Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • رانا ثناءاللہ منشیات کیس،عدالت نے دیگر ملزمان کی بریت کی درخواست پر دلائل طلب کر لئے

    رانا ثناءاللہ منشیات کیس،عدالت نے دیگر ملزمان کی بریت کی درخواست پر دلائل طلب کر لئے

    منشیات کیس میں رانا ثناءاللہ کی بریت کی درخواست پر سماعت بغیر کاروائی ملتوی ہو گئی-

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق عدالت نے سماعت پراسیکیوٹر کے نہ ہونے کے باعث سماعت ملتوی کی رانا ثناء اللہ سمیت شریک ملزمون نے عدالت حاضری مکمل کرائی عدالت نے آئندہ سماعت پر دیگر ملزمان کی بریت کی درخواست پر دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت 19 فروری تک ملتوی کر دی انسداددہشت منشیات عدالت کے جج محمد نعیم شیخ نے سماعت کی-

    منشیات کیس، رانا ثناء اللہ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ،کب سنایا جائیگا ؟

    رانا ثنا اللہ کو یکم جولائی 2019 کو پاکستان میں انسداد منشیات کے ادارے نے ایک شاہراہ پر مبینہ طور پر 15 کلو منشیات رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا وزیر مملکت برائے انسدادِ منشیات شہریار آفریدی نے رانا ثنا اللہ کو ’رنگے ہاتھوں‘ گرفتار کرنے اور ایک ویڈیو سمیت دیگر شواہد موجود ہونے کا دعویٰ بھی کیا تھا-

    اے این ایف حکام کے مطابق رانا ثنا اللہ کی گاڑی سے منشیات کی بھاری مقدار برآمد ہوئی اور کے خلاف نارکوٹکس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ انسداد منشیات فورس کے ذرائع کے مطابق منشیات کے اسمگلر نے تفتیش میں ن لیگی رہنما کا نام لیا تھا۔

    ان الزامات کے تحت انسداد منشیات فورس کے عدالت میں چالان پیش کرنے کے باوجود ابھی تک رانا ثنا پر فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکی ہے رانا ثنا اللہ خان کو اُن کی گرفتاری کے بعد سے اب تک ایک درجن سے زائد مرتبہ عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے پہلی مرتبہ انھیں دو جولائی کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

    رانا ثناء اللہ کی ضمانت منظور، رانا کی اہلیہ اور ن لیگی رہنماؤں نے بڑے سوالات اٹھا دیئے

    رانا ثناء اللہ ایک بار پھرمشکل میں پھنس گئے، حکومت نے اب کیا کیا؟ جان کر ہوں حیران

    راناثنا کا موقف ہے کہ ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا جبکہ منشیات برآمدگی کے ثبوت بھی عدالت میں پیش نہیں کیے گئےرانا ثناء اللہ کی لاہور ہائیکورٹ نے ضمانت کی درخواست منظور کی تھی،جس کے بعد سپریم کورٹ میں راناثنااللہ کی ضمانت منسوخی کی درخواست دائرکر دی گئی،راناثنااللہ کی ضمانت منسوخی کی درخواست نےاے این ایف نےدائر کی،ضمانت منسوخی کی درخواست 17 صفحات پر مشتمل ہے-

    رانا ثناء اللہ کی ضمانت، شہر یار آفریدی میدان میں آ گئے، بڑا اعلان کر دیا

    واضح رہے کہ منشیات کیس میں رانا ثناء اللہ چھ ماہ کے بعد رہا ہوئے تھے ،منشیات کیس میں رہائی پانے والے رکن قومی اسمبلی ،مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ اس مقدمے کا کوئی سر اور پاؤں نہیں ہے جن حالات میں مجھے جیل میں رکھا گیا، اس کا ذکر نہیں کروں گا میری چھ ماہ بعد ضمانت ہوئی لیکن پورا انصاف نہیں ہوا جن لوگوں نے جھوٹا مقدمہ درج کرایا اللہ کا قہر اور غضب ان پہ نازل ہو ، اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پہ اللہ کا قہر اور غضب نازل ہو-

    رانا ثناء اللہ نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کوجیل سے لکھا خط، کیا کہا؟

  • بارش کے باعث لاہورآلودہ ترین شہروں میں چھٹے نمبر پر آ گیا ،محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب

    بارش کے باعث لاہورآلودہ ترین شہروں میں چھٹے نمبر پر آ گیا ،محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب

    لاہور:محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب نے آج کا ائیر کوالٹی انڈیکس جاری کردیا ہے-

    باغی ٹی وی :محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب کے مطابق بارش کے باعث لاہور کا اے کیو آئی 170 ریکارڈ کیا گیا آلودہ ترین شہروں میں چھٹے نمبر پر آ گیا محکمہ تحفظ ماحولیات ٹاؤن ہال میں ائیر کوالٹی انڈیکس 120،جی سی یونیورسٹی، لاہور میں ائیر کوالٹی انڈیکس171،ٹاؤن شپ سیکٹر ٹو میں ائیر کوالٹی انڈ یکس41 ،نیشنل ہاکی اسٹیڈیم لاہور کا ائیر کوالٹی انڈیکس 161 ریکارڈ کیا گیا-

    ملک بھر میں بارشوں کا سلسلہ جاری،مری میں برفباری شروع انتظامیہ ہائی الرٹ

    محکمہ ماحولیات پنجاب کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق راولپنڈی میں ائیر کوالٹی انڈیکس 86 ریکارڈ کیا گیا ،فیصل آباد میں ائیر کوالٹی انڈیکس 80 ریکارڈ کیا گیا جبکہ رحیم یار خان میں ائیر کوالٹی انڈیکس118ریکارڈ کیا گیا-

    خیال رہے کہ محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب کی جانب سے یہ تمام ڈیٹا 24 گھنٹے کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے-

    دوسری جانب ملک کے بیشتر حصوں میں رات سے شروع ہونے والی بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے جس کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے پنجاب کے علاقوں اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، چکوال، ساہیوال، فیصل آباد، منچن آباد، پاکپتن، سیالکوٹ، سمیت دیگر علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری ہے پنجاب کے بعض میدانی علاقوں اور بالائی سندھ میں شدید دھند نے رات سے ہی ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔

    کراچی میں گرد آلود ہواؤں کا سلسلہ جاری، شہری احتیاط کریں

    پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے بھی مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری ہے جبکہ پہاڑوں پر برفباری بھی شروع ہو چکی ہے۔ ناران، کاغان، چترال،سوات، مالم جبہ، دیر، شانگلہ اور مانسہرہ کے مختلف حصوں میں بھی برفباری کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے مری، گلیات اور گردونواح کے علاقوں میں ایک بار پھر برفباری شروع ہو گئی ہے جو آئندہ دو روز تک جاری رہے گی تاہم انتظامیہ کی جانب سے تمام پیشگی انتظامات کر لیے گئے ہیں۔

    بلوچستان کے علاقوں مستونگ، پشین سمیت دیگر علاقوں میں بھی ہلکی بارش اور کہیں برفباری کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جبکہ نوکنڈی، دالبندین، موسیٰ خیل، ہرنائی، لورالائی، چمن اور نوشکی کے مختلف علاقوں میں بھی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک بھر میں آئندہ دو روز تک وقفے وقفے سے بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    تیز بارش آندھی کے باوجود کے الیکٹرک کی زبردست کارکردگی سامنے آگئی

  • کورونا وبا،12 اموات مزید 6 ہزار 540  کیسز رپورٹ

    کورونا وبا،12 اموات مزید 6 ہزار 540 کیسز رپورٹ

    اسلام آباد: پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا کے وار تیزی سے جاری، پاکستان میں عالمی وبا کورونا وائرس سے مزید 12 افراد جاں بحق ہو گئے-

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 58 ہزار 902 کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید 6 ہزار 540 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    اسلا آباد:نیو اسلا م آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پراومی کرون کا حملہ ہوگیا

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 13 لاکھ 60 ہزار 19 جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 29 ہزار 77 ہو گئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 11.10 فیصد رہی۔

    سندھ میں کورونا کیسز کی تعداد 5 لاکھ 20 ہزار 415، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 83 ہزار 865، پنجاب میں 4 لاکھ 60 ہزار 335، اسلام آباد میں ایک لاکھ 15 ہزار 939، بلوچستان میں 33 ہزار 855، آزاد کشمیر میں 35 ہزار 130 اور گلگت بلتستان میں 10 ہزار 480 ہو گئی ہے۔

    کراچی:نیشنل اسٹیڈیم کا 10 فیصد عملہ کورونا کا شکار

    اب تک کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 13 ہزار 100 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 7 ہزار 730، خیبرپختونخوا 5 ہزار 969، اسلام آباد 975، گلگت بلتستان 187، بلوچستان میں 367 اور آزاد کشمیر میں 749 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا کیسز میں اضافے کے بعد آج رات 12 بجے سے 24 گلیوں کو سیل کردیا جائے گا کورونا وائرس کا پھیلاؤ بڑھنے پر اسلام آباد کے 21 تعلیمی ادارے پہلے ہی بند کردیے گئے ہیں تاہم اب انتظامیہ نے کل رات 12 بجے سے24 گلیوں کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کا اعلامیہ سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مختلف سیکٹرز کی 24 گلیوں کو سیل کردیا جائے گا۔

    اسلام آباد کچہری میں کرونا کا وار، 15 ججز اور 58 اہلکار کورونا کا شکار

    نوٹیفکیشن کے مطابق جن گلیوں کو سیل کیا جائے گا ان میں اسلام آباد سیکٹرجی6 فور کی گلی نمبر 52,56,59,79 اور 80 شامل ہیں اس کے علاوہ سیکٹر ایف ٹین فور کی گلی نمبر 50،52 اور53 کو بھی سیل کیا جائے گا۔سیکٹرایف الیون ٹو کی گلی نمبر 21 23 اور 28، سیکٹرجی الیون ٹو کی گلی نمبر 15،21 اور 46 بھی بند کردی جائیں گی جب کہ سیکٹر ایف ایٹ ون کی گلی نمبر 31، 35،37،38،42،44 اور سیکٹرایف ایٹ تھری کی گلی نمبر5،6،10،11 اور 17 بھی اگلے حکم نامے تک سیل رہیں گی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق گلیوں کو سیل کرنے کا فیصلہ بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کی روک تھام کے لیے کیا گیا ہے اطلاعات کےمطابق وفاقی دارالحکومت کورونا کیسز میں اضافے کے سبب مزید 12 تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

    کہیں اسکول بند تو کہیں اسلام آباد کی کئی گلیاں سیل کرنے کا فیصلہ

    دوسری جانب 24 گھنٹے میں دنیا بھر میں 36 لاکھ 32 ہزار سے زائد کیسز سامنے آگئے دنیا بھر میں گزشتہ 24 گھنٹے میں 9 ہزار سے زائد اموات رپورٹ ہوئیں،
    اٹلی میں ایک لاکھ 79 ہزار سے زائد کورونا کیسز رپورٹ، ترکی میں 72ہزار، روس میں 49ہزار سے زائد کیسز رپورٹ، گزشتہ 24 گھنٹے میں فرانس میں 4لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے-

    جبکہ برطانیہ میں کورونا کے 95ہزار سے زائد کیسز رپورٹ، بھارت میں کورونا کے 3 لاکھ 35ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے،24 گھنٹے میں امریکا میں 7لاکھ 79ہزارسے زائد کیسز رپورٹ ہوئے-

    اسلام آباد : کورونا کے بڑھتے وارتمام ہوٹلز میں انڈورکھانے پر پابندی عائد

  • مودی حکومت نے پاکستان کے 35 یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس پر پابندی عائد کردی

    مودی حکومت نے پاکستان کے 35 یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس پر پابندی عائد کردی

    نئی دہلی: بھارتی حکومت نے پاکستان کے 35 یوٹیوب چینلز پر پابندی عائد کردی۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق جمہوریت کی دعوےدار بھارتی حکومت نے مسلم دشمن پالیسیوں اور اقلیتوں کے خلاف ہونے والے مظالم بے نقاب کرنے والے 35 پاکستانی یوٹیوب چینلز کو بھارت میں بلاک کردیا اطلاعات کے مطابق پابندی کی زد میں آنے والے یوٹیوب چینلز کے ایک ارب 35 کروڑ سے زائد ویڈیو ہیں جن میں ملیحہ ہاشمی عمر دراز گوندل سلمان حیدر اور مخدوم شہاب کا چینل (میرا پاکستان) جیسے بڑے اکاؤنٹس شامل ہیں ، بھارت ففتھ جنریش وار جیت رہا ہے ، پاکستان نے اب بھی کچھ نہ کیا تو بڑی دیر ہو جائے گی-

    پاکستان دیکھتا رہ گیا:اور بھارت بازی لے گیا،بھارتی حکومت ملک کی خاطر ڈٹ گئی:پاکستان میں بلیک میلرڈٹ گئے

    بھارتی میڈیا کے مطابق اطلاعات و نشریات کے وزیر انوراگ ٹھاکر کی وارننگ کے ایک دن بعد حکومت نے 35 یوٹیوب چینلز، 2 ٹویٹر اکاؤنٹس، انسٹاگرام اکاؤنٹس، 2 ویب سائٹس اور ایک فیس بک اکاؤنٹ کو بلاک کر دیا ہے یہ کارروائی آئی ٹی قوانین کے تحت کی گئی ہے یہ تمام اکاؤنٹس پاکستان سے چل رہے تھے۔

    اطلاعات و نشریات کی وزارت کے سکریٹری اپوروا چندرا اور جوائنٹ سکریٹری وکرم سہائے نے جمعہ کو کہا کہ 20 جنوری کو وزارت کو ملی انٹیلی جنس کی بنیاد پر ہم نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کارروائی کی ہے جبکہ اپوروا چندرا نے کہا کہ بلاک شدہ یوٹیوب چینلز کے 12 ملین سبسکرائبرز اور 130 ملین سے زیادہ ویوز تھے۔

    بھارتی وزیراعظم مودی کی جان کو خطرہ:نئے حفاظتی انتظامات نے حیران کردیا

    واضح رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں وزارت اطلاعات و نشریات نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ مل کر 20 یوٹیوب چینلز اور دو ویب سائٹس کو بلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق بلاک شدہ یوٹیوب چینلز کی فہرست میں پنچ لائن،بین الاقوامی ویب نیوز،خالصہ ٹی وی،ننگا سچ، نیوز24، 48 نیوز،خیالی تاریخی
    حقائق پنجاب،وائرل نیا پاکستان،گلوبل کور اسٹوری،گلوبل ای کامرس،جنید حلیم آفیشل، طیب حنیف، زین علی،فیشل محسن،راجپوت آفیشل،کنیز فاطمہ،صدف درانی
    ،میاں عمران احمد، نجم الحسن باجوہ شامل ہیں-

    مودی یہ نہ کہہ دے کہ نہ کوئی آیا نہ کسی کو اٹھایا،چین کی جانب سے لڑکے کے اغوا پر…

  • پاکستان بھارت کے ساتھ بامعنی، تعمیری اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے پرعزم ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان بھارت کے ساتھ بامعنی، تعمیری اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے پرعزم ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    اسلام آباد :ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ بامعنی، تعمیری اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے پرعزم ہے،افغان حکومت کو تسلیم کرنے کا معاملہ ہمسایہ ممالک اور دیگر علاقائی و عالمی پارٹنرز کیساتھ مشاورت سے حل کیا جائیگا۔سی پیک میں سماجی و اقتصادی منصوبوں پر بھر پور توجہ دیا جا رہا ہے۔پاکستان ،حق خودارادیت کے حصول تک مقبوضہ کشمیر کے اپنے بہن بھائیوں کی سفارتی،اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

    جمعہ کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا کہ ابو ظہبی میں حوثی باغیوں کی جانب سے ڈرون حملے میں جاں بحق پاکستانی کی میت کو گزشتہ روز پاکستان منتقل کر دیا گیا باچا خان انٹر نیشنل ائر پورٹ پر او پی ایف حکام نے میت وصول کی۔ترجمان دفتر خارجہ نے جاں بحق ہاکستانی کے اہلخانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ۔

    حوثی باغیوں کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کی بحالی کیلئے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت کریگا۔سی پیک کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ نومبر 2018 میں وزیر اعظم کے پہلے دورہ چین سے سی پیک میں سماجی اقتصادی ترقی کے منصوبوں پر بھر پور توجہ دی جا رہی ہے،جس سے دونوں ملکوں کے عوام کی فلاح و بہبود میں اضافہ ہو گا۔

    انہوں نے کہا کہ27 منصوبے تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں۔سی پیک منصوبوں میں ٹیکنالوجی،زراعت،سائنس اور آئی ٹی کے شعبوں میں تعاون کو بھی شامل کیا گیا ہے،اس کے علاوہ بڑے انفرا سٹرکچر منصوبوں پر بھی کام جاری ہے جبکہ جی سی سی نے نئے میگا انفراسٹرکچر منصوبوںکی بھی توثیق کی ہے،ان میں آزاد پتن اور کوہالہ ہائیڈرو پاور کے منصوبے شامل ہیں۔ان منصوبوں سے پاکستان کی فوڈ سیکورٹی اور توانائی کے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

    ترجمان نے 21جنوری 1990گائوکدل سری نگر میں بے گناہ کشمیریوں کے قتل عام کی برسی کے موقع پر کہا کہ آج سے تین دہائی قبل بھارتی قابض فورسز نے بھارتی تسلط سے آزادی کا مطالبہ کرنے والے پر امن احتجاج کرنے والے 52 بے گناہ کشمیریوں کو گائو کدل سری نگر میں وحشیانہ طریقے سے قتل کیا تھا۔پاکستان بھارت کے اس وحشیانہ عمل کیخلاف کشمیری عوام کیساتھ اظہار یکجہتی اور واقعہ کےذمہ داروں کو عبرتناک سزا دینے کے مطالبے کا اعادہ کرتا ہے۔یہ بات انتہائی قابل مذمت ہے کہ تین دہائیاں گزرنے کے باوجود ذمہ داروں کا احتساب نہیں ہو سکا۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ سات دہائیوں سے کشمیری عوام بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں۔تاہم یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بتدریج توجہ دے رہی ہے۔ترجمان نے عالمی برادری،اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم کیلئے بھارت کا احتساب کرے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی مظالم اور دہشت کشمیری عوام کے حوصلوں کو کبھی بھی دبا نہیں سکتا۔پاکستان مقبوضہ کشمیر کے اپنے بہن بھائیوں کو حق خودارادیت کے حصول تک تمام سفارتی،اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

    ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارت سمیت اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن اور دوستانہ تعلقات کا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ بامعنی، تعمیری اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے پرعزم ہے،تاہم یہ ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ مذاکرات کیلئےسازگار ماحول پیدا کرے۔پاک بھارت تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کی طرف سے 5 اگست 2019 کو بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کے بعد سے تعلقات مزید بگڑ گئے،انہوں نے کہا کہ بھارت غیر قانونی اقدامات سے مقبوضہ وادی کی آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

    ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان مسلسل عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی جانب مبذول کرا رہاہے، جس کے نتیجے میں عالمی برادری نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بھارتی مظالم کا نوٹس لیا۔تاہم ترجمان نے کہا کہ عالمی برادری کو کشمیر کے معصوم لوگوں کے خلاف مظالم کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    پاکستانی طلباءکی چین واپسی سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ یہ معاملہ وزیر خارجہ ،سیکرٹری خارجہ نے اپنے چینی ہم منصبوں کیساتھ اٹھایا ہے جبکہ پاکستانی حکام بھی اس معاملے کو متعلقہ چینی حلقوں کے ساتھ اٹھا رہے ہیں تاکہ پاکستانی طلباء اپنی تعلیم کے حصول کے لیے واپس چین جا سکیں۔

  • الحمدللہ  :’معیشت بہتری کی جانب گامزن، ٹیکس ریونیو 6 ہزار 1 سو ارب روپے تک پہنچ گیا’:اسد عمر

    الحمدللہ :’معیشت بہتری کی جانب گامزن، ٹیکس ریونیو 6 ہزار 1 سو ارب روپے تک پہنچ گیا’:اسد عمر

    لاہور:الحمدللہ :’معیشت بہتری کی جانب گامزن، ٹیکس ریونیو 6 ہزار 1 سو ارب روپے تک پہنچ گیا’:اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ ری بیسنگ کی وجہ سے معیشت کی بہترکی جانب گامزن، ٹیکس ریونیو 6 ہزار 1 سو ارب روپے تک پہنچ گیا، وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کی پالیسیاں ترقی کا سبب بنیں، معیشت کو 3 بڑے مسائل کا سامنا ہے، بچت اتنی نہیں ہے جتنی سرمایہ کاری کیلئے چاہیے اور ٹیکس اتنا اکٹھا نہیں ہوتا جتنا اخراجات کیلئے چاہیے، اتنی برآمدات نہیں ہوتیں کہ درآمدات برداشت کرسکیں۔

    ایک نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ درست ہے کہ جی ڈی پی شرح پہلے سے بہتر نہیں ، پچھلے 2 سال میں ٹیکس ریونیو میں بہتری نظر آئی ، ٹیکس ریونیو 3700 ارب سے بڑھ کر 6100 ارب تک پہنچ گیا ہے۔

    اسد عمر نے مزید کہا کہ لوگ ٹیکس نیٹ سے باہر رہنے کیلئے کیش میں کاروبار کرتے ہیں، اگر یہ نظام فوراً تبدیل کیا تومعیشت منجمد ہوتی نظر آئےگی ، اس کا حل ڈیجیٹل اکانومی اور ڈیجیٹل کامرس سے نکل سکےگا ، وزارت خزانہ اوراسٹیٹ بینک کی پالیسیاں ترقی کی وجہ بنی ہیں ۔

    انہوں نے کہا کہ 2017 تک گردشی قرضہ سالانہ 450 ارب روپےبڑھ رہاتھا جو ہم 130 ارب روپےسالانہ تک لائے، ٹرانسمیشن ٹی اینڈ ڈی لاسز پہلے سے کم ہو رہے ہیں، ایل این جی پرانحصار کم کر کے 2 سال میں 140 ارب روپے بچائے، گردشی قرضہ سال کے آخرمیں 300 ارب تک کم کرنےکاہدف ہے۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ نجی شعبوں کی 06 -2005 کےبعد سرمایہ کاری نہیں دیکھی گئی، 6 ماہ میں 1 ہزار ارب روپے کے قرضے نجی شعبوں نے لیے، ایف بی آرمیں بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہے، بجٹ خسارہ سود کی ادائیگی اور پرائمری بیلنس پرمشتمل ہوتا ہے، پرائمری بیلنس رواں آمدن اوراخراجات پرمشتمل ہوتا ہے اور اس پر خسارہ پچھلے 15 سال میں کم ترین رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ امپورٹس کاسیلاب آگیاتھا، ایکسپورٹس پرٹیکس لگایا ہوا تھا، معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں، آئی ایم ایف پروگرام میں کمٹمنٹس کیلئے گنجائش پیدا ہوتی ہے، کچھ چیزیں معاشی حجم کے لحاظ سےدیکھی جاتی ہیں اور پبلک پرائیویٹ منصوبوں کیلئےحکومتی ضمانت دی جاتی ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے
    وزیراعظم عمران خان نے مالی سال 2020-21میں مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو 5اعشاریہ 37 فیصد حاصل کرنے پر حکومت کو مبارکباد دی ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کی اقتصادی اصلاحات کی کامیابی کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جارہا ہے ، عالمی جریدے بلوم برگ کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان بڑھتی ہوئی شرح نمو کا تسلسل جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ اس شرح نمو کی بدولت روزگار کے مواقع پیدا ہوئے اور فی کس آمدنی میں اضافہ ہوا۔

     

     

    اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ جی ڈی پی کی شرح نموملازمتوں کی تخلیق اور فی کس آمدن میں اضافے کا باعث بنی۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی اصلاحات کامیاب رہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ پاکستان اعلیٰ اقتصادی ترقی اور روزگار کی سطح کو برقرار رکھے گا۔

    واضح رہے کہ تجارت اور زراعت میں اضافے کے باعث پاکستان کی ترقی کی رفتار تیز ،مالی سال 2021ء میں پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو 5اعشاریہ 37 فیصد رہی۔
    معاشی اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ مالی سال معاشی ترقی کی شرح 5اعشاریہ 37 فیصد رہی ہےجبکہ صنعت وزراعت میں 7اعشاریہ 8 فیصد گروتھ ہوئی۔

    اس حوالے سے وفاقی وزیرحماد اظہر کاکہنا ہے کہ سابقہ حکومت ایکسپورٹس میں خاطرخواہ اضافہ نہ کرسکی، ہم نے تیسرے مالی سال اتنی گروتھ حاصل کرلی ہے۔ملکی معاشی گروتھ وسیع بنیاد پر ہوئی ہے، اگلے 10 سال میں نوکریاں پیدا کرنے کا تناسب اعلیٰ سطح پر ہوگا۔

  • ضیا مصطفی کا ماورائےعدالت قتل:مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات پر گول میز کانفرنس

    ضیا مصطفی کا ماورائےعدالت قتل:مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات پر گول میز کانفرنس

    اسلام آباد: ضیا مصطفی کا ماورائےعدالت قتل:مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات پر گول میز کانفرنس ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات کے حوالے سے اسلام آباد میں گول میز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں لیگل فورم کشمیر کے مرکزی رہنماؤں نے بریفنگ دی۔

    گول میزکانفرنس میں ضیاء مصطفی پر ڈوزئیر کا اجرا کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر کے وکیل ناصر قادری ایڈوکیٹ نے بریفنگ میں بتایا کہ ضیاء مصطفی کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، ڈوزئیر میں 111 فرضی پولیس مقابلوں کا ذکر ہے جوسنہ 2000 سے 2021تک کیے گئے۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضیاء مصطفے غلطی سے راولا کوٹ سے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوا تھا، اس کی عمر صرف پندرہ سال تھی جب اسے پکڑا گیا تھا ، اٹھارہ سال سے کم عمر بچے کو قانونی طور پر جیل میں قید نہیں کیا جاسکتا ۔کیس ٹرائل کورٹ شپیاں میں چلا جس میں 38گواہوں کو پیش کیا گیا ۔

    پولیس ضیا کے خلاف کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی ، ہائی کورٹ نے بھی اپیل خارج کرکے ضیا کو معصوم قراردیا ،بعد ازاں سپریم کورٹ میں تاخیر سے اپیل دائر کی گئی ، اکتوبر میں سری نگر میں ضیا کو جعلی پولیس مقابلے میں شہید کردیا گیا۔

    حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا کہ 5 اگست کے بعد سے بھارتی فوج کو کشمیریوں کی نسل کشی کے احکامات دئیے گئے ہیں ، عالمی برادری اپنی مجرمانہ خاموشی ختم کرے ۔

    مشتاق اسلام کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیر میں آزادی کی آواز دبانے کے لیے مہلک ہتھیاروں کا استعمال کررہا ہے۔

    ڈوزیئر میں مزید کہا گیا ہے کہ اسٹوک وایئٹ کی رپورٹ میں اس بات کے دو ہزار سے زائد ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں کہ بھارتی حکام جموں و کشمیر میں شہریوں کے خلاف جنگی جرائم میں ملوث ہیں۔

    آزاد جموں و کشمیر کے راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے ضیا مصطفی کا کیس 18 سال سے زیر سماعت تھااور وہ جموں کی کوٹ بھلوال جیل میں قید تھے۔ بھارتی پولیس کے مطابق ضیا مصطفی کو پونچھ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران ایک ٹھکانے کی نشاندہی کے لیے بھاٹا دوریاں لے جایا گیا اور بعد ازاں کراس فائر میں شہید کر دیاگیا۔
    تاہم، ان کے اہل خانہ کے مطابق ضیا کو ایک جعلی مقابلے میں مارا گیا۔ انہوں نے 17 سال سے زائد عرصے سے جیل میں قید ایک شخص کو اس طرح شہید کرنے اور بھارتی فورسز کے ظلم پر بھی سوال اٹھایا۔
    ضیا مصطفی ولد عبدالکریم برمگ کلاں تحصیل راولاکوٹ ضلع پونچھ آزاد جموں و کشمیر کا رہائشی تھا جسے بھارتی فورسز نے 13 جنوری 2003 کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ نادانستہ طور پر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پار کرکے دوسری جانب چلا گیا تھا۔ ضیا کے بھائی عامر حامد کے مطابق ایل او سی پار کرنے کے وقت ضیا مصطفی کی عمر15 سال تھی۔
    بھارت نے اس کی گرفتاری کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، کیونکہ وہ ایجنسیاں اس کی گرفتاری کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتی تھیں، اس لیے ضیا کی باقاعدہ گرفتاری مارچ 2013 میں جنوبی کشمیر کے ضلع اسلام آباد سے نادیمرگ میں دکھائی گئی، جہاں نامعلوم مسلح افرادنے 24 کشمیری پنڈتوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ .
    ضیا کو شوپیاں کی ضلعی عدالت میں مقدمے کا سامنا تھا جہاں مقبوضہ کشمیر کے حکام ان کے خلاف کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔ ٹرائل کورٹ نے کیس کومستردد کر دیا ۔مقبوضہ جموں کشمیر کے حکام نے جموں کشمیر ہائی کورٹ سری نگر ونگ میں فوجداری اپیل دائر کی جسے بھی خارج کر دیا گیا۔

  • پاکستان اورعراق کے درمیان سیاحت ، مفاہمت کی یادداشت پر دستخط مضبوط رشتوں کی علامت:دفترخارجہ

    پاکستان اورعراق کے درمیان سیاحت ، مفاہمت کی یادداشت پر دستخط مضبوط رشتوں کی علامت:دفترخارجہ

    اسلام آباد:پاکستان اورعراق کے درمیان سیاحت ، مفاہمت کی یادداشت پر دستخط مضبوط رشتوں کی علامت:دفترخارجہ کا کہناہے کہ پاکستان اور عراق کے درمیان سیاحت کے حوالے سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر لئے گئے ۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار کے مطابق پاکستان و عراق نے 19 جنوری 2022 کو بغداد میں سیاحت کے شعبے میں مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ،

    ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ایم او یو پر عراق کے وزیر برائے ثقافت، سیاحت اور نوادرات اور جمہوریہ عراق میں پاکستان کے سفیر نے دستخط کیے جبکہ مفاہمت سے دونوں ممالک کے درمیان سیاحت کے شعبے میں تعاون کو فروغ ملے گا۔

    عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان اور عراق کے درمیان عوام کے روابط مضبوط ہوں گے، پاکستانی زائرین کو عراق میں سہولت فراہم کرنے کے لیے پاکستان عراقی فریق کے ساتھ بھی سرگرم عمل ہے اور پاکستان جمہوریہ عراق کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو مزید گہرا اور وسیع کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون کو نمایاں فروغ ملا جس میں گزشتہ سال متعدد وزارتی سطح کے دوروں کا تبادلہ ہوا، خاص طور پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا دورہ، جس کا بدلہ وزیر خارجہ فواد حسین نے دیا۔

  • بیٹا بلاول میں آرہا ہوں ، سندھ جارہا ہوں:روک سکتےہوتوروک لو،میں سچ بتارہوں:شاہ محمود قریشی

    بیٹا بلاول میں آرہا ہوں ، سندھ جارہا ہوں:روک سکتےہوتوروک لو،میں سچ بتارہوں:شاہ محمود قریشی

    اوکاڑہ:بیٹا بلاول میں آرہا ہوں ، سندھ جارہا ہوں:روک سکتےہوتوروک لو،میں سچ بتارہوں:شاہ محمود قریشی نے بلاول بھٹو کی نیندیں اڑا دیں ،اطلاعات ہیں کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بلاول بھٹو کو ایک پیغام دے بھیجا ہے جس میں ان کو چیلنج کیا گیا ہے

     

     

     

    اوکاڑہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ27 فروری کو بلاول اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے اور ہم گھوٹکی سے کراچی کی طرف مارچ کریں گے، پیپلزپارٹی کی حکومت نے بلدیاتی ایکٹ دیا اس کے خلاف پی ٹی آئی سمیت تمام جماعتیں کراچی کی طرف مارچ کریں گی۔

     

    شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ ہمارا مقابلہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے نہیں ہے بلکہ مہنگائی سے ہے۔

     

    قبل ازیں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نےکہا تھا کہ سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم نے توہین عدالت کر کے اسلام آباد ہائی کورٹ کی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش کی۔

    قومی اسمبلی میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عدلیہ آزادنہیں ہوگی توجمہوریت کا تحفظ نہیں ہوسکتا، تنقید برائے تنقید سے ملک میں مایوسی پھیلتی ہے، سال 2018 میں جب حکومت سنبھالی تومعیشت کی حالت بری تھی، اب معاشی صورتحال بہترہورہی ہےجس کےاثرات نظرآرہےہیں۔

     

    انہوں نے کہا کہ اپوزیشن 100جتن کرلےہمیں ذرابھی گھبراہٹ نہیں ،خوب جانتاہوں ان کی صفوں میں کھلبلی کیوں ہے۔5فیصد گروتھ کی بات آتی ہےتواپوزیشن کوسانپ سونگھ جاتاہے، کوروناکےباوجودمعیشت 5.3فیصدکی شرح سےترقی کررہی ہے، اکانومسٹ اوربلوم برگ جیسےادارے ملکی معیشت کی بہتری کااعتراف کررہےہیں۔

     

    وزیر خارجہ نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ خارجہ پالیسی کی ڈائریکشن تبدیل ہورہی ہے۔ ہماراچیلنج اپوزیشن نہیں مہنگائی ہے۔شہبازشریف کےخدمت میں ایک خط لکھاہے،دوسرا خط بلاول صاحب کےنام بھیجا ہے۔ یوریاکھادکےذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

  • جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج سوموارکےدن پہلا کام کیا کرنے جارہی ہیں‌؟اہم خبرآگئی

    جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج سوموارکےدن پہلا کام کیا کرنے جارہی ہیں‌؟اہم خبرآگئی

    اسلام آباد:جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج سوموارکےدن پہلا کام کیا کرنے جارہی ہیں‌؟اہم خبرآگئی ,اطلاعات کے مطابق جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج بن گئی جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

     

    سپریم کورٹ کی خاتون جسٹس محترمہ عائشہ ملک کی حلف برداری کی تقریب پیر کو سپریم کورٹ میں ہوگی، چیف جسٹس گلزار احمد ان سے حلف لیں گے۔

     

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرری کے ان کیمرہ اجلاس میں جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی منظوری دی گئی تھی۔

    پارلیمانی کمیٹی کے ججز تقرری کے اجلاس کی صدارت فاروق ایچ نائیک نے کی تھی، جوڈیشل کمیشن نے جسٹس عائشہ ملک کی تعیناتی کی سفارش کی تھی، جسے کمیٹی نے منظور کر لیا تھا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ برس 9 ستمبر کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں ہونے والے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں جسٹس عائشہ ملک کے نام پر اتفاق نہ ہو سکا تھا، جس کی وجہ سے وہ سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج نہ بن سکی تھیں، جسٹس عائشہ ملک ‏کی سپریم کورٹ ترقی پر وکلا نے احتجاج کیا تھا۔

     

    دسمبر 2021 کے آخر میں چیف جسٹس آف پاکستان نے سپریم کورٹ میں پہلی خاتون جج کے لیے ایک بار پھر لاہور ہائی کورٹ کی سینئر جج جسٹس عائشہ ملک کا نام تجویز کر دیا تھا۔

     

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں 17 ججوں کی تعداد مقرر ہے، جسٹس مشیر عالم 17 اگست 2021 کو ریٹائر ہو گئے تھے، جس کے باعث ایک نشست خالی ہوئی تھی۔

    جسٹس عائشہ ملک کون ہیں؟
    لاہور ہائی کورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق جسٹس عائشہ ملک 1966 میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے اپنی تعلیم پاکستان سمیت دیگر ملکوں بشمول فرانس، برطانیہ اور امریکہ میں حاصل کی۔
    قانون کی اعلیٰ تعلیم ایل ایل ایم امریکہ کے مشہور ترین ہارورڈ لا سکول سے حاصل کی۔

     

     

    بحیثیت وکیل وہ ہائی کورٹس، ڈسٹرکٹ کورٹس، بینکنگ کورٹس، سپیشل ٹریبیونلز اور آربٹریشن کورٹس میں بے شمار کیسز لڑتی رہی ہیں۔

     

     

    جسٹس عائشہ ملک مئی 2012 میں لاہور ہائی کورٹ کی ایڈیشنل جج مقرر کی گئی تھیں۔ جسٹس عائشہ ملک لاہور ہائی کورٹ میں سنیارٹی لسٹ میں چوتھے نمبر پر ہیں اور بطور ہائی کورٹ کے جج  ان کی ریٹائرمنٹ دو جون 2028 کو ہونا تھی

     

    مگر اب چونکہ وہ سپریم کورٹ کی جج بن گئی ہیں تو ان کی ریٹائرمنت 2031 کے بعد ہوگی