Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • جوڈیشل کمیشن نے جسٹس بابرستاراورجسٹس طارق جہانگیری کوپکّا کرنے کی منظوری دے دی

    جوڈیشل کمیشن نے جسٹس بابرستاراورجسٹس طارق جہانگیری کوپکّا کرنے کی منظوری دے دی

    اسلام آباد :جوڈیشل کمیشن نے جسٹس بابرستاراورجسٹس طارق جہانگیری کوپکّا کرنے کی منظوری دے دی ،اطلاعات کے مطابق جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار اور جسٹس طارق جہانگیری کی مستقلی کی منظوری دے دی۔

    چیف جسٹس پاکستان کی زیرِ صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا جس میں جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق نے شرکت کی جبکہ جسٹس مقبول باقر اور جسٹس ریٹائرڈ سرمد جلال عثمانی بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہوئے۔

    اجلاس میں پاکستان بار کی جانب سے ممبر اختر حسین اور اسلام آباد بار کی جانب سے رفیع الدین بابر نے شرکت کی۔

    جسٹس طارق محمود جہانگیری کون؟

    ہزارہ ڈویژن خیبر پختون خواہ سے تعلق رکھنے والے طارق محمود جہانگیری 1992 سے اسلام آباد بار کے رکن ہیں اور انہوں نے بی اے ایل ایل بی کے بعد اپنی وکالت کا آغاز کیا اور بتدریج تجربے کی بنیاد پر ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ کے وکیل بنے۔

    پچپن سالہ طارق محمود جہانگیری فوجداری و دیوانی مقدمات کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ کچہری وکالت کے دوران 2005 میں ڈسٹرکٹ بار کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ جب کہ 2009 اور 2010 میں ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب کے فرائض بھی سرانجام دے چکے ہیں۔

    2011-2013 میں ڈپٹی اٹارنی جنرل آف پاکستان کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ 2016 میں اسلام آباد بار کے صدر جب کہ 2017 میں ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد رہ چکے ہیں۔ طارق محمود جہانگیری اسلام آباد میں واقع قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ قانون میں گزشتہ پانچ سال سے تدریسی فرائض بھی سرانجام دے رہے تھے۔

    طارق محمود جہانگیری احتساب عدالت میں مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کے وکیل کے طور پہ بھی پیش ہوتے رہے ہیں۔

    جسٹس بابر ستار:

    اسلام آباد کے رہائشی 45 سالہ بابر ستار مشہور وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ کالم نگار ہیں اور نجی ٹی وی چینل پر پروگرام میں تجزیہ بھی کرتے رہے ہیں۔

    جسٹس بابر ستار نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے1997 میں انٹرنیشنل ریلیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اس کے بعد انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے وکالت کی بیچلر ڈگری جب کہ ہارورڈ سکول آف لا سے ایل ایل ایم یعنی قانون کی ماسٹر ڈگری بھی حاصل کی۔

    بابر ستار کارپوریٹ اور ٹیکس سیکٹر کے اچھے وکیل سمجھے جاتے ہیں۔ مختلف مقدمات میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی ، پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اور ایس ای سی پی کے بھی وکیل رہ چکے ہیں۔

    واضح رہے بابر ستار جسٹس قاضی فائز عیسی کیس میں اُن کی قانونی ٹیم کا حصہ بھی رہے ہیں جبکہ صحافی مطیع اللہ جان کیس توہین عدالت کیس میں بھی بابر ستار بطور وکیل پیش ہوئے۔

    بابر ستار ٹویٹر پر پونے چار لاکھ فالوورز کے ساتھ کافی فعال نظر آتے رہے ہیں اور سول سپرمیسی پہ یقین رکھتے ہیں۔ز جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار کو مستقل کرنے کی سفارش کی۔

    خیال رہے کہ گزشتہ سال جسٹس بابر ستار اور جسٹس طارق محمود جہانگیری کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں بطور ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا تھا۔جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابرستاراورجسٹس طارق جہانگیری کی مستقلی کی منظوری دے دی

  • لاہور میں ٹرین روک کردہی لینے جانے  پر ڈرائیورزکومعطل کردیاگیا

    لاہور میں ٹرین روک کردہی لینے جانے پر ڈرائیورزکومعطل کردیاگیا

    اسلام آباد(محمداویس)ٹرین روک کردہی لینے جانے والے ڈرائیورزکومعطل کردیاگیا،سوشل میڈیا پر ویڈیو وائر ل ہونے کے بعدوزیرریلوے نے دونوں ڈرائیوروں کومعطل کرنے کاحکم دیا،اگر آئندہ بھی کو ئی ایسا واقعہ پیش آیاتواس کے خلاف بھی سخت ایکشن لیاجائے گا۔منگل کووفاقی وزیر ریلوے محمد اعظم خان سواتی کا سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیو پر ایکشن لیے لیا۔

     

     

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز لاہور ڈویڑن میں کاہنہ کاچھا ریلوے اسٹیشن کے قریب انجن نمبر 5217 کا اسسٹنٹ ڈرائیور ٹرین روک کر دہی لینے کے لیے بازار گیا۔ وفاقی وزیر ریلوے محمد اعظم خان سواتی نے ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر ٹرین ڈرائیور رانا محمد شہزاد اور افتخار حسین اسسٹنٹ ڈرائیور کو معطل کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔

     

     

    وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی نے کہاکہ اس طرح کے واقعات مستقبل میں بھی برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ اگر آئندہ بھی کو ئی ایسا واقعہ پیش آیاتواس کے خلاف بھی سخت ایکشن لیاجائے گا۔ پاکستان ریلوے قومی امانت ہے اس کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

     

     

  • اقوام متحدہ کے بعد انٹرنیشل میری ٹائم آرگنائزیشن میں قرآن پاک کی تلاوت

    اقوام متحدہ کے بعد انٹرنیشل میری ٹائم آرگنائزیشن میں قرآن پاک کی تلاوت

    کراچی :تبدیلی اسے کہتے ہیں‌:وزیراعظم کے ساتھی بھی قرآن پڑھ پڑھ کردنیا کوسمجھانے لگے،اطلاعات کے مطابق وزیربحری امور علی زیدی نے آئی ایم او میں اپنے خطاب کا آغاز قرآنی آیات سے کیا اور آئی ایم او کونسل کی رکنیت کیلئے رکن ممالک سے حمایت مانگ لی۔

    تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کے بعد انٹرنیشل میری ٹائم آرگنائزیشن میں بھی قرآنی آیات کی گونج سنائی دی ، وزیربحری امور کی جانب سے آئی ایم او کنونشن میں اپنے خطاب کا آغاز قرآنی آیات سے کیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے وزیر بحری امور علی حیدر زیدی نے خطاب کے آغاز میں قرآن پاک کی سورہ رحمٰن میں سمندر کے حوالے سے آیات کا ترجمہ کیا۔

    وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے اہم خطاب میں کہا کہ پاکستان عالمی بحری برادری کا فعال حصہ اور متحرک ترین رکن ہے، 1958 سے پاکستان آئی ایم او کی ہر سطح اور نوعیت کی سرگرمیوں میں شریک رہا ہے۔

    علی حیدر زیدی نے بتایا کہ 2 لاکھ نوے ہزار مربع کلومیٹر کے اقتصادی زون اور 11 سو کلومیٹر کی ساحلی پٹی کیساتھ پاکستان دنیا کی مصروف ترین سمندری گزرگاہ کے سنگم پر واقع ہے۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ایس ڈی جیز اور آئی ایم او اسٹریٹیجیک اہداف کے حصول میں اپنا حصہ ڈالنے کیلئے پاکستان پرعزم اور متحرک ہے، آئی ایم او ممالک کے مابین علوم و مہارت کا تبادلہ وقت کی اہم ضرورت ہے، پاکستان آئی ایم او میری ٹائم ریسرچ فنڈ کے اجراء و قیام کی پرزور تائید کرتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کوروناء کی عالمی وباء کے دوران پاکستان نے نہایت مؤثر اقدامات کے ذریعے عالمی بحری تجارت کو بندشوں سے بچایا،غیرمعمولی صورتحال کے باوجود بندرگاہوں کو فعال اور کھلا رکھنا پاکستان ہی کا اعجاز ہے۔

    وزیر بحری امور نے مزید کہا کہ ملکی اور غیرملکی جہاز رانوں کو وباء سے بچانے کیلئے مفت کوروناء ویکسین دی گئی اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے، نومبر 2021 تک وزارت بحری امور نے کراچی کے ساحلی شہر میں 5 لاکھ لوگوں کو ویکسین دی اور 2022 کے بہار تک 10 لاکھ لوگوں کو ویکسین لگائی جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان نے ماحولیات کے تحفظ کے لئے غیر معمولی اقدامات اٹھائے ہیں، وزارت بحری امور اپنے زیرانتظام حصے کو کاربن سے پاک کرنے کی راہ پر گامزن ہے، علی حیدر زیدی

    علی زیدی نے کہا اپنے ساحلوں کی حفاظت کیلئے پاکستان نے 70 لاکھ مینگروز اگائے ہیں، یہ مینگروز زمینی کٹاؤ روکنے کے ساتھ آبی حیات کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔

    وزیر بحری امور کا کہنا تھا کہ صاف پانیوں میں محفوظ جہاز رانی کے حوالے سے پاکستان کے عزم کے پیش نظر آئی ایم او رکن ممالک کیٹیگری سی کیلئے بطور امیدوار پاکستان کی حمایت کریں۔

  • عامر لیاقت "پاکستانی بگ باس” طرز کا شو کرنے کو تیار

    عامر لیاقت "پاکستانی بگ باس” طرز کا شو کرنے کو تیار

    ٹی وی میزبان ڈاکٹرعامر لیاقت حسین ایک بار پھر چھوٹی اسکرین پر طویل عرصے بعد متنازع شو کی میزبانی کرتے دکھائی دیں گے۔

    باغی ٹی وی : عامر لیاقت حسین پہلی بار کسی ریئلٹی شو کی میزبانی کرتے دکھائی دیں گے، ماضی میں وہ ٹاک شوز، مذہبی پروگرامات اور گیم شوز کی میزبانی کرتے رہے ہیں اور اب جلد ہی ’بول ٹی وی‘ پر بھارت کے متنازع ترین ریئلٹی شو ’بگ باس‘ کی طرز کا پروگرام ’بول ہاؤس‘ کرتے دکھائی دیں گے۔

    ٹی وی چینل کی جانب سے شیئر کیے گئے پروگرام کے ٹریلر سے عندیہ ملتا ہے کہ مذکورہ شو بھارتی متنازع شو ’بگ باس‘ کا پاکستانی ورژن ہوگا، جس میں شرکت کرنے والے مہمانوں کو ایک ماہ تک پروگرام کے سیٹ کے اندر ہی رہنا پڑے گا۔

    فوٹو :سکرین شاٹ

    ٹریلر میں عامر لیاقت حسین بتاتے سنائی دیتے ہیں کہ پروگرام میں شرکت کرنے والے افراد کو ایک ماہ تک ’بول ہاؤس‘ میں رہنا ہوگا اور انہیں صرف موبائل فون دیا جائے گا۔

    ٹریلر میں عامر لیاقت حسین نے بتایا کہ وہ جلد ہی مذکورہ پروگرام کی میزبانی کرتے دکھائی دیں گے، تاہم انہوں نے واضح نہیں کیا کہ شو کو کب تک نشر کیا جائے گا۔

    فوٹو :سکرین شاٹ
    ٹریلر میں ’بول ہاؤس‘ میں موجود پرتعیش سہولیات کی جھلکیاں بھی دکھائی گئیں، عالیشان ہاؤس میں سوئمنگ پول، جیم، گراؤنڈ اور بیڈ رومز سمیت دیگر سہولیات شامل ہیں۔

    فوٹو :سکرین شاٹ
    ٹی وی چینل کی جانب سے شو کا ٹریلر شیئر کیے جانے پر لوگوں نے اسے ’بگ باس‘ کی پاکستانی کاپی قرار دیا جب کہ بعض لوگوں نے مطالبہ کیا کہ مذکورہ پروگرام کی میزبانی وقار ذکا کو دی جائے۔

    فوٹو :سکرین شاٹ
    شو کے ٹریلر پر کئی لوگوں نے کمنٹس کرتے ہوئے عامر لیاقت پر تبصرے بھی کیے اور لکھا کہ انہیں امید ہے کہ رکن قومی اسمبلی ساحر لودھی کو بھی پیچھے چھوڑ دیں گے۔

    فوٹو :سکرین شاٹ
    بعض افراد نے شکوہ کیا کہ ٹی وی پر دانش تیمور کا اچھا خاصا شو چل رہا تھا، اسے بند کرکے عامر لیاقت کا شو لے کے آ رہے ہیں۔


    فوٹو :سکرین شاٹ
    کچھ لوگوں نے عامر لیاقت کی میزبانی پر بھی تنقید کی اور توبہ مانگی کہ اب انہیں دیکھنا باقی رہ گیا تھا۔

  • اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی

    اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی

    بیجنگ : اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی ،اطلاعات کے مطابق ایک طرف روس اور امریکہ کے درمیان حالات خراب ہورہے ہیں تو دوسری طرف امریکہ اور چین کے درمیان بھی سفارتی جنگ اس وقت عروج پر ہے ، امریکہ نے چین میں ہونے والے اولمپکس مقابلوں‌ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے جس پر چین نے امریکہ کی جانب سے 2022 کے سرمائی اولمپکس کے سفارتی بائیکاٹ کو واشنگٹن کا ’نظریاتی تعصب‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکی سفارتی بائیکاٹ اہم شعبوں میں دو طرفہ مذاکرات اور تعاون کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    پیر کو وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ چین کی جانب سے انسانی حقوق کی ’خلاف ورزیوں‘ کی وجہ سے، بیجنگ میں ہونے والے 2022 کے سرمائی اولمپکس کا بائیکاٹ کرے گی۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی کھلاڑی اب بھی کھیلوں میں موجود ہوں گے لیکن کوئی باضابطہ سرکاری وفد نہیں بھیجا جائے گا۔

    وائٹ ہاؤس کے بیان کے ردعمل میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ چین اس سفارتی بائیکاٹ کی خالفت کرتا ہے اور ’مضبوط جوابی اقدامات‘ کرے گا۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے بیجنگ میں نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا: ’جھوٹ اور افواہوں پر مبنی، نظریاتی تعصب کی بنیاد پر بیجنگ سرمائی اولمپکس میں مداخلت کرنے کی امریکی کوشش صرف (اس کے) مذموم عزائم کو بے نقاب کرے گی

    انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ کھیلوں میں سیاست کو لانا بند کرے کیونکہ بائیکاٹ اولمپک اصولوں کے خلاف ہے۔

    امریکہ کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کئی ماہ سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ بائیڈن انتظامیہ سرمائی اولمپکس کو چین پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرنے کے لیے دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کرے گی۔

    حالیہ برسوں میں امریکہ نے کھیلوں میں شرکت نہ کرنے کا ایسا فیصلہ کبھی نہیں کیا۔ اس سے قبل اوباما انتظامیہ نے 2014 میں روس میں ہونے کھیلوں کے دوران اعلیٰ حکام کو نہیں بھیجا تھا لیکن ان کے متبادل وفد بھیجا گیا تھا۔

    ادھر بائیڈن انتظامیہ چینی حکومت کی جانب سے اویغور مسلم اقلیت کے ساتھ برتاؤ پر بڑی نقاد کے طور پر سامنے آئی ہے۔ خاص طور پر سنکیانگ کے علاقے میں جہاں بین الاقوامی حقوق کے گروپوں نے الزام لگایا ہے کہ شہری مسلسل نگرانی میں رہتے ہیں۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے یہ مسئلہ چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ بھی اٹھایا ہے جبکہ وائٹ ہاؤس ترجمان جین ساکی نے پیر کو اس معاملے پر اپنے مختصر بیان کے دوران خاص طور پر سنکیانگ کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت کی تھی کہ خطے میں مبینہ طور پر ہونے والے ’مظالم‘ اور ’نسل کشی‘ نے بائیڈن انتظامیہ کے فیصلے کو ہوا دی۔

    اسی طرح امریکہ اور چین کے مابین تائیوان کے معاملے پر بھی کشیدگی پائی جاتی ہے، جس سے تاثر ملتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاملات کشیدہ ہیں۔

    دوسری جانب چین میں کھیلوں کے بائیکاٹ کے مطالبات حالیہ ہفتوں میں چینی ٹینس سٹار پینگ شوائی کے حوالے سے تنازعے کے ساتھ مزید بڑھ گئے ہیں، جنہوں نے حکمران جماعت کے ایک سیاست دان پر جنسی حملے کا الزام عائدکیا تھا اور اس کے بعد سے وہ بظاہر منظر عام سے غائب ہیں، جن کی حفاظت کے حوالے سے سابق اور موجودہ ٹینس سٹارز نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

  • اگرکچھ نہ کیا تو دنیا کی ایک چوتھائی آبادی کی آنکھیں جواب دے جائیں گی: عالمی ادارہ صحت کی پھروارننگ

    اگرکچھ نہ کیا تو دنیا کی ایک چوتھائی آبادی کی آنکھیں جواب دے جائیں گی: عالمی ادارہ صحت کی پھروارننگ

    نیویارک :عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق پوری دنیا میں اس وقت 2.2 ارب سے زیادہ افراد آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک میں ان کی تعداد، ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔ متاثرہ افراد میں سے 50 فیصد کا مرض قابل علاج ہے۔

    اگر مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو پوری دنیا میں نابینا افراد کی تعداد 2050 تک 11 کروڑ 50 لاکھ کا ہندسہ عبور کرسکتی ہے جو موجودہ تعداد کے مقابلے میں تقریباً تین گنا ہوگی۔ اس کے سالانہ نقصان کا تخمینہ 410.7 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

    جبکہ پاکستان میں 20 لاکھ سے زائد افراد بینائی سے محروم ہیں۔

    اگرکچھ نہ کیا تو دنیا کی ایک چوتھائی آبادی کی آنکھیں جواب دے جائیں گی: عالمی ادارہ صحت کی وارننگ،اطلاعات کے مطابق عالمی ادارہ صحت ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگرآنکھوں کی بیماروں سے متعلق احتیاط نہ برتی گئی تودنیا کی چوتھائی آبادی آنکھوں کے خطرناک امراض کی شکار ہوجائے گی جس کا نتیجہ خطرناک نکل سکتا ہے

    عالی ادارہ صحت کے مطابق ان میں سے نصف کیسز، یا ایک ارب کے قریب کیسز، روکے جا سکتے ہیں کیونکہ انہیں محض لاپرواہی (یا آگاہی کی کمی) کی وجہ سے نظر انداز کیا گیا تھا۔ڈبلیو ایچ او کی اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے نابینا پن یا بینائی سے محرومی کے کیسز میں ڈرامائی اضافہ ہو سکتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق دنیا میں تقریباً 1.8 بلین لوگ پری بائیوپیا کا شکار ہیں۔ اس بیماری میں لوگ آس پاس کی چیزیں نہیں دیکھ پاتے۔ یہ بیماری بڑھتی عمر کے ساتھ آتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ میوپیا (ایک بیماری جس میں لوگ دور کی چیزوں کو نہیں دیکھ سکتے) دنیا میں 2.6 بلین لوگوں میں موجود ہے۔اس میں سے 312 کروڑ مریض 19 سال سے کم عمر کے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا میں موتیا کے مریضوں کی تعداد 65 ملین اور گلوکوما کے مریضوں کی تعداد تقریباً 7 ملین ہے۔

    اگرچہ دنیا میں ٹریکوما کے مریضوں کی تعداد 20 لاکھ ہے اور یہ بیکٹیریل انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ بصارت کی خرابی سے جڑا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ معیار زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ اس کا اثر زیادہ ترمعمرافراد پر پڑتا ہے۔نابینا پن نہ صرف معاشی انحصار کو بڑھاتا ہے اور پیداواری صلاحیت کو کم کرتا ہے بلکہ یہ معیشت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی دستاویز میں لکھا گیا ہے کہ بصارت کے نقصان اور علاج نہ کیے جانے والے مایوپیا سے عالمی معیشت کو 244 بلین ڈالر اور پریس بائیوپیا کو 25.4 بلین ڈالر کی پیداواری نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

    اس رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ بصارت کی کمزوریوں کے کیسز زیادہ آمدنی والے طبقے کی نسبت کم اور درمیانی آمدنی والے طبقے میں زیادہ ہیں۔ دنیا کے کل بصارت سے محروم افراد (217 ملین) میں سے 62 فیصد صرف ایشیا میں ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر جنوبی ایشیا، مشرقی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت نے واضح طور پر کہا ہے کہ ان کا مرد یا عورت ہونے کے درمیان کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے۔ لیکن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موتیا بند اور trachomatous بیماریاں خواتین میں زیادہ پائی جاتی ہیں اور یہ بیماری کم اور درمیانی آمدنی والے گروپوں میں زیادہ دیکھی جاتی ہے۔اس معاملے میں دیہی اور شہری فرق بھی ہے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ ملک کے دیہی علاقوں میں موتیا بند کے زیادہ کیسز ہیں اور ان کے آپریشن کی کوریج بھی کم ہے۔

    یاد رہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ، آنکھوں کی مناسب دیکھ بھال انتہائی ضروری ہے،یہ بھی یاد رہےکہ انہیں حقائق کی حساسیت سے متعلق ڈبلیو ایچ او نے دو سال قبل اپنی پہلی ورلڈ ویژن رپورٹ میں متنبہ کیا تھا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی آبادی کا مطلب نابیناپن میں بے اضافہ ہونا ہے۔اب تازہ رپورٹ میں عالمی ادارہ صحت نے خبردارکرتے ہوئے عالمی قوتوں کواس پرفی الفور کام کرنے پر زور دیا ہے ،

  • دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:یوکرین پرمتوقع روسی حملہ:امریکہ واتحادی جوابی حملےکے لیےتیار

    دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:یوکرین پرمتوقع روسی حملہ:امریکہ واتحادی جوابی حملےکے لیےتیار

    واشنگٹن :دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:یوکرین پرمتوقع روسی حملے کے لیے امریکہ واتحادی جواب کے لیےتیار،اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو امریکہ مشرقی یورپ میں اپنی فوج کی موجودگی بڑھا دے گا اور روس کو اس کی جانب سے ’شدید اقتصادی نقصان‘ کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    یوکرین کے معاملے پر پچھلے 24 گھنٹوں سے صورت حال بڑی ہے اہمیت اختیار کرگئی ہے ، آج بھی وائٹ ہاوس اور پینٹا گان میں بڑی بڑے اہم اجلاس جاری ہیں‌ اس سلسلے میں‌ کل صحافیوں سے ایک پریس کال میں انتظامیہ کے سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو نیٹو کے مشرقی اتحادی اضافی فوجیوں اور صلاحیتوں کی درخواست کریں گے اور امریکہ فراہم کرے گا۔

    یہ بھی یاد رہے کہ یوکرین پر روسی متوقع حملے کے بارے میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس بھی ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ اگر روس یوکرین سے پیچھے نہیں ہٹتا، اس کی خودمختاری اور آزادی کے لیے خطرہ بنتا ہے تو ہم اور ہمارے اتحادی کارروائی کے لیے تیار ہوں گے۔‘ وائٹ ہاؤس کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آج یعنی منگل کو امریکی صدر جو بائیڈن روسی صدر ولادی میر پوتن کے درمیان ویڈیو کال متوقع ہے۔

    ذرئع کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا کہ صدر بائیڈن صدر پوتن کو اس کال کے دوران خبردار کریں گے کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو اسے سنگین اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہونے جا رہے ہیں جب یوکرین کی سرحد پر دسیوں ہزار فوجی جمع ہونے کے بعد امریکہ روس کو یوکرین کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرنے سے باز رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    ادھر اس حوالے سے روسی صدر ولادی میر پوتن کے ساتھ اپنی ورچوئل ملاقات سے قبل بائیڈن نے پیر کو فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے رہنماؤں سے بھی بات کی، جس کے بعد مغربی طاقتوں نے اس ’عزم‘ کا اظہار کیا کہ یوکرین کی خودمختاری کا احترام کیا جائے گا۔

    ایک سینیئر امریکی عہدیدارنے دعویٰ‌کیا ہے کہ امریکی صدر اپنے یوکرینی ہم منصب ولادو میر زیلنسکی کو بھی فوری طور پر پوتن کے ساتھ اپنی بات چیت کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے، جو منگل کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہو رہی ہے، کیونکہ دسیوں ہزار روسی فوجی یوکرین کی سرحد کے قریب تعینات ہیں۔ مذکورہ عہدیدار نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کو نہیں معلوم کہ آیا پوتن نے یوکرین کے خلاف اپنی فوجی دستوں کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے یا نہیں، تاہم وہ براہ راست امریکی مداخلت کی دھمکی دینے سے باز رہے۔

    اس امریکی عہدیدار نے بڑے وثوق سے کہا کہ اگر روس نے حملہ کیا تو امریکہ اور یورپی اتحادی سخت ’جوابی معاشی اقدامات‘ کرسکتے ہیں جو روسی معیشت کو اہم اور شدید اقتصادی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’اس کے علاوہ صدر بائیڈن یہ واضح کریں گے کہ اگر پوتن پیش قدمی کرتے ہیں تو مشرقی خطے کے اتحادیوں کی طرف سے اضافی افواج، دفاعی صلاحیتوں اور مشقوں کے لیے موجود درخواست پر امریکہ کی طرف سے مثبت جواب ملے گا۔

    وائٹ ہاؤس نے یورپی رہنماؤں کے ساتھ بائیڈن کی بات چیت کے بعد ایک بیان میں کہا کہ مکمل بات چیت میں روس سے کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ڈونباس میں تنازع کو حل کرنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہے۔ یوکرین کے مطابق روس کی سرحد کے قریب ایک لاکھ کے قریب فوجی موجود ہیں۔

    دوسری جانب روس کسی بھی جنگی ارادے کی تردید کرتا ہے اور مغرب پر اشتعال انگیزی کا الزام لگاتا ہے، خاص طور پر بحیرہ اسود میں فوجی مشقوں کے ساتھ، جسے وہ اپنے اثر و رسوخ کے ایک حصے کے طور پر دیکھتا ہے۔ پوتن مغرب سے یہ وعدہ چاہتے ہیں کہ یوکرین نیٹو کا حصہ نہیں بنے گا، جو سابق سوویت یونین کا مقابلہ کرنے کے لیے بنایا گیا ٹرانس اٹلانٹک اتحاد ہے۔

    پینٹاگون نے واضح کیا ہے کہ وہ روسی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کو ایک سنگین خطرے کے طور پر لے رہا ہے۔ روس کے صدر کے دفتر نے پیر کو کہا تھا کہ ماسکو بائیڈن- پوتن کال سے کچھ زیادہ توقعات نہیں رکھتا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کے مطابق ہے کہ امریکہ اب بھی سمجھتا ہے کہ روس اور مغرب کے درمیان یوکرین کی روس نواز علیحدگی پسندوں کے ساتھ جنگ ​​بندی پر عمل درآمد سے متعلق منسلک معاہدے ممکن تھے۔

    ترجمان کی طرف سے یہ بھی کہاگیا ہے کہ ہمیں یقین ہے کہ اس مسئلے کو سفارتی طور پر حل کرنے کے لیے ہمارے سامنے ایک موقع، ایک آپشن موجود ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ اگر روس اس میں دلچسپی ظاہر نہیں کرتا تو امریکہ ’بھاری اثرات والے اقتصادی اقدامات کو لاگو کرنے کے لیے تیار ہے، جو ہم نے ماضی میں استعمال کرنے سے گریز کیا ہے۔‘

     

     

  • وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع:اہم فیصلے متوقع

    وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع:اہم فیصلے متوقع

    اسلام آباد:وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع:اہم فیصلے متوقع ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع ہوگیا۔اجلاس میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔اجلاس میں سیالکوٹ سانحہ پر بھی بات چیت کی جائے گی، سیالکوٹ سانحہ پر ملزمان کے خلاف کاروائی پر کابینہ ارکان کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس کا 17 نکاتی ایجنڈہ جاری کر دیا گیا ۔

    ذرائع کے مطابق آج وزیراعظم کی صدارت میں کابینہ کو وزارتوں اور اداروں میں سی ای اوز اور ایم ڈیز کی خالی آسامیوں پر بریفنگ دی جائے گی،سکائی ونگز پرائیویٹ لمیٹڈ کو ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل فلائیٹ لائسنس کے اجرا کی منظوری دی جائے گی،افغان باشندوں کو کسی تیسرے ملک میں جانے کے لیے زمینی یا فضائی محفوظ راستہ دینے کی منظوری دی جائے گی۔

    اجلاس میں انٹرنیشنل این جی اوز کے لیے ویزے کے طریقہ کار کی منظوری بھی ایجنڈے میں شامل کیا جائے گا جبکہ عمر سعید خان کو سیکیورٹی ایکٹ کے تحت نظر بند کیے جانے کی منظوری دی جائے گی۔وفاقی کابینہ اجلا س میں گیپکو اور ٹیسکو کے سی ای اوز کی تعیناتی کی منظوری بھی ایجنڈے میں شامل ہیں۔

    اجلاس میں پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کی مارکنگ فیس پر نظرثانی کی منظوری دی جائے گی،ڈی جی پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کراچی کی منظوری دی جائے گی۔کابینہ اجلاس میں اوگرا کی سال 2019-20 کی رپورٹ پیش کی جائے گی،کابینہ کمیٹی برائے نجکاری اور ای سی سی کے فیصلوں کی توثیق بھی کرے گی،

    کابینہ کمیٹی برائے لیجیسلیٹو کیسز کے فیصلوں کی توثیق کی جائے گی،کابینہ کو معاشی اعشاریوں کے حوالے سے بریفنگ بھی ایجنڈے میں شامل ہے ۔ اجلاس میں شعبہ زراعت کی 5 بڑی فصلوں سے متعلق کارکردگی پر بریفنگ دی جائے گی جبکہ یوریا فرٹیلائزر کی ٹی سی پی کے ذریعے درآمد سے متعلق رولز 2004 میں جزوی استثنیٰ کی منظوری دی جائے گی۔

  • ورلڈ کپ 2022 کا شیڈول آئندہ ماہ جا ری کرنے کا اعلان

    ورلڈ کپ 2022 کا شیڈول آئندہ ماہ جا ری کرنے کا اعلان

    کراچی: ٹی 20 ورلڈ کپ 2022 کا شیڈول آئندہ ماہ جاری کردیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : نجی خبر رساں ادارے کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اگلے سال آسٹریلیا میں شیڈول ٹی 20 ورلڈ کپ کا مکمل شیڈول 21 جنوری کو جاری کرنے کا اعلان کیا ہے مجموعی طور پر 16 اکتوبر سے 13 نومبر تک آسٹریلیا کے 7 وینیوز پر 45 میچز کھیلے جائیں گے-

    جن میں ایڈیلیڈ، برسبین، جیلونگ، ہوبارٹ، میلبورن، پرتھ اور سڈنی شامل ہیں۔ آسٹریلیا اپنے ہوم گراؤنڈز پر ٹائٹل کا دفاع کرے گا جو اس نے دبئی میں کھیلے گئے رواں برس کے ورلڈ کپ فائنل میں نیوزی لینڈ کو قابو کرکے جیتا تھا۔

    آئی سی سی کے مطابق مینز ٹی 20 ورلڈ کپ اب صرف 11 ماہ کی دوری پر ہے، شائقین جلد ہی میگا ایونٹ کیلیے اپنا پروگرام تیار کرسکتے ہیں ٹکٹوں کی فروخت 7 فروری سے شروع ہوگی۔

    دورہ پاکستان سے قبل ویسٹ انڈیز ٹیم کو بڑا جھٹکا

    ورلڈ کپ 2022 کا فائنل مصنوعی روشنیوں میں میلبورن کرکٹ گراؤنڈ پر 13 نومبر کو کھیلا جائے گا سیمی فائنلز کی میزبانی سڈنی کرکٹ گراؤنڈ اور ایڈیلیڈ اوول بالترتیب 9 اور 10 نومبر کو کریں گے۔

    یاد رہے کہ میزبان آسٹریلیا کے ساتھ پاکستان، نیوزی لینڈ، انگلینڈ، بنگلہ دیش، بھارت، افغانستان اور جنوبی افریقہ اپنی رینکنگ کی بنیاد پر پہلے ہی براہ راست سپر 12 راؤنڈ میں انٹری پا چکے ہیں، نمیبیا، اسکاٹ لینڈ، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز راؤنڈ 1 کھیلیں گے، دیگر 4 ٹیموں کا انتخاب 2 کوالیفائنگ ایونٹس کے ذریعے کیا جائے گا،پہلا فروری میں عمان اور دوسرا جولائی میں زمبابوے میں ہوگا-

    پی سی بی نے پاکستان ویسٹ انڈیز سیریز کیلئے ٹکٹوں کا اعلان کر دیا

    دوسری جانب آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کا سیکیورٹی وفد کرکٹ سیریز کے لیے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کراچی پہنچ گیا تین رکنی وفد 2روز کراچی میں قیام کرے گا سیکیورٹی وفد کے اراکین کراچی میں نیشنل اسٹیڈیم کے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیں گے وفد کو پی سی بی اور سیکیورٹی آفیشلز کی جانب سے بریفنگ دی جائے گی۔

    آسٹریلوی وفد کو ویسٹ انڈیز سیریز کے لئے کئے گئے اقدامات سے متعلق بھی آگاہ کیا جائے گا وفد لاہور اور راولپنڈی کی وینیوز کا بھی دورہ کرے گاسیکیورٹی وفد کی جانب سے سیکیورٹی کلیئرنس ملنے کے بعد ہی آسٹریلوی کرکٹ ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان آئندہ سال مارچ اور اپریل میں سیریز شیڈول ہے۔ آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم 24 سال بعد پاکستان کا دورہ کرے گی۔

    چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے کرکٹ شائقین کو خوشخبری سنادی

  • پاکستان میں مثبت کیسز کی شرح میں نمایاں کمی

    پاکستان میں مثبت کیسز کی شرح میں نمایاں کمی

    پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 7 افراد جاں بحق ہوگئے-

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 41ہزار62کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید 232 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    اومیکرون،15 ممالک کے شہریوں پاکستان کا سفر نہیں کرسکیں گے

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 12 لاکھ 87 ہزار393 جبکہ مجموعی اموات کی تعداد 28 ہزار 784 ہو گئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 0.56 فیصد رہی۔

    پاکستان:کرونا مزید 6 زندگیاں نگل گیا، 372 نئےکیسز رپورٹ:اومی کرون سے بچاوکی سخت حفاظتی تدابیر

    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 4 لاکھ 76ہزار958، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 80 ہزار412، پنجاب میں 4 لاکھ 43 ہزار560،اسلام آباد میں ایک لاکھ 7 ہزار960، بلوچستان میں 33 ہزار509، آزاد کشمیر میں 34 ہزار580 اور گلگت بلتستان میں 10 ہزار414 ہو گئی ہے۔

    اومی کرون کے خطرات منڈلانے لگے :بھارت اور جنوبی افریقا کے درمیان سیریز ملتوی

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 13 ہزار42افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 7 ہزار627، خیبرپختونخوا 5 ہزار864، اسلام آباد 961، گلگت بلتستان 186، بلوچستان میں 362 اور آزاد کشمیر میں 742 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔