت نہیں ہے بلکہ ہمارا وقار ہے ، یہ اللہ رب العزت کا حکم ہے ۔

     

    حلیمہ نامی صارف نے مسکان سمیت فلسطین سے باہمت خواتین کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ہماری خواتین ہی تمہارے لیے کافی ہیں۔

     

    ایک صارف نے مسکان کی تصویر شیئر کی اور ٹوئٹ کی کہ وہ آئی ، دیکھا اور فتح کرلیا ۔

     

    وفاقی وزیر اسد عمر نے بھی اپنی ٹوئٹ میں مسکان کی بہادری کو سراہتے ہوئے سلام پیش کیا۔

     

     

    بھارتی ڈراموں کے مشہور اداکار علی گونی جو بگ باس کا حصہ بھی رہ چکے ہیں، انہوں نے بھی مسلم طالبہ کی انتہاپسند ہندوؤں کے سامنے نعرہ تکبیر بلند کرنے کی ویڈیو اپنی انسٹا اسٹوری پر شیئر کرتے ہوئے طالبہ کو ’’شیرنی‘‘ قرار دیا۔ دوسری طرف اداکارہ سوارہ بھاسکر نے بھی طالبہ کی ویڈیو کو ٹوئٹ کراتے ہوئے بھارت کی صارتحال کو شرمناک قرار دیا۔

  • بلاول بھٹو نےحکومت کے خلاف اعلان جنگ کردیا

    بلاول بھٹو نےحکومت کے خلاف اعلان جنگ کردیا

    ملتان :بلاول بھٹو نےحکومت کے خلاف اعلان جنگ کردیا ،اطلاعات کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے ملتان میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کٹھ پتلی حکومت کے خلاف اب پی پی اعلان جنگ کرتی ہے اور اس حکومت کو ختم کرنےکےلیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کٹھ پتلی حکومت کے خلاف ہم نے اب اعلان جنگ کردیا ہے۔

     

    ملتان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسلام ہمارا دین اور جمہوریت ہماری سیاست ہے، امید ہے کہ ہمارا نظیریہ ملتان کے ہر گھر تک پہنچے گا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ ہمارا عوامی مارچ 27 فروری کو کراچی سے نکلے گا۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اس کٹھ پتلی حکومت کے خلاف ہم نے اب اعلان جنگ کردیا ہے، پہلے دن سے اس نالائق کٹھ پتلی حکومت کا مقابلہ کررہے ہیں، پہلے دن سے سلیکٹڈ سے پکار کر انکو ایکسپوز کردیا تھا، سینیٹ کے الیکشن میں ہم نے خالی میدان نہیں چھوڑا۔

    انہوں نے کہا کہ جب یہ لوگ آئی ایم ایف کا بل پاس کرا رہے تھے ہم نے ان کو وارننگ دی تھی، یہ معاہدہ عوام دشمن معاہدہ ہے، حکومت کو ہر الیکشن میں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • فرانس نے پاکستان کو ریڈ لسٹ والے ممالک سے نکال دیا

    فرانس نے پاکستان کو ریڈ لسٹ والے ممالک سے نکال دیا

    فرانس نے پاکستان کو ریڈ لسٹ والے ممالک سے نکال کر سفری پابندیوں میں نرمی کردی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق فرانس کے وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کی گئی ریڈ لسٹ ممالک کی فہرست سے پاکستان کو نکال کر اورینج لسٹ میں شامل کر لیا ہے جس کے بعد سفری پابندیاں بھی نرم ہوگئیں۔

    کوروناوبا: آسٹریلیا کا 2 سال بعد فضائی اور زمینی سرحدیں کھولنے کا اعلان

    ریڈ لسٹ سے نکالے جانے کے بعد پاکستانی مسافروں کو اب فرانس آنے جانے کے لیے قرنطینہ کی ضرورت پیش نہیں آئے گی تاہم مسافروں کو فرانس کے سفر کے لیے منظور شدہ ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوانا لازمی ہو گا۔

    کورونا کے باعث بند سرحدیں جلد کھول دی جائیں گی: وزیر اعظم نے خوشخری سنا دی

    واضح رہے کہ کورونا کے باعث فرانس نے پاکستان پر پابندی عائد کرتے ہوئے ریڈ لسٹ میں شامل کر رکھا تھا فرانس نے کورونا کی صورت حال کے پیش نظر مختلف ممالک کو تین رنگوں کی درجہ بندی میں رکھا ہے، جس کے تحت پہلی سبز دوسری اورنج تیسری ریڈ زیادہ خطرے والی ہے، ان تینوں ممالک سے آنے والوں کو حکومت کی جانب سے منظور شدہ کورونا ویکسین کی دونوں خوارکیں لگوانا لازمی ہے جبکہ ریڈ لسٹ والے ممالک سے آنے والوں کو قرنطینہ اور پھر کورونا ٹیسٹ منفی آنا لازمی ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل آسٹریلیا نے کورونا وبا کے باعث سیاحوں کے لیے سرحدیں کھولنے کا اعلان کیا تھا آسٹریلیا نے آئندہ دو ہفتوں میں ویکسین کا کورس مکمل کرنے والے سیاحوں کے لیے ملکی سرحدیں کھولنے کا فیصلہ کرلیا ہےاس حوالے سے وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ آئندہ دو ہفتوں میں تعطیلات گزارنے کے لیے آنے والے تمام غیر ملکی سیاحوں کو آسٹریلیا میں خوش آمدید کہیں گے-

    امریکا:کورونا وائرس سے لوگ مررہے ہیں مگرحکومت کوکوئی پرواہ تک نہیں‌:اموات 9 لاکھ…

    آسٹریلیا نے زیرو کورونا پالیسی کے تحت ملک میں سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں اور گزشتہ دو سال سے غیر ممالک میں مقیم آسٹریلوی شہریوں کو بھی وطن واپسی کی اجازت نہیں دی گئی تھی تاہم کورونا کی نئی شکل اومی کرون کے دنیا میں غیر معمولی پھیلاؤ کے سبب وزیراعظم اسکاٹ موریسن کورونا سے متعلق اپنی زیرو کورونا پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

    اومی کرون کا خوف: سعودی عرب نے سفری پابندیاں مزید سخت کردیں

  • آصف زرداری کی طبعیت اچانک ناساز: ملنا جُلنا چھوڑدیا :     ملاقاتیں بھی منسوخ

    آصف زرداری کی طبعیت اچانک ناساز: ملنا جُلنا چھوڑدیا : ملاقاتیں بھی منسوخ

    لاہور:آصف زرداری کی طبعیت اچانک ناساز:ملنا جُلنا چھوڑدیا:ملاقاتیں بھی منسوخ،اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی طبیعت ناساز ہوگئی ہے۔اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ آصف علی زرداری سے ملنے والوں کوروک دیا گیا ہے اور دوسری طرف سیاسی ملاقاتیں بھی منسوخ کردی گئی ہیں

    ذرائع کے مطابق حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی راہ ہموار کرنے کا مشن لئے مختلف سیاسی جماعتوں سے ملاقات کرنے والے سابق صدر آصف زرداری کی طبیعت ناساز ہوگئی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ طبیعت ناسازی کے باعث ذاتی معالج نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا اور انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے، جس پر پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے اپنی تمام سیاسی مصروفیات ترک کردیں ہیں۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لئے آصف زرداری چند روز قبل سرگرم ہوئے تھے اور انہوں نے اپنا پڑاؤ پنجاب میں ڈالا ہوا تھا۔سات فروری کو آصف زرداری نے مسلم لیگ (ق) کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی تھی، آصف زرداری کی چوہدری برادران سے ملاقات دو گھنٹے جاری رہی اور ملاقات کے دو دور ہوئے۔

    اس ملاقات میں دونوں جانب سے پرانی یادیں تازہ کی گئیں جب دونوں اتحادی تھے، سابق صدر زرداری نے کہا کہ ہم جب اتحادی تھے تو پرویز الٰہی ڈپٹی وزیراعظم تھے اور ہم نے وہ وقت بڑا اچھا گزارا۔اس موقع پر پرویز الٰہی نے کہا کہ ہمیں یادہےکہ آپ کے22اورہمارے17وزیرتھے، آپ بڑےدل والےہیں۔

    پانچ فروری کو آصف زرداری نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی جانب سے دئیے گئے عشائیہ میں شرکت کی تھی، جو کہ بعد ازاں سیاسی میٹنگ میں تبدیل ہوا۔اس موقع پر آصف زرداری نے کہا کہ سینیٹ، قومی اسمبلی، پنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لائی جائے، عمران خان کو گھر بھیجنے کا بہترین راستہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد لائی جائے۔جس پر شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں مشاورت کے لیے وقت دیں آپ کی تجویز قابل عمل ہے، تسلیم کرتا ہوں تحریک عدم اعتماد پر ن لیگ آپس میں متحد نہیں تھی۔

  • "چوری دےکپڑےتےڈانگاں دے گز”قوم کےخون پسینے          کی کمائی:کرکٹ بورڈ میں لوٹ مارسُن کرغریب حواس باختہ

    "چوری دےکپڑےتےڈانگاں دے گز”قوم کےخون پسینے کی کمائی:کرکٹ بورڈ میں لوٹ مارسُن کرغریب حواس باختہ

    کراچی:”چوری دے کپڑے تےڈانگاں دے گز”قوم کے خون پسینے کی کمائی:کرکٹ کے میدان سے تہلکہ خیزرپورٹ آگئی ،اطلاعات کے مطابق پچھلے چند گھنٹوں سے میڈیا پر کچھ ایسی خبریں بھی آرہی ہیں جن کو دیکھ کر قوم پریشان ہے کہ کس طرح ایک ایک فرد پر سالانہ کروڑوں روپے بہائے جارہے ہیں‌، یہ خبران حلقوں کے لیے تو شاید پریشانی کا باعث نہ ہوجو اس بٹوارے میں شامل ہیں لیکن غریب عوام جو اپنے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس پر ٹیکس ادا کررہےہیں ان افسران کی تنخواہیں اور مراعات دیکھ کر حواس باختہ ہوگئے ہیں

    اس حوالے سے منطرعام پرآنے والے تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پی سی بی کے سی او او کی ’’ترقیاں‘‘ آڈٹ میں نمایاں ہو گئیں جب کہ فروری 2019 میں سینئر جنرل منیجر لیگل سے چیف آپریٹنگ آفیسر بننے پر تنخواہ میں یکمشت8 لاکھ 25 ہزار روپے کا اضافہ ہوا۔یہ حقائق اور اعدادوشمار یہ بتا رہے ہیں کہ قومی دولت کے کس طرح بٹیارے کیئے گئے ،ایک شخص کو راتوں رات اس قدر نوازنے کا آخرراز کیا ہے ،

     

     

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ میں پیش کردہ آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 5 ستمبر 2011 کو سلمان نصیر کا بطور منیجر لیگل بغیر کوئی اشتہار جاری کیے ابتدائی طور پر90 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر کنٹریکٹ ملازم کی حیثیت سے تقرر ہوا،اس کے بعد مختصر وقت کے لیے ان کی دیگر حیثیتوں میں تقرری/ ترقی ہوتی رہی۔پی سی بی ذرائع کا ہی کہنا ہے کہ یہ ترقیاں غیرقانونی تھیں جن کے لیے نہ تو کوئی قواعد وضوابط طئے تھے اور نہ اس کی پی سی بی کے آئین میں گنجائش ہے

    15 جولائی 2012 تک وہ منیجر لیگل ہی رہے،16 جولائی 2012 سے4 نومبر 2013 تک 16 ماہ تک منیجر لیگل آنری رہے، تنخواہ30 ہزارماہانہ کے اضافے سے ایک لاکھ 20 ہزار روپے ہو گئی، 5 نومبر 2013 سے3 مارچ 2015 تک80ہزار تنخواہ بڑھنے سے وہ بطور منیجر لیگل16 ماہ تک2 لاکھ ماہانہ وصول کرتے رہے، پھر ان کے عہدے میں سینئر اور چیک پر35 ہزار ماہانہ کا اضافہ ہوا۔
    سینئر منیجر لیگل کی حیثیت سے سلمان نصیر نے 4 مارچ 2015 سے7 مارچ 2016 کے درمیان 12 ماہ تک ماہانہ 2 لاکھ 35 ہزار روپے لیے،پھر تنخواہ تو 15 ہزار بڑھی لیکن وہ جنرل منیجر لیگل بن گئے،8 مارچ 2016 سے یکم جولائی 2018 تک28ماہ تک انھیں ہر ماہ ڈھائی لاکھ روپے دیے جاتے رہے،پھر عہدے میں سینئر اور تنخواہ میں 25 ہزار کا اضافہ ہوا، بطور سینئر جنرل منیجر وہ یکم جولائی 2018 سے 11 فروری 2019 تک 7 ماہ تک 2 لاکھ 75 ہزارروپے ماہانہ پاتے رہے۔

    اس کے بعد سلمان نصیر کی قسمت نے پلٹا کھایا اور انھیں 12 فروری 2019 کو چیف آپریٹنگ آفیسر بنا دیا گیا، تنخواہ میں یکمشت8 لاکھ 25 ہزار روپے کا اضافہ ہوا اور وہ 2 لاکھ 75 ہزار سے 11 لاکھ روپے ماہانہ ہو گئی۔

    آڈٹ رپورٹ کے مطابق اپنے دور ملازمت میں سلمان30 جولائی 2021 تک3 کروڑ 64 لاکھ 65 ہزارروپے وصول کر چکے ہیں،دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تو ان کی تنخواہ مزید اضافے سے 12 لاکھ 45 ہزار روپے ماہانہ ہو چکی۔

    رپورٹ کے مطابق انھیں ملازمت پررکھنے سے قبل اخبار میں کوئی اشتہار دیا گیا نہ ہی کم از کم تعلیمی قابلیت، تجربے اور عمر کا خیال رکھا گیا،سلمان نصیر کو مختصر وقت میں بغیر کسی توجہیہ پیش کیے ہائیر اسکیل کی پوسٹس پر تعینات کیا جاتا رہا۔

    آڈٹ رپورٹ میں لکھا گیاکہ بغیر اشتہار سلمان نصیر کی بطور منیجر لیگل تقرری، معاہدے کے دور میں بار بار پروموشنز،ایک سال میں اعلیٰ عہدے پرتقرر بے قاعدہ،غیرمجاذ اور پی سی بی قوانین کی خلاف ورزی ہے، بغیر کوئی اشتہار دیے ان کی بطور چیف آپریٹنگ آفیسر تعیناتی بھی خلاف ضابطہ ہے۔

    12 جنوری 2021 کو منعقدہ اجلاس میں ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (ڈے اے سی) نے مینجمنٹ کو معاملے کی تحقیقات،ذمہ داری کے تعین اور رپورٹ آڈٹ کے ساتھ شئیر کرنے کا بھی کہا تھا۔

    دوسری طرف یہ خطرناک اور تہلکہ خیز انکشافات سامنے آنے پر عوام الناس میں شدید غم وغصہ پایا جارہاہے ، عوام الناس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کرٹیکس دے رہے ہیں اور کرکٹ بورڈ اس قدر عیاش ہےکہ بورڈ کےسب افراد ملکر قومی دولت کے بٹوارے کررہےہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک کے غریبوں پرشاید لکھ دیاگیا ہے کہ وہ دن رات محنت کریں اور ان کی کمائی پرکرکٹ بورڈ عیاشی کرے

  • مودی کا میڈیا پرسخت شکنجہ

    مودی کا میڈیا پرسخت شکنجہ

    نئی دہلی :سب سے پہلےہندوستان:مودی نے میڈیا پرشکنجہ کس دیا:اب کون کرے گا مودی کی مذمت:شریف برادران یا قوم کا ہمدرد میڈیا ،مصدقہ اطلاعات ہیں کہ بھارتی میڈیا کے مطابق مودی حکومت نے صحافیوں کی ایکریڈیٹیشن کے حوالے سے ایک نئی اور سخت پالیسی بنائی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی صحافی کا رویہ بھارت کی خود مختاری اور سالمیت کے منافی ہو یا اس کی تحریروں سے سکیورٹی، دیگر ملکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات، امن عامہ، اخلاقیات یا شائستگی کو نقصان پہنچتا ہو، یا وہ توہین عدالت، کسی کی توہین یا جرم کو بھڑکانے کا سبب بنتی ہوں، توایسے صحافی ایکریڈیٹیشن سے محروم کر دیا جائے گا ۔

    حکومت نے دس ایسے نکات بتائے ہیں، جن کی بنیاد پر صحافیوں کی ایکریڈیٹیشن معطل کی جاسکتی ہے۔ ان میں کسی صحافی پر ”سنگین قابل سزا جرم” کا الزام عائد کیا جانا بھی شامل ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صحافیوں کے لیے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس یا وزیٹنگ کارڈز وغیرہ پر ‘بھارتی حکومت سے تسلیم شدہ’ لکھنا بھی ممنوع ہو گا۔ ماضی میں کسی صحافی کی ایکریڈیٹیشن کے وقت ایسی کوئی شرط عائد نہیں کی جاتی تھی۔

    نئی شرائط کا مقصد صحافیوں پر کنٹرول

    ایکریڈیٹڈ صحافیوں کو وفاقی حکومت کے تقریباً تمام سرکاری محکموں اور دفاتر تک آسانی سے رسائی حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کارڈ کی بدولت انہیں اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرنے میں بھی آسانی ہوتی ہے۔ بھارتی صدر اور وزیر اعظم کے بعض پروگرامو ں میں شرکت کے لیے بھی یہ ‘پریس کارڈ’ ضروری ہوتا ہے۔ اسے عرف عام میں ‘پی آئی بی کارڈ’ کہا جاتا ہے۔

    صحافیوں کی تنظیموں نے پی آئی بی کارڈ کے لیے نئے ضابطوں کے اعلان پر سخت تنقید کی ہے اور حکومتی طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا کے سیکرٹری سنجے کپور نے کہاکہ یہ ایک غیر معمولی فیصلہ ہے اور حکومت نے یہ فیصلہ کرنے سے قبل صحافیوں کی کسی تنظیم سے کوئی مشورہ نہیں کیا۔

    ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا کے سیکرٹری سنجے کپور اور بھارتی صحافی اور پریس کلب آف انڈیا کے صدر اوما کانت لکھیڑا بھی سنجے کپور کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ دراصل حکومتی پالیسیوں سے اختلاف کرنے والے صحافیوں کو الگ تھلگ کر دینے کی کوشش ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اب کون مودی کی ان حرکتوں پر مودی کی مذمت کرے گا صحافیوں کے پیشے کا امتحان ہے

    بھارتی پریس قوانین کے مطابق کسی صحافی کو پی آئی بی کارڈ جاری کرنے سے قبل ایک کمیٹی اس کے جملہ کوائف کا جائزہ لیتی ہے، اس کے بعد پولیس کی خفیہ شاخ اس صحافی سے متعلق رپورٹ دیتی ہے اور کئی مراحل کی تکمیل کے بعد ہی یہ کارڈ جاری کیا جاتا ہے۔ صحافیوں کی تنظیموں نے اس پر بھی اعتراض کیا ہے کہ جو نئی کمیٹی بنائی گئی ہے، اس میں سرکاری عہدیداروں کی تعداد غیر ضروری حد تک بڑھا دی گئی ہے۔

    پی آئی بی ایکریڈیٹڈ صحافیوں کی تنظیم پریس ایسوسی ایشن آف انڈیا کے صدر سی کے نائیک نے ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا کہ پہلے کمیٹی میں زیادہ سے زیادہ 12سرکاری عہدیدار ہوا کرتے تھے، لیکن اب ان کی تعداد بڑھا کر 18 کر دی گئی ہے جب کہ میڈیا اداروں سے وابستہ ارکان کی تعداد 12سے گھٹا کر چھ کر دی گئی ہے۔

    پریس کلب آف انڈیا کے صدر اوما کانت کا کہنا تھا کہ میڈیا اداروں کے نمائندے اب اقلیت میں ہو گئے ہیں اور چونکہ ایکریڈیٹیشن کا کوئی بھی فیصلہ اکثریتی رائے سے ہوتا ہے، اس لیے اب حکومت اپنی من مانی کر سکتی ہے۔

    سنجے کپور کہتے ہیں کہ یہ واضح طور پر پریس کی آزادی پر حملہ ہے، ”یوں بھی اس وقت بھارت میں پریس کی آزادی کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے۔ حکومت نے پریس کی آزادی کے حوالے سے اپنے بیانیے گڑھ لیے ہیں۔ اب حکومت ہی طے کرتی ہے کہ پریس فریڈم کیا ہے؟ اس کا پریس کی آزادی کے حوالے سے مسلمہ عالمی اصولوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔”

    رپورٹرز وِدآوٹ بارڈرز کے سالانہ پریس فریڈم انڈکس کے مطابق بھارت پریس کی آزادی کی رینکنگ کے لحاظ سے نیپال، سری لنکا اور میانمار (فوجی انقلاب سے قبل) سے بھی نیچے اور پاکستان (145ویں مقام پر) سے کچھ ہی آگے ہے۔ بھارت گزشتہ برس دو درجے مزید نیچے گر کر180ملکوں کی فہرست میں 142ویں پوزیشن پر آ گیا تھا۔ اس انڈکس کے مطابق بھارت دنیا میں صحافیوں کے لیے انتہائی خطرناک مقامات میں سے ایک ہے۔

    مودی حکومت تاہم اس رپورٹ کو تسلیم نہیں کرتی۔ وزیر اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر نے اس رپورٹ کے حوالے سے پارلیمان میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بھارت تمام شہریوں بشمول صحافیوں کی سلامتی اور تحفظ کو ‘انتہائی اہمیت’ دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کی تیاری کا طریقہ کار درست نہیں اور اس میں بنیادی حقائق کا خیال نہیں رکھا گیا۔

    پی آئی بی کارڈ کیا ہے؟

    بھارت میں حکومتی پالیسیوں، پروگراموں اور معلومات کی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تک ترسیل کا کام اطلاعات و نشریات کی وزارت کے ماتحت ادارے پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) کے ذمے ہے۔ یہ ادارہ روزناموں، ہفت روزہ یا پندرہ روزہ میگزینز، خبر رساں اداروں، غیر ملکی نیوز اداروں، ٹی وی چینلوں، نیوز ایجنسیوں اور بھارتی ٹی وی نیوز چینلوں میں کام کرنے والے صحافیوں کو ان کے اداروں کی جسامت کی بنیاد پر پی آئی بی کارڈ یا ایکریڈیٹیشن کارڈ جاری کرتا ہے۔

    ایسے میڈیا اداروں کے علاوہ یہ کارڈ ایسے صحافیوں کو بھی جاری کیا جا سکتا ہے، جنہیں کم از کم 15برس تک صحافت کا تجربہ ہو۔ 30 برس سے زیادہ تجربہ رکھنے والے یا 65 برس سے زائد عمر کے صحافیوں کو بھی ان کی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے پی آئی بی کارڈ جاری کیا جاتا ہے۔

    بھارت میں اس وقت تقریباً ڈھائی ہزار صحافیوں کے پاس یہ کارڈ ہے لیکن ان میں ایک بڑی تعداد مختلف وزارتوں کے ان سرکاری اہلکاروں کی بھی ہے، جو میڈیا سے رابطوں کے شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ صحافیوں کی تنظیموں نے پی آئی بی ایکریڈیٹیشن کے حوالے سے حکومت کی نئی پالیسی کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

  • پاکستان میں کورونا کیسزاور اموات میں اضافہ

    پاکستان میں کورونا کیسزاور اموات میں اضافہ

    پاکستان میں عالمی وبا کورونا وائرس سے مزید 50 افراد جاں بحق ہو گئے-

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 51 ہزار 749 کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید 4 ہزار 253 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    کورونا سے مزید 37 افراد جاں بحق ،مثبت کیسز میں کمی

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک بھر میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 14 لاکھ 70 ہزار 163 جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 29 ہزار 603 ہو گئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 8.2 فیصد پر پہنچ گئی۔

    این سی او سی نے پی ایس ایل کے شائقین کو بڑی خوشخبری سنا دی

    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 5 لاکھ 54 ہزار 012، خیبر پختونخوا میں 2 لاکھ 5 ہزار 505، پنجاب میں 4 لاکھ 91 ہزار 518، اسلام آباد میں ایک لاکھ 32 ہزار 161، بلوچستان میں 34 ہزار 910، آزاد کشمیر میں 41 ہزار 068اور گلگت بلتستان میں 10 ہزار 987 ہو گئی ہے۔

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 13 ہزار 285 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 7 ہزار 927، خیبر پختونخوا 6 ہزار 076، اسلام آباد 990، گلگت بلتستان 189، بلوچستان میں 370 اور آزاد کشمیر میں 764 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    ادھر دنیا بھر میں عالمی وبا کورونا کے وار جاری ہیں دنیا بھر میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 40 کروڑ سے بڑھ گئی کورونا کے نئے ویرینٹ اومی کرون کے سامنے آنے کے بعد سے دنیا بھر میں کورونا کیسزمیں تیزی سے اضافہ ہوا امریکہ میں کورونا کیسز کی تعداد 7 کروڑ85 لاکھ سے زائد ہوگئی۔

    کوروناوبا: آسٹریلیا کا 2 سال بعد فضائی اور زمینی سرحدیں کھولنے کا اعلان

    بھارت میں مجموعی تعداد 4کروڑ24لاکھ ،برازیل میں 2 کروڑ 66 لاکھ سے زائد ہے۔ فرانس میں کیسز کی تعداد 2 کروڑ،برطانیہ میں ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد ہوگئی روس میں کوویڈ 19 سے متاثرہ افرا د کی تعداد ایک کروڑ32 لاکھ اور ترکی میں ایک کروڑ 24 لاکھ سے زائد ہے۔

    اومی کرون کا خوف: سعودی عرب نے سفری پابندیاں مزید سخت کردیں