Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پہلی قومی سلامتی پالیسی   ۔۔۔   دوست کون، دشمن کون ؟ تحریر: فیصل رانا

    پہلی قومی سلامتی پالیسی ۔۔۔ دوست کون، دشمن کون ؟ تحریر: فیصل رانا

    سیاسی ہلڑبازی اور معاشی افراتفری کی ہنگامی خیزیوں پر تو ہم روز بات کرتے ہیں ، آج پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کے متعلق بات کریں گے جس کا اجرا کردیا گیا ہے۔ 100 صفحات پر مشتمل اس پالیسی ڈاکومنٹ کے آدھے حصے کو پبلک کیا گیا ہے جبکہ باقی آدھے حصے کو مخفی رکھا گیا ہےکیونکہ قومی سلامتی کے تمام امور کو عوام کے سامنے نہیں رکھا جاسکتا اور نہ ہی یہ عام معلومات کیلئے ہوتی ہے۔ یہ قومی سلامتی پالیسی ڈاکومنٹ سول اور ملٹر ی اتفاق رائے کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔ کل چھ حصوں پر مشتمل اس دستاویز کو مرتب کرنے کیلئے 600 سے زائد ماہرین سے آراء لی گئیں اور مشاورت کی گئی ہے حتی کہ اس کی جامعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یونیورسٹز کے طلبا سے بھی اس پر آرا ء لی گئی ہیں۔

    یہ پالیسی معاشی، عسکری اورانسانی سکیورٹی کے 3 بنیادی نکات پرمشتمل ہےجبکہ معاشی سلامتی کو قومی سلامتی پالیسی میں مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ قومی سلامتی پالیسی پر سالانہ بنیادوں پر نظرثانی کی جائے گی اور نئی حکومت کو پالیسی پر ردوبدل کا اختیار حاصل ہو گا کیونکہ سالانہ نظرثانی کا مقصد ہی یہ ہے کہ آنے والے وقت کے تقاضوں کے مطابق پالیسی کو پرکھا اور ماحول کے مطابق ڈھالا جاسکے۔ اس پالیسی کا محور پاکستان کی سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے دنیا میں پاکستان کے مقام کو نمایاں کرنا ہے اور اس کے لئے جیو-اسٹریٹیجک اور جیو-پولیٹیکل امور کلیدی جز ہیں اور اس میں معاشی سلامتی اور تحفظ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

    قو می سلامتی کے چھ بنیادی حصے ہیں۔ 1۔ قومی ہم آہنگی، 2۔معاشی مستقبل کاتحفظ، 3۔دفاع اور جغرافیائی سالمیت، 4۔داخلی سلامتی، 5۔ بدلتی دنیا میں خارجہ پالیسی ، 6۔ اور انسانی سلامتی

    اب ان حصوں پر بھی فردا فردا بات کرلیتے ہیں کہ ان کی الگ الگ اہمیت کیا ہے اور ان کو کیوں انفرادی طور پر زور دیکر بیان کیا گیا ہے ۔

    قومی ہم آہنگی : اس حصے کا پہلا جز ہے کہ اسلامی جمہوریہ اور آئین کے مطابق ہمارے کرداراور وسیع ثقافت کےتحفظ کویقینی بنانے کا تعین کیا گیا ہے یعنی ہمارے ملک میں اسلامی تشخص کے مطابق فردی آزادیوں کا پاس رکھا جائے گا لیکن مادر پدر آزاد معاشرت ہماری قومی سلامتی کے منافی ہے۔

    اس حصے کا دوسرا جز ہے کہ سماجی اور اقتصادی عدم مساوات کا خاتمہ کیا جائے گا یعنی ملک میں امیر اور غریب میں بڑھتی ہوئی تفریق چاہے وہ معاشی لحاظ سے ہے کہ جہاں امیر تو امیر تر ہوتا جارہا ہے اور غریب مزید غریب ہورہا ہے تو اس کی وجہ سے بھی معاشرے میں ایک تقسیم پیدا ہوتی ہے جسے ختم کرنا اب قومی سلامتی کے اہم پہلو کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ مضبوط وفاق کے قیام کیلئے اتحاد اور اتفاق رائے پیدا کرتے ہوئے جمہوریت کی مضبوطی اور سیاسی استحکام کے ذریعے ان اہداف کا حصول ممکن ہوسکتا ہے۔
    قومی ہم آہنگی کا تیسرا جز بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں زور دیا گیا ہے کہ حکومت اور ادارہ جاتی استعداد یا صلاحیت کو بڑھانا اب ہماری قومی سلامتی ذمہ داری بن چکی ہے۔ اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی ، ای گورننس کے ذریعے لوگوں تک سہولیات کی فراہمی اور رسائی کو آسان بناتے ہوئے عوامی خدمت کو مؤثر بنایا جائے گا۔ اب اسکا مطلب یہ ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات کے ذریعے ایک حکومت سے دوسری حکومت کے قیام کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں عوام کو کچھ ڈلیور کرنا بھی ہوتا ہے اور اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو اس سے عدم مساوات اور بدانتظامی پھیلے گی ، لوگوں کا اپنی ریاست پرسے یقین کمزور ہوگا اور ہم ان حالات کا سامنا ایک طویل عرصے سے کررہے ہیں لیکن اب اگر مقتدرہ میں یہ سوچ پیدا ہوئی ہے تو یقینا نیک شگون ہے۔

    قومی سلامتی پالیسی کے مرکزی نکتے پر اب بات کریں تو وہ ہےمعاشی مستقبل کا تحفظ اور یہ نکتہ زیادہ توجہ طلب ہے کیونکہ یہی وہ مدعا جس پر موجودہ قومی سلامتی پالیسی کا دارومدار ہے۔معاشی مستقبل کا تحفظ کیسے ممکن ہے۔ معاشی تحفظ اور خودمختاری کا حصول پائیدار ، مجموعی اورجامع مالی ترقی کےذریعے یقینی بنانا ہے۔ یعنی اگر ہم مسلسل گروتھ کو یقینی بنائیں اور تمام طبقات کی مشترکہ ترقی اور مالی بہتری کریں تو ہماری قومی سلامتی کا تحفظ یقینی ہوگا۔ پالیسی کے اس حصے کو مزید ذیلی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

    1۔بیرونی عدم توازن:( یعنی روپوں میں کمانے اور ڈالر میں خرچ کرنے کے درمیان عدم توازن ہے جس کے سبب قرضے لینے پڑتے ہیں، اسکو ختم کرنے کیلئے ڈالر کمانے کے ذرائع بڑھانے ہوں گے اور یہ ایکسپورٹ اور ترسیلات زر کے ذریعے ممکن ہے۔ چنانچہ ان پہلوؤں پر سب سےزیادہ توجہ دینا ہوگی۔

    2۔ عمودی عدم مساوات: ( یعنی دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور اشرافیہ کے قبضہ کو ختم کرنا ہوگا جس میں ایک طبقہ پالیسی اور معیشت پر قابض ہے اوردوسرے کا استحصال کررہا ہے۔ مافیاز کاراج ، چینی، تیل، پیٹرول ، کھاد وغیرہ وغیرہ جس سے معاشرے میں عدم مساوات ہے ۔ اب یہ سلسلہ ختم کرنا ہوگا ورنہ یہ قومی سلامتی کیلئے ایک خطرے کے طور پر موجود رہے گا۔

    3۔افقی عدم مساوات: اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں علاقائی سطح پر ترقی یافتہ اور پسماندہ کے لحاظ سے جو تقسیم ہے اس کو ختم کیا جائے، بلوچستان، سابقہ فاٹا ، گلگت بلتستان، سندھ اور جنوبی پنجاب کے بہت سے علاقے ہیں جن کو مواقع ، وسائل فراہم کیے جائیں اور انہیں ترقی دی جائے تاکہ لوگوں کو بڑے شہروں کی طرف ہجرت نہ کرنی پڑے یوں معاشی اورمعاشرتی ترقی کا حصول یکساں طور پر ممکن ہوسکے گا۔

    4۔گروتھ اینڈ ڈویلپمنٹ: (عام طور پر اردو میں ہم ان دونو ں کو ایک ہی لفظ کے طور پر لیتے ہیں لیکن گروتھ کا مطلب بڑھوتری یا نشوونما ہے اور ڈویلپمنٹ کا مطلب ترقی ہے۔ جب ہماری انڈسٹری اور سروسز سیکٹر میں نشوونما ہوگی تو اسکا ایک مجموعی مثبت اثر آئے گا، ٹیکس جمع ہوگا اور زیادہ پیسہ ہوگا تاکہ ترقیاتی کاموں میں لگے اور اس طرح ہم ترقی کر سکیں گے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ ہماری گروتھ مستحکم ہو ، کم از کم 6 فیصد کے حساب سے ہم ہر سال اپنی معیشت میں اضافہ کریں تو 20 لاکھ نوجوان جو ہر سال جاب کے مارکیٹ میں آتے ہیں انہیں کھپایا جا سکے گا ، اس لئے یہ ایک مسلسل عمل ہے جسے یقینی بنانا ہوگا۔

    تجارت ، سرمایہ کاری اور رابطہ کاری: ہم نے اگر ڈالر کمانے ہیں تو اس کیلئے ہماری انڈسٹر ی کا مضبوط ہونا ضروری ہے ، ٹیکسٹائل ہو یا کوئی اور شعبہ اس کی استعداد ِ کار بڑھانا ہوگی تبھی ہم درآمد ات بڑھا سکیں گے اور صرف یہی نہیں مزید نئی مارکیٹس ڈھونڈنا ہوں گی اور دوسروں کو اپنے ملک میں پیسہ لگانے کیلئے آمادہ کرنا ہوگا ، ایز آف ڈوئنگ بزنس کے ذریعے ، پھر پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو استعمال اور بروئے کا ر لاتے ہوئے علاقائی رابطہ کاری کو فروغ دیکر ہم قوم سلامتی کیلئے معاشی تحفظ کو حاصل کرسکتے ہیں۔
    5۔مالیاتی مینجمنٹ: ہم ہمیشہ ایک ہی مسئلے کا شکار رہتے ہیں کہ گروتھ بڑھانے کیلئے ڈالر خرچ کریں توہمارا مالیاتی خسارہ بڑھنے لگ جاتا ہے ، اب یہ قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن رہا ہے کیونکہ اسکی وجہ سے ہمیں قرضے لینے پڑتے ہیں اور پھر قرض داروں جیساکہ آئی ایم ایف وغیرہ کی شرائط ماننا پڑتی ہیں، اس کی مینجمنٹ بہتر کرنا ناگزیر ہے اگر ہم قومی سلامتی اور معاشی تحفظ چاہتے ہیں۔

    6۔توانائی کا تحفظ: پہلی بار پاکستان میں حکومتی سطح پر انرجی سیکیورٹی پر زور دیا گیا ہے کیونکہ موجودہ توانائی کے حصول کا نظام ہماری قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکا ہے۔ بجلی ، گیس اور پیٹرول تینوں توانائی کے حصول کے ذرائع ہیں ۔ بجلی اور گیس میں گردشی قرضہ ہمارے لئے قومی سلامتی خطرہ بن چکا ہے اور پیٹرول چونکہ باہر سے لینا ہماری مجبوری ہے تو اس کے لئے ڈالر خرچ ہوتے ہیں، چنانچہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب اپنے گھریلو ذرائع یعنی ہائیڈرو الیکٹرک انرجی اور ونڈملز وغیرہ سے توانائی کا حصول کیا جائے گا ۔ جو ڈیم زیر تعمیر ہیں ان سے ہم 2030تک اپنی 60 فیصد ضروریات پوری کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ اس کیلئے توانائی کے حصول کے مقامی ذرائع، اسٹوریج کپیسٹی کو بڑھانا ہوگا تاکہ آئے روز کی عالمی قیمتوں کے اضافےسے زرمبادلہ پر دباؤ کم آئے، اس کے علاوہ ہمیں توانائی ذرائع کیلئے مقامی سطح پر مزید وسائل کی تلاش پر بھی کام کرنا ہوگا جوکہ معاشی مستقبل کے تحفظ کیلئے ناگزیر ہے۔

    7:تعلیم، تکنیک اور جدت: سستی معیاری تعلیم کا حصول اور اس کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ رکھتے ہوئے ٹیکنالوجی اور جدت یا ایجادات کی اہلیت سے لیس کرنا ہوگا، موجودہ حالات میں اگر ہم اسی طرح چلتے رہے تو آئندہ 30 سال میں ہمارے تعلیم یافتہ لوگ عالمی جاب مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق کارآمد نہیں رہیں گے اور فرسودہ ہونے کی وجہ سے ورک فورس سے باہر نکل جائیں گے، اس لئے اپنے بچوں کو تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ جدید علم سے روشناس کرانا ہوگا بصورت دیگر ہم اس ریس سے نکل جائیں گے۔ اب گوگل ، فیس بک، وٹس ایپ سے بات آگے نکل چکی ہے ، ربوٹکس اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس ہیومن ریسورس کی تعریف بدل چکے ہیں، اب مشین پیزا تیار اور ڈرونز ڈلیور کرتے ہیں تو اس لحاظ سے ہمیں اپنی تیاری کرنی ہوگی ۔ مجھے خوشی ہے کہ بالاخر ہم اس بارے میں سوچنا شروع کررہے ہیں، اس لئے آج کے دور کے اعتبار سے معاشی تحفظ قومی سلامتی کا لازمی جز ہے ۔

    گلوبل ہیومن ریسورس(عالمی افرادی قوت): معاشی مستقبل کے تحفظ کے حصول کیلئے قومی سلامتی تناظر میں یہ اہم بات ہے جو اس ڈٖاکومنٹ میں سامنے رکھی گئی ہے، دنیا بھر میں لیبر یا ورک فورس کا 30 فیصد جنوبی ایشاء سے مہیا کیا جاتا ہے، اس لئے اب وقت کی ضرورت ہے کہ آپکی ورک فورس یا لیبر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو، اسکلڈ یا سیمی اسکلڈ لیبر کی ہی اب گلوبل مارکیٹ میں جگہ ہے ، ووکیشنل ٹریننگ سے بات اب آگے نکل چکی ہے ، اس لئے آپ کو جدید تعلیم و تربیت سے لیس کر کے ہنر مند افراد کو بیرون ملک بھیجنا ہوگا ۔ لوگوں کا باہر جانا اور وہاں سے زرمبادلہ کماکرملک میں بھیجنا معاشی تحفظ کیلئے چونکہ ضروری ہے اس لئے اس شعبے پر توجہ دینی ہوگی۔ جب پوری دنیا انفراسٹرکچر کی بہتری کی دوڑ میں لگی ہوئی ہے تو ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ ایک ان-پڑھ کو کرین آپریٹر کے طور پر بھیج دیں، 70 کی دہائی والی اپروچ اب نہیں چلے گی، اپنی ورک فورس کے ذریعے بہترین افرادی قوت ہمیں عالمی منڈیوں کیلئے تیار کرنا ہوگی۔

    معاشی اور معاشرتی پہلوؤں سے قومی سلامتی کے جن امور کو پالیسی فریم ورک کا حصہ بنایا گیا ہے ابھی میں نے صرف ان پر بات کی ہے ، مضمون کے دوسرے حصے میں سیکیورٹی اور دیگر پالیسی ایشوز پر بات کریں گے۔

    پہلی قومی سلامتی پالیسی ۔۔۔ دوست کون، دشمن کون ؟

    تحریر: فیصل رانا

  • شریف فیملی چار لوگوں کیلئے ڈیل مانگ رہی ہے:شہباز گل کا دعویٰ

    شریف فیملی چار لوگوں کیلئے ڈیل مانگ رہی ہے:شہباز گل کا دعویٰ

    فیصل آباد :شریف فیملی حکومت سے چار لوگوں کیلئے ڈیل مانگ رہی ہے:شہباز گل کا دعویٰ،اطلاعات کے مطابق جن چارافراد کی ڈیل مانگی گئی ہے، ان میں شہبازشریف، ان کا بیٹا، نوازشریف اوران کی بیٹی شامل ہیں،

    وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ شہباز گل نے دعویٰ کیا ہے کہ شریف فیملی حکومت سے چار لوگوں کی ڈیل مانگ رہی ہے تاکہ یہ لوگ ملک سے باہر جا سکیں۔

    فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو میں شہباز گل کا کہنا تھاکہ ڈیل مانگی جارہی ہے کہ شہبازشریف،مریم کوبھی باہرجانے دیا جائے، شاہد خاقان یہاں رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ جن چارافراد کی ڈیل مانگی گئی ہے، ان میں شہبازشریف، ان کا بیٹا، نوازشریف اوران کی بیٹی شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھاکہ آپ کو ڈیل اور ڈھیل جتنی میسرآنی تھی آگئی، شریف فیملی کو ڈیل نہیں ملے گی، آپ کے سامنے عمران خان کھڑا ہے، ہم آپ کوابلا ہوا آلونہیں دیں گے، آپ چکن برگرمانگ رہے ہیں، آپ کوڈیل ملنے والی نہیں آپ کے مقدر میں گالیاں دینا اورکھانا لکھا ہوا ہے۔

    معاون خصوصی کا کہنا تھاکہ احتساب ہوگا اور جلد ہی شہباز شریف سلاخوں کے پیچھے ہوں گے، چپراسیوں کے اکاؤنٹس میں اربوں روپے کہاں سے آئے اس کا جواب دینا پڑے گا۔

    وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ چاروں شریف سیاست سے مائنس ہیں، اپوزیشن شکست کھائے گی، عمران خان 5 سال پورے کریں گے۔

    راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ کوئی ڈیل نہیں چلے گی، پہلے شاید ڈھیل کی بات تھی اب ڈھیل بھی نہیں ہو گی۔ اپوزیشن اندھی وہیل مچھلیوں کی طرح ان ہاؤس تبدیلی کے خواب دیکھ رہی ہے، ان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا، عدم اعتماد لائے تو اپوزیشن کے 12 کے بجائے 25 ارکان کم ہوں گے۔ جو لوگ بیمار ہونے کا ڈرامہ کرتے ہیں، حقیقت میں بیمار ہو جاتے ہیں۔ شہبازشریف عمران خان کیلئے ڈراونا نہیں سہانا خواب ہیں۔

    شیخ رشید نے کہا کہ دنیا کورونا کی وجہ سے تباہی کے دھانے پر پہنچ چکی ہے ، کم وسائل کے باوجود الحمد للہ بہتر انداز سے کورونا اور دیگر وائرسوں سے نبرد آزما ہیں ،

    شیخ رشید نے کہا کہ یہ عمران خان کے دشمن بھی کہتے ہیں کہ عمران خان اپنی ذات کےلیے نہیں بلکہ ملک وقوم کے لیے سارے طعنے ، بغض اور مخالفتیں برداشت کررہا ہے ، یہ بھی سب جانتے ہیں کہ وہ ایک مخلص لیڈر ہے اس لیے امید ہے کہ وہ یہ پانچ آرام سے پورے کریں گے اور پھر انشااللہ آگے ایک نئے انداز سے حکومت کےلیے میدان میں اتریں‌ گے

  • سعودی عرب اور ایران : دل ملنے لگے:سفارت خانے کھلنے لگے:فیصلہ ہوگیا

    سعودی عرب اور ایران : دل ملنے لگے:سفارت خانے کھلنے لگے:فیصلہ ہوگیا

    تہران : سعودی عرب اور ایران : دل ملنے لگے:سفارت خانے کھلنے لگے:فیصلہ ہوگیا.اطلاعات کے مطابق ایرانی کمیٹی برائے خارجہ پالیسی کے رکن جلیل رحیمی جہان آبادی کے مطابق ایران اور سعودی عرب اپنے سفارت خانے دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہو رہے ہیں جنہیں 2016 میں سعودی ڈپلومیٹک مشن پر ہجوم کے حملے کے بعد سے بند کر دیا گیا تھا۔

    ایرانی پارلیمنٹ کے رکن اور قانون ساز جلیل رحیمی جہان آبادی نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ میں کہا کہ ایران اور سعودی عرب سفارتی تعلقات بحال کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جو مذکورہ واقعے کے بعد منقطع ہو گئے تھے۔

    دو جنوری 2016 کو متشدد افراد کی قیادت میں مشتعل ہجوم نے تہران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد میں اس کے قونصل خانے پر حملہ کیا، توڑ پھوڑ کی اور املاک کو نذر آتش کر دیا تھا۔

    جلیل رحیمی جہان آبادی نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات علاقائی کشیدگی کو کم کرنے اور عالم اسلام کے اتحاد کو فروغ دینے میں اہم اثر ڈالیں گے۔

    انہوں نے ایران کے سیکورٹی اور میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ ’شیطان اسرائیلیوں اور احمق بنیاد پرستوں‘ کی سرگرمیوں سے محتاط رہیں جو سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

    حال ہی میں ایرانی حکام کی جانب سے اس امر پر اصرار دیکھا گیا کہ ایران سعودی مذاکرات کا نیا دور ہونا چاہیے لیکن سعودی عرب کی جانب سے تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

    ایران اور سعودی عرب کے درمیان سب سے زیادہ متنازع مسائل میں سے ایک لبنان میں حزب اللہ کے لیے ایران کی حمایت ہے۔

    سعودی عرب اور ایران نے سفارتی تعلقات کی بحالی کے مقصد سے کشیدگی کم کرنے کے لیے گزشتہ سال مذاکرات کیے تھے لیکن سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلا۔

  • گجرات پولیس نے اغوا ہونے والا 2 سال کا بچہ بازیاب کروا لیا:اغوا کار کون؟سُن کرسب حیران

    گجرات پولیس نے اغوا ہونے والا 2 سال کا بچہ بازیاب کروا لیا:اغوا کار کون؟سُن کرسب حیران

    لاہور:گجرات پولیس نے اغوا ہونے والا 2 سال کا بچہ بازیاب کروا لیا:اغوا کار کون؟سُن کرسب حیران،اطلاعات کے مطابق گجرات پولیس نے ہسپتال سے اغواء ہونے والے نومولود بچے کو 2 گھنٹوں میں بازیاب کروا لیا سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے اغواء کار خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    گجرات پولیس کی کارکردگی کو پنجاب پولیس کے افسران نے سراہتےہوئے اس واقعہ کی خبر سنا کرجہاں والدین کو خوش کردیا وہاں معاشرے کا ہرفرد بھی خوش ہے اور پنجاب پولیس کی کارکردگی سے متاثر ہے

     

     

    پولیس کے مطابق گجرات کے ہسپتال سے نومولود بچہ اغواء ہو گیا تھا۔ جس کی رپورٹ بروقت تھانے میں درج کروائی گئی تھی ۔ ملزمان کی گرفتاری اور شناخت کے لئے وقوعہ کی CCTV فوٹیج سے مدد حاصل کی گئی

     

     

    ڈی پی او گجرات نے فوٹیج موصول ہونے پر تمام تھانہ جات کے ایس ایچ اوز کو ویڈیوکا بغور ملاخطہ کرنے کی ہدایت جاری کی۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے بڑی ذہانت سے اور بڑے ہی جدید انداز سے اس مجرم کو پکڑا

    اعلیٰ پولیس افسران نے بچے کو برآمد کرنے کے بعد اور اغوا کاروں کو گرفتارکرنے کے بعد جس پر نومولود بچے کو اٴْسکے اصل والدین کے حوالے کر دیا گیا۔جس پر بچے کے والدین نے ڈی پی او گجرات اور گجرات پولیس کا شکریہ ادا کیا۔

  • کورونا وبا:پاکستان میں 4 ہزار 27 دنیا بھر میں 24لاکھ 4ہزار سے زائد کیسزرپورٹ

    کورونا وبا:پاکستان میں 4 ہزار 27 دنیا بھر میں 24لاکھ 4ہزار سے زائد کیسزرپورٹ

    پاکستان میں عالمی وبا کورونا وائرس سے مزید 9 افراد جاں بحق ہو گئے-

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 51 ہزار 236 کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید 4 ہزار 27 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    این سی او سی اجلاس، 17 جنوری سے پابندیاں نافذ


    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 13 لاکھ 24 ہزار 147 جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 29 ہزار 12 ہو گئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 7.8 فیصد رہی۔

    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 4 لاکھ 99 ہزار 830، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 82 ہزار 199، پنجاب میں 4 لاکھ 52 ہزار 261، اسلام آباد میں ایک لاکھ 10 ہزار 963، بلوچستان میں 33 ہزار 699، آزاد کشمیر میں 34 ہزار 750اور گلگت بلتستان میں 10 ہزار 445 ہو گئی ہے۔

    اسرائیل میں اومی کرون کی نئی قسم سامنے آگئی:یہودیوں پرخوف کے سائے منڈلانے لگے

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 13 ہزار 88 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 7 ہزار 694، خیبرپختونخوا 5 ہزار 958، اسلام آباد 969، گلگت بلتستان 187، بلوچستان میں 367 اور آزاد کشمیر میں 749 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    دوسری جانب دنیا بھر میں کورونا کے وار تیزی سے جاری ہیں 24گھنٹے میں دنیا بھر میں 24لاکھ 4ہزار سے زائد کیسز سامنے آگئے جبکہ دنیا بھر میں گزشتہ 24 گھنٹے میں 5 ہزار 600 سے زائد اموات رپورٹ ہوئی ہیں-

    اٹلی میں 1لاکھ 80ہزار سے زائد کیسز رپورٹ، ترکی میں 63ہزار، روس میں 27ہزار سے زائد کیسز رپورٹ، گزشتہ 24 گھنٹے میں فرانس میں 3لاکھ 24 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ، برطانیہ میں کورونا کے 81ہزار سے زائد کیسز رپورٹ، بھارت میں کورونا کے 2 لاکھ 68ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے گزشتہ 24 گھنٹے میں امریکا میں 4لاکھ 4ہزارسے زائد کیسز رپورٹ ہوئے-

  • اسرائیل کا افغان مہاجرین کے لیے 5 لاکھ ڈالرمدد کا اعلان

    اسرائیل کا افغان مہاجرین کے لیے 5 لاکھ ڈالرمدد کا اعلان

    یروشلم :اسرائیل کا افغان مہاجرین کے لیے 5 لاکھ ڈالرمدد کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے افغان مہاجرین کی مدد کا اعلان کرتے ہوئے 5 لاکھ ڈالرز عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے ، یا رہے کہ اسرائیل کا عطیہ اسی دن آیا جب اقوام متحدہ نے افغانستان کے لیے 4.4 بلین ڈالر کی امداد کا مطالبہ کیا تھا۔

    اسرائیلی وزارت خارجہ نے منگل کو اعلان کیا کہ افغانستان کی مدد کے لیے اسرائیل نے تاجکستان میں افغان مہاجرین کے لیے خوراک، طبی امداد اور دیگر امداد کے لیے اقوام متحدہ کو 500,000 ڈالر عطیہ کیے ہیں۔

    اسرائیل کی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل ایلون اُشپیز نے کہا کہ ان کے ملک کو "افغان طالبان سے بھاگنے والے افغانوں کی مدد کے لیے بین الاقوامی کوششوں کا حصہ بننے پر فخر ہے”۔

    اُشپیز نے مزید کہا کہ اس امداد نے بین الاقوامی برادری کے ساتھ اسرائیل کی وابستگی کو اجاگر کیا،

    اقوام متحدہ کے مطابق، افغانستان میں 22 ملین افراد اور پڑوسی ممالک میں مزید 5.7 ملین بے گھر ہونے والے افغان – اس کی آبادی کا تقریباً 15 فیصد – کو اس سال اہم امداد کی ضرورت ہے۔

    اپیل میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور کے لیے بین الاقوامی عطیات اور اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی (UNHCR) کے لیے 623 ملین ڈالر کی درخواست کی گئی۔

    "ایک مکمل انسانی تباہی پھیل رہی ہے۔ میرا پیغام فوری ہے: افغانستان کے لوگوں پر دروازے بند نہ کریں،” اقوام متحدہ کے امدادی سربراہ مارٹن گریفتھس نے کہا۔

    انہوں نے زور دیا کہ "ہماری مدد کریں وسیع پیمانے پر بھوک، بیماری، غذائی قلت، اور بالآخر موت کو روکنے میں،

    یاد رہے کہ پچھلے سال اگست 2021 میں طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد سے، ملک کے لیے غیر ملکی امداد بند کر دی گئی، جس نے کابل کو معاشی بحران میں ڈال دیا۔

    گریفتھس نے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان کی نصف سے زیادہ آبادی کا انحصار زندگی بچانے والی امداد پر ہے، انہوں نے مزید کہا کہ UNHCR کی توجہ افغان خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ اور مدد پر ہے۔

  • پاکستان میں گندم کا بدترین بحران آنے والا ہے،لیگی رہنما

    پاکستان میں گندم کا بدترین بحران آنے والا ہے،لیگی رہنما

    لاہور: مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گندم کا بدترین بحران آنے والا ہے-

    باغی ٹی وی : لاہور میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عمران خان کے دن پھرے ہیں وزیراعظم بننے کے بعد لوگ اس حکومت کو بددعائیں دے رہے ہیں، ملک میں شوگر، آٹا، کھاد، فرنس آئل، اسٹاک مارکیٹ، ڈالر سمیت ہر جگہ مافیاز بیٹھے ہیں، وزیر کہہ رہے ہیں کہ زیادہ استعمال کی وجہ سے کسان کو کھاد نہیں مل رہی، کھاد 2700 روپے میں بھی نہیں مل رہی، پاکستان میں گندم کا بدترین بحران آنے والا ہے پھر یہ وزرا کہیں گے کہ لوگوں نے روٹیاں زیادہ کھانا شروع کر دی ہیں۔

    کرپٹو کرنسی اسکینڈل: فراڈ میں ملوث ایک کمپنی کو نوٹس جاری

    انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایک سے بڑھ کر ایک نالائق وزیرعوام پر مسلط کر کھا ہے، کسی وزیر کو فیل ہونے پر مزید بڑی وزارت دے دی جاتی ہے، ان کی کارکردگی کا ثبوت یہ ہے کہ کسی گھر میں گیس نہیں آرہی،اسد عمر کو بحیثیت وزیر خزانہ فیل کر دیا گیا تھا اور وہ اپوزیشن کو لیکچر دے رہے تھے، ان کی کسی بات کا جواب دینا وقت کا ضیاع ہے، یہ فیل حکومت کے فیل وزرا ہیں۔

    لیگی رہنما کا کہناتھا کہ اسٹیٹ بینک اصلاحات کی بجائےملک کی قومی معاشی پالیسی کا سودا کرنا ہےخطےمیں کسی ملک کےپاس اسٹیٹ بینک جیسےاختیارات نہیں ہیں گورنر اسٹیٹ بینک وائسرائے ہوں گے اور وہ حکومت کو جوابدہ نہیں ہوں گے، انہیں سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا گیا ہے، چلیں ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں لیکن اسٹیٹ بینک کی کارکردگی جانچنے والا کون ہوگا،بورڈ آف گورنرز کیسےاپنے چیئرمین کی کارکردگی جانچ سکتا ہےعمران خان ایک سکیورٹی رسک بن گئے ہیں اس قانون میں لکھا ہے کہ گورنر سمیت تمام عہدیدار اپنی تنخواہیں خود مقرر کریں گے اور بینک کی کارکردگی سے کوئی تعلق نہیں ہوگا-

    بلدیاتی انتخابات میں ناکامی کے بعد خوف کا شکار حکومت انتظامی افسران کا تبادلہ کررہی ہے،مولانا فضل…

    لیگی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن اپنا کردار ادا کر رہی ہے، اس کا کام حکومتی ناکامیوں کو اجاگر کرنا ہے، اپوزیشن کے پاس توپ نہیں ہوتی، عوام نے خانیوال، لاہور، ڈسکہ سمیت ہر جگہ ن لیگ اور خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں بھی ہماری اپوزیشن کو کامیابی دلائی، اس وقت ہر سیاسی جماعت کے کردار کو عوام دیکھ رہے ہیں-

    خیبر پختونخوا حکومت کا مفت لیور اور کڈنی ٹرانسپلانٹ کا اعلان

    انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا ساتھ دینے والوں کا عوام احتساب کرے گی،آئندہ انتخابات میں کوئی پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے کو تیار نہیں ہوں گے،ملکی مسائل کا حل شفاف آزادانہ انتخابات ہےاپوزیشن جھوٹے مقدمات، جیلوں کےذریعے ان کا سامنا کر رہی ہے23 مارچ کو لانگ مارچ کے ذریعے پی ڈی ایم اپنا کردار ادا کرنے جا رہی ہے، مسلم لیگ ن نے عوامی دباؤ کے ذریعے ایسا کر دیا ہے کہ ان حکومتی بینچوں سے بھی باتیں آنا شروع ہو گئی ہیں، الیکشن کے نزدیک پی ٹی آئی کے اندر توڑ پھوڑ شروع ہو جائے گی۔

    مری میں سیاحوں کے داخلے کی مشروط اجازت

  • سونے کی قیمت میں اضافہ

    سونے کی قیمت میں اضافہ

    کراچی: سونے کی فی تولہ قیمت میں 400 روپے کا اضافہ کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : سونے کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے اور آج پھر سونے کی قیمت میں اضافہ سامنے آیا ہے سندھ صرافہ بازار جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت اضافے کے بعد ایک لاکھ 25 ہزار 150 روپے ہو گئی ہے۔

    ڈالرز خریدنے اور باہر بھیجنے پر نئی پابندی

    10 گرام سونے کی قیمت میں 343 روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد 10 گرام سونے کی نئی قیمت ایک لاکھ 7 ہزار 296 روپے پر پہنچ گئی ہے۔

    سندھ صرافہ بازار جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی صرافہ مارکیٹ میں سونےکی قیمت 2 ڈالرکم ہوکر ایک ہزار 819 ڈالر فی اونس ہے۔

    گزشتہ روز سونے کی فی تولہ قیمت میں 850 روپے کی کمی ہوئی جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت میں 729 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

    مالی سال 2021: 5 ماہ میں ترسیلات زر 10 فیصد اضافے کے بعد 13 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں

    دوسری جانب گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار مثبت رجحان میں رہا اور 100 انڈیکس میں 400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 100 انڈیکس میں 418 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جس کے بعد انڈیکس 45 ہزار 763 پر بند ہوا –

    سعودی عرب پاکستان کو ماہانہ 100 ملین ڈالرز کا ادھار فیول فراہم کرے گا

    10 سے 14 جنوری 2022 کے دوران انڈیکس کی ہفتہ واربلند ترین سطح 46 ہزار 220 پوائنٹس اورکم ترین سطح 45 ہزار 206 پوائنٹس رہی ایک ہفتےکےدوران مارکیٹ میں 1.77 ارب شیئرز کے سودے ہوئے شیئرز بازارکےہفتہ وار کاروبار کی مالیت 44 ارب روپے رہی جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 74 ارب بڑھ کر7846 ارب روپے ہوگئی۔

    تجارتی خسارے میں تیزی سے اضافہ.شوکت ترین کا اقدامات کرنے کی ہدایت

  • قومی کبڈی ٹیم کے کھلاڑی شکیل جٹ ٹریفک حادثہ میں جاں بحق ہوگئے۔

    قومی کبڈی ٹیم کے کھلاڑی شکیل جٹ ٹریفک حادثہ میں جاں بحق ہوگئے۔

    ٹوبہ ٹیک سنگھ:قومی کبڈی ٹیم کے کھلاڑی شکیل جٹ ٹریفک حادثہ میں جاں بحق ہوگئے۔اطلاعات کے مطابق ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قریب قومی کبڈی ٹیم کے کھلاڑی شکیل جٹ ٹریفک حادثہ میں جاں بحق ہوگئے۔ان کی وفات کی خبر کی تصدیق کردی گئی ہے

    ذرائع کے مطابق قومی کبڈی ٹیم کے نامور کھلاڑی شکیل جٹ گاؤں سے ٹوبہ شہر آتے ہوئے ٹریفک حادثہ کا شکار ہوئے، شکیل جٹ موٹرسائیکل پر جارہے تھے کہ مزدا ٹرک نے ٹکر ماردی ۔ٹریفک حادثہ بھلیر پلی کے قریب پیش آیا، ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا۔

    شکیل جٹ کا شمار پاکستان کے مایہ ناز کبڈی پلیئرز میں ہوتا ہے قومی ٹیم سے قبل وہ پاکستان آرمی کی ٹیم میں بھی اپنے فرائض انجام دے چکے ہیں۔

    ادھر آج صبح صبح بہاولپور کے نواحی علاقہ مسافر خانہ کے قریب نجی سکول جانے والے بچوں کے رکشہ کی ٹرالر سے ٹکر کے نتیجے میں 4 بچے موقع پر جاں بحق جبکہ 13 شدید زخمی ہوگئے، جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    یہ افسوسناک حادثہ کلانچ والا روڈ پر اسوقت پیش آیا، جب 17 بچوں سے بھرا موٹرسائیکل رکشہ شدید دھند کے باعث سامنے سے آنے والے ٹرالر کی زد میں آگیا۔ حادثے میں 4 بچے موقع پر جاں بحق ہوگئے جبکہ 13 شدید زخمی ہوئے جن کو ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیوں نے ہسپتال منتقل کر دیا۔ ٹرالر ڈرائیو موقع سے فرار ہوگیا۔

  • محمد رضوان نے میتھیو ہیڈن کو قرآن شریف کا تحفہ کیوں دیا؟اہم وجہ سامنے آگئی

    محمد رضوان نے میتھیو ہیڈن کو قرآن شریف کا تحفہ کیوں دیا؟اہم وجہ سامنے آگئی

    پاکستان کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے قومی ٹیم کے سابق بیٹنگ کنسلٹنٹ میتھیو ہیڈن کو قرآن شریف تحفے میں دینے کی وجہ بتائی ہے۔

    سوشل میڈیا پر زیر گردش ایک انٹرویو میں محمد رضوان نے بتایا ہم جب نماز پڑھتے تو وہ ہمیں باجماعت نماز کی ادائیگی کرتے دیکھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ہی ایسی چیزیں ڈالیں، وہ ہم سے اس موضوع پر سوال کرتے تھے۔

    کرکٹر کا کہنا تھا کہ ورلڈکپ میں پاک بھارت میچ کے دوران بات چیت ہوئی تو میں نے ہیڈن سے کہا کہ اگر تقدیر میں ہوا تو ہم یہ میچ جیت جائیں گے، اگر ہماری محنت کم ہوئی تو بھارت ضرور جیت جائے گا، انہیں یہ سب چیزیں محسوس ہوئیں۔

    محمد رضوان نے کہا کہ وہ وقت کچھ مختلف تھا، میں نے ایک شخص سے قرآن مجید منگوایا، جب وہ لے آیا تو میں میتھیو کے کمرے میں گیا اور انہیں یہ تحفے کے طور پر دے دیا، میتھیو کو یہ تحفہ بہت پسند آیا، ہمارے ذمہ یہ کام ہے کہ جو چیز خود کے لیے پسند کریں وہی دوسروں کے لیے بھی منتخب کریں۔

    انہوں نے بتایا کہ میری میتھیو سے بات ہوتی ہے تو وہ بتاتے ہیں کہ انہیں بہت مزہ آرہا ہے اور وہ اکثر قرآن شریف کا ترجمہ پڑھتے ہیں۔انٹرویو کے دوران رضوان نے قوم سے اپیل بھی کی کہ میتھیو ہیڈن کو اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں۔

    واضح رہے کہ محمد رضوان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ٹورنامنٹ میں پاکستان کے بیٹنگ کنسلٹنٹ میتھیو ہیڈن کو قرآن شریف تحفے میں دیا تھا۔

    میتھیو ہیڈن نے ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ ایک دن میں اپنے کمرے میں تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی، جب میں نے دروازہ کھولا تو سامنے رضوان کھڑا تھا جس کے ہاتھ میں قران پاک تھا، وہ لمحہ انتہائی خوبصورت تھا جسے میں کبھی نہیں بھلا سکوں گا۔