Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • ائیر فرانس نے پاکستان کی فضائی حدود کا استعمال شروع کردیا

    ائیر فرانس نے پاکستان کی فضائی حدود کا استعمال شروع کردیا

    فرانس کی ائیر لائن ائیر فرانس نے بھی پاکستان کی فضائی حدود کا استعمال شروع کردیا۔

    پاک بھارت کشیدگی کے باعث 24 اپریل کو پاکستان نے اپنی فضائی حدود بھارتی ائیرلائنز اور طیاروں کے لیے بند کردی تھی، دونوں ممالک کے مابین جھڑپوں کے بعد مختلف ائیر لائنز نے پاکستان کی فضائی حدود کا استعمال ترک کردیا تھا تاہم اب صورتحال معمول پر آنے کے بعد تمام غیرملکی ائیر لائنز نے پاکستان کے فضائی روٹ بحال کردیے تھے جب کہ ائیر فرانس پاکستانی حدود استعمال نہیں کر رہی تھی-

    اب ائیر فرانس کی جانب سے بھی پاکستان سے اوور فلائنگ شروع کردی گئی ہےائیر فرانس کی پیرس دہلی، ممبئی پیرس، بینکاک، سنگاپور، منیلا، ہوچی منہہ اور دیگر ممالک کی پروازیں پاکستان کی فضائی حدود سے گزر کر منزل تک جاتی ہیں، پاکستانی ائیر اسپیس استعمال نہ کرنے کی وجہ سے ائیر فرانس کو کئی ہفتے تک طویل فاصلہ اختیار کرنا پڑ رہا تھا۔

    ارشد ندیم کے نام پر ہائی پرفارمنس اسپورٹس اکیڈمی کے قیام کا فیصلہ

    بھارت کا جنگی جنون خطے کیلئے خطرہ، پاکستان کا دفاعی بجٹ بڑھانا ناگزیر

    ٹرمپ انتظامیہ کیخلاف مظاہروں میں شدت ، فوج تعینات کرنیکا اعلان

  • بھارت کا جنگی جنون خطے کیلئے خطرہ،  پاکستان کا دفاعی بجٹ بڑھانا ناگزیر

    بھارت کا جنگی جنون خطے کیلئے خطرہ، پاکستان کا دفاعی بجٹ بڑھانا ناگزیر

    پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی اور بھارت کا مسلسل بڑھتا جنگی جنون پورےخطے بالخصوص جنوبی ایشیا کے امن کے لیے مستقل خطرہ ہے-

    بھارت کا مسلسل بڑھتا ہوا جنگی جنون جنوبی ایشیا کے لیے بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے اور طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کے دفاعی بجٹ میں اضافہ ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے،حال ہی میں ہونے والے معرکہ حق آپریشن بنیان مرصوص میں ناکامی کے بعد جنگ بندی کے لیے بھارت کو امریکا کے پاس جانا پڑا جب کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ کے ذریعے عالمی امن میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    بھارت کا دفاعی بجٹ مالی سال 2025-26 میں 6,81,210 کروڑ روپے (تقریباً 77.4 ارب ڈالر) تک پہنچ گیا ہے، جو گزشتہ سال سے 9.5 فیصد زیادہ ہے۔

    ٹرمپ انتظامیہ کیخلاف مظاہروں میں شدت ، فوج تعینات کرنیکا اعلان

    انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد کے مطابق بھارت کے دفاعی اخراجات میں گزشتہ 5 برس میں 94 فیصد اور 10 برس میں 170 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی اپنانا اور پاکستان کے خلاف دفاعی صلاحیتیں مضبوط کرنا ہے پاکستان کیخلاف بلاجواز بھارتی جارحیت میں جدید جنگی ٹیکنالوجی، خا ص طور پر اسرائیلی ساختہ ہیروپ، ہارپی اور سوارم ڈرونز کا استعمال ہوا یہ خودکار یا انسانی کنٹرول والے خودکش ہتھیار ہیں بھارت اپنی فوجی طاقت بڑھانے کے لیے بھاری دفاعی بجٹ مختص کرتا ہے اور جدید ٹیکنالوجی بروئے کار لاتا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق پاکستان کی سرحد کے قریب بھارتی فضائیہ کی وسیع مشقیں بھی جاری ہیں جنہیں دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑی فضائی سرگرمیوں میں شمار کیا جا رہا ہے ان مشقوں میں Rafale، Mirage 2000 اور Sukhoi-30 طیارے شامل تھےایک اہم پیش رفت بھارتی وزارت دفاع کی جانب سے 10,000 کروڑ روپے کے I-STAR نگرانی اور اسٹرائیک طیارہ منصوبے کی منظوری کی توقع ہے، جس کا مقصد فضائی برتری کو بڑھانا ہے۔

    پوپ لیو کا قوم پرستانہ سیاست پر شدید تشویش کا اظہار

    اس کے برعکس پاکستان کا دفاعی بجٹ 1980ء کے بعد سے کم ہوتا رہا ہے، مگر اس کے باوجود مسلح افواج نے دہشتگردی اور دیگر چیلنجز کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے پاکستان کے دفاعی بجٹ کی زیادہ تر رقم افواج جن میں بری ، بحری ، فضائی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے شامل ہیں کے اہلکاروں کی تنخواہوں، سماجی خدمات، شہدا اور ریٹائرڈ فوجیوں کے فنڈز پر خرچ ہوتی ہے۔

    موجودہ حالات اور بھارتی جنگی جنون کے تناظر میں پاکستان کے دفاعی بجٹ میں اضافہ ایسی ضرورت ہے جسے کسی قیمت پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتاجدید دور کی جنگوں میں سائبر حملے، ڈرون، مصنوعی ذہانت (AI) اور معلوماتی جنگ (Information Warfare) کے ذریعے بھی دشمن کو نقصان پہنچایا جاتا ہے پاکستا ن کو بھی ان جدید شعبوں میں اپنی دفاعی تیاری کو اپ گریڈ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

    ڈاکٹرآصف محمود امریکی کمیشن کےوائس چیئرمین منتخب

    پاکستان کو بھارت کی جانب سے مسلسل خطرات کے پیش نظر اور اپنی دفاعی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے چین اور دیگر دوست ممالک کی جانب سے دفاعی معاہدوں کی پیشکش کی گئی ہے ، جن میں ففتھ جنریشن جے-35 سٹیلتھ جنگی طیارے، کے جے-500 ایواکس اور ایچ کیو-19 لانگ رینج بیلسٹک دفاعی نظام شامل ہیں۔

    پاکستان کے دفاعی بجٹ میں اضافہ اگرچہ اب بھی بھارتی دفاعی بجٹ کے مقابلے میں بہت کم ہے مگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ کچھ حد تک اضافہ ٹیکنالوجی کے ذریعے ملکی سلامتی اور دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔

  • رواں مالی سال کتنے  افراد روزگار کے لیے بیرون ملک  گئے،رپورٹ جاری

    رواں مالی سال کتنے افراد روزگار کے لیے بیرون ملک گئے،رپورٹ جاری

    اقتصادی سروے رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان سے لاکھوں افراد روزگار کے لیے بیرون ملک گئے۔

    اقتصادی سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران 7 لاکھ 27 ہزار سے زائد افراد روزگار کے لیے بیرون ملک گئے، سب سے زیادہ سعودی عرب میں 62 فیصد افراد روزگار کے لیے گئے، سعودی عرب جانے والوں کی تعداد 4 لاکھ 52 ہزارہے، اومان میں 11 فیصد، متحدہ عرب امارات میں 09 فیصد افراد روزگار کے لیے گئے۔

    سروے رپورٹ کے مطابق بیرون ملک کام کے لیے جانے والوں کی تعداد سب سے زیادہ پنجاب سے ہے، جہاں سے ایک سال کے دوران 4 لاکھ 4 ہزار 345 افراد بیرون ملک گئے خیبر پختونخوا سے بیرون ملک کام کے لیے جانے والے افراد کی تعداد 1 لاکھ 87 ہزار ہے جبکہ سندھ سے 60 ہزار 424 افراد بیرون ملک کام کے لیے گئے۔

    اسی طرح قبائلی علاقوں سے 29 ہزار 937 افراد بیرون ملک کام کے لیے گئے جبکہ آزاد کشمیر سے بیرون ملک جانے والی لیبر کی تعداد 29 ہزار 591 ہے، ایک سال میں وفاقی دارالحکومت سے 8 ہزار 621 ورکرز بیرون ملک گئے بلوچستان سے بیرون ملک جانے والے ورکرز کی تعداد 5 ہزار 668 ہے جبکہ شمالی علاقہ جات سے بیرون ملک جانے والے افراد کی تعداد 1692 ہے، رواں مالی سال ترسیلات زر 31.2 بلین امریکی ڈالرتک پہنچی۔

  • رواں مالی سال کے اکنامک سروے کو حتمی شکل دے دی گئی

    رواں مالی سال کے اکنامک سروے کو حتمی شکل دے دی گئی

    اسلام آباد: رواں مالی سال کے اکنامک سروے کو حتمی شکل دے دی گئی جو کل پیش کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق رواں مالی سال معیشت کی عبوری شرح نمو 2.68 فیصد رہی جبکہ ہدف 3.6 فیصد تھا، رواں مالی سال پاکستان کی معیشت کا حجم 39 ارب 30 کروڑ ڈالر بڑھا، معیشت کا حجم 410 ارب 96 کروڑ ڈالر رہا، گزشتہ مالی سال پاکستان کی معیشت کا حجم 371 ارب 66 کروڑ ڈالر تھارواں مالی سال فی کس سالانہ آمدن 144 ڈالر بڑھی جبکہ سالانہ آمدن 1680 ڈالر رہی تھی، ملکی معیشت کا حجم 9600 ارب روپے بڑھا، رواں مالی سال پاکستان کی معیشت کا حجم 114.7 ہزار ارب روپے رہا، گزشتہ سال پاکستان کی معیشت کا حجم 105.1 ہزار ارب روپے تھا۔

    ذرائع کا کہنا ہے زرعی شعبے کی گروتھ 0.56 فیصد رہی جبکہ گروتھ کا ہدف 2 فیصد تھا، اہم فصلوں کی گروتھ منفی 13.49 فیصد رہی جبکہ گروتھ کا ہدف منفی 4.5 فیصد تھا، دیگر فصلوں کی گروتھ 4.78 فیصد ریکارڈ ہوئی جبکہ ہدف 4.3 فیصد تھا، کاٹن جیننگ کی گروتھ منفی 19 فیصد رہی جبکہ گروتھ کا ہدف منفی 2.3 فیصد مقرر تھا، لائیو اسٹاک شعبے کی شرح افزائش 4.72 فیصد جبکہ ہدف 3.8 فیصد تھا اسی طرح جنگلات کی گروتھ 3.03 فیصد رہی جبکہ گروتھ کا ہدف ہدف 3.2 فیصد تھا، ماہی گیری کے شعبے کی شرح نمو 1.42 فیصد رہی جبکہ گروتھ کا ہدف3.1 فیصد تھا، صنعتی شعبے کی گروتھ 4.77 فیصد رہی جبکہ گروتھ کا ہدف 4.4 فیصد تھا۔

    ذرائع کے مطابق اکنامک سروے میں بتایا گیا ہے کہ پیداواری شعبے کی گروتھ 1.34 فیصد رہی جبکہ گروتھ کا ہدف 4.4 فیصد تھا، بڑی صنعتوں کی گروتھ منفی 1.53 فیصد رہی جبکہ گروتھ کا ہدف 3.5 فیصد تھا، چھوٹی صنعتوں کی گروتھ 8.81 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ گروتھ کا ہدف 8.2 فیصد تھا، سلاٹرنگ (مذبح خانوں)کی گروتھ 6.34 فیصد رہی جبکہ گروتھ کا ہدف 3.8 فیصد تھا۔ بجلی، گیس اور پانی سپلائی کے شعبوں کی گروتھ 28.88 فیصد ریکارڈ ہوئی جبکہ ہدف 2.5 فیصد تھا، تعمیرات کے شعبے کی شرح نمو 6.61 فیصد رہی جبکہ ہدف 5.5 فیصد مقرر تھا، خدمات کے شعبے کی گروتھ 2.91 فیصد رہی جبکہ گروتھ کا ہدف 4.1 فیصد ہدف مقرر تھا۔

    ہول سیل اور ریٹیل ٹریڈ کی گروتھ 0.14 فیصد رہی جبکہ گروتھ کا ہدف 4.1 فیصد مقرر تھا، ہوٹلز اینڈ ریسٹورینٹس کی گروتھ 4.06 فیصد رہی جبکہ گروتھ کا ہدف 4.1 فیصد تھا، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن کی گروتھ 6.48 فیصد رہی جبکہ گروتھ کا ہدف 5.7 فیصد مقرر تھا، فنانشل اور انشورنش سرگرمیوں کی گروتھ 5.7 فیصد رہی جو ہد ف کے مقابلے میں 3.22 فیصد رہی، رئیل اسٹیٹ سرگرمیوں کی گروتھ3.75 فیصد رہی جبکہ گروتھ کا ہدف 3.7 فیصد تھا، تعلیم کے شعبے کی گروتھ 3.5 فیصد ہدف کے مقابلے میں 4.43 فیصد رہی، انسانی صحت اور سوشل ورک سرگرمیوں کی گروتھ 3.2 فیصد ہدف کے مقابلے میں 3.71 فیصد رہی، ٹرانسپور ٹ اسٹو ر یج اینڈ کمیونیکیشنز کی گروتھ 3.3 فیصد ہدف کے بر عکس 2.2 فیصد رہی، پبلک ایڈمنسٹریشن اور سوشل سیکورٹی کے شعبے کی گروتھ 3.4 فیصد ہدف کے مقا بلے میں 9.92 فیصد رہی۔

  • بھارت نے بارہا ہماری امن پسندی کو کمزوری سمجھا،چیئرمین سینیٹ

    بھارت نے بارہا ہماری امن پسندی کو کمزوری سمجھا،چیئرمین سینیٹ

    چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ نے کہا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا، اگر پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو اسے پاکستان کے خلاف اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔

    ملتان میں نیوز کانفرنس سے خطاب میں یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے جو امن کی خواہش رکھتا ہے، لیکن بھارت نے بارہا ہماری امن پسندی کو کمزوری سمجھاپہلگام واقعے کے بعد ہم نے آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کی، مگر بھارت نے اس کے بجائے پاکستان پر حملہ کر دیا، جس کے بعد ہمیں اپنے دفاع میں بھرپور جواب دینا پڑا۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف ہم ڈٹ کر کھڑے ہیں اور کسی بھی یکطرفہ اقدام کو قبول نہیں کریں گےہم نے دنیا کے سامنے پاکستان کا موقف واضح انداز میں رکھا، عالمی برادری نے ہمارے مؤقف کی تائید کی اور بھارت کے بیانیے کو مسترد کر دیا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے امن کے بجائے جنگ کو فوقیت دی ہے،حافظ نعیم الرحمن

    انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے، لیکن اپنی خودمختاری اور پانی جیسے بنیادی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں، یوسف رضا گیلانی نے قوم کو اتحاد کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہے تو سیاست ہےہم سب کی ذمہ داری ہے کہ مل کر ملک کو مضبوط بنائیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے امن کے بجائے جنگ کو فوقیت دی ہے،حافظ نعیم الرحمن

  • پاکستان 22 جولائی کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالے گا

    پاکستان 22 جولائی کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالے گا

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ 22 جولائی کو پاکستان کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی صدارت ملے گی۔

    ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ جولائی کے لیے ہم نے کثیر الجہتی کے ذریعے عالمی امن کا فروغ اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل موضوع چنا ہے۔ اس میں ہم اپنا پرامن کردار ادا کریں گے۔

    واضح رہے کہ پاکستان یکم جنوری 2025 سے آٹھویں بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے ذمے داریاں نبھا رہا ہے-

    بھارتی میڈیا بھرپور طریقے سے فیک نیوز کا سہارا لیتا ہے،عطا تارڑ

    گزشتہ برس جون میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 193 ارکان میں سے 182 نے پاکستان کو اگلے دو برس کے لیے سلامتی کونسل میں ایشیا بحرالکاہل کی دو نشستوں میں سے ایک کے لیے منتخب کیا تھاپاکستان کو یہ اعزاز آٹھویں بار حاصل ہو رہا ہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل رکن ممالک کو ویٹو پاور حاصل ہےتاہم غیر مستقل رکن کی بھی اپنی ایک حیثیت ہوتی ہے کیوں کہ کونسل میں اتفاق رائے سے کام کیا جاتا ہے،پاکستان اپنی غیر مستقل رکنیت سے غزہ، افغانستان، شام، اور لبنان کی موجودہ صورت حال میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

    بلاول بھٹو نے نریندر مودی کو نیتن یاہو کی سستی کاپی قرار دیا

  • بلال بن ثاقب کی امریکا میں اہم ملاقاتیں

    بلال بن ثاقب کی امریکا میں اہم ملاقاتیں

    پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے کرپٹو و بلاک چین اور پاکستان کرپٹو کونسل کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر بلال بن ثاقب نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈیجیٹل اثاثہ جات کی کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رابرٹ بو ہائنس سے ملاقات کی۔

    اس ملاقات کا مقصد پاکستان اور امریکا کے درمیان ڈیجیٹل اثاثوں، بٹ کوائن کے مستقبل، اور بلاک چین کے غیر مرکزی ڈھانچے پر مشترکہ تعاون کو فروغ دینا تھا، بلال بن ثاقب نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ پاکستان گلوبل ساؤتھ میں ڈیجیٹل اثاثوں کا قائد بنے ہم نے نہ صرف اسٹرٹیجک بٹ کوائن ریزرو قائم کی بلکہ کرپٹو مائننگ اور مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ڈیٹا زونز کےلیے قومی سطح پر بنیادی ڈھانچے کو کھول کر ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کےلیے عملی بنیادیں رکھ دی ہیں۔

    نااہلی ریفرنس: عمر ایوب کو وکیل مقرر کرنے کی مہلت

    ملاقات میں دونوں ممالک نے ڈیجیٹل اثاثہ جات میں اشتراک، ضابطہ جاتی ہم آہنگی اور نئی مالیاتی ٹیکنالوجیز کے فروغ میں تعاون کی خواہش ظاہر کی، اس کے علاوہ ایسے اقدامات پر بھی غور کیا گیا جو نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور بلاک چین کے ذریعے معیشت میں شمولیت کو تیز کرسکیں۔

    بلال بن ثاقب نے اس موقع پر وائٹ ہاؤس کے قانونی مشیران کے دفتر سے بھی ملاقات کی۔

    واضح رہے کہ رابرٹ ہائنس اس وقت وائٹ ہاؤس میں صدر کی مشاورتی کونسل برائے ڈیجیٹل اثاثہ جات کے سربراہ ہیں اور وہ ڈیجیٹل مالیاتی نظام، جدید کرپٹو ضوابط اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر امریکی پالیسی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں انہیں صدر ٹرمپ نے جنوری 2025 میں اس عہدے پر تعینات کیا تھا، جہاں وہ چیئرمین ڈیوڈ ساکس کے ساتھ مل کر امریکا کو کرپٹو اور بلاک چین حکمتِ عملی میں عالمی رہنما بنانے پر کام کر رہے ہیں۔

    بچوں کی سلامتی کو یقینی بنانا اجتماعی ذمہ داری ہے،وزیر اعلیٰ پنجاب

    یاد رہے کہ پاکستان کی نئی ڈیجیٹل حکمت عملی کے تحت 2,000 میگاواٹ بجلی کو بٹ کوائن مائننگ اور AI ڈیٹا زونز کے لیے مختص کیا جا رہا ہے تاکہ ملک کی اضافی توانائی کو معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور جدید ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر میں تبدیل کیا جاسکے۔

  • ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے لیے 80 کروڑ ڈالر کی منظوری دے دی

    ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے لیے 80 کروڑ ڈالر کی منظوری دے دی

    ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے لیے 80 کروڑ ڈالر کے مالیاتی پیکج کی منظوری دے دی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پیکج ریسورس موبلائزیشن ریفارم پروگرام (سب پروگرام دوم) کے تحت فراہم کیا جائے گا،پیکیج میں 30 کروڑ ڈالر پالیسی بیسڈ لون (پی بی ایل) کی صورت میں اور 50 کروڑ ڈالر پروگرام پر مبنی گارنٹی (پی بی جی) کی صورت میں شامل ہیں۔

    وزارت خزانہ نے کہا کہ یہ اہم پیشرفت وزارتِ اقتصادی امور اور وزارتِ خزانہ کی مشترکہ سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے، اس اقدام کا مقصد ملکی وسائل کو مؤثر طریقے سے متحرک کرنا اور مالیاتی اصلاحات کے ذریعے معیشت کو استحکام دینا ہے،اس مالی تعاون سے ٹیکس نظام کو بہتر بنانے، محصولات میں اضافے اور معاشی نظم و ضبط کو فروغ دینے میں مدد ملے گی، اس پروگرام کے ذریعے نہ صرف آمدنی کے ذ رائع میں وسعت آئے گی، پروگرام معاشی خودمختاری کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

  • مستقبل میں پاک بھارت تنازع صرف مخصوص علاقوں تک محدود نہیں رہے گا،جنرل ساحر شمشاد

    مستقبل میں پاک بھارت تنازع صرف مخصوص علاقوں تک محدود نہیں رہے گا،جنرل ساحر شمشاد

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا ہے کہ بھارت کے خلاف 96 گھنٹوں کی لڑائی مکمل طور پر اپنے وسائل سے لڑی۔

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحرشمشاد مرزا نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا بھارت کیساتھ کشیدگی کےدوران کہیں سےکوئی مدد نہیں حاصل کی گئی،ہم نےصرف پاکستان کی اندرونی صلاحیتوں پرانحصار کیا گیا، ہم نے جو آلات استعمال کیے وہ ایسے ہی ہیں جیسے انڈیا کے پاس ہیں، ہم نےکچھ ساز و سامان دوسرے ملکوں سے خریدا ہے۔

    کراچی میں زلزلے کے جھٹکوں کا سلسلہ جاری

    انہوں نےکہا پہلے متنازعہ علاقے میں جھڑپیں ہوتی تھی،بین الاقوامی سرحد تک نہیں پہنچتی تھیں،اس بار سرحدوں پر نسبتاً سکون رہا اور شہروں میں کشیدگی تھی،مستقبل میں تنازع صرف مخصوص علاقوں تک محدود نہیں رہے گا، پاکستان اور انڈیا کے درمیان تنازعات کو حل کرنے کیلئے کوئی مؤثر اور منظم طریقہ کار موجود نہیں، ہنگامی رابطوں کیلئےصرف ڈی جی ایم اوز کی ہاٹ لائن ہی انحصار ہوتا ہے، آپ کا واسطہ انتہا پسند ذہنیت کے ساتھ ہو تو عالمی برادری کے پاس مداخلت کے لیے محدود وقت ہوتا ہے،اس بار امریکہ اور دیگر مما لک نے کیا، وہ مہلت بھی اب بہت محدود ہو چکی ہے۔

    ٹک ٹاکر ثنا یوسف کا قاتل گرفتار

  • پاکستان امن اور تعمیری روابط کے لیے پرعزم ہے، دفتر خارجہ

    پاکستان امن اور تعمیری روابط کے لیے پرعزم ہے، دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے بھارتی قیادت کے حالیہ بیانات کو گہری تشویش کا باعث قرار دیا ہے-

    دفتر خارجہ نے بھارتی ریاست بہار میں بھارتی قیادت کی جانب سے دیے گئے بیانات اور بھارتی وزارت خارجہ کے 29 مئی 2025 کے بیان پہ ردعمل میں کہا کہ یہ بیانات ایک ایسی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں جو امن کی بجائے دشمنی کو ترجیح دیتی ہے، پاکستان کو علاقائی عدم استحکام کے منبع کے طور پر پیش کرنا حقیقت سے انحراف ہے، اور عالمی برادری بھارت کے جارحانہ رویے اور عزائم سے بخوبی واقف ہے۔

    اسرائیلی حریف کو ہرانے کے بعد آئرش فائٹر کا ’فلسطین آزاد کرو‘ کا نعرہ

    انہوں نے کہا کہ بھارت کھوکھلے بیانیے یا منفی پروپیگنڈے سے زمینی حقائق کو نہیں چھپا سکتاجموں و کشمیر کا تنازع اب بھی جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، پاکستان کشمیرپر اپنے مؤقف پر ڈٹا رہے گا اور پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق اس تنازع کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا، پاکستان امن اور تعمیری روابط کے لیے پرعزم ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہے۔

    بلاول بھٹو کی قیادت میں پاکستانی وفد کے دوروں پر دفتر خارجہ کا بیان