Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • ڈی جی پی آر آفیسر ایسوسی ایشن کا صحافت کے فروغ کے لیےکردار اہم ہے:وزیراعلیٰ بلوچستان

    ڈی جی پی آر آفیسر ایسوسی ایشن کا صحافت کے فروغ کے لیےکردار اہم ہے:وزیراعلیٰ بلوچستان

    کویٹہ :وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی ڈی جی پی آر آفیسرز ایسوسی ایشن کےانتخابات میں کامیابی پر پھول پینل کو مبارکباد دی ہے

    وزیر اعلی نے نو منتخب صدر عنایت الرحمن اور جنرل سیکریٹری جعفر شاہکے لیے نیک خواہشات کا اظہارکیا ہےامید ہے آفیسرز ایسوسی ایشن کی نئی کابینہ آفیسرز کی فلاح و بہبوداور محکمے کے وقار کی بلندی کے لئےاپنی تمام صلاحتیں بروئے کار لائے گی ۔۔

    وزیراعلی بلوچستان کے مطابق یہ امر خوش آئند ہے کہ جمہوری روایت کے تحت محکمہ میں باقاعدگی سےانتخابات ہوتے ہیں۔جیتنے اور ہارنے والے سب مل جل کر صحافیوں کی فلاح و بہبود اور ذرائع ابلاغ کی ترقی میں اپنا کردار اداکریں ۔

    انہوں نےامید ظاہر کی کہ نومنتخب عہدیداران اپنے ووٹرز کے اعتماد پر پورا اترتے ہوۓ انکے مسائل کے حل میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

    اس سے قبل منگل کو محکمہ تعلقات عامہ (ڈی جی پی آر ) آفیسر ایسوسی ایشن کےانتخابات ہوے جس میں پھول پینل کے صدر عنایت الرحمان ،جنرل سیکرٹری سید جعفر شاہ41 ووٹ لیکر کامیابہوے۔

    الیکشن کمیشن کے نتائج کے مطابق قلم پینل کے صدر عبدالباری مندوخیل،سعید یوسف، نے 33 دوسرے نمبرپرر ہے۔

    انتخابی کمیشن نے بتایا کل ووٹوں کی تعداد 74 تھی جن میں 1ووٹ کو کینسل کر دیا گیا۔اس طرح ووٹوں کا ٹرن آؤٹ 96 فصید رہا ۔

    ڈائریکٹر جنرل محکمہ تعلقات عامہ بلوچستان اورنگزیب کا سی نے ڈی جی پی آر آفیسرز ایسوسی ایشن کےانتخابات میں کامیابی پر پھول پینل کے امیدواروں کو مبارکباد پیش کی ہے

    ڈائریکٹر جنرل تعلقات عامہ نے انتخابات کے احسن طریقے سے انعقاد پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے

    کہ پھول پینل کے منتخب صدر عنایت الرحمن اور جنرل سیکرٹری سید جعفر شاہ دفتر کے بہتر مفاد میں اسوسی ایشن کے ذریعے افسران کی فلاح و بہبود میں بھرپور کردار ادا کریں گے

    انہوں نے کہا کہ محکمہ صوبائی مشینری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہےجن کے افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں اظہر من الشمس ہیں نو منتخب صدر اور جنرل سیکرٹری تجربہ کار اور دفتری امور سے بخوبی آگاہ ہیں

    امید ہے کہ وہ دفتر کے ورکنگ میکنیزم کی مزید بہتری کے لیے اپنی صلاحیت بروئے کار لائیں گے۔

  • امت کے ملازمین کو واجبات کی ادائیگی کا مسئلہ ایک ہفتے میں حل کیا جائے، کے یو جے

    امت کے ملازمین کو واجبات کی ادائیگی کا مسئلہ ایک ہفتے میں حل کیا جائے، کے یو جے

    کراچی:امت کے ملازمین کو واجبات کی ادائیگی کا مسئلہ ایک ہفتے میں حل کیا جائے، کے یو جے،اطلاعات کے مطابق کراچی یونین آف جرنلسٹس نے روزنامہ امت میں ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کے سلسلے میں رفیق افغان مرحوم کی وصیت پر عملدرآمد میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور روزنامہ امت کے مالکان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر وصیت کے مطابق ملازمین کے واجبات ادا کریں اس سلسلے میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی کے یو جے نے روزنامہ امت سے وابستہ دو سینئر صحافیوں کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم کو درخواست دیئے جانے کی بھی سخت الفاظ میں شدید مذمت کی ہے اور درخواست فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کراچی یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی کی سربراہی میں کے یو جے کے ایک وفد نے روزنامہ امت میں واجبات کی ادائیگی میں تاخیر اور سینئر صحافیوں کو ہراساں کیے جانے کے معاملے پر روزنامہ امت کے دفتر کا دورہ کیا اور میڈیا ورکرز اور انتظامیہ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی جبکہ امت کے ڈائریکٹر ناصر افغان سے بھی معاملے پر فون پر بات کی گئی۔ وفد میں نائب صدر جاوید قریشی، سینئر جوائںٹ سیکرٹری یونس آفریدی اور کے یو جے کے سابق جنرل سیکریٹری احمد خان ملک شامل تھے۔ وفد سے ملاقات میں رفیق افغان مرحوم کے صاحبزادے علی حمزہ نے بتایا کہ رفیق افغان کی وصیت کے مطابق ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کے لیے راولپنڈی میں واقع پلاٹ کا سودا ہوگیا ہے اور اس کی ڈاون پیمنٹ کا پے آرڈر بھی بن کر آگیا تھا تاہم بعض معاملات کی وجہ سے وہ دوبارہ بنوایا جارہا ہے اور یہ معاملہ جلد حل ہوجائے گا۔

    وفد نے انہیں بتایا کہ کے یو جے اس بات سے واقف ہے کہ اس معاملے میں خاندانی اختلافات کی وجہ سے تاخیر ہورہی ہے حالانکہ اس بات پر اتفاق ہوچکا تھا کہ پلاٹ کے فروخت کی رقم روزنامہ امت کے سینئر کارکن کے اکاونٹ میں منگوائی جائے گی اور وہیں سے تمام ملازمین میں تقسیم ہوگی لیکن غیرضروری طور پر اب اس معاملےکو طول دیا جارہا ہے اور ایک دفعہ پھر اکانٹ تبدیل کرنے کی باتیں ہورہی ہیں۔ وفد نے واضح کیا کہ یہ تاخیری حربے کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہیں یہ معاملہ انتظامیہ اور ملازمین کے درمیان طے پاجانے والے فارمولے کے تحت ہی جلد از جلد حل کیا جائے۔ کے یو جے کے جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی نے اس معاملے پر امت کے ڈائریکٹر ناصر افغان سے بھی فون پر رابطہ کیا اور ان سے بھی معاملہ فوری طور پر حل کرنے کا مطالبہ کیا۔

    فہیم صدیقی نے ناصر افغان پر واضح کیا کہ کے یو جے کو رفیق افغان کے خاندانی تنازعات سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ کے یو جے صرف رفیق افغان کی وصیت کے مطابق روزنامہ امت کے ملازمین کے واجبات کی فوری ادائیگی چاہتی ہے اور اس میں مزید تاخیر پر وہ سخت اقدامات کرسکتی ہے۔ ناصر افغان نے بھی معاملے کے حل کی یقین دہانی کرائی ناصر افغان نے جنرل سیکریٹری کے یو جے کو بتایا کہ روزنامہ امت کے ملازمین کو ایک ہفتے میں ان کے واجبات ادا کردیئے جائیں گے۔ کے یو جے نے روزنامہ امت کے مالکان پر واضح کردیا ہے کہ اگر اس معاملے میں مزید تاخیر کی گئی تو ناصرف روزنامہ امت کے دفتر بلکہ مالکان کے گھروں کا بھی گھیراو کیا جائے گا۔

    علی حمزہ افغان سے ملاقات میں کے یو جے کے وفد نے امت کے ملازمین کی تنخواہوں میں کی گئی کٹوتی بحال کرنے بھی مطالبہ کیا واضح رہے کہ امت کے ملازمین دو سال سے بھی زائد عرصے سے آدھی تنخواہ پر کام کررہے ہیں۔ دریں اثنا کراچی یونین آف جرنلسٹس نے روزنامہ امت سے وابستہ دو سینئر صحافیوں کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم کو دی گئی درخواست پر بھی شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے ملازمین کو ہراساں کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس نے ناصر افغان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس درخواست کو واپس لیں اور ملازمین کو ہراساں کرنے کے اقدامات سے گریز کریں۔ کے یو جے نے روزنامہ امت کے کارکنوں کو یقین دلایا ہے کہ وہ ان کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھے گی۔

  • میرے نوجوانوں مسئلہ کشمیرکوعالمی فورم پراٹھانے کے لیے آگے آئیں:مشاید حسین سید

    میرے نوجوانوں مسئلہ کشمیرکوعالمی فورم پراٹھانے کے لیے آگے آئیں:مشاید حسین سید

    اسلام آباد:میرے نوجوانوں مسئلہ کشمیرکوعالمی فورم پراٹھانے کے لیے آگے آئیں:مشاید حسین سید کا کشمیر ایک انسانی المیہ ہے کے ویبنار سے خطاب،اطلاعات کے مطابق کشمیر یوتھ الائنس اور ملٹی اومکس کے تعاون سے اسلام آباد میں ایک ویبنار کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان کے معروف سیاسی رہنما اور سینیٹرمشاہد حسین سید نے مرکزی خطاب کیا

    کشمیر یوتھ الائنس اور ملٹی اومکس کے تعاون سے منعقد ہونے والے اس ویبنار میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ میرے وطن کے جوانوں پر اب یہ ذمہ داری ہے آگئی ہے کہ وہ جید وسائل کے ساتھ اپنی کوششوں اور توانائیوں‌کو بروئے کار لاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو عالمی فورم پر اجاگر کریں اور کشمیریوں کو جلد از جلد بھارتی کی غلامی سے نجات دلائیں

    اس موقع پر سینیٹر مشاہد حسین سید نے کشمیریوتھ الائنس کی جدوجہد کی تعریف بھی کی اور کشمیریوں کےلیے آواز بلند کرنے پرخراج تحسین پیش کیا

    کشمیر ایک انسانی المیہ ہے کہ نام سے منعقد ویبنار سے کشمیر یوتھ الائنس کے سینیئر نائب صدر طہٰ منیب نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی تحریک میں اہل پاکستان کو پہلے سے زیادہ بھرپور اندازسے مدد کرنی چاہیے اور ہر فورم پرکشمیریوں‌ کے لیے آواز بھی بلند کرنی چاہیے ، طہٰ منیب نے اس موقع پر کہا کہ حکومت وقت کو چاہیے کہ اب وہ کشمیریوں کی آزادی کےلیے عملی اقدامات کرے باتوں سے نکل کر اب میدان عمل میں آئے تاکہ کشمیریوں کو بھی یہ احساس ہو کہ پاکستان نے ان کے لیے فیصلہ کُن کردار ادا کرنے کی ٹھان لی ہے

    کشمیر کے حوالے سے منعقد اس ویبنار میں کشمیر یوتھ الائنس کے صدر سید مجاہد گیلانی نے بھی شرکت کی اور گفتگو کرتے ہوئے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اس پروگرام کو منظم کرنے والے دو نوجوان رہنما جن میں ایک انعم امیتاز اور دوسرے محمد اختر ہیں جن کو بطور ماڈیٹرز کے خدمات سرانجام دینے اور کشمیریوں کے لیے یہ ویبنار منقعد کرنے پر خراج تحیسن بھی پیش کیا اور ان کا شکریہ بھی ادا کیا

    اس موقع پر سید مجاہد گیلانی نے اس امید کا اظہار کیا کہ ہمارے نوجوان اہل کشمیر کے لیے اپنا تن من دھن قربان کرنے والے ہیں اور انہیں بھرپور امید ہےکہ یہی نوجوان دنیا بھر میں کشمیریوں کی آواز بن کران کی آزادی کےلیے جدوجہد کریں گے اور ایک دن آئے گا جب اس جدوجہد کے نتیجے میں اہل کشمیر بھارت کی غلامی سےنکل کر ایک آزاد انسان کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر زندگی گزار سکیں گے

  • مودی یاد رکھ حجاب مسلمان خواتین کا حق ہے:با حجاب طالبات پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں :فواد چوہدری

    مودی یاد رکھ حجاب مسلمان خواتین کا حق ہے:با حجاب طالبات پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں :فواد چوہدری

    اسلام آباد: مودی یاد رکھ حجاب مسلمان خواتین کا حق ہے:با حجاب طالبات پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں :اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ بھارت کا معاشرہ غیر مستحکم قیادت میں تیزی کے ساتھ زوال کی طرف جا رہا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھارتی ریاست کرناٹک میں مسلمان طالبات کے حجاب پہننے پر ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

     

     

     

    فواد چوہدری نے مودی کی انتہا پسندانہ سوچ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کے بھارت میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ خوفناک ہے، حجاب پہننا کسی بھی دوسرے لباس کی طرح ذاتی پسند ہے۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کو حجاب کے انتخاب میں آزادی ہونی چاہیے۔

    فواد چوہدری نے بھارتی حکومت کو خبردار کرتےہوئے کہا ہےکہ مسلمان خواتین کے خلاف نفرت پھیلانے کو اس قسم کی گھٹیا حرکتوں سے باز رہنا چاہیے پاکستان اپنے مسلمان بہن بھائیوں‌ پرہونے والے مظالم کی مذمت کرتا ہے اور اس قسم کی انتہا پسندی کو کبھی بھی قبول نہیں کرے گا

    یاد رہے کہ آج بھارتی ریاست کرناٹک میں ہندو انتہا پسندوں نے باحجاب طالبات پر زندگی تنگ کردی ۔

    کرناٹک میں سڑک سے گزرتی اکیلی طالبہ کو زعفرانی رنگ کے مفلر پہنے انتہا پسندوں کی جانب سے تنگ کرنے کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہورہی ہے۔

     

     

    کالج جانے والی طالبہ کو انتہا پسندوں نے ڈرایا دھمکایا لیکن طالبہ نے بھی ڈٹ کر ہراساں کرنے والوں کا مقابلہ کیا۔

    نہتی مسلمان لڑکی ہندو انتہا پسندوں کے سامنے ڈٹ گئی، ویڈیو میں کالج میں ایک لڑکی کو جے شری رام کا نعرہ لگانے والے ہجوم کی طرف سے ہراساں کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ہجوم میں شامل لوگ آگے بڑھے اور لڑکی کے سامنے ’جے شری رام‘ کے نعرے لگائے، لڑکی نے اس دوران مشتل ہجوم سے ڈرنے کے بجائے ان کا بھرپور مقابلہ کیا اور اونچی آواز میں ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگایا۔

  • بھارتی تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی،ملالہ نے ہندووں کی مذمت کی بجائے حمایت کردی

    بھارتی تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی،ملالہ نے ہندووں کی مذمت کی بجائے حمایت کردی

    لندن :بھارتی تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی، ملالہ نےہندووں کی مذمت کی بجائے حمایت کردی ،اطلاعات کے مطابق امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی پاکستانی طالبہ اور سماجی کارکن ملالہ یوسف زئی کا بھارتی ریاست کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے معاملے پر ردعمل سامنے آگیا۔

    اپنی ٹوئٹ میں ملالہ کا کہنا تھاکہ حجاب والی لڑکیوں کو اسکول میں داخل ہونے سے روکنا خوفناک ہے۔ملالہ نے یہ تو بیان دے دیا لیکن ان انتہا پسند ہندووں کی مذمت نہیں کی جنہوں نے اس مسلمان طالنبہ کے ساتھ بدتیمزی کی، حالانکہ ان انتہا پسند ہندووں کی مذمت کا سلسلہ دنیا بھر سے جاری ہے

     

     

    ان کا کہنا تھا کہ کم یا زیادہ لباس پہننے کے معاملے میں خواتین پر اعتراضات برقرار ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارتی رہنما مسلم خواتین کو مرکزی دھارے سے الگ کرنے کے عمل کوروکیں۔
    ملالہ یوسف زئی نے اسلامی تشخص کی حفاظت کی بجائے الٹا یہ مشورہ دیا ہے کہ بھارتی رہنما مسلم خواتین کو مرکزی دھارے سے الگ نہ کریں اس سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ ملالہ بھارتی رہنماوں سے اس بات کا تقاضا کررہی ہیں کہ قومی دھارے میں رہنے کےلیے مجموعی سوچ کا اپنانا ہوگا

    یہاں ملالہ قومی دھارے سے الگ نہ رہنے کے حوالے سے یہ بھی بتانا چاہتی ہیں کہ مسلمان طالبات کو بھارت میں رہتے ہوئے قومی دھارے میں رہنے کے لیے ایسے کاموں سے دور رہنا چاہیے جس سے کوئی تفریق پیدا ہوتی ہو، سوشل میڈیا پر صارفین نے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ مسلمان طالبات سے دوبٹہ اور حجاب بھی چھیننا چاہتی ہیں

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں بھارتی ریاست کرناٹک میں لڑکیوں کے ایک سرکاری کالج میں 6 مسلم طالبات کو حجاب پہننے کی وجہ سے کلاس سے باہر نکال دیا گیا تھا۔یہ کیس مقامی ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے۔

    آج بھی کرناٹک کے کالج جانے والی باحجاب طالبہ کو انتہاپسند طلبہ کے جتھے نے ہراساں کیا۔تاہم طالبہ نے بھی ڈٹ کر ہراساں کرنے والوں کا مقابلہ کیا اور اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیل گئی۔

    دوسری طرف جمعیت علماء ہند نے بھارتی ریاست کرناٹک کے کالج میں انتہا پسند جتھے کے سامنے ڈٹ جانیوالی طالبہ مسکان خان کیلئے انعام کا اعلان کردیا۔

    بھارتی ریاست کرناٹک میں ہندو انتہا پسندوں نے باحجاب طالبات پر زندگی تنگ کردی۔کرناٹک میں کالج جانے والی طالبہ کو انتہا پسندوں نے ڈرایا دھمکایا لیکن طالبہ نے بھی ڈٹ کر ہراساں کرنے والوں کا مقابلہ کیا۔

  • فیصل آباد : شہباز گل بازار آئے تو شیر شیر گو  نیازی گو کے نعرے لگ گئے

    فیصل آباد : شہباز گل بازار آئے تو شیر شیر گو نیازی گو کے نعرے لگ گئے

    فیصل آباد : شہباز گل بازار آئے تو شیر شیر گو نیازی گو کے نعرے لگ گئے،اطلاعات کے مطابق آج وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹرشہبازگل جب فیصل آباد تشریف لائے تو بازار سے گزرتے ہوئے چند ن لیگیوں نے شیر شیر گو نیازی گو کے نعرے لگا دیئے جسے سوشل میڈیا پر وائرل کردیا گیا

    اس حوالے سے فیصل آباد سے آنے والی اطلاعات کے مطابق آج وزیراعظم کے معاون خصوصی جب شہر میں داخل ہوئے اور ضلع کونسل پہنچنے کے لیے گزررہے تھے تو چند نونیوں نے اس موقع پر بہت بڑے جلوس کو دیکھتے ہوئے شیر شیر گو نیازی گو کے نعرے لگانے شروع کردیئے ، اس موقع پر وہاں موجود لوگ ان نعروں سے مہموز ہوتے رہے

    یاد رہے کہ آج وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ وترجمان ڈاکٹر شہباز گل نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان بدھ کو فیصل آباد کر ڈویژن بھر کے ہرگھرانے کو ہیلتھ کارڈ کی فراہمی کا آغاز کریں گے۔

    ضلع کونسل فیصل آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہاکہ شہبازشریف اور شریف خاندان کے دیگر افراد نے ملک مقصود چپڑاسی، جسکی تنخواہ 9ہزارروپے تھی، کے اکاؤنٹس میں 4،4ارب روپے ڈالے لیکن رقم صرف ایک آدھ دن کیلئے تھی لیکن جب اسی ملک مقصود چپڑاسی کے گھر میں بیماری آجاتی تو وہ بہو کا زیور، بھینس، مکان یادیگر اثاثے بیچ کر یا ادھار لے کر اپنا علاج کرواتا اور اس جیسے لوگوں کو دوہری پریشانی لاحق ہوتی، ایک یہ کہ اس کے گھر میں بیماری آجاتی اور دوسرا یہ کہ وہ بیماری کے علاج کیلئے اخراجات کہاں سے لائے لیکن عمران خان نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہرشہری کا ہاتھ پکڑا اور اسے 10لاکھ روپے تک سالانہ مفت علاج کی سہولت فراہم کرنے کیلئے ہیلتھ کارڈ کا اجرا کیا۔

    انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ کرپشن کے خلاف آواز بلند کی اور عملی اقدامات اٹھائے جبکہ ملک میں دونہیں ایک نظام پاکستان تحریک انصاف کا منشور تھا جس کے باعث جہاں ماضی میں چور ڈاکو اور سیاسی لبادے میں موجود صاحب اقتدار لوگ ملکی خزانہ لوٹتے رہے اس کے برعکس اب ملک میں کسی وزیر،مشیر یا بیوروکریٹ کو کرپشن کی جرات نہیں ہوسکتی کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ اسلام آباد میں 6فٹ کا عمران خان نامی انتہائی ایماندار ودیانتدار وزیراعظم ڈنڈا پکڑ کر بیٹھا ہو اہے لہٰذا اگر کسی نے کرپشن کی جرات کی تو یہ ڈنڈا اس کے گٹوں پر آئے گا۔

    انہوں نے کہاکہ پہلے ملک پر 30سال تک دوٹبروں نے حکومت کی جو ملک میں اپنا علاج کروانا تو دور کی بات ، وہ ٹیسٹ کروانے کیلئے بھی امریکہ اور برطانیہ جاتے تھے جہاں سے ان کی جھوٹی سچی رپورٹیں بنتی تھیں نیز ان کی دیکھا دیکھی صف اول کے بعد صف دوم اور صف سوم میں شامل رانا ثنا اللہ اور عابد شیر علی جیسے لوگ بھی جنہوں نے اپنے آقاؤں کی دیکھا دیکھی مال بنایا وہ بھی اپنے علاج کیلئے باہر جانا شروع ہوگئے حالانکہ ان کی مشینری کا باہر علاج ہوہی نہیں سکتا۔

    انہوں نے کہاکہ ان لوگوں نے لوٹ لوٹ کر ملک میں تباہی مچا دی اور ایسا نظام بنایا کہ جس میں ٹاٹ والے سکولوں میں پڑھنے والے بچے بیکن ہاؤس کے بچوں کا مقابلہ نہ کرپاتے کیونکہ وہ کوئی اور ہی دنیا لگتی تھی لہٰذا وہ نوکری کا بھی نہیں سوچ سکتے تھے اس طرح امیر کا بچہ آگے جاتا اور غریب کا بچہ وہیں رلتارہ جاتا۔

    انہوں نے کہاکہ ہمیں مہنگائی کا بے حد احساس ہے لیکن جب عالمی منڈی میں پٹرول 40سے90ڈالر، کوکنگ آئل 900سے 1600ڈالر اور کوئلہ 50 سے150ڈالر فی ٹن تک چلاجائے تو اس سے ہرملک متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ مہنگائی کی لہر سے امریکا، روس، جاپان، ترکی، چین سمیت سب ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک پریشان ہیں لیکن عمران خان نے یہاں راشن کارڈ،کسان کارڈ، لیبرسوشل سیکورٹی کارڈ،ہیلتھ کارڈ متعارف کروایا اسی طرح احساس پروگرام بھی جاری ہے جبکہ طلبا وطالبات کیلئے کروڑوں روپے کے وظائف اور نوجوانوں کیلئے اربوں روپے کے قرضے جبکہ بے گھر افراد کو گھروں کی تعمیر کیلئے بھی معاونت کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔

    انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان بدھ کو فیصل آباد کر ڈویژن بھر کے ہرگھرانے کو ہیلتھ کارڈ کی فراہمی کا آغاز کریں گے جس کے باعث اب کوئی بچی یا کوئی شخص سسک سسک کر لاعلاج نہیں مرے گا۔ آج سے پہلے ملک میں اس انداز میں غریب کی خدمت نہیں کی گئی جس طرح اب عمران خان کے دور میں کی جارہی ہے۔

  • پی ٹی آئی کےساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے:ایم کیوایم کااعلان،شہبازشریف کی خواہشات پرپانی پھرگیا

    پی ٹی آئی کےساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے:ایم کیوایم کااعلان،شہبازشریف کی خواہشات پرپانی پھرگیا

    لاہور:پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے:ایم کیوایم کااعلان،شہبازشریف کی خواہشات پرپانی پھرگیا ،اطلاعات کےمطابق پیڈ میڈیا کی طرف سے کچھ اس انداز سے خبریں پیش کی جارہی تھیں کہ جن سےیہ تصور دینے کی کوشش کی گئی کہ ایم کیوایم شہبازشریف کی باتوں میں آکر عمران خان سے بے وفائی کردے گی لیکن کچھ دیر پہلے ایم کیوایم نے عمران خان کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعلان کرکے جاتی امرا اور لندن والوں پر بجلی گرادی

    ادھر دوسری یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ایم کیو ایم کے بیان کے بعد شہبازشریف کی طبعیت بہت ناسازسی ہوگئی ہے ، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ شہبازشریف کو ایم کیوایم کی طرف سے کپتان کی ٹیم کا حصہ بنے رہنے کے اعلان نے بہت زیادہ مایوس کردیا ہے ،

    ادھر اس حوالے سے مزید معلوم ہوا ہےکہ اس اعلان نے پی پی اور مولانا فضل الرحمن کے خواب بھی تہس نہس کرکے رکھ دییے ہیں‌

    یاد رہےکہ ایم کیو ایم پاکستان کے وفد کی سندھ میں‌پی پی کے عوام دشمن بلدیاتی قوانین کے خلاف پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں سے ملاقاتیں جاری ہیں ، اس سلسلے میں ایم کیوایم کی پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین ، ن لیگ کے نائب صدر شہازشریف سمیت دیگرکئی رہنماوں سے ملاقاتیں ہوچکی ہیں

    ان ملاقاتوں کے بعد ن لیگ کی طرف سے جاری کی گئی میڈیا کو نیوز میں یہ تاثر دینے کی جعل سازی کی گئی کہ ایم کیوایم نے عمران خان کے خلاف بغاوت کردی اور وہ شہبازشریف اور آصف علی زرداری کی خواہش پر عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کردیں گے

    لیکن ابھی تھوڑی دیر پہلے ایم کیوایم کے وفد نے ن لیگ کی ساری پراکسی کو تہس نہس کرتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے کپتان عمران خان کے ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گے

    ایم کیوایم کے رہنما نے اس موقع پر کہا ہے کہ اپوزیشن کاابھی واضح موقف سامنےنہیں آیا،ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہرسیاسی جماعت کی اپنی سوچ ہوتی ہے،عامر خان نے مزید کہا کہ آئین کےدائرےمیں رہ کراپوزیشن کوکرداراداکرنےکا حق ہے،لیکن کسی ایسی کوشش کا حصہ نہیں بنیں گے جس سےعمران خان کی حکومت کو نقصان پہنچے ،

    عامرخان نے اپنی گفتگو میں کہا کہ پراپیگنڈہ کرنے والے سُن لیں کہ ہم پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے

    عامرخان نے کہا کہ ن لیگ کی اتحادی جماعت پی پی نے سندھ میں ہمیں دیوارسے لگادیا، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ آفس کےباہرکارکنوں پرڈنڈےبرسائے گئے،ن لیگ نے زرداری حکومت کی مذمت نہیں کی

    ادھروفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی ملاقاتوں سے حکومت کا کچھ نہیں بگڑنے والا۔

    شبلی فراز کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اپوزیشن کے بغل میں ایک دوسرے کے لیے چھریاں اور منہ میں رام رام ہے۔ حکومت کہیں نہیں جا رہی ہے اور پاکستان تحریک انصاف توسال 2028 تک حکومت میں رہنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ اپوزیشن ہزیمت سے بچنے کيلئے پٹاخے چھوڑتی رہتی ہے،ایک ساتھ کھانا کھانے والی اپوزیشن ايک دوسرے کے ساتھ نہیں۔

  • افضل گورو کی برسی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ اور ہڑتال کا اعلان

    افضل گورو کی برسی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ اور ہڑتال کا اعلان

    سری نگر :افضل گورو کی برسی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ اور ہڑتال کا اعلان،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں شہید کشمیری رہنما افضل گورو کی برسی کے موقع پر کل یومِ سیاہ اور ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے، جمعے کو مقبول بٹ کی برسی پر بھی ہڑتال کی جائےگی۔

    کشمیر میڈیاسروس کےمطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان کا کہناہے کہ دونوں شہید رہنماؤں نے تحریک آزادی کشمیر میں ایک نئی روح پھونکی اور اب کشمیریوں کی چوتھی نسل جدوجہد آزادی کشمیر کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانےکے لیے پر عزم ہے ۔

    ترجمان نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بھارتی فوج کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کی نسل کشی کا نوٹس لیں،تنازع کشمیر کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ناگزیر ہے۔

    حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق کا کہنا ہے کہ عالمی برادری بالخصوص انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں تہاڑ جیل سے مقبول بٹ اور افضل گورو کی باقیات ان کے اہلخانہ کے حوالے کرنے کے لیے بھارت پر دباؤ بڑھائیں۔

    خیال رہےکہ کشمیری رہنماافضل گورو کو 9 فروری 2013 اور مقبول بٹ کو 11 فروری 1984میں نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی، بعدازاں ان کی میتوں کو جیل کے احاطے میں ہی دفن کردیا گیا تھا۔

  • پاکستان میں بیوروکریسی کی نااہلی کاروبار کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے: آئی ایم ایف کا دبنگ انکشاف

    پاکستان میں بیوروکریسی کی نااہلی کاروبار کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے: آئی ایم ایف کا دبنگ انکشاف

    اسلام آباد:عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ بیورو کریسی کی سست روی اور ریگولیشنز کی وجہ سے پاکستان میں کاروبار کرنا مشکل ہے، بیوروکریسی کی نااہلی کاروبار کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، سرمایہ کاری کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں جبکہ کرپشن میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔

    عالمی مالیاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں بیوروکریسی کی نا اہلی کاروبار کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، بہت زیادہ ریگولیشنز سے بھی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں جبکہ کمزور ٹیکس سسٹم ٹیکس ادائیگیوں میں رکاوٹ ہے ۔

    آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پاکستان ٹیکس ادائیگی کا عمل آسان بنائے اور کاروباری ماحول بہتر کرنے کیلئےغیر ضروری ریگولیشنز ختم کی جائیں۔

  • ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی ہدایت پرانٹرنیشنل سیف انٹرنیٹ ڈے سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے میں منعقد کیا گیا۔

    ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی ہدایت پرانٹرنیشنل سیف انٹرنیٹ ڈے سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے میں منعقد کیا گیا۔

    اسلام اباد :ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی ہدایت پرانٹرنیشنل سیف انٹرنیٹ ڈے سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے میں منعقد کیا گیا۔،اطلاعات کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی صاحب کی ہدایت پر انٹرنیشنل سیف انٹرنیٹ ڈے آج بروز منگل 8 فروری 2022 کو سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے میں منعقد کیا گیا۔

    ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی کا کہنا ہے کہ یہ دن عوام کو انٹرنیٹ کے محفوظ اور مثبت استعمال کے بارے میں شعور فراہم کرنے کے حوالے سے آگاہی کا دن ہے۔

    اس موقع پر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل محمد جعفر صاحب اور ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق پرویز صاحب کی ہدایات پر اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے سائبر کرائمز ونگ کے افسران نے بریفنگ دی۔

    اس موقع پر بچوں کے محفوظ اور مثبت انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے کچھ اہم پیرنٹل کنٹرول سوفٹ ویئرز کو بھی متعارف کروایا گیا۔ جس کے استعمال سے والدین اپنے بچوں کی انٹرنیٹ سرگرمیوں کی نگرانی کر سکیں گے۔

    مزید برآں اینٹی چائیلڈ پورنو گرافی سیل کے انچارج اسسٹنٹ ڈائریکٹر عمران حیدر صاحب نے چائیلڈ پورنو گرافی پر مبنی کیسز اور ان میں سائبر کرائم ونگ کے افسران کی کاوشوں پر تفصیلی بریفنگ بھی دی اور سال 2021 میں ساٸبر مجرمان کی گرفتاریوں اور عدالتوں کی جانب سے دی گٸ سزاٶں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

    اس موقع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل محمد جعفر صاحب نے افسران کی کارکردگی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں سراہا اور انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال کے حوالے سے سائبر کرائم ونگ کی آگاہی مہم کو جاری رکھنے کی ہدایات دیں۔ ڈاٸریکٹر ساٸبر کراٸم ونگ نے امید ظاہر کرتے ہوٸے کہا کہ سائبر کرائم ونگ کی مزکورہ مہم سے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور جراٸم کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔

    مزکورہ دن کی مناسبت سے آؤٹ ڈور ایکٹیویٹی کے طور پر آگاہی مہم کی انچارج اسٹنٹ ڈائریکٹر زونی اشفاق صاحبہ کی سربراہی میں فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی میں بھی آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں اساتذہ اور سٹوڈنٹس نے کرونا ایس او پیز کو مد نظر رکھتے ہوئے شرکت کی اور ادارے کے اس اقدام کو سراہتے ہوٸے اسے ملک گیر سطح پر جاری رکھنے کی درخواست کی۔