Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • 14 اگست تحریک آزادی سے تحریک کشمیر تک —  محمد عبداللہ اکبر

    14 اگست تحریک آزادی سے تحریک کشمیر تک — محمد عبداللہ اکبر

    چودہ اگست نام سنتے ہی دل دماغ تھم جاتے ہیں اور ذہن چند دہائیاں قبل کے زمانے میں غوطے کھانے لگتا ہے۔
    نسلِ نو سے تعلق ہونے کی بنا پر کچھ جدت کی لہروں سے تھپیڑے کھا کے اس وقت بڑے ٹھنڈے جذبے سینے میں سموئے بیٹھا ہوں اس لیے شائد وہ والا خلوص، وہ جذبے، وہ ہمت کی داستانیں اور وہ جرات کے علمبرداروں کی ترجمانی میرا قلم اس شدت کے ساتھ نہ کر سکے۔
    ہاں بزرگوں سے وہ جذبے ان کی زبانی ضرور سن چکا ہوں۔ مجھے یاد ہے اپنا کچھ سال پرانا چودہ اگست جب چند الڑ سے جوان جو میرے ہی ہم عمر تھے بابا جی کے سامنے سے اپنے چہروں کو ہلال اور ستاروں سے مزین کئے ہوئے سائلنسر اتارے سیٹیاں بجاتے ہوئے گزرے۔
    میری نظریں گزرنے والے ان جوانوں کا تعاقب کرنے میں محو تھیں کہ اپنے پہلو سے انا للہ وانا الیہ راجعون کی آواز سنی۔ ایک لمحے کے لیے مڑ کے بابا جی کی طرف دیکھا تو یہ الفاظ انہی بابا جی کے تھے جنہوں نے تحریک آزادئ پاکستان میں اپنے جگر گوشوں کو آنکھوں کے سامنے ہندوں کے نیزوں پہ لٹکتے اور اپنی بیٹیوں کی دراؤں کو ان کی برچھوں کے ساتھ لہراتے  دیکھا۔
    میں بزرگوں کے اس جملے کا پس منظر بہت اچھے طریقے سے سمجھ گیا تھا پر پھر بھی سوال کر لیا کہ بابا جی آپ شائد کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ کہنے لگے بیٹا میں کچھ نہیں کہنا چاہتا لیکن بابا جی کی داڑھی کو تر کرنے والے آنسو مجھے بابا جی کے جذبات اور نکلنے والے الفاظ بہت اچھے انداز سے سمجھا چکے تھے کے بابا جی کیا کہنا چاہتے ہیں۔
    خیر بابا جی نے کہا بیٹا جب قوموں کی نوجوان نسل کو انکی مقصدیت اور نظریے سے دور کر دیا جائے تو ایسے واقعات کا اپنی آنکھوں کے سامنے ہونا کچھ بعید نہیں۔ کہتے پاکستان بنانے میں ہمارا کوئی کمال نہیں، یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اگر اللہ نے اس نعمت کو ہماری جھولی میں کچھ لے کے اور آپکی جھولی میں بنا کچھ لئے ڈال دیا ہے تو اس کے تقاضے آج کی نسل کے لیے اتنے ہی بڑے ہیں۔
    ان تقاضوں کو پورا کرنا ہے تو بس مقصدیت پاکستان اور نظریہ پاکستان کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
    تب ہی میں نے ان کے پاس کشمیر میں بننے والی حالیہ چند دنوں کی صورت حال کا تذکرہ کیا تو کہنے لگے کہ بیٹا کشمیری بڑے خالص جذبوں کے ساتھ کھڑے ہیں باقی جو اللہ کو جو منظور ہو گا وہی ہونا ہے۔

    یہ بات تو اٹل ہے کہ ظلم جب حد سے بڑھتا یے تو مٹ جاتا ہے۔ کشمیر میں چلنے والی حالیہ ظلم کی لہر اگرچہ بہت بڑی ہے پر آگے سے کشمیریوں کے جذبے بھی اتنے ہی بڑے ہیں یہی وجہ ہے کہ جنرل راوت نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ اعتراف کیا کہ سنگ باز لوگوں سے نمٹنا بندوق سے زیادہ مشکل ہے۔ اور اس نے یہ بات بھی کہی کہ ’’کاش سنگ بازوں کے ہاتھ میں بندوق ہوتی، کاش وہ ہم پر پتھر نہیں گولیاں چلاتے، پھر مجھے مزہ آتا پھر میں وہی کرتا جو میں چاہتا ہوں۔‘‘ اس جملے کو سلیس کرنا ہو تو مطلب یہ ہے کہ ’’کاش سب سنگ باز جنگ باز ہوتے، تو کھیل کا مزہ آجاتا۔‘‘

    یہ گویا کشمیر انتضاضہ کی اخلاقی فتح  ہے جس کافخریہ اعلان خود ایک جنرل کررہا ہے جو ایک ارب پچیس کروڑ آبادی والے ملک کا سپہ سالار  ہے۔
    یہ بات روزِ روشن کی طرح پوری دنیا پر عیاں ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کثیر تعداد موجود ہے۔ جب 313 کے عزائم بلند اود جواں ہوں تو شکست ایک ہزار کی تعداد والے لشکر کے نصیب میں ہی ہوتی ہے۔

    لیکن ظاہر سی بات ہے کہ نہایت غیر متناسب جنگ میں طاقت ور فریق ہی غالب رہتا ہے۔
    لیکن وہ ظلم کر کے نہ ظاہری طور پہ تحریک آزادی کو دبا سکے ہیں اور نہ ہی باطنی طور پر۔ 
    کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے کے باوجود بھارت سرکار ان کی تحریک آزادی کو دبانے کے قابل نہیں ہو سکے۔
    انڈیا کا کشمیر میں پچس ہزار نئی فوجی کمک داخل کرنا بھی انڈیا کی کشمیر میں ہار کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔
    اس وقت پاکستان کی عوام سیاسی و عسکری قوت کشمیر کے لیے اپنے عزائم واضح کر چکے ہیں کہ کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے۔ اور اس شہ رگ کو پاکستان کسی بھی قیمت پر ضائع کرنے کے موڈ میں نہیں یے اور اسی طرح پاکستان کی کشمیر والے معاملے پہ سفارتی سطح پر کی جانے والی کوششیں بھی قابل ستائش ہیں۔
    کشمیری بھی حالیہ کرفیو اور آرٹیکلز کو ختم کرنے کے باجود کسی قسم کی ڈھیل اور ڈیل کے موڈ میں نہیں۔
    چند گھنٹوں کے لیے ختم کئے جانے والے کرفیو میں کشمیری واضح پیغام دے چکے ہیں کہ

    ایک ہی نعرہ ہے، آزادی کا نعرہ ہے
    ایک ہی مقصد ہے، آزادی مقصد ہے
    آؤ ستم گرو ہُنر آزماتے ہیں
    تم تیر آزماؤ ‛ہم جگر آزماتے ہیں

  • کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟  محمد عبداللہ

    کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ

    بانی پاکستان محمد علی جناح نے کشمیر کو شہ رگ پاکستان کہا تھا یہ کوئی جذباتی بات یا سیاسی بیان نہیں تھا بلکہ اس زیرک انسان کی نگاہ بھانپ چکی تھی کشمیر پاکستان کے لیے کیا حیثیت رکھتا ہے. آپ اگر نقشہ وغیرہ پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ پاکستان میں آنے والے سبھی دریاؤں کا منبع کشمیر ہی ہے.سوائے ان دو دریا ؤں ستلج(بیاس+بیاس) اور راوی کے جو بھارتی علاقے سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں لیکن سندھ طاس معاہدے کی وجہ سے ان کے پانی پر بھارت کا حق ہے اور بھارت مختلف مقامات پر ان دریاؤں پر ڈیم بنا چکا ہے. اسی لیے سوائے سیلابی کیفیت کے آپ کو وہ دونوں دریا پاکستان میں خشک دکھائی دیتے ہیں.
    جنگ مسئلے کا حل ہے یا نہیں؟؟؟ محمد عبداللہ
    جبکہ چناب جو ہماچل سے نکل کر جموں و کشمیر سے ہوتا ہوں سیالکوٹ میں مرالہ کے مقام پر دریائے توی سے مل کر پاکستان میں پانی لاتا ہے جو پاکستان کے بیشتر حصے کی زرعی ضروریات کو پورا کرتا ہے. ہیڈ مرالہ کے مقام سے اس سے دو نہریں نکلتی ہیں اپر اور لوئر چناب جن میں سے ایک آگے جاکر بمبانوالہ میں دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے ان میں سے ایک جس کو بی آربی کہا جاتا ہے وہ لاہور کو بھی پانی پہنچاتی ہے اور راوی کے نیچے سے گزرت ہوئے آگے دیپالپور نہر میں شامل ہوجاتی ہے. راوی اور ستلج دونوں کے خشک ہوجانے کی وجہ سے اس سارے مشرقی پنجاب کے علاقے کو پانی چناب سے نکلنے والی اس نہر سے ہی بہم پہنچایا جاتا ہے.
    ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ
    اسی طرح دریائے جہلم پیر پنجال کے ویری ناگ چشمے سے نکل کر سری نگر ڈل جھیل سے ہوتا ہوا چکوٹھی کے مقام پر مظفر آباد آزاد کشمیر میں داخل ہوتا ہے جہاں مظفرآباد میں اس میں دریائے نیلم شامل ہوتا ہے، وادی کاغان میں دریائے کنہار ان میں شامل ہوتا ہے جبکہ آزاد کشمیر کے علاقے میرپور، منگلا سے کچھ پیچھے دریائے پونچھ بھی ان کے ساتھ مل جاتا ہے اور یہ منگلا میں مقام پر ڈیم میں گرتے ہیں منگلہ ڈیم پاکستان کی بجلی کی بہت بڑی ضرورت کو پورا کرتا ہے وہاں ڈیم سے دریائے جہلم پنجاب کے علاقے جہلم سے گزر کر آگے بڑھتا ہے اور تریموں کے مقام پر دریائے پنجاب سے مل جاتا ہے اور دونوں دریا آگے بڑھتے ہوئے پنجند کی طرف بڑھتے ہیں.
    سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ
    آپ نقشے پر مزید اوپر کی طرف جائیں تو آپ کو دریائے سندھ نظر آتا ہے جو تبت کے علاقے مانسرور سے نکل کر لداخ سے گزرتا ہوا گلگت بلتستان سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے اور کے پی کے سے ہوتا ہوا تربیلا کے مقام پر ڈیم میں داخل ہوتا ہے تربیلا ڈیم پاکستان کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے اسی دریا سے نکلنے والی تھل کینال نے جنوبی پنجاب کے بنجر صحرائی علاقے کو سرسبز اور شاداب بنا دیا ہے . یہاں سے دریائے سندھ آگے پنجاب کے مختلف علاقوں کو سیراب کرتا ہوا آگے بڑھتا ہے اور کوٹ مٹھن کے قریب پنجنند کے مقام پر دریائے چناب و جہلم اور دریائے ستلج و راوی دریائے سندھ میں گرتے ہیں اور یہاں سے آگے یہ دریا سندھ کے مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا زرعی اور پینے کے پانی کی ضروریات کو پورا کرتا ہوا ٹھٹھہ کے مقام پر بحیرہ عرب میں گرتا ہے.
    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ
    دریاؤں کی اس ساری بحث کا ماحاصل یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی بدولت بھارت آپ کے دریاؤں بیاس، ستلج، راوی کے پانی کو پہلے ہی ہڑپ کرچکا ہے صرف کشمیر سے آنے والے دریا باقی تھے جو پاکستان میں پانی لا رہے تھے لیکن کشمیر کے مکمل طور بھارت میں چلے جانے کے بعد آپ مکمل طور پر بھارت کے مختاج اور زیر اثر ہوجائیں گے کیونکہ پانی ہی زندگی ہے آپ کا زرعی ملک ہے جس کی ستر فیصد معیشت کا انحصار زراعت پر ہے تو آپ کی زمینیں بنجر ہوجائیں گی اور آپ کی بوند بوند کو ترسیں گے لیکن آپ کو پینے کے لیے بھی پانی نہیں ملے گا. (ہم نے کچھ عرصہ سندھ کیں گزارا ہے ہم جانتے ہیں ٹیل میں رہنے والے لوگ پانی کے لیے کتنا ترستے ہیں اور بعض اوقات پینے کے پانی کی بھی قلت ہوجاتی ہے.)
    بلوچستان بھی پاکستان ہے… محمد عبداللہ
    اگرچہ بھارت نے ان دریاؤں پر جن کے پانی پر پاکستان کا حق ہے ان پر بھی مقبوضہ کشمیر کیں چونسٹھ کے قریب چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کرلیے ہوئے اور مزید یہ کہ ٹنلز کے ذریعے ان دریاؤں کا پانی چوری کرکے دور دراز راجستھان میں لے جاکر ا کو سیراب کر رہا ہے. کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم ہونے کے بعد اس سارے پانی اور دریاؤں پر مکمل طور پر بھارت کا کنٹرول ہوگا اور وہ جب چاہے جیسے چاہے اس کو استعمال کرے گا. جب ضرورت ہوگی تو پانی روک لیا جائے گا اور جب بارشوں اور سیلاب کا سیزن ہوگا تو بھارت پاکستان میں ضرورت سے زیادہ پانی بھیج کر آپ کو تباہ و برباد کرے گا جس کا وہ ماضی میں تجربہ بھی کرچکا ہے جس کو دنیا بھر کے ماہرین واٹر بم کا نام دے رہے ہیں.
    بھارت کو کتے نے نہیں کاٹا کہ وہ آپ کو محض ٹرینیں اور بسیں روک دینے سے کشمیر دے کر کشمیر آزاد کردے اور آپ کو آزادی سے زندگی گزارنے کا موقع دے دے. جو لوگ اس خوش فہمی میں ہیں کہ فقط سیاسی اور سفارتی حربوں سے کشمیر مل جائے گا تو وہ لوگ بہت بڑی بھول میں ہیں اک کشمیر کی وجہ سے بھارت پاکستان کو مکمل طور کنٹرول کرسکتا ہے جبکہ اسی کشمیر کی ہی وجہ سے بھارت امریکہ کے ساتھ مل کر نہ صرف چین کو ڈسٹرب کرسکتے ہیں کہ بلکہ گیمر چینجر پلان سی پیک کی گیم بھی الٹائی جاسکتی ہے.یہ وہ مرحلہ ہوگا جس پر پاکستان کے لیے سارے راستے مسدود ہوجائیں گے.
    اس لیے پاکستان کو چاہیے کہ وہ کشمیر کے مسئلہ پر سنجیدہ ہوجائے. جلد یا بدیر آپ کو کشمیر کی صورت میں پاکستان کی بقاء کے لیے بھارت سے دو دو ہاتھ کرنا پڑیں گے، کوئی فیصلہ کن قدم اٹھانا پڑے گا وہ آپ آج اٹھاتے ہیں یا سب کچھ گنوا کر اٹھاتے ہیں فیصلہ
    آپ کے ہاتھ میں ہے.

    Muhammad Abdullah

  • کشمیر پر عملی قدم اٹھانے کا وقت آگیا… حنظلہ طیب

    کشمیر پر عملی قدم اٹھانے کا وقت آگیا… حنظلہ طیب

    کشمیر میں تو چلو مان لیا کہ لوگوں سے بولنے کا حق چھینا جا چکا ہے مگر یہاں پاکستان کے عوام کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔ حقیقی معنوں میں مشرقی پاکستان ٹوٹنے کے بعد اب تک کا سب سے بڑا سانحہ رونما ہو چکا ہے لیکن بے خبر ہے۔ اور جب تک قوم کو خبر ہو گی قیامت سر سے گزر چکی ہو گی۔ پاکستان کے لوگ اس بات سے بھی واقف نہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے ساتھ اصل میں ظلم کیا ہوا ہے اور کشمیر کے معاملے پر پاکستان کو کتنی بڑی شکست ہو چکی ہے۔ عملی طور پر مقبوضہ کشمیر اس وقت پاکستان کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے البتہ عوام بے خبر ہیں یا انہیں جان بوجھ کے بے خبر رکھا جا رہا۔
    مقبوضہ کشمیر کے غیر قانونی اشتراک کے معاملے میں ہماری حکومت کی جانب سے روایتی مذمت اور قراردادیں ہی پیش کی جا رہی ہیں۔ پاکستانی عوام کو بہلانے کےلیے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پاکستان بھارت کے اس غیر قانونی اشتراک کو مسترد کرتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کے مسترد کرنے سے واقعی اب مقبوضہ کشمیر کو کوئی مدد مل سکتی ہے؟ اس کا جواب افسوس ناک طور پر "نہیں ” ہے۔
    بھارت آرٹیکل پینتیس اے اور آرٹیکل تین سو ستر ختم کر چکا ہے۔ بھارتی آئین کی یہ دو شقیں دراصل مقبوضہ کشمیر کے عوام کےلیے دو ایسی حفاظتی دیواریں تھیں جن کے گرنے کے بعد کشمیری بالکل فلسطین کے عوام کی طرح اپنی زمینوں سے بے دخل ہو جائیں گے۔ بھارتی آئین کی ان دونوں شقوں کے خاتمے کے نتیجے میں جو تبدیلیاں مقبوضہ کشمیر میں آئیں گی کچھ اس طرح ہیں۔
    1 کشمیر کا انفرادی آئین ختم ہو چکا ہے۔
    2 وہاں ہندو آبادکاری جو پہلے ممکن نہیں تھی اب ممکن ہو جائے گی۔
    3 وہاں کی زمینیں جو غیر کشمیری لوگ نہیں خرید سکتے تھے اب خرید سکیں گے۔
    4. وہاں پہ ہندو سرمایہ کاری جو پہلے ممکن نہیں تھی اب ہو سکتی ہے۔ یعنی ہندو کشمیری زمینیں خرید کر وہاں آباد ہوں گے اور رفتہ رفتہ ہندو تعداد میں کشمیریوں سے زیادہ ہو جائیں گے۔
    5 مقبوضہ کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم ہو چکی ہے۔
    6مقبوضہ کشمیر براہِ راست دلی کی ماتحتی میں چلا گیا ہے۔
    7. پہلے وہاں بھارت کا کوئی قانون آئینی طور پر نہیں چل سکتا تھا اب سارے چلیں گے۔
    8 مقبوضہ کشمیر کی انفرادی ثقافت ختم ہو جائے گی۔
    9 لداخ الگ ہو جائے گا۔
    10 مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی ختم ہو جائے گی۔
    11 مقبوضہ کشمیر کا اپنا کوئی صدر اور وزیرِ اعظم نہیں ہو گا بلکہ ایک لیفٹینٹ گورنر بھارتی پارلیمنٹ کی نگرانی میں پورا مقبوضہ کشمیر کنٹرول کرے گا
    12 کشمیر کا الگ پرچم نہیں ہو گا بلکہ وہاں پہ ترنگا لہرائے گا۔
    13 کشمیر میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ نہیں ہو سکتی تھی صدرِ ہندوستان کے حکم کے باوجود بھی۔ اب ہو گی۔
    یعنی یہ سارے اقدامات وہ ہیں جن کے بعد مقبوضہ کشمیر سے وہاں کے عوام کا کنٹرول اور عمل داری مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ جب یہودیوں نے فلسطین کے چھوٹے سے علاقے پہ قبضہ کر کے اسرائیل کی بنیاد رکھی تھی تو انہوں نے بھی یہی کیا تھا۔ آج پورے فلسطین کو یہودی آباد کاروں کےزریعے اسرائیل میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔ اور فلسطینیوں کو اردن اور دیگر علاقوں میں ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ بھارت اب بہت بڑی تعداد میں وہاں پہ ہندؤں کو آباد کرے گا۔ اور پھر ایک وقت میں ہندؤں کی تعداد مقبوضہ کشمیر میں اتنی زیادہ ہو جائے گی کہ وہاں پہ کشمیری مسلمان کم اور بھارتی ہندو زیادہ ہو جائیں گے۔ وہاں کی مسلمان آبادی کو برما کے مسلمانوں کی طرح شدید ظلم و تشدد کا نشانہ بنا کر انہیں مقبوضہ کشمیر چھوڑنے پہ مجبور کر دیا جائے گا۔ اور اس طرح لاکھوں کشمیریوں کو آزاد کشمیر دھکیل کر مقبوضہ کشمیر سے ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا۔ پاکستانی حکومت اس سارے وقت میں مذمت پہ مذمت کر رہی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بھارت کو ان مذمتوں سے کوئی نقصان نہیں ہو رہا اور نا ہی کشمیریوں کو کوئی فائدہ ہو رہا ہے۔ عملی معنوں میں کشمیر پاکستان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔
    اس واقعہ سے قبل حکومت اور تمام متعلقہ حکام نے جس بے حسی اور غفلت کا مظاہرہ کیا ہے اس پہ جتنا افسوس کیا جائے وہ کم ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت جب اس سارے عمل کی منصوبہ بندی کر رہا تھا اقوامِ متحدہ میں جا کر شور مچا دیا جاتا۔ اب بھی تو اقوامِ متحدہ میں جا کر شور مچا رہے ہیں تو پہلے یہ کام کیوں نہیں کیا گیا؟ اس سستی اور لاپرواہی کی وجہ سے آج کشمیر جا چکا ہے ، اگر اس سستی اور غفلت کا ازالہ نہ ہوا تو یہ قوم اور کشمیر کے لاکھوں عوام زمہ داروں کو تاقیامت معاف نہیں کریں گے۔اب مذمت اور قراردادوں کا نہیں بلکہ عملی قدم اٹھانے کا وقت ہے۔ قوم آپ کے عملی قدم کی منتظر ہے۔

    Hanzla Tayyab
  • مقبوضہ کشمیر  کتنے سال بعد پاکستان کو ملے گا؟؟؟  سنگین علی زادہ

    مقبوضہ کشمیر کتنے سال بعد پاکستان کو ملے گا؟؟؟ سنگین علی زادہ

    ۔
    بھارتی ھائی کمشنر آج بھارت چلا گیا اور عام طور پر دو ممالک نے جب جنگ کرنی ہو تو اپنے اپنے سفیر واپس بلا لیتے ہیں۔ لیکن پاک بھارت کے درمیان ابھی جنگ نہیں ہو گی بلکہ بھارتی ہائی کمشنر چھ ماہ بعد پاکستان واپس آ جائے گا۔ اس لیے کہ ریاست اپنی معیشت بہتر کرنے پہ توجہ ” فوکس "کر رہی ہے اور جنگوں سے معیشت تباہ ہوتی ہے اگر آپ کمزور ملک ہوں ۔ معاشی طور پر پاکستان وہاں کھڑا ہے کہ کھانستے ہوئے بھی احتیاط سے کام لینا پڑتا ہے۔ کرپشن حکمران کرتے رہے اور سزا کشمیریوں کو ملی ۔ بھارت نے انتہائی سوچ سمجھ کر اور پاکستانی کی معاشی کیفیت کو سامنے رکھ کر یہ حرکت کی۔ ہماری معیشت واقعی اس قابل نہیں ہے کہ کسی طویل جنگ کا بوجھ سہار سکے۔
    پاکستان سے ایمان کی حد تک محبت کرنے والے کسی ماہرِ معیشت سے پوچھ لیجئے وہ یہی کہے گا کہ پاکستان کے معاشی ڈھانچے کا انجر پنجر اتنا ڈھیلا ہے کہ اگر اس پہ تیس روزہ جنگ کا بوجھ ڈال دیا جائے تو پینتیسویں روز اس کی ہڈیاں چٹخ جائیں گی۔ خود چین بھی پاک بھارت جنگ نہیں چاہتا اس لیے کہ چین کو کشمیر سے زیادہ اپنی سرمایہ کاری پیاری ہے۔ چین تاجرانہ زہنیت کا حامل ملک ہے۔ جہاں ایک روپیہ لگائے وہاں سے دس روپے آمدن کی توقع رکھتا ہے اور ایک جنگ زدہ ملک چین کو ایسی آمدن نہیں دے سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک چین نیوٹرل ہے اور جو بیان جاری کیا ہے اس میں بھی پاکستان اور بھارت کو امن اور گفتگو کے زریعے اپنا مسئلہ حل کرنے پہ زور دیا۔ ایسی دوستی جو ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہو وہ اگر امن پہ اصرار کرے تو پاکستان کیا کرے گا؟ جنگ تو ہر گز نہیں۔
    زیادہ ملامت کا مستحق ہمارا میڈیا ہے جس نے چین کے بیان کو تروڑ مروڑ کے پیش کیا۔ چین نے لداخ پہ بھارت کے فیصلے کو ناقابلِ قبول کہا ہمارے میڈیا نے اسے کشمیر سے جوڑ دیا۔ یہ وقت گزاری کے حربے ہیں تا کہ عوام کو ٹھنڈا کیا جا سکے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا ہےپرانے زخم بھر جاتے ہیں۔ لہٰذا وقت گزارا جا رہا ہے اس اچھل کود کے زریعے تا کہ عوام ٹھنڈے ہو جائیں ۔ وقت گزاری کےلیے امریکہ، اقوامِ متحدہ، او آئی سی سے بیانات جاری کروائے جا رہے ہیں، وہی بیانات جو پچھلے ستر سال سے سن کے ہم خوش ہو تے رہے۔ وقت گزاری کے حربے کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ اب تک حکومت نے عوام کو کشمیر پہ اعتماد میں نہیں لیا۔ وزیرِ اعظم یا کسی بھی زمہ دارحکومتی نمائندے نے عوام سے کوئی وعدہ نہیں کیا کہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں والی حیثیت پہ دوبارہ لائیں گے۔ کیا حکومت نے عوام کو کوئی لائحہ عمل دیا ہے کہ کشمیر واپس لینے کےلیے اگر سفارتی کوشش ناکام ہوئی تو ہم جنگ کریں گے؟
    کچھ لوگ کہتے ہیں کشمیر میں مجاہدین بھیج دیں تو آزاد ہو سکتا ہے۔ ہم مجاہدین بھیج دیتے ہیں ،پھر؟؟ ہمارے بھیجے گئے مجاہدین وادی میں کتنے ہندو فوجی قتل کر لیں گے؟ پانچ ہزار؟ دس ہزار؟ بیس ہزار؟ پچاس ہزار؟ یعنی کتنے؟ میں واضح کر دوں کہ انیس سالہ طویل جنگ میں ٹی ٹی پی نے ہمارے دس ہزار جوان شہید کیے یعنی گوریلا جنگ کا یہی محاصل ہوتا ہے۔ افغان طالبان کو انیس سال لگے گوریلا جنگ میں امریکہ کو ملک سے باہر نکالنے کےلیے۔ آپ ایف اے ٹی ایف کو سامنے رکھ کےسوچیں کیا پاکستان انیس سال تک کشمیر میں مجاہد بھیج سکتا ہے؟ وہ بھی اس صورت میں جب چین پاکستان اور بھارت کے درمیان امن دیکھنا چاہتا ہو اور ایف اے ٹی ایف کی تلور سر پہ لٹک رہی ہو ؟کشمیر کی واپسی کےلیے اب بیس سے تیس سال انتظار کریں۔ خوش قسمتی سے اگر کوئی اچھی حکومت آ گئی جو پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرے، عالمی سطح پر پاکستان کی اتنی عزت بڑھا دے کہ ہماری رائے کی اہمیت ہو، اور ہم معاشی طور پر ہم اتنے مضبوط ہوں کہ عالمی پابندیوں کی ہمیں کوئی فکر باقی نہ رہے تو کشمیر بیس سے تیس برس بعد ہمیں واپس مل جائے گا۔
    بالاکوٹ پہ بھارتی حملے کے بعد آپ نے فورا جواب دیا تھا اس لیے کہ زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ اگر بھارت کو جواب نہ دیا جاتا تو بھارت ہر چھ ماہ بعد کشمیر میں حملہ کروا کے پاکستان پہ حملے کرتا۔ جہاں بقاء کا مسئلہ ہو وہاں ہم ایٹم بم بھی استعمال کر سکتے ہیں اور کریں گے بھی۔ اور یہ سب جانتے ہیں کہ اب کشمیر ہماری بقا یا زندگی موت کا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر بقا کا مسئلہ ہوتا تو پاکستانی وزیرِ اعظم اسمبلی میں سوالات کے جواب میں چار دفعہ یہ نا کہتے کہ "تو اور کیا بھارت پہ حملہ کر دوں” ۔میں یاد کروانا چاہتا ہوں کہ فضل الرحمان نے ایک دفعہ یہ جملہ بولا تھا بس اور پاکستانی قوم نے اس کی مت مار دی تھی۔ یہ جملہ ہماری اسمبلی میں چار دفعہ بولا گیا ہے اب۔ اس لیے مان لیں کہ کشمیر اب پاکستان کےلیے زندگی موت کا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر کشمیر ہماری بقاء کا مسئلہ ہوتا تو اتنے آرام سے بھارت کشمیر میں ہندو بستیاں بسانے کے منصوبے پہ عمل نا کر پاتا۔

  • کشمیر کے موجودہ حالات اور حکومت پاکستان ۔۔۔ ازقلم: ڈاکٹر ماریہ نقاش

    کشمیر کے موجودہ حالات اور حکومت پاکستان ۔۔۔ ازقلم: ڈاکٹر ماریہ نقاش

    آزادی کا متوالا اب خود ہی قید کیوں؟؟؟؟؟
    سر سبز و شاداب کشمیر اب سرخ ولال کیوں؟؟؟؟

    ایک مشترکہ سوال جو ہم سب کے ذہنوں میں ہے کہ….!!!!
    کشمیر کے موجودہ حالات کا ذمہ دار کون ہے؟؟

    اپنی اس تحریر میں…میں حالات و واقعات کی روشنی میں اپنا نقطہ نظر واضح کرنے کی کوشش کروں گی…جس سے یقیناً آپ سب اتفاق کریں گے….
    اگر کبھی آپ کو اتفاق ہوا ہو کشمیر کی وادیوں کو بذات خود اپنی جاگتی آنکھوں سے دیکھنے کا….یا کبھی تصاویر میں کشمیر کا حسن دیکھا ہو تو…آپکی آنکھیں ضرور گواہی دیں گی…
    اس سر سبزو شاداب خطے کی دلکشی کی….
    وہاں کی شفاف فضاء کی…
    فر فر بہتے سفیدوسبز پانی کے دریائوں کی….
    اور قدرت کے خوبصورت رنگوں کی چمک کی….
    جو ہمیں یہاںدیکھنے کو میسر نہیں ….بڑی سے بڑی پینٹ کمپنی اپنے رنگوں میں وہ چمک اور دلکشی پیدا نہیں کر سکتی جو وہاں کے سر سبز خطوں میں ہے….
    لیکن یہ کیا….؟؟؟

    وہ خوبصورت رنگ مدھم کیوں پڑتے جا رہے ہیں…؟؟؟

    وہ خاموش پر سکون فضائیں چیخ وپکار سے کیوں گونج رہی ہیں…؟؟؟

    بہتے دریا کا سفید پانی اب سرخی مائل کیوں ہوتا جا رہا ہے…؟؟

    سر سبز کشمیر اب اپنی پہچان کھو کر سرخ و لال کیوں ہوتا جا رہا ہے…؟؟؟

    پرندوں کی میٹھی بولیوں کی جگہ مائوں کی دلدوز چیخیں کیوں سنائی دیتی ہیں؟؟؟

    بچوں کی کلکاریوں کی جگہ دہشت زدہ سہمی ہوئی گھٹی گھٹی آوازیں کیوں سماعت کو چیرتی ہیں؟؟؟؟

    نوجوان بچے اور بچیوں کی سکول و کالج جاتے ہوۓ ہنسی اور قہقوں کی آوازیں کہاں کھو گئ ہیں؟؟؟

    بڑی بوڑھوں کی لاٹھی کی ٹک ٹک (جو اپنے آس پاس والوں کو متوجہ کر کے احساس دلاتی تھی کہ بزرگ جا رہا ہے عزت سے سلام کیا جاۓ) وہ آواز وہ ٹک ٹک کس خوف سےخاموش ہو گئ ہے؟؟؟؟؟؟

    زندگی کتنی حسین ہے…
    اسکا مزہ لینے کی بجاۓ وہ لوگ ہر سانس اک قرض کی طرح کیوں لے رہے ہیں…؟؟؟

    زندگی کی نعمتوں سے فیض یاب ہونے کی بجاۓ وہ زندگی جیسی نعمت سے ہی محروم کیوں ہو رہے ہیں…؟؟؟

    وقت جو پر لگا کر گزر جاتا ہے…
    یہی وقت وہاں لمحوں کی قید سے آزاد نہیں ہوتا….لمحہ لمحہ سال کی طرح کیوں ہو گیا…؟؟؟ہم پاکستانی گرمی کی شدت سے پسینہ میں شرابور ہو کر شکایت کرنے لگتے ہیں….

    وہاں…کشمیری بچے اپنے ہی خون میں غوطہ زن ہو کر بھی والدین سےکیوں شکایت نہیں کرتے….؟؟؟

    آج یہاں ہماری اولاد میں سے کسی ایک کو بھی کوئ باہر کا بچہ پتھر مار دے تو ہم پورے طیش سے اسکے گھر جھگڑنے چلے جاتے ہیں….

    وہاں اولادیں قتل ہو رہی ہیں والدین حرف شکایت لبوں میں دبائے..سسکیوں اور آہوں کے درمیان رب تعالی سے زیر لب دعا گو کیوں ہیں… ؟؟؟

    نظریں دور کہیں افک پر ٹکی ہوئ ہیں….کہ کب کوئ قاسم …حافظ سعید بن کر آۓ اور اس ظلم کی زنجیر کی اک اک کڑی کو اپنی ایمانی طاقت و قوت سے توڑ ڈالے….

    آج یہاں والدین بیماری سے لڑتے ہیں….یہ سوچ کر کہ ہمارے بعد یہاں ہمارے بچوں کی نگہداشت کرنے والا کون ہو گا…؟؟؟

    وہاں والدین بچوں کی نگہداشت کرنے سے پہلے ہی شہیدکیوں کیے جا رہے ہیں…؟؟؟

    لکن ان معصوم بچوں کی امید بھری نگاہیں اب بھی بارڈر کے اس پار اس منظر کو دیکھنے کیلیے ٹکی ہوئی ہیں….

    کہ کب کوئی حافظ سعید کا سپاہی…سیف اللہ کی تلوار ہاتھ میں تھامے ایمان و قوت …شجاعت و حوصلے کے گھوڑے پر سوار ہو کر آۓ اور ظلم و جبر کی اس دنیا کا سر قلم کر دے….اور قید کے اندھیرے سے نکال کر آزادی اور ایمان کی روشنی میں لے آۓ….
    یہ ظلم کے اندھیرے کشمیر کی وادی پر کیوں چھا گئے ہیں…؟؟ میں بتاتی ہوں….

    انڈین 10 ہزار فوجی کشمیر مین ظلم و ستم کیلیے کیوں بھیجے گۓ….؟؟

    میں بتاتی ہوں…
    28 ہزار انڈین فوجی مقبوضہ وادی میں کیوں اتارے گۓ…؟؟؟
    میں بتاتی ہوں…
    قارئین کرام ….!!!

    وجہ بہت واضح اور صاف ہے…..
    جب کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرہ پر عملی طور پر کام کرنے والے دین کے ترجمان …حافظ سعید کو نظر بند کر دیا جاۓ گا…..
    تو یہی ہو گا نہ…؟؟
    جب اجلاس اور تقاریر میں چیخ چیخ کر کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کا احساس اجاگر کرنے والے حافظ سعید کی آواز کو زندان میں دبا دیا جاۓ گا۔
    ….تو پھر ایسا ہی ہو گا نہ….؟؟؟
    کشمیریوں کو جانے والی ہر وہ مدد جو حافظ سعید کے سپاہیوں کی شکل میں ان کو میسر تھی….ہمارے پاکستانی حکمرانوں کے فیصلے کی بھینٹ چڑھ کر ہر مدد ہر کاوش سلاخوں کے پیچھے قید ہو کر رہ گئ ہو تو ….

    ایسا تو ہونا ہی تھا نا…؟؟؟
    انڈین فوج سے لے کر انڈین حکمران تک جس آواز سے لرزتے تھے…وہ آواز دبا دی گئ ہو …
    تو ایسا تو ہوناہی تھا نا…؟؟
    جو وجود انڈیا اور کشمیر کے درمیان ظلم کے خلاف اک دیوار بن کے کھڑا تھا….وہ وجود ہی ہٹا دیا جاۓ …..
    تو بتاؤ کیا یہ نہیں ہونا تھا…؟؟؟
    اب تک انڈین فوج کے ہاتھ جس زنجیر سے بندھے تھے….وہ حافظ سعید اور انکے ساتھی ہی تو تھے…..
    اب تک جس للکار سے خوف کھا کر وہ بلوں میں چھپے بیٹھے تھے…وہ للکار حافظ سعید کی ہی تو تھی….
    اب تک انڈیا کے مذہبی رہنما ان کے مذہب سے متعلق سب سے بڑا خطرہ جس ذات کو بتاتے تھے …وہ نام وہ ذات حافظ سعید ہی تو تھے….

    مگر افسوس…!!! صد افسوس…!!!پاکستان کی اس پالیسی اور پاکستانی حکمرانوں کے اس فیصلے پر افسوس ہی تو کر سکتے ہیں…
    حکام اعلی …..!!!!سوچو ذرا….!!!اپنے کیے ہوۓ فیصلے پر نظر ثانی کرو کہ کہیں….
    کشمیر پر آنے والے اس ظلم کے عذاب کی وجہ ..تمہارا حافظ سعید کو گرفتار کرنے والا گناہ تو نہیں…؟؟؟؟

    کہیں حافظ صاحب کو گرفتار کر کے تم نے انڈیا کی کشمیر کو کچلنے اور اس زمین کو اپنا بنانے کی راہیں ہموار تو نہین کر دیں…؟؟؟

    ظلم و جبر کے اس ٹھاٹھیں مارتے ہوۓ سمندر میں اب بھی ایک کشتی اس طوفانی ظلم کا سامنا کر کے کشمیر کو اس طوفان سے بچا سکتی ہے….

    اس کشتی کو زنجیروں سے آزاد کر کے تو دیکھو….!!!
    کہیں دیر نہ ہو جاۓ….

    اس سے پہلے کہ اس طوفان کی لہریں کشمیر کے ہر مسلمان گھر کو نگل لیں…تم حافظ سعید کو رہا کر دو….

    اتنی جانوں کا نقصان تم اپنے سر نہیں لے سکتے…پاکستانی حکمرانو اب بھی وقت ہے اپنی پالیسی کو بدلو…اپنے فیصلے کو مسترد کرو…کایا پلٹ سکتی ہے… بس حافظ صاحب کو رہا کرنے کی دیر ہے..

    سر سبز کشمیر اب سرخ و لال ہو رہا ہے….
    اے حافظ سعید تو کب آزاد ہو رہا ہے…
    کشمیر کا ہر باشندہ تجھے ہی پکار رہاہے….
    توڑ کہ غلط فہمیوں کا پھندہ تو کب رہا ہو رہا ہے….

  • کشمیر کا سودا نامنظور ۔۔۔ عشاء نعیم

    کشمیر کا سودا نامنظور ۔۔۔ عشاء نعیم

    خان صاحب آپ کو ہم نے وطن سے غداروں، کرپٹ مافیہ کی صفائی اور تبدیلی کے لیے منتخب کیا ۔
    آپ نے ایک سالہ دور میں ہمیں سینکڑوں سالہ تجربہ کروا دیا ۔
    آپ نے حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہ قانون بنوانے کی تجویز تو دی مگر گستاخ رسول آسیہ مسیح کو بری کر دیا گیا۔ ہم نے سنا کہ ثابت نہیں ہوا جو چار بار ثابت ہو چکا تھا آپ کے دور حکومت میں ایک دم ثبوت ختم ہو گئے ۔ہم نے سنا ملکی سلامتی کا مسئلہ ہے اس حکومت کے خلاف بات نہیں کرنے دینی یہ وطن کو اوج ثریا تک پہنچادیں گے اس حکومت کے پاؤں مضبوط کرنے ہیں ورنہ ملک ٹوٹ جائے گا۔ ہم چپ ہو گئے ۔ ہم نے برداشت کیا
    آپ نے مہنگائی کا طوفان کھڑا کیا۔جو صرف سوکھی روٹی کھاتا تھا وہ بھی اس کے ہاتھ سے چھین لی گئی۔کرائے دار سڑکوں پہ آ گئے ۔
    ہمیں کہا گیا برداشت کریں کچھ عرصہ بعد یہ سب ٹھیک ہو جائے گا یہی ملک کے مفاد میں ہے ۔
    ہم چپ ہوگئے
    ہم نے برداشت کیا
    ہمارے ملک سے تیل و گیس کے ذخائر نکلے ۔آپ نے چودہ ارب لگا کر وہ کام ٹھپ کردیا ۔اور کہا یہی ملک کے حق میں بہتر ہے ۔
    ہم چپ ہوگئے
    ہم نے برداشت کیا
    حتی کہ آپ نے نیشنل ایکشن پلان کے نام پہ ملک کی محب وطن جماعت اور فلاحی تنظیم جو روز سینکڑوں لوگوں کو کھانا دیتی تھی ۔جو لوگوں کو کپڑے اور شیلٹر دیتی تھی جو عید پہ ترسے ہوئے لوگوں کو گوشت دیتی تھی جو ہر مصیبت میں سب سے پہلے پہنچتے تھے سیلاب، بارش، زلزلہ ہو یا کوئی مصیبت وہ پہنچتےتھے، بین کردی گئی۔
    کہا گیا یہی ملک کے حق میں بہتر ہے ۔
    ہم چپ ہوگئے
    ہم نے برداشت کیا
    حتی کہ
    اس محب وطن جماعت کے سربراہ حافظ سعید کو گرفتار کر لیا اس اللہ کے شیر کو جو عالم کفر کے ظالموں کو للکارتا تھا جو کشمیر کے لئے بولتا تھا جو کشمیریوں کے دل کی دھڑکن تھا۔ اس کی گرفتاری بھی وطن کے نام پہ کی گئی ۔اور کہا گیا یہی وطن کے حق میں بہتر ہے
    ہم چپ رہے
    ہم نے برداشت کیا
    لیکن اب بات ہے ہماری شہہ رگ کی
    اب بات ہے ہماری اس سلامتی کی جس کے نام پہ ہم نے سب برداشت کیا ۔
    اب بات ہے ہمارے وطن کی ۔
    اب بات ہے ان محبان وطن کی جو اس وطن کے لئے ستر برس سے زائد عرصہ سے کٹ رہے ہیں ۔
    اب کشمیر کا سودا کیا تو مطلب پاکستان کا سودا کیا ۔
    ہمیں یہ سال کا امن نہیں چاہیے ۔کشمیر دے کر بھارت سے خشک سالی سے مرنے کا پلان کامیاب نہ ہوگا ۔
    نواز و بے نظیر جو لوگوں کے دلوں کی دھڑکن تھے ان پر ریاست سے غداری کی باتیں عام ہوئیں تو عوام نے انھیں دلوں سے نکال دیا ۔آپ نے بھی کوئی غیر مقبول فیصلہ کر لیا تو قوم کا اعتماد کھو دیں گے۔ ریاستی خود مختاری اور سلامتی چیز ہی ایسی ہے جس پہ کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔

  • جنگ مسئلے کا حل ہے یا نہیں؟؟؟ محمد عبداللہ

    جنگ مسئلے کا حل ہے یا نہیں؟؟؟ محمد عبداللہ

    اگر جنگ کسی مسئلے کا حل نہ ہوتی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ بدو و احد میں نہ نکلتے، نہ صحابہ شہید ہوتے نہ نبی مکرم کے دندان مبارک شہید ہوتے، نہ مرحب شیر خدا کے ہاتھوں زیر ہوتا نہ مکہ و حنین فتح ہوتے، اگر جنگ کسی مسئلے کا حل نہ ہوتی تو روم و فارس ابو عبیدہ اور خالد ابن ولید کے پاؤں تلے نہ روندے جاتے، اگر جنگ کسی مسئلے کا حل نہ ہوتی تو ابن قاسم سندھ میں، ابن نصیر اندلس میں اور ابن باہلی چائنہ میں اپنے گھوڑوں کا نہ دوڑا رہے ہوتے. اسلام کی تو تاریخ ہی جنگوں سے عبارت ہے ہاں یہ جنگ ظلم و فساد نہیں پھیلاتی بلکہ اسلام نے اس کو جہاد کا نام دیا ہے جو انسانوں کو ظلم و ستم سے بچاتا ہے، جو فتنہ و فساد سے بچاتا ہے، جو بندوں کو بندوں ہی کی بندگی سے نکال کر ایک رب کے سامنے جھکاتا ہے، جو دنیا سے فتنے اور ظلم کا خاتمہ کرتا ہے. اسلامی تعلیمات تو بھری پڑی جہاد کے احکامات سے اگر جہاد پر مشتمل قرانی آیات کو جمع کیا جائے تو سوا آٹھ پارے بنتے جن میں اللہ اپنے بندوں کو جہاد اور حکمت کا اک اک گر سکھاتا، کہیں اللہ جہاد کی تیاری کا حکم دیتا تو کہیں انٹیلیجنس کے درس دیتا، کہیں بین الاقوامی تعلقات سکھاتا تو کہیں حملے اور دفاع کے طریقے تو آج کا مسلمان کیسے کہہ سکتا ہے کہ جنگ کسی مئلے کا حل نہیں ہے؟؟ آپ پاکستان کی کسی بھی چھاؤنی میں چلے جائیں آپ کو جہادی آیات کے کتبے دور سے نظر آئیں گے جن کو پڑھ اور سمجھ کر نوجوانوں کے دلوں میں جذبہ جہاد اور شوق شہادت مچل اٹھتا ہے. آپ پڑھو ذرا قران کو کہ اللہ اپنے بندوں سے مخاطب ہوکر واضح طور پر فرماتا ہے ” وما لکم لا تقاتلون….. الخ” تمہیں کیا ہوگیا ہے تم اللہ کے رستے میں ان کمزور عورتوں، مردوں، بچوں اور بوڑھوں کی مدد کے لیے جہاد نہیں کرتے جو رو رو کر اللہ سے فریادیں کرتے ہیں کہ اللہ ہمیں اس ظلم کی بستی سے نکال لے کہ یہاں کے رہنے والے ہم پر ظلم کرتے ہیں” آج اہل کشمیر اس حالت میں اللہ کے سامنے فریادی ہیں اور مدد کے لیے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں تو تم کہتے ہو کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے. پوچھو کیوں جی تو کہیں گے کہ پاکستان کی معاشی و سیاسی حالت متحمل نہیں ہے جنگ تو تبوک میں مدینہ والوں کی معاشی حالت پڑھو ذرا خشک سالی کے پکی فصلیں کھیتوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں، ابوبکر رض کے دور خلافت کے اوائل میں پڑھو ذرا لشکر اسامہ بن زید کی روانگی کے قصے کہ سازشیں، فتنے عروج پر تھے مگر جو لشکر نبی نے روانہ کرنا چاہا تھا اس کو اولین ترجیح پر رکھا. آج تمہارے معاشی و سیاسی مسئلے بڑے ہوگئے ہیں امت مسلمہ کے قتل عام سے؟ ؟
    ہاں جنگ کی خواہش نہیں کرنی چاہیے مگر جب جنگ مسلط کردی جائے تو پھر جنگ سے بھاگنا فقط جنگ سے بھاگنا نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی رحمتوں سے اللہ کے عذاب اور نافرمانی کی طرف بھاگنا ہوتا ہے.

    Muhammad Abdullah
  • گمنام۔ تحریر : غازیا

    گمنام۔ تحریر : غازیا

    مہتاب ہو ، آفتاب ہو ، آسمان بھی ہو تم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    گمنام ہو چھپے ہوے سے مانند راز ہو تم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    وہ لوگ آسمان کی مانند ہوتے ہیں، بجلیاں جن کا سینہ چیر کر ان میں سے گزر جاتی ہیں ، ان کے وجود سے جڑے تارے ٹوٹ ٹوٹ کر دشمن کو بجتے ھی رہتے ہیں ، دھرتی ماں کو سیراب کرنے کے لئے انکے آنسو ہوتے ہیں لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    کبھی کسی نے آسمان میں نمی دیکھی ؟؟؟
    ستارے ٹوٹنے سے کبھی آسمان کی خوبصورتی میں کمی ہوئی ؟؟؟
    کیا بجلی کی کوئی کڑک آسمان میں دراڑ ڈال سکی ؟؟؟ نہیں نہ تو پھر کیسے کوئی انکی کمزوری سے فائدہ اٹھا سکتا ہے ؟؟؟
    کیسے کوئی انکا درد جان سکتا ہے ؟؟؟
    کیسے کوئی ان تک رسائی حاصل کر سکتا ہے؟؟؟
    شائد نہیں یقیناً کوئی ان تک نہیں پہنچ سکتا ۔
    مگر کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے وہ آفتاب کی مانند ہوتے ہیں جن کی طرف کبھی کوئی دیکھ ھی نہیں سکتا اس کوشش سے ھی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں ، کسی میں طاقت ہوتی ھی نہیں کہ سامنے موجود ہوتے ہوئے بھی ان کو دیکھ پائیں ۔
    اگر کبھی وہ مدھم ہوں بھی تو اپنے ارد گرد بادلوں کا ہجوم بنا لیتے ہیں ٹھنڈی ہوائیں چھوڑ دیتے ہیں تب دشمن موسم کی اس دلفریبی میں کھو جاتے ہیں اور وہ اپنا مشن مکمل کر کے دوبارہ اسی جلال میں آ جاتے ہیں اسی طرح وہ چپ چاپ اپنی زندگی کا مقصد پورا کرتے رہتے ہیں اور جب ان میں سے کسی بھی آفتاب کی زندگی کی شام ہوتی ہے نہ _ تب بھی وہ غروب کہاں ہوتے ہیں مہتاب میں ڈھل جاتے ہیں پھر ساری دنیا دیکھتی ہے انکو۔
    پھر احساس ہوتا ہے کہ ان میں کتنی رعنائی تھی ، وہ کتنے دلکش تھے ، ان کا وجود کتنی ٹھنڈک کا باعث تھا ۔
    پھر راز کھلتے ہیں کہ انکا زہر ، انکا قہر انکی سختیاں صرف دشمن کے لئے تھیں پھر یہ پتہ چلتا کہ وہ انسانوں کے روپ میں ایسے فرشتے تھے کہ ایک ایک سینکڑوں پہ بھاری ، پھر سمجھ آتی ہے کہ وہ لوگ آئی_ایس_ آئی تھے ۔

  • ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے ۔۔۔ نعمان علی ہاشم

    ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے ۔۔۔ نعمان علی ہاشم

    1931 سے اس پاکستان کے نام پر کشمیریوں نے جانیں دی ہیں میرے حکام بالا….. جب پاکستان نہیں تھا تب بھی کشمیریوں کے دل میں پاکستان تھا….. پاکستان بننے کے بعد ہر اٹھنے والے جنازے ہر لٹنے والی عزت اور یتیم ہونے والے بچے ہر بے سہارا ماں اور ہر بے کس بوڑھے نے پاکستان کے پرچم کی سربلندی کے لیے سب برداشت کیا.. قائد گئے تو تم سے ایک چپہ بھی نہ لیا گیا. ظلم یہ کیا کہ ایل او سی بنوا دی. ہم نے مصلحت کہہ دیا. ستر سالوں سے تمہاری منہ سے نکلتی گولیوں پر اعتبار کیا. تمہارے چھوٹے موٹے ایڈوینچرز میں ہزاروں کشمیری جان سے گئے املاک تباہ ہوئی. مگر تمہاری ٹویٹس نے خاموش کروا دیا. ہم نے مان لیا. ہمارے بزرگوں نے کہا کہ اقوام متحدہ تمہیں کچھ نہیں دے گا. پر تم نے کہا جی ہم نے سائن کیے ہیں اسی پر فیصلہ ہو گا. ہم بے مان لیا. مجاہدین پر پابندیاں، نظربندیاں، گرفتاریاں اور مقدمات ہوئے ہم نے کہا کہ مشکل حالات میں سٹیٹ کی ساتھ کھڑے ہو جاؤ اللہ خیر کرے گا. تم نے ترانے بنا کر رانجھا راضی کیا اور کشمیریوں کے خون پر ناچ گانا شروع کر دیا. ہم نے مان لیا کہ چلو شاید یہی سفارتی زبان ہے. پوری دنیا میں مستقل مندوب رکھے مشیر بھیجے عیاشیاں کی مگر ہم نے کہا چلو کام تو ہو رہا ہے. میرے کشمیری شیروں کی طرف جانیں دیتے رہے. اور تم گیدڑوں کی طرح اپنی بیرکوں اور سرکاری بنگلوں سے ٹویٹ کرتے رہے. افسوس صد افسوس… ایک لاکھ جانیں جانا، ہزاروں عصمتیں لٹ جانا بچوں کا یتیم ہونا ماؤں کی آہیں سب کے لیے چند ٹویٹس اور گانے ہی تھے. کیا سفارتکاری کا یہ ثمر ہوتا ہے. ہم نے ہر موڑ پر آپکا ساتھ دیا مگر یاد رکھیں محبت کی وجوہات مٹ رہی ہیں، اسلام محفوظ نہ پاکستان گالی نہیں دیتا مگر اپنے گریبان میں جھانکے گا ضرور جانیں دینے والوں کو دہشت گرد کہلوایا تم نے. امن کے لالی پاپ دے کر بیغیرتی کی نیند سلایا تم نے. کشمیر پر ستر سال سیاست سیاست اور سیاست. ابھی بھی وقت ہے اس سے پہلے کشمیری پاکستان کے منکر ہو جائیں ان کی چیخوں سسکیوں آہوں کا حساب لو. ہندو بنیے سے جواب لو. کشمیر بزور شمشیر لو. اعلامیے مذمتیں اور یو این او کے لالی پاپ اب پرانے ہو چکے. تم اپنے بے پناہ چاہنے والوں کو اپنا دشمن بنا لو گے اگر تم نے کشمیر سے غداری کی. کہنے سننے کو بہت کچھ ہے مگر………..