Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • کشمیر ۔ امرناتھ یاترا اور 35A ۔۔۔ عبدالرب ساجد

    کشمیر ۔ امرناتھ یاترا اور 35A ۔۔۔ عبدالرب ساجد

    ایک طرف پاکستان کی جانب سے کشمیر پر اٹھنے والی ھر آواز پابند ھے۔۔۔ کشمیریوں کے نعروں کا جواب دینے والا اب کوئی نہیں رھا۔۔۔ سیاسی طور پر چئیرمین کشمیر کمیٹی مشہور زمانہ "شہد والی سرکار” جو شاید زیادہ شہد پی بیٹھے ھیں۔۔۔ اور کشمیر پر بات کرنے کے لئے نہ میڈیا تیار ھے نہ عوام۔۔۔ دو روز قبل بھارت کی جانب سے ایل او سی پر ھونے والی فائرنگ کی خبر ھمارے میڈیا کی زینت بن سکی، نہ سیاسی ایوانوں میں کہیں اسکا ذکر مناسب سمجھا گیا ھے۔۔۔ اور شاید ستو یا شہد پینا اب راولپنڈی میں بھی عام ھو گیا ھے۔۔۔

    انکل ٹرمپ نے ھمارے خان صاحب کو کشمیر پر ثالثی کی آفر تو کر دی ھے، مگر تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ لیجئے۔۔۔

    انڈیا کی قومی سلامتی کا مشیر اجیت دووال اور انکا وزیر داخلہ امیت شاہ پچھلے 4 ماہ سے کشمیر کو اپنا دوسرا گھر بنائے ھوئے ھیں۔۔۔ انڈین میڈیا کے مطابق 27 جولائی سے کشمیر میں 10 ھزار تازہ دم فوجیوں کے دستے کشمیر میں بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ھے، جبکہ درحقیقت یہ تعداد کم ازکم 25 ھے۔۔۔ محکمہ ریلوے اور دیگر سرکاری محکموں میں ایمرجنسی کا اعلان کر دیا گیا ھے۔۔۔ اور اگلے 4 ماہ تک چھٹیاں منسوخ اور راشن سٹور کرنے کی ھدایات جاری کر دی گئی ھیں۔۔۔

    تمام حریت راھمنا نظر بند یا جیلوں میں ھیں۔۔۔ جمون کشمیر کے پانچوں ایس پیز کو فی الفور اپنے علاقوں کی تمام مساجد کا ڈیٹا جمع کرنے کا ٹاسک دیا گیا ھے۔۔۔
    بھارتی سرکار کے مطابق یہ سب کچھ 15 اگست (بھارت کے یوم آزادی) اور امرناتھ یاترا کی سیکیورٹی کے مدنظر کیا جارھا ھے۔۔۔

    درحقیقت 15 اگست پر ھر سال کشمیری سرینگر سمیت پورے جموں کشمیر میں سبز ھلالی پرچم لہرا دیتے ھیں، جبکہ اس سال بڑے پیمانے پر سرکاری سطح پر انڈین پرچم لہرانے کے بندوبست کیے جارھے ھیں۔۔۔

    جموں میں امرناتھ کے مقام پر ہندوؤں کا ایک بڑا اھم مندر ھے، جسکا راستہ ایک بڑے پہاڑی غار سے ھوکر جاتا ھے۔۔۔ جو سارا سال برف کی وجہ سے ڈھکا رھتا ھے اور گرمیوں میں یہ راستہ کھلتا ھے تو ھزاروں ھندو اسکی یاترا کے لئے جمع ھوتے ھیں۔۔۔ 1989 تک اس یاترا میں 10 سے 12 ھزار ھندو آیا کرتے تھے۔۔۔ 1991 سے 1996 تک حرکت المجاھدین کی دھمکی کی وجہ سے یہ یاترا بند رھی اور اسکے بعد مسلسل تقریبا ھر سال یہ یاترا مجاہدین کے نشانے پر رھی۔۔۔ بھارتی سرکاری سرپرستی کے سبب یاتریوں کی تعداد میں ھر سال اضافہ ھوتا رھا اور 2017 میں یہ تعداد 6 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔۔۔ ویسے تو یکم جولائی سے 15 اگست تک 45 دن اس ایونٹ کے لئے مختص ھیں۔۔۔ مگر اس سال 4 اگست کو امرناتھ یاترا کا سرکاری اعلان کیا گیا ھے۔۔۔

    20 دسمبر 2018 کو 6 ماہ کے لئے جموں کشمیر میں صدارتی حکم یا گورنر راج نافذ کر دیا گیا تھا۔۔۔ اور 3 جولائی کو اسے مزید 6 ماہ کے لئے نافذ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ھے، جو خلاف قانون بھی ھے۔۔۔ اسمبلیاں تحلیل اور سیاسی سیٹ اپ نہ ھونے پر دونوں سابق چیف منسٹرز پی ڈی پی کی محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ مسلسل الیکشنز کا مطالبہ بھی کررھے ھیں اور موجودہ صورتحال پر احتجاج کناں بھی ھیں۔۔۔

    تقسیم کے وقت سے ھی دونوں اطراف کے کشمیر کی خصوصی حیثیت برقرار رکھی گئی تھی، جسکے تحت 4 شعبوں دفاع، خزانہ، خارجہ، اور اطلاعات کے علاوہ کشمیر اپنے لئے قانون سازی میں خود مختار ھوگا۔۔۔
    اسی لئے 1949 میں ایک ترمیم کے تحت انڈین آئین میں آرٹیکل 370 شامل کیا گیا۔۔۔ جس کے تحت بھارت سرکار کو اپنا کوئی بھی قانون کشمیر میں لاگو کرنے کے لئے کشمیری حکومت سے اجازت لینا ھوگی۔۔۔
    آرٹیکل 370 کی ایک شق 35A کے تحت کشمیر میں سوائے کشمیریوں کے کوئی دوسرا شہری مستقل رھائش اختیار نہیں کر سکتا۔۔۔ 2019 کے الیکشن میں بی جے پی کے ایجنڈے میں سرفہرست اسی آرٹیکل کا خاتمہ تھا۔۔۔ اور کشمیریوں کے بقول اب ساری منصوبہ بندی اسے قانون کے خاتمے کے لئے کی جارھی ھے۔۔۔

    مگر کیوں۔۔۔؟

    امرناتھ یاترا کے بڑے پیمانے پر بندوبست اور 35A کے خاتمے کے پیچھے صرف ایک مقصد ھے کہ کسی طرح اسرائیلی یہودیوں کی طرح پورے بھارت سے ھندوؤں کو لاکر جموں و کشمیر میں بسایا جائے۔۔۔ اور بالخصوص جموں کو ھندو اکثریت کے نام پر ھندو سٹیٹ بنا دیا جائے۔۔۔ اور مسلمان اپنی ھی زمین پر بے گھر ھو جائیں یا قیدی۔۔۔

    بقول محبوبہ مفتی: "کشمیر میں بارود کو آگ لگائی جا رھی ھے۔۔۔” اب دعاؤں کے سوا اور کوئی ھتھیار بچا بھی نہیں ھے ھمارے پاس۔۔۔!

    اے اللہ۔۔۔! مظلوم کشمیریوں کی مدد و نصرت فرما۔۔۔
    دشمن کی چالوں کو نیست و نابود فرما۔۔۔
    ھمارے حکمرانوں کو عقل و دانش عطا فرما۔۔۔

  • کشمیر پر بھارتی تسلط اور 35-A کا قانون ۔۔۔محمد عبداللہ گل

    کشمیر پر بھارتی تسلط اور 35-A کا قانون ۔۔۔محمد عبداللہ گل

    کشمیر پر انڈیا کا غاصبانہ اور جابرانہ قبضہ ہے۔قبضے سے قبل کی تاریخ کا مطالعہ کرے تو معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر پر ڈوگرا راج تھا۔انڈیا کے آئین میں جموں کشمیر کی خصوصی شہریت کے حق سے متعلق دفع 35-A کا مسئلہ کشمیر سے بھی پرانا ہے۔ اس قانون کی رُو سے جموں کشمیر کی حدود سے باہر کسی بھی علاقے کا شہری ریاست میں غیرمنقولہ جائیداد کا مالک نہیں بن سکتا، یہاں نوکری حاصل نہیں کرسکتا اور نہ کشمیر میں آزادانہ طور سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔یہ قوانین ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے سنہ 1927 سے 1932 کے درمیان مرتب کیے تھے اور ان ہی قوانین کو سنہ 1954 میں ایک صدارتی حکمنامہ کے ذریعہ آئین ہند میں شامل کرلیا گیا۔انڈیا کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) گذشتہ 70 سال سے کشمیر سے متعلق انڈین آئین میں موجود اُن تمام حفاظتی دیواروں کو گرانا چاہتی ہے جو جموں کشمیرکو دیگر بھارتی ریاستوں سے منفرد بناتی ہیں۔ مثال کے طور پرجموں کشمیر کا اپنا آئین ہے اور ہندوستانی آئین کی کوئی شق یہاں نافذ کرنی ہو تو پہلے مقامی اسمبلی اپنے آئین میں ترمیم کرتی ہے اور اس کے لیے اسمبلی میں اتفاق رائے ضروری ہوتا ہے۔آرٹیکل 35 اے کو ختم کرنے کے لیے بھارتی کوششیں آخر کیوں؟؟ اس سوال کا جواب یہ ھے کہ جس طرح فلسطین یروشلم پر اسرائیل نے قبضہ کیا تو کچھ سال بعد اس کی قانونی حثیت ختم کی اور ادھر اپنا سفارت خانہ قائم کر لیا۔اسی طرح بھارت بھی کشمیر کی قانونی حثیت ختم کرنا چاہتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ اگر یہ قانون ختم ہو جاتا ہے تو بھارت ایک حربہ استعمال کرے گا وہ یہ کہ کشمیر میں کثیر تعداد میں ہندو متین کر دے گا اور جیسا کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں کشمیر میں استصواب رائے کا ہے تو یہاں کشمیری عوام اکثریت میں پاکستان سے الحاق چاہتی ہے تو جب وہ اپنے نمائندے متین کرے گا وہ بھی کثیر تعداد میں تو استصواب رائے کا فیصلہ بھارت کے حق میں ہو جائے گا۔میں حیران ہوں جب میں نے تحریر کے لیے ریسرچ کی تو سامنے آیا کہ آرٹیکل 35 اے کو بنانے کے پیچھے جو نظریہ تھا وہ یہ تھا کہ کشمیر کا تعلق لاہور، سیالکوٹ ،گوجرانوالہ سے بھرپور تھا جب ہندو پنڈتوں نے دیکھا کہ مسلمان ادھر کشمیر میں دوسرے علاقوں سے آنا شروع ہو گئے ہیں تو ان کو خطرہ لاحق ہوا کہ ہم تو صرف 2 سے 3 فیصد ہے اگر باہر سے بھی مسلمان آنا شروع ہو گے تو ہمارا اقتدار، ہمارا ہٹ دھرمی والا قبضہ ختم نہ ہوجائے اب 2019 کو دیکھ کے بے جے پی کا نریندر مودی جس کو بھی یہ ہی خطرہ لاحق ہو گیا ہے کہ جس طرح اب بین الاقوامی سطح پر مسلہ کشمیر اجاگر ہو چکا ہے۔اگر کشمیر میں استصواب رائے شروع ہو گئی تو میرا تو کام خراب ہو جائے گا میرے ہاتھوں سے تو کشمیر پھسل کر پاکستان سے مل جائے گا ۔اسے بھی پتہ ہے کی کشمیر کو بالآخر آزادئ ملنی ہی ملنی ہے میرا یہ ہٹ دھرمی والا قبضہ ختم ہونا ہے ۔اس لیے ہاتھ پاوں مار رہا ہے۔اس کے بعد اگر دیکھے تو بھارت نے 10 ہزار مزید فوج وادی کشمیر میں بھیج دی ہے جو کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔اب تک تقریبا 10 لاکھ کے قریب بھارت کی فوج ایک چھوٹے سے خطے میں موجود ہے۔کیا یہ اقوام متحدہ کو نظر نہی آ رہا۔غیر مسلم ممالک کا کوئی کتا بھی مر جائے تو قوانین آ جاتے ہیں ادھر ہمارے کشمیری مظلوم اور غیور مسلمانوں پر انڈین مظالم کی انتہا ہے۔اب تک سینکڑوں نہی ہزاروں نہی لاکھوں کو انڈین آرمی اپنے ظلم و ستم کا شکار کر چکی ہے۔میرا سوال ہے کدھر اقوام متحدہ ہے ،کیا سلامتی کونسل سو گئی ،کہاں گئے انسانی حقوق، کہاں گئی بین الاقوامی وہ تنظیمیں اور ادارے جو آزادی پسند ہے۔اقوام متحدہ کا رویہ نا قابل برداشت ہے۔وہ کشمیری عوام پاکستان کو پکار رہی ہے ۔پاکستان کو چاہیے یہ مسلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کریں

  • 42 ارب ڈالر کا مالک آج در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے…

    42 ارب ڈالر کا مالک آج در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے…

    دنیا تغیرات کی آماجگاہ ہے ، یہاں پر ہر روز ایسی ایسی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے،ایک انسان اگرآج عروج کی بلندیوں کو چھو رہا ہے تو عین ممکن ہے کہ کل وہ گلی گلی کی خاک چھان رہا ہو،عروج سے زوال تک کے سفر پر کئی انسانوں کی زندگیاں محیط ہیں کہ جنہوں نے پیسہ،نام اور شہرت بے پناہ کمایا اور پھر زوال کی طرف چلے گئے

    Dhirubhai Ambani , Father of Anil and Mukesh Ambani

    ایک ایسی ہی کہانی انڈیا کے ایک ارب پتی انیل امبانی کی ہے،انیل کا باپ دھیروبھائی امبانی ایک بڑا کاروباری شخص تھا جس نے ریلائنس ٹیلی کام اور ریلائنس گروپ کی بنیاد رکھی اور ریلائنس کو ایک بڑا کاروباری گروپ بنا دیا، دھیروبھائی امبانی کے دو بیٹے تھے، ایک کا نام مکیش امبانی اور دوسرا انیل امبانی تھا، دھیرو بھائی امبانی 2002 میں دنیا سے چل بسا، اور اپنی جائداد دونوں بیٹوں میں تقسیم کرگیا، ریلائنس ٹیلی کام کمپنی، ٹی وی چینل اور پروڈکشن انیل امبانی کو دے دیا گیا، جبکہ آئل اینڈ گیس کمپنی، کنسٹرکشن کمپنی ، اور ایلائنس پیٹرو کیمیکلز کا نیا مالک مکیش امبانی کو بنا دیا گیا، 2004 میں انیل امبانی نے ریلائنس کیپیٹل،ریلائنس انرجی اور ریلائنس نیچرل ریسورسز کو بھی اپنے گروپ میں شامل کرلیا،

    انیل نے اپنے کاروبار کو مزید ترقی دینے کیلئے 2005 میں ادلب موویز پروڈکشن گروپ کو بھی خرید لیا، 2008 میں انیل نے امریکن پروڈیوسر سٹیون سپائل برگ کے پرودکشن ہاؤس ڈریم ورکس کےساتھ 1.2 ارب ڈالر کا معاہدہ کرلیا، انیل کی کوشش تھی کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی مکیش امبانی سے ہمیشہ ہر لحاظ سے اوپر رہے اور وہ اس کوشش میں کامیاب بھی ہوا جب 2008 کی فوربز رپورٹ کے مطابق انیل امبانی کے کل اثاثے 42 ارب ڈالر سے اوپر ہو چکے تھےاور اس وقت انیل مبانی اپنے کاروبار کے عروج پر تھا اور ہندوستان کا سب سے امیر ترین شخص بن چکا تھا

    Mukesh Ambani

    لیکن پھر سال 2014 آیا اور انیل امبانی کے کاروبار کا زوال شروع ہوا، انیل کی پاور اینڈ انرجی بنانے والی کمپنیوں نے بجلی کی کھپت کو پورا کرنے کیلئے بینکوں سے بڑا قرض لیا ، لیکن ان کمپنیوں کے بنائے ہوئے منصوبے کیمطابق پاور پلانٹ بجلی پیدا نہ کرسکے اور انیل کی پاور اینڈ انرجی سیکٹر کی کمپنیاں گھاٹےمیں چلی گئیں، اس کے بعد بینک سے لیے ہوئے قرض کو واپس کرنے کا وقت آیا تو کاروبار اس قابل نہ تھا کہ قرض دے پاتا، اس صورت میں انیل نے ریلائنس انرجی اور ریلائنس پاور کو بیچ دیا،

    لیکن انیل امبانی کے کاروبار کو بڑا دھچکہ اس کے اپنے گھر سے ہی ملا جب مکیش امبانی نے2016 میں ٹیلی کام کمپنی جیو کو لانچ کردیا اور اس سے انیل امبانی کے رہی سہی منافع بخش کمپنیوں ائرٹیل،آئیڈیا اور ووڈا فون کا کاروبار بھی ٹھپ کردیا، فروری 2019 میں بھارتی سپریم کورٹ نے انیل کو حکم جاری کیا کہ اگر آپ نے سویڈش کمپنی ایریکسن کے 550 کروڑ بھارتی روپے واپس نہ لٹائے تو آپ کو جیل میں ڈال دیا جائے گا ، خوش قسمتی سے اس معاملے میں مکیش نے انیل کی مدد کی اور اس کا قرض خود ادا کیا، لیکن انیل امبانی کی مشکلات ابھی بھی حتم نہیں ہوئیں ، انیل مبانی نے ابھی مزید 1.7 لاکھ کروڑ بھارتی روپے کے قرض ادا کرنے ہیں
    انیل امبانی کی اس وقت کل ملکیت صرف 50 کروڑ ڈالر رہ گئی ہے جو کہ 2008 میں 42 ارب ڈالر تھی، اور اس وقت انیل کا چھوٹا بھائی مکیش امبانی انڈیا کا سب سے امیرترین شخص ہے جس کے کل اثاثے 52 ارب ڈالر ہیں اور مکیش امبانی صرف ممبئی والا گھر انیل امبانی کی کل ملکیت سے زیادہ مہنگا ہے

  • بھارتی آبی دہشتگردی سے بھاری زمین کٹاؤ ، ذمہ دار ورلڈبینک ۔۔۔ انشال راؤ

    بھارتی آبی دہشتگردی سے بھاری زمین کٹاؤ ، ذمہ دار ورلڈبینک ۔۔۔ انشال راؤ

    مردم شماری 2017 کے مطابق پاکستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی دیہی ہے جن کا زریعہ معاش براہ راست یا بالراست زراعت سے وابستہ ہے اس کے علاوہ شہری آبادی کا بھی زراعت سے گہرا تعلق ہے پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے، زراعت شماری 2010 کے مطابق پاکستان کی تقریباً سات کروڑ ایکڑ سے زائد اراضی قابل کاشت ہے جس میں سے تقریباً چار کروڑ ایکڑ سے زائد رقبہ آباد اور تقریباً تین کروڑ ایکڑ رقبہ پانی کی قلّت و دیگر وجوہ کی بنا پر غیرآباد ہے، پاکستان کی زراعت کا انحصار تین مغربی دریا سندھ، چناب، جہلم پر ہے جن کے منبع مقبوضہ کشمیر میں ہیں، جنت ارضی جموں و کشمیر تاریخی و جغرافیائی، مذہبی و ثقافتی جملہ اعتبار سے پاکستان کا جزولاینفک ہے اور آبی اعتبار کے نقطہ نظر سے پاکستان کی شہ رگ ہے جو تقسیم ہند کے بنیادی اصول یعنی مسلم اکثریت والے علاقے پاکستان میں شامل ہونگے کے مطابق قطعی طور پر پاکستان کا حصہ بنتے تھے مگر قادیانیت کی سازش سے بھارت نے غاصبانہ قبضہ کرلیا جس کے خلاف کشمیر کے مسلمانوں نے علم جہاد بلند کیا جن پاکستانی مسلمانوں نے دل و جان سے مدد کی، مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت میں کئی بار خونریز جنگیں ہوچکی ہیں، اس کے علاوہ دونوں ممالک میں شروع سے ہی پانی پر تنازعہ کھڑا ہوا جوکہ ورلڈ بینک کی ثالثی میں ایک معاہدے کے تحت حل ہوا جس کے تحت تین مغربی دریا راوی، ستلج، بیاس پر بھارت اور سندھ، چناب، جہلم پر پاکستان کا حق طے پایا مگر بعد میں اس معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوے بھارت نے پاکستانی دریاوں پر کنٹرول کرنا شروع کردیا اور کھلم کھلا آبی دہشتگردی کررہا ہے اس ضمن میں بھارت نے انڈس واٹر ٹریٹی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوے پاکستانی دریاوں پر بڑے پیمانے پر ڈیم بنارہا ہے، اس کے علاوہ انٹرنیشنل واٹر ٹریٹی 1970 کی خلاف ورزی کرتے ہوے ستلج، بیاس، راوی کا پانی روک رہا ہے اس عالمی معاہدے کے مطابق کسی بھی دریا کے زیریں حصے کا سو فیصد پانی نہیں روکا جاسکتا، بھارت سازش کے تحت بارشوں کے موسم میں ایک ساتھ پانی چھوڑ کر سیلابی صورتحال پیدا کردیتا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو لاکھوں ایکڑ زراعت و دیگر مالی جانک نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور لاکھوں افراد متاثر ہوتے ہیں، عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس کا زمہ دار عالمی بینک بھی ہے جو بھارت کو پاکستانی دریاوں پر ڈیم بنانے کی اجازت دے رہا ہے جسکے پاکستان پر سنگین اثرات پڑ رہے ہیں ہیں، جن میں صحت کے مسائل، سمندری حیات کو نقصان، جنگلات کی کمی، صحرازدگی، بڑے پیمانے پہ زمینی کٹاو، معاشی و جانی نقصان اور دیگر ماحولیاتی مسائل سرفہرست ہیں، بھارت صنعتوں کا زہریلا پانی اور زہریلے کیمیکل پاکستان میں ایک سازش کے تحت پانی میں چھوڑ کر بڑے پیمانے پر انسانی نسل کشی کا مرتکب ہے اور بھارتی ڈیمز کی تعمیر کے باعث چناب، جہلم اور سندھ جوکہ Meandering دریا ہیں بڑے پیمانے پر زمینی کٹاو کررہے ہیں جس سے لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی کی تباہی ہوچکی ہے لاکھوں ایکڑ جنگلات ختم ہوچکے ہیں، کئی لاکھ خاندان متاثر ہوکر زریعہ معاش سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، دریائے زرد چین پر Sanmenxia Dam کی تعمیر کے باعث 1961 سے 1964 کے درمیان بڑے پیمانے پر Bank Erosion ہوا اور دوسری بار Xiaolangdi Dam کی تکمیل کے باعث 1998 سے 2004 کے درمیان بھاری زمینی کٹاو کا سامنا کرنا پڑا، دریائے ڈینیوب یورپ کا تاریخی و مشہور دریا ہے جسے ہنگری نے navigational اور سیلابی کنٹرول کے مقاصد کے حصول کے تحت modify کیا جس کے نتیجے میں بلغاریہ، سربیا وغیرہ کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا، دریائے نیل نے انسانی سرگرمیوں کے زیر اثر مصر میں خوب تباہی مچائی، ان نقصانات کے پیش نظر یورپی ممالک سمیت عالمی سطح پر اب اس بات کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ دریاوں کے قدرتی بہاو کو زیادہ نہ چھیڑا جائے اور دوبارہ بحال کیا جائے جبکہ بھارت وہ ملک ہے جس کے دریا پہ کنٹرول کے خواب کے باعث پاکستان میں بڑے پیمانے پر لوگ اپنی زرعی اراضی سے محروم ہورہے ہیں دریائے سندھ نے گھوٹکی، راجن پور، مظفر گڑھ کلور کوٹ جھنگ اور دیگر بہت سے اضلاع میں بڑے پیمانے پر زمینی کٹاو کیا ہے، دریائے جہلم اور چناب آج کل وسیع پیمانے پر زمینی کٹاو کررہے ہیں، ملتان ڈویژن کے علاقوں میں لوگ اپنی بےبسی پر رورہے ہیں کیونکہ چناب نے ہزاروں ایکڑ رقبہ کا کٹاو کردیا ہے جوکہ بھارتی آبی دہشتگردی کے باعث ہورہا ہے، نتیجتاً لاکھوں افراد کا زریعہ معاش ختم ہونے کے ساتھ ساتھ بھاری غذائی و زرعی نقصان بھی ہوا ہے، اب سے پہلے پاکستان کے پالیسی سازوں اور حکومتوں نے سنگین غفلت اور غیرزمہ داری کا مظاہرہ کیا جس سے پاکستان کو نہ صرف پانی کی کمی کا سامنا ہے بلکہ ہر سال بھاری نقصان بھی برداشت کرنا پڑ رہا ہے، موجودہ حکومت کو پہلی فرصت میں سنجیدگی کے ساتھ بھارتی دہشتگردی اور ویانا کنوینشن کی خلاف ورزی دنیا کے سامنے رکھنی چاہئے، تمام متعلقہ تنظیموں کو رپورٹس دینی چاہئے اور ان کے اشتراک سے یا عالمی ماہرین کو طلب کرکے بھارتی دہشتگردی کو دنیا کے سامنے رکھنا چاہئے، ورلڈ بینک کی طرف سے بھارت کو ڈیمز کی تعمیر کی اجازت جوکہ میرٹ اور معاہدے کی خلاف ورزی ہے صرف لابنگ کی بنیاد پہ دی گئی، اس سازشی اجازت کو عالمی عدالت میں فوری طور پہ چیلنج کرکے ورلڈبینک کو بھی گھسیٹے اور ہرجانے کا دعویٰ دائر کرے، عالمی سطح پر مہم چلا کر بھارتی دہشتگردی کو بےنقاب کرے جو آگے چل کر خونریز جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔

  • بغیر کسی سرمایہ کاری کے لاکھوں کمائیے

    بغیر کسی سرمایہ کاری کے لاکھوں کمائیے

    اس وقت دنیا میں ایسے کئی قسم کے کاروبار کیے جارہے ہیں جو کہ بغیر کسی سرمایہ کاری کے شروع کیے جا سکتے ہیں اور ان کو علاقائی اور عالمی سطح پر پھیلایا بھی جا سکتا ہے، ایسے کاروبار کافی منافع بخش بھی ثابت ہوتے ہیں جن میں آپ کو اپنے پہلے سے موجود وسائل کو بروئےکار لا کر بالکل چھوٹی سطح سے شروع کرنا ہوتا ہے اور پھر جوں جوں آپ کے وسائل میں اضافہ ہوتا جاتا ہے آپ اپنے کاروبار کو پھیلاتے جاتے ہیں، اکیسویں صدی میں اس طرز کا کاروبار شاید کامیاب یا پھر اتنا کامیاب نہ ہو پاتا اگر سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی نہ ہوئی ہوتی،

    Headquarter of Airbnb in San Francisco, California, USA

    Airbnb ایک اسی طرز کی کمپنی ہے جو اپنے صارفین کو ان کے خواہش کردہ علاقے،شہر یا ملک میں کچھ دنوں کیلئے رہائش رکھنے کی سہولت فراہم کرتی ہے، اس سہولت سے ہر وہ شخص مستفید ہو سکتا ہے جو اس کمپنی کیساتھ بزریعہ ویب یا موبائل ایپ منسلک ہو، اور یہ کمپنی ہرشخص کو اپنا کاروبار شروع کرنے کا موقع بھی دیتی ہے، اگر کسی شخص کے پاس کوئی ایسی پراپرٹی ہو جو اس کے استعمال میں نہ ہو تو وہ اس پراپرٹی کو بمع تصویر و تحریر Airbnb پر رجسٹر کروا کر میزبانی کیلئے اس اپارٹمنٹ ،گھریا کمرے کو کھول سکتا ہے،
    اس کے بعد کوئی بھی شخص ایئربی این بی کی ویب سائٹ یا ایپلیکیشن کے زریعے مکان مالک سے رابطہ کرکے گھر یا اپارٹمنٹ کی بکنگ کر سکتا ہے، اس بکنگ میں صارف کو بتانا ہوتا ہے کہ اس کو گھر کس جگہ،کتنے دنوں کیلئے اور کتنے کمروں کیساتھ چاہیے، اور اگر صارف کوگھر پسند آجائے تو اسے مکان مالک کیساتھ معاہدہ کرنا ہوتا ہے اور بی این بی کی طے کردہ رقم دینا ہوتی ہے،

    airbnb کا قیام بھی بہت دلچسپ ہے، دو امریکی دوست برائن چیسکی اور جو گیبیا پڑھائی کے سلسلے میں اکتوبر 2007 میں کیلی فورنیا ریاست کے شہرسان فرانسسکو آئے اور انہوں نے رہائش کیلئے ایک اپارٹمنٹ کرائے پر لیا، لیکن اس اپارٹمنٹ کا کرایہ برداشت کرنا دونوں کیلئے بہت مشکل تھا، دونوں نے ایک ترکیب سوچی کہ ہم اپنے بیٹھک والے کمرے میں ایک ایئر میٹرس ڈال کر اسے کسی اور شخص کو کرائے پر دے دیت ہیں اور ہم کرایہ دار کو بیڈ اینڈ بریک فاسٹ آفر کریں گے اور اس آمدن سے ہم اپارٹمنٹ کا کرایہ اداکرسکیں گے،

    تھوڑے عرصے بعد برائن کے پرانے دوست ناتھن بھی برائن کے گروپ میں شامل ہو گیا اور انہوں نے اپنے نئے کاروبار کو ایک سے پانچ رہائشوں تک پھیلا دیا،11 اگست 2008 کو برائن،چیسکی اور ناتھن نے مل کر اپنی کمپنی کی آفیشل ویب سائٹ بنا ڈالی،کمپنی کو اس کے پہلے صارف 2008 کی موسم گرما میں ملے جب فرانسسکو میں ایک بڑی کانفرنس منعقد کی گئی، 2009 میں پال گراہم نے ایئر بی این بی کے مالکان سے کمپنی کے پانچ فیصد شئیرز 20000 ڈالرز میں خرید لیے، برائن چیسکی اور جو گیبیا نے اس رقم سے نیویارک ٹور پلان کیا اور مارکیٹنگ مینیجرز سے ملاقات کی اور اپنی کمپنی کی ویب سائٹ کی پروموشن کیلئے بات کی، جس کے زریعے بالکل تھوڑے عرصے میں کاروبار اور پراپرٹی ڈیلنگ کے نئے انداز کو پورے امریکہ میں پھیلا دیا، مارچ 2009 تک بی این بی ویب سائٹ کے صارفین کی تعداد 10000 اور پرائیویٹ جائدادوں کی تعداد 2500 تک پہنچ گئی،
    2011 میں کمپنی نے لندن میں اپنا دوسرا انٹرنیشنل دفتر کھولا، اور دن بدن بڑھتے انٹرنیشنل صارفین کے باعث کمپنی نے 2012 میں میلان،کوپن ہیگن،ساؤپولو،پیرس اور ماسکو میں بھی دفاتر کھولے گئے،

    First Airbnb apartment in London

    اکتوبر 2013 تک کمپنی کے زریعے گھر تلاش کرنے والے سیاحوں کی تعداد 90 لاکھ تک پہنچ گئی اور اسی سال مزید 250 گھر مالکان کمپنی کے نیٹ ورک سے منسلک ہوگئے،اگست 2015 میں کمپنی کے منافع میں 80 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ دن بدن بڑتا گیا،
    2015 میں ہی ائیربی این بی کا کاریں بنانے والی امریکن کمپنی ٹیسلا سے معاہدہ ہو گیا جس کے مطابق ٹیسلا کا صارف ائیر بی این بی سے رجسڑڈ پراپرٹی سے اپنی کار کی بیٹری چارج کرسکتا ہے، 2018 میں برائن چیسکی نے اعلان کیا کہ ان کی کمپنی ایک ائر لائن کو بنانے کا ارادہ رکھتی ہے،2017 کی رپورٹس کیمطابق ائیربی این بی کی آپریٹنگ آمدن 450 ملین ڈالر اور نیٹ انکم 93 ملین ڈالر تھی اور اس کا کل ریونیو 2.6 بلین ڈالر تھا جو کہ آج کی تاریخ میں مزید بلند ہوچکا ہو گا،

    ایئربی این بی کے کاروبار کی خاصیت اور اس کے کامیاب ہونے کا راز یہ ہے کہ یہ اپنے گروپ میں شامل ہونے والے کرایہ دار اور مکان مالک دونوں کو منافع فراہم کرتی ہے، کمپنی کے صارف اس ایپ سے فائدہ اس طرح اٹھاتے ہیں کہ بڑے بڑے 3 اور 5 سٹار ہوٹلز کے کرائے دینے سے بہتر ہے کہ بالکل معمولی سی رقم سے اتنے کمروں کا گھر یا فلیٹ کرائے پر لیا جائے جتنے لوگ سیر و تفریح کیلئے یا کسی کام کے سلسلے میں اپنے گھر سے دور جا رہے ہیں
    اور ائیر بی این بی کے نیٹ ورک میں شامل ہونے والے پراپرٹی ہولڈرز بھی اچھا خاصہ منافع کما سکتے ہیں کہ اگر آپ کے پاس کوئی گھر،اپارٹمنٹ یا بلڈنگ خالی ہے کسی استعمال میں نہیں تو آپ اسے بی این بی کی ویب سائٹ پر رجسٹر کروا کر گھر بیٹھے اپنا کاروبار بغیر کسی سرمایہ کاری کے شروع کر سکتے ہیں

  • آخر ہم بدنام کیوں نہ ہوتے ۔۔۔ حافط معظم

    آخر ہم بدنام کیوں نہ ہوتے ۔۔۔ حافط معظم

    آج یونیورسٹی میں ایک دوست نے بڑا ہی عجیب سوال کر ڈالا کہ "آج پوری دنیا میں مسلمان اپنا مقام کیوں کھو چکے ہیں، مسلمانوں کو حقارت بھری نظر سے کیوں دیکھا جاتا ہے؟”
    کہنے کو تو یہ ایک عام سا سوال ہے لیکن اس سوال کے پس منظر میں چھپے اسباب بہت ہی کڑوے ہیں، کبھی ہم نے یہ سوچنے کی زحمت کی کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آج ہم اپنا مقام کھو چکے ہیں، دنیائے کفر ہم پر چڑھ دوڑی ہے اور ہم بے بسی اور بے حسی کے تصویر بن چکے ہیں، جو دین آیا ہی غالب ہونے کے لیے تھا آخر اس کے پیروکار بے یارو مددگار کیوں ہو گئے.
    شاید اقبال نے ہمارے لیے ہی کہا تھا

    شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود
    ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود!
    وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
    یہ مسلماں ہیں! جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود
    یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
    تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو!

    آخر ہم کیوں بدنام نہ ہوتے، ہر وہ کام جس سے ہمیں ہمارا دین اسلام منع کرتا ہے ہم نے اپنے اوپر لازم قرار دے لیا ہے، کہلوانے کو تو ہم سب مسلمان ہیں لیکن کیا ہم میں کوئی ایسی صفت موجود ہے جو ہمیں ایک کامل مسلمان ثابت کرنے کے لیے کافی ہو، اگر آج ہم اپنا محاسبہ کرنے بیٹھیں تو شاید ہی ہم اپنے اندر کوئی ایسی صفت تلاش کر پائیں جو ایک سچے اور کامل مسلمان کا خاصہ ہونی چاہیے، فرقہ واریت کے ناسور نے ہماری جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے، اسلام میں فرقہ پرستی کا کوئی تصور نہیں ہے.
    ارشاد باری تعالیٰ ہے :

    وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ
    ’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘

    آج ہم فرقوں میں اس قدر بٹ چکے ہیں کہ اپنے مسلمان بھائی کو برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہیں، اپنے اپنے فرقوں کے بنائے گئے خود ساختہ خول میں اس قدر گم ہو چکے ہیں کہ نبی مکرم ﷺ کی تعلیمات کو پس پشت ڈال چکے ہیں، غیر اسلامی رسومات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا چکے ہیں.
    یہ دنیا فانی ہے ہر ذی روح نے اس دنیا کو چھوڑ جانا ہے، کیا کبھی ہم نے یہ سوچا کہ قبر میں جب فرشتے ہمارا حساب کتاب کرنے آئیں گے تو کیا وہ ہم سے یہ سوال کریں گے کہ بتا تیرا فرقہ کیا ہے؟ تو کس فرقے کا پیروکار ہے؟
    ہر گز نہیں! فرشتے نے ہم سے یہ سوال کرنے ہیں کہ بتا تیرا رب کون ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ تو کیا ہم اس وقت اندھیری قبر میں فرشتے کے ان سوالوں کے جواب دے پائیں گے، جس طرح ہم زندگی کے امتحانات کے لیے بھر پور تیاری کرتے ہیں اسی طرح ہمیں قبر کے امتحان کے لیے بھی تیاری کرنا ہو گی.
    ہمارا اللہ بھی ایک، ہمارا رسول بھی ایک اور ہمارا دین بھی ایک تو پھر آخر ہم منتشر کیوں ہیں.
    ٹرک کی بتی کا پیچھا کرنا چھوڑ دیں حق اور سچ کو تلاش کرنے اور جاننے کی کوشش کریں، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہو جائیں، دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اللہ کے نازل کردہ احکامات کی تعمیل کرنا ہو گی، فرقہ واریت کے ناسور کو ختم کرنا ہو گا، محمد عربی ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں کا اوڑھنا بچھونا بنانا ہو گا.
    نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی ہم اس دنیا میں بھی اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر پائیں گے اور آخرت میں بھی کامیابی سے ہمکنار ہوں گے.
    اللہ تعالٰی ہمارا حامی و ناصر ہو. آمین

  • شناختی کارڈ کی شرط پر حکومت کا واضع اعلان

    شناختی کارڈ کی شرط پر حکومت کا واضع اعلان

    کراچی:اگست سے پورے ملک میں 50 ہزار سے زائد کی خریداری کرنے والوں کو ہر حال میں شناختی کارڈ دینا ہوگا، اور اگر آپ بین الاقوامی خریدار ہیں تو آپ کو اپنا پاسپورٹ ظاہر کرنا ہو گا،
    ان لینڈ ریونیو کے چیف کمشنر بدرالدین احمد قریشی نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ غیر تصدیق شدہ خریداروں کی پہچان کرنے کیلئے اور ان کی ٹیکس چوری روکنے کیلئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے، شناختی کارڈ کو لازمی قرار دینے ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ جو کاروباری حضرات اپنا مال برآمد کرتے ہیں اور ملک میں بیچتے ہیں ان کا ریکارڈ بھی ایف بی آر کے پاس ہو گا کہ کتنا مال ملک سے باہر برآمد کیا گیا اور کتنا ملک میں بیچا گیا ہے،
    چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو شبر زیدی نےکہا ہے کہ پاکستان میں ٹیکسٹائل سیکٹر ہر سال 1200 ارب کی ٹیکسٹائل پراڈکٹس فروخت کرتا ہے اور اس سے حاصل ہونے والے ٹیکس کی مقدار صرف 6 ارب روپے ٹیکس کی مد میں ادا کر رہا ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ کہ پاکستان کا ٹیکس نظام ڈاکومنٹڈ نہیں ہے،

  • قادیانیت اور سوشل میڈیا پر ایک نظر ۔۔۔ حافظ عبدالرحمٰن منہاس

    قادیانیت اور سوشل میڈیا پر ایک نظر ۔۔۔ حافظ عبدالرحمٰن منہاس

    پہلے کبھی اخبارات کا دور تھا جو کچھ ہوتا تھا سامنے آ جاتا تھا لیکن آج کل سائنس و ٹیکنالوجی نے ہم کو سوشل میڈیا کا زمانہ دے دیا نہ جانے آگے چل کر اور کیا کیا ایجاد ہو گا نہ جانے اس لیے کہا کہ ہم لوگ صرف فرقہ واریت ، لسانیت اور نہ جانے کن کن لڑائی جھگڑوں میں پڑے ہوئے ہیں اور جن کو ہم اپنا دشمن کہتے ہیں وہ سائنس و ٹیکنالوجی میں دن بہ دن ترقی کرتے جا رہے ہیں ہم اس معاملے میں کوئی مقابلہ نہیں کر پا رہے

    _______________________
    خیر بات تھی قادیانیوں کی تو میرے دوستو سوشل میڈیا پر فیس بک ہو یا پھر ٹویٹر ہر جگہ ہمارے پاکستانیوں کے اکاونٹ ہیں اور شاید نماز بھی پڑھیں یا نہ پڑھیں لیکن فیس بک اور ٹویٹر پر اکاونٹ بنانے والے ہم لازمی اپنا سٹیٹس اپڈیٹ کرتے ہیں یا پھر کسی نہ کسی کی پوسٹ پر کمنٹ اور لائک تو لازمی کرتے ہیں دیکھا جائے تو ہر طرح کے گروپس اور پیجز بنے ہیں اور ہر طرح کی آئی ڈیز بھی بنی ہیں اب اگر ہم آئی ڈیز کے ناموں پر غور کریں تو لازمی بات ہے اپنے نام پر ہی آئی ڈی بنائیں گے یعنی میں مسلمان ہو تو میرا نام بھی اسلامی ہو گا تو میری آئی ڈی اسلامی نام سے ہی بنے گی اور میں جہاں بھی کسی بھی گروپ یا پیجز میں کمنٹ یا لائک کروں گا تو دیکھنے والے یا میرے کمنٹ کا جواب دینے والے سمجھ جائیں گے کہ یہ مسلمان ہے

    بالکل اسی طرح قادیانی جن کو الحمد اللہ پاکستان کے قانون کے مطابق غیر مسلم قرار دے دیا گیا تھا جو آج بھی اسی قانون کے اندر آتے ہیں پاکستان کے قانون کے تحت کافر ہی ہیں ___________مگر قادیانی خود کو کافر نہیں سمجھتے بلکہ وہ خود کو مسلمان ہی سمجھتے ہیں لہذا اسی کی بنیاد پر قادیانی اپنے نام بھی مسلمانوں کے ناموں کی طرح ہی رکھتے ہیں تو جس طرح ہم مسلمان فیس بک ٹویٹر استعمال کرتے ہیں بالکل ایسے ہی قادیانی بھی کرتے ہیں اب نام ہمارے اور قادیانیوں کے ایک جیسے ہی ہیں اسی بات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے قادیانی سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹوں پر کمنٹ کرتے ہیں اور ایسے پیجز اور گروپس بھی چلاتے ہیں جو مسلمانوں میں فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہوں جو پاک فوج کے خلاف باتیں کرتے ہوں لیکن ہم کو علم نہیں ہوتا کہ یہ قادیانی ہے یا نہیں جس کی وجہ سے ہم بھی مسالے دار فرقہ واریت کی باتوں میں آ کر قادیانیوں کا ساتھ بھی دیتے ہیں اور اپنی آخرت بھی خراب کرتے ہیں

    اب یہ کام بہت بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے بلکہ قادیانیت کے زیر سایہ ایسے ادارے بھی چلائے جا رہے ہیں جن کا کام ہی صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کو جتنا ہو سکے آپس میں لڑواؤ کیوں کہ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ جو قادیانی نہیں وہ مسلمان ہی نہیں

    لہذا میرے دوستو فرقہ واریت ،لسانیت ،مذہب ، پاکستان اور پاک آرمی پر تنقید کرتے ہوئے یا بحث کرتے ہوئے اس بات کا خیال بھی رکھا کریں کہ جو بات میں کر رہا ہوں کیا اس بات سے یا اس کو آگے پھیلانے سے میرے دین اسلام میرے وطن پاکستان کو نقصان تو نہیں ہو گا یہ سوچ کر کمنٹ ،لائک اور شئیر کیا کریں کہ جو پوسٹ میں شئیر کر رہا ہوں کیا اس سے مسلمانوں کا آپس میں نقصان تو نہیں ہو گا ،اور مسلمانوں میں آپس میں نفرتیں تو نہیں بھریں گی ان ساری باتوں کا خاص خیال رکھنا بہت لازمی ہے

    کیوں کہ ہم بلاوجہ ہی کفار کی سازشوں کا شکار ہو رہے ہیں اگر کوئی ایک ادارہ چلا رہا ہے مسلمانوں کو آپس میں لڑوانے کے لیے تو ہم سب مل کر اُن کی سازشوں کو پروان چڑھا رہیں ہیں

    ہم کو سوچنا ہو گا بلکہ قدم قدم سوچ رکھنا ہو گا کیوں کہ ہمارے بڑوں نے بہت زیادہ قربانیاں دے کر یہ وطن عزیز پاکستان حاصل کیا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اللہ نے مسلمانوں کو پاکستان ایک خاص تحفہ دیا ہے اب تحفے کی حفاظت ہمارا کام ہے۔

  • عمران کی سفارتی کامیابیاں — محمد عبداللہ

    عمران کی سفارتی کامیابیاں — محمد عبداللہ

    سفارتکاری کسی بھی ملک و قوم کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہے بالخصوص دور جدید میں تو اس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ جب آپ کی معاشی، سیاسی، سماجی، ٹیکنالوجی اور عسکری ترقی کا دارو مدار ہی آپ کے بین الاقوامی دوستوں اور تعلقات پر ہو، مستزاد یہ کہ آپ کے حریف ممالک اور اقوام جب آپ کے خلاف کاؤنٹر سفارتکاری شروع کردیں تو معاملہ اور بھی گھمبیر ہوجاتا ہے پھر آپ "Do or Die” کی پوزیشن میں آجاتے ہیں. بدقسمتی سے وطن عزیز پاکستان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ پیش آتا رہا ہے کہ ہماری سفارکاری انتہائی کمزور رہی ہے، ہماری خارجہ پالیسی مستقل بنیادوں پر نہیں بلکہ عارضی اور ہنگامی بنیادوں پر ترتیب پاتی رہی ہے.

    یہاں تک کہ پچھلے دور حکومت کے چار پانچ سالوں میں تو ملک کا وزیرخارجہ ہی نہیں تھا جس کی وجہ سے پاکستان کو خارجہ سطح پر شدید ترین نقصان سے دوچار ہونا پڑا دوسری طرف بھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی نے دنیا بھر کے سفارتی دورے کیے اور دوسرے ممالک کے سربراہان کو اپنے ملک میں دعوت دے دے کر بلاتا رہا جس کا نقصان ہمیں یہ اٹھانا پڑا کہ پاکستان کے بارے میں عام تاثر یہ پیدا ہوگیا کہ یہ دہشت گردوں کے چنگل میں پھنسی ہوئی ایک ناکام ریاست ہے جس کے ایٹمی اثاثے تک بھی محفوظ نہیں ہیں. اسی طرح پاکستان کا آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے چنگل میں بری طرح سے جکڑا جانا بھی اسی ناکام ترین سفارت کاری اور کمزور خارجہ پالیسی کا ہی نتیجہ تھیں.

    سابقہ حکومت کی اس بے توجہی کی اک بڑی مثال اس وقت سامنے آئی جب کشمیر ایشو پر لابنگ کرنے کے لیے کچھ پارلیمینٹرینز کو دنیا بھر میں بھیجا گیا تو ان میں سے اکثریت وہ تھی جو کشمیر اور کشمیر کے بارے میں وہ بنیادی معلومات سے بھی نابلد تھے جو بچے بچے کو پتا ہوتی ہیں یہی وجہ تھی ہمارے اس رویے کو دیکھتے ہوئے ہمارے قریب ترین ممالک بھی ہمارے ایشوز مثلاً کشمیر وغیرہ پر ہمارا ساتھ دینا چھوڑ گئے.حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ یہ واضح طور پر سمجھا جانے لگا کہ پاکستان کو سفارتی محاذ اور بین الاقوامی سطح پر "تنہا” کردیا گیا ہے.

    لیکن صد شکر کہ جب موجودہ حکومت قائم ہوئی تو کچھ امید بندھتی نظر آئی کہ اب حالات بدلیں گے اور واقعی بین الاقوامی سطح پر حالات بدلے. بہت سارے لوگ اس کو عمران خان کی خوشقسمتی قرار دیتے ہیں جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ خوشقسمتی کے ساتھ ساتھ عمران خان کی محنت اور اس کی سنجیدگی کا بہت بڑا کردار ہے. جب عمران خان کی حکومت بنی ملک کی ابتر معاشی اور سیاسی صورتحال دیکھ کر تو یہی سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان کے تعلقات سعودیہ، چائنہ اور ترکی وغیرہ سے ناہموار ہوجائیں گے لیکن عمران خان نے اپنی حکومت قائم ہونے کے کچھ ہی عرصہ بعد سعودیہ کا دورہ کیا اور یہ سلسلہ صرف ایک دورے پر موقوف نہیں کیا بلکہ یکے بعد دیگرے تین دورے کیے جن میں شاہ سلمان، محمد بن سلمان، سیکرٹری جنرل OIC وغیرہ سے ملاقاتیں کیں، پاکستان کی ابتر معاشی صورتحال کو سہارا دینے کے لیے سعودیہ سے معاشی مدد، تین سال تک تین ارب ڈالر کا ادھار تیل حاصل کیا. علاوہ ازیں محمد بن سلمان کے پاکستان کے غیر معمولی دورے پر محمد بن سلمان کا خود کو سعودیہ میں پاکستان کا سفیر کہنا اور پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے احکامات جاری کرنا عمران خان کی واضح ترین کامیابی تھی.

    اسی طرح سی پیک پر کام رک جانے کی وجہ سے یہ سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان کے چین سے تعلقات خراب ہوجائیں گے جس کا بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو شدید نقصان اٹھانا پڑ سکتا تھا لیکن عمران خان نے چین کے دو دورے کیے اگرچہ پہلا دورہ کوئی واضح کامیاب تو نظر نہ آیا اور پاکستان میں سے ایک طبقے نے اس پر شدید تنقید بھی مگر یہ دورہ بھی نہایت اہمیت کا حامل ثابت ہوا کہ تحفظات دور کیے گئے اور دوسرے دورے میں جب عمران خان چینی صدر کی دعوت پر سیکنڈ بیلٹ روڈ فورم میں شرکت کے لیے گئے اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ بین الاقوامی نمائش کا دورہ کیا. اس موقع پر عمران خان نے عالمی رہنماؤں سمیت ورلڈ بینک کے سی ای او، آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر سے ملاقاتیں بھی ہوئیں. اسی موقع پر چین کے ساتھ ایل این جی، آزاد تجارت سمیت چودہ معاہدوں پر دستخط ہوئے.

    متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ بھی پاکستان کے لیے علاقائی اور معاشی معاملات میں نہایت اہمیت کے حامل ہیں عمران خان نے متعدد بار ان ممالک کے بھی مختصر اور باقاعدہ دورے کیے، ان کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں اور ان ممالک کے پاکستان کے ساتھ معاشی و سیاسی تعلقات کے لیے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کیا. جس کی وجہ سے ان ممالک کے ساتھ مختلف معاہدے ہوئے جن میں ایل این جی، توانائی، پاکستانی شہریوں کو روزگار، دو طرفہ تعلقات، تجارت وغیرہ کے قابل ذکر معاہدے شامل ہیں.

    جہاں پاکستان کے ان خلیج کے ممالک سے تعلقات بہتر ہوئے اور پاکستان کی معیشت کو سہارا ملا وہیں عمران خان نے ایران، ترکی اور ملائیشیا کے نہایت اہم دورے بھی کیے جن میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا گیا، پاک ایران بارڈر مینجمنٹ، بجلی و توانائی کے منصوبے، کشمیر و فلسطین پر پاکستان کے موقف کی حمایت، NSG نیوکلیئر سپلائرز گروپ اور ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی حمایت جن کا پاکستان کو خاطر خواہ فائدہ ہوا. ملائشیا کے سربراہ مہاتیر محمد پاکستان کے دورہ پر بھی تشریف لائے اور یوم پاکستان کی تقریبات میں بھی شرکت کی.

    عمران خان کا حالیہ دور امریکہ جس پر ساری دنیا کی نظریں لگی ہوئی تھیں کیونکہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات معمول پر نہیں آسکے تھے اور امریکہ کا پلڑا بھاری تھا اور سمجھا یہی جا رہا تھا کہ عمران خان کا یہ دورہ بھی بھی معمول کی ڈکٹیشن ثابت ہوگا جو پاکستان کے مفاد میں زیادہ بہتر ثابت نہیں ہوگا لیکن عمران خان کی سنجیدگی ، اس کی شخصیت کا اثر کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور عمران خان اور پاکستانیوں کی تعریف کرتے رہے. واشنگٹن میں عمران خان کا تاریخی جلسہ بھی غیر معمولی ثابت ہوا جس پر دنیا بھر تجزیہ نگار اپنے اپنے انداز میں تبصرہ کر رہے ہیں. علاوہ ازیں پاک امریکہ تعلقات میں اہم بریک تھرو اس وقت دیکھنے کو ملا جب ٹرمپ نے کشمیر ایشو پر پاکستان کو ثالثی کی پیشکش کردی جس کو لے کر انڈیا میں صف ماتم بچھ گئی اور انڈین میڈیا یہ کہنا شروع ہوگیا کہ ٹرمپ نے انڈیا پر کشمیر بم پھینک دیا ہے. سابقہ حکمرانوں کے برعکس عمران خان امریکہ کا دورہ کرتے ہوئے نہایت براعتماد اور سنجیدہ نظر آئے جس کی وجہ سے پاکستان اس دورے سے اپنے مقاصد پورے کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوگیا.


    عمران خان نے نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ علاقائی سطح پر بھی بہترین سفارتکاری کا مظاہرہ کیا مشہور سکھ رہنما نوجود سنگھ سدھو کی پاکستان آمد، کرتار پور کوریڈور ، مودی کو خط اور کشمیر ایشو پر عالمی برادری کی توجہ حاصل کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہے جس کی وجہ سے پچھلے سالوں کی وجہ سے ایک بہت بڑا خلا جو پیدا ہوچکا تھا وہ عمران خان کی ایک سال کی سفارتکاری کی وجہ سے پر ہوتا نظر آرہا ہے اور امید بندھ رہی ہے کہ پاکستان ان شاءاللہ جلد عالمی سطح پر اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرلے گا.

    Muhammad Abdullah

  • 1999 کا چنئی ٹیسٹ میرے کیرئیر کا یادگار ٹیسٹ میچ تھا: وسیم اکرم

    1999 کا چنئی ٹیسٹ میرے کیرئیر کا یادگار ٹیسٹ میچ تھا: وسیم اکرم

    لاہور: پی سی بی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک پول کے نتائج کے تحت 1999 میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والا ٹیسٹ پاکستان کی ٹیسٹ کی تاریخ کا یادگار ترین ٹیسٹ قرار دے دیا گیا، اس پول کو پی سی بی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کیا گیا جس میں 15847 ٹوئٹر صارفین نے حصہ ڈالا اور پاکستان کرکٹ ٹیم کی چار مشہور ٹیسٹ کامیابیوں میں سے پسندیدہ پر ووٹ ڈالا

    11 فیصد شائقین کرکٹ نے 1954 میں اوول،انگلینڈ کی کامیابی کو بہترین قرار دیا، 15 فیصد شائقین کرکٹ نے 1987 میں بنگلور،انڈیا میں حاصل ہونے والی کامیابی کو ووٹ دیا، 10 فیصد شائقین کرکٹ نے 1994 میں کراچی میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ کو یادگار لمحہ قرار دیا، اور سب سے زیادہ یعنی 65 فیصد شائقین کرکٹ نے چنئی میں انڈیا کیخلاف حاصل کی جانے والی کامیابی کو یادگار قرار دیا
    اس پول کے انعقاد پر پاکستان کے سابق سٹار فاسٹ بولر وسیم اکرم نے کہا ہے کہ پریشر کے ہونے اور اس میں بہترین کھیل پیش کرنے کی سب سے اعلیٰ مثال چنئی ٹیسٹ ہے ، وسیم اکرم نے مزید کہا کہ میرا ووٹ بھی چنئی ٹیسٹ کیلئے ہی تھا
    پاکستان کرکٹ کے سٹار آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی نے کہا ہے مجھے اس بات پر فحر ہے کہ میں ایسی ٹیم کا حصہ رہا ہوں جو اپنے بل بوتے پر کسی بھی ٹیم کو کسی بھی لمحے میچ ہرانے کی قابلیت رکھتی تھی ،شاہد آفریدی نے مزید کہا ہے کہ اس میچ میں پرفارم
    کرنے کے بعد بڑی خوشی ہوئی تھی

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان کا کہنا ہے کہ 20 سال بعد بھی شائقین کرکٹ کا چنئی ٹیسٹ کو یادگار ترین ٹیسٹ قرار دینا اس بات کا ثبوت ہے یہ پاکستانی کھلاڑیوں کی انتھک محنت کے نتیجے سے حاصل ہونے والی کامیابی تھی ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کا قابل فخر ملک ہے اور ہم ٹیسٹ چیمپین شپ کی بہتری اور ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے